Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 177

سورة الأعراف

سَآءَ مَثَلَاۨ الۡقَوۡمُ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنۡفُسَہُمۡ کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

How evil an example [is that of] the people who denied Our signs and used to wrong themselves.

اور ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وہ اپنا نقصان کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَاء مَثَلً الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِأيَاتِنَا ... Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat. Allah says, evil is the example of the people who deny Our Ayat in that they are equated with dogs that have no interest but to collect food and satisfy lusts.' Therefore, whoever goes out of the area of knowledge and guidance, and seeks satisfaction for his lusts and vain desires, is just like a dog; what an evil example. The Sahih recorded that the Messenger of Allah said, لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَايِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْيِه The evil example is not suitable for us: he who goes back on his gift is just like the dog that eats its vomit. Allah's statement, ... وَأَنفُسَهُمْ كَانُواْ يَظْلِمُونَ and they used to wrong themselves. means, Allah did not wrong them, but they wronged themselves by rejecting guidance, not obeying the Lord, being content with this life that will soon end, all the while seeking to fulfill desires and obey lusts.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

177۔ 1 مثلاً تمییز ہے۔ اصل عبارت یوں ہوگی : ' سَاَءَ مَثَلاً ! ( مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) 7 ۔ الاعراف :176) '

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The last verse in this series 176 said, |"So evil is example of those who belied our signs and they have been doing harm to themselves.|" The General Message of the Verses The above verses contain a number of useful points for the benefit of those who are heedful and make use of their understanding. Firstly, no one should be boastful of his knowledge and be proud for his piety. Things can change without notice just as happened with Bal&am Ba&ura. One has to be grateful to his Lord for all the knowledge and wisdom he has, and should keep praying Allah for being firm in his faith. Secondly, one should avoid situations which seem to threat his faith and knowledge. Specially so, when money, wife and children are involved because the love, of these things is the most powerful agent of misguidance. Thirdly, one should avoid the company of the misguided people and be careful in accepting gift or invitation from them. Bal&am met the evil fate through accepting the gift of the Jabbarin. Fourthly, the acts of immodesty like adultery and fornication are the source of ruin and disaster for all the people living in a society. Those who want to save themselves from distress must prevent their people from committing such crimes, otherwise it will invite Allah&s wrath and punishment upon them. Fifthly, deviation from the commandments of Allah is, in itself a punishment and it opens the door to satanic influences, which work upon them quite unknowingly and lead them astray. Therefore, any one with knowledge must be conscious of this valuable treasure and seek Allah&s help in protecting it from evil influences. He must care-fully keep correcting himself against error.

تیسری آیت میں فرمایا کہ آیات الہیہ کو جھٹلانے والوں کا برا حال ہے اور یہ لوگ اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ آیات مذکورہ اور ان میں بیان کئے ہوئے واقعہ اہل فکر کے لئے بہت سے فوائد اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں : اول یہ کہ کسی شخص کو اپنے علم و فضل اور زہد و عبادت پر باز نہیں کرنا چاہئے، حالات بدلتے اور بگڑتے ہوئے دیر نہیں لگتی، جیسے بلعم بن باعوراء کا حشر ہوا، اطاعت و عبادت کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور استقامت کی دعا اور اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ ایسے مواقع اور ان کے مقدمات سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا چاہئے جہاں اس کو اپنے دین کی خرابی کا اندیشہ ہو، خصوصا مال اور اہل و عیال کی محبت میں اس انجام بد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ مفسد اور گمراہ لوگوں کے ساتھ تعلق اور ان کا ہدیہ یا دعوت وغیرہ قبول کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے، بلعم اس بلاء میں ان کا ہدیہ قبول کرنے کے سبب مبتلا ہوا۔ چوتھے یہ کہ بےحیائی اور حرام کاری پوری قوم کے لئے تباہی اور بربادی کا سامان ہوتی ہے، جو قوم اپنے آپ کو بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رکھنا چاہے اس پر لازم ہے کہ اپنی قوم کو بےحیائی کے کاموں سے پورے اہتمام کے ساتھ روکے ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہوگا۔ پانچویں یہ کہ آیات الہیہ کی خلاف ورزی خود بھی ایک عذاب ہے اور اس کی وجہ سے شیطان اس پر غالب آکر ہزاروں خرابیوں میں بھی مبتلا کردیتا ہے، اس لئے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم دین عطا کیا ہو اس کو چاہئے کہ اس کی قدر کرے اور اصلاح عمل کی فکر سے کسی وقت فارغ نہ ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَہُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۝ ١٧٧ ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٧) جو لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم کے منکر ہیں ان کی مثال بہت بری ہے کیونکہ وہ کتے کی مثل ہیں، اور سزا کی وجہ سے اپنا نقصان کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:177) ساء مثلان القوم میں مثلا تمیز ہے۔ یعنی مثال کے لحاظ سے بری ہے وہ قوم ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

177 ان لوگوں کی مثال اور ان کی حالت واقعی بہت بری حالت ہے جنہوں نے ہماری آیات اور ہمارے دلائل توحید و رسالت کی تکذیب کی اور اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔