Surat ut Tehreem

Surah: 66

Verse: 11

سورة التحريم

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

And Allah presents an example of those who believed: the wife of Pharaoh, when she said, "My Lord, build for me near You a house in Paradise and save me from Pharaoh and his deeds and save me from the wrongdoing people."

اور اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers can cause no Harm to the Believers Allah gives the parable for believers, وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلً لِّلَّذِينَ امَنُوا اِمْرَأَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ ... And Allah has set forth an example for those who believe: the wife of Fir`awn, when she said: This is a parable that Allah made of the believers, in that, if they needed to, their association with the disbelievers will not harm them. Allah the Exalted said, لااَّ يَتَّخِذِ الْمُوْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلااَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً Let not the believers take the disbelievers as protecting friends instead of the believers, and whoever does that, will never be helped by Allah in any way, except you indeed fear a danger from them. (3:28) Qatadah said, "Fir`awn was the most tyrannical among the people of the earth and the most disbelieving. By Allah! His wife was not affected by her husband's disbelief, because she obeyed her Lord. Therefore, let it be known that Allah is the Just Judge Who will not punish anyone except for their own sins." Ibn Jarir recorded that Sulayman said, "The wife of Fir`awn was tortured under the sun and when Fir`awn would finish the torture session, the angels would shade her with their wings. She was shown her house in Paradise." Ibn Jarir said that Al-Qasim bin Abi Bazzah said, "Fir`awn's wife used to ask, `Who prevailed?' When she was told, `Musa and Harun prevailed', she said, `I believe in the Lord of Musa and Harun.' Fir`awn sent his aides to her and said to them, `Find the biggest stone. If she insists on keeping her faith, throw the stone on her, otherwise she is my wife. When they came to her, she looked up to the sky and was able to see her house in Paradise. She persisted on the faith and her soul was then captured. The stone was thrown on her lifeless body." This is the meaning of her statement, ... رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ ... My Lord! Build for me a home with You in Paradise, and save me from Fir`awn and his work, means, `deliver me from him, because I am innocent of his actions,' ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ and save me from the people who are wrongdoers. Her name was Asiyah bint Muzahim, may Allah be pleased with her. Allah said,

سعادت مند آسیہ ( فرعون کی بیوی ) یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا جیسے اور جگہ ہے ترجمہ الخ ایمانداروں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے ، حضرت فتادہ فرماتے ہیں روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لئے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا ۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی ، فرعون اور حضرت موسیٰ کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ غالب رہے بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائی ۔ فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھوا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو ، جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لئے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لئے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں ، اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ اللہ جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے ۔ اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے ، پھر دعا کرتی ہیں کہ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں ، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ ، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا رضی اللہ عنہا ۔ ان کے ایمان کا باعث بنا ، وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوں اس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا میرا اور تیرے باپ کا اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے ، اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی ، فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے میں اسی کی عبادت کرتی ہوں ، فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں ، پھر ایک دن آیا اور کہا اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے ، فرعون نے کہا اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا ، انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال ، اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا اے ماں خوش ہو جا تیرے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی ، انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنخ ہی قتل کرا دیا ۔ اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی ، فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوش خبری سنی تھی اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوش خبری سنی اور ایمان لے آئیں ، ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا ۔ یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی ، اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو؟ سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا تمہیں نہیں معلوم ہو بھی میرا سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے ، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیا اس وقت حضرت آسیہ نے اپنے رب سے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں ، ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا لوگو تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقینا اس کا دماغ ٹھکانے نہیں ، الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہا پھر دوسری مثال حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ وہ نہایت پاک دامن تھیں ، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل کی معرفت ان میں روح پھونکی حضرت جبرائیل کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں ، اسی سے حمل رہ گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ، پس فرمان ہے کہ میں نے اس میں اپنی روح پھونکی ، پھر حضرت مریم کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ وہ اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں ، مسند احمد میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھنیچیں اور صحابہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو پورا علم ہے ، آپ نے فرمایا سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرون کی بیوی تھیں ، صحیح بخاری صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں ، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور حضرت مریم بنت عمران ہیں اور حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں اور حضرت عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر ہم نے اپنی کتاب الدبدایہ والنایہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کے اسی سورت کی آیت کے الفاظ شیبات و ابکات کی تفسیر کے بیان کے موقع پر اس حدیث کی سندیں اور الفاظ بیان کر دیئے ہیں ۔ فالحمد اللہ ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سورت کی آیت کے الفاظ ثیبات و ابکارا کی تفسیر کے موقعہ پر وہ حدیث بھی ہم بیان کر چکے ہیں جس میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتی بیویوں میں ایک حضرت آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عتالیٰ عنہ بھی ہیں ۔ الحمد اللہ سورہ تحریم کی تفسیر ختم ہوئی ۔ اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے اٹھائیسویں پارے قد سمع اللہ کی تفسیر بھی ختم ہوئی ، پروردگار ہمیں اپنے کالم کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے ۔ باری تعالیٰ تو اسے قبول فرما اور میرے لئے باقیات صالحات میں کر ، آمین

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی ان کی ترغیب ثبات قدمی، استقامت فی الدین اور شدائد میں صبر کے لئے۔ نیز یہ بتلانے کے لئے کہ کفر کی صولت و شوکت، ایمان والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، جیسے فرعون کی بیوی ہے جو اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کے تحت تھی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو ایمان سے نہیں روک سکا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ زوجہ فرعون کی فضیلت :۔ یہ فرعون کی وہی بیوی آسیہ تھی جس نے فرعون کو کہا تھا کہ دیکھو یہ (سیدنا موسیٰ ) کتنا پیارا بچہ ہے۔ کیوں نہ ہم اس کی تربیت کریں اور اسے اپنا بچہ بنالیں۔ پھر اس کی تربیت بھی کی تھی۔ وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکی تھی۔ جب فرعون پر اس کے ایمان کا حال کھلا تو اسے طرح طرح کی ایذائیں پہنچانے لگا۔ پھر جب آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی تو اس نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اسے مروا ڈالے۔ اس وقت اس نے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے اب ان ظالموں سے نجات عطا فرما۔ اور مجھے اپنے ہاں بلا لے اور جنت میں میرے رہنے کو ایک گھر بنادے۔ اس کی یہ دعا قبول ہوگئی اور موت آنے سے پہلے ہی سکرات موت میں اللہ نے اسے جنت میں اس کا محل دکھا دیا۔ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : && مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی۔ اور عائشہ (رض) کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر && (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل عائشۃ (رض)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ وَضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : یہ ایمان کی برکت کی مثال ہے کہ ” رب اعلیٰ “ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ” کافر اعظم “ کی بیوی جب ایمان لے آئی تو خاوند کی فرعونیت نے اسے ایمان لانے سے روک کسی اور نہ ہی آخرت کے معاملے میں اس کا کوئی نقصان کر کسی ۔ اس عظیم خاتون کا نام آسیہ ہے ، وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تو فرعون نے ایک طرف اسے عالی شان محلات اور ہر قسم کی دنیوی آسائشوں کا لالچ دیا اور دوسری طرف ایمان سے باز نہ آنے پر سب کچھ چھین لیا اور اسے بےپناہ اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے محلات اور آسائشوں کے بدلے میں اپنے پڑوس میں جنت کے اندر گھر عطاء کرنے اور فرعون اور اسکے مشرکانہ اور ظالمانہ کاموں سے اور اس کی ظالم قوم سے نجات عطاء کرنے کی دعا کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرما کر اس کی روح قبض کرلی اور اس نے جو مانگا تھا عطاء فرما دیا ۔ ابن جزی صاحب التسہیل لکھتے ہیں :” وروی فی قصصھا غیر ھذا مما یطول و ھو غیر صحیح “ ” اس کے قصے میں اسے عدوا کئی طویل چیزیں ذکر کی گئی ہیں مگر وہ ثابت نہیں ہیں “۔ ٢۔ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ : اہل علم فرماتے ہیں کہ آسیہ (رض) نے جنت میں گھر بنانے کی دعا سے پہلے سے بہتر ہمسائیگی ملنے کی دعا کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اچھی جگہ اچھے مکان کی دعا سے اچھی ہمسائیگی کی دعا کرنی چاہیے اور آخرت میں وہ جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(فاذا سالتم اللہ فاسالوہ الفردوس ، فانہ اوسط الجنۃ و اعلیٰ الجنۃ ، اراہ قال فوقہ عرش الرحمن ، ومنہ تفجر انھار الجنۃ) (بخاری ، الجھاد ، باب درجات المجاھدین فی سبیل اللہ : ٢٧٩٠)” جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور سب سے بلند حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں “۔ ٣۔ ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( کمل من الرجال کثیر ، ولم یکمل من النساء الا آسیۃ امراۃ فرعون ، و مریم بنت عمران ، وان فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائرالطعام) (بخاری ، احادیث الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ :(وضرب اللہ مثلا۔۔۔۔ ): ٣٤١١)” مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں ، مگر عورتوں میں سے آسیہ زوجہ فرعون اور مریم بنت عمران کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے “۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ضَرَ‌بَ اللَّـهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَ‌أَتَ فِرْ‌عَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَ‌بِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (And Allah has cited for the believers the example of the wife of Fir&aun (the Pharaoh), when she said, |"My Lord, build for me, near You, a house in the Paradise...66:11) This is the example of the wife of Fir&aun (the Pharaoh) whose name was ` Asiyah bint Muzahim. When Musa (علیہ السلام) accomplished his task in defeating the sorcerers who embraced Mosaic faith, she too embraced the Mosaic faith and became a Muslim. Fir&aun ordered that she should be tortured severely and tormented harshly. According to some reports, her hands and feet were pegged with nails to the ground and a huge rock was placed on her chest, so that she might not be able to move. In this state she supplicated to Allah as mentioned in this verse. According to other reports, it was suggested that a huge rock be dropped on her. They had hardly dropped the rock and she prayed to Allah as quoted in the verse. Allah then showed Sayyidah &Asiyah (رض) her house in Paradise, and while looking at this vision her soul departed. When the rock fell on her body, it was lifeless. [ Mazhari ].

(آیت) وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ یہ مثال فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے اور جادوگر مسلمان ہوگئے تو اس بی بی نے اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کیا، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کرکے سینے پر بھاری پتھر رکھدیا یعنی چاروں ہاتھوں پیروں میں میخیں گاڑ دیں کہ حرکت نہ کرسکیں۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ تجویز کیا کہ اوپر سے بہت بھاری پتھر ان کے سر پر ڈالدیا جائے، ابھی ڈالنے نہیں پائے تھے کہ انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی، پتھر جسم بےجان پر گرا، اور دعا میں یہ فرمایا کہ میرے رب جنت میں اپنے پاس گھر بنا دے اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں انکو جنت کا گھر دکھلادیا (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ۝ ٠ ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّۃِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝ ١١ ۙ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اب اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو حضرت آسیہ اور حضرت مریم کا تذکرہ کر کے توبہ اور احسان کی ترغیب دیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ دو مومنہ عورتوں کا واقعہ فرماتا ہے جن میں ایک حضرت آسیہ فرعون کی بیوی انہوں نے فرعون کے عذاب میں دعا کی اے پیروردگار میرے لیے اپنے قریب میں مکان بنایئے تاکہ اس خوشی میں مجھ پر فرعون کا یہ عذاب آسان ہوجائے اور مجھے فرعون کے دین اور اس کے عذاب سے اور کافر لوگوں سے محفوظ رکھیے، چناچہ ان کے اس ایمان و اخلاص کی وجہ سے فرعون کا کفر ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ ٧ } ” اور اہل ِا یمان (خواتین) کے لیے اللہ نے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی۔ “ ان کا نام حضرت آسیہ (رض) (بنت مزاحم) بیان کیا جاتا ہے۔ دریائے نیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق ان ہی نے نکالا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کا اہتمام کیا تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگئی تھیں اور ہمیشہ فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف داری کیا کرتی تھیں۔ جب فرعون کو پتا چل گیا کہ آسیہ اسے خدا نہیں مانتی اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکی ہے تو اس نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ { اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ } ” جب اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! ُ تو میرے لیے بنا دے اپنے پاس ایک گھر جنت میں “ { وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ } ’ اور مجھے نجات دے دے فرعون سے بھی اور اس کے عمل سے بھی “ { وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ } ” اور مجھے اس ظالم قوم سے (جلد از جلد) چھٹکارا دلا دے۔ “ حضرت آسیہ (رض) کی اس دعا سے ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا نقشہ سامنے آتا ہے۔ ظاہر ہے وہ ایک عظیم الشان سلطنت کے مطلق العنان فرمانروا کی بیوی تھیں۔ اس حیثیت سے انہیں عزت ‘ دولت ‘ شہرت اور محلات میں ہر طرح کی آسائشیں حاصل تھیں۔ لیکن ان کے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے ان کی محبت کی کیفیت یہ تھی کہ وہ اپنے شوہر اور اس کے کافرانہ اعمال سے بیزارہو کر موت کی آرزو مند تھیں۔ ان دو مثالوں میں دو انتہائوں کی تصویر دکھا دی گئی ہے ۔ یعنی ایک طرف بہترین شوہروں کے ہاں بدترین انجام والی بیویاں ہیں اور دوسری طرف ایک بدترین مرد کے گھر میں بہترین سیرت و کردار کی حامل بیوی ہے۔ ظاہر ہے حضرت آسیہ (رض) قیامت کے دن حضرت مریم ‘ حضرت خدیجہ ‘ حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ (رض) جیسی عظیم مراتب کی حامل خواتین میں شامل ہوں گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 From Pharaoh and his work": from the evil end that Pharaoh would meet in consequence of his evil deeds.

سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :25 یعنی فرعون جو برے اعمال کر رہا ہے ان کے انجام بد میں مجھے شریک نہ کر ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: فرعون کی بیوی کا نام آسیہ تھا، اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے جادوگروں پر فتح عطا فرمائی تو اُن جادوگروں کے ساتھ وہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لے آئی تھیں۔ جس کے نتیجے میں فرعون نے اُن پر بہت ظلم ڈھائے۔ اس موقع پرانہوں نے یہ دُعا فرمائی اور بعض روایات میں آیا ہے کہ فرعون نے اُن کے ہاتھ پاوں میں میخیں گاڑ کر اُوپر سے ایک پتھر پھینکنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ نے اُن کی روح قبض فرمالی۔ (روح المعانی)۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(66:11) وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون۔ اس کی ترتیب بھی آیت نمبر 10 ۔ مذکور بالا کی طرح ہے۔ امرأت فرعون۔ مضاف مضاف الیہ۔ فرعون غیر منصرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اذ قالت : ظرف لمحذون ای وضرب اللہ مثلا للذین امنوا حال امرأت فرعون اذ قالت :۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں (کی تسلی) کے لئے مثال کے طور پر فرعون کی بی بی کا حال بیان فرمایا ہے کہ جب اس نے کہا۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے تو اس سے متاثر ہوکر حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) ایمان لے آئیں ۔ فرعون کو جب اس کی خبر ہوئی تو اس نے اسے طرح طرح کے عذاب دینے شروع کر دئیے۔ یہاں تک کہ اس نے حضرت آسیہ (رض) کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب ان کو اس کا علم ہوا تو اپنی مناجات میں اپنے رب سے دعا کی :۔ رب ابن لی عندک ۔۔ من القوم الظلمین۔ (تفسیر مظہری و تفسیر التفاسیر) رب : ای یا ربی : اے میرے پروردگار۔ ابن : فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ بناء (باب ضرب) مصدر۔ تو بناء تو تعمیر کر دے۔ عندک۔ اپنے پاس۔ قریبا من رحمتک۔ اپنی رحمت کے قریب۔ اللہ کی ذات مکان سے پاک ہے۔ نجنی : نج فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تنجئۃ (تفعیل) مصدر ن ج و مادہ۔ نی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ تو مجھے نجات دے۔ وعملہ۔ اور اس کے عمل سے ای وھو الکفرو عبادۃ غیر اللہ تعالیٰ ۔ یعنی فرعون کا عمل اس کا کفر اور غیر اللہ کی عبادت ہے۔ یا فرعون کے عمل سے مراد اس کی آسیہ کو ایذاء رسانی ہے۔ من القوم الظلمین۔ یعنی ان لوگوں سے نجات دے جنہوں نے کفر و معصیت کرکے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اللہ کے بندوں کو عذاب دیتے ہیں اور ان پر ظلم کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان قبطیوں سے نجات دے جو فرعون کے تابع ہیں۔ اس قصہ کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے ایک بڑا پتھر حضرت آسیہ کے اوپر ڈال دینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم جب ان پر ڈالنے کیلئے ایک عظیم پتھر لایا گیا تو انہوں نے کہا :۔ رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ۔ دعا کرنی تھی کہ انہوں نے اپنا موتی کا گھر جنت میں دیکھ لیا اور روح بدن سے پرواز کرگئی۔ جب پتھر ان پر ڈالا گیا تو نعش بےجان تھی۔ پتھر کے نیچے دبنے کی کوئی اذیت ان کو نہ پہنچی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ظالم لوگوں سے مراد اہل مصر یا قبطی ہیں۔ حضرت سلمان کہتے ہیں کہ فرعون کی بیوی کو دھوپ میں لٹا کر سزا دیتے تھے۔ جب وہ پلٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں سے سایہ کرتے، اس وقت وہ جنت میں اپنا گھر دیکھتی۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یا تو یہ دعا مطلق احوال میں کی تھی یا ایک خاص حالت میں جس کا قصہ یہ لکھا ہے کہ فرعون کو جب اس کے مومن ہونے کی اطلاع ہوگئی تو حکم دیا کہ چومیخا کر کے دھوپ میں ڈال دیا جائے اور ان کے سینہ پر چکی کا پتھر رکھا جاوے، اس تکلیف میں انہوں نے یہ دعا کی، تو ان کو بہشت میں اپنا مکان نظر آگیا، جس سے وہ تکلیف خفیف ہوگئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بد قسمت عورتوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد دو عظیم عورتوں کے کردار اور انعام کا ذکر۔ اس سے پہلے دو بدقسمت عورتوں کے انجام کا ذکر کیا ہے جو دو عظیم انبیاء (علیہ السلام) کی بیویاں تھیں لیکن ایمان اور صالح کردار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ان کی قوم کے ساتھ ہی تباہ کردیا گیا اور آخرت میں انہی کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گی۔ اب ان دو معزز خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک دنیا کے بدترین انسان فرعون کی بیوی تھیجو ہر قسم کا آرام اور مقام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ جونہی وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائی تو فرعون نے اس پر جو رو استبداد کے پہاڑ ڈھادیئے۔ اس کربناک اور نازک ترین آزمائش میں اس نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کی کہ اے میرے مالک ! میں اس گھر سے تنگ آچکی ہوں، فرعون اور اس کے عملے کے ظلم کے سامنے بےبس ہوچکی ہوں۔ تیرے حضور میری فریاد ہے کہ مجھے جنت میں اپنے پاس گھر عطا فرما، فرعون اور اس کے ظالم عملے سے نجات نصیب فرما۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مومن بندی کی فریاد قبول فرمائی اور اس کی موت سے پہلے اسے اس کے جنت کے گھر کا دیدار نصیب کیا۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عظیم عورت کا نام آسیہ بتلایا ہے۔ ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں میں عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ہے، مردوں میں بہت سے کامل لوگ ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون کے علاوہ کوئی کامل نہیں۔ “ (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ إذ قالت الملائکۃ یا مریم إن اللہ یبشرک) حضرت مریم بنت عمران جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجہ ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی حیات طیبہ اور پاکدامنی کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ہی مریم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ اس نے اپنے رب کے فرمان اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور بڑی فرمانبردار تھی۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ بدنامی اور ولادت کی تکلیف کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ اس مشکل وقت میں فرشتے نے کھجور کے نیچے سے آواز دی اے مریم [! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کردیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلاؤ تیرے سامنے ترو تازہ کھجوریں آگریں گی۔ کھجوریں کھاؤ، پانی پیو اور بیٹے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر کسی آدمی کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھو تو اسے کہو کہ میں نے رب رحمن کے لیے چُپ رہنے کی منت مانی ہے اس لیے میں آج کسی مرد و زن سے بات نہیں کروں گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو بڑی عزت اور تکریم سے سرفراز فرمایا جن کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی ازواج اور ان کے مقابلے میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران کا ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کا حسب نسب اور رشتہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے حضور جو چیز قابل قبول ہے وہ انسان کا ایمان اور صالح کردار ہے۔ اس اصول کی بنا پر دو انبیاء کی بیویاں جہنم کا ایندھن بنیں اور فرعون کی بیوی اور عمران کی بیٹی مریم دنیا اور آخرت میں اعلیٰ مقام سے سرفراز کی گئیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کی دعا قبول کی اور اسے فرعون اور اس کے ظالم عملے سے نجات عطا فرمائی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کو اس کی موت سے پہلے جنت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم میں اپنی روح پھونکی۔ ٤۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ مریم بنت عمران بڑی ہی پاکباز اور معزز خاتون تھی۔ ٥۔ حضرت مریم بڑی صالح کردار اور اللہ کے فرمان اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھی۔ تفسیر بالقرآن حضرت مریم [ کا تذکرہ : (البقرۃ : ٨٧) (آل عمران : ٤٥) (البقرۃ : ٢٥٣) (المائدۃ : ٧٥) (آل عمران : ٥٩) (النساء : ١٧١) (المائدۃ : ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

دیکھئے فرعون کی بیوی کو ، کفر کا طوفان متاثر نہ کرسکا حالانکہ وہ اس طوفان میں زندگی بسر کررہی تھی ، فرعون کے محل میں۔ وہ اس سے نجات طلب کرتی تھی اور حقیر فرعون کے مقابلے میں جنت میں محل چاہتی تھی۔ اور وہ فرعون کے کفر کے ساتھ نہ تھی ، اس سے نجات طلب کررہی تھی ، اور اس کی خواہشات یہ تھیں : اذ قالت .................... الظلمین (٦٦ : ١١) ” جب کہ اس نے کہا کہ ” اے میرے رب ! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے “۔ فرعون کی مومنہ بیوی کی دعا ایک مثال ہے اس بات کی کہ جب ایمان راسخ ہوجاتا ہے تو ایک مومنہ دنیا کی اعلیٰ ترین زندگی پر لات مار دیتی ہے۔ فرعون مصر اپنے دور میں دنیا کے بڑے بادشاہوں میں شمار ہوا کرتا تھا۔ اور قصر فرعون میں ایک عورت سب سے اونچا سازو سامان پاتی ہے۔ لیکن ایمان کی وجہ سے وہ اس سے بھی اونچی پرواز کرتی ہے۔ وہ اسے عیش و عشرت نہیں سمجھتی بلکہ ایک گندگی سمجھتی ہے۔ اور اس زندگی سے پناہ مانگتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اس سے نجات پائے۔ یہ ایک نہایت ہی عظیم مملکت کی خاتون اول ہے۔ اور یہ اس کی عظیم امتیازی خصوصیت ہے ، کیونکہ عورت ہمیشہ معاشرتی دباﺅ اور اثر کو قبول کرتی ہے لیکن یہ اکیلی عورت اس عظیم دباﺅ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ہے۔ اس پر معاشرے کا دباﺅ ہے ، اس پر محل کا دباﺅ ہے ، اس پر مملکت کا دباﺅ ہے ، اس پر بادشاہ کے وزراء اور حاشیہ نشینوں کا دباﺅ ہے ، اور اس پر بادشاہ کی ملکہ ہونے کے منصب کا دباﺅ ہے ، لیکن اس ہمہ جہت دباﺅ کے مقابلے میں ، یہ عظیم عورت اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہے ، اور کفر کے اس عظیم سمندر کے اندر ایک چھوٹے سے تختے پر بیٹھی ہے اور اس کا دامن ان تمام آلودگیوں سے تر نہیں ہورہا ہے۔ کس قدر عظیم ہے وہ ! !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” وضرب اللہ مثلا “ یہ مومنوں کے لیے تمثیل ہے۔ جس طرح خاوند کی نیکی کافرہ بیوی کو مفید نہیں اسی طرح کافر خاوند کا کفر مومنہ بیوی کے لیے مضر نہیں۔ فرعون کے کفر سے اس کی بیوی آسیہ مومنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا بنت مزاحم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے پروردگار ! اپنے پاس جنت میں میرا گھر بنا اور فرعون کے نفس خبیثہ اور اس کے عمل سے مجھے نجات عطا فرما اور ان ظالموں سے مجھے بچا عمل فرعون سے اس کا ظلم و تشدد راد ہے جو وہ ایمان کی وجہ سے اپنی بیوی پر کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس سے صحبت اور جماع مراد ہے (قرطبی، روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں یعنی مسلمانوں کے لئے فرعون کی عورت کا حال اور اس کی مثل بیان فرماتا ہے جبکہ اس فرعون کی بیوی نے یوں کہا اے میرے پروردگار میرے لئے جنت میں اپنے قریب ایک مکان بنادے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل بد یعنی کفر کے شر سے محفوظ رکھ اور مجھ کو ان تمام ظالم لوگوں سے خلاصی اور نجات عنایت فرما۔ فرعون کی بیوی جن کا نام آسیہ (رض) تھا اور جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھاتے وقت کہا تھا کہ اس کو قتل نہ کرو شاید اس سے ہم کو نفع پہنچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں وہ عورت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتی تھی فرعون نے اپنے آخری دور میں اس نیک بیوی پر طرح طرح کے مظالم برپا کئے انہی مظالم کی حالت میں جبکہ ان کو فرعون نے چومیخا کررکھا تھا اور ان کے چاروں طرف آگ رکھ چھوڑی تھی انہوں نے دعا کی اپنے قرب میں میرے لئے جنت کے اندر ایک مکان بنادے یعنی میرا مسکن جنت میں آپ کے بالکل قریب ہو یعنی مرتبہ قرب وہ میسر ہو جو اعلیٰ درجے کے لوگوں کو عطا ہوتا ہے۔ یا شاید یہ مطلب ہو کہ بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے فضل اور اپنے پاس سے میرے لئے جنت میں مکان بنادیجئے اور فرعون کے شر سے اس کے عمل بد یعنی کفر کے نقصان سے نجات دے دیجئے اور خلاصی عنایت فرمائیے اور فرعون اور اس کے عمل ہی پر کیا موقوف ہے اس تمام ظالم اور موذی قوم کے شر سے مجھ کو محفوظ کر دیجئے اور نجات دے دیجئے۔ چنانچہ اس دعا کے بعد حضرت آسیہ (رض) کو یا تو زندہ اٹھا لیا گیا یا ان کا وہ محل جو جنت میں ان کے لئے تیار تھا ان کو دکھایا گیا اور ان کی جان جان آفریں لے لی یعنی فرعون نے ان کو شہید کردیا چونکہ ان میں ذاتی صلاحیت موجود تھی اس لئے کافر کے تلبس اور کافر کی صحبت کا کوئی اثران کی روحانیت اور ان کے رفع درجات پر نہ ہوا آگے ایک اور عورت کا حال بیان فرمایا جو کسی کی نہ زوجہ ہیں نہ بیوہ ہیں تاکہ تیسری قسم کی عورتوں کا حال بھی سامنے آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم آپ اپنے ایمان درست کرو خاوند بچا سکے نہ جورو یہ سب کچھ سنا دیا نہ جانو ! کہ حضرت کی بی بیوں پر کہا ہے ان پر تو وہ کہا ہے۔ الطیبات للطیبین چوری کی یعنی منافق رہتیاں۔ خلاصہ : یہ کہ کوئی کسی کے بھروسہ پر نہ رہے بلکہ ہر شخص کو اپنے حال کی اصلاح پر توجہ کرنی چاہیے نیک بندوں کی صحبت بھی جب ہی نافع ہوسکتی ہے جب خود بھی صلاحیت اور اصلاح حال کی فکر ہو بعض لوگوں نے معاذ اللہ لوط اور نوح کی بیویوں کا تعلق بعض ازواج مطہرات سے ظاہر کیا تھا اس کا شاہ صاحب (رح) نے رد فرمادیا کہ یہ وہم نہ کیا جائے اور اس مثال کو حضرت کی بیویوں پر چسپاں نہ کیا جائے جن لوگوں نے یہ جسارت کی ہے انہوں نے نظم قرآنی کی ترتیب کو نظرانداز کرنے کی جرات کی ہے اور سخت گستاخی کا ارتکاب کیا ہے فرعون کی عورت پر حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو انہوں نے پالا ان کی مددگار تھیں ایمان کی بات کہنے میں آخر ان کو فرعون نے قتل کیا سیاست سے شہید ہوگئیں۔ خلاصہ : یہ کہ بادشاہوں کی سیاست کے پیش نظر جس طرح لوگ قتل کئے جاتے ہیں اسی طرح بیوی آسیہ (رض) کو سیاسی مصالح کی بنا پر فرعون نے قتل کرادیا ۔ اب آگے حضرت مریم (علیہ السلام) کی حالت اور ان کی مثل بیان فرمائی۔