Surat ut Tehreem

The Prohibition

Surah: 66

Verses: 12

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف : سورة التحریم سورة نمبر 66 کل رکوع 2 آیات 12 الفاظ و کلمات 253 حروف 1124 مقام نزول مدینہ منورہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اسوہ حسنہ ہے اس لئے اگر آپ سے کہیں بھول ہوجاتی تھی تو اللہ کی طرف سے آپ کی فوری رہنمائی فرما دی جاتی تھی۔ آپ نے محض ازواج کے کہنے کی وجہ سے شہد کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اگر آپ کو اس سے مطلع نہ کیا جاتا تو شہد کا استعمال ممنوع ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو بتادیا کہ اصل چیز اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ہے کسی کا بیٹا، بیوی اور بھائی ہونا کافی نہیں ہے۔ حضرت نوح کا بیٹا اور حضرت لوط کی بیوی نافرمان تھے تو انہیں نبی کی بیوی اور بیٹا ہونا کام نہیں آیا لیکن فرعون جیسے ظالم کی بیوی حضرت آسیہ جو ایمان لے آئیں تھیں اللہ نے ان کا ذکر بڑی شان سے کیا ہے۔ حضرت مریم جنہوں نے ہمیشہ اپنی آبرو کی حفاظت کی تھی اور عمل صالح کو زندگی بنایا تھا تو اللہ نے ان کو عظیم مقام عطا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ جنت کی ابدی راحتوں کے لئے ایمان اور عمل صالح بنیاد ہے ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے اپنی ازواج کے پاس ان کی خیریت معلوم کرنے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب ہی ازواج آپ سے بےانتہا محبت کرتی تھیں اور ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ سے زیادہ ان کے پاس رہیں تاکہ وہ اللہ کی رحمت کو حاصل کرسکیں۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت زیب (رض) کے پاس تشریف لے جاتے تو انہیں معلوم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میٹھی چیز بہت پسند ہے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے شہد تیار رکھتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے ہی تشریف لاتے تو حضرت زینب (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہد پیش کرتیں جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ازواج کے مقابلے میں حضرت زینب (رض) کے پاس زیادہ رک جاتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھے اس پر شک آتا۔ میں نے حضرت حفصہ (رض) سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں تو ہم یہ کہیں کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغافیر (گوند جیسا جس میں کچھ بدبو بھی ہوتی تھی) استعمال فرمایا ہے۔ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدبو سے دلی نفرت تھی تو حضرت عائشہ (رض) اور پھر حضرت حفصہ (رض) کے کہنے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی کہ آج کے بعد شہد استعمال نہ کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خیال سے کہ حضرت زینب (رض) کو برا نہ لگے یا ان کی دل شکنی نہ ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے فرمایا کہ تم اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ مگر حضرت حفصہ (رض) نے اس کا ذکر حضرت عائشہ (رض) سے کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی خفی کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع فرما دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے فرمایا کہ تم نے یہ بات حضرت عائشہ (رض) کو کیوں بتائی ؟ حضرت حفصہ (رض) نے حیرت اور تعجب سے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات کس نے بتا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع کیا ہے جو ہر بات کا جاننے والا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے سورة الحتریم کی آیات نازل فرمائیں۔ چونکہ آپ کی ذات ایک بہترین نمونہ زندگی ہے اس لئے اللہ نے ان آیات میں آپ کو مطلع فرما دیا کہ اللہ نے جس چیز کو حرام نہیں کیا اس کو اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اوپر حرام کرلیں گے تو سب مسلمان ایک حلال چیز کو حرام سمجھنے لگیں گے اس لئے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام جائز یا ناجائز قرار دینا یہ اللہ کا کام ہے نبی کا یہ کام نہیں ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلال چیز کو محض اپنی بیویوں کی خاطر کیوں حرام کرلیا ہے ؟ بہرحال اللہ تو معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس لئے اس نے قسم کھانے کے بعد (اگر وہ صحیح نہ ہو تو) اس پابندی سے باہر نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بات مکمل راز داری کے ساتھ اپنی ایک بیوی کو بتائی۔ اس نے اس راز کی بات کو ظاہر کردیا تو اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع کردیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ان بیبوی سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع کس نے دی ؟ تو نبی و نے فرمایا کہ مجھے اس اللہ نے یہ بات بتائی جو ہر چیز کا جاننے والا اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں ازواج سے فرمایا کہ اگر تم دونوں نے اس سے توبہ کرلی تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملہ میں تمہارے دل بھٹک گئے تھے۔ ٭فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں کوئی جتھا بندی کی تو اللہ اس کے فرشتے جبرئیل تمام صالح اہل ایمان اور سارے فرشتے اس کے ساتھ اس کے مددگار ہیں۔ ٭اگر وہ تم سب کو طلاق دیدیں تو اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے وہ تم سے بہتر بیویاں ان کو عطا کرسکتا ہے جو ہوسکتا ہے تم سے بھی زیادہ بہتر ہوں۔ وہ بھی سچی مسلمان، ایمان والیاں، اطاعت و فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار اور روزے رکھنے والیاں، کنواری اور بیوہ وہ سب کچھ دینے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو چند اور بنیادی باتوں سے ان کی رہنمائی فرمائی ہے تاکہ ہر مومن اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکے فرمایا۔ ٭ایمان والو سے فرمایا کہ ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس زبردست آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس آگ پر ایسے ہیبت ناک اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتے اور ان کو جب اور جیسا حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی پوری طرح تعمیل کرتے ہیں۔ فرمایا کہ قیامت کے دن کافروں سے کہا جائے گا کہ آج معذرتیں پیش کرنے کا دن نہیں ہے بلکہ جو کچھ تم نے کیا ہے آج اس کے بدلے کا دن ہے۔ جس نے جیسا کچھ کیا ہوگا اس کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ ٭اہل ِ ایمان سے فرمایا کہ ! تم ایسی توبہ کرو جو سچی اور خالص تو بہ ہو۔ وہ اللہ ایسا مہربان ہے کہ ممکن ہے وہ تمہاری خطاؤں کو معاف کردے اور ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کے اعمال کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا۔ ان کی زبانوں پر ہوگا کہ الٰہی ! اس نور اور روشنی کو آخر تک قائم رکھئے گا۔ ہم سے درگزر فرمائیے کیونکہ ہر چیز پر آپ ہی کو قدرت حاصل ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے کیونکہ آخر کار ان کافروں اور منافقوں کا ٹھکانا وہ جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی مثال پیش کی ہے۔ وہ دونوں ہمارے صالح اور نیک بندے تھے وہ اگرچہ ان کی زوجیت میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تھی تو اللہ کے مقابلے میں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے۔ ان کی بیویوں سے کہہ دیا گیا کہ تم آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جائو۔ اس کے برخلاف فرعون جیسے ظالم کی بیوی (حضرت آسیہ) کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے دعا کی الٰہی ! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں میرا گھر اور ٹھکانا بنا دیجئے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لیجئے اور ظالم قوم سے نجات عطا فرمائیے۔ فرمایا کہ عمران کی بیٹی حضرت مریم (علیہ السلام) کی زندگی بھی ایک مثال ہے جنہوں نے اپنی آبرو کی حفاظت کی۔ پھر ہم نے ان کے ندر اپنی روح پھونک دی۔ اس نے اپنے پروردگار کے احکامات اور ارشادات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار بن کر رہی۔ مراد یہ ہے کہ انسان کے اعمال کی بڑی قدر و قیمت ہے۔ اونچی نسبت بھی اسی وقت کام دیتی ہے جب ایمان اور عمل صالح کی زندگی بھی ہو۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة التحریم کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے اس کی بارہ آیات اور دو رکوع ہیں یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس میں ٩ مختلف اصول بیان کیے گئے ہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی حرام نہیں کرسکتے۔ ٢۔ اگر کسی مسئلہ میں غلط قسم اٹھا لی جائے تو اس قسم کو توڑ کر اس کا کفّارہ ادا کرنا چاہیے۔ ٣۔ اگر کوئی شخص دوسرے کے سامنے اپنے راز بیان کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے راز کی حفاظت کرے۔ ٤۔ مسلمان خواتین کو حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنے آپ کو ” اللہ “ اور اس کے رسول کا پابند رکھیں اور اپنی شرم و حیا کی حفاظت کریں۔ ٥۔ مسلمان کا گھر اسلامی معاشرے کا پہلا اور بنیادی یونٹ ہے اس لیے مومنوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کرتے رہیں تاکہ وہ جہنم کی ہولناکیوں سے بچا لیے جائیں ٦۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ غلطی ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے ناصرف اس کی غلطی کو معاف کیا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ٧۔ مسلمانوں کو کفار اور منافقین کے ساتھ قلبی محبت رکھنے کی بجائے ان کی ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں سختی کرنی چاہیے۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کا کردار اور انجام بیان فرمایا ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بیشک کسی کافر، مشرک اور منافق کا کسی مومن یا نبی کے ساتھ کتنا قریبی رشتہ کیوں نہ ہو تو یہ رشتہ اسے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ ٩۔ حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کے مقابلے میں دو عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں پہلی عورت دنیا کے بدترین انسان فرعون کی بیوی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ایمان کو قبول فرمایا اور نہ صرف اسے فرعون کے مظالم سے نجات دی بلکہ اسے دنیا میں بھی جنت کا گھر دکھا دیا گیا۔ دوسری عورت جس کا ذکر کیا گیا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہیں جن کی پاک دامنی کی گواہی دی گئی ہے کیونکہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی اعاعت کرنے والی تھی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة التحریم ایک نظر میں جب تقدیر الٰہی نے یہ فیصلہ کیا کہ رسالت محمدی کو آخری رسالت قرار دے اور نظام مصطفیٰ کو آخری نظام زندگی قرار دے۔ اور اس نظام کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی زندگیوں کو چلا کر دکھا دے۔ اور یہ کہ اس دین کو پوری انسانی زندگی کی سرگرمیوں پر حاوی کردے اور ہر میدان تک وسیع کردے۔ جب تقدیر الٰہی نے یہ فیصلہ کردیا تو اس نے اسلامی نظام زندگی کو یہ رنگ دیا۔ اسے کامل ، جامع اور مکمل بنایا ، جسے انسان کی تمام ضروریات کے لئے کفیل بنایا ۔ اس نظام کو اللہ نے اس طرح بنایا ہے کہ یہ انسان کی صلاحیتوں کو چار چاند لگا کر انہیں ہر پہلو سے گرمی دیتا ہے اور انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خلیفۃ اللہ فی الارض کے طور پر اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرسکے۔ اور اپنے آپ کو ایک ایسی مخلوق ثابت کرے جسے اللہ نے مکرم بنایا اور اس کی تخلیق کے بعد اللہ نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی۔ چونکہ یہ آخری نظام تھا تو اللہ نے اس کی تشکیل یوں کی کہ وہ زندگی کی گاڑی کو آگے کی طرف بڑھاتا چلاجائے ، وہ پیداوار میں اضافہ کرے ، پاکیزگی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھے ، اور یہ سب کام نہایت خوش اسلوبی سے بیک وقت ہوں۔ اس نے یعنی نظام نے انسان کی کسی بھی تعمیری صلاحیت کو معطل نہیں کیا۔ اس نے کسی مفید صلاحیت کو دبانے کی سعی نہیں کی۔ بلکہ اس نے صلاحیتوں کو نشاط بخشا ، خفیہ قوتوں کو جگایا۔ لیکن اس نے آگے بڑھنے کی حرکت کو نہایت توازن کے ساتھ منظم کیا۔ تاکہ وہ نہایت ہی باوقار افق تک بلند ہو ، یوں کہ اس دنیا میں انسان کو آخرت کی زندگی کے لئے تیار کرے اور اس فانی مخلوق کو باقی رہنے والے جہاں کے لئے تیار کرے۔ یہ انتظام اللہ نے یوں کہا کہ اس نظام کے مظاہرے کے لئے اللہ نے ایک انسان رسول کریم کو بھیجا اور اس نے اس نظام پر عمل کرکے لوگوں کو سمجھایا۔ چناچہ اسلامی نظریہ حیات ، اپنے تمام خصائص کے ساتھ آپ کی زندگی میں مجسم کرکے چلتا پھرتا سمجھایا گیا۔ اور رسول کریم کی زندگی کو اسلام کا ظہور ، مظاہرہ اور مشاہدہ قرار دیا گیا۔ آپ ایک بشر تھے جس کی تمام قوتوں کو مکمل کردیا گیا تھا۔ آپ جسمانی لحاظ سے مکمل ، آپ کا جسمانی ڈھانچہ ، آپ کے حواس ، آپ کا شعور ، آپ کا ذوق نہایت کامل اور سلیم تھے۔ آپ کے جذبات ، آپ کی طبیعت ، آپ کے احساسات ، آپ کا ذوق جمال ، سب کے سب کامل اور مکمل تھے۔ آپ کی عقل بہت برتر تھی۔ آپ کی فکر بہت ہی وسیع تھی ، آپ کے ادراک کے آفاق بہت وسیع تھے۔ آپ کی قوت ارادی ایسی تھی کہ آپ کو حالات پر مکمل کنٹرول ہوتا تھا۔ ان صلاحیتوں سے برتر بات یہ تھی کہ آپ کی روح کا اشراق کلی حاصل تھا۔ آپ کی ذات معراج کی صلاحیت رکھتی تھی۔ آپ عالم بالا کی آواز سنتے تھے ، نور دبی کو دیکھ سکتے تھے ، اور اشکال ومظاہر سے صرف نظر کرتے ہوئے آپ کی روح کو روح کائنات سے اتصال حاصل تھا۔ یہاں تک کہ شجر وحجر آپ پر سلام بھیجتے تھے۔ ستون آپ کے لئے روتا تھا اور کانپ اٹھتا تھا اور یہ سب قوتیں آپ کی شخصیت میں متوازن تھیں ، جس طرح یہ کائنات متوازن ہے۔ اسی طرح آپ کی شخصیت متوازن تھی اور پھر یہ نظام جو آپ کو دیا گیا اور آپ نے مومنین کو دیا وہ بھی متوازن ہے۔ چونکہ اسلامی نظام زندگی کو آپ کی زندگی کی صورت میں عمل شکل دینا مقصود تھا تو آپ کی زندگی کو ایک کتاب مفتوح قرار دیا گیا تاکہ اسے تمام انسان پڑھ سکیں۔ اس میں یہ عقائد بھی موجود ہوں ، ان کی واقعی اور عملی شکل بھی موجود ہو ، چناچہ آپ کی زندگی کا کوئی حصہ چھپا ہوا نہ تھا۔ نہ اس کا کوئی لپٹا ہوا دفتر تھا بلکہ آپ کی زندگی کے بعض واقعات کو قرآن نے پیش کیا اور ایسے واقعات کو بھی کھول کر پیش کیا جو بالعموم عام انسان بھی ان کو عوام کے سامنے پیش کرنا پسند نہیں کرتے۔ انسان کی وہ کمزوریاں جن پر انسان کو کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ ان کو کبھی نہیں چھپایا گیا۔ یوں نظر آتا ہے کہ رسول اللہ ؐ کی زندگی کے بعض نہایت ہی خفیہ گوشوں کو بھی دست قدرت نے لوگوں پر ظاہر کردیا۔ اس لئے کہ حضور اکرر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں پرائیویٹ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ آپ کی ساری زندگی دعوت کی زندگی تھی اور پبلک زندگی تھی۔ اس لئے اس بات کی ضرورت نہ تھی کہ اسے چھپایا جائے ، آپ کی زندگی ایک تربیتی منظر تھا۔ قابل عمل اور قابل تقلید زندگی تھی۔ اور اسلامی عقیدہ حیات پر مبنی تھی تاکہ لوگ اسلام کو آپ کی شخصیت میں زندہ دیکھ سکیں۔ جس طرح آپ کی زبان سے اسلام کو سنتے تھے ، اسلام کو آپ کے عمل میں دیکھتے بھی تھے۔ یہی تھی آپ کی غرض تخلیق اور یہی تھی آپ کا مقصد بعثت۔ آپ کے رفقاء نے آپ کی باتیں یاد کیں اور بعد کے لوگوں کے لئے نقل کیں۔ اللہ ان جزائے خیر دے۔ ان لوگوں نے نہایت باریک ترین تفصیلات قلم بند کیں۔ یہاں تک کہ آپ کی زندگی کا کوئی چھوٹا بڑا واقعہ ان سے رہ نہ گیا۔ یہاں تک کہ آپ کی رواز مرہ کی باتیں بھی جو انہوں نے یاد کیں ان کو بھی قلم بند کیا۔ اور یہ بھی اللہ کے نظام تقدیر میں لکھا ہوا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے تمام واقعات قلم بند ہوں۔ اور اسلامی نظریہ حیات کی ایک ایک بات عملی شکل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں پائی جاتی ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا یہ پہلو اس کے علاوہ تھے ، جو قرآن نے قلم بند کیے۔ اس سورت کے آغاز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گھریلو زندگی کا ایک صفحہ قلم بند کیا گیا ہے۔ اس میں آپ کی ازواج مطہرات کے بعض انسانی تایرات اور ان پر رد عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ ان ازواج کے آپس کے تعلقات اور پھر آپ کے ساتھ ان کے تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر ان واقعات اور ان کے اثرات ازواج مطہرات پر اور پھر امت پر بیان کیے گئے ہیں اور اس کے بعد وہ ہدایات اور رہنمائی امت کو دی گئی ہے جو واقعات کی شکل میں ہے۔ جن حالات میں یہ واقعات ہوئے ، جس زمانے میں ہوئے ، اس کی طرف اس سورت میں کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو روایات آئی ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات زینب بنت بحش (رض) کے نکاح کے بعد پیش آئے۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زاواج مطہرات اور آپ کی گھریلو زندگی کے بارے میں کچھ باتیں بتا دیں۔ جن کی روشنی میں وہ واقعات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں ، جو اس سورت میں لئے گئے ہیں۔ یہ واقعات ہم نے امام ابن جریر کی کتاب جوامع السیرۃ سے لئے ہیں۔ نیز سیرۃ ابن ہشام میں بھی یہ روایات موجود ہیں۔ (1) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی زوجہ خدیجہ بنت خویلد (رض) تھیں۔ آپ کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح اس وقت ہوا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر 25 سال تھی۔ بعض روایات میں 23 سال بھی آئی ہے ، جبکہ حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ آپ ہجرت سے تین سال قبل فوت ہوگئیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی زندگی میں کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔ جب وہ فوت ہوئیں تو ان کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی۔ (2) حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) کے ساتھ شادی کی۔ کوئی ایسی روایت نہیں ہے کہ آپ پہت خوبصورت یا جوان تھیں۔ یہ سکران ابن عمرو ابن عبدالشمس کی بیوہ تھیں۔ یہ شخص قدماء مسلمین میں سے تھے۔ یہ حبشہ کی طرف ہجرت کرکے گئے تھے۔ جب یہ فوت ہوگئے تو ان کی بیوہ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کرلیا۔ (3) اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق (رض) سے شادی کی۔ یہ چھوٹی تھیں۔ اور ہجرت کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔ ان کے سوا آپ نے کسی کنواری عورت کے ساتھ شادی نہیں فرمائی۔ ان کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت محبت تھی۔ کہتے تھے : کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال تھی اور آپ کے نکاح میں وہ نو سال اور پانچ ماہ رہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے۔ (4) اس کے بعد آپ نے حضرت حفصہ بنت عمر (رض) کے ساتھ شادی کی۔ یہ شادی بھی ہجرت کے بعد دو سال اور کچھ مہینوں کے بعد ہوئی۔ یہ بیوہ تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان کے رشتے کے لئے حضرت ابوبکر (رض) حضرت علی (رض) ، اور حضرت عثمان (رض) سے کہا مگر کسی نے قبول نہ کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان سے اچھا رشتہ اسے مل جائے گا اور پھر خود ان کے ساتھ نکاح کرلیا۔ (5) اس کے بعد آپ نے زینب بنت خزیمہ (رض) کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے پہلے خاوند عبیدہ ابن الحارث ابن عبدالمطلب تھے۔ یہ بدر کے دن مارے گئے تھے۔ یہ زینب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں فوت ہوگئی تھیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے پہلے خاوند عبداللہ ابن جحش اسدی تھے جو احد کی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ روایات زیادہ قریب صحت نظر آتی ہے۔ (6) اس کے بعد آپ نے ام سلمہ (رض) سے نکاح کیا۔ آپ سے پہلے یہ ابوسلمہ کی بیوی تھیں۔ یہ احد کی جنگ میں زخمی ہوگئے تھے اور یہ زخم بگڑتا گیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیوہ کے ساتھ نکاح کرلیا اور ان کے تمام بچوں کو بھی اپنی پرورش میں لے لیا۔ (7) آپ نے زینب بنت جحش (رض) کے ساتھ نکاح کیا۔ پہلے آپ نے ان کا نکاح اپنے غلام اور متبنی زید بن حارثہ کر کرایا۔ ان دونوں کے باہم نہ بن سکی۔ زید نے ان کو طلاق دے دی ۔ سورة احزاب پارہ 22 میں ہم نے ان کا قصہ بیان کردیا ہے۔ یہ بہت حسین و جمیل تھیں۔ انہی کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) یہ سوچتی تھیں کہ یہ میرے مقابلے میں زیادہ اہمیت اختیار کرلیں گی کیونکہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی زاد تھیں اور بہت ہی خوبصورت تھیں۔ (8) اس کے بعد آپ نے حضرت جو یریرہ بنت الحارج (رض) کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ شخص بنی معطلق کے سردار تھے۔ اور یہ نکاح 6 ہجری کے وسط میں ہوا۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں : محمد ابن جعفر ابن زبیر سے ، وہ عروہ ابن زبیر سے ، وہ حضرت عائشہ سے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی المصطلق کی قیدی عورتوں کو تقسیم کیا تو جویریہ بنت الحارث ثابت ابن قیش ابن شماس کے حصے میں آئیں یا ان کے ایک چچا زاد کے حصے میں۔ اس نے اس عورت کے ساتھ معاہدہ آزادی کرلیا۔ یہ اس قدر میٹھی اور خوبصورت عورت تھی کہ اسے جو بھی دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور آپ سے اپنی آزادی کے سلسلے میں مالی اعانت طلب کی۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جونہی میں نے اسے اپنے کمرے کے دروازے کے پاس دیکھا میں نے اسے بہت ناپسند کیا۔ میں نے معلوم کیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے پسند کریں گے۔ یہ آئی اور اس نے کہا رسول خدا کہ میں جویریہ بنت حارث ابن ابوضرار ہوں جو قوم کا سردار ہے ، مجھ پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں ثابت ابن قیس ابس شماس کے حصے میں آئی ہوں یا اس کے چچا زاد کے حصے میں۔ میں نے اس کے ساتھ مکاتبت کرلی ہے۔ میں اس سلسلے میں آپ سے مالی امداد چاہتی ہوں۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس بھی زیادہ اچھی بات پسند کروگی ؟ تو اس نے کہا کہ رسول خدا وہ کیا چیز ہے ؟ کہا کہ ” میں تمہاری مکاتبت کی پوری رقم ادا کردوں اور تمہارے ساتھ نکاح کرلوں “۔ تو اس نے کہا ہاں رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے یہ تجویز منظور کرلی۔ (9) اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام حبیبہ (رض) کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ ابو سفیان کی بیٹی تھیں اور حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ان کے خاوند عبدالہل ابن جحش عیسائی ہوکر مرتد ہوگئے۔ اور انہوں نے ام حبیبہ کو چھوڑ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام نکاح دیا اور نجاشی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ان مہر دیا اور یہ حبشہ سے مدینہ کو آئی۔ (10) فتح خیبر کے بعد آپ نے حضرت صفیہ…………بنت حی ابن اخطب (رض) کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ بنونضیر کا سردار تھا۔ یہ کنانہ ابن ابو لاحقیق کی بیوی تھیں اور یہ بھی یہودیوں کا ایک سردار تھا۔ ابن اسحاق ان کے ساتھ نکاح کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ اسے لایا گیا اور اس کے ساتھ ایک اور عورت بھی تھی۔ حضرت بلال ان کو لے کر مقتولین یہود کے پاس سے گزرے ۔ حضرت صفیہ (رض) کے ساتھ جو دوسری عورت تھی۔ اس نے دور سے آواز میں چیخ لگائی ، اپنے منہ کو لپیٹا ، اور اپنے سر پر مٹی ڈالی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دور کرو میرے پاس سے اس شیطانہ کو۔ صفیہ کے بارے میں آپ نے حکم دیا کہ آپ کے پیچھے بیٹھا دیا جائے اور اس کے اوپر چادر ڈال دی۔ مسلمانوں نے جان لیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے لئے چن لیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا : (جس طرح مجھ تک اطلاع پہنچی ہے) بلال تمہارے دل سے رحم کا جذبہ نکال دیا گیا تھا جب تم ان دوعورتوں کو لے کر ان کے مقتولین پر پھر ارہے تھے “۔ ( 11) اس کے بعد آپ نے میمونہ بنت حارث ابن حزن (رض) سے نکاح کیا یہ خالد بن والید اور عبداللہ ابن عباس کی خالہ تھیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل یہ ابورضم ابن عبدالعزی کی بیوی تھیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ خویطب ابن عبدالعزی کی بیوی تھیں۔ یہ آخری عورت تھیں جن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی اپنی کہانی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نکاح کا ایک خاص سبب تھا اور اس میں حکمت تھی ، ماسوائے زینب بنت جحش اور جویریہ بنت حارث کے ان میں سے اور کوئی بھی نوجوان نہ تھی۔ یا اسی نہ تھیں کہ ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کوئی ان میں دلچسپی لیتا ہو۔ حضرت عائشہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ محبوب تھیں۔ یہاں تک کہ مذکورہ بالا دونوں جو خوبصورت تھیں ، ان کے نکاح کی بھی ان کے جمال کے علاوہ ایک نفسیاتی وجہ بھی تھی ۔ میں اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ ان کے نکاح میں خوبصورتی کو دخل نہ تھا جس طرح حضرت عائشہ (رض) نے حضرت جویریہ (رض) کے بارے میں اندازہ کیا اور وہ درست نکلا۔ نہ میں زینب کے جمال کی نفی کرتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی سے ہم اس قسم کے انسانی اور بشری میلان کی نفی نہیں کرسکتے۔ نہ اس قسم کا ذوق ہونا کوئی کمزوری ہے کہ انصار نبی اس کی مدافعت کریں۔ یا آپ کے دشمنان اس کے بارے میں آپ پر الزام لگائیں کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انسان تھے۔ ایک بلند پایہ انسان لیکن بیویوں کے سلسلے میں آپ کے جذبات مختلف اور نکاح کے سلسلے میں اسباب بھی مختلف تھے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج کے ساتھ ایک بشر اور رسول کی طرح زندہ رہے ، جس طرح اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس بات کا اعلان کردیں۔ قل سبحان…………رسولا ” کہہ دو پاک ہے میرا رب ، میں تو فقط ایک بشر رسول ہوں “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج کے ساتھ حسن معاشرت فرمائی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : ” حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنی ازواج کے ساتھ تنہا ہوتے تو بہت ہی نرم مزاج اور بہت ہی شریف انسان ہوتے۔ نہایت ہی زیادہ ہنسنے والے اور مسکرانے والے “۔ لیکن آپ کی ذات ، آپ کے روحانی فیوض اور آپ کے قلبی جذبات ، آپ کے حسن ادب اور حسن معاملہ سے بھی وہ فیضیاب ہوتیں۔ رہا یہ کہ ان ازواج کی مادی زندگی کیسی تھی تو وہ بقدر کفاف تھی۔ یہاں تک کہ فتوحات کے بعد جب کہ مسلمان اموال غنیمت کی وجہ سے مالدار ہوگئے تھے۔ آپ اس سے قبل سورة احزاب میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زاواج مطہرات اور وسعت نفقہ کے مطالبات کے بارے میں پڑھ آئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایک بحران پیدا ہوگیا اور آخر کار اللہ نے ان کو اختیار دے دیا کہ وہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتخاب کرلیں یا آزادی کو اختیار کرلیں۔ لیکن سب نے اللہ اور رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا۔ (دیکھئے پارہ 22) لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں زندگی بسر کرنے کا یہ مطلب بھی نہ تھا کہ انسانی جذبات بالکل ختم ہوگئے تھے۔ آپ کی ازواج مطہرات بہرحال بشر تھیں۔ اور بشری جذبات وہاں بھی موجود تھے۔ بعض اوقات ان کے درمیان تنازعہ بھی ہوجاتا جو بالعموم ایسے گھرانوں میں ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل ابن اسحاق کی روایت میں گزرا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے حضرت جویریہ (رض) کو دیکھتے ہی اسے ناپسند کیا اور سمجھ لیا کہ یہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں گھر کرے گی۔ جب بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا اور عملاً ایسا ہی ہوا۔ پھر صفیہ کے ساتھ جو ہوا کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کے کسی قصور کے بارے تذکرہ کیا کہ صفیہ کی تو یہ یہ بات آپ کے لئے کافی ہے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے اتنی بڑی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمندر کے اندر ملایا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے “۔ اور اپنے بارے میں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ جب تخبیر کی آیت نازل ہوئی تو میں نے اللہ ، رسول اور دارآخرت کو چنا ، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ اپنی دوسری ازواج کو میرے فیصلے کی اطلاع نہ دیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” الل ہنے مجھے سخت گیر بنا کر نہیں بھیجا ، مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ مجھ سے جس نے بھی پوچھا میں اسے بتائوں گا کہ عائشہ نے کیا فیصلہ کیا ہے کہ اس نے اللہ ، رسول اور دار آخرت کو اپنایا ہے “۔ یہ واقعات جو حضرت عائشہ (رض) نے اپنے بارے میں خود نقل کیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر سچی تھیں کیونکہ وہ اسلام کی تربیت یافتہ تھیں۔ ان مثالوں میں معلوم ہوتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے اندر کی فضا کیسی تھی اور آپ جس طرح پوری امت کی تربیت فرما رہے تھے اسی طرح اپنے گھر کے اندر بھی لوگوں کی تربیت کررہے تھے۔ یہ واقعہ جس کے بارے میں اس سورت کی ابتدائی آیت نازل ہوئی۔ ایسے ہی واقعات میں سے ایک واقعہ تھا جو آپ اور آپ کے ازواج مطہرات کے درمیان پیش آیا۔ اس کے بارے میں متعدد روایات ہیں اور ان کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ قرآن کی نصوص کی تشریح کے وقت ہم ان کی تفصیلات دیں گے۔ اس واقعے کے حوالے سے جو ہدایات دی گئیں خصوصاً آپ کی دو بیویوں کو جو یہ حکم دیا گیا کہ توبہ کریں اور اس کے بعد پھر تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اپنے گھرانوں کی تربیت کرکے انہیں دوزخ کی آگ سے بچائیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچائیں اور پھر کافروں کا ایک منظر بھی پیش کیا کہ جہنم میں ان کی حالت کیا ہوگی اور پھر سورت کے آخر میں حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) کی کافر بیویوں کی ایک مسلمان گھرانے میں ہونے کی مثال دی گئی اور پھر فرعون کی بیوی ایک کافر کے گھر میں اور پھر مریم بنت عمران کی مثال کہ وہ ایک اعلیٰ خاتون تھیں جس کے رحم میں کلمہ الٰہیہ پھونکا گیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور وہ نہایت ہی عبادت گزار خاتون تھیں۔ ان آیات کے نزول کے بارے میں (آیت 1 تا 5) متعدد روایات وارد ہیں۔ امام بخاری نے ان آیات کی تفسیر کے ضمن میں روایت کیا ہے ، ابراہیم ابن موسیٰ سے ، انہوں نے ہشام ابن یوسف سے ، انہوں نے ابن جریج سے ، انہوں نے عطا سے ، انہوں نے عبید ابن عمر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زینب بنت جحش کے ہاتھ شہدپیا کرتے تھے۔ اور آپ کے ہاں قدرے ٹھہرتے تھے۔ میں نے اور حفصہ نے یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیں گے تو وہ کہے گی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے مغافیر کھایا ہے ( یہ ایک پھل ہے جس کا ذائیہ میٹھا ہوتا ہے ، لیکن بدبودار ہوتا ہے) ۔ تو آپ نے فرمایا نہیں لیکن میں نے زینب بنت جحش کے ہا شہد پیا ہے۔ میں دوبارہ نہیں پیوں گا۔ میں نے حلف اٹھا لیا ہے۔ لیکن یہ بات کسی سے نہ کہنا “۔ یہ تو تھی وہ بات کہ آپ نے اپنے اوپر شہد حرام کردیا حالانکہ وہ حلال تھا۔ یایھا …………اللہ لک ( 1:66) ” اے نبی تم کیوں اس چیزکو حرام قرار دیتے ہو ، جو اللہ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے “۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس عورت نے یہ مکالمہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ، اس نے اپنی دوسری ہم مشورہ کو بتادیا ، حالانکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا تھا کہ کسی سے نہ کہنا۔ اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی سب کچھ بتادیا۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکالمہ کرنے والی بیوی کو اور پھر اپنے ہم مشورہ بیوی کو بتانے والی کو بتادیا کہ تم نے تو اس بات کو پھیلادیا ہے۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے حسن خلق کی بنا پر پورا واقعہ نہ بتایا۔ ایک مختصر سی بات کی اس حدتک کہ وہ مکالمہ کرنے والی جان لے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو اصل بات معلوم ہوگئی۔ یہ پریشان ہوئی اور پوچھا۔ من انباک ھذا (3:66) ” آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ “۔ شاید اس کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ شریک مشورہ نے رازکھول دیا ہے۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتادیا : بنانی العلیم الخبیر (3:66) ” مجھے تو علیم وخبیر نے یہ واقعہ بتایا ہے “۔ مطلب یہ کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ الہام سب کچھ بتادیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ، اور پھر اللہ کی جانب سے دوبیویوں کے اس مشورہ کے انکشاف کے بعد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں ایسا واقعہ ہوجانے کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج سے بہت ناراض ہوگئے اور آپ نے بلا کر کہا ، کہ ایک ماہ ان کے قریب نہ جائیں گے۔ یہ باتیں مشور ہوگئیں کہ آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دینے کا ارادہ کرلیا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ اس وقت ٹھنڈا ہوا جب یہ آیات نازل ہوئیں۔ اور آپ دوبارہ اپنی ازواج کے پاس گئے۔ دوسری روایت امام نسائی نے نقل کیا ہے۔ یہ حضرت انس (رض) کی حدیث ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک لونڈی تھی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ساتھ مجامعت فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ آپ کے پیچھے پڑگئیں اور آپ نے نے اس کو اپنے اوپرحرام کردیا۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل کی : یایھا النبی…………ازواجک (1:66) ” اے نبی تم کیوں حرام قرار دیتے ہو اس چیز کو ، جو اللہ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ، تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو “۔ اور ابن جریر اور ابن اسحاق کی ایک روایت میں یہ ہے ، ماریہ جو آپ کے بیٹے ابراہیم کی ماں تھیں اور ام بلد لونڈی تھیں۔ ان کے ساتھ آپ نے حفصہ (رض) کے گھر میں مجامعت کی۔ اس پر حفصہ (رض) کو غصہ آیا اور انہوں نے اسے اپنی تو ہیں سمجھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ وعدہ کرلیا کہ وہ ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں اور قسم اٹھا لی۔ اور حکم دیا کہ اس بات کو خفیہ رکھیں۔ حفصہ (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو بتادیا ، یہ تھا اصل واقعہ۔ دونوں روایات میں سے ایک ان آیات کے نزول کا سبب ہوسکتی ہے۔ یہ دوسری روایت زیادہ قریب ہے۔ اس حادثہ کی فضا کے مجموعی تاثر کے ساتھ خصوصاً اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ اس لحاظ سے کہ یہ موضوع زیادہ حساس ہے۔ لیکن پہلی روایت زیادہ قوی ہے بلحاظ سند۔ یہ پہلی روایت ممکن الوقوع بھی ہے اور اس پر جو اثرات مرتب ہوئے وہ بھی ممکن الوقوع ہیں۔ رہا معاملہ ایلا کا تو اس کی تصویر کشی امام احمد کی روایت میں بہت اچھی طرح کی گئی ہے۔ اس روایت میں اس وقت کے اسلامی معاشرے کی تصویر کشی بھی ہوتی ہے۔ امام احمد نے روایت کیا ، عبدالرزاق سے ، انہوں نے معمر سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ ابن ابوثور سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں مجھے شوق تھا کہ میں حضرت عمر (رض) سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں ، جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے : ان تتوبا……………قلوبکما (4:66) ” اگر تم اللہ سے توبہ کرتی ہو ، (تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں “۔ کہ یہ کون تھیں۔ ایک بارحضرت عمر (رض) ایک طرف ہوئے اور میں ان کے ساتھ کوزہ لے کر ایک طرف ہوا۔ آپ قضائے حاجت کے لئے گئے اور میرے پاس آئے۔ میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ اسی موقعہ پر میں نے ان سے پوچھ لیا کہ وہ دو عورتیں کون تھیں ، جن کے بارے میں یہ آیا ہے : ان تتوبا…………بکما (4:66) تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا ابن عباس تم عجیب آدمی ہو (زہری کہتے ہیں حضرت عمر (رض) نے سوال کو اچھا نہ سمجھا لیکن چھپایا نہیں) فرمایا یہ کہ عائشہ………اور حفصہ………تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا۔ ہم اہل قریش ایسے لوگ تھے کہ ہم نے عورتوں کو خوب کنٹرول میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن جب ہم مدینہ آئے تو وہاں ہم نے دیکھا کہ عورتیں لوگوں پر غالب ہیں۔ تو ہماری عورتوں نے بھی ان سے سیکھنا شروع کردیا۔ میری رہائش دار السید ابن زید ، محلہ ھوالی میں تھی۔ میں ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو اس نے آگے سے جواب دیا۔ میں نے اس بات کو بہت برا سمجھا کہ عورت آگے سے بات کا جواب دیتی ہے۔ اس نے کہا میرا جوا دینا آپ کو اس قدر برا لگا ہے ، خدا کی قسم رسول اللہ کی عورتیں آپ کے ساتھ تیز باتیں کرتی ہیں اور بعض اوقات ان میں سے ایک صبح سے شام تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روٹھ جاتی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں اٹھا اور حفصہ کے پاس گیا اس کے گھر میں۔ میں نے اسے کہا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باتیں پلٹا کر کرتی ہو اور سنا ہے کہ تم میں بعض صبح سے شام تک آپ سے روٹھ جایا کرتی ہے۔ تو اس نے کہا ہاں ایسا تو ہوتا ہے۔ تم میں سے جس نے ایسا کیا وہ تو تباہ و برباد ہوا۔ کیا تمہیں ڈر نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے تم پر اللہ کا غضب آجائے اور تم ہلاک ہوجائو۔ تم کبھی رسول کی بات کو پلٹا کر جواب نہ دیا کرو۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ بھی نہ مانگا کرو ۔ اور میرے مال سے تمہیں جو درکار ہو مجھ سے مانگا کرو۔ تمہیں یہ بات کہیں غرے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری سوکن تم سے زیادہ خوبصورت بھی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب بھی ہے یعنی (عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرا ایک انصاری پڑوسی تھا۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں باری باری جاتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا اور دوسرے دن میں جاتا اور وہ مجھے وحی کے بارے میں اطلاع دیتا ، اسی طرح اپنی باری پر میں اسے اطلاع دیتا ۔ ان دنوں یہ باتیں ہورہی تھیں کہ غسانی ہمارے خلاف حملے کے لئے گھوڑے تیار کررہے ہیں۔ میرا ساتھی ایک دن گیا واپسی پر اس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پھر اس نے آواز دی۔ میں نکلا تو اس نے کہا بہت برا واقعہ ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کیا غسانی آگئے ہیں ؟ تو اس نے کہا نہیں اس سے بھی بڑا اور طویل حادثہ ہوگیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے۔ میں نے کہا کہ ” حفصہ تباہ وبرباد ہوگئی “۔ میرا خیال تھا کہ ایک دن یہ بات ضرور ہوگی۔ میں نے صبح کی نماز پڑھی اور اپنے اوپر کپڑے باندھے اور اترا اور سب سے پہلے حفصہ کے پاس گیا ۔ وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ اس نے کہا مجھے علم نہیں ہے۔ وہ یہ ہیں الگ مشربہ (پانی کی جگہ) میں۔ میں ایک سیاہ غلام کے پاس آیا اور اسے کہا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عمر کے لئے اجازت طلب کریں۔ غلام اندر گیا اور پھر باہر آیا اور کہا میں نے تمہارا تذکرہ کیا ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں گیا اور منبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا وہاں کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں منبر کے پاس قدرے بیٹھا۔ اس کے بعد میں جو محسوس کررہا تھا اس نے مجھے بیٹھنے نہ دیا۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت طلب کرو ، وہ اندر گیا اور پھر واپس آیا اور کہا کہ میں نے آپ کا تذکرہ کیا مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں پھر نکلا اور منبر کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔ اس کے قدرے وقفے کے بعد پھر میرے احساس نے مجھے مجبور کریدا۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور وہ اندر گیا اور پھر واپس ہوا۔ اور یہی کہا کہ میں نے آپ کا نام لیا کہ عمر ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں واپس چلا گیا۔ اچانک دیکھا کہ وہ غلام مجھے پکاررہا ہے۔ اس نے کہا آپ کو اجازت مل گئی ہے ، اندر جائیں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ باریک بنی ہوئی چٹائی پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ جس نے آپ کے پہلو پر دھاریاں ڈال دی تھیں۔ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں “۔ میں نے کہا اللہ اکبر۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ غور فرمائیں قریش عورتوں پر غالب ہوا کرتے تھے۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو یہاں کے لوگوں پر عورتیں غالب تھی ، ہماری عورتوں نے آہستہ آہستہ ان سے سیکھنا شروع کردیا۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ آگے سے بات لوٹارہی ہے۔ میں نے سا بات کو بہت براسمجھا۔ میری بیوی نے کہا تمہیں یہ بات کیوں اتنی بری لگ گئی ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں تو آپ کے جواب میں بات بھی کرتی ہیں اور ان میں سے ایک صبح سے شام تک آپ سے روٹھ بھی جاتی ہیں تو میں نے کہا جو ایسا کرتی ہے وہ تو برباد ہوئی۔ کیا جو ایسا کرتی ہے وہ اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتی ۔ کہ اگر اپنے رسول کی وجہ سے اللہ غضب میں آجائے ، اور وہ ہلاک ہوجائے۔ اس پر آپ مسکرائے۔ تو میں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حفصہ کے پاس گیا تھا اور میں نے کہا تم کہیں اپنی پڑوسن کی وجہ سے غرے میں نہ پڑجائو۔ وہ تم سے خوبصورت بھی ہے اور رسول اللہ اس سے تمہارے مقابلے میں زیادہ محبت بھی کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری بار مسکرائے۔ تو میں نے کہا حضور میں بیٹھ سکتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا ” ہاں “ میں بیٹھ گیا میں نے گھر پر ایک نظر ڈالی ۔ خدا کی قسم گھر میں کوئی چیز ایسی نہ تھی ، جس پر میری نظر جمتی !۔ میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ دعا فرمائیں کہ آپ کی امت پر اللہ کشادگی کردے۔ اللہ نے فارسیوں ، رومیوں پرکشادگی کردی ہے ، جبکہ وہ اللہ کی بندگی نہیں کرتے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور فرمایا ” ابن خطاب تم شک میں ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جن کو اس دنیا کے مزے اللہ نے یہاں ہی جمع کردیئے ہیں “۔ میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لئے معافی طلب فرمائیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم اٹھائی کہ ایک ماہ تک ان کے پاس نہ جائیں گے کیونکہ آپ ان پر بہت ناراض ہوگئے تھے۔ اس پر اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب فرمایا اور یہ آیات نازل ہوئیں “۔ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ، سب نے زہری سے)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi