Surat ut Tehreem

Surah: 66

Verse: 8

سورة التحريم

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ یَوۡمَ لَا یُخۡزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ نُوۡرُہُمۡ یَسۡعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَ اغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۸﴾

O you who have believed, repent to Allah with sincere repentance. Perhaps your Lord will remove from you your misdeeds and admit you into gardens beneath which rivers flow [on] the Day when Allah will not disgrace the Prophet and those who believed with him. Their light will proceed before them and on their right; they will say, "Our Lord, perfect for us our light and forgive us. Indeed, You are over all things competent."

اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ جس دن اللہ تعالٰی نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا ۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہرچیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا ... O you who believe! Turn to Allah with sincere repentance! meaning, a true, firm repentance that erases the evil sins that preceded it and mend the shortcoming of the repenting person, encouraging and directing him to quit the evil that he used to do. Allah said, ... عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ ... It may be that your Lord will expiate from you your sins, and admit you into Gardens under which rivers flow, And when Allah says, "it may be," it means He shall. ... يَوْمَ لاَ يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ امَنُوا مَعَهُ ... the Day that Allah will not disgrace the Prophet and those who believe with him. meaning, on the Day of Resurrection, Allah will not disgrace those who believed in the Prophet, ... نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ... Their light will run forward before them and in their right hands. as we explained in Surah Al-Hadid, ... يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ They will say: "Our Lord! Keep perfect our light for us and grant us forgiveness. Verily, You are Able to do all things." Mujahid, Ad-Dahhak and Al-Hasan Al-Basri and other said, "This is the statement that the believers will say on the Day of Resurrection, when they witness the light of the hypocrites being extinguished." Imam Ahmad recorded that a man from the tribe of Banu Kinanah said, "I prayed behind the Messenger of Allah during the year of the Conquest (of Makkah), and heard him say, اللْهُمَّ لاَ تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَة O Allah! Please, do not disgrace me on the Day of Resurrection.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 خالص توبہ یہ ہے کہ، 1۔ جس گناہ سے توبہ کر رہا ہے، اسے ترک کر دے 2۔ اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کرے، 3۔ آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے، 4۔ اگر اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے، جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے، محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 8۔ 2 یہ دعا اہل ایمان اس وقت کریں جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، جیسا سورة حدید میں تفصیل گزری، اہل ایمان کہیں گے، جنت میں داخل ہونے تک ہمارے اس نور کو باقی رکھ اور اس کا اتمام فرما۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] توبہ کی شرائط :۔ نَصُوْحًا۔ نصح بمعنی کسی کی خیر خواہی کرنا خواہ یہ قول سے ہو یا فعل سے اور نَصُوْحًاسے مراد ایسی سچی توبہ ہے جس سے اپنے نفس کی خیرخواہی مطلوب ہو۔ اور ایسی توبہ کی چند شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے کیے پر نادم ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کرے اور آئندہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ تیسرے یہ کہ یہ عہد محض زبانی یا ریا کاری کی بنا پر نہ ہو بلکہ آئندہ اس عہد کو حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے اور چوتھے یہ کہ اگر اس نے اس گناہ کے کام میں کسی شخص کا حق تلف کیا ہے تو اسے اس کی ادائیگی کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر وہ حق مال سے تعلق رکھتا ہے تو اصل مظلوم مرچکا ہے تو اس کے وارثوں کو ادا کردے یا صدقہ کر دے۔ اور اگر وہ حق تلفی قول سے تعلق رکھتی ہے جیسے غیبت یا چغلی وغیرہ تو اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتا رہے۔ وغیرذلک۔ [١٧] رسوائی سے مراد عذاب جہنم سے بچا لینا ہے۔ کیونکہ اس دن یہی سب سے بڑی رسوائی ہوگی۔ اس کے بجائے اللہ ایسے لوگوں کو فضل و شرف کے بلند مقامات پر سرفراز فرمائے گا۔ [١٨] اس نور کی تفصیل پہلے سورة حدید کی آیت نمبر ١٣ کے تحت گزر چکی ہے۔ [١٩] قیامت کے دن منافقوں کی مومنوں سے التجا کہ ہمیں ساتھ لے چلو :۔ یہ نور اہل ایمان کو اس وقت عطا کیا جائے گا جب میدان محشر میں لوگوں کے اعمال کا فیصلہ ہوچکا ہوگا اور انہیں جنت میں داخلہ کا ٹکٹ یا پروانہ مل چکا ہوگا۔ میدان محشر سے جنت کی راہ میں سخت تاریکی ہوگی، پھر پل صراط کو بھی عبور کرنا ہوگا۔ اہل ایمان اپنے اس عطا کردہ نور کی روشنی میں آگے بڑھتے جائیں گے۔ منافق بھی اس کے ساتھ چل پڑیں گے لیکن ان کا اپنا نور تو ہوگا نہیں یا اگر تھوڑا بہت ہوگا بھی تو بہت جلد بجھ جائے گا۔ انہیں دیکھ کر اہل ایمان کو یہ اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی راہ میں ہی نہ بجھ جائے۔ لہذا وہ اللہ سے دعا کریں گے کہ اے پروردگار ! جنت میں پہنچنے تک ہمارا یہ نور برقرار اور بحال رکھنا۔ اور ہم سے جو گناہ یا تقصیرات سرزد ہوئی ہیں وہ معاف فرما دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللہ ِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا :” توبۃ “ ” تاب یتوب توبۃ “ (ن) پلٹ آنا ۔ ” نصوحا “ ” نصح ینصح نصحا “ (ف) سے ” فعول “ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت خالص ۔ یہ وزن مذکر و مؤنث کی صفت ہے۔” نصح الشئی “ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز خالص ہو ، اس میں کھوٹ نہ ہو ۔ شہد یا کوئی اور چیز جب خالص ہو تو اسے ” النصح “ کہتے ہیں ۔ ” النصح “ (خالص ہونا) ” الغش “ ( کھوٹا ہونے) کا متضاد ہے۔ اس آیت میں جہنم سے بچنے کا طریقہ بتلایا ہے ، فرمایا اے ایمان والو ! اللہ کی طرف پلٹ آؤ ، خالص اور سچاپلٹنا ۔ یعنی اگر نافرمانی کرکے اللہ تعالیٰ سے دور ہوگئے تو اسے ترک کر کے واپس اس کی طرف پلٹ آؤ ۔ توبہ ٔ نصوح کی پہلی شرط یہ ہے کہ محض اللہ کے خوف کی وجہ سے آدمی گناہ پر نادم ہو ، کسی دنیاوی نقصان کی وجہ سے ندامت توبہ نہیں ۔ عبد اللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( الندم توبۃ) ( ابن ماجہ ، الزھد ، باب ذکر التوبۃ : ٤٢٥٢، وقال الالبانی صحیح) ” ندامت توبہ ہے “۔ دوسری شرط یہ ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور فوراط چھوڑ دے۔ ( دیکھئے نسا : ١٧ ، اعراف : ٢٠١) تیسری شرط یہ کہ آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے ، گناہ پر قائم نہ رہے۔ ( دیکھئے آل عمران : ١٣٥) اور چوتھی شرط یہ ہے کہ اگر اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے تو جہاں تک ممکن ہو انہیں ادا کرے یا معافی مانگ لے۔ ٢۔ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَعَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ ۔۔۔۔: اس میں توبہ نصوح پر گناہوں کی معافی اور جنتوں میں داخلے کی خوش خبری سنائی ہے۔ ٣۔ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہ ُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ :” یوم “ کا لفظ ” یدخلکم “ کا ظرف ہے ، یعنی گناہوں کی معافی اور جنت میں داخلہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا ۔ اس کے ساتھ ایمان لانے والوں میں صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فتح کی آخرت آیت کی تفسیر۔ ان میں ازواج مطہرات بالا ولیٰ شامل ہیں ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کا شرف بخشا اور جب انہیں اللہ ، اس کے رسول اور آخرت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کو قبول کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کو قبول کیا ۔ ( دیکھئے احزاب : ٢٨ تا ٣٤) اور ان کے ایثار اور صبر کی وجہ سے ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید عورتوں کے ساتھ یا ان کو بدل کر دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح سے منع قرار دیا۔ دیکھئے سورة ٔ احزاب (٥٢) ۔ اس دن کی رسوائی سے دنیا میں بھی انبیاء اور مومن بندے پناہ مانگتے رہے تھے۔ ( دیکھئے آل عمران : ١٩٤۔ شعرائ : ٨٧) سو اللہ تعالیٰ انہیں اس رسوائی سے بچا لے گا ۔ ٤۔ نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید کی آیت (١٢) کی تفسیر۔ ٥۔ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا : حشر کے میدان میں جب ایمان والوں اور منافقین کے درمیان دیوار حائل ہونے پر منافقین اندڈھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے تو ایمان والے اس خوف سے کہ منافقین کی طرح ہماری روشنی بھی نہ بجھ جائے اللہ تعالیٰ سے اپنے نور کو پورا کرنے اور پورا رکھنے کی دعا کریں گے ، تا کہ اس روشنی میں وہ جنت تک پہنچ جائیں ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ حدید (١٣ تا ١٥)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا (...turn to Allah with a faithful repentance...66:8). The word taubah, literally, means &to turn& or &to return&, in the sense of turning or withdrawing from sins. In the terminology of the Qur&an and Sunnah, it signifies &to regret committing sins in the past and to firmly resolve abstaining from them in future&. Taubah is qualified in the verse by the word نصوح nasuh. If it is taken as the infinitive of nasaha / nasihah, it signifies &to make pure and sincere&; and if it be derived from nasahah, it signifies &to repair clothes by sewing&. In terms of the first meaning, the expression nasuh signifies sincere/faithful [ repentance ], free from pretence and hypocrisy. In this interpretation, a sinner is required to regret the sins he has committed and give them up purely for the pleasure of Allah and for fear of Divine chastisement. In terms of the second meaning, nasuh would signify that &the sinner is required to repair the torn clothes of righteous deeds&. Sayyidna Hasan Basri (رح) says that taubatan nasuha signifies that a person should regret his past evil actions, and make a firm resolve never to repeat them. Kalbi says the phrase taubatan nasuha signifies that a person should pray for pardon with his tongue, regret in his heart, and should prevent the limbs of his body from committing sins in the future. Sayyidna ` Ali (رض) was asked as to what is &taubah& and he replied that it consists of six elements: [ 1] to regret one&s past evil deeds; [ 2] to carry out Divine duties that were missed; [ 3] to restore the rights that were usurped; [ 4] to ask forgiveness of a person who has been wronged by him physically or verbally; [ 5] to make a firm resolve of avoiding the sin in future; and [ 6] to consume one&s self in obedience of Allah as one thus far consumed one&s self in His disobedience. [ Mazhari ]. In fact, all of the conditions of &taubah&, put forward by Sayyidna ` Ali (رض) ، are recognized by all the scholars. However, some have described them concisely and others in details. عَسَىٰ رَ‌بُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ‌ عَنكُمْ (It is hoped from your Lord that he will write off your faults...66:8). The verb ` asa means &it is hoped&. In this context, it purports to mean &promise&, but the expression of &hope& is used to indicate that taubah or any other righteous deeds are not the just and equal price for the Paradise or the divine forgiveness. In fact, one compensation for man&s good deeds has already been given to him in this world in the form of worldly blessings. Therefore, as regards the law of equality, it is not necessary that he is further compensated by the Jannah. It entirely depends on Divine grace and favour as is mentioned in a Hadith which says: &Your actions alone cannot salvage you.& The Companions inquired: &0 Messenger of Allah, not even you?& He replied: &No, not even me unless the Divine grace and mercy covers me.& [ Bukhari and Muslim as quoted by Mazhari ]

خلاصہ تفسیر (ان آیات میں دوزخ سے بچنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہی اہل و عیال کو بتلا کر جہنم کی آگ سے بچانے کا طریقہ ہے وہ یہ ہے) اے ایمان والو اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو ( یعنی دل میں گناہ پر کامل ندامت ہو اور آئندہ اسکے نہ کرنے کا پختہ قصد ہو اس میں تمام احکامدین فرائض واجبات بھی داخل ہوگئے کہ ان کا چھوڑنا گناہ ہے اور تمام محرمات ومکروہات بھی آگئے کہ ان کا کرنا گناہ ہے) امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت) تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور یہ اس روز ہوگا) جس دن کہ اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور جو مسلمان (ایمان اور دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا (جیسا کہ سورة حدید میں گزرچکا ہے اور وہ) یوں دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے اس نور و اخیر تک رکھئے ( یعنی راستہ میں گل نہ ہوجاوے) اور ہماری مغرفت فرما دیجئے آپ ہر شئے پر قادر ہیں (اور اس دعا کی وجہ یہ ہوگی کہ قیامت میں ہر مومن کو کچھ نہ کچھ نور عطا ہوگا جس وقت پل صراط کے پاس پہنچ کر منافقین کا نور بجھ جاوے گا جسکا ذکر سورة حدید میں آچکا ہے اس وقت مومنین یہ دعا کریں گے کہ منافقین کی طرح کہیں ہمارا نور بھی سلب نہ ہوجائے (کذافی الدر المنثور عن ابن عباس) اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار (سے بذریعہ تلوار) اور منافقین سے (بذریعہ زبان وبیان حجت) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے (دنیا میں تو یہ اس سزا کے مستحق ہوئے) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے ( آگے اس کا بیان ہے کہ آخرت میں ہر شخص کو اپنا ہی ایمان کام آئے گا۔ کافر کو کسی ان کے خویش و عزیز کا ایمان عذاب سے نہ بچائے گا، اسی طرح مومن کے خویش و عزیز کافر ہوں تو مومن کو اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) اللہ تعالیٰ کافروں (کی عبرت) کے لئے نوح کی بی بی اور لوط کی بی بی کا حال بیان فرماتا ہے، وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں سو ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ضائع کیا (یعنی بوجہ ان کے نبی ہونے کے ان کا حق یہ بھی تھا کہ ان پر ایمان لاتیں اور دینی احکام میں ان کی اطاعت کرتیں جو انہوں نے نہیں کی) تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلے میں ان کے ذرا کام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو (بوجہ کافر ہوجانے کے) حکم ہوگیا کہ تم دونوں بھی دوسرے جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ (یہاں تک کافروں کی عبرت کے لئے واقعہ بیان کیا گیا تھا، آگے مسلمانوں کے اطمینان کے لئے فرمایا) اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کے لئے فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ) کا حال بیان کرتا ہے جبکہ ان بی بی نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنائے اور مجھ کو فرعون (کے شر) سے اور اسکے عمل (کفر کے ضرر اور اثر) سے محفوظ رکھئے اور مجھ کو تمام ظالم (یعنی کافر) لوگوں (کے ظاہری اور باطنی ضرر) سے محفوظ رکھئے اور (نیز مسلمانوں کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ ) عمران کی بیٹی حضرت مریم کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے ناموس کو ( حرام اور حلال دونوں سے) محفوظ رکھا، سو ہم نے ان کے چاک گریبان میں (بواسطہ جبرئیل علیہ السلام) اپنی روح پھونک دی اور انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کی (جو ملائکہ کے ذریعے پہنچے تھے) اور اس کی کتابوں کی (جن میں تورات و انجیل بھی ہیں) تصدیق کی ( یہ بیان ہے ان کے عقائد کا) اور وہ اطاعت والوں میں سے تھیں ( یہ بیان ہے ان کے اعمال کا) معارف ومسائل تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا . توبہ کے لفظی معنے لوٹنے اور رجوع ہونے کے ہیں، مراد گناہوں سے لوٹنا ہے۔ اور اصطلاح قرآن وسنت میں توبہ اس کا نام ہے کہ آدمی اپنے پچھلے گناہ پر نادم ہو اور آئندہ اس کے پاس نہ جانے کا پختہ عزم کرے۔ اور نصوح کو اگر مصدر نصح اور نصیحت سے لیا جائے تو اس کے معنے خالص کرنے کے ہیں، اور مصدر نصاحت سے مشتق قرار دیں تو اس کے معنے کپڑے کو سینے اور جوڑ لگانے کے ہیں۔ پہلے معنے کے اعتبار سے نصوح کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ریا اور نمود سے خالص ہو۔ محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور خوف عذاب سے گناہ پر نادم ہو کر اس کو چھوڑ دے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے نصوح اس مطلب کے لئے ہوگا کہ اعمال صالحہ کا لباس جو گناہ کی وجہ سے پھٹ گیا ہے تو یہ اسکے خرق یعنی پھٹن کو جوڑنے والی ہے۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ آدمی اپنے گزشتہ عمل پر نادم ہو اور پھر اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ اور عزم رکھتا ہو۔ اور کلبی نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ زبان سے استغفار کرے اور دل میں نادم ہو اور اپنے بدن اور اعضاء کو آئندہ اس گناہ سے روکے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ سے سوال کیا گیا کہ توبہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جس میں چھ چیزیں جمع ہوں۔ (١) اپنے گزشتہ برے عمل پر ندامت (٢) جو فرائض وواجبات اللہ تعالیٰ کے چھوٹے ہیں ان کی قضا (٣) کسی کا مال وغیرہ ظلماً لیا تھا تو اسی کی واپسی (٤) کسی کو ہاتھ یا زبان سے ستایا اور تکلیف پہنچائی تھی تو اس سے معافی (٥) آئندہ اس گناہ کے پاس نہ جانے کا پختہ عزم و ارادہ (٦) اور یہ کہ جس طرح اس نے اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دیکھا ہے اب وہ اطاعت کرتے ہوئے دیکھ لے (مظہری) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جو شرائط توبہ بیان فرمائی ہیں وہ سبھی کے نزدیک مسلم ہیں۔ بعض نے مختصر بعض نے مفصل بیان کردیا ہے۔ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُم، آلایة لفظ عسیٰ کا ترجمہ امید ہے اور یہاں مراد اس سے وعدہ ہے مگر اس وعدہ کو بلفظ امید تعبیر کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ توبہ ہو یا انسان کے دوسرے اعمال صالحہ ان میں سے کوئی بھی جنت و مغفرت کی قیمت نہیں اور نہ اللہ کے ذمہ ازروئے انصاف یہ لازم آتا ہے جو عمل صاحل کرے اس کو ضرور جنت ہی میں داخل کرے کیونکہ اعمال صالحہ کا ایک بدلہ تو ہر انسان کو دنیوی زندگی میں عطا ہونے والی نعمتوں سے مل چکا ہے۔ اس کے بدلے میں ازروئے قانون وقاعدہ جنت ملنا ضروری نہیں وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام ہی پر موقوف ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا آپکو بھی، آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کا معاملہ نہ فرماویں (بخاری ومسلم) ازمظہری

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا۝ ٠ ۭ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝ ٠ ۙ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللہُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ۝ ٠ ۚ نُوْرُہُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَبِاَيْمَانِہِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا۝ ٠ ۚ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ٨ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) نصح النُّصْحُ : تَحَرِّي فِعْلٍ أو قَوْلٍ فيه صلاحُ صاحبِهِ. قال تعالی: لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلكِنْ لا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 79] وَلا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ [هود/ 34] وهو من قولهم : نَصَحْتُ له الوُدَّ. أي : أَخْلَصْتُهُ ، ونَاصِحُ العَسَلِ : خَالِصُهُ ، أو من قولهم : نَصَحْتُ الجِلْدَ : خِطْتُه، والنَّاصِحُ : الخَيَّاطُ ، والنِّصَاحُ : الخَيْطُ ، وقوله : تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً [ التحریم/ 8] فمِنْ أَحَدِ هذين، إِمَّا الإخلاصُ ، وإِمَّا الإِحكامُ ، ويقال : نَصُوحٌ ونَصَاحٌ نحو ذَهُوب وذَهَاب، ( ن ص ح ) النصح کسی ایسے قول یا فعل کا قصد کرنے کو کہتے ہیں جس میں دوسرے کی خیر خواہی ہو قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلكِنْ لا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 79] میں نے تم کو خدا کا پیغام سنادیا ۔ اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم ایسے ہو کہ خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے ۔ یہ یا تو نصحت لہ الود کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی سے خالص محبت کرنے کے ہیں اور ناصح العسل خالص شہد کو کہتے ہیں اور یا یہ نصحت الجلد سے ماخوذ ہے جس کے معنی چمڑے کو سینے کے ہیں ۔ اور ناصح کے معنی درزی اور نصاح کے معنی سلائی کا دھاگہ کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً [ التحریم/ 8] خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو ۔ میں نصوحا کا لفظ بھی مذکورہ دونوں محاوروں میں سے ایک سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی خالص یا محکم توبہ کے ہیں اس میں نصوح ور نصاح دو لغت ہیں جیسے ذھوب وذھاب عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا استعمال صحیح نہیں ہے مگر یہ ان کی تاہ نظری ہے کیونکہ جہاں کہیں قرآن میں عسی کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کیساتھ لہذا آیت کریمہ : ۔ عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے كَفَّارَة ( گناهوں کا چهپانا) والْكَفَّارَةُ : ما يغطّي الإثم، ومنه : كَفَّارَةُ الیمین نحو قوله : ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ [ المائدة/ 89] وکذلك كفّارة غيره من الآثام ککفارة القتل والظّهار . قال : فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ [ المائدة/ 89] والتَّكْفِيرُ : ستره وتغطیته حتی يصير بمنزلة ما لم يعمل، ويصحّ أن يكون أصله إزالة الکفر والکفران، نحو : التّمریض في كونه إزالة للمرض، وتقذية العین في إزالة القذی عنه، قال : وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنا عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ [ المائدة/ 65] ، نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئاتِكُمْ [ النساء/ 31] وإلى هذا المعنی أشار بقوله : إِنَّ الْحَسَناتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئاتِ [هود/ 114] وقیل : صغار الحسنات لا تكفّر کبار السّيّئات، وقال : لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ [ آل عمران/ 195] ، لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا [ الزمر/ 35] ويقال : كَفَرَتِ الشمس النّجومَ : سترتها، ويقال الْكَافِرُ للسّحاب الذي يغطّي الشمس واللیل، قال الشاعر : ألقت ذکاء يمينها في کافر «1» وتَكَفَّرَ في السّلاح . أي : تغطّى فيه، والْكَافُورُ : أکمام الثمرة . أي : التي تكفُرُ الثّمرةَ ، قال الشاعر : كالکرم إذ نادی من الکافوروالْكَافُورُ الذي هو من الطّيب . قال تعالی: كانَ مِزاجُها كافُوراً [ الإنسان/ 5] . الکفا رۃ جو چیز گناہ دور کردے اور اسے ڈھانپ لے اسے کفارہ کہا جاتا ہے اسی سے کفارۃ الیمین ہے چناچہ اس کا ذکر کرتی ہوئے فرمایا : ۔ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ [ المائدة/ 89] یہ تمہاری قسموں کا کفارۃ ہے جب تم قسمیں کھالو ۔ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ [ المائدة/ 89] تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے ۔ اسی طرح دوسرے گناہ جیسے قتل اظہار وغیرہ کے تادان پر بھی کفارہ کا لفظ استعمال ہوا ہے : التکفیرۃ اس کے معنی بھی گناہ کو چھپانے اور اسے اس طرح مٹا دینے کے ہیں جسے اس کا ارتکاب ہی نہیں کیا اور ہوسکتا ہے کہ یہ اصل میں ازالۃ کفر یا کفران سے ہو جیسے تم یض اصل میں ازالہ مرض کے آتے ہیں اور تقد یۃ کے معنی ازالہ قذی تنکا دور کرنے کے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنا عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ [ المائدة/ 65] اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کردیتے ۔ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئاتِكُمْ [ النساء/ 31] تو ہم تمہارے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ معاف کر دینگے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْحَسَناتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئاتِ [هود/ 114] کچھ شک نہیں نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے مگر بعض نے کہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں بڑے گناہوں کا کفارہ نہیں بن سکتیں ۔ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ [ آل عمران/ 195] میں ان کے گناہ دور کردوں گا ۔ لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا [ الزمر/ 35] تاکہ خدا ان سے برایئوں کو جو انہوں نے کیں دور کر دے ۔ محاورہ ہے : ۔ کفرت الشمس النجوم سورج نے ستاروں کو چھپادیا اور اس بادل کو بھی کافر کہا جاتا ہے جو سورج کو چھپا لیتا ہے : ۔ تکفر فی السلاح اس نے ہتھیار پہن لئے ۔ الکافو ر اصل میں پھلوں کے خلاف کو کہتے ہیں جو ان کو اپنے اندر چھپائے رکھتا ہے شاعر نے کہا ہے ( 375 ) کا لکریم اذ نادی من لکافور جیسے انگور شگوفے کے غلاف سے ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن کافور ایک مشہور خوشبو کلمہ بھی نام ہے چناچہ فرمایا : ۔ كانَ مِزاجُها كافُوراً [ الإنسان/ 5] جس میں کافور کی آمیزش ہوگی ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة «2» ، إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ (بقیہ حصہ کتاب سے ملاحضہ فرمائیں)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے ایمان والو تم اپنے گناہوں سے اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو یعنی دل میں ندامت زبان پر استغفار اور بدن پر تواضع و انکسار ہو امید ہے توبہ کی وجہ سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ اور قیامت کا دن ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم کو اور ان ایمان والوں کو جو کہ آپ کے ساتھ ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کفار کی طرح رسوا نہیں کرے گا۔ یا یہ کہ ان کو عذاب نہیں دے گا ان کا نور پل صراط پر ان کے سامنے اور دائیں طرف روشن ہوگا اور منافقین کے نور بجھ جانے کے بعد یوں دعا کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے نور کو پل صراط پر ہمارے لیے اخیر تک رکھیے اور ہمارے گناہوں کو معاف کردیجیے آپ نور کو اخیر تک رکھنے اور گناہوں کے معاف کرنے پر قادر ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًاط } ” اے اہل ایمان ! توبہ کرو اللہ کی جناب میں خالص توبہ۔ “ یہ آیت اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے زیر مطالعہ سورتوں کے گروپ میں منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں پل صراط کے اس ماحول کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے جس کی تفصیل سورة الحدید میں آئی ہے۔ اس آیت کے ابتدائی حصے میں اہل ایمان کو توبہ سے متعلق جو حکم دیا گیا ہے اس حکم میں بہت جامعیت ہے۔ اس سے مراد صرف کسی ایک برے عمل کی توبہ نہیں کہ کوئی شخص شراب نوشی سے توبہ کرلے یا کوئی رشوت خوری سے باز آجائے ‘ بلکہ اس سے مراد غفلت کی زندگی اور معصیت کی روش سے توبہ ہے ۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ یہ زندگی کا رخ بدلنے کا حکم ہے ‘ کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! ذرا اپنی زندگی کے شب و روز پر غور تو کرو کہ تمہارا رخ کس طرف ہے ؟ تمہاری زندگی کے سفر کی منزل کیا ہے ؟ تم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نقش قدم پر چل رہے ہو یا کسی اور کی پیروی کر رہے ہو ؟ { فَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ ۔ } (التکویر) ۔۔۔۔ - تو اے اللہ کے بندو ! اپنی زندگی کے شب و روز اور معمولات کا جائزہ لو ‘ اپنی دوڑ دھوپ اور اپنی ترجیحات پر غور کرو۔ پھر اگر تم محسوس کرو کہ تم غلط رخ پر جا رہے ہو تو اپنے بڑھتے ہوئے قدم فوراً روک لو { فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ } (الذاریات : ٥٠) اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے رب کی طرف پلٹ آئو ! تمہارے پلٹنے کے لیے اللہ کی رحمت کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک تمہاری موت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔ چناچہ ابھی موقع ہے کہ اس کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرو ‘ زندگی کے جو ماہ و سال غفلت کی نذر ہوگئے ہیں ان پر اشک ندامت بہائو ‘ صدقِ دل اور اخلاصِ نیت سے معافی مانگو اور غلط روش کو ترک کرنے کے بعد زندگی کا سفر از سرنو شروع کرو۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ سفر زندگی کی سمت درست کرنے کے لیے فرائض دینی کا درست فہم اور ادراک بھی ضروری ہے۔ ظاہر ہے دین صرف نمازیں پڑھنے اور رمضان کے روزے رکھنے ہی کا نام نہیں ‘ بلکہ ایک بندئہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشرت اور معیشت کو بھی ” مسلمان “ کرے۔ پھر یہ کہ جو ہدایت اسے نصیب ہوئی ہے اسے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرے اور کسی جماعت میں شامل ہو کر دین کے سب سے اہم فرض کی ادائیگی یعنی باطل نظام کے خاتمے اور اللہ تعالیٰ کی حکومت کے قیام کی جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہوجائے۔ اس کے لیے انقلابِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہج کو سمجھنا اور اس منہج کی پیروی کرنا بہت ضروری ہے۔ آج ہماری جدوجہد میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کی محنت اور کوشش کی سی کیفیت تو پیدا نہیں ہوسکتی کہ ع ” وہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا ! “ لیکن ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہج پر چلنے کی کوشش تو کرنی چاہیے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ درجے میں سہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تحریک کے ساتھ اپنی جدوجہد کی کچھ نہ کچھ مماثلت اور مشابہت تو پیدا کرنی چاہیے۔ چناچہ ایک ایک گھر اور ایک ایک فرد تک دعوت پہنچانے کا اہتمام ‘ دعوت پر لبیک کہنے والوں کی تنظیم و تربیت کا انتظام ‘ صبر و مصابرت کی حکمت عملی ‘ جیسے ضروری مراحل ہمیں اسی طریقے سے طے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس طریقے سے خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مراحل طے فرمائے تھے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری کتاب ” منہجِ انقلابِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ اور اسی عنوان سے تقاریر کی ریکارڈنگ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ } ” امید ہے تمہارا رب تم سے تمہاری برائیوں کو دور کردے گا “ تمہارے توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال سے تمام دھبے دھو ڈالے گا اور تمہارے دامن ِکردار کے تمام داغ صاف کر دے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَـہٗ ) (١) کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہوجاتا ہے جیسے اس نے وہ گناہ کبھی کیا ہی نہ ہو۔ { وَیُدْخِلَـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُلا } ” اور تمہیں داخل کرے گا ایسے باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی “ { یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ } ” جس دن اللہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ “ { نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ } ” (اُس دن) ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف “ یہ مضمون اس سے پہلے انہی الفاظ میں سورة الحدید کی آیت ١٢ میں بھی آچکا ہے۔ نورِ ایمان ان کے سامنے ہوگا جبکہ اعمالِ صالحہ کا نور داہنی طرف ہوگا۔ { یَـقُوْلُوْنَ رَبَّـنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا } ” وہ کہتے ہوں گے : اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے “ { وَاغْفِرْلَنَاج اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ ۔ } ” اور تو ہمیں بخش دے ‘ یقینا تو ہر شے پر قادر ہے۔ “ ہر بندئہ مومن کا نور اس کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی مناسبت سے ہوگا۔ حضرت قتادہ (رح) سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ مدینہ سے عدن تک کی مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہا ہوگا اور کسی کا نور مدینہ سے صنعاء تک ‘ اور کسی کا اس سے کم ‘ یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا۔ “ (ابن جریر) (١) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے مطابق تصور کریں حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دوسرے صحابہ کرام (رض) کے نور کا کیا عالم ہوگا۔ بہرحال ہم جیسے مسلمانوں کو اس دن اگر ٹارچ کی روشنی جیسا نور بھی مل جائے تو غنیمت ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس دن کچھ لوگوں کا نور کم کیوں ہوگا۔ یقینا وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے ایمان میں کسی پہلو سے کوئی کمزوری رہ گئی ہوگی اور اعمال میں کوتاہیاں سرزدہوئی ہوں گی۔ یقینا انہوں نے اپنی استعداد کو ‘ اپنے مال کو اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بچا بچا کر رکھا ہوگا اور اللہ کے راستے میں انہیں اس حد تک خرچ نہیں کیا ہوگا جس حد تک خرچ کرنے کے وہ مکلف تھے۔ اس حوالے سے علامہ اقبال کی یہ نصیحت ہمیں حرزجاں بنا لینی چاہیے : ؎ تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ‘ ترا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں ! بہرحال پل صراط کے کٹھن اور نازک راستے پر جن اہل ایمان کا نور کم ہوگا وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ ! تو اپنے فضل اور اپنی شان غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو ڈھانپ لے اور ہمارے نور کو بھی مکمل فرمادے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19 Literally, "taubat an-nasuh-an "may either mean that one should offer such true repentance as may have no tinge of pretence and hypocrisy in it, or that one should wish one's own self well and repenting of sin should save oneself from the evil end, or that one should so adorn and improve one's life after repentance as to become a cause of admonition for others, and seeing his example others also may reform themselves accordingly. These are the meanings of taubat an-nasuh which- are indicated by its literal sense. As for its religious meaning, its explanation is found in the Hadith which Ibn Abi, Hatim has related on the authority of Zirr bin Hubaish. He says: "When I asked Hadrat Ubayy bin Ka'b the meaning of taubat an-nasuh, he said that he had asked the Holy Prophet (upon whom be peace) the same question, and he had replied: 'It implies that when you happen to commit an error, you should feel penitent for it, then should implore Allah for forgiveness remorsefully, and then should refrain from committing the same error again." This same meaning has been reported from hadrat 'Umar. Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud and Hadrat 'Abdullah bin `Abbas also, and in a tradition Hadrat 'Umar has defined taubat an-nasuh, thus: °After offering repentance one should not even think of committing the sin, not to speak of repeating it." (Ibn Jarir) Hadrat 'Ali once heard a desert Arab chanting the words of repentance and forgiveness quickly and mechanically and remarked: `This is the repentance of the liars." The man asked: 'What is true repentance? Hadrat 'AIi replied: It should be accompanied by six things: (1) You should feel penitent for the wrong you have done: (2) you should carry out the duties that you havc ignored; t3) restore the rights that you have usurped; (4) ask forgiveness of him whom you have wronged; (S) make a resolve not to repeat the sin again; and (6) consume yourself in obedience to AIlah as you have so far been consuming it in wrongdoing, and cause it to taste the bitterness of obedience as you havc so far been causing it to enjoy the sweet taste of disobedience and sin. " (Al-Kashshaf) In connection with repentance there are some other points also which should be well understood: (I) That repentance, in fact, is to show remorse for an act of disobedience only because it is a disobedience of Allah; otherwise to make a resolve to refrain from a sin because it is harmful for health, for instance, or it is likely to cause defamation or financial loss, is no repentance; (2) that man should offer repentance as soon as he realizes that he has committed disobedience of Allah and should compensate for it without delay in whatever form possible and should not defer it in any way; (3) that violating one's repentance again and making a jest of repentance and repeating the sin again and again of which one has repented, is a proof of the falsity of one's repentance, for the essence of repentance, is penitence, and breaking one's repentance repeatedly is a sign that it has not been motivated by penitence; (4) that if the person who has repented sincerely and resolved not to repeat the sin again, happens to repeat it once again because of human weakness, it will not revive his past sin: however, he should offer a fresh repentance for the latter sin sod should resolve more firmly that he would not commit the sin in future; (5) that it is not necessary to renew one's repentance again everytime one remembers the disobedience committed in the past, but if one's self derives pleasure from the remembrance of the past, sinful life, one should offer repentance again and again until the remembrance of the sins causes remorse instead of pleasure and enjoyment. For the person who has actually repented of disobedience because of fear of God cannot derive pleasure from the thought chat he has been disobeying God. His deriving pleasure from it is a sign that fear of God has not taken root in his heart. 20 The words of the verse deserve deep consideration. It has not been said chat if you repeat, you will surely be forgiven and will certainly be admitted to Paradise, but that: "If you offer true repentance, it may well be that AIIah will treat you kindly." It means that it is not incumbent upon AIIah to accept the repentance of the sinner and to grant him Paradise instead of subjecting him to punishment but it will be His kindness and compassion that He may forgive well as reward His servant. One should have hope of Hit forgiveness, but one should not commit a sin with the confidence that one will achieve forgiveness by repentance. 21 That is, `He will not allow the reward of their good deeds to go to waste. He will not let the disbelievers and the hypocrites taunt the believers that they had gained nothing n spite of their worship. Humilitation will be the fate of the rebels and the disobedient and not of the faithful and obedient." 22 When this verse is read along with w. 12-13 of Surah AI-Hadid, it becomes clear that the running on of the light before the believers will take place when they will be proceeding towards Paradise from the Plain of Resurrection. There it will be pitch dark alI around and those who will have been condenmed to Hell, will be groping; about in it; the light will only be with the believers by which they will be travelling on their way. On this critical occasion, hearing the wailings and groanings of those groping in the dark the believers will be feeling terrorstricken- In view of their past errors and short-comings they will be afraid lest they too should be deprived of their light and made to grope about like those-wretched people. Therefore, they will pray: "O our Lord, forgive us our sins and Iet our light remain with us until we reach Paradise." Ibn Jarir has cited Hadrat Abdullah bin 'Abbas as explaining the meaning of Rabbana-atimim lava nurana thus They will implore AIIah AI-mighty that their light be allowed to remain with thetas and kept from going out until they have crossed the bridge across Hell." The commentary given by Hadrat Hasan Basri, Mujahid and Dahhak also is almost the same. Ibn Kathir has cited their this saying: °When the believers see that the hypocrites have been deprived of the light, they will pray to Allah for the perfection of their light." (For further explanation, see E.N. 17 of Surah Al Hadid) .

سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :19 اصل میں توبۃً نصوحاً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ نصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں ۔ خالص شہد کو عسل ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کر دیا گیا ہو ۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور ادھڑے ہوئے کپڑے کی مرمت کر دینے کے لیے نصاحۃ الثوب کا لفاظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ پس توجہ کو نصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توجہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو ۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے ۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑ گیا ہے ، توبہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے ۔ یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سوار لے کہ دوسروں کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اسکی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسی کی طرح اپنی اصلاح کرلیں ۔ یہ تو ہیں توبہ نصوح کے وہ مفہومات جو اس کے لغوی معنوں سے مترشح ہوتے ہیں ۔ رہا اسی کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے توجہ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ سے یہی سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہو جائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو ، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو ۔ یہی مطلب حضرت عمر ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے ، اور ایک روایت میں حضرت عمر نے توبہ نصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی کا اعادہ تو درکنار ، اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے ۔ ( ابن جریر ) ۔ حضرت علی نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ توبۃ الکذابین ہے ۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے؟ فرمایا اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہیں ( 1 ) جو کچھ ہو چکا ہے اس پر نادم ہو ۔ ( 2 ) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو ان کو ادا کر ۔ ( 3 ) جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کر ۔ ( 4 ) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ ۔ ( 5 ) آئندہ کے لیے عزم کر لے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا ۔ اور ( 6 ) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دے جس طرح تو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو طاعت کی تلخی کا مزا چکھا جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے ۔ ( کشاف ) توبہ کے سلسلہ میں چند امور اور بھی ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ اول یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لیے نادم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے ۔ ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کر لینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے ، یاکسی بدنامی کا ، یا مالی نقصان کا موجب ہے ، توبہ کی تعریف میں نہیں آتا ۔ دوسرے یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہو جائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے ، اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلا تاخیر اس کی تلافی کر دینی چاہیے ، اسے ٹالنا مناسب نہیں ہے ۔ تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو ، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ، کیونکہ توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے ، اور بار بار کی توبہ شکنی اس بات کی علامت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں ہے ۔ چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کر چکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا ، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اسی گناہ کا اعادہ ہو جائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہو گا البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی کا مرتکب نہ ہو ۔ پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یاد آئے ، توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے ، لیکن اگر اس کا نفس اپنی سابق گناہ گارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اس کے لیے لذت کے بجائے شرمساری کی موجب بن جائے ۔ اس لیے جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بنا پر معصیت سے توجہ کی ہو وہ اس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے ۔ اس سے لذت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی ہے ۔ سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :20 آیت کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ یہ نہیں فرمایا گیا کہ توبہ کر لو تو تمہیں ضرور معاف کر دیا جائے گا اور لازماً تم جنت میں داخل کر دیے جاؤ گے ، بلکہ یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرو گے تو بعید نہیں کہ اللہ تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ گناہ گار کی توبہ قبول کر لینا اور اسے سزا دینے کے بجائے جنت عطا فرما دینا اللہ پر واجب نہیں ہے ، بلکہ یہ سراسر اس کی عنایت و مہربانی ہو گی کہ وہ معاف بھی کرے اور انعام بھی دے ۔ بندے کو اس سے معافی کی ا مید تو ضرور رکھنی چاہیے مگر اس بھروسے پر گناہ نہیں کرنا چاہیے کہ توبہ سے معافی مل جائے گی ۔ سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :21 یعنی ان کے اعمال حسنہ کا اجر ضائع نہ کر ےگا کفار و منافقین کو یہ کہنے کا موقع ہرگز نہ دے گا کہ ان لوگوں نے خدا پرستی بھی کی تو اس کا کیا صلہ پایا ۔ رسوائی باغیوں اور نافرمانوں کے حصے میں آئے گی نہ کہ وفاداروں اور فرماں برداروں کے حصے میں ۔ سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :22 اس آیت کو سورہ حدید کی آیات 12 ۔ 13 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان کے آگے آگے نور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اس وقت پیش آئے گی جب وہ میدان حشر سے جنت کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ وہاں ہر طرف گھپ اندھیرا ہو گا جس میں وہ سب لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں دوزح کا فیصلہ ہو گا ، اور روشنی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہو گی جس کے سہارے وہ اپنا راستہ طے کر رہے ہوں گے ۔ اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آہ و فغاں سن سن کر اہل ایمان پر خشیت کی کیفیت طاری ہو رہی ہو گی ، اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کر کے انہیں اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں ہمارا نور بھی نہ چھن جائے اور ہم ان بدبختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں ۔ اس لیے وہ دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہمارے نور کو جنت میں پہنچنے تک ہمارے لیے باقی رکھ ۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ : ربنا اتمم لنا نورنا کے معنی یہ ہیں کہ: وہ اللہ تعالی سے دعا کریں گے کہ ان کا نور اس وقت تک باقی رکھا جائے اور اسے بجھنے نہ دیا جائے جب تک وہ پل صراط سے بخریت نہ گزر جائیں ۔ حضرت حسن بصری اور مجاہد اور ضحاک کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے ۔ ابن کثیر نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے اہل ایمان جب دیکھیں گے کہ منافقین نور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ سے تکمیل نور کی دعا کریں گے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، الحدید ، حاشیہ 17 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: اس سے مراد غالبا وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر اِنسان کا اِیمان اُس کے سامنے نور بن کر اُسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سور حدید :12 میں گذر چکا ہے۔ 9: یعنی آخر تک اُسے برقرار رکھیے، کیونکہ سور حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے، لیکن بعد میں اُن سے نور سلب کرلیا جائے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨۔ ٩ اوپر ذکر تھا کہ ہر ایمان دار آدمی نیک کام کرکے اور برے کام سے باز رہ کر اپنی جان کو اور یہی تاکید رکھ کر اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائے ان آیتوں میں توبہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص برا کام کر بیٹھے اور پھر فوراً اس پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ صححھ ١ ؎ مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھاکر فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی غقور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے کہ جو لوگ زمین پر ہیں یا ہوں گے اگر وہ گناہ نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرکے اپنی پیاری صفت غفور رحیمی کو کام میں لائے۔ مسند ٢ ؎ ابی یعلی اور طبرانی میں معتبر سند سے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں سات تو بند ہیں قیامت کے دن جب لوگ جنت میں جائیں گے اس وقت وہ دروازے کھلیں گے ہاں ایک دروازہ توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اسی میں سے ہر ایک توبہ کرنے والے کی توبہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتی اور قبول ہوتی ہے۔ صفوان بن عسال سے ترمذی ٣ ؎ اور بیہقی میں روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے قریب جب آفتاب مغرب سے نکلے گا اس وقت تک یہ توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے سورة النساء میں توبہ کی شرائط اور توبہ کے وقت کی تفصیل گزر چکی ہے توبہ نصوح کے منعی ایسی خالص توبہ کے ہیں کہ توبہ کرتے وقت پچھلے گناہوں پر پوری ندامت اور آئندہ کے گناہوں سے باز رہنے کا دل میں ارادہ ہو۔ مستدرک ٤ ؎ حاکم میں ہے کہ کسی شخص نے حضرت عمر (رض) سے توبہ نصوح کے معنی پوچھے تو آپ (رض) نے یہی معنی بتائے جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند ١ ؎ امام احمد اور مستدرک حاکم کی ابو سعید خدری کی حدیث ہے جس میں شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کے رو برو بنی آدم کو بہکانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کو جواب دیا ہے کہ بنی آدم گناہ کرکے خالص دل سے جب تک توبہ استغفار کریں گے تو ان کے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث جس میں ہر نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے۔ صحیح ٣ ؎ مسلم کی عبد اللہ ابن عمر (رض) بن العاص کی حدیث ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن امت محمدیہ کے ایمان دار گناہ گاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ وہ برتاؤکرے گا جس سے اللہ کے رسول خوش ہوجائیں گے۔ معتبر سند سے ابو داؤود ٤ ؎ اور مستدرک حاکم کی حضرت عائشہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نامہ اعمال کے بٹنے کے موقع کو اور نامہ اعمال کے تولے جانے کے موقع کو قیامت کے تین مشکل موقعوں میں شمار فرمایا ہے یہ سب حدیثیں اوپر گزر چکی ہیں ‘ جو ان دونوں آیتوں سے پہلی آیت کی گویا تفسیر ہیں۔ ان حدیثوں اور آیت کو ملا کر حاصل مطلب یہ قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن امت محمدیہ کے ایمان دار گناہ گاروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے نیکیوں کا اجر بڑھا کر اور گناہوں کو توبہ وہ استغفار سے معاف ہوجانے سے نامہ اعمال میں فقط نیکیاں رہ جائیں گی جس سے اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے قابل ہوجائے گا اسی طرح نیکیوں کے اجر بڑھ جانے سے میزان میں نیکیوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا رہا تیسرا مشکل موقع پل صراط کا ‘ اس کے لئے فرمایا پل صراط کے اندھیرے کو جلدی سے طے کرنے کی غرض سے ان لوگوں کے اعمال کے موافق ان کو روشنی دی جائے گی تاکہ پل صراط کو طے کرکے یہ لوگ جھٹ پٹ جنت میں جا بسیں۔ اپنی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے نور جو عطا کیا ہے اس نور کی عنایت کے تین زمانہ ہیں ایک زمانہ تو ازل کا ہے جس وقت تک مخلوق دنیا میں پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ مخلوق کا اس وقت تک عالم ارواح کا حال تھا۔ اس نور کے ذکر میں ترمذی ٥ ؎ اور مسند امام احمد کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں جب پیدا کیا تو جن و انس سب پر خواہش نفسانی کا ایک اندھیرا چھاپا ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نور عنایت کیا جس نے اس نور کا پورا حصہ پایا وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد نیک ہوا اور جس نے اس نور کا پورا حصہ نہیں پایا وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بد ہوا۔ دوسرا زمانہ نور کے عنایت ہونے کا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کا ہے جس کا ذکر آیت افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ میں گزرا یہ درجہ نور کا دنیا میں انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ انسان کی تمام نفسانی خواہشیں شرع کے احکام کے تابع ہوجاتی ہیں۔ اس درجہ کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحیح ١ ؎ مسلم کی حضرت عباس (رض) کی روایت میں فرمایا ہے کہ حلاوت ایمان اسی کا نام ہے یہ حلاوۃ ایمان کا درجہ آدمی کو جب حاصل ہوتا ہے جس کا ذکر صحیحین ٢ ؎ کی حضرت انس (رض) کی حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ تین خصلتیں اس آدمی میں پیدا ہوجاتی ہیں تمام دنیا کی چیزوں سے بڑھ کر اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت اس شخص کے دل میں سما جاتی ہے اور وہ شخص دین میں جس کسی سے الفت پیدا کرتا ہے وہ غرض دینی سے ہوا کرتی ہے اور ایسے شخص کو کوئی آگ میں ڈال دے تو اس کو قبول ہے مگر اسلام کی باتوں کو چھوڑ دینا اس کو ہرگز گوارا نہیں ہوتا۔ تیسرا وہ نور ہے جو پل صراط پر گزرنے کے وقت ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا جس کا ذکر سورة حدید میں گزر چکا ہے اگرچہ اس آیت میں بھی اسی قیامت کے دن پل صراط پر کے نور کا ذکر ہے لیکن وہ نور دنیا کی ایمان داری اور دنیا کے نیک عملوں کے سبب سے دیا جائے گا اس واسطے شاہ صاحب نے اس آیت کے اردو فائدہ میں دنیا کی ایمان داری اور دنیا کے ایمان کے نور اور حلاوت ایمان کے درجہ کا ذکر کیا ہے۔ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافقوں کی روشنی بجھتی دیکھ کر ایمان دار لوگ اپنی روشنی کے حق میں اللہ سے یہ دعا مانگیں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ کے رسول کی نصیحت سے راہ راست پر تو آگئے لیکن بشریت کے تقاضا سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کبھی کبھی کچھ کام کر بیٹھتے ہیں اور پھر اس پر نادم ہوتے ہیں اب آگے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے کہ یا تو وہ اللہ کے دین کے بالکل منکر ہیں یا زبان سے تو اللہ کے دین کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں گمراہی بسی ہوئی ہے ایسے لوگ جن کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ‘ ان کو منافق کہتے ہیں۔ یہ لوگ ظاہری کلمہ گو ہیں اور ان کے دل کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس لئے ایسے لوگوں کے ساتھ ہتھیار کی لڑائی کا حکم نہیں ہے۔ فقط زبانی وعظ نصیحت سے ان کو راہ راست پر لانے کا حکم ہے جہاد کا لفظ جس طرح ہتھیار کی لڑائی کے معنی میں بولا جاتا ہے اسی طرح زبانی وعظ نصیحت پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اس واسطے منافقوں کے ذکر کے ساتھ اس لفظ کے یہی زبانی وعظ نصیحت کے معنی ہیں جو لوگ اللہ کے دین کے بالکل منکر ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے بعد تیرہ برس تک مکہ کے قیام کے زمانہ میں ایسے دین کے سراپا منکر لوگوں کے ساتھ ہتھیار کی لڑائی کا حکم نازل نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک مسلمانوں کے پاس کسی سے لڑنے کا سامان نہیں تھا۔ اس بےسرو سامانی کے زمانہ میں مخالفوں کی طرح طرح کی ایذاء سے تنگ آ کر اگرچہ مسلمانوں نے ہتھیار کی لڑائی کا اپنا ارادہ بھی ظاہر کیا لیکن اس وقت درگزر کی ‘ چند آیتیں وقت بوقت نازل ہوتی رہی ہیں ہجرت کے ایک سال کے قریب کے بعد جب مسلمانوں کے پاس لڑائی کا کچھ ساز و سامان ہوگیا تو ہتھیار کی لڑائی کا حکم نازل ہوا۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد درگزر کی آیتیں ہمیشہ کے لئے منسوخ ہیں۔ یا ضعف اسلام کے زمانہ میں اب بھی وہی درگزر کا حکم قائم ہے علماء کی ایک بڑی جماعت نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ جہاد کے حکم سے درگزر کی آیتیں منسوخ نہیں ہیں بلکہ ضعف اسلام کے وقت درگزر کا حکم قائم ہے۔ کیونکہ شریعت کا جو حکم کسی سبب پر منحصر ہے اس حکم کا عمل بھی اس وقت ہوگا جب وہ سبب پایا جائے گا جس طرح مثلاً زکوٰۃ کے حکم آدمی کی خوش حالی پر منحصر ہے اب فرض کیا جائے کہ ابتدائی حالت میں ایک شخص تنگ حال تھا اس لئے زکوٰۃ کے حکم کا سبب نہیں پایا گیا اور اس شخص سے زکوٰۃ کا متعلق نہیں ہوا اب بیچ میں اسی شخص کے پاس زکوٰۃ کے فرض ہوجانے کے قابل مال جمع ہوگیا تو اب اس سے زکوٰۃ کا حکم بھی ایسے شخص سے متعلق نہ رہے گا اوپر جہاد کے حکم کی جو حالت بیان کی گئی اس کے موافق یہ حکم بھی سببی احکام میں کا ایک حکم ہے اس واسطے اس کا عمل بھی سبب کے پائے جانے پر منحصر رہنا چاہئے صحیح ١ ؎ مسلم میں ابو سعیدخدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خلاف شریعت کسی بات کو دیکھ کر جس ایمان دار شخص میں اتنی قوت ہے کہ وہ اس کی اصلاح ہاتھ پیر سے کرسکتا ہے تو ایسا عمل کرے ورنہ زبان سے وعظ و نصیحت کرکے اصلاح کرے۔ اگر اتنی قوت بھی اپنے آپ میں نہ پائے تو اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے کہ یہ ایمان کا ضعفت درجہ ہے اس حدیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ درگزر کا حکم منسوخ نہیں ہے کیونکہ اس میں ضعف اسلام کے وقت بجائے ہاتھ پیر کی لڑائی کے زبان و دل سے کام لینے کی ہدایت ہے۔ بعض عیسائی علماء نے یہ لکھا ہے کہ ابتداء میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا اگر یہ تلوار کا خوف نہ ہوتا تو اسلام کا پھیلنا مشکل تھا۔ اہل اسلام نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ عیسای علماء کا یہ خیال تاریخی واقعات کے برخلاف ہے کیونکہ تلوار کا حکم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے چودہ برس کے قریب کے مابعد میں نازل ہوا ہے جس کے نازل ہونے کے وقت ایک کافی جماعت مسلمانوں کی مکہ اور مدینہ میں موجود تھی جس جماعت کے اسلام کو تلوار کے خوف سے ثابت کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ عیسائی علماء نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ جہاد کا مسئلہ شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ایسا جدید مسئلہ ہے جس کا ذکر شریعت موسوی و عیسوی میں کہیں نہیں ہے۔ اہل اسلام نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ تورات کی کتاب الاستثناء کے بیسویں باب میں جہاد کے مسئلہ کا صراحت سے ذکر موجود ہے اس لئے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب شریعت موسوی اور شریعت عیسوی دونوں شریعتوں کی معتبر کتاب ہے۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب سقوط الذنوب بالا ستغفارو التوبۃ ص ٣٥٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ الترغیب و الترہیب کتاب التوبۃ والزھد ص ١٥٨ ج ٤۔ ) ( ٣ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل التوبۃ الخ ص ٢١٥ ج ٢۔ ) (٤ ؎ الدر المنثور ص ٢٤٥ ج ٦۔ ) (١ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الاستغفار التوبۃ فصل ثانی ص ٤٠٤۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب حسن اسلام المرء الخ ص ١١ ج ١۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب دعاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لا متمد الخ ص ١١٣ ج ١۔ ) (٤ ؎ ابو داؤود باب فی ذکر المیزان ج ٢۔ ) (٥ ؎ جامع ترمذی اواخر ابواب الایمان ص ١٠٤ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب الدلیل علی من رضی باللہ ربا الخ ص ٤٧ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب بیان خصال من اتصف بھن وجد حلاوۃ الایمان ص ٤٩ ج ١ و صحیح بخاری باب حلاوۃ الایمان ص ٧ ج ١۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان الخ ص ٥٠ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(66:8) توبوا الی اللہ : توبوا فعل امر جمع مذکر حاضر توبۃ (باب نصر) مصدر۔ اللہ کے سامنے توبہ کرو۔ توبۃ نصوحا : توبۃ مفعول مطلق موصوف نصوحا (خالص) اس کی صفت، مفسرین نے نصوحا کے مختلف معانی لکھے ہیں (1) نصوح نصاحۃ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں سینا۔ (کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ دینا) گناہوں کی وجہ سے دین اور تقوی میں شگاف پڑجاتا ہے (یہ اس شگاف کو جوڑ دیتی ہے۔ (2) نصوح مبالغہ کا صیغہ ہے نصح (باب فتح) سے مشتق ہے۔ نصح کا معنی ہے قول و عمل سے اپنے ساتھی کی خیرخواہی ، حقیقت میں ناصح تائب کی صفت ہوتی ہے۔ توبہ کے ساتھ نصوح کا صیغہ کہنا مجازا بطور مبالغہ ہے ۔ یا (3) نصح کا معنی خلوص ہے عسل ناصح۔ خالص شہد۔ خالص توبہ۔ یعنی ریا اور دکھاوے سے اور طلب شہرت سے خالص توبہ۔ (4) بغوی نے لکھا ہے کہ عمرو نے کہا توبہ نصوح یہ ہے کہ گناہ سے توبہ کرلے ۔ پھر گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے۔ (5) حسن کے کہا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ آدمی پچھلے گناہوں پر پشیمان ہو اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلے۔ (6) کلبی نے کہا کہ زبان سے استغفار کرنا۔ دل سے پشیمان ہونا۔ اور اعضاء کو گناہ سے روک دینا توبہ نصوح ہے۔ وغیرہ۔ عسی ربکم امید ہے کہ تمہارا پروردگار (نیز ملاحظہ ہو 66:5) ان مصدریہ۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر، وہ دور کر دے۔ وہ ساقط کر دے۔ سیئاتکم مضاف مضاف الیہ، تمہاری برائیاں۔ سیئات جمع ہے سیئۃ کی ۔ برائی۔ ویدخلکم : واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے (مضارع منصوب بوجہ عمل ان) ۔ ادخال (افعال) مصدر۔ اور وہ تم کو داخل کر دے۔ یوم یا تو یدخلکم کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا فعل اذکر محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لایجزی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اخزاء (افعال) مصدر۔ وہ ذلیل نہیں کرے گا وہ رسوا نہیں کرے گا، وہ خوار نہیں کرے گا النبی مفعول فعل لا تجزی کا ۔ ال عہد کا ہے۔ والذین امنوا معہ۔ اس جملہ کا عطف النبی پر ہے (جس روز اللہ بنی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ نورھم یسعی بین ایدیہم وبایمانھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شیء قدیر۔ ہر دو جملہ موضع حال میں ہیں۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے۔ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس آیت کی تشریح میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ذیل میں صاحب تفہیم القرآن کی تشریح نقل کی جاتی ہے :۔ ” اس آیت کو سورة الحدید کی آیات 1213 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان کے آگے آگے نور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اس وقت پیش آئے گی۔ جب وہ سب لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہوگا۔ اور روشنی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوگی جس کے سہارے وہ اپنا راستہ طے کر رہے ہوں گے اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آپ و فغاں سن سن کر اہل ایمان پر خثیت طاری ہو رہی ہوگی اور اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کرکے انہیں اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ہمارا نور بھی نہ چھن جائے اور ہم ان بدبختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں اس لئے وہ دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہمارے نور کو جنت کے پہنچنے تک ہمارے لئے باقی رکھ۔ ابن جریر (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ :۔ کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ” وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ان کا نور اس وقت تک باقی رکھا جائے اور اسے بجھنے نہ دیا جائے۔ جب تک وہ پل صراط سے بخیرت نہ گزر جائیں۔ حضرت حسن بصری (رح) اور حضرت مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔ ابن کثیر (رح) نے ان کا قول یہ نقل کیا ہے کہ :۔ ” اہل ایمان جب دیکھیں گے کہ منافقین نور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ تعالیٰ سے تکمیل نور کی دعا کریں گے “۔ اتمم : فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتمام (افعال) مصدر۔ تو پورا کر دے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی ایسی توبہ جو دل سے ہو اور اس کے بعد پھر گناہ کرنے کی نیت نہ ہو۔ علامہ نووی ریاض الصالحین میں لکھتے ہیں :” علماء کا کہنا ہے کہ ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے اگر وہ گناہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے تو توبہ کی قبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی گناہ سے باز آئے۔ دوسری یہ کہ اس پر پشیمان ہو اور تیسری یہ کہ پختہ ارداہ کرے کہ آئندہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرے گا اگر ان تین شرطوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو توبہ سجی نہ ہوگی اور اگر اس گناہ کا تعلق کسی آدمی سے ہی تو اس کی قبولیت کے لئے ان شرطوں کے علاوہ چوتھی شرط یہ بھی ہے کہ وہ اس آدمی کے دبائے ہوئے حق سے دست بردار ہو۔ اگر وہ مال یا جائیداد ہے تو اسے واپس کرے اور مگر قابل حد کام کیا ہے تو اپنے اوپر حد جاری کرنے کا موقع دے یا اس سے معافی طلب کرے جس پر تہمت لگائی ہے۔ 1 یعنی اس وقت جب وہ پل صراط پر چل رہے ہوں گے۔ چناچہ اس کی رہنمائی میں وہ چل کر جنت میں داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورة حدیث آیت 12)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٨ تا ١٢۔ اسرار ومعارف۔ توبہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔ معیت رسول۔ اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لاکر نبی کا ساتھ دیا کہ معیت رسول سے مراد کفر کے لیے ناقابل تسخیر اور مسلمانوں سے محبت اور دنیا سے کفر وظلم کو مٹا کر اسلام کا عدل رائج کرنا ہے ان کے آگے ایک نور ہوگا اور ان کے دائیں بھی نور ہوگایہ نور عقیدے وعمل کا ہوگا کہ عقیدہ شرک سے پاک اور عمل کافرانہ نظام کی آمیزش سے پاک ہو اور وہ دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے نور کو پورا کردے اور کمال کو پہنچا دے اور ہم سے جو لغزشیں ہوئیں معاف فرمادیں کہ توہرچیز پر قادر ہے تو اس نور کو حاصل کرنے کے لیے مومنین کو نبی (علیہ السلام) کی وساطت سے حکم دیاجارہا ہے۔ کفار ومنافقین کے ساتھ جہاد کا حکم ۔ کہ اے نبی کافروں اور منافقین کے ساتھ لرائی کیجئے جہاد کیجئے اور اللہ کی زمین سے کفر وشرک کے ساتھ کفر کا ظالمانہ نظام مٹا کر اسلام کا عادلانہ نظام رائج کیجئے اور اس کام میں پوری سختی کیجئے۔ لمحہ فکریہ۔ آج جبکہ دنیا عدل اور سکون کو ترس رہی ہے اگر اسلامی ملکوں میں سے کسی ایک میں بھی اسلام پورے طور پر نافذ ہو اور جان ومال اور آبرو کا تحفظ اور عدل و انصاف ہوتوباقی کافر دنیا از خود اسلام قبول کرتی چلی جائے گی مگر ارباب اختیار جو اس کام کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں خود سوچیں کہیں منافقین میں شمار نہ ہو رہے ہوں کہ کفار منافقین کاٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے اور ہر آدمی کا اپناحساب ہوگا۔ یہ بھی عذر نہیں کہ سب لوگ نہیں کرتے تواکیلاکیاکروں اکیلے پر بھی اپنی طاقت کے مطابق کام کرنا فرض ہے جیسے مثال دی کفار کے لیے اگر وہ کفر کی حمایت پر مصر رہے تو کسی نیک رشتہ دار کی نیکی بچا نہ سکے گی کہ کوئی سمجھے میں نیکوں کا جانشین ہوں مجھے عمل کی ضرورت نہیں ۔ نبی کی بیوی کافر ہوسکتی ہے بدکار نہیں۔ تودوعورتوں کو دیکھ ایک نوح (علیہ السلام) کی زوجہ تھی اور دوسری لوط (علیہ السلام) کی انہوں نے نبی کے گھر رہ کر خفیہ طور پر کفر کی مدد کی اور اس طرح انبیاء (علیہ السلام) سے خیانت کی کہ نبی کی زوجہ کافر ہوسکتی ہے یہ گناہ طاری سے مگر بدکار نہیں ہوسکتی کہ گناہ اس کے بدن میں ساری ہو۔ تو جب عذاب آیا تو انہیں نبی کے ساتھ اس قدر قریبی رشتہ بھی پناہ نہ دے سکا بلکہ کفار کے ساتھ تباہ ہوگئیں اور آخرت میں بھی کفار کے ساتھ جہنم میں دال دی جائیں گی جبکہ ان کے مقابل فرعون کی بیوی ، جو بدترین خلائق تھا ، آسیہ بنت مزاحم وہ ایمان لائی اور فرعون نے اسے ایذادے کر قتل کرنے کا حکم دیاتو اس نے اللہ کو پکارا اے اللہ اپنے قریب جنت میں میراگھر بنا اور مجھے فرعون کے ظلم سے بچالے۔ کشف۔ تفسیرمظہری میں ہے کہ اسے زندگی میں جنت میں اس کا گھر دکھلادیا گیا نیز فرعون کے ظلم ڈھانے سے پیشتر اللہ نے روح قبض فرمالی اور دوسری حضرت مریم بیٹی عمران کی جو پاک دامن تھیں ارجن میں سے اللہ نے اپنے نبی کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہوں نے تصدیق فرمائی اللہ کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی اور وہ بہت عبادت گزار تھیں۔ کمالات رسالت۔ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں کہ آیات اللہ کی اور اللہ کی کتابوں کی تصدیق کمالات رسالت میں سے ہے جبکہ باجماع حضرت مریم نبی نہ تھیں گویا رسالت اور شے ہے جو صرف رسول کو نصیب ہوتی ہے اور کمالات رسالت اور شے جو نبی کے کامل اتباع سے امتی کو بھی نصیب ہوسکتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی دل میں کامل ندامت ہو معصیت پر اور عزم علی الترک ہو۔ 5۔ مقصود صرف مومنین کا بیان کرنا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر ملا دینا تقویت حکم کے لئے ہے، یعنی جیسے عدم خزی نبی یقینی ہے ایسا ہی عدم خزی مومنین بھی یقینی ہے اور خزی سے مراد خزی مخصوص ہے، جو کفر کی جزا ہے۔ لقولہ تعالیٰ ان الخزی الیوم والسوء علی الکافرین، اور مومنین سے مراد مطلق مومنین ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نافرمانوں کو جہنم سے بچنے کے لیے توبہ کرنے کا حکم۔ اس سے پہلے کفار کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے جرائم پر معذرت پیش کریں گے لیکن انہیں کہا جائے گا کہ آج تم اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔ اب ایمان والوں کو حکم ہوا کہ اے ایمان والو ! اللہ کے حضور ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارے گناہ مٹا دیئے جائیں اور تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس دن اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ بلکہ ان کے ایمان کی روشنی ان کے آگے آگے اور دائیں جانب ہوگی اور وہ اپنے رب سے التجاء کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے نور کو مزید بڑھا اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں ایمانداروں کو ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کا حکم دینے کے بعد یہ کہہ کر خوشخبری دی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ” اللہ “ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی وجہ سے تمہارے گناہوں کو معاف فرما کر تمہیں جنت میں داخل کردے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو معاف کردے گا لیکن پھر بھی ” عَسیٰ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ ہوسکتا ہے یہ لفظ استعمال فرما کر مومنوں کو سمجھایا کہ اپنے گناہوں سے بےفکر ہونے کی بجائے بار بار توبہ کرتے رہو۔ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کا معنٰی ہے کہ توبہ محض کسی کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لیے کی جائے۔ جو ایماندار سچی توبہ کریں گے، اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں جنت میں داخل کرے گا بلکہ محشر کے میدان سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ان کے ایمان اور ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی وجہ سے ان کے لیے روشنی کا بندوبست بھی فرمائے گا، یہ روشنی ان کے آگے آگے اور دائیں جانب بھی پھیل رہی ہوگی۔ دائیں جانب کا ذکر فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ محشر کے میدان میں بائیں جانب والے جہنمی ہوں گے اور دائیں جانب والے جنتی ہوں گے۔ (الواقعہ : ٨، ٩) جہنمی لوگ جہنم کی طرف جاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے اور اپنے لیے نور کی دعائیں کرتے جائیں گے۔ یہاں مفسرین نے گناہوں سے مراد نور کے ختم ہونے کا خوف لیا ہے کیونکہ گناہ معاف کرنے کے بعد ہی تو جہنمی کو جہنم میں داخلہ دیا جائے گا۔ (عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ رَقِیتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَلَی ظَہْرِ الْمَسْجِدِ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ :إِنَّ أُمَّتِی یُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ ) (رواہ البخاری : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ) ” حضرت نعیم مجمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کو قیامت کے دن جب بلایا جائے گا تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کے پانچ کلیان چمکتے ہوئے ہوں گے۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ تم سے جو اپنی چمک کو زیادہ کرنے کی طاقت رکھتا اسے ایسا کرنا چاہیے۔ “ (اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) (رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل) ” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور ہی نور پیدا فرما۔ “ یہاں توبہ کے لیے ” نَّصُوْحا “ کی شرط عائد کی گئی ہے۔ جس کا معنٰی ہے صرف اللہ کی رضا کے لیے توبہ کرنی چاہیے۔ صحابہ کرام (رض) نے ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی کئی شرائط بیان کی ہیں جن میں بنیادی شرائط تین ہیں۔ ١۔ اپنے گناہ پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگنا۔ ٢۔ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم بالجزم کرنا۔ ٣۔ گنا کے اثرات کی تلافی کرنا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ “ مسائل ١۔ اللہ کے حضور ایمانداروں کو ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کرنی چاہیے۔ ٢۔ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کے بدلے ایمانداروں کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ ٥۔ جنتی کا ایمان ان کے لیے نور ثابت ہوگا۔ ٦۔ جنت کی طرف جاتے ہوئے اپنے رب سے نور کی تکمیل اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن جنتی کی جنت میں جانے کی شان : ١۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو فرشتے انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : ٣٢) ٢۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : ٢٤) ٣۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : ٣٤) ٤۔ فرشتے جب جنتی کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٧٣) ٥۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہیں غم اور حزن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تمہارے لیے جنت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سوال یہ ہے کہ مومنین اپنے نفس کو اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے کس طرح بچائیں۔ ان کو راستہ بتایا جاتا ہے اور امید دلائی جاتی ہے : یایھا الذین ........................ شیء قدیر (٦٦ : ٨) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ کرو ، خالص توبہ ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ نے اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ، رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ یہ ہے طریقہ ، خالص توبہ کا۔ توبہ ، جو قلب کو پاک وصاف کردے ، اور اس کے بعد کوئی دھوکہ نہ ہو۔ گناہوں سے توبہ یوں ہوتا ہے کہ آدمی نے جو گناہ کیے ہیں ، ان پر نادم ہوجائے اور اس کے بعد ان کی جگہ ندامت لے لے۔ یہ توبہ قلب کو پاک کردیتی ہے اور اس پر معاصی کا جو رنگ ہوتا ہے یا میل ہوتی ہے ، وہ دور ہوجاتی ہے۔ اور اس کے بعد پھر یہ دل انسان کو عمل صالح پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ ہوتا ہے توبة النصوح۔ یعنی ایسی توبہ جو قلب کو یاد دہانی کراتی رہتی ہے اور دوبارہ اسے معاصی کا ارتکاب کرنے نہیں دیتی۔ (مسلسل نصیحت کرنے والی) ۔ اگر کوئی اس قسم کی توبہ کرلے تو اس کے بعد اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اس توبہ کی وجہ سے سابقہ معاصی بھی معاف ہوجائیں گے ، اور توبہ کرنے والا جنتوں میں داخل ہوجائے گا۔ اس دن جب کہ کفار سخت شرمندہ ہوں گے اور اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان شرمندہ نہ ہوں گے۔ یہاں اللہ نے مومنین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ضم کیا ہے یہ اس لئے کہ ان کو توبہ پر آمادہ کیا جائے کہ ” دیکھو اس دن تمہارے لئے اس قدر حوصلہ افزائی ہوگی کہ تم حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صف میں کھڑے ہوگے اور تمہاری عزت ہوگی اور تمہیں شرمندہ نہ کیا جائے گا۔ اور اس دن تمہارے آگے آگے ایک نور جارہا ہوگا “۔ نورھم ................ بایمانھم (٦٦ : ٨) ” ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا “۔ اس دن وہ اس نور کے ساتھ پہچانے جائیں گے یہ دن تو بہت ہی خوفناک ، طوفانی اور دل دہلا دینے والا ہوگا۔ جس میں ہر طرف اژدحام ہی اژدحام ہوگا اور ان کو یہ اعزاز ہوگا کہ جنت میں داخل کے وقت ان کے آگے آگے اور دائیں جانب ایک نور جارہا ہوگا۔ اس نور کے ساتھ وہ جنت میں جائیں گے ، جہاں نور علی نور ہوگا۔ اہل ایمان اگرچہ اس شدید اور خوفناک مقام میں ہوں گے ، لیکن ان کو وہاں یہ دعا اور عرضداشت اللہ کے سامنے پیش کرنے کی ہمت ہوگی۔ یقولون ................ شیء قدیر (٦٦ : ٨) ” اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے ، اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس وقت جب زبانیں گنگ ہوں گی اور دل بیٹھ رہے ہوں گے ، اس خوفناک موقف میں ایسی دعا اہل ایمان کو سکھانا ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ منظور ہوگی۔ یہ تو سکھائی ہی اس لئے گئی کہ منظور ہو۔ کیونکہ یہ دعاء بھی اللہ ان کو بطور احسان سکھارہا ہے ، جس طرح نور اس کی عزت افزائی کے لئے دوڑ رہا ہوگا۔ وہ عذاب اور یہ ثواب دراصل ایک مومن کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور خاندان کو بچانے کے سلسلے میں مومن پر کس قدر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ ہدایات اس واقعہ کے ضمن میں دی جارہی ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں پیش آیا کہ ایک مومن اپنے خاندان کی ہدایت اور تربیت کا ذمہ دار ہے۔ جس طرح وہ اپنی اصلاح کا مکلف ہے اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا بھی مکلف ہے۔ یاد رہے کہ اسلام ایک خاندانی نظام ہے ، جیسا کہ ہم نے سورة طلاق میں کہا : مومن پر اس کے گھرانے کی اصلاح کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ایک مومن گھرانہ اسلامی جماعت کا پہلا خلیہ ہے۔ اور اس خلے سے پھر اسلامی جماعت میں دوسرے زندہ خلے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر ایک گھر اسلامی نظریہ حیات کا حلقہ یا مورچہ ہے۔ یہ حلقہ اپنی بناوٹ میں بہت ہی مضبوط ہونا چاہئے۔ اس حلقے کا ہر فرد سرحدوں پر دفاع میں مصروف ہونا چاہئے۔ اگر یہ مورچہ مضبوط نہ ہوگا تو دشمن اندر گھس آئے گا اور کوئی دفاع ممکن نہ ہوگا۔ مومن داعی کا فرض ہے کہ وہ اپنی دعوت پہلے اپنے گھر سے شروع کرے۔ اور اندر سے یہ قلعہ مضبوط ہو ، اور اس قلعے سے باہر نکلنے سے پہلے وہ گھر کے اندر کے قلعے کے تمام سوراخ بند کردے۔ ایک گھرانے کی حفاظت تب ہی ہوسکتی ہے جب کسی گھر میں ماں بھی مسلمہ ہو ، صرف باپ اس قلعے کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ ماں اور باپ دونوں مل کر لڑکے لڑکیوں کو درست کرسکتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ میں صرف مردوں سے اسلامی سوسائٹی تشکیل دینا چاہتا ہوں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کے لئے مومن عورتوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ آنے والی نسل کی تربیت اسلامی خطوط پر کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن جس رطح مردوں کے لئے نازل ہوا ، اسی طرح عورتوں کے لئے نازل ہوا۔ وہ مردوں کی تنظیم کے ساتھ گھرانوں کی تنظیم بھی کررہا تھا۔ گھرانوں کو اسلامی منہاج پر استوار کررہا تھا۔ اس لئے اس نے ایک مسلمان پر اس کی دینی ہدایت اور اہل و عیال کی ہدایت کی ذمہ داری عائد کی۔ یایھا الذین .................... نارا (٦٦ : ٦) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ“۔ یہ وہ نکتہ ہے کہ اس کو وہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں جو لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اصلاح کے کام کا آغاز اپنی بیوی سے شروع کرنا چاہئے۔ ماں سے ، اس کے بعد اولاد کی طرف بڑھنا چاہئے اور پھر اپنے تمام رشتہ داروں تک۔ نہایت کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ایک مسلم خاتون پیدا کرلیں ، جس سے مسلمان پیدا ہوں ، جو شخص ایک مسلم گھرانا تعمیر کرنا چاہتا ہے ، اس کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک مسلم خاتون تلاش کرے ، اگر ہم گھر کی مالکہ مسلم پیدا نہ کرسکے ، تو یاد رہے کہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کی تشکیل میں بہت دیر لگے گی۔ اور ہماری جماعت کی اساسوں اور بنیادوں کے اندر کمزوریاں ہوں گی۔ پہلی جماعت اسلامی کے اندر تو یہ کام بہت ہی آسان تھا کیونکہ مدینہ میں ایک ایسا اسلامی معاشریہ وجود میں آگیا تھا ، سوسائٹی پر پاکیزہ خیالات غالب تھے۔ اسلامی شریعت کے ساتھ ساتھ نفاذ ہورہا تھا۔ اور مرد اور عورتیں سب کے سب اللہ اور رسول کی طرف اپنے مسائل لے کر رجوع کرتے تھے۔ اور اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر کان دھرتے تھے۔ اور جب کوئی حکم نازل ہوتا تھا تو وہ آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ اس وقت اسلامی سوسائٹی موجود تھی پھر غالب تھی اور ان حالات میں عورت کے لئے بھی یہ بات آسان تھی کہ وہ اپنے آپ کو اسلامی خطوط پر ڈھال لے۔ خاوندوں کے لئے بھی آسان تھا کہ وہ ان کو نصیحت کریں اور بچوں کی تربیت کریں۔ لیکن ہم تو نہایت ہی بدلے ہوئے حالات میں ہیں۔ ہم ایک مکمل جاہلی معاشرے میں زندہ رہے ہیں۔ قانون جاہلی کا غالب ہے۔ اخلاق جاہلیت ، علم و ثقافت جاہلی ہیں۔ اور آج عورت بھی اس جاہلی معاشرے میں کام کررہی ہے۔ آج جب عورت اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے کا ارادہ بھی کرلے تو وہ اس میں بہت بڑا بوجھ محسوس کرتی ہے ، چاہے وہ خود اسلام کی طرف بڑھنا چاہے یا اس کا خاوند اور باپ اسے اسلام کی طرف بڑھانے کی ہدایت کریں۔ قرن اول میں مرد عورت اور معاشرے ایک ہی تصور کے زیر نگیں تھے۔ ان پر اسلام کی حکمرانی تھی ، شکل ایک تھی اور اسلام عمل میں موجود اور نافذ تھا۔ آج مرد مومن کی حالت یہ ہے کہ وہ ایسے اشمانی تصور کی حکمرانی چاہتا ہے جو عملاً موجود نہیں ہے۔ اور معاشرہ عملاً جاہلیت کا معاشرہ ہے۔ اس معاشرے کا دباﺅ مرد کے مقابلے میں عورت پر زیادہ ہے۔ جدید معاشرہ عورت کو بڑی تیزی سے گمراہ کررہا ہے۔ اس نکتے پر آکر پھر مرد کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس لئے اسے خود اپنے آپ کو بھی بچانا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچانا ہے ، پھر ایسے حالات میں کہ بیوی اور بچے ایسے ماحول میں گھرے ہوئے ہیں کہ ان پر ہر طرف سے جاہلیت کا حملہ ہے۔ اس لئے آج کے مسلمان کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کو اصلاح کے لئے قرن اول کی جماعت مسلمہ کے مقابلے میں ہزار ہا گنا زیادہ جدوجہد کرنی ہوگی ، اس لئے جو شخص آج کے دور میں کوئی اسلامی قلعہ تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ ایک ایسا گھر تعمیر کرنے کے ارادے سے پہلے اپنے لئے اس قلعے کا ایسا چوکیدار تلاش کرے ، جس کے تصورات اور نظریات ویسے ہی ہوں جیسے اس کے اپنے تصورات ہوں۔ اس سلسلے میں ایک انقلابی خاوند کو پھر کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔ پہلی قربانی یہ ہوگی کہ وہ خوبصورت کی تلاش نہ کرے ، مالدار کی تلاش نہ کرے ، جھوٹی ملمع کاری پر خوش نہ ہو۔ اسے چاہئے کہ وہ دین دار عورت کی تلاش کرے جو اس کے ساتھ مل کر ، ایک مسلم گھرانے کی تشکیل کرے اور ایک مسلم قلعے کی تعمیر کرے۔ اور بچوں کے جو باپ ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ وہ جو قلعے بناتے ہیں وہ بھی اپنی اولاد اور اہل و عیال کی طرف متوجہ ہوں۔ کسی دوسرے کو دعوت دینے سے پہلے اپنے بچوں ، بیٹوں ، بیٹیوں اور پوتیوں کی طرف توجہ کریں۔ اور اللہ جو پکار کر کہہ رہا ہے ، اس پر عمل کریں۔ یایھا الذین ........................ نارا (٦٦ : ٦) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ“۔ ایک بار پھر میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ اسلام ایک ایسی سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کے اوپر اسلام کی حکمرانی ہو ، جس کے اندر اسلام کا واقعی وجود ہو۔ اس کا طریق کار اسلام نے یہ اختیار کیا ہے کہ ایک ایسی جماعت ہو جس کا عقیدہ اسلام ہو ، جس کا نظام اسلام ہو ، جس کا قانون اسلامی ہو ، جس کا منہاج زندگی اسلامی ہو ، اور وہ اپنے تمام تصورات تعلیمات اسلام سے اخذ کرے۔ اسلامی تصور حیات کی کا خزانہ یہ جماعت ہوتی ہے۔ یہ اس کی محافظ ہوتی ہے اور یہ اسے دوسروں تک منتقل کرتی ہے۔ اور ہر قسم کے جاہلی دباﺅ کے مقابلے میں یہ اس کا دفاع کرتی ہے اور اس جماعت کو اس اذیت سے بچاتی ہے۔ لہٰذا ایک اسلامی جماعت یا اسلامی سوسائٹی کا قیام ضروری ہے ، جس کے اندر ایک مسلمہ زندہ رہے اور اس پر اس کے ماحول کی جاہلیت کا اثر نہ ہو ، دباﺅ نہ ہو ، اس طرح یہ عورت اسلامی تقاضوں اور جاہلیت کے مطالبات کی کشمکش سے باہر نکل آئے گی۔ ایسے حالات میں اگر ایک مسلم مرد نوجوان اور یہ مسلمہ مل کر ایک اسلامی قلعہ تعمیر کریں تو ایسے قلعوں سے اسلامی بلاک اور اسلامی محاذ تشکیل پاسکتا ہے۔ یہ ایک ضرورت ہے ، فرض ہے ، محض نفل نہیں ہے کہ ایک ایسی اسلامی سوسائٹی قائم ہو ، جو باہم ایک دوسرے کو حق اور اسلام کی نصیحت کرے ، اپنی فکر کو نشوونمادے ، اپنے اخلاق وآداب کو عملاً جاری کرے اور اس سوسائٹی کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اسلامی رنگ میں زندہ رہیں۔ اسلام کے لئے زندہ ہوں ، اسلام کے محافظ ہوں ، اسلام کے داعی ہوں۔ اور اہل جاہلیت میں سے جن کو وہ اپنی سوسائٹی کی طرف بلائیں ان کو نظر آئے کہ ان لوگوں کی جماعت اور ان کی سوسائٹی کے اندر ایک زندہ اسلام ہے تاکہ وہ اندھیروں سے اللہ کے حکم سے نور کی طرف نکل آئیں اور یہ سوسائٹی اسی طرح بڑھتی رے کہ اللہ اسلامی انقلاب برپا کردے اور پھر آئندہ اسلامی انقلاب کے رنگ میں اس جماعت اور اس کے زیر تربیت آئندہ نسلیں تیار ہوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تیسری آیت میں اہل ایمان کو توبہ کرنے کا حکم دیا اور فائدہ بتایا، ارشاد فرمایا کہ اللہ کے حضور میں توبہ کرو۔ یہ توبہ پکی اور مضبوط ہو۔ توبہ کرنے سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ایسے باغات میں داخل فرما دے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ معالم التنزیل میں توبۃ النصوح کی تشریح میں حضرت معاذ (رض) سے نقل کیا ہے کہ ایسی توبہ ہو جس کے بعد گناہ کرنے کے لیے واپس نہ لوٹے جیسے کہ دودھ تھنوں میں واپس نہیں آتا۔ اور حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ بندہ گزشتہ اعمال پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ یہ طے کرلے کہ اب گناہ نہیں کروں گا، یہ توبۃ النصوح ہے۔ اس کے بعد بہت بڑی بشارت دی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ اہل ایمان ہیں رسوا نہیں کرے گا کیونکہ اس دن کی رسوائی کافروں کے لیے مخصوص ہے جو کفر کی وجہ سے ہوگی۔ سورة ٴ النحل میں فرمایا : ﴿اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِيْنَۙ٠٠٢٧﴾ (کہ بلاشبہ آج پوری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے) ۔ چونکہ ﴿وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ١ۚ﴾ سے کاملین فی الایمان مراد ہیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گے اس لیے یہ اشکال نہیں ہوتا کہ جو اہل ایمان اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے ان کا یہ داخلہ بھی تو ذلت کی بات ہے۔ اہل ایمان کی خوبی اور خوشی کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا یعنی پل صراط پر انہیں عطا کیا جائے گا اس نور کی وجہ سے وہ پل صراط سے بغیر کسی خراش اور چھلن کے پار ہوجائیں گے۔ قیامت کے دن اہل ایمان کا نور : یہ حضرات بارگاہِ الٰہی میں دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارا نور پورا فرما دیجئے یعنی جو نور کامل ہمیں عطا فرمایا ہے اسے باقی رکھیے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے صاحب روح المعانی نے نقل کیا ہے جب منافقین کا نور بجھ جائے گا یعنی اہل ایمان کی روشنی میں ان کے پیچھے پیچھے آ کر جو ان کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے اور مومنین کے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں گے اس وقت اہل ایمان اپنا نور باقی رکھنے کی دعا کریں گے اور نور باقی رہنے کی دعا کے ساتھ مغفرت کی درخواست بھی کریں گے اور گناہوں کی بخشش کروانے کے لیے یوں عرض کریں گے ﴿وَ اغْفِرْ لَنَا﴾ (اور ہمیں بخش دیجئے) ۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٠٠٨﴾ بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ بشارت اخروی برائے تائبین صادقین۔ ” نصوح “ خالص یعنی سچی توبہ جس میں گناہوں پر ندامت ہو اور آئندہ کیلئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہو تفسیر حضرت ابن عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے اور حضرت عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، حسن اور مجاہد رحمہم اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ قال معاذ بن جبل، یا رسول اللہ ما التوبۃ النصوح ؟ قال ان یندم العبد علی الذنب الذی اصاب فیعتذر الی اللہ تعالیٰ ثم یعود الیہ کما لا یعود اللبن الی الضرع وروی تفسیر ھا بما ذکر عن عمرو ابن مسعود وابی والحسن و مجاھد وغیرہم (روح ج 28 ص 157) ۔ ایسی سچی توبہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں انواع و اقسام مشروبات کی نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اس دن میں ہوگا جس دن کفار و مشرکین سر محشر ذلیل و رسوا ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے گا۔ 11:۔ ” نورھم یسعی “ قیامت کے دن مومنین کے چاروں طرف نور اور اجالا ہوگا اور وہ بل صراط اور گھاٹیوں سے بخیر و خوبی گذر جائیں گے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں مزید نور عطا کر کیونکہ تجھے ہر چیز پر قدرت ہے۔ سورة الحدید میں ارشاد ہے۔ ” یوم تری المؤمنین والمؤمنات یسعی نورھم بین ایدیھم و بایمانہم۔ الایۃ “ یہ نور ان کو انفاق فی سبیل اللہ کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ اسی کا یہاں اعادہ فرمایا۔ ” نورھم یسعی بین ایدیہم وبایمانہم “ اس طرح اس آیت میں ضمنًا انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون آگیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! اللہ تعالیٰ کی جناب میں خالص اور سچی توبہ کرو امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور مسلمانوں کو جو اس کے ساتھ ہیں رسوا نہیں کرے گا اور ان کو میدان حشر کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا اور ان کا نور ان کے سامنے اور ان کی دائیں طرف تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور وہ یوں دعا کرتے ہوں گے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اس نور کو پوراکردے اور ہمارے لئے اس نور کو آخر تک قائم رکھ اور ہماری مغفرت کردے بیشک تو ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے اور تو ہر چیز کرسکتا ہے۔ خالص اور سچی توبہ یہ کہ اس کے بعد گناہ کا دھیان نہ آئے اور اس کے بعد گناہ کرنا ایسا ہی ناممکن ہوجائے جیسا کہ تھنوں میں سے دودھ نکل کر پھر تھن میں واپس ہونا یعنی جس طرح تھن میں دودھ کا واپس ہونا مشکل ہے اسی طرح توبہ نصوح کے بعد گناہ کا وقوع مشکل ہوجائے۔ یعنی توبہ عدم عود کی نیت کے ساتھ ہو گناہ کو ترک کرے اس کی برائی کے سبب گزشتہ گناہوں پر ندامت ہو آئندہ کے لئے عزم ہو عدم عمود کا اور اعمال متروکہ کا تدارک اور تلافی مافات ہو۔ یہ چار باتیں علماء نے توبہ نصوح کی شرطیں بیان کی ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے اس توبہ نصوح کے اثرات بیان فرمائے کہ ایسی توبہ سے گناہ معاف ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ تمام برائیوں کو دور کردے گا بہشت کے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ یہ داخلہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ساتھی مسلمانوں کو ہر قسم کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ وہ دن کافروں اور ظالموں کی رسوائی کا دن ہے مومنین اور مخلصین کی رسوائی کا نہیں ہے ان کے ایمان کا نور اور ایمان کی روشنی دائیں جانب اور ان کے آگے دوڑتی ہوگی۔ جیسا کہ سورة حدید میں مفصل گزر چکا ہے کہ منافقوں کی روشنی گل ہوجائیگی اور مومنین کی روشنی ان کے ساتھ رہے گی اور شاید جب منافقوں کی روشنی گل ہوتے دیکھیں گے تو کہیں گے الٰہی ہماری روشنی پوری کردے یعنی ہمارے نور کو آخر تک رکھ یہ نور ہر مومن کے ایمان کی روشنی ہوگی جیسا ایمان ویسی روشنی مسلمان روشنی کے اتمام کے ساتھ ساتھ مغفرت کی بھی دعا کریں گے اور یہ اس وجہ سے کہ بعض عصاۃ مومنین عذاب کے مستحق ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں صاف دل کی توبہ یہ کہ دل میں پھر خیال نہ رہے اس گناہ کا ایمان کی روشنی دل میں ہوتی ہے دل سے بڑھے تو سارے بدن میں پھر گوشت پوست میں۔ حدیث میں آتا ہے۔ اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا وامامی نورا وخلفی نورا وفوق نوراوتحتی نورا واجعلنی نورا اکمم لنا نورنا ۔ مبارک ہیں جو اپنی ایمانی قوت اور اعمال صالو کی بدوت سر سے پائوں تک نورہی نور ہیں۔ اللھم اجعلنی منھم انک علی کل شیء قدیر۔