Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 27

سورة الأعراف

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰىکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾

O children of Adam, let not Satan tempt you as he removed your parents from Paradise, stripping them of their clothing to show them their private parts. Indeed, he sees you, he and his tribe, from where you do not see them. Indeed, We have made the devils allies to those who do not believe.

اے اولاد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کر ادیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے ۔ وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Warning against the Lures of Shaytan Allah says; يَا بَنِي ادَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ O Children of Adam! Let not Shaytan deceive you, as he got your parents out of Paradise, stripping them of their raiment, to show them their private parts. Verily, he and his tribe see you from where you cannot see them. Verily, We made the Shayatin friends of those who believe not. Allah warns the Children of Adam against Iblis and his followers, by explaining about his ancient enmity for the father of mankind, Adam peace be upon him. Iblis plotted to have Adam expelled from Paradise, which is the dwelling of comfort, to the dwelling of hardship and fatigue (this life) and caused him to have his private part uncovered, after it had been hidden from him. This, indeed, is indicative of deep hatred (from Shaytan towards Adam and mankind). Allah said in a similar Ayah, أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِيْسَ لِلظَّـلِمِينَ بَدَلاً Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me, while they are enemies to you! What an evil is the exchange for the wrongdoers. (18:50)

ابلیس سے بچنے کی تاکید تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے دیکھو اسی نے تمہارے باپ آدم کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا ان کی پردہ دری کی ۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہئے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلً50 ) 18- الكهف ) یعنی کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو؟ مجھے چھوڑ کر ؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 اس میں اہل ایمان کو شیطان اور اور اس کے قبیلے یعنی چیلے چانٹوں سے ڈرایا گیا ہے کہ کہیں وہ تمہاری غفلت اور سستی سے فائدہ اٹھا کر تمہیں بھی اس طرح فتنے اور گمراہی میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ (آدم حوا) کو اس نے جنت سے نکلوا دیا اور لباس جنت بھی اتروا دیا۔ بالخصوص جب کہ وہ نظر بھی نہیں آتے۔ تو اس سے بچنے کا اہتمام اور فکر بھی زیادہ ہونا چاہئے۔ 27۔ 2 یعنی بےایمان قسم کے لوگ ہی اس کے دوست اور اس کے خاص شکار ہیں۔ تاہم اہل ایمان پر بھی وہ ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو شرک خفی (ریاکاری) اور شرک میں ہی ان کو مبتلا کردیتا ہے اور یوں ان کو بھی ایمان کے بعد ایمان صحیح کی پونجی سے محروم کردیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] شیطانی حملہ اور اس سے بچاؤ کے لئے ہدایات :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چند حقائق سے آگاہ فرمایا۔ ایک یہ کہ شیطان کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں وہ اگر تمہارے باپ کو مکر و فریب سے اور سبز باغ دکھا کر جنت سے نکلوا سکتا ہے تو تمہارے ساتھ وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ شیطان کا سب سے پہلا وار یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو فحاشی میں مبتلا کر دے بےحجابی کو عام کر دے اور تمہارے پردہ شرم و حیا کو تار تار کر دے تیسرے یہ کہ تمہارا دشمن تو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے اور ظاہر ہے کہ ایسا دشمن اپنے مد مقابل (انسان) پر وار اس وقت کرے گا جب وہ غفلت میں پڑا ہو اور اس کا یہ وار شدید تر ہوگا اور چوتھے یہ کہ اس کا وار صرف ان لوگوں پر چل سکے گا جو ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ ایمان لانے والے اور اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ایک ایسی ہستی کی پناہ میں آجاتے ہیں جو خود تو ان شیطانوں کو دیکھتا ہے لیکن شیطان اسے نہیں دیکھ سکتے گویا معاملہ بالکل الٹ ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں پر شیطان کا حملہ بہت کم کارگر ہوتا ہے اور اگر کسی وقت وہ شیطان کے بہکاوے میں آ بھی جائیں تو اللہ سے معافی مانگ کر اور اس کے دامن میں پناہ لے کر شیطانی حملے کے اثر سے پاک صاف ہوجاتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ ۔۔ : شیطان کی کوشش یہ ہے کہ تم جنت میں نہ جانے پاؤ، جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، اس کے لیے وہ بےپردگی کو اور بےلباس ہونے کو عام کرتا ہے، تاکہ بےحیائی اور بدکاری پھیل جائے۔ دیکھنا کہیں اس فتنے میں مبتلا ہو کر جنت سے محروم نہ ہوجانا۔ ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ ۔۔ : یعنی ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے جو ہمیں دیکھے مگر ہم اسے دیکھ نہ پائیں۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگرچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا قبیلہ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم انھیں نہیں دیکھتے ہوتے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں۔ یہ ” قَضْیَۃٌ مُطْلَقَۃٌ لاَ دَاءِمَۃٌ“ ہے، لہٰذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن ہے۔ احادیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنوں کو دیکھا ہے۔ (فتح القدیر) اور زکوٰۃِ رمضان کی نگرانی کے قصے میں مذکور ہے کہ ابوہریرہ (رض) مسلسل تین راتیں ایک جن کو پکڑتے رہے۔ [ بخاری : ٢٣١١١ ] اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس ایک سرکش جن آگیا، اگر میرے بھائی سلیمان ( (علیہ السلام) ) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر ستون سے باندھ دیتا اور صبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ “ [ مسلم : ٥٤١۔ بخاری : ٤٦١ ] سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تو باقاعدہ جنوں کی قوم تھی۔ [ النمل : ١٧ ] اب رہا امام شافعی (رض) کا یہ فرمانا کہ جو شخص جنات کو دیکھنے کا دعویٰ کرے، اس کی شہادت مردود ہے، تو شاید ان کا مطلب یہ ہو کہ انھیں ان کی اصل شکل پر دیکھنے کا دعویٰ کرے، ورنہ احادیث سے ثابت شدہ بات مقدم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (27), the address reverts to all children of Adam (علیہ السلام) and the admonition given is that they should keep guarding against the deception of Shaytan in everything they do under whatever cir¬cumstance they are - lest, Shaytan puts them on another trial as he did with their parents, &Adam and Eve. He made them leave Paradise, caused them to shed their dress and render their essential cover to be uncovered. He was their eternal enemy. His enmity was something, they were never to lose sight of. At the end of the verse, it was said: إِنَّهُ يَرَ‌اكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَ‌وْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ Indeed, he sees you - he and his company - from where you do not see them. Surely, We have made the satans friends forthose who do not believe - (27). Here, the word: قَبِیل (qabil) means company or group. A joined family group is called: Qabilah or tribe. Common groups are known as qabil. The sense of the verse is: For you the Satan is a kind of enemy that he and his accomplices do see you but you do not see them. Therefore, the chances that you would fall a victim to their deception are fairly strong. But, in other verses, it has also been clarified that people who keep turning to Allah Ta` ala and maintain their guard against the deception of Shaytan, for them, the wily web of Shaytan is much too weak. Then, what has been said at the end of this verse - that ` We have made the satans friends and guardians of those who do not believe& - also indicates that those who believe should not find staying away from their web of deception at all difficult. Some righteous elders have said that the defence against the ene¬my who sees us but we cannot see him is simple. Let us come under the protection of Allah Ta` ala. He sees these satans, watches how they move and act - but they cannot see Him. And the statement, that human beings cannot see Shaytan, is in terms of general conditions and habit. If a human being were to see them contra-habitually, that would not be considered contrary to it - as is the case of Jinns coming to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who asked questions and embraced Islam, which appears in authentic nar¬rations of Hadith. (Ruh al-Ma&ani)

دوسری آیت میں پھر تمام اولاد آدم کو خطاب کرکے تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنے ہر حال اور ہر کام میں مکر شیطانی سے بچتے رہو، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو پھر کسی فتنہ میں مبتلا کر دے، جیسا تمہارے ماں باپ حضرت آدم و حواء کو اس نے جنت سے نکلوایا، اور ان کا لباس اتار کر ان کے ستر کھولنے کا سبب بنا وہ تمہارا قدیم دشمن ہے، اس کی دشمنی کا ہمیشہ ہر وقت خیال رکھو۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اس میں لفظ قبیل کے معنی جماعت اور جھتے کے ہیں، جو جماعت ایک خاندان کی شریک ہو اس کو قبیلہ کہتے ہیں، اور عام جماعتوں کو قبیل کہا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارا ایسا دشمن ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی تو تم کو دیکھتے ہیں، تم ان کو نہیں دیکھتے، اس لئے ان کا مکر و فریب تم پر چل جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔ لیکن دوسری آیات میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے اور مکر شیطانی سے ہوشیار رہنے والے ہیں، ان کے لئے شیطان کا جال نہایت کمزور ہے۔ اور اس کے آخر میں بھی یہ جو فرمایا کہ ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنادیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے، اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان والوں کے لئے اس کے جال سے بچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ بعض حضرات سلف نے فرمایا کہ یہ دشمن جو ہمیں دیکھتا ہے اور ہم اس کو نہیں دیکھ سکتے اس کا علاج ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں، جو ان شیطانوں کو اور ان کی ہر نقل و حرکت کو دیکھتا ہے اور شیطان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ اور یہ ارشاد کہ انسان شیاطین کو نہیں دیکھ سکتا عام حالات اور عام عادت کے اعتبار سے ہے، خرق عادت کے طور پر کوئی انسان کبھی ان کو دیکھ لے یہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جنات کا آنا اور سوالات کرنا اور اسلام قبول کرنا وغیرہ صحیح روایات حدیث میں مذکور ہے (روح) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْہَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللہُ اَمَرَنَا بِہَا۝ ٠ ۭ قُلْ اِنَّ اللہَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ۝ ٠ ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ٢٨ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) فحش الفُحْشُ والفَحْشَاءُ والفَاحِشَةُ : ما عظم قبحه من الأفعال والأقوال، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] ( ف ح ش ) الفحش والفحشاء والفاحشۃ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] کہ خدا بےحیائی کے کام کرنے کا حکم ہر گز نہیں دیتا ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے یا بنی ادم لایفتنتکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ۔ اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا) فتنہ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ ابتلا ہے جس میں شہوت یا شبہ کی جہت سے معصیت کی طرف دعوت کی بنا پر کوئی پھنس جائے۔ خطاب میں انسان کو شیطان کے فتنے میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فتنے میں پڑنے سے ڈرایا گیا ہے اور اس پر اس سے اپنا پہلو بچانا لازم کردیا گیا ہے۔ قول باری کما اخرج ابویکم من الجنۃ) میں جنت سے آدم (علیہ السلام) و حوا کے اخراج کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے انہیں بہکایا تھا جس کے نتیجے میں وہ ایسی حرکت کر بیٹھے جو ان کے جنت سے اخراج پر منتج ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون کی نسبت بیان فرمایا یذبح ابناء ھم و ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا تھا) جبکہ فرعون نے انہیں ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا وہ خود یہ کام نہیں کرتا تھا۔ اسی مفہوم پر اللہ نے آدم (علیہ السلام) و حوا کے لباس اتروانے کی نسبت بھی شیطان کی طرف کردی فرمایا ینزع عنھما لبا سھما۔ اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے) اگر کوئی شخص اپنی قمیض نہ سینے اور اپنے غلام کی پٹائی نہ کرنے کی قسم کھالے جبکہ وہ خود یہ کام نہ کرتا ہو تو کسی اور سے یہ کام کروانے پر وہ حانث ہوجائے گا۔ اس مسئلے میں درج بالا آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر اس نے گھر نہ بنانے کی قسم کھائی ہو اور پھر کسی اور کے ذریعے بنوالے تو حانث ہوجائے گا۔ لباس آدم کی کیفیت ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کے جسم پر جو لباس تھا وہ جنت کے کپڑے کا بنا ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ ان کا لباس ظفر (ایک قسم کی نباتات کا تھا۔ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ ا ن کا لباس نور کا تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) تمہیں شیطان ہرگز میری اطاعت سے کسی خرابی میں نہ مبتلا کردے جیسا کہ اس نے آدم وحوا (علیہ السلام) کو مبتلا کیا اس نے ان سے نور کا لباس اتروا دیا تاکہ ایک دوسرے کے سامنے پردہ دار بدن ظاہر ہوجائے۔ اور شیطان اور اس کے لشکر کو تم نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تمہارے سینے میں ان کا مرکز ہیں، ہم شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنادیتے ہیں جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا ط) (اِنَّہٗ یَرٰٹکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ ط) چونکہ ابلیس کو اللہ کی طرف سے قیامت تک چھوٹ ملی ہوئی ہے لہٰذا وہ نہ صرف مسلسل زندہ ہے ‘ بلکہ اس نے اپنی اولاد اور اپنے نمائندوں کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انسانوں کے درمیان پھیلا رکھا ہے۔ یہ جن شیاطین چونکہ غیر مرئی (invisible) مخلوق ہیں اس لیے وہ ایسی ایسی جگہوں پر ہماری گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے طور طریقوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جس کا ہلکا سا اندازہ بھی ہم نہیں کرسکتے۔ (اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) ۔ جیسے گندگی اور مکھی کا فطری ساتھ ہے ایسے ہی شیطان اور منکرین حق کا یارانہ ہے۔ جس دل میں ایمان نہیں ہوگا اور وہ اللہ کے ذکر کے نور سے محروم ہوگا ‘ وہ خانۂ خالی را دیو می گیرد کے مصداق شیطان ہی کا اڈہ بنے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. These verses bring into focus several important points. First, that the need to cover oneself is not an artificial urge in man; rather it is an important dictate of human nature. Unlike animals, God did not provide man with the protective covering that He provided to animals. God rather endowed man with the natural instincts of modesty and bashfulness. Moreover, the private parts of the body are not only, related to sex, but also constitute 'sawat' that is, something the exposure of which is felt to be shameful. Also, God did not provide man with a natural covering in response to man's modesty and bashfulness, but has inspired in him (see verse 26) the urge to cover himself. This is in order that man might use his reason to understand the requirements of his nature, use the resources made available by God, and provide himself a dress. Second, man instinctively knows that the moral purpose behind the use of dress takes precedence over the physical purpose. Hence the idea that man should resort to dress in order to cover his private parts precedes the mention of dress as a means of providing protection and adornment to the human body. In this connection man is altogether different from animals, With regard to the latter, the natural covering that has been granted serves to protect them from the inclemencies of weather and also to beautify their bodies. However, that natural covering is altogether unrelated to the purpose of concealing their sexual organs. The exposure of those organs is not a matter of shame for them and hence their nature is altogether devoid of the urge to cover them. However, as men fell prey to Satanic influences, they developed a false and unhealthy notion about the function of dress. They were led to believe that the function of dress for human beings is no different from that for animals, viz., to protect them from the inclemencies of weather and to make them look attractive. As for concealing the private parts of the body, the importance of that function has been belittled. For men have been misled into believing that their private parts are, in fact, like other organs of their body. As in the case of animals, there is little need for human beings to conceal their sex organs. Third, the Qur'an emphasizes that it is not enough for the dress to cover the private parts and to provide protection and adornment to the human body. Man's dress ought to be the dress of piety. This means that a man's dress ought to conceal his private parts. It should also render a man reasonably presentable - the dress being neither too shabby and cheap nor overly expensive and extravagant relative to his financial standing. Nor should dress smack of pride or hauteur, or reflect that pathological mental state in which men prefer characteristically feminine dresses and vice versa: or that the people belonging to one nation mimic people of other nations so as to resemble them, thereby becoming a living emblem of collective humiliation and abasement. The Qur'anic ideal can only be achieved by those who truly believe in the Prophets and sincerely try to follow God's Guidance. For as soon as man decides to reject God's Guidance, Satan assumes his patronage and by one means or another manages to lead him into error after error. Fourth, the question of dress constitutes one of the numerous signs of God which is visible virtually throughout the world. When the facts mentioned above are carefully considered it will be quite clear as to why dress is an important sign of God.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :16 ان آیات میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس سے چند اہم حقیقتیں نکھر کر سامنے آجاتی ہیں: اوّل یہ کہ لباس انسان کے لیے ایک مصنوعی چیز نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا ایک اہم مطالبہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم پر حیوانات کی طرح کوئی پوشش پیدائشی طور پر نہیں رکھی بلکہ حیا اور شرم کا مادہ اس کی فطرت میں ودیعت کر دیا ۔ اس نے انسان کے لیے اس کے اعضائے صنفی کو محض اعضائے صنفی ہی نہیں بنا یا بلکہ سَوْأة بھی بنایا جس کے معنی عربی زبان میں ایسی چیز کے ہیں جس کے اظہار کو آدمی قبیح سمجھے ۔ پھر اس فطری شرم کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس نے کوئی بنا بنایا لباس انسان کو نہیں دے دیا بلکہ اس کی فطرت پر لباس کو الہام کیا ( اَنْزَلْنَا علَیْکُمْ لِبَاسًا ) تاکہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اپنی فطرت کے اس مطالبے کو سمجھے اور پھر اللہ کے پیدا کردہ مواد سے کام لے کر اپنے لیے لباس فراہم کرے ۔ دوم یہ کہ اس فطری الہام سے رو سے انسان کے لیے لباس کی اخلاقی ضرورت مقدم ہے ، یعنی یہ کہ وہ اپنی سَوْأة کو ڈھانکے ۔ اور اس کی طبعی ضرورت موخر ہے ، یعنی یہ کہ اس کا لباس اس کےلیے رِیش ( جسم کی آرائش اور موسمی اثرات سے بدن کی حفاظت کا ذریعہ ) ہو ۔ اس باب میں بھی فطرةً انسان کا معاملہ حیوانات کے برعکس ہے ۔ ان کے لیے پوشش کی اصل غرض صرف اس کا ”ریش“ ہونا ہے ، رہا اس کا سترپوش ہونا تو ان کے اعضاء صنفی سرے سے سَوْأة ہی نہیں ہیں کہ اُنہیں چھپانے کے لیے حیوانات کی جبلت میں کوئی داعیہ موجود ہوتا اور اس کا تقاضا پورا کرنے کے لیے ان کے اجسام پر کوئی لباس پیدا کیا جاتا ۔ لیکن جب انسانوں نے شیطان کی رہنمائی قبول کی تو معاملہ پھر اُلٹ گیا ۔ اس نے اپنے ان شاگردوں کو اس غلط فہمی میں ڈال دیا کہ تمہارے لیے لباس کی ضرورت بعینہ وہی ہے جو حیوانات کے اعضاء سَوْأة نہیں ہیں اسی طرح تمہارے یہ اعضاء بھی سَوْأة نہیں ، محض اعضاء صنفی ہی ہیں ۔ سوم یہ کہ انسان کے لیے لباس کا صرف ذریعہ ستر پوشی اور وسیلہ زینت و حفاظت ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ فی الحقیقت اس معاملہ میں جس بھلائی تک انسان کو پہنچنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس کا لباس تقویٰ کا لباس ہو ، یعنی پوری طرح ساتر بھی ہو ، زینت میں بھی حد سے بڑھا ہوا یا آدمی کی حیثیت سے گرا ہوا نہ ہو ، فخر و غرور اور تکبر و ریا کی شان لیے ہوئے بھی نہ ہو ، اور پھر ان ذہنی امراض کی نمائندگی بھی نہ کرتا ہو جن کی بنا پر مرد زنانہ پن اختیار کرتے ہیں ، عورتیں مردانہ پن کی نمائش کرنےلگتی ہیں ، اور ایک قوم دوسری قوم کے مشابہہ بننے کی کوشش کرکے خود اپنی ذلت کا زندہ اشتہار بن جاتی ہے ۔ لباس کے معاملہ میں اس خیر مطلوب کو پہنچنا تو کسی طرح ان لوگوں کے بس میں ہے ہی نہیں جنہوں نے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لاکر اپنے آپ کو بالکل خدا کی رہنمائی کے حوالے نہیں کر دیا ہے ۔ جب وہ خدا کی رہنمائی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو شیاطین ان کے سر پرست بنا دیے جاتے ہیں ، پھر یہ شیاطین ان کو کسی نہ کسی غلطی میں مبتلا کرکے ہی چھوڑتے ہیں ۔ چہارم یہ کہ لباس کا معاملہ بھی اللہ کی ان بے شمار نشانیوں میں سے ایک ہے جو دنیا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں اور حقیقت تک پہنچنے میں انسان کی مدد کرتی ہیں ۔ بشرطیکہ انسان خود ان سے سبق لینا چاہے ۔ اُوپر جن حقائق کیطرف ہم نے اشارہ کیا ہے انہیں اگر تامُّل کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ لباس کس حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ایک اہم نشان ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک (رض) سے اور مستدرک حاکم تفسیر ابن جوزی اور واحدی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح پھرتا ہے اور خاص آدمی کا دل اس کے ٹھکانے کی جگہ ہے جس کو خدا بچاوے اسی کا دل شیطان کے غلبہ سے محفوظ رہتا ہے مسند سعید بن منصور میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ایک روز اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھ کو شیطان کا ٹھکانا انسان کے بہکانے کے وقت کا دکھلا دے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کا دل حضرت عیسیٰ کو دکھلایا کہ سانپ کے پھن کی صورت میں شیطان اس کے دل پر چھایا ہوا تھا لیکن جب وہ شخص کچھ اللہ کا ذکر کرتا تھا تو وہ سانپ کا پھن اس کے دل پر سے ہٹ جاتا تھا اس مضمون کی روایتیں چند طریق سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے آئی ہیں جس کے سبب سے بعض روایتوں کو بعض سے تقویت ہو کر یہ روایت معتبر ہوجاتی ہے جس طرح فرشتوں کو اور خود اپنے جسم کی روح کو بنی آدم نہیں دیکھ سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عام بنی آدم کی نگاہ میں ایسی وقت نہیں پیدا کی ہے کہ وہ شیطان یا اس کے شیاطین کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں اس لئے فرمایا کہ شیطان اور اس کے شیاطن بنی آدم کو ہر حال میں دیکھ لیتے ہیں اور بنی آدم شیطانی یا اس کے شیاطین کو اس کے اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے شیطان اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت بھی دی ہے کہ وہ اپنی اصلی صورت بدل کر کسی دوسری صورت میں آسکتے ہیں چناچہ سورة انفال میں صحیح روایت سے آوے گا کہ بدر کی لڑائی کے وقت خود شیطان بنی کناز کے سردار سراقہ بن مالک کنانی کی صورت میں اور اس کے شیاطین کنانیوں کی شکلوں میں مشرکین مکہ کے لشکر میں مشرکوں کے مددگار بن کر آئے اور لوگوں نے ان کو دیکھا ان سے بات چیت کی لیکن جب شیطان نے لشکر اسلام میں فرشتوں کو دیکھا تو اپنے شیاطین کو لے کر بھاگ گیا ہاں جس صورت میں آنے کی شیطان کو ممانعت ہے اس صورت میں آجانے کی اس کو طاقت نہیں ہے مثلا حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شباہت میں یہ ملعون نہیں آسکتا چناچہ صحیح بخاری ترمذی ‘ ابن ماجہ وغیرہ میں چند صحابہ سے اس بات میں صیح روایتیں ہیں یہ عام بنی آدم کا ذکر گذرا خاص بندے اللہ کے ایسے بھی ہیں جو شیطان اور شیاطین کو اصلی صورت میں دیکھ سکتے ہیں مثلا سورة الانبیاء میں آوے گا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) شیاطین سے ہر طرح کا کام لیا کرتے تھے یا مثلا صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شیطان نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز میں کچھ خلل ڈالنا چاہا تو آپ نے اس کو پکڑ کر مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دینے کا ارادہ کیا لیکن پھر اس خیال سے اس کو چھوڑ دیا کہ شیاطین پر اس طرح کی حکومت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصیت رکھتی تھی مطلب آیت کا وہی ہے جو مالک بن دینار نے بیان کیا ہے کہ جو دشمن نظر نہ آوے اور اپنی دشمنی پورے طور پر کام میں لاسکے وہ دشمن بڑا قوی دشمن ہے اس کی دشمنی کے عملوں سے بچنے کی کوشش ہر مسلمان پر لازم ہے۔ یہ مالک بن دینار اعمش وغیرہ کے طبقہ کے صدوق تابع ہیں۔ صحابہ کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اذان تکبیر کی آواز سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے اسی طرح معتبر سند سے ترمذی ‘ نسائی ‘ صحیح ابن حبان ‘ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں حارث اشعری (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سوائے ذکر الٰہی کے شیطان کی دشمنی سے اور کوئی چیز انسان کو نہیں بچاسکتی۔ اس لئے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شیطان آدمی کا بڑا قوی دشمن ہے کہ خود تو نظر نہیں آتا لیکن اس کے دشمنی کا اثر آدمی کو ہر وقت نظر آتا رہتا ہے اس ہر وقت کی دشمنی کے اثر سے بچانے والی چیز سوا ذکر الٰہی کے اور کچھ نہیں ہے مشرک لوگ خالص دل کے ذکر الٰہی سے بےبہرہ ہیں اس لئے اس دشمن کی دشمنی کے اثر سے ان کا بچنا تو درکنار بلکہ یہ دشمن رفیقوں کی طرح ان کے ساتھ لگا رہتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کے ساتھ جو دشمنی شیطان نے کی تھی اس کا قصہ یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ جتلایا ہے کہ جب تک یہ لوگ شرک سے بازنہ آویں گے اس قدیمی دشمن کی دشمنی کے اثر سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے ‘۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:27) لایفتننکم۔ مضارع منفی بانون ثقیلہ۔ فتن یفتن (ضرب) سے صیغہ واحد مذکر غائب۔ تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کر دے۔ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ ینزع۔ مضارع واحد مذکر غائب نزع مصدر (باب ضرب) اتروا دیا۔ بمعنی ماضی۔ لیریہما۔ مضارع منصوب ۔ اراء ۃ سے ۔ ہما ضمیر مفعول تثنیہ۔ تاکہ وہ ان دونوں کو دکھائے۔ ینزع عنھما سھما لیریہما سواتھما۔ حال ہے ابویکم سے۔ انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب شیطن کی طرف راجع ہے۔ قبیلہ۔ اس کا کنبہ۔ اس کی جماعت ۔ اس کا گروہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اور ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چو کنا رہنا چاہیے جو ہم کو دیکھے مگر ہم اس کو نہ دیکھ پائیں اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کے دیکھنا ممکن نہیں ہے مگر یہ استدلال کصحیح نہیں ؛ ہے کہ کیونکہ اگر کسی وقت ہمیں دیکھ رہے ہوں اور ہم انہیں نہ دیکھ رہے ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں ہے، یہ قضیتہ مطلقتہ لا دائمتہ لہذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کی رؤیت ممکن ہے احادیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنوں کو دیکھا ہے۔ ، ( فتح القدیر) اور زکو ٰۃ رمضان کی نگرانی کے قصہ میں مذکور ہے کہ حضرت ابور ہریرہ (رض) نے ایک جن کو پکڑ لیا اور صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس سرکش جن آگیا اگر میرے بھائی سلمان ( علیہ السلام) کی دعانہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر مسجد کے ستون سے باندھ دیتا اروصبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے نیز یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے نصیین کے جنوں کو دیکھا ہے اب رہا امام شافعی کا یہ فرمانا کہ جو شخص جنات کو رؤیت کا دعوی ٰ کرے اس کی شہادت مردود ہے تو اس سے امام شافعی کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کی اصلی شکل پر دیکھنے کا دعو یٰ کرے (قر طبی روح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لباس کا حکم دینے کے بعد بنی آدم کو شیطان سے بچنے کا حکم تاکہ جسمانی حفاظت کے ساتھ اس کا کردار بھی سلامت رہے۔ بنی نوع انسان کو لباس پہننے کا حکم دے کر لباس کو پرہیزگاری اور ہر قسم کی خیر قرار دیا ہے۔ آدمی شریعت کے مطابق لباس کا اہتمام کرکے ظاہری و باطنی گناہوں سے تبھی بچ سکتا ہے جب شیطان کو اپنا دشمن جان کر اس کی شرارت، سازش اور فتنہ انگیز یوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اس احساس کو بیدار کرنے اور انسان کی غیرت کو ابھارنے کے لیے یہ کہہ کر غیرت دلائی گئی ہے کہ تمہیں شیطان سے بچنے کا اس لیے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ جس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے برہنہ کرکے نکلوایا تھا یہ تمہارا ایسا دشمن ہے کہ وہ اور اس کے چیلے چانٹے تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ شیطان اور اس کی اولاد جناّت میں سے ہیں اور جناّت کو اللہ تعالیٰ نے ایسی آگ سے بنایا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی اور پھر شیطان کو یہ قوت بھی دی کہ وہ کئی روپ بدل کر انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا وہ اور اس کی اولاد تمہیں دیکھتی ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ شیطان اور اس کی دشمنی انسان کے لیے انتہائی خطرناک ہے آدمی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ساتھ آمنے سامنے کچھ نہ کچھ مقابلہ کرسکتا ہے لیکن ایسا دشمن جو ان دیکھے وار کرے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس آیت میں صرف شیطان کو آدمی کا دشمن قرار نہیں دیا گیا بلکہ شیطان کا ایک ایک روحانی اور جسمانی فرزند آدمیت کا دشمن ہے۔ یاد رہے قرآن مجید کی آخری سورة الناس میں جنات کے ساتھ بعض انسانوں کو بھی شیطان قرار دیا ہے۔ شیطان تو انسان کے دل میں صرف برائی کی طاقت اور خیال پیدا کرتا ہے جبکہ انسان کے روپ میں جو شیطان ہوتے ہیں وہ عورت کی شکل میں عورتوں کو اور مرد کی صورت میں مردوں کو الگ الگ اور مردوزن کے اختلاط سے بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی دعوت دیتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ تفریح کے نام پر ٹیوی، کیبل ڈراموں، آرٹ کونسلوں اور مختلف قسم کی سماجی تقریبات میں سامنے آتا ہے۔ سب سے پہلے شیطان انسان کے اندر جسمانی اور اخلاقی بےحیائی پیدا کرتا ہے۔ جب کسی انسان اور معاشرہ میں بےحیائی پیدا ہوجائے تو اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ اسے اپنے بڑوں کی روایت اور معاشرے کا کلچر قرار دیتے ہیں۔ جب انہیں مزید توجہ دلائی جائے تو وہ یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام ناپسند ہوتا تو لوگ اس طرح اپنی خوشیوں کا اظہار نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کوئی پتہ حرکت نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق کرتے ہیں۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انہیں بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور نہ بےحیائی کو اپنانے اور پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔ شیطان کے دوستوں کا اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ہوتا۔ جس کی بناء پر وہ ایسی باتیں کہتے اور حرکات کرتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو ہر قسم کی بےحیائی سے روکتا ہے اللہ تعالیٰ کے نام بےحیائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے جو ایمان سے تہی دامن شخص ہی کرسکتا ہے بےحیا لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بات کرتے ہیں جس کا علم و دانش اور شرم و حیا کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ (عَنْ عُقْبَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَافْعَلْ مَا شِءْتَ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ] ” حضرت عقبہ (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ لوگوں نے نبوت کے کلام سے جو چیز حاصل کی اس میں یہ ہے کہ جب تجھ میں شرم و حیاء نہ رہے تو پھر جو مرضی کرتا رہ۔ “ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کَانَتْ الْمَرْأَۃُ تَطُوف بالْبَیْتِ وَہِیَ عُرْیَانَۃٌ فَتَقُولُ مَنْ یُعِیرُنِی تِطْوَافًا تَجْعَلُہُ عَلٰی فَرْجِہَا وَتَقُولُ الْیَوْمَ یَبْدُو بَعْضُہُ أَوْ کُلُّہُ فَمَا بَدَا مِنْہُ فَلَا أُحِلُّہُ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ )[ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں عورت برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی اور کہتی کوئی ہے جو مجھے عاریتاً کپڑا دے اور میں اس سے شرم گاہ ڈھانپ لوں۔ پھر کہتی آج یا تو کچھ شرم گاہ کھلی رہے گی یا پوری کھلی رہے گی بہرحال جتنی بھی کھلی رہے گی اسے کسی پر حلال نہیں کروں گی۔ آیت ( خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) اسی بارے میں نازل ہوئی “ مسائل ١۔ انسان شیطان کو اس لیے بھی اپنادشمن سمجھے کیونکہ وہ ہمارے ماں باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کے ساتھ دشمنی کی تھی۔ ٢۔ شیطان اور اس کی اولاد ہم کو دیکھتے ہیں جبکہ ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ٣۔ شیطان کی کوشش ہے کہ لوگوں کو برہنہ کر دے۔ ٤۔ ایمان سے تہی دامن لوگ شیطان کے دوست ہوتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ برائی کی نسبت کرنا پرلے درجے کا گناہ اور گمراہی ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو ہر قسم کی بےحیائی سے منع کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اولیاء الشیطان کی نشانیاں : ١۔ اولیاء الشیطان اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ (الاعراف : ٢٨) ٢۔ اولیاء الشیطان گمراہی و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔ (البقرۃ : ٢٥٧) ٣۔ اولیاء الشیطان اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (النساء : ٣٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٢٧ تا ٣٠۔ یہ اللہ کی جانب سے انسان کے نام دوسری پکار ہے ۔ یہ غور وفکر کے اس وقفے میں ہے جو ان کے والدین حضرت آدم وحوا کے قصے کے دوران کیا گیا ہے ۔ اور خصوصا اس منظر پر بطور تبصرہ کیا گیا ہے جس میں شیطان نے اپنی گہری سازش کے ذریعے انہیں بےلباس کردیا کہ انہوں نے اس سازش کا شکار ہو کر اللہ کے صریح حکم کو بھلا دیا اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں ان سے لغزش سرزد ہوگئی ۔ نیز ہم نے جاہلیت عربیہ کے دور میں برہنہ طواف کے بارے میں جو کچھ کہا اس کی روشنی میں بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ نے کیوں اس انداز میں بنی نوع انسان کو پکارا کیونکہ وہ اس عریانی کو منجانب اللہ شریعت سمجھتے تھے ۔ پہلی ندا میں تو بنی آدم کو یہ یاد دلایا گیا کہ ان کے ابو الآباء کے ساتھ کیا پیش آیا اور کس طرح اللہ نے انکی شرمگاہوں کے چھپانے اور پھر ان کی زیب وزینت کا انتظام فرمایا ۔ رہی یہ دوسری پکار تو یہ بنی آدم کو عموما اور مشرکین مکہ کو خصوصا یہ یاد دہانی ہے جس سے اسلام سب سے پہلے خطاب کررہا تھا کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں اور اپنے لئے خود نظام زندگی اور رسم و رواج اور شریعت تصنیف نہ کریں اور اس طرح شیطان کے فتنے کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس نے تمہارے باپ کے خلاف یہی سازش کی تھی ‘ اس کو سازش کے ذریعے جنت سے نکلوایا تھا ‘ اور انہیں جنت کے لباس سے محروم کر کے ان کی شرمگاہوں کو ان کے سامنے ننگا کردیا تھا ۔ لہذا ہر وہ تحریک جو عریانی کی دعوت دیتی ہے وہ شیطانی تحریک ہے اور جاہلی تحریک ہے خواہ یہ زمانہ قدیم کی ہو یا دور جدید کی ۔ یہ تحریک تمہارے دشمن کی تحریک ہے ۔ شیطان تو تمہارا کھلا دشمن تھا اور وہ آدم اور اس کی اولاد کا دائمی دشمن ہے ۔ عریانی کی تحریک بھی انسان اور شیطان کی دشمنی کی ہمی گیر تحریک کا ایک پہلو ہے ۔ لہذا بنی آدم کو اپنے دشمن کو یہ موقع نہ دینا چاہئے کہ وہ اس معرکہ میں کامیاب ہو اور اس طرح انسانوں اور جنوں نے جہنم کو بھر دیئے جانے کا باعث بن سکے ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “۔ (٧ : ٢٧) ” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “ انسانوں کو زیادہ ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں یہ اطلاع بھی دیتے ہیں کہ شیطان اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے ‘ لہذا وہ اپنے پوشیدہ وسائل کے ذریعے تمہارے بدراہ کرنے پر زیادہ قدرت رکھتا ہے ۔ لہذا انہیں ڈرنا چاہئے اور شدید احتیاط کرنا چاہئے ۔ ہر وقت چوکنا رہنا اور حد درجہ محتاط رہنا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں آلے اور تمہیں پتہ ہی نہ ہو۔ آیت ” إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ “۔ (٧ : ٢٧) ” وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ “ ۔ اور اب اس فقرے کا آخری بند آتا ہے جو نہایت ہی موثر ہے اور اس طرف ہدایت کرتا ہے کہ تم احتیاط کرو کیونکہ تقدیر الہی کے نظام نے ان لوگوں کے ساتھ شیطان کو بطور دوست لگا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ‘ اور اس شخص کی بربادی کی کیا انتہا ہوگی جس کا دوست شیطان ہو ۔ ظاہر ہے کہ وہ ان پر قبضہ کرلے گا گمراہ کرے گا اور ان کی نکیل تھام کر جدھر چاہے گا ‘ لے جائے گا اور ان کا کوئی مددگار اور معاون نہ ہوگا ۔ اور نہ اللہ ان کا دوست ہوگا ۔ آیت ” إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (27) ” ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے ‘ شیطان ان کا یار اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کے بالمقابل حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اللہ ان کا ولی اور ناصر ہوتا ہے ۔ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے اور اس کے نتائج بھی خوفناک ہیں اور اس حقیقت کو یہاں ایک کلیہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ اس کے بعد اس کلیہ کی ایک مثال بھی پیش کردی جاتی ہے ۔ جو عملا مشرکین کی زندگیوں میں موجود ہوتی ہے ۔ چناچہ معلوم ہوجاتا ہے کہ شیطان کس طرح ولی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کی ولایت لوگوں کے تصورات اور عملی زندگی میں کس طرح کام کرتی ہے۔ نمونہ ملاحظہ ہو۔ آیت ” وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاء نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا “۔ (٧ : ٢٨) یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ “ مشرکین عرب اس کے قائل تھے اور اس پر عمل پیرا بھی تھے وہ برہنگی کی حالت میں طوائف کرکے بیت الحرام میں اس فحاشی کا ارتکاب کرتے تھے اور اس میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں لیکن وہ زعم یہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ اس طرح کہ اللہ نے ہمارے آباء کو اس کا حکم دیا تھا اس لئے وہ ایسا ہی کرتے چلے آئے تھے اور ہم کو یہ رسم وراثت میں ملی ہے اس لئے ہم بھی ایسا کرتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے ‘ لیکن وہ دور جدید کی جاہلیت کی طرح مغرور اور سرکش نہ تھے ۔ آج کے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا معاملات زندگی کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ‘ یہ تو عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے لئے جو قوانین ‘ جو اقتدار اور جو رسومات چاہیں وضع کرلیں۔ اس میں اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ پرانی جاہلیت کے پیروکار تو فقط یہ جرم کرتے تھے کہ اپنے لئے خود قوانین اور دستور حیات وضع کرتے اور پھر کہتے کہ یہ امر الہی ہے ۔ یہ غلطی زیادہ بھیانک تو ہو سکتی ہے اور زیادہ قابل ملامت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دین کے نام پر دھوکہ اور فریب ہے اور لوگوں کے جذبہ دین سے بھی غلط فائدہ اٹھانا ہے لیکن خود سری اور غرور کے اعتبار سے یہ ان لوگوں سے کم تھے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ لوگوں کے لئے قانون سازی کا حق صرف ان کو حاصل ہے اور وہی یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ لوگوں کے لئے کیا مفید ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ یہ تم اللہ پر خالص افترا باندھتے ہو اور یہ کہ اللہ کی شریعت اور اس کا قانونی نظام اپنے مزاج کے اعتبار سے فحاشی کو پسند نہیں کرتا ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کس طرح تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ تم فحاشی وعریانی کا ارتکاب کرو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی آدم کو تنبیہ کہ شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے : (یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ ) (اے بنی آدم ! ہرگز شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے) (کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ ) (جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا) یعنی ان سے ایسا کام کروا دیا جو ان کے جنت سے نکالے جانے کا سبب بن گیا۔ (یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِھِمَا) (وہ اتروا رہا تھا ان کا لباس تاکہ انہیں دکھا دے ان کی شرم کی جگہیں) اس میں بنی آدم (اولاد آدم) کو نصیحت فرمائی ہے اور وہ ہوشیار رہیں شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ شیاطین کی حرکتیں : پھر فرمایا (یَرٰیکُمْ ھُوَ وَ قَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ ) بیشک وہ اور اس کی جماعت تمہیں ایسے طور سے دیکھتی ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ شیاطین عموماً انسانوں کو نظر نہیں آتے وسوسے ڈالتے ہیں اور طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں جو دشمن نظر نہ آئے اس سے بچاؤ مشکل ہوتا ہے اس لیے تنبیہ فرمائی کہ تم انہیں نہیں دیکھتے وہ تمہیں دیکھتے ہیں لہٰذا ان سے ہوشیار رہو۔ قال صاحب الروح ج ٨ ص ١٠٥ لان العدو اذا اتی من حیث لا یُرٰی کان اشد و اخوف۔ شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور گناہ کراتا ہے اور کفر و شرک پر ڈالتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حرکتیں ہیں جن کا ذکر احادیث شریف میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اولاد آدم میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تولد کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور وہ شیطان کے ہاتھ لگانے سے چیخ اٹھتا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) کہ وہ دونوں اس سے محفوظ رہے۔ (رواہ البخاری ص ٨٨ ج ١) حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قضائے حاجت کی جگہیں (شیاطین کے) حاضر ہونے کی جگہیں ہیں۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو (اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ساتھ) یوں دعا مانگے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الْخُبُثِ وَ الْخَبَآءِثِ (میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں شیاطین سے ان کے مردوں سے اور عورتوں سے) ۔ (رواہ ابو داؤد ج ١ ص ٢) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی انسان بیت الخلاء میں داخل ہو تو اس کی شرمگاہ اور شیاطین کی آنکھوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ (داخل ہونے سے پہلے) بِسْمِ اللّٰہِ کہہ لے۔ (رواہ الترمذی و قال ہذا حدیث غریب و اسنادہ لیس بقوی) حضرت ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ وضوء کا ایک شیطان ہے جسے و لہان کہا جاتا ہے اس لیے تم پانی کے (متعلق) وسوسہ ڈالنے والے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣٤) حضرت ابوہریرہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جب کوئی شخص سونے لگتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ لگاتے ہوئے لوری دیتا ہے کہ ابھی رات لمبی ہے سو جا۔ پس اگر وہ بیدار ہوا اور بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس نے وضو کیا تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اس کے بعد جب نماز پڑھ لیتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ خوش طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کی طبیعت گندی ہوتی ہے اور اس پر سستی چھائی ہوتی ہے۔ (رواہ البخاری ج ١ ص ٥٣) حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لیے نہ اٹھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ شخص ایسا ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٢٣) شیطان کس پر قابو پاتا ہے : پھر فرمایا (اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (بےشک ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے) اگر ایمان بالکل نہیں تو دوستی پکی ہے اور اگر ایمان ہے لیکن ساتھ ساتھ عصیان بھی ہے تو اسی حد تک شیطان کی دوستی بھی ہے رہے کامل مومن تو ان سے شیطان کی دوستی نہیں ہے ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔ سورة نحل میں فرمایا (اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ) ( یقیناً ان لوگوں پر اس کا قابو نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس انہیں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25: یہاں اولاد آدم کو شیطان کے فریب سے خبردار کیا گیا کہ یہ وہی تمہارا پرانا دشمن ہے جس نے تمہارے ماں باپ (حواء و آدم) کو فریب دے کر جنت سے نکالا تھا تم اس کے فریب میں نہ آجانا۔ خطاب بلا واسطہ مشرکین عرب سے ہے جو برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے اور اس فعل شنیع کو عبادت سمجھتے تھے یہ سب شیطان کے اغواء سے تھا۔ حاصل یہ کہ یہ بےحیائی تم سے شیطان کرا رہا ہے۔ شیطان کے اغواء سے تم نے بحالط طواف لباس پہننا حرام کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے۔ “ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ ھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ” مشرکین کی عورتیں بھی برہنہ ہو کر طواف کرتیں اور یہ شعر گائیں۔ الیوم یبدو بعضه او کله فما بدا منه فلا احله احلال کے معنی ہیں لائق عذاب دانستن (صراح) ۔ یعنی آج شرمگاہ کا ننگا ہوجانا موجب عذاب نہیں۔ مولانا عارف رومی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا جو خلاف شریعت افعال کو عبادت اور قرب الٰہی کا ذریعہ جانتے ہیں۔ باں نگیری ابلہاں را تو ولی شرمنہ گو سالہ را چوں سامری “ لِیُرِيَھُمَا ” میں لام عاقبت کا ہے۔ 26“ وَ قَبِیْلَهٗ ” ای ذریتہ او جنودہ من الشیاطین (مدارک ج 2 ص 38) ۔ یعنی ابلیس اور اس کی ذریت انسان کو دیکھ سکتی ہے مگر انسان ان کو نہیں دیکھ سکتا اس لیے وہ محفوظ گھات سے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے حملہ کرتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ گمراہ کرنے والا صرف ایک ابلیس ہی نہیں بلکہ اس کی بیشمار ذریت اس کام میں مصروف ہے۔ “ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ اَوْلِیَاءَ لِلَّذِيْنَ لَايُؤْمِنُوْنَ ” یہ اس بات پر قرینہ ہے کہ سورة اعراف کے شروع میں “ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖ اَوْلِیَاءَ ” میں “ اَوْلِیَاءَ ” سے شیاطین مراد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک شیطان (ابلیس) ہر جگہ حاضر و ناظر ہو کر لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے تو کیا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے۔ (معاذ اللہ من ہذا التشبیہ قال الزجاج سلطنا ھم علیھم یزیدون فی عیھم فیتابعونھم علی ذلک فصاروا اولیاءھم (بحر ج 4 ص 285) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

27 اے اولادِ آدم (علیہ السلام) دیکھو شیطان تم کو اسی طرح کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردے اور تم کو بہکانہ دے جس طرح اس نے تمہاری ماں اور باپ کو فتنہ میں مبتلا کردیا تھا اور ان دونوں کو جنت سے اس حال سے نکلوادیا تھا کہ ان دونوں کے جسم سے ان کے کپڑے بھی اتروادیئے تاکہ ان کی شرمگاہیں اور شرم کے مقامات ان پر ظاہرکردے اور ایک کو دوسرے کے سامنے آشکارا کردے یعنی ایک کے روبرو دوسرے کو برہنہ کردے۔ بلاشبہ وہ شیطان اور اس کی قوم اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے بیشک ہم نے شیاطین کو انہی لوگوں کا رفیق بنادیا ہے اور انہی کا دوست مقرر کررکھا ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی شیطان عام طور سے تم کو نہیں دکھائی دیتا مگر وہ اور اس کی ذریت تم کو دیکھتی ہے پس ایسے خطرناک دشمن سے بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ شیطان کو انہی لوگوں کا رفیق بنادیا جاتا ہے جو شیطانی رفاقت کے خواہش مند ہوتے ہیں شیطان کی رفاقت یہی ہے کہ اس کو ان پر مسلط کردیا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔