Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 122

سورة الأعراف

رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

The Lord of Moses and Aaron."

جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

"We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun. Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, `We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us."' Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

122۔ 1 سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے اعلان دیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہوسکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب کہہ کر واضح کردیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبِّ مُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۝ ١٢٢ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب .

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ آخر کیا وجہ تھی کہ جادوگر مغلوب ہوئے تو فوراً ایمان لے آئے اور وہ بھی انتہائی پختہ ‘ یقین اور استقامت والا ایمان ! کہاں وہ فرعون سے انعام کی بھیک مانگ رہے تھے اور کہاں اب اسے خاطر میں نہ لاتے ہوئے نتائج سے بےپروا ہو کر ڈنکے کی چوٹ پر اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ جادوگروں کے اس رویے کی منطقی توجیہہ یہ ہے کہ جو شخص کسی فن کا ماہر ہو اسے اس فن کے ممکنات کی انتہا اور اس کے حدود وقیود (limitations) کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ وہ اپنے فن کے مخصوص میدان (field of specialization) میں کسی چیز کی قدر ‘ اہمیت ‘ معیار وغیرہ کو صحیح پہچان سکتا ہے۔ جادو گر جو اپنے فن کے منجھے ہوئے ماہرین تھے وہ فوراً پہچان گئے تھے کہ ان کے جادو کے مقابلے میں جو کچھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا ہے وہ جادو سے ماوراء کوئی چیز ہے۔ لہٰذا جس حقیقت کا ادراک فرعون اور اس کے امراء نہ کرسکے وہ بجلی کی ایک کوند (flash) کی مانند آناً فاناً جادوگروں کے دلوں کے تاریک گوشوں کو روشن کرگئی اور ان کو ایسا ایمان نصیب ہوا جس کی جرأتِ اظہار اور استقامت نے فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو پریشان کردیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91. Thus God turned the tables on Pharaoh and his courtiers they arranged the magic show in the hope that it would convince the people that Moses was just a sorcerer, and thus make them sceptical about his claim to prophethood. But the actual outcome was quite the opposite. The sorcerers who had been assembled were defeated. Not only that, it was also unanimously acknowledged that the signs displayed by Moses in support of his claim were not feats of magic. Rather, his signs rather manifested the might of God, the Lord of the universe, and hence could not be overcome by magic.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :91 اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی چال کو الٹا انہی پر پلٹ دیا ۔ انہوں نے تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلا کر منظر عام پر اس لیے مظاہرہ کردیا تھا کہ عوام الناس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جادوگر ہونے کا یقین دلائیں یا کم از کم شک ہی میں ڈال دیں ۔ لیکن اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد خود ان کے اپنے بلائے ہوئے ماہرین فن نے بالاتفاق فیصلہ کردیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ یقناً ربّ العالمین کی طاقت کا کرشمہ ہے جس کے آگے کسی جادو کا زور نہیں چل سکتا ۔ ظاہر ہے کہ جادو کو خود جادوگروں سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا ۔ پس جب انہوں نے عملی تجربے اور آزمائش کے بعد شہادت دے دی کہ یہ چیز جادو نہیں ہے ، تو پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے لیے باشندگان ملک کو یہ یقین دلانا بالکل ناممکن ہو گیا کہ موسیٰ محض ایک جادوگر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 رب العالمین کے ساتھ رب موسیٰ وھارون اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انہوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کی ساری اسکیم خاک میں مل گئی انہوں نے تو جادو گروں کے کو جع کر کے اس لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا تھا کہ لوگوں پر ثابت کردیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) جو معجزے لے کر آئے ہیں وہ بھی ایک جادو ہے مگر جب تمام جادو گروں نے مل کر اس کے خدا کی طرف سے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا اور اوہ ایمان لا کر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا ہو کہ لوگوں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کے محض ایک جادو گر ہونے کا یقین دلاسکیں

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ رب موسیٰ وھارون اس لیے بڑھایا کہ فرعون اپنے کو رب اعلی بتلاتا تھا تو رب العالمین کا مصداق سننے والے اس کو نہ سمجھ جائیں اس لیے اس کو بڑھا کر مراد متعین کردی کہ جس کو موسیٰ و ہارون رب کہتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

122 جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا بھی رب ہے یعنی فرعون بھی اپنے کو رب العالمین سمجھتا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے نام بڑھائے تاکہ یہ بات صاف ہوجائے کہ ہمارا مومن یہ وہ رب ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ایمان لانے کو کہتے ہیں۔