Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 143

سورة الأعراف

وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾

And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, "My Lord, show me [Yourself] that I may look at You." [ Allah ] said, "You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me." But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, "Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers."

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام ) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار !اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر آپ کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ، بیشک آپ کی ذات منزہ ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

وَلَمَّا
اور جب
جَآءَ
آیا
مُوۡسٰی
موسی
لِمِیۡقَاتِنَا
ہمارے مقرر وقت پر
وَکَلَّمَہٗ
اور کلام کیا اس سے
رَبُّہٗ
اس کے رب نے
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
اَرِنِیۡۤ
دکھا مجھے
اَنۡظُرۡ
میں دیکھوں
اِلَیۡکَ
تیری طرف
قَالَ
فرمایا
لَنۡ
ہرگز نہ
تَرٰىنِیۡ
تو دیکھ سکو گے مجھے
وَلٰکِنِ
اور لیکن
انۡظُرۡ
دیکھو
اِلَی الۡجَبَلِ
طرف پہاڑ کے
فَاِنِ
پھر اگر
اسۡتَقَرَّ
وہ قائم رہے
مَکَانَہٗ
اپنی جگہ پر
فَسَوۡفَ
تو عنقریب
تَرٰىنِیۡ
تم دیکھ لو گے مجھے
فَلَمَّا
تو جب
تَجَلّٰی
تجلی کی
رَبُّہٗ
اس کے رب نے
لِلۡجَبَلِ
پہاڑ پر
جَعَلَہٗ
اس نے کردیا اسے
دَکًّا
ریزہ ریزہ
وَّخَرَّ
اور گر پڑا
مُوۡسٰی
موسی
صَعِقًا
بےہوش ہوکر
فَلَمَّاۤ
پھر جب
اَفَاقَ
ہوش میں آیا
قَالَ
اس نے کہا
سُبۡحٰنَکَ
پاک ہے تو
تُبۡتُ
توبہ کرتا ہوں میں
اِلَیۡکَ
تیری طرف
وَاَنَا
اور میں
اَوَّلُ
سب سے پہلا ہوں
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
ایمان لانے والوں میں
Word by Word by

Nighat Hashmi

وَلَمَّا
اور جب
جَآءَ
آیا
مُوۡسٰی
موسیٰ
لِمِیۡقَاتِنَا
ہمارے مقرر کردہ وقت کے لیے
وَکَلَّمَہٗ
اور کلام کیا اُس سے
رَبُّہٗ
اُس کے رب نے
قَالَ
اس نے کہا
رَبِّ
اے ہمارے رب
اَرِنِیۡۤ
دِکھا مجھے
اَنۡظُرۡ
میں دیکھوں
اِلَیۡکَ
طرف تیری
قَالَ
اس نے فرما یا
لَنۡ
ہرگز نہیں
تَرٰىنِیۡ
تم دیکھ سکتے مجھے
وَلٰکِنِ
لیکن
انۡظُرۡ
تم دیکھو
اِلَی الۡجَبَلِ
طرف پہاڑ کی
فَاِنِ
سو اگر
اسۡتَقَرَّ
وہ برقرار رہا
مَکَانَہٗ
اپنی جگہ
فَسَوۡفَ
تو عنقریب
تَرٰىنِیۡ
تم دیکھ لو گے مجھے
فَلَمَّا
تو جب
تَجَلّٰی
جلوہ ڈالا
رَبُّہٗ
اُس کے رب نے
لِلۡجَبَلِ
پہاڑ کے لیے
جَعَلَہٗ
کر دیا اُسے
دَکًّا
ریزہ ریزہ
وَّخَرَّ
اور گر پڑا
مُوۡسٰی
موسیٰ
صَعِقًا
بے ہو ش ہو کر
فَلَمَّاۤ
پھر جب
اَفَاقَ
وہ ہوش میں آیا
قَالَ
اُس نے کہا
سُبۡحٰنَکَ
پاک ہے تُو
تُبۡتُ
میں نے توبہ کی
اِلَیۡکَ
طرف تیری
وَاَنَا
اور میں
اَوَّلُ
سب سے پہلا ہوں
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
ایمان لانے والوں میں سے
Translated by

Juna Garhi

And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, "My Lord, show me [Yourself] that I may look at You." [ Allah ] said, "You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me." But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, "Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers."

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام ) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار !اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر آپ کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ، بیشک آپ کی ذات منزہ ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقررہ وقت اور جگہ پر آگیا اور اس سے اس کے پروردگار نے کلام کیا۔ موسیٰ نے عرض کیا : پروردگار ! مجھے اپنا آپ دکھلا دیجیے کہ میں ایک نظر تجھے دیکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تو بھی مجھے دیکھ سکے گا۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گرپڑے۔ پھر جب انہیں کچھ افاقہ ہوا تو کہنے لگے : تیری ذات پاک ہے۔ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اورجب موسیٰ ہمارے مقررکردہ وقت کے لیے آیااور اُس کے رب نے اُس سے کلام کیاتو اُس نے کہا: ’’اے میرے رب!مجھے دکھاکہ میں تیری طرف دیکھوں۔‘‘فرمایا: ’’تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن پہاڑکی طرف دیکھو،سواگروہ اپنی جگہ برقراررہا تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے‘ ‘ تو جب اُس کے رب نے پہاڑ پرجلوہ ڈالا تو اُسے ریزہ ریزہ کردیااور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑا پھرجب ہوش میں آیا اُس نے کہا ’’تو پاک ہے،میں نے تجھ سے توبہ کی اورمیں ایمان لانے والوں میں سے سب سے پہلاہوں۔‘‘

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And Musa came at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, “ My Lord, show (Yourself) to me that I may look at You.” He said: “ You shall never see Me.” So when his Lord appeared to the Mount, He made it smashed, and Musa fell down unconscious. Then, when he recovered, he said: “ Pure are You. I repent to You, and I am the first to believe”

اور جب پہنچا موسیٰ ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اس کے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا میں تجھ کو دیکھوں فرمایا تو تو مجھ کو ہرگز نہ دیکھے گا لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹہرا رہا تو تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب تجلّی کی اس کے رب نے پہاڑ کی طرف کردیا اس کو ڈھا کر برابر اور گر پڑا موسیٰ بےہوش ہو کر پھر جب ہوش میں آیا تیری ذات پاک ہے، میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ٰ پہنچے ہمارے وقت مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے تو جب اس ( علیہ السلام) کے رب نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور موسیٰ (علیہ السلام) ٰ گرپڑے بےہوش ہو کر پھر جب آپ ( علیہ السلام) کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ ! ) تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

And when Moses came at Our appointment, and his Lord spoke to him, he said: 'O my Lord! Reveal Yourself to me, that I may look upon You!' He replied: 'Never can you see Me. However, behold this mount; if it remains firm in its place, only then you will be able to see Me.' And as soon as his Lord unveiled His glory to the mount, He crushed it into fine dust, and Moses fell down in a swoon. And when he recovered, he said: 'Glory be to You! To You I turn in repentance, and I am the foremost among those who believe.'

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ اے ربّ ، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں ۔ فرمایا تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا ۔ چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلّی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا ۔ جب ہوش آیا تو بولا پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر پہنچے اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا تو وہ کہنے لگے : میرے پروردگار ! مجھے دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں ۔ فرمایا : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے ، البتہ پہاڑ کی طرف نظر اٹھاؤ ، اس کے بعد اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ لو گے ۔ ( ٦٥ ) پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا ، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ بعد میں جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا : پاک ہے آپ کی ذات ۔ میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور ( آپ کی اس بات پر کہ دنیا میں کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا ) میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

جب موسیٰ ہمارے (مقرر کیے ہوئے) وقت پر (کوہ طور پر) آیا اور موسیٰ کے مالک نے اس سے باتیں کیں 8 موسیٰ نے کہا اے مالک میرے (اپنے تئیں مجھ کو دکھا میں تجھ کو (ایک نظر) دیکھو مالک نے کہا تو مجھ کو اس دنیا کی آنکھ سے ہرگز نہ دیکھ سکے گا 9 لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ تھما رہا تو تو بھی مجھ کو آئندہ دیکھ سکے گا 10 پھر جب موسیٰ کے مالک نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو چکنا چور کردیا (ریزہ ریزہ یا زمین کے برابر) اور موسیٰ بےہوش گرپڑا جب ہوش آیا تو کہنے لگا تو پاک ہے میں تیری درگاہ میں توبہ کرتا ہوں 11 اور میں (اس زمانے میں) سب سے پہلے یقین لاتا ہوں 12

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے باتیں کیں تو انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! مجھے (اپنا دیدار) کرادیجئے کہ میں آپ کو دیکھ لوں ارشاد ہو آپ مجھے ہرگز نہ دیکھ سکیں گے و لیکن آپ پہاڑ کی طرف دیکھتے رہیے پس اگر یہ اپنی جگہ برقراررہا تو آپ بھی مجھے دیکھ سکیں گے پس جب ان پروردگار نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے پھر جب افاقہ ہوا تو عرض کیا آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی بارگاہ میں معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

اور جب وہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت پر پہنچا تو اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا۔ عرض کیا میرے پر دگار مجھے اپنا جلوہ دکھا دیجئے کہ میں آپ کو دیکھ سکوں ۔ فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ ٹھیرا رہا تو بہت جلد تو مجھے دیکھ لے گا۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی فرمائی تو اس نے اس پہاڑکو ٹکرے ٹکرے کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے ۔ پھر جب انہیں ہوش آیا تو عرض کیا اے اللہ آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے میں آپ سے توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے یقین کرنے والا ہوں۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

And when Musa came at Our appointment, and his Lord spake unto him, he said my Lord! shew Thyself unto me, that I may look at Thee! He said: thou canst not see Me: but look at the yonder mount; if it stands in its place, then thou wilt see Me. Then when his Lord unveiled His glory unto the mount, it turned it to dust, and Musa tell down thunderstruck. Then when he recovered, he said: hallowed be Thou! I turn unto Thee repentant, and I am the first of the believers,

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت (موعود) پر آگئے اور ان سے ان کا پروردگار ہم کلام ہوا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار مجھے اپنے کو دکھلادیجیے (کہ) میں آپ کو ایک نظر دیکھ لو۔ ۔ (اللہ نے) فرمایا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے البتہ تم (اس) پہاڑ کی طرف دیکھو سو اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی دیکھ سکوگے ۔ پھر جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو (تجلی نے پہاڑ کو) ریزہ ریزہ کردیا ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے ۔ پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو بولے تو پاک ہے میں تجھ سے معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اور جب موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام کیا تو اس نے درخواست کی کہ اے میرے رب! مجھے موقع دے کہ میں تجھے دیکھ لوں ۔ فرمایا: تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے ، البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو ، اگر یہ اپنی جگہ پر ٹکا رہ سکے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ۔ تو جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑا ۔ پھر جب ہوش میں آیا ، بولا: تُو پاک ہے ، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں پہلا ایمان لانے والا بنتا ہوں ۔

Translated by

Mufti Naeem

اور جب ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر موسیٰ ( علیہ السلام ) آئے اور ان کے رب نے ان سے بات چیت کی موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار کرایئے تاکہ میںایک نظر آپ کو دیکھ لوں اﷲ ( تعالیٰ ) نے فرمایا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سوک گے البتہ پہاڑ کی طرف دیکھئے اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہ گیا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو پہاڑ کو چورا چورا کر دیا اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہوش ہوکر گر پڑے ۔ پھر جب ان کو ہوش آیا تو عرض کیا آپ کی ذات ( ہر نقص ) سے پاک ہے اور میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ( اپنی امت میں ) پہلا مؤمن ہوں

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر ( کوہ طور پر) پہنچے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے رب العزت ! مجھے جلوہ دکھا میں تیرا دیدار بھی کروں۔ اللہ نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں ! پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے جب اللہ رب العزت نے پہاڑ پر تجلی کی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں۔ اور ایمان لانے والوں میں سب سے اول ہوں۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اور جب آپہنچے موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر، اور کلام فرمایا ان سے ان کے رب نے، تو انہوں نے التجاء کی، کہ اے میرے رب ! مجھے اپنا دیدار کرا دیجئے کہ میں آپ کو دیکھ سکوں، فرمایا کہ (ان کی دنیاوی آنکھوں سے) تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکتے، لیکن (اپنی تسلی کے لئے) تم اس پہاڑ پر نظر رکھو، اگر تو وہ (ہماری ایک جھلک پڑنے سے) اپنی جگہ برقرار رہ گیا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے، مگر جب اس کے رب نے تجلی فرمائی اس پہاڑ پر تو ریزہ ریزہ کردیا اس کو، اور گرپڑے موسیٰ بےہوش ہو کر، پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، پاک ہے وہ ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں، اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں (اے میرے رب) ،

Translated by

Noor ul Amin

اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت اور جگہ پر آگئے اور اس سے اس کے رب نے کلام کیا موسیٰ نے عرض کیا : ’’ میرے رب مجھے دکھلاکہ میں ایک نظرتجھے دیکھ سکوں اللہ نے فرمایا: ’’تو مجھے نہ دیکھ سکے گاالبتہ اس پہاڑکی طرف دیکھ ، اگریہ اپنی جگہ پر برقراررہا توتم بھی مجھے دیکھ سکوگے پھرجب اس کے رب کاپہاڑپرجلوہ ہواتواسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کرگرپڑے ، پھرجب ہوش آیاتوکہنے لگے!تیری ذات پاک ہے میں تیرے حضورتوبہ کرتاہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والاہوں

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا ( ف۲٦۳ ) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا ( ف۲٦٤ ) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا ( ف۲٦۵ ) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ( ف۲٦٦ )

Translated by

Tahir ul Qadri

اور جب موسٰی ( علیہ السلام ) ہمارے ( مقرر کردہ ) وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا تو ( کلامِ ربانی کی لذت پا کر دیدار کا آرزو مند ہوا اور ) عرض کرنے لگا: اے رب! مجھے ( اپنا جلوہ ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کرلوں ، ارشاد ہوا: تم مجھے ( براہِ راست ) ہرگز دیکھ نہ سکوگے مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا جلوہ کرلوگے ۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر ( اپنے حسن کا ) جلوہ فرمایا تو ( شدّتِ اَنوار سے ) اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی ( علیہ السلام ) بے ہوش ہو کر گر پڑا ۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو عرض کیا: تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں

Translated by

Hussain Najfi

اور جب جنابِ موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آگئے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا ۔ تو انہوں نے کہا پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کر سکوں ۔ ارشاد ہوا تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکوگے ۔ مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھو ۔ اگر یہ ( تجلئِ حق کے وقت ) اپنی جگہ پر برقرار رہا تو پھر امید کرنا کہ مجھے دیکھ سکوگے پس جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر گئے ۔ اور جب ہوش میں آئے تو بولے پاک ہے تیری ذات! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں ( کہ تو نظر نہیں آتا ) ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

When Moses came to the place appointed by Us, and his Lord addressed him, He said: "O my Lord! show (Thyself) to me, that I may look upon thee." Allah said: "By no means canst thou see Me (direct); But look upon the mount; if it abide in its place, then shalt thou see Me." When his Lord manifested His glory on the Mount, He made it as dust. And Moses fell down in a swoon. When he recovered his senses he said: "Glory be to Thee! to Thee I turn in repentance, and I am the first to believe."

Translated by

Muhammad Sarwar

During the appointment, the Lord spoke to Moses. He asked the Lord to show Himself so that he could look at Him. The Lord replied, "You can never see Me. But look at the mountain. If the mountain remains firm only then will you see Me." When the Lord manifested His Glory to the mountain, He turned it into dust and Moses fell down upon his face senseless. After regaining his senses, Moses said, "Lord, You are all Holy. I repent for what I asked you to do and I am the first to believe in You."

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

And when Musa came at the time and place appointed by Us, and his Lord (Allah) spoke to him; he said: "O my Lord! Show me (Yourself), that I may look upon You." Allah said: "You cannot see Me, but look upon the mountain; if it stands still in its place then you shall see Me." So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: "Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

And when Musa came at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said: My Lord! show me (Thyself), so that I may look upon Thee. He said: You cannot (bear to) see Me but look at the mountain, if it remains firm in its place, then will you see Me; but when his Lord manifested His glory to the mountain He made it crumble and Musa fell down in a swoon; then when he recovered, he said: Glory be to Thee, I turn to Thee, and I am the first of the believers.

Translated by

William Pickthall

And when Moses came to Our appointed tryst and his Lord had spoken unto him, he said: My Lord! Show me (Thy Self), that I may gaze upon Thee. He said: Thou wilt not see Me, but gaze upon the mountain! If it stand still in its place, then thou wilt see Me. And when his Lord revealed (His) glory to the mountain He sent it crashing down. And Moses fell down senseless. And when he woke he said: Glory unto Thee! I turn unto Thee repentant, and I am the first of (true) believers.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

और जब मूसा (अलै॰) हमारे वक़्त पर आ गए तो उसके रब ने उससे कलाम किया, उसने कहाः ऐ मेरे रब! मुझे अपने को दिखा दीजिए कि मैं आपको देखूँ, (अल्लाह ने) कहाः तुम मुझको हरगिज़ नहीं देख सकते अलबत्ता पहाड़ की तरफ़ देखो अगर वह अपनी जगह क़ायम रह जाए तो तुम भी मुझको देख सकोगे, फिर जब उसके रब ने पहाड़ पर अपनी तजल्ली डाली तो उसको टुकड़े-टुकड़े कर दिया और मूसा (अलै॰) बेहोश होकर गिर पड़े, फिर जब उसको होश आया तो कहा कि आप पाक हैं, मैंने आपकी तरफ़ रुजूअ़ किया और मैं सबसे पहले ईमान लाने वाला हूँ।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت (موعود) پر آئے اور ان کے رب نے ان سے (بہت ہی لطف و عنایت کی) (4) باتیں کی تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو دکھلا دیجئیے کہ میں آپ کو ایک نظردیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو (دنیا میں) ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو سو اپنی جگہ پر برقرار رہا تو (خیر) تم بھی دیکھ سکو گے (5) پس ان کے رب نے جو اس پر بجلی فرمائی (تجلی نے) اس پہاڑ کے پرخچے اڑادیے اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گرپڑے (6) پھر جب افاقہ میں ہوئے تو عرض کیا بیشک آپ کی ذات مننرہ ( اور رفیع) ہے میں آپ کی جناب میں معذرت کرتا ہوں اور سب سے پہلے میں اس پر یقین کرتا ہوں۔ (143)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

” اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آئے۔ اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا اور لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔ جب اس کے رب نے پہاڑ پر جلوہ ڈالا تو اسے ریزہ ریزہ کردیاِ ۔ اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے جب اسے ہوش آیا تو کہنے لگے تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ “ (١٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ اے رب ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں ۔ فرمایا تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا چناچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں، فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، سو اگر پہاڑ اپنی جگہ بر قرار رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو پہاڑ کو چورا کردیا۔ اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے، پھر جب ان کو ہوش آیا تو کہنے لگے آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اور میں ایمان لانے والوں میں پہلا شخص ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اور جب پہنچا موسیٰ ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اس کے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں فرمایا تو مجھ کو ہرگز نہ دیکھے گا لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو توُ مجھ کو دیکھ لے گا پھر جب تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ کی طرف کردیا اس کو ڈھا کر برابر اور گر پڑا موسیٰ بیہوش ہو کر   پھر جب ہوش میں آیا بولا تیری ذات پاک ہے میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا تو انہوں نے کہا اے میرے رب آپ مجھے اپنا جمال دکھا دیجئے تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتا مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ پھر اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا غرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے اس پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گرپڑے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوئے تو کہنے لگے آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی خدمت میں معذرت کرتاہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں