مسند احمد میں بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت آیت ( تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ Ǻۙ ) 67- الملك:1 ) ، ہے ۔ ابو داؤد ، نسائی ، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں ۔ تاریخ ابن عساکر میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے زمانے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سوائے سورہ ( تبارک الذی ) کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی اللہ تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا ؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا ؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے ۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں ۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی ۔ اب یہ سورت اس کے پاس آ جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا ، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو ، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے ، بڑے ، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منجیہ رکھا ، یعنی نجات دلوانے والی سورت ، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین ، امام بخاری ، امام ابو حاتم ، امام دار قطنی وغیرہ ضعیف کہتے ہیں ، اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری کا ہے مرفوع حدیث نہیں ، امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی ۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے ۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے وللہ الحمد طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورہ تبارک ہے ، ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی شخص سورہ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سورت روکنے والی ہے یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے ، یہ حدیث غریب ہے ، ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سورہ ( الم تنزیل ) ، اور سورہ ( ملك ) ضرور پڑھ لیا کرتے تھے ، حضرت طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں ، طبرانی میں ہے حضور فرماتے ہیں میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے یعنی سورہ تبارک ۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے ، اور اسی جیسی روایت سورہ یس کی تفسیر میں گذر چکی ہے ۔ مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک شخص سے کہا آمین تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے ( سورة ملك ) پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو اولاد کو گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو ۔