Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 71

سورة الأعراف

قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ رِجۡسٌ وَّ غَضَبٌ ؕ اَتُجَادِلُوۡنَنِیۡ فِیۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۷۱﴾

[Hud] said, "Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait."

انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرا لیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی ۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ ... (Hud) said: Hud, peace be upon him, said to them, ... قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ... "Rijs and wrath have already fallen on you from your Lord." you deserve `Rijs' from your Lord because of what you said. Ibn Abbas said that, `Rijs', means scorn and anger. ... أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَابَأوكُم ... "Dispute you with me over names which you have named -- you and your fathers." Hud said, do you dispute with me over these idols that you and your fathers made gods, even though they do not bring harm or benefit; did Allah give you authority or proof allowing you to worship them! Hud further said, ... مَّا نَزَّلَ اللّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُواْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ "with no authority from Allah. Then wait, I am with you among those who wait." this is a threat and warning from the Messenger to his people. The End of `Ad So Allah said; فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِأيَاتِنَا وَمَا كَانُواْ مُوْمِنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 ' رِجْس، ُ ' کے معنی پلیدی کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ مقلوب (بدلا ہوا) ہے رِجْز، ُ سے جس کے معنی عذاب کے ہیں۔ یا پھر رِجْسُ ، ُ یہاں نارضگی اور غضب کے معنی میں ہے (ابن کثیر) 71۔ 2 اس سے مراد وہ نام ہیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کے رکھے ہوئے تھے مثلًا صدا، صمود، ھبا۔ وغیرہ جیسے قوم نوح کے پانچ بت تھے جن کے نام اللہ نے قرآن میں ذکر کئے ہیں جیسے مشرکین عرب کے بتوں کے نام تھے۔ لا ت، عزَّیٰ ، مَنَات ھُبَل وغیرہ۔ یا جیسے آج کل کے مشرکانہ عقائد واعمال میں ملوث لوگوں نے نام رکھے ہوئے ہیں۔ مثلا داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا فرید شکر گنج، مشکل کشا وغیرہ جن کے معبود یا مشکل کشا وگنج بخش وغیرہ ہونے کی کوئی دلیل ان لوگوں کے پاس نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٥] کسی کو اختیارات تفویض ہونے کی کوئی علمی سند نہیں :۔ قوم کے سرداروں کو ہود نے جواب دیا کہ جب تمہاری سرکشی اور گستاخانہ بےحیائی اس حد تک پہنچ چکی ہے تو بس سمجھ لو کہ اب تم پر اللہ کا عذاب آنے ہی والا ہے۔ رہی تمہارے معبودوں کی بات جن میں سے تم کسی کو بارش کا دیوتا کہتے ہو کسی کو ہواؤں کا، کسی کو فصلوں کا کسی کو صحت کا اور کسی کو مال و دولت کا، تو یہ نام بھی تم نے یا تمہارے باپ دادوں ہی نے خود تجویز کیے تھے کسی آسمانی کتاب یا صحیفے میں یہ قطعاً مذکور نہیں کہ اللہ نے فلاں قسم کے اختیارات فلاں ہستی کو سونپ دیئے ہیں اور فلاں چیز کے اختیارات فلاں ہستی کو۔ ہمارے ہاں بھی ایسے نام بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً فلاں بزرگ غوث (فریاد رس) ہے فلاں ولی داتا ہے فلاں گنج بخش ہے فلاں مشکل کشا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دور کے مشرک ایسی صفات کو دیوتاؤں، دیویوں، فرشتوں یا بعض ارواح کی طرف منسوب کرتے تھے اور ہمارے زمانہ میں یہ صفات بزرگوں کی طرف منسوب کردی جاتی ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ ایسی باتوں کے لیے شریعت الٰہی میں کوئی سند نہیں ہے کہ میرا فلاں ولی یا بزرگ مشکل کشا ہوسکتا ہے اور میں نے اسے ایسے اختیارات دے رکھے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ : کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے، یہ صرف نام ہی نام ہیں، ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں۔ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ: یعنی اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کے اس قسم کے اختیارات فلاں کی طرف منتقل کردیے ہیں اور فلاں کو مشکل کشا، فلاں کو گنج بخش، فلاں کو غوث، فلاں کو دستگیر اور فلاں کو داتا بنایا ہے، یہ اور اس قسم کے القاب لوگوں نے گھڑ کر ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیے ہیں جو شرک کا موجب بنے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَنْجَيْنٰہُ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝ ٧٢ ۧ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا دابِرُ ( دبر) فإدبار مصدر مجعول ظرفا، نحو : مقدم الحاجّ ، وخفوق النجم، ومن قرأ : (أدبار) فجمع . ويشتقّ منه تارة باعتبار دبر الفاعل، وتارة باعتبار دبر المفعول، فمن الأوّل قولهم : دَبَرَ فلانٌ ، وأمس الدابر، وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ [ المدثر/ 33] ، وباعتبار المفعول قولهم : دَبَرَ السهم الهدف : سقط خلفه، ودَبَرَ فلان القوم : صار خلفهم، قال تعالی: أَنَّ دابِرَ هؤُلاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ [ الحجر/ 66] ، وقال تعالی: فَقُطِعَ دابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا [ الأنعام/ 45] ، والدابر يقال للمتأخر، وللتابع، إمّا باعتبار المکان، أو باعتبار الزمان، أو باعتبار المرتبة، وأَدبرَ : أعرض وولّى دبره، اور الدبر سے مشتقات ( جیسے ( دبروادبر دابر ) کبھی باعتبار فاعل ( یعنی فعل لازم ) کے استعمال ہوتے ہیں ۔ جیسے :۔ دبر فلان ( فلاں نے بیٹھ پھیری ) امس الدابر ( کل گزشتہ ) قرآن میں ہے :۔ وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ [ المدثر/ 33] اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے ۔ اور کبھی اعتبار مفعول ( یعنی فعل متعدی ، کے جیسے دبر السھم الھدف ) تیرنشانہ سے دو سے گر پڑا) دبر فلان القوم ( یعنی وہ قوم سے پیچھے رہ گیا قرآن میں ہے :۔ فَقُطِعَ دابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا [ الأنعام/ 45] غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی ۔ أَنَّ دابِرَ هؤُلاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ [ الحجر/ 66] کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جائیگی ۔ اور دابر کے معنی متاخر یا تابع کے آتے ہیں خواہ وہ تاخر باعتبار مکان یاز مان کے ہوا اور خواہ باعتبار مرتبہ کے ۔ ادبر ۔ اعراض کرنا ۔ پشت پھیر نا الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧١ (قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ ط) تمہاری اس ہٹ دھرمی کے باعث اللہ کا عذاب اور اس کا قہر و غضب تم پر مسلط ہوچکا ہے۔ (اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْٓ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ ) یہ جو تم نے مختلف ناموں کے بت بنا رکھے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہو ‘ ان کی حقیقت کچھ نہیں ‘ محض چند فرضی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے بغیر کسی سند کے رکھے ہوئے ہیں۔ (مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍط فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ) ۔ یعنی دیکھیں کب تک اللہ تمہیں مہلت دیتا ہے اور کب اللہ کی طرف سے تم پر عذاب استیصال آتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

54. They looked to gods of rain and gods of wind, wealth, and health. But none of these enjoys godhead. There are many instances in our own time of people whose beliefs are no different from the ones mentioned above. There are people who are wont to call someone Mushkil Kusha, 'the remover of distress' or to call someone else Ganjbakhsh, 'the bestower of treasures'. But God's creatures cannot remove the distresses of other creatures like themselves, nor do they have any treasure that they might give away to others. Their titles are merely empty words, bereft of the qualities attributed to them. All argumentation aimed at justifying those titles amounts to a lot of sound and fury about nothing. 55. The Makkans could produce no sanction from Allah - Whom they themselves acknowledged as the Supreme God - that He had transferred to their false gods any of His power or authority. None has any authorization from God to remove distress from, or bestow treasures on, others. It is the Makkans themselves who arbitrarily chose to confer parts of God's power on those beings.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :54 یعنی تم کسی کو بارش کا اور کسی کو ہوا کا اور کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی فی الحقیقت کسی چیز کا رب نہیں ہے ۔ اس کی مثالیں موجودہ ازمنہ میں بھی ہمیں ملتی ہیں ۔ کسی انسان کو لوگ مشکل کُشا کہتے ہیں ، حالانکہ مشکل کشائی کی کوئی طاقت اس کے پاس نہیں ہے ۔ کسی کو گنج بخش کے نام سے پکارتے ہیں ، حالانکہ اس کے پاس کوئی گنج نہیں کہ کسی کو بخشے ۔ کسی کے لیے داتا کا لفظ بولتے ہیں ، حالانکہ وہ کسی شے کا مالک نہیں کہ داتا بن سکے ۔ کسی کو غریب نواز کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے حالانکہ وہ غریب اس اقتدار میں کوئی حصہ نہیں رکھتا جس کی بنا پر وہ کسی غریب کو نواز سکے ۔ کسی کو غوث ( فریاد رس ) کہا جاتا ہے ، حالانکہ وہ کوئی زور نہیں رکھتا کہ کسی کی فریاد کو پہنچ سکے ۔ پس در حقیقت ایسے سب نام محض نام ہی ہیں جن کے پیچھے کوئی مسمّٰی نہیں ہے ۔ جو ان کے لیے جھگڑتا ہے وہ دراصل چند ناموں کے لیے جھگڑتا ہے نہ کہ کسی حقیقت کے لیے ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :55 یعنی اللہ جس کو تم خود بھی رب اکبر کہتے ہو ، اس نے کوئی سند تمہارے ان بناوٹی خداؤں کی الٰہیت و ربوبیت کے حق میں عطا نہیں کی ہے ۔ اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں کی طرف اپنی خدائی کا اتنا حِصّہ منتقل کر دیا ہے ۔ کوئی پروانہ اس نے کسی کو مشکل کشائی یا گنج بخشی کا نہیں دیا ۔ تم نے آپ ہی اپنے وہم گمان سے اس کی خدا ئی کا جتنا حصّہ جس کو چاہا ہے دے ڈالا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:71) وقع۔ واجب ہوگیا۔ لازم ہوگیا۔ (باب فتح) وقوع۔ مصدر وقع الشیٔ من یدی۔ چیز کا ہاتھ سے گرنا۔ وقع القول علیہم۔ قول کا ان پر واجب ہونا۔ وقع الحق۔ حق کا ثابت ہونا۔ وقع الامر۔ کسی امر کا واقع ہونا۔ وقوع پذیر ہونا۔ رجس۔ عقوبت۔ عذاب۔ ارجاس۔ جمع ۔ ناپاک ۔ پلید ۔ گندہ۔ اتجادلوننی۔ الف استفہامیہ۔ تجادلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) سے۔ کیا تم مجھ سے جھگڑا کرتے ہو۔ ما نزل اللہ۔ میں ما نافیہ ہے۔ (نہیں اتاری اللہ نے ان ناموں کے لئے کوئی سند)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 کسی بارش کا کسی کو ہوا کا کسی کو پانی کا کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو حلان کہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے۔ یہ صرف نام ہیں ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (وحید ی وغیرہ ) 2 اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کی اس قسم کے اختیارات فلاں کو مشکل کشا فلاں کو گنچ بخش، فلاں کو غوث، فلاں دستگیر اور فلاں کو داتا صاحب بنادیا، یہ اور اس قسم کے دوسرے القا لوگوں نے اختراع کر کے ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیئے ہیں اور شرک کا موجب بنتے ہیں

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغار القرآن آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔ قدوقع (یقینا واقع ہوچکا ہے) ۔ رجس (گندگی۔ عذاب) ۔ اتجاد لوننی (کیا تم ہم سے جھگڑتے ہو) ۔ اسمآء (اسم) ۔ نام) ۔ سمیتموا (تم نے نام رکھ لئے ہیں) ۔ انتظروا (تم انتظار کرو) ۔ قطعنا (ہم نے کاٹ ڈالا) ۔ دابر (دبر) ۔ جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر (71 تا 72 ) ۔ ” وہ قوم جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ” عاداول “ کہلاتی ہے۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے تھی۔ ان کا اقتدار عمان سے لے کر حضر موت اور یمن تک وسیع تھا۔ ان کی زمینیں بڑی سر سبز و شاداب تھیں، وہ لوگ ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال تھے جسمانی صحت اور طویل العمری میں بھی ان کا کوئی مقابل نہ تھا اسی لئے غرور تکبر اور کفر و شرک میں بھی بڑے شہ زور تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے مختلف طریقوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ فرمایا دیکھو یہ اللہ کی نعمتیں جو چاروں طرف سے تمہاری طرف آرہی ہیں یہ اس للہ کا کرم ہے جس نے تمہیں زندگی اور وجود بخشا ہے اسی ذات کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر طرح کے کفر و شرک سے بچتے رہو۔ مگر وہ اپنی بد مستیوں میں ہر چیز کو بھول چکے تھے اور اسی غرور وتکبر اور سر کشی میں اللہ کے عذاب کو دعوت دے بیٹھے اور کہنے لگے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اے ہود اگر تو اور تیرا پروردگار سچا ہے تو ہم پر اس عذاب کو لے آجس سے تو ہمیں ہر روز ڈراتا ہے۔ جب کوئی قوم سر کشی کی اس منزل تک آجاتی ہے تو اللہ اپنے عذاب کو بھیج کر رہتا ہے۔ چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اعلان کردیا کہ اب تمہارے اوپر وہ عذاب آنے والا ہے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو تم اس کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔ چنانچہ شدید آندھی کا طوفان آیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے تو اللہ کی رحمت سے بچ گئے لیکن کفارو مشرکین سب اس طرح ختم ہوگئے کہ گویا ان کی جڑہی کٹ کر رہ گئی ہو۔ اس کے بعد ان کے وہ بڑے بڑے محلات بلڈنگیں ان کی شان و شوکت سر سبز و شاداب باغات اس طرح تباہ و برباد ہوگئے کہ آج دنیا میں ان کے کھنڈرات بھی باقی نہیں ہیں۔ وہ جھوٹے معبود جن کے انہوں نے اپنی حاجت روائی کے لئے مختلف نام رکھے ہوئے تھے ان کے کام نہ آسکے۔ جن کو وہ اپنا رازق، خالق اور مشکل کشا مانتے تھے ان کی کوئی مشکل کشائی نہ کرسکے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِیْ فِیْ أَسْمَاء سَمَّیْْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَآؤکُم مَّا نَزَّلَ اللّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِیْنَ (71) اس نے کہا ” تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا ۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں ‘ جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اس انجام بد سے خبردار کردیا جس کی اطلاع انہیں ان کے رب نے دی تھی اور جس کا فیصلہ ان کے بارے میں ہوچکا تھا اور اب وہ ٹلنے والا نہ تھا ۔ یہ اللہ کا غضب تھا اور اللہ کا غضب جس پر آجائے وہ کبھی ٹلتا نہیں ۔ پھر کہا کہ تم تو جلدی عذاب چاہتے ہو لیکن اپنے معتقدات پر غور نہیں کرتے کہ وہ کس قدر بودے تصورات ہیں لیکن عذاب جلدی چاہتے ہو۔ ” کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باب دادا نے رکھ چھوڑے ہیں جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ “ تم نے اللہ کے ساتھ جو شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں وہ تو محض نام ہی نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور یہ نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے از خود گھڑ لیے ہیں ۔ محض اپنی طرف سے ‘ اللہ کی طرف سے اس پر تو کوئی سند نازل نہیں ہوئی ۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی اور نہ تمہارے پاس کوئی دلیل وبرہان ہے ۔ قرآن کریم اس ضمن میں بار بار یہ کہتا ہے کہ ” جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے “ ۔ یہ تعبیر ایک عظیم حقیقت کا اظہار کر رہی ہے ۔ یعنی ہر وہ بات ‘ ہر وہ قانون ‘ ہر وہ رواج غرض ہر وہ فکر وتصور جس کی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی برہان نہ ہو ‘ وہ بےحقیقت ہلکا ‘ بےاثر ‘ زائل ہونے والا اور کالعدم ہے اور انسانی فطرت ایسی چیز کو ہلکا تصور کرتی ہے ۔ لیکن جب کوئی بات منجانب اللہ ہوتی ہے تو وہ بھاری ‘ نافذ العمل اور گہری ہوتی ہے اس لئے کہ اس کی پشت پر اللہ کی دلیل ہوتی ہے ۔ دنیا میں ہم نہایت ہی زرق وبرق الفاظ سنتے ہیں ‘ بیشمار مذاہب ونظریات پڑھتے ہیں ‘ بیشمار کھوٹے اور بےحقیقت تصورات دیکھتے ہیں اور بیشمار رسومات اور عادات کو دیکھتے ہیں ، جنہیں دنیا والوں کے لئے مزید مستحکم کیا جاتا ہے لیکن جب اللہ کا کلمہ آتا ہے تو یہ تمام چیزیں برف کی طرح پگھل جاتی ہیں اس لئے کہ اللہ کے کلمے کے اندر ایسی قوت و حرارت ہوتی ہے کہ اس کی تپش تو یہ چیزیں برداشت ہی نہیں کرسکتیں ۔ یہ وجہ ہے کہ حضرت ہود نہایت ہی اہتمام ‘ وثوق ‘ اطمینان اور چیلنج کے انداز میں جواب دیتے ہیں ۔ ” اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ جو لوگ بھی اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ‘ ان کے اندر یہ اطمینان اور قوت ہوتی ہے ‘ انہیں یقین ہوتا ہے کہ باطل کمزور ‘ ہلکا اور بےوزن ہوتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آئے ‘ اگرچہ بہت عظیم نظر آئے ۔ داعی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ار اس کو تائید ایزدی حاصل ہے ۔ چناچہ مزید انتظار کئے بغیر کہا جاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

79: حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کا غضب اور اس کا عذاب تم پر مقدر ہوچکا ہے وہ اپنے وقت پر آ کر رہیگا۔ مگر تمہاری کم عقلی کی انتہا ہے کہ تم میرے ساتھ ایسے جھوٹے معبودوں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کے معبود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

71 حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تمہاری سرکشی کا یہ حال ہے تو بس اب تم پر تمہارے رب کی جانب سے عذاب اور غضب مقرر ہوچکا ہے اور واقع ہونا چاہتا ہے یعنی عذاب اور غضب کو آیا ہی سمجھو کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے اور بڑوں نے خود ہی گڑھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کوئی سند اور دلیل نہیں نازل فرمائی۔ بلاوجہ ایسی بات پر بحث کرتے ہو جس پر نہ کوئی دلیل عقلی تمہارے پاس ہے نہ نقلی۔ لہٰذا اب بحث مباحثہ بند کرو اور جس عذاب کے طالب ہو اس کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور میں بھی انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔