Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 180

سورة الأعراف

وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾

And to Allah belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names. They will be recompensed for what they have been doing.

اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah's Most Beautiful Names Allah says; وَلِلّهِ الاَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُواْ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَأيِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ And (all) the Most Beautiful Names belong to Allah, so call on Him by them, and leave the company of those who belie His Names. They will be requited for what they used to do. Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah said, إِنَّ للهِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ اسْمًا مِايَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْر Verily, Allah has ninety-nine Names, a hundred less one; whoever counts (and preserves) them, will enter Paradise. Allah is Witr (One) and loves Al-Witr (the odd numbered things), The Two Sahihs collected this Hadith. We should state that Allah's Names are not restricted to only ninety-nine. For instance, in his Musnad, Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah said; مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلاَا حَزَنٌ فَقَالَ Any person who is overcome by sadness or grief and supplicates, اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضُاوُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُهِفي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرانَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجَلَءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلاَّ أَذْهَبَ اللهُ حُزْنَهُ وَهَمَّهُ وَأَبْدَلَ مَكَانَهُ فَرَحًا `O Allah! I am Your servant, son of Your female servant. My forelock is in Your Hand. Your decision concerning me shall certainly come to pass. Just is Your Judgement about me. I invoke You by every Name that You have and that You called Yourself by, sent down in Your Book, taught to any of Your creatures, or kept with You in the knowledge of the Unseen that is with You. Make the Glorious Qur'an the spring of my heart, the light of my chest, the remover of my grief and the dissipater of my concern.' Surely, Allah will remove his grief and sadness and exchange them for delight. The Prophet was asked "O Messenger of Allah! Should we learn these words?" He said, بَلَى يَنْبَغِي لِكُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا Yes. It is an obligation on all those who hear this supplication to learn it. Al-`Awfi said that Ibn Abbas said about Allah's statement, وَذَرُواْ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَأيِهِ (and leave the company of those who belie His Names), "To belie Allah's Names includes saying that Al-Lat (an idol) derived from Allah's Name." Ibn Jurayj narrated from Mujahid that he commented, وَذَرُواْ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَأيِهِ (and leave the company of those who belie His Names), "They derived Al-Lat (an idol's name) from Allah, and Al-Uzza (another idol) from Al-Aziz (the All-Mighty)." Qatadah stated that; Ilhad refers to associating others with Allah in His Names (such as calling an idol Al-Uzza). The word Ilhad (used in the Ayah in another from) means, deviation, wickedness, injustice and straying. The hole in the grave is called Lahd, because it is a hole within a hole, that is turned towards the Qiblah (the direction of the prayer).

اسماء الحسنیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں انہیں جو محفوظ کر لے وہ جنتی ہے وہ وتر ہے طاق کو ہی پسند فرماتا ہے ( بخاری وغیرہ ) ترمذی میں ہے ننانوے نام اس طرح ہیں دعا ( اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الاخالق الباری المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الہسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدی المعید المحی الممیت الحی القیوم الواجد الواحد الا حد الفرد الصمد القادر المقتدر المقدم الموخر الا ول الاخر الظاہر الباطن الوالی المتعالیٰ البر التواب المنتقم العفو الروف مالک الملک ذوالجلال والا کرام المقسط الجامع الغنی المغنی المانع الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور ) ۔ یہ حدیث غریب ہے کچھ کمی زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں ۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لئے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں اور نہ ہوں یہ بات نہیں ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے ( اللھم انی عبدک ابن عبدک ابن امتک ناصیتی بیدک ماض فی حکمک عدل فی قصاوک اسالک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک وانزلتہ فی کتابک اوعلمتہ احد امن خقک اواستاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القران العظیم ربیع قلبی ونور صدری و جلاء حزنی و ذھاب ہمی ) ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا ۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں بیشک جو اسے سنے اسے چاہئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے ۔ امام ابو حاتم بن حبان بستی بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں ۔ امام ابو بکر بن عربی بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے ، واللہ اعلم ۔ اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزی نام رکھا ۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں انہیں چھوڑو ۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں ان سے منہ موڑ لو ۔ الحاد کے لفظی معنی ہیں درمیانہ سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا ۔ اسی لئے بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

180۔ 1 حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد 99 ایک کم 100 بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر) 180۔ 2 الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں (کج روی) الحاد کی تین صورتیں ہیں 1۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کردی جائے جیسے مشرکین نے کہا۔ مثلا اللہ کی اسی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عزیز سے عُزَّا بنا لیا 2، یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافہ کرلینا جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ 3۔ یا اس کے ناموں میں کمی کردی جائے مثلاً اسے ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨١] الحاد اور اس کی قسمیں :۔ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی اس کے جتنے بھی نام ہیں سب صفاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا (بخاری کتاب التوحید باب ان للہ مائۃ اسم الا واحدۃ) اور اللہ تعالیٰ کے ان ناموں یا صفات میں کجروی کا ہی دوسرا نام الحاد ہے اور الحاد کی کئی قسمیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں وہ کسی دوسرے میں بھی تسلیم کرنا جیسے کسی اور کو بھی عالم الغیب یا رزاق اور داتا اور حاجت روا، مشکل کشا اور کار ساز سمجھنا اور دوسرے یہ کہ انہیں ناموں سے استدلال کر کے باطل چیزوں کے امکان پر بحث کرنا جیسے مثلاً یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے کیا وہ جادو کا علم بھی جانتا ہے یا یہ بحث کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔ تیسرے یہ کہ ان صفات میں فلسفیانہ موشگافیاں پیدا کرنا جیسے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات حادث ہیں یا قدیم۔ مثلاً کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو قرآن حادث اور مخلوق ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ اللہ جو ہر جگہ موجود ہے اور ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ عرش پر کیسے ہوا ؟ غرض الحاد کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب کفر و شرک اور گمراہی کی طرف لے جانے والی ہیں لہذا ایک مسلمان کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو زیر بحث لا کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ بات اس کے بس سے باہر ہے انسان کی عقل محدود اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی وسعت لامحدود ہے نیز اللہ تعالیٰ نے خود بھی (فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 74؀) 16 ۔ النحل :74) کہہ کر ایسی باتوں سے منع فرما دیا ہے۔ پھر یہ اعتقادی بیماریاں ایک تو آگے منتقل ہوتی جاتی ہیں دوسرے زندگی کا رخ غلط راہوں پر ڈال دیتی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: ” الْحُسْنٰى“ یہ ” اَلْأَحْسَنُ “ کی مؤنث ہے، سب سے اچھے نام۔ ” لِلّٰهِ “ خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا کہ سب سے اچھے نام اور صفات صرف اور صرف اللہ کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ پچھلی آیت میں مذکور ضلالت اور جہنم سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انھی ناموں کے ساتھ اسے پکارو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اسْمًا، مِاءَۃً إِلَّا وَاحِدَۃً ، مَنْ أَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ )” بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو ان کا احصاء کرلے جنت میں داخل ہوگا۔ “ [ بخاری، الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط ۔۔ : ٢٧٣٦، عن أبی ہریرہ (رض) ] احصاء کا معنی یاد کرنا، شمار کرنا اور حفاظت کرنا سبھی آتے ہیں، یعنی ان کے معانی پر ایمان لائے، برکت اور ثواب کے لیے اخلاص کے ساتھ انھیں گن گن کر پڑھے، انھیں حفظ کرے اور ان کے تقاضوں کے مطابق اپنے عمل کو ڈھالے۔ حدیث کے جو الفاظ اوپر ذکر ہوئے ہیں وہ تو بہت سی روایات میں صحیح سندوں کے ساتھ آئے ہیں، البتہ ترمذی کی ایک روایت میں ان ننانوے ناموں کی تصریح بھی کردی گئی ہے، مگر اہل علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ یہ نام بعض راویوں نے قرآن مجید سے ترتیب دے کر روایت میں شامل کردیے ہیں، ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت روایت میں یہ نام نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان ناموں کے سوا اللہ تعالیٰ کے اور نام نہیں بلکہ قرآن و حدیث میں کئی اور نام بھی آئے ہیں۔ علماء نے اسمائے حسنیٰ پر کتابیں لکھی ہیں، بعض علماء نے قرآن و حدیث سے ہزار سے زیادہ اسمائے حسنیٰ نکالے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا شمار نہیں تو اس کے اسماء کا شمار بھی نہیں ہوسکتا۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کئی نام ایسے ہیں جو اس نے کسی کو بھی نہیں بتائے، عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص کو جب بھی کوئی فکر یا غم لاحق ہو وہ یہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم و فکر دور کردیتا ہے۔ “ آپ سے عرض کیا گیا : ” یا رسول اللہ ! ہم اسے سیکھ نہ لیں ؟ “ فرمایا : ” جو بھی اسے سنے اسے اس کو سیکھ لینا چاہیے۔ “ دعا یہ ہے : ( اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاءُ کَ اَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَجَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ )” اے اللہ ! بیشک میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا فیصلہ مجھ پر نافذ ہے، تیرا فیصلہ میرے بارے میں عین انصاف ہے، میں تیرے ہر نام کے وسیلے سے جسے تو نے خود اپنا نام رکھا ہے، یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا تو نے اسے علم غیب میں اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میرے فکر کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ “ [ أحمد : ١؍٣٩١، ح : ٣٧١١ ] ابن حبان : (٩٧٢) اور ابو یعلٰی (٩؍١٩٨، ١٩٩، ح : ٥٢٩٧) میں الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ اس مبارک دعا میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء کے واسطے سے دعا کی گئی ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام صرف ننانوے تک محدود نہیں ہیں۔ حدیث شفاعت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری کی اجازت ہوگی اور آپ سجدے میں گرجائیں گے تو اس وقت آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا کریں گے جو صرف اسی وقت اللہ تعالیٰ آپ کو سکھائے گا۔ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : ( وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔ ) : ٧٤٤٠۔ مسلم : ١٩٤ ] فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ : اللہ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے، باقی صفاتی نام ہیں۔ فرمایا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرتے، یعنی سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے اس کا کوئی نام رکھ لے، یا ایسے لفظ سے پکارے جس سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ بعض قوموں میں اللہ تعالیٰ کے ایسے نام رائج ہیں جو ایک سے زائد معبودوں میں سے کسی ایک پر بولے جاتے ہیں، مثلاً یزدان، بھگوان اور رام وغیرہ، ایسے نام اللہ تعالیٰ پر بولنے سے بچنا فرض ہے۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں، جسے اللات، العزیٰ اور منات کہ یہ لفظ اللہ، عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر (رض) نے کج روی کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے : ” اللہ تعالیٰ کے اسماء کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے، ایسے لوگوں کو دنیوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجائے مگر سزا ان کو ضرور ملے گی۔ “ (موضح) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ان کے واضح معنی سے انکار کردیا جائے (یہ تعطیل ہے) ، یا تحریف کردی جائے اور اسے تاویل کا نام دیا جائے، یا ان کو مخلوق کے مشابہ سمجھا جائے (یہ تشبیہ ہے) ، یا کہا جائے کہ معلوم ہی نہیں ان کا معنی کیا ہے (یہ تفویض ہے) بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان صفات پر مشتمل الفاظ کا جو معنی ہے وہ سب کو معلوم ہے، مثلاً ” سَمِیْعٌ“ کا معنی سننے والا ہے، مگر وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے۔ رہا یہ کہ وہ کیسے ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردی جائے۔ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کے کسی صفاتی نام کا اگر ترجمہ اپنی زبان میں کردیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً رب کو پروردگار، یا پالنے والا، رزاق کو روزی دینے والا کہہ دیا جائے تو یہ جائز ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This verse has a relationship with the preceding verses in the sense that the people of Hell discussed above did not use their abilities in seeking the everlasting comforts of the Hereafter, and made themselves liable to eternal punishment. The present verse has provided with remedy of their disease. That is, seeking help from Allah by calling Him with His good names and often remembering Him through them. The good names of Allah The good names are the ones that denote the attributes having the highest degree of perfection. It goes without saying that the perfection of the highest degree is not possessed by anyone but Allah. In case of a &perfect& human being there is always a possibility of someone being higher than him in some qualities. This is what the Qur&anic phrase has said: وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ |"And above every man of knowledge there is someone more knowledgeable.|" (12:76) The style of the verse has suggested that these &beautiful names& are peculiarly meant for Allah. فَادْعُوهُ بِهَا |"So, call Him by them|", because there is none other than Allah who owns these attributes, therefore the only one worthy of being called in need is none but He. Calling is a rendering of the word which has two characteristics: Praising, purifying and remembering Allah, and calling Him for help in times of need or difficulty. It implies, that Allah alone is worthy of praise and glorification and He alone has to be called for help and relief. The verse has also suggested that the best method of calling Him is to call Him by His Beautiful Names. Preconditions of Du` a (calling Allah) The verse has provided us with two valuable information. Firstly, there is none other than Allah worthy of praise and worthy of being called for help. Secondly, Allah has provided us with specific words for calling him, proper to His glorious being, as we are not capable of choosing appropriate words for this purpose. That is, we are required to call Him by His attributes of perfections. Bukhari and Muslim have reported on the authority of the Companion Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"There are ninety nine names of Allah. Whoever learns them by heart shall enter paradise.|" Tirmidhi and Hakim have enumerated these names in detail. Invo¬cations made by reciting these names are generally granted. Allah has promised in the Holy Qur&an ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ |"Call me and I will answer you|" (40:60). The most definite and certain method of seeking help in one&s need and getting relief from one&s distress is calling Allah and praying Him for His help. This is the only way that is certain to meet success. The immediate benefit of praying to Allah is that it is, in itself, a worship. The reward of this worship is included in the sheet of one&s deeds. The Holy Prophet وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ said in a Tradition: اَلدُّعَاُء مُخُ العِبَدَہِ |"Invoking Allah is the quintessence of worship.|" The invocation is granted by Allah in many ways. Sometimes, the very thing for which the invocation has been made is granted by Allah, while some other times, when one asks for something untimely or unsuitable for him in the knowledge of Allah is exchanged with something more proper or beneficial for him. Remembering Allah by glorifying and praising Him is the food for one&s Faith in Allah (&Iman) which helps in magnifying the love, respect and awareness of Allah making the hardship of this world worthless in one&s eyes. Al-Bukhari, Muslim, Tirmidhi and Nasa&i have reported through authentic sources that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that anyone who finds himself in some difficulty or is distressed with some grief should recite the following words: لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللہُ الْعَظِيمِ اَلحَلِیمُ ، لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا اللہُ رَ‌بُّ الْعَرْ‌شِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللہُ رَّ‌بُّ السَّمَاوَاتِ وَالاَرضِ وَرَ‌بُّ الْعَرْ‌شِ الْکريم |"There is no god but Allah, the Greatest, the Most forbearing, There is no god but Allah, the Lord of the great Throne. There is no god but Allah, the Lord of the Heavens, and the earth and the Lord of the Glorious Throne.|" Hakim in his Mustadrak has reported on the authority of the Companion Anas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to his daughter Sayyidah Fatimah al-Zahra (رض) |"What is there to prevent you from hearing my advice of reciting the following invocation at morning and evening every day?|" یِا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحمَتِکَ اَستَغِیثُ اَصلِح لِی شَأنِی کُلَّہُ وَلَا تَکِلنِی اِلٰی نَفسِی طَرفَۃَ عَین |"0 The Alive, The All-Sustaining, I call for help by Your Mercy. Set right every situation that I am in, and do not leave me at the mercy of my inner-self for even a wink of an eye.|" The above invocation is also an effective remedy of hardships and distress. In short, we have been given two instructions in this verse namely making invocation to Allah alone for seeking help or for pleasing the Creator, secondly, calling Allah by His attributes of perfection without changing them. The next sentence said: وَذَرُ‌وا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ |"And leave those who deviate in (the matter of) His names. They shall be recompensed for what they had been doing.|" The Arabic word اِلحَاد &Ilhad& signifies to decline from the centre. In Qur&anic terminology the word &Ilhad& is used for deviating from the correct interpretation of the Qur&anic words or distorting the meanings of the Qur&anic message. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been asked to keep away from the people who distort or decline from the prescribed names of Allah. The Deviation from the good names There are many forms of deviating from the prescribed names of Allah. Firstly, calling Allah by such names as are not specified in the Holy Qur&an or in the Sunnah. The ` Ulama& (Scholars) of the ummah are unanimous on the point that it is not permissible to call Allah by any names or attributes of one&s own choice or to praise Him by the names which have not been specified by the Qur&an and the Sunnah. For example, Allah may be called by the word: نُور Nur (light) but not by the word &white&. Similarly Allah may be called &Karim& (generous) but not by the word &Sakhi&: سَخِی having the same meaning. He can be called Shafi شَافِی (The one who provides cure from disease) but not طَبِیب &Tabib& (The doctor). Though the matching words carry the same mean¬ings they are not allowed simply because they have not been reported by the Qur&an and the Sunnah. The second way of deviating from these names of Allah is to abandon certain name or names only because one thinks them to be inappropriate in certain situations. It, obviously, amounts to lack of respect to the glorious names of Allah. Calling the people with the names of Allah The third way of deviation from these names is to use any of the good names of Allah for other people. This however, has some excep¬tions as explained in the following lines: There are certain names in the list of the glorious names of Allah which have been used by the Qur&an and the Sunnah for human beings. Such names can be used for beings other than Allah. For example, Rahim, Rashid, ` Ali, Karim and ` Aziz etc., while there are other names which denote to exclusive attributes of Allah. Their use for anyone other than Allah is an act of deviation from these names. For example, Rahman, Razzaq, Subhan, Khaliq, Quddus and Ghaffar etc. Using such names for anyone other than Allah is prohibited in the Islamic Shari` ah. Now, if someone calls anyone other than Allah by these names because of his false belief, that he has the attributes denoted by these names it would be an act of infidelity. However, if someone used any of these names for anyone other than Allah just heedlessly and for the lack of knowledge, it would not be an act of infidelity, but having simi¬larities with it would be called a major sin. It is a pity that Muslims in general are having a number of wrong practices with regard to naming their children and, calling them by improper names. There is a group of people who have abandoned the practice of naming their children with Islamic names. Their modern names having, non Islamic character, mark it difficult to identify them as Muslims by their names. Specially so, when their general appearance and manners are already devoid of Islamic character. The Islamic female names like Khadijah, ` A&ishah, and Fatimah have been replaced with Najma, Pervin, Nasim, Shamim and Shahnaz etc. More doleful practice among Muslims is to heedlessly curtail the Islamic names like ` Abd al-Khaliq, ` Abd al-Rahman ` Abd al-Razzaq or ` Abd al-Quddus etc. to Khaliq, Rahman, Razzaq and Quddus when calling people of these names. The attributes Khaliq خَالِق (The Creator) Rahman رَحمَٰن (The Merciful) Razzaq رَزَّاق (The Sustainer) and Quddus قُدُّوس (The Pure) are all exclusive attributes of Allah and using these attributes for anyone other than Allah is a major sin (گُنَاہِ کَبِیرَہ). The number of times one calls any one by these attributes only commits a major sin every time and becomes liable of great punishment. This sinful practice has become quite common among Muslims for no gain. They have been committing this sinful act simply for being thoughtless to the gravity of this error. The present verse has warned against it by saying سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ |"They shall soon be recompensed for what they have been doing|". Many evils are committed for certain worldly gains or benefits. Any one committing such evil deed may pretend to offer an excuse that being constrained by some necessity he had committed the sin, while a great number of evil deeds are simply of no avail, and produce no worldly benefit at all. It is a sad situation that people are seen committing such evil deeds just for being careless of the command¬ments of Allah and being indifferent to what is prohibited or permitted by Allah. May Allah save us from such ignorance.

خلاصہ تفسیر اور اچھے اچھے ( مخصوص) نام اللہ ہی کے لئے ( خاص) ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور (دوسروں پر ان ناموں کا اطلاق مت کیا کرو بلکہ) ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے (مذکورہ) ناموں میں کج روی کرتے ہیں (اس طرح سے کہ غیر اللہ پر ان کا اطلاق کرتے ہیں جیسا وہ لوگ ان کو معبود اور الہ اعتقاد کے ساتھ کہتے تھے) ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ معارف ومسائل پچھلی آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا جنہوں نے اپنی عقل و حواس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا اور آخرت کی دائمی اور لازوال زندگی کے لئے کوئی سامان فراہم نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوگیا کہ وہ خداداد عقل و بصیرت کو ضائع کرکے ذکر اللہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح و فلاح سے غافل ہوگئے اور جانوروں سے زیادہ گمراہی اور بےوقوفی میں مبتلا ہوگئے۔ مذکورہ آیت میں ان کے مرض کا علاج اور درد کی دوا بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور ذکر اللہ کی کثرت ہے، فرمایا (آیت) وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے نام، تو تم پکارو اس کو انہی ناموں سے۔ اسماء حسنی کی تشریح : اچھے نام سے مراد وہ نام ہیں جو صفات کمال کے اعلی درجہ پر دلالت کرنے والے ہیں، اور ظاہر ہے کہ کسی کمال کا اعلی درجہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہ ہوسکے وہ صرف خالق کائنات جل و عل شانہ ہی کو حاصل ہے اس کے سوا کسی مخلوق کو یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر کامل سے دوسرا شخص اکمل اور فاضل سے افضل ہوسکتا ہے (آیت) فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ، کا یہی مطلب ہے کہ ہر ذی علم سے بڑھ کر کوئی دوسرا علیم ہوسکتا ہے۔ اسی لئے اس آیت میں ایسی عبارت اختیار کی گئی جس سے معلوم ہو کہ یہ اسماء حسنی صرف اللہ ہی کی خصوصیت ہے دوسروں کو حاصل نہیں، (آیت) فَادْعُوْهُ بِهَا، یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اسماء حسنی ہیں اور وہ اسماء اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں تو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اور انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو۔ پکارنا یا بلانا دعا کا ترجمہ ہے، اور دعا کا لفظ قرآن میں دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی حمد و ثنا، تسبیح و تمجید کے ساتھ، دوسرے حاجات و مشلات کے وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت طلب کرنا اور مصائب وآفات سے نجات اور مشکلات کی آسانی کی درخواست کرنا، اس آیت میں فادْعُوْهُ بِهَا کا لفظ دونوں معنی کو شامل ہے تو معنی آیت کے یہ ہوئے کہ حمد و ثنا اور تسبیح کے لائق بھی صرف اسی کی ذات پاک ہے اور مشکلات و مصائب سے نجات اور حاجت روائی بھی صرف اسی کے قبضہ میں ہے، اس لئے حمد و ثنا کرو تو اسی کی کرو اور حاجت روائی، مشکل کشائی کے لئے پکارو تو اسی کو پکارو۔ اور پکارنے کا طریقہ بھی یہ بتلا دیا کہ انہی اسماء حسنی کے ساتھ پکارو جو اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں۔ دعا کے بعض آداب : اس لئے اس آیت سے دو ہدایتیں امت کو ملیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات حقیقی حمد و ثنا یا مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لئے پکارنے کے لائق نہیں، دوسرے یہ کہ اس کے پکارنے کے لئے بھی ہر شخص آزاد نہیں کہ جو الفاظ چاہے اختیار کرلے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ الفاظ بھی بتلا دیئے جو اس کے شایاں ہیں اور ہمیں پابند کردیا کہ انہی الفاظ کے ساتھ اس کو پکاریں، اپنی تجویز سے دوسرے الفاظ نہ بدلیں کیونکہ انسان کی قدرت نہیں کہ تمام پہلوؤں کی رعایت کرکے شایان شان الفاظ بنا سکے۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) نام ہیں جو شخص ان کو محفوظ کرلے وہ جنت میں داخل ہوگیا، یہ ننانوے نام امام ترمزی اور حاکم نے تفصیل کے ساتھ بتلائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہ ننانوے نام پڑھ کر جس مقصد کے لئے دعا کی جائے قبول ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے (آیت) ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم مجھے پکارو توں میں تمہاری دعا قبول کروں گا، حاجات و مشکلات کے لئے دعا سے بڑھ کر کوئی تدبیر ایسی نہیں جس میں کسی ضرر کا خطرہ نہ، ہو اور نفع یقینی ہو، اپنی حاجات کے لئے اللہ جل شانہ سے دعا کرنے میں کسی نقصان کا تو کوئی احتمال ہی نہین، اور ایک نفع نقد ہے کہ دعا ایک عبادت ہے، اس کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے، حدیث میں ہے الد عاء مخ العبادة یعنی دعا کرنا عبادت کا مغز ہے اور جس مقصد کے لئے اس نے دعا کی ہے اکثر تو وہ مقصد بعینہ پورا ہوجاتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنا مقصد بنایا تھا وہ اس کے حق میں مفید نہ تھی، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دعا کو دوسری طرف پھیر دیتے ہیں جو اس کے لئے مفید ہو، اور حمد و ثنا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ایمان کی غذا ہے جس کے نیتجہ میں انسان کی رغبت و محبت اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہوجاتی ہے اور دنیا کی تکلیفیں اگر پیش بھی آویں تو حقیر اور آسان ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے بخاری، مسلم، ترمذی نسائی کی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی غم یا بےچینی یا مہم کام پیش آئے اس کو چاہئے کہ یہ کلمات پڑھے، سب مشکلات آسان ہوجائیں گی وہ کلمات یہ ہیں : لآ الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لآ الہ الا الہ اللہ رب العرش العظیم، لآ الہ الا الہ اللہ رب السموب والارض ورب العرش الکریم، اور مستدرک حاکم میں بروایت انس (رض) مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ زہراء سے فرمایا کہ تمہارے لئے اس سے کیا چیز مانع ہے کہ تم میری وصیت کو سن لو ( اور اس پر عمل کیا کرو) وہ وصیت یہ ہے کہ صبح شام یہ دعا کرلیا کرو : یاحی یاقیوم برحمتک استغیث اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی الی نفسی طرفة عین۔ یہ دعا بھی تمام حاجت و مشکلات کے لئے بےنظیر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ کے اس جملہ میں دو ہدایتیں امت کو دی گئیں، ایک یہ کہ حمد و ثنا اور مشکلات و حاجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کو پکارو مخلوقات کو نہیں، دوسرے یہ کہ اس کو انہی ناموں سے پکارو جو اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں، اس کے الفاظ نہ بدلو۔ آیت کے اگلے جملہ میں اسی کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی چھوڑ یے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی کجروی کرتے ہیں، ان کو ان کی کجروی کا بدلہ مل جائے گا، الحاد کے معنی لغت میں میلان اور درمیانی راہ سے ہٹ جانے کے آتے ہیں، اسی لئے قبر کی لحد کو لحد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ درمیانی راہ ہٹی ہوئی ہوتی ہے، قرآن کریم میں لفظ الحاد قرآن کریم کے صحیح معانی کو چھوڑ کر ادھرا دھر کی تاویل و تحریف کرنے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے تعلق بھی چھوڑدیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں الحاد یعنی تحریف اور کجروی سے کام لیتے ہیں۔ اسماء الہیہ میں کجروی کی ممانعت اور اس کی مختلف صورتیں : اسماء الہیہ میں تحریف یا کجروی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ سب اس آیت کے مضمون میں داخل ہیں : اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت نہیں، علماء حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ جو چاہے نام رکھ دے یا جس صفت کے ساتھ چاہے اس کی حمد و ثنا کرے بکہ صرف وہی الفاظ ہونا ضروری ہیں جو قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے لئے بطور نام یا صفت کے ذکر کئے گئے ہیں، مثلا اللہ تعالیٰ کو کریم کہہ سکتے ہیں، سخی نہیں کہہ سکتے، نور کہہ سکتے ہیں ابیض نہیں کہہ سکتے، شافی کہہ سکتے ہیں طبیب نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں، اگرچہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں۔ دوسری صورت الحاد فی الاسماء کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو نام قرآن وسنت سے ثابت ہیں ان میں سے کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دے، اس کا بےادبی ہونا ظاہر ہے۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے مخصوص نام سے موسوم یا مخاطب کرنا جائز نہیں : تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لئے استعمال کرے، مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ، اور اسماء حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے مثلا رحمن، سبحان، رزاق، خالق، غفار، قدوس وغیرہ۔ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کررہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بےفکری یا بےسمجھی سے کسی شخص کو خالق، رازق یا رحمن، سبحان کہہ دیا تو یہ اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہ شدید ہے۔ افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیئے، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتہ چل جاتا تھا، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے، لڑکیوں کے نام خواتین اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ، عائشہ، فاطمہ کے بجائے نسیم، شمیم، شہناز، نجمہ، پروین ہونے لگے، اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں، عبدالرحمن، عبدالخالق عبدالرزاق، عبدالغفار، عبدالقدوس وغیرہ، ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتا ہے، رحمن، خالق، رزاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ قدرت اللہ کو اللہ صاحب اور قدرت خدا کو خدا صاحب کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ سب ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔ یہ گناہ بےلذت اور بےفائدہ ایسا ہے جس کو ہمارے ہزاروں بھائی اپنے شب و روز کا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی فکر نہیں کرتے کہ اس ذرا سی حرکت کا انجام کتنا خطرناک ہے جس کی طرف آیت مذکورہ کے آخری جملہ میں تنبیہ فرمائی گئی ہے، (آیت) سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی ان کو اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا، اس بدلہ کی تعیین نہیں کی گئی، اس ابہام سے عذاب شدید کی طرف اشارہ ہے۔ جن گناہوں میں کوئی دنیوی فائدہ یا لذت و راحت ہے ان میں تو کوئی کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی خواہش یا ضرورت سے مجبور ہوگیا، مگر افسوس یہ ہے کہ آج مسلمان ایسے بہت سے فضول گناہوں میں بھی اپنی جہالت یا غفلت سے مبتلا نظر آتے ہیں جن میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہے نہ ادنی درجہ کی کوئی راحت ولذت ہے وجہ یہ ہے کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی طرف دھیان ہی نہ رہا۔ نعوذبا للہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِلہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْہُ بِہَا۝ ٠ ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕہٖ۝ ٠ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ ١٨٠ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ لحد اللَّحْدُ : حفرة مائلة عن الوسط، وقد لَحَدَ القبرَ : حفره، کذلک وأَلْحَدَهُ ، وقد لَحَدْتُ الميّت وأَلْحَدْتُهُ : جعلته في اللّحد، ويسمّى اللَّحْدُ مُلْحَداً ، وذلک اسم موضع من : ألحدته، ولَحَدَ بلسانه إلى كذا : مال . قال تعالی: لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] من : لحد، وقرئ : يلحدون من : ألحد، وأَلْحَدَ فلان : مال عن الحقّ ، والْإِلْحَادُ ضربان : إلحاد إلى الشّرک بالله، وإلحاد إلى الشّرک بالأسباب . فالأوّل ينافي الإيمان ويبطله . والثاني : يوهن عراه ولا يبطله . ومن هذا النحو قوله : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] ، وقوله : وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] والْإِلْحَادُ في أسمائه علی وجهين : أحدهما أن يوصف بما لا يصحّ وصفه به . والثاني : أن يتأوّل أوصافه علی ما لا يليق به، والْتَحدَ إلى كذا : مال إليه . قال تعالی: وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] أي : التجاء، أو موضع التجاء . وأَلْحَدَ السّهم الهدف : مال في أحد جانبيه . ( ل ح د ) اللحد ۔ اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنانا کے ہیں ۔ لحد المیت والحدہ میت کو لحد میں دفن کرنا اور لحد کو ملحد بھی کہا جاتا ہے جو کہ الحد تہ ( افعال ) اسے اسم ظرف ہے ۔ لحد بلسانہ الیٰ کذا زبان سے کسی کی طرف جھکنے یعنی غلط بات کہنا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] مگر جس کی طرف تعلیم کی نسبت کرتے ہیں ۔ میں یلحدون لحد سے ہے اور ایک قرات میں یلحدون ( الحد سے ) ہے ۔ کہا جاتا ہے الحد فلان ۔ فلاں حق سے پھر گیا ۔ الحاد دو قسم پر ہے ۔ ایک شرک باللہ کی طرف مائل ہونا دوم شرک بالا سباب کی طرف مائل ہونا ۔ اول قسم کا الحا و ایمان کے منافی ہے اور انسان کے ایمان و عقیدہ کو باطل کردیتا ہے ۔ اور دوسری قسم کا الحاد ایمان کو تو باطل نہیں کرتا لیکن اس کے عروۃ ( حلقہ ) کو کمزور ضرور کردیتا ہے چناچہ آیات : ۔ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] اور جو اس میں شرارت سے کجروی وکفر کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] ، جو لوگ اس کے ناموں کے وصف میں کجروی اختیار کرتے ہیں ۔ میں یہی دوسری قسم کا الحاد مراد ہے اور الحاد فی اسمآ ئہ یعنی صفات خدا وندی میں الحاد کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ باری تعالیٰ کو ان اوٖاف کے ساتھ متصف ماننا جو شان الو ہیت کے منافی ہوں دوم یہ کہ صفات الہیٰ کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے ذیبا نہ ہو ۔ التحد فلان الٰی کذا ۔ وہ راستہ سے ہٹ کر ایک جانب مائل ہوگیا اور آیت کریمہ : وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے میں ملتحد ا مصدر میمی بمعنی التحاد بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی اور اس کے معنی پناہ گاہ کے ہیں التحد السھم عن الھدف تیر نشانے سے ایک جانب مائل ہوگیا یعنی ہٹ گیا ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٠) اعلی صفات یعنی علم وقدرت سمع وبصر سب اسی کے لیے ہیں اور جو اسمائے الہی اور اس کی صفات کے منکر یا ان کے اقرار سے اعراض کرتے ہیں یا کہ اس کے اسماء وصفات میں شرک کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء کے ساتھ لات وعزی اور منات کو تشبیہ دیتے ہیں تو دنیا میں یہ جو شرآمیز باتیں کرتے تھے، آخرت میں ان کو ان کا بدلہ مل جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٠ (وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاص) ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اعتبار سے اس کے بیشمار نام ہیں۔ ان میں سے کچھ قرآن میں آئے ہیں اور کچھ احادیث میں۔ ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے ‘ اس میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام گنوائے ہیں۔ ان ناموں میں اللہ سب سے بڑا اور اہم ترین نام ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب نام اچھے ہیں ‘ ان ناموں کے حوالے سے اس کو پکارا کرو ‘ ان ناموں کے ذریعے سے دعا کیا کرو۔ جیسے یاسَتَّارُ ‘ یَا غَفَّارُ ‘ یَا کَرِیْمُ ‘ یَا عَلِیْمُ ۔ ضمنی طور پر یہاں ایک نکتہ نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں اللہ کے لیے لفظ صفت کہیں استعمال نہیں ہوا ‘ البتہ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے۔ قرآن میں اللہ کے لیے اس حوالے سے اسماء (نام) کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ (وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآءِہٖ ط) ۔ ’ لحد ‘ کہتے ہیں ٹیڑھ کو۔ ’ لحد ‘ بمعنی قبر کا مفہوم یہ ہے کہ قبر کے لیے ایک سیدھا گڑھا کھود کر اس کے اندر ایک بغلی گڑھا کھودا جاتا ہے۔ اس گڑھے کو سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے لحد کہتے ہیں۔ اسمائے الٰہی کے سلسلے میں ’ الحاد ‘ ایک تو یہ ہے کہ ان کا غلط استعمال کیا جائے۔ اللہ کے ہر نام کی اپنی تاثیر ہے ‘ اس لحاظ سے مراقبوں وغیرہ کے ذریعے سے اللہ کے ناموں کی تاثیر سے کسی کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘ کسی صفت کے دو رخ ہیں تو اس صفت سے نام بھی دو ہوں گے ‘ جیسے اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ ‘ اَلرَّافِعُ اور اَلْخَافِضُ ‘ اَلْحَیُّ اور اَلْمُمِیْتُوغیرہ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے جو اسماء اس طرح کے جوڑوں کی شکل میں ہیں ان میں سے اگر ایک ہی نام بار بار پکارا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے تو یہ بھی الحاد ہوگا۔ مثلاً اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ دو نام ایک جوڑے میں ہیں ‘ یعنی وہی عزت دینے والا اور وہی ذلت دینے والا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یَا مُذِلُّ ‘ یَا مُذِلُّ ‘ یَا مُذِلُّکا ورد شروع کر دے تو یہ الحاد ہوجائے گا۔ کیونکہ اے ذلیل کرنے والے ! اے ذلیل کرنے والے ! مناسب ورد نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے تمام نام جب پکارے جائیں تو ہمیشہ جوڑوں ہی کی صورت میں پکارے جائیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

141. Here the present discourse is nearing its end. Before concluding, people are warned in a style which combines admonition with censure against some basic wrongs. People are here being warrned particularly against denial combined with mockery which they, had adopted towards the teachings of the Prophet (peace be on him). 142. The name of a thing reflects how it is conceptualized. Hence, inappropriate concepts are reflected in inappropriate names, and vice versa. Moreover, the attitude a man adopts towards different things is also based on the concepts he entertains of those things. If a concept about a thing is erroneous, so will be man's relationship with it. On the other hand. a right concept about a thing will lead to establishing, the right relationship with it. In the same way, as this applies to relationships with worldly objects, so it applies to relationships with God. If a man is mistaken about God - be it about His person or attributes - he will choose false words for God. And the falsity of concepts about God affects man's whole ethical attitude. This is understandable since man's whole ethical attitude is directly related to man's concept of God and God's relationship with the universe and man. It is for this reason that the Qur'an asks man to shun profanity in naming God. Only the most beautiful names befit God, and hence man should invoke Him by them. Any profanity in this respect will lead to evil consequences. The 'most excellent names' used of God express His greatness and paramountcy, holiness, purity, and the perfection and absoluteness of all His attributes. The opposite trend has been termed ilhad in this verse. The word ilhad literally means 'to veer away from the straight direction'. The word is used, for instance, when an arrow misses the mark and strikes elsewhere. (See Raghib al-Isfahani, al-Mufradat, q.v. ilhad - Ed.) The commitment of ilhad in naming God mentioned in the verse consists of choosing names which are below His majestic dignity and which are inconsistent with the reverence due to Him; names which ascribe evil or defect to God, or reflect false notions about Him. Equally blasphemous is the act of calling some creature by a name which befits God alone, The Qur'anic exhortation in the above verse to 'shun those who distort God's names' implies that if misguided people fail to see reason, the righteous should not engross themselves in unnecessary argumentation with them. For such men will themselves suffer dire consequences.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :141 اب تقریر اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے اس لیے خاتمہ کلام پر نصیحت اور ملامت کے ملے جلے انداز میں لوگوں کو ان کی چند نمایاں ترین گمراہیوں پر متنبہ کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں انکار و استہزا کا جو رویّہ انہوں نے اختیار کر رکھا تھا اس کی غلطی سمجھاتے ہوئے اس کے برے انجام سے اُنہیں خبردار کیا جارہا ہے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :142 انسان اپنی زبان میں اشیاء کے جو نام رکھتا ہے وہ دراصل اس تصور پر مبنی ہوتے ہیں جو اس کے ذہن میں ان اشیاء کے متعلق ہوا کرتا ہے ۔ تصور کا نقص نام کے نقص کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور نام کا نقص تصوّر کے نقص پر دلالت کرتا ہے ۔ پھر اشیاء کے ساتھ انسان کا تعلق اور معاملہ بھی لازماً اس تصور پر ہی مبنی ہوا کرتا ہے جو اپنے ذہن میں اس کے متعلق رکھتا ہے ۔ تصور کی خرابی تعلق کی خرابی میں رونما ہوتی ہے اور تصور کی صحت و درستی میں نمایاں ہو کر رہتی ہے ۔ یہ حقیقت جس طرح دنیا کی تمام چیزوں کے معاملہ میں صحیح ہے اسی طرح اللہ کے معاملہ میں بھی صحیح ہے ۔ اللہ کے لیے نام ( خواہ وہ اسماء ذات ہوں یا اسماء صفات ) تجویز کرنے میں انسان جو غلطی بھی کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی ذات و صفات کے متعلق اس کے عقیدے کی غلطی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ پھر خدا کے متعلق اپنے تصور و اعتقاد میں انسان جتنی اور جیسی غلطی کرتا ہے ، اتنی ہی اور ویسی ہی غلطی اس سے اپنی زندگی کے پورے اخلاقی رویہ کی تشکیل میں سرزد ہوتی ہے ، کیونکہ انسان کے اخلاقی رویہ کی تشکیل تمام تر منحصر ہے اس تصور پر جو اس نے خدا کے بارے میں اور خدا کے ساتھ اپنے اور کائنات کے تعلق کے بارے میں قائم کیا ہو ۔ اسی لیے فرمایا کہ خدا کے نام رکھنے میں غلطی کرنے سے بچو ، خدا کے لیے اچھے نام ہی موزوں ہیں اور اسے اُنہی ناموں سے یاد کرنا چاہیے ، اس کے نام تجویز کرنے میں الحاد کا انجام بہت بُرا ہے ۔ ”اچھے ناموں“سے مراد وہ نام ہیں جن سے خدا کی عظمت و برتری ، اس کے تقدس اور پاکیزگی ، اور اس کی صفات کمالیہ کا اظہار ہوتا ہو ۔ ”الحاد“کے معنی ہیں وسط سے ہٹ جانا ، سیدھے رخ سے منحرف ہو جانا ۔ تیر جب ٹھیک نشانے پر بیٹھنے کے بجائٕے کسی دوسری طرف جا لگتا ہے تو عربی میں کہتے ہیں اَلحد السہمُ الھدفَ ، یعنی تیر نے نشانے سے الحاد کیا ۔ خدا کے نام رکھنے میں الحاد یہ ہے کہ خدا کو ایسے نام دیے جائیں گو اس کے مرتبے سے فروتر ہوں ، جو اس کے ادب کے منافی ہوں ، جن سے عیوب اور نقائص اس کی طرف منسوب ہوتے ہوں ، یا جن سے اس کی ذات اقدس و اعلیٰ کے متعلق کسی غلط عقیدے کا اظہار ہوتا ہو ۔ نیز یہ بھی الحاد ہی ہے کہ مخلوقات میں کسی کے لیے ایسا نام رکھا جائے جو صرف خدا ہی کے لیے موزوں ہو ۔ پھر یہ فرمایا کہ اللہ کے نام رکھنے میں جو لوگ الحاد کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ سیدھی طرح سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو ان کی کج بحثیوں میں تم کو اُلجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اپنی گمراہی کا انجام وہ خود دیکھ لیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

92: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔ البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضرور قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے (دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل 110:17 و سورۃ طہ 8:20 و سورۃ حشر 24:59) اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔ 93 بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨٠۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کریگا وہ جنت میں داخل ہوگا اور ترمذی نے اپنی روایت میں ان ناموں کو ذکر بھی کیا ہے یہی مشہور نام ہیں جو چھپے ہوئے ملت ہیں لیکن اللہ کے ناموں کا حصر ان ناموں نہیں ہے چناچہ ابن العربی نے شرح ترمذی میں ذکر کیا ہے کہ بعضے علماء نے قرآن و حدیث سے ہزار نام تک اللہ کے چنے ہیں۔ اس کی تائید سند امام احمد بن حنبل کی ان معتبر روایتوں سے ہوتی ہے جس میں آپ نے رفع غم کی دعا لوگوں کو سکھائی ہے اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ تو نے جو اپنے نام لوگوں کو بتلائے ہیں اور جو تیرے نام تیرے علم غیب میں مخفی ہیں ان سب ناموں کے طفیل سے یہ غم دور ہوجاوے۔ الحاد کے معنی کجروی کے ہیں اللہ کے ناموں میں کجروی اور کجراء چلنے کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ بیان فرمایا ہے کہ مثلا جس طرح مشرکین مکہ نے لفط اللہ سے لات اور لفظ ھنان سے مناۃ کا لفظ تراش کر بتوں کے یہ نام ٹھہرائے تھے جن بتوں کو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک جانتے تھے تفسیر مقاتل اور ابن جوزی وغیرہ میں ہے کہ ایک مسلمان شخص یارحمان یارحیم کہہ کر دعا مانگا کرتا تھا ایک مشرک شخص نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ تم مسلمان لوگ تو اللہ کو وحدہ لاشریک جانتے ہو پھر اللہ کے یہ دو نام کیوں لیتے ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس شان نزول کی بنا پر حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ شریعت الٰہی میں اللہ تعالیٰ کے جو نام آچکے ہیں دعا کے وقت وہ لئے جاسکتے ہیں ہاں ان مشرکوں نے کجروی سے جو نام تراش لئے ہیں ان کو وقت مقررہ پر ان کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ سورة بقرہ میں اسماء بنت یزید (رض) کی حدیث ترمذی ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم (٢: ١٦٣) اور لا الہ لاھوالحی القیوم (٣: ٢) ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں بریدہ (رض) کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسم اعظلم کے بعد جو دعا مانگی جاوے وہ قبول ہوتی ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے جو نام ثابت ہوئے ہیں ان سب کے بعد دعا مانگی جاسکتی ہے اور اس اسم اعظم کے بعد دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور اسم اعظم ان دونوں آیتوں میں ہے جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلائے ہیں :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:180) ذروا۔ تم چھوڑ دو ۔ وذر سے امر۔ جمع مذکر حاضر۔ یلحدون فی اسمائہ۔ جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء الحسنیٰ کا اطلاق اس کے سوا کسی غیر پر کرتے ہیں جیسے مسلیمہ کذاب کے پیروکار اس کو رحمن یمامہ کہا کرتے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ کو ایسے ناموں سے پکارنا جو اس نے اپنے لئے نہیں رکھے۔ یا جو اس کی شان کے شایان نہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کو یارفیق کہہ کر پکارنا وغیرہ۔ لحد۔ بغلی قبر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اچھے ناموں سے مراد وہ نام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی عظمت جلالت شان تقدس اور صفات کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ علمانے اس ما حسنی کی تشریح اور ان کے ساتھ دعوت پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ رازی کی اطوامع حلیمی کی المنہاج اور قرطبی کی الکتاب الا منی ٰ قابل دیدے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا، (یعنی ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو پکارا) وہ جنت میں داخل ہوگیا، اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ ( بخاری مسلم) یہاں تک تو یہ حدیث متواتر ہے، ترمذی کی ایک روایت میں ان موموں کی تصریح بھی کی گئی ہے مگر وہ نام علمانے بطور تشریح قرآن سے تر تیب نہیں ہیں ان ننانوے نا موں کے علاوہ اور نام بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ان ناموں کو ساتھ ہی پکار نا چاہیے اپنی طرف سے کوئی نام نہیں رکھنا چاہیے ( ملحض از ابن کثیر)4 اس کے ناموں میں ایک بےدینی تو یہ ہے کہ ان ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں جیسے اللات عزیٰ منات کہ یہ اللہ عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ ( ابن کثیر) اللہ تعالیٰ کے نام اپنی طرف سے رکھنا بھی الحاد میں داخل ہے۔ ( فتح القدیر) الحاد کے در اصل معنی کجروی کے ہیں اور امام رازی نے الحاد کی تین صورتیں لکھی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) نے کجری کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے ایسے لوگوں کی دینوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجاتا ہے مگر سزا انکو ضرور ملیگی) از مو ضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183 ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ (1) کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں اور (2) وہ بہت اچھے نام ہیں انسانوں کو بھو ل ہے کہ وہ اللہ کے ایسے بہترین نام چھوڑکر مشرکانہ نام رکھتے ہیں۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت بت پرستوں نے اپنے بتوں کے متعدد نام رکھے ہوئے تھے اور وہ ان سے ہی اپنی مرادیں مانگتے تھے جیسے لات، منات ، عزی ھبل وغٰیرہ۔ انہوں نے ہر بت کے ذمے کچھ ڈیوٹیاں لگا رکھی تھیں کوئی بت بارش برساتا تھا کوئی اولاد دیتا تھا اور کسی کے ذمہ رزق دینا تھا۔ یہ ساری باتیں انہوں نے خود سے گھڑ رکھی تھیں اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کے صفاتی نام ہیں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ اللہ کی طرف ان ناموں کی نسبت بھی نہ کی جائے اس کے بہت بہترین نام ہیں ان کو ان ہی ناموں سے پکارا جائے۔ نہ اللہ کی ذات کو سمجھنے کے لئے اپنی طرف مثالیں گھڑی جائیں اور نہ اس کے طرح طرح کے نام رکھے جائیں ۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو وہ نام پسند ہیں جو اللہ کے ذاتی اور صفاتی نام ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اپنے بچوں کا نام اللہ کے ناموں سے منسوب کئے جائیں جیسے عبد اللہ ، عبدالرحمن وغیرہ مگر اس میں یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیئے کہ اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہو تو اس کو عبدالرحمن نہ کہا جائے بلکہ عبدالرحمن کہا جائے۔ بد قسمتی سے جو لوگ عبدالرحمن ، عبد الرزاق نام رکھ لیتے ہیں وہ ان کو رحمن صاحب اور رزاق صاحب کہہ کر پکارتے ہیں یہ جائز نہیں ہے نام پورا لیاجائے۔ موجودہ دور میں بھی یہ فتنہ ایک نئی شکل کے ساتھ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اول تو ہم اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھنا ہی چھوڑ دیئے ہیں۔ حالانکہ نام کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ مسلم امت کی پہچان ہے۔ شکل صورت تو ہماری قوم نے ایسی بنالی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق ہی محسوس نہیں ہوتا۔ نامہی ایک پہچان کا ذریعہ تھا وہ پہچان بھی ختم کردی گئی۔ مغربی ملکوں میں تو سارے امتیازات ختم کرکے نئی نسل کی زبان کی پہچان بھی ختم کردی گئی اور ہمیں اس بات پر فخر ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ہماری زبان نہیں سمجھتا۔ حالانکہ یہ بات تو ڈوب مرنے کی ہے فخر کی بات نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک فیشن بن گیا ہے جب دوسری قوموں کی شکل صورت بنالی گئی نام بھی مسلمان نہ رہا اور زبان بھی اپنی نہ رہی تو آنے والی نسلوں کا اللہ ہی مالک ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ ناموں کے بارے میں ایک بےاعتدالی تو یہ ہے دوسری طرف وہ لوگ جو اللہ کی صفات کیساتھ نام رکھتے ہیں اس میں عبدیت کا لفظ ہی نکال دیا گیا ہے ۔ عبدالرحمن ، عبدالصمد، عبدالرزاق عبدالخالق کہنے کی بجائے رحمن صاحب ، صمد صاحب رزاق صاحب خالق صاحب نام کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ اس طرح ناموں کو لینا گناہ کبیرہ میں سے ہے لیکن ہم بڑی آسانی سے اس گناہ کبیرہ کو کرتے چلے جار ہے ہیں اور اس کا ذرا احساس نہیں کرتے کہ اس طرح کہنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ نام رکھنا ایک فن ہے۔ سائنس کی جو ایجادات ہورہی ہیں یا نئے قوانین فطرت جو دریافت ہو رہے ہیں یا نئی تحقیقات اور معلومات حاصل ہو رہی ہیں ان کے نام رکھے جارہے ہیں ان ناموں کے پیچھے ایک سائنس ہے ایک فن ہے جس پر سب سے پہلے ارسطو نے بحث کی ہے اور اصول مقرر کئے ہیں ۔ ناموں سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں۔ نام کھنے والے کی عقل علم، نفرت، محبت یا عقیدت مسمی یعنی جس کا نام رکھا جائے اس کی تعریف خصوصیت ، خوبی ، خرابی عزت، ذلت وغیرہ کا اظہار ہوتا ہے۔ مثلا لفظ اسلام ہے اس لفظ سے دین اسلا م کی غرض و غائت ایک نگاہ میں معلوم ہوتی ہے یہ نام کسی شخص واحد کے نام پر نہیں بنا۔ مثلا یہودیت ، زرتشت، کنفیو شس بدھازم وغیرہ بےمعنی جغرافیائی لفظ ہیں مثلا ہندو ازم ٹائو ازم یا جین ازم وغیرہ اس کے بر خلاف دوسری طرف لفظ اللہ ہے یہ لفظ بھی خود اپنے اندر ایک بہت بڑی حقیقت لئے ہوئے ہیں۔ یہ لفظ صرف حق تعالیٰ شانہ کے لئے مخصوص ہے اس کا نہ مونث ہے نہ تثنیہ ہے نہ جمع ہے نہ سبب ہے نہ نتیجہ ہے ۔ یہ لفظ دین اسلام کی پہچان ہے۔ کوئی قوم اس کو استعمال نہیں کرتی دوسرے مذاہب نے جو اپنے دیوی دیوتا ، بتو اور معبودوں کے نام رکھ ہیں ان کے مقابلے میں یہ لفظ نہایت اعلیٰ وارفع اور اسلام کی واحدنیت کا ترجمان ہے اس ذات کو اسی نام یا اس کی بہترین صفات سے پکارا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ تصریح فرمادی ہے کہ دنیا میں جہاں بہت سے برے لوگ ہیں وہیں اچھے لوگ بھی ہیں ۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتے ہیں اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اعلان نبوت فرمایا اس وقت جہاں وہ لوگ تھے اللہ کو برے ناموں سے یاد کرے اور من گھڑت عقائد میں پھنسے ہوئے تھے وہیں وہ اچھے لوگ بھی تھے جو کفار کی ان باتوں سے نفرت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو برے راستوں پر چل پڑے ہیں ہم آہستہ آہستہ ان کے گرد اپنا گھیرا تنگ کررہے ہیں کیونکہ ہماری تدبیریں آہستہ ہوتی ہیں مگر پائیدار اور پختہ ہوتی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی نفرت ہونی چاہیے۔ یہاں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ پکارا کرو اور ان لوگوں کو بالکل چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں۔ انھیں بہت جلد اپنے قول اور فعل کی سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔ یہ ایسا عظیم المرتبت اور عظیم الرعب اسم عالی اور گرامی ہے کہ صرف اور صرف خالق کائنات کی ذات کو زیبا اور اس کے لیے مختص ہے۔ یہ اس کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ کائنات میں انتہا درجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں اور ہوں گے۔ جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعَلٰی “ کہلوانے والے بھی ہوئے ہیں۔ مگر اس نام کی جلالت وہیبت کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ کہلوانے کی کوئی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن وہ بتوں کو اللہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ اللہ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے جس بنا پر ہر کام بِسْمِ اللّٰہِ سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اسم مبارک اپنے آپ میں خا لقیت، مالکیت، جلالت و صمدیت، رحمن و رحیمیت کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا نام ٢٦٩٧ مرتبہ وارد ہوا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا تعلق ہے ان کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ نام ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی خاص ہیں دوسرے وہ ہیں جن میں سے کوئی نام کسی آدمی کا بھی رکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً کریم ہے بہتر تو یہ ہے کہ یہ بھی نام عبدالکریم ہونا چاہیے تاہم کوئی صرف کریم نام رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے کیونکہ کریم کا معنی درگزر کرنے والا اور سخی ہے جو کسی آدمی کی صفت اور نام بھی ہوسکتا ہے لیکن انسان کی کریمی اور اللہ تعالیٰ کی کریمی کا آپس میں کوئی تعلق اور نسبت نہیں ہوسکتی۔ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام بتلائے ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یاد کرنے سے مراد صرف حفظ کرنا نہیں بلکہ ان کے مطابق انسان کا عقیدہ بھی ہونا چاہیے۔ (بخاری کتاب التوحید) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنہ کے ساتھ پکارنے کا حکم دے کر یہ تلقین فرمائی ہے کہ (وَذَرُوْاالَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِیْٓ أَسْمَآءِہٖ ) اس کے نام میں الحاد یہ ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں وہ کسی زندہ، مردہ یا کسی کمپنی کا نام رکھا جائے جس طرح آج کل بعض مسلمان جہالت کی بناء پر کسی جنرل سٹور کا نام الرحیم یا الرحمن رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشکل کشا ہے اور آدمی کسی دوسرے کو بھی مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے اس کو اس نام سے پکارے جیسا کہ جاہل اور مشرک لوگ پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کو پیر دستگیر کہتے ہیں یعنی ڈوبتے ہوئے یا گرنے والے کا ہاتھ تھامنے والا۔ اور یہ وظیفہ بھی کرتے ہیں۔ یَا عَبْدَ الْقَادِرِ شَیْئا للّٰہِ ” اے عبدالقادر اللہ کے لیے کچھ دیجیے “ جاہل لوگ حضرت علی ہجویری (رح) کو داتا گنج بخش کہتے ہیں جس کا مطلب ہے خزانے بخشنے والا۔ غوث اعظم بڑا فریادیں سننے والا اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بہت سے جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے جس کی وضاحت آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اب استثناء کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ایک امت یعنی جماعت ایسی بھی پیدا فرمائی ہے جو لوگوں کو حق کی رہنمائی کرتے ہیں اور عدل کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں ہم ان کو اس طرح کھینچ کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں کہ انھیں اس کی خبر تک نہ ہے۔ ہم نے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مہلت دینے کی تدبیر نہایت مضبوط ہے، کسی کو مہلت دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ رب ذوالجلال کی گرفت سے بچ جائے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اس کے صفات کمال کے حامل ہیں۔ ٢۔ توحید اسماء وصفات عقیدہ توحید کا حصہ ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ مخلوق کو پکارنے والوں کو عذاب ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کی تدابیر نہایت مضبوط ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی : ١۔ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن۔ اللہ کے لیے اچھے نام ہیں۔ (الاسراء : ١١٠) ٢۔ اللہ کے علاوہ کوئی اِلٰہ نہیں۔ اس کے اچھے نام ہیں۔ (طٰہٰ : ٨) ٣۔ وہ خالق، باری، المصور ہے اس کے اچھے اچھے نام ہیں۔ (الحشر : ٢٤) ٤۔ وہ اول ہے، وہ آخر ہے، وہ ظاہر اور باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (الحدید : ٣) ٥۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ اور قائم ہے۔ (البقرۃ : ٢٥٥۔ آل عمراٰن : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔ وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔ اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔ یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کے لیے اسماء حسنیٰ ہیں ان کے ذریعہ اس کو پکارو علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں (ص ٣٢٥ ج ٧) آیت بالا کا سبب نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نماز میں یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ کہہ رہا تھا۔ مکہ مکرمہ کے ایک مشرک نے سن لیا تو کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ ہم ایک ہی رب کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ یہ شخص ایسے الفاظ کہہ رہا ہے جن سے دو رب کا پکارنا سمجھ میں آ رہا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اچھے اچھے نام ہیں ان کے ذریعہ اسے پکارو، پکارو لفظ فادْعُوْہُ کا ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ اللہ کو ان ناموں سے موسوم کرو۔ دونوں طرح ترجمہ کرنا درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اسماء حسنیٰ ہیں۔ یہ مضمون سورة بنی اسرائیل کے ختم پر اور سورة حشر کے ختم پر بھی مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ پکارنا۔ ان اسماء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور ان اسماء کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگنا یہ سب (فَادْعُوْہُ بِھَا) کے عموم میں آجاتا ہے۔ صحیح بخاری (ص ٣٤٩ ج ٢) میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ لِلّٰہِ تسعۃ و تسعون اسمًا ماءۃ اِّلا واحدًا لا یحفظھا احدٌ الاَّ دَخَلَ الجَنَّۃ (یعنی اللہ کے ایک کم سو یعنی ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کرے گا ضرور جنت میں داخل ہوگا) اور صحیح مسلم (ص ٣٤٢ ج ٢) میں ہے۔ مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ (یعنی جس نے ان ناموں کو شمار کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگا) ۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ من احصاھا، من حفظھا کے معنی میں ہے۔ سنن ترمذی میں ننانوے نام مذکورہ ہیں اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہیں لیکن ان میں بعض اسماء وہ ہیں جو ترمذی کی روایت میں نہیں ہیں اور دیگر کتب حدیث میں بھی بعض اسماء مذکور ہیں، جو ترمذی کی روایت کے علاوہ ہے۔ اسی لیے حضرات محدثین کرام نے فرمایا ہے کہ حدیث کا مقصود یہ نہیں کہ اللہ کے صرف ننانوے نام ہیں بلکہ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص کوئی سے بھی ننانوے اسمائے حسنیٰ کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ قال الحافظ ابن حجر (رح) تعالیٰ فی فتح الباری فالمراد الاخبار ان دخول الجنۃ باحصاء ھا لا الاخبار بحصر الاسماء۔ (حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جنت کا داخلہ اسمائے مبارکہ کے یاد کرنے پر ہے یہ مطلب نہیں کر صرف شمار کرلینے سے جنت میں داخلہ کی فضیلت ہے) حضرات محدثین کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ اسمائے حسنیٰ جو کتب حدیث میں یکجا ہیں خود حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائے ہیں یا بعض رواۃِ حدیث نے حدیث کے ساتھ ملا کر روایت کردیے ہیں اگر ایسا ہے تو ان اسماء عالیہ کا ذکر حدیث میں مدرج ہوگا لیکن چونکہ ان اسماء میں اکثر ایسے ہیں جو قرآن اور حدیث میں بالتصریح موجود ہیں اور بعض ایسے ہیں جو آیات اور احادیث کے مضامین سے مستفاد ہوتے ہیں اس لیے ان کو یاد کرنا اور دعاء سے پہلے حمد وثناء کے طور پر ان کو پڑھ لینا قبولیت دعاء کا وسیلہ ضرور ہے۔ علامہ سیوطی (رح) نے جامع صغیر میں بحوالہ حلیۃ الاولیاء حضرت علی (رض) سے حدیث نقل کی ہے۔ اِنَّ لِلّٰہَ تسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْماً مَاءۃ غیر واحِدۃ اِنَّہٗ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ وَ مَا مِنْ عَبدٍ یَّدعُوْبِھَا اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اس میں بھی یدعوبھا کا ایک مطلب تو وہی ہے کہ ان اسماء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان سماء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے یعنی ان اسماء کو پڑھے پھر اللہ تعالیٰ سے دعاء کرے۔ علامہ جزری (رح) نے الحصن الحصین میں اس طرح کی احادیث نقل کی ہیں جن سے اسماء الٰہیہ کا ذکر کرنے کے بعد دعاء کی جائے تو دعا قبول ہونے کا وعدہ ہے بحوالہ سنن ترمذی علامہ جزری نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَام کہتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا کہ تیری دعاء قبول ہوگی تو سوال کرلے، پھر بحوالہ مستدرک حاکم نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص پر گزر ہوا جو یا ارحم الراحمین پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کہ سوال کر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تیری طرف (رحمت کی) نظر فرمائی اور ایک شخص یہ پڑھ رہا تھا۔ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْأَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَ لَمْ یَِکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے یہ الفاظ سن کر فرمایا کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے وسیلہ سے دعاء کی ہے اس کے ذریعہ سوال کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعاء کی جاتی ہے تو قبول فرما لیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٩ از ترمذی) درمنثور ص ١٤٩ ج ٣ میں امام بیہقی سے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کرنے لگیں تو انہوں نے یوں کہا : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ بِجَمِِیْعِ اَسْمَآءِکَ الْحُسْنٰی کُلِّھَا مَاعَلِمْنَا مِنْھَا وَ مَا لَمْ نَعْلَمْ وَ اَسْأَلُکَ باسْمِکَ الْعَظِیْمِ الْاَعْظَمِ الْکَبِیْر الْاَکْبَرِ الَّذِیْ مَنْ دَعَاکَ بِہٖ اَجَبْتَہٗ وَ مَنْ سَالَکَ بِہٖ اَعْطَیْتَہٗ ) یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو نے ٹھیک طریقہ اختیار کیا دو بار ایسا ہی فرمایا۔ یہ علامہ قرطبی نے فادعوہ بھا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ای اطلبوا منہ باسماۂ فیطلب بکل اسم مایلیق بہ تقول یا رحیم ارحمنی یا حکیم احکم بی یا رازق ارزقنی یا ھادی اھدنی یا فتاح افتح لی یا تواب تب علی ھکذا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ سے اس کے ناموں کے وسیلہ سے مانگو اور ہر نام کے مطابق طلب کیا جائے مثلاً کہو اے رحیم مجھ پر رحم فرما، اے حکیم میرے لیے حکمت کا فیصلہ فرما، اے رازق مجھے رزق دے، اے ہادی مجھے ہدایت دے، اے فتاح میرے لیے فتوحات کے دروازے کھول، اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما) ۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ اللہ کو یاد کرنے اور اللہ سے مانگنے کا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآءِہٖ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ ان کاموں کا بدلہ پالیں گے جو وہ کیا کرتے تھے) ۔ اسمائے الٰہیہ میں کج روی اختیار کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے بارے میں تفسیر قرطبی اور تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے ناموں سے مشتق کر کے اپنے بتوں کے نام رکھ دیئے تھے مثلاً لفظ اللہ سے اللات نکالا اور لفظ العزیز سے العزیٰ نکالا اور المنان سے منات نکالا اور ان ناموں سے اپنے بتوں کو موسوم کردیا اور درمنثور میں حضرت اعمش سے اس کی تفسیر یوں نقل کی ہے کہ یدخلون فیھا مالیس منھا یعنی اللہ کے ناموں میں ان ناموں کا اضافہ کردیتے ہیں جو اس کے نام نہیں ہیں علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ قرآن و حدیث میں جو اسماء وارد ہوئے ہیں ان کے سوا دوسرے ناموں سے اللہ کو موصوف نہ کیا جائے، بہت سے لوگ اللہ کے نام مخلوق کے لیے استعمال کردیتے ہیں اور وہ اس طرح سے لفظ عبد کو چھوڑ کر مسمی کا نام لیتے ہیں مثلاً عبدالرحمن کو رحمن صاحب اور عبدالغفار کو غفار صاحب اور عبدالغفور کو غفور صاحب کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

178: یہ تیسرے دعوی سے متعلق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بیشمار صفاتی نام ہیں تم اس کی صفتوں کے ساتھ صرف اسی کو پکارو اور اسی سے حاجتیں مانگو اس کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں۔ “ وَ ذَرُوْا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ الخ ” اور جو لوگ اللہ کی صفات میں الحاد اور کجروی اختیار کرتے ہیں آپ ان سے اجتناب کریں ان کو اپنے کیے کی جزا و سزا نہ ملے گی۔ اللہ کی صفات میں الحاد سے مراد یہ ہے کہ اس کی صفات میں غیر اللہ کو شریک کیا جائے یا کسی کو اللہ کا ولد اور نائب قرار دے کر اللہ کی ابوت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسا کہ عیسائی اور مشرکین مکہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ “ یعنی ابو المسیح ابو الملائکہ میگفتند (فتح الرحمن) ”

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

180 اور سب اچھے اچھے مخصوص نام اللہ ہی کے لئے خاص ہیں لہٰذا ان ہی مخصوص ناموں کے ساتھ اس کو پکارا کرو اور ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو ایسے لوگ جو کچھ کررہے ہیں ان کو ضرور ان کے کئے کی پاداش بھگتنی ہوگی اور بہت جلد ان کو ان کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے اپنے وصف بتائے ہیں کہ مناجات میں وہ کہہ کر پکارو کہ تم پر متوجہ ہو اور کج راہ نہ چلو کج راہ یہ کہ جو وصف نہیں بتائے وہ کہے جیسے اللہ کو بڑا کہا نفسا نہیں کہا یا قدیم کہا پرانا نہیں کہا اور ایک کج راہ یہ ہے کہ ان کو سحر میں چلا دے وہ اپنے کئے کا بدلا پار ہیں گے یعنی قرب خدا نہ ملے گا وہ مطلب ملے گا برایا بھلا۔ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہی نام استعمال کئے جائیں جو کتاب و سنت سے ثابت ہوں۔