54. They looked to gods of rain and gods of wind, wealth, and health. But none of these enjoys godhead. There are many instances in our own time of people whose beliefs are no different from the ones mentioned above. There are people who are wont to call someone Mushkil Kusha, 'the remover of distress' or to call someone else Ganjbakhsh, 'the bestower of treasures'. But God's creatures cannot remove the distresses of other creatures like themselves, nor do they have any treasure that they might give away to others. Their titles are merely empty words, bereft of the qualities attributed to them. All argumentation aimed at justifying those titles amounts to a lot of sound and fury about nothing.
55. The Makkans could produce no sanction from Allah - Whom they themselves acknowledged as the Supreme God - that He had transferred to their false gods any of His power or authority. None has any authorization from God to remove distress from, or bestow treasures on, others. It is the Makkans themselves who arbitrarily chose to confer parts of God's power on those beings.
سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :54
یعنی تم کسی کو بارش کا اور کسی کو ہوا کا اور کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی فی الحقیقت کسی چیز کا رب نہیں ہے ۔ اس کی مثالیں موجودہ ازمنہ میں بھی ہمیں ملتی ہیں ۔ کسی انسان کو لوگ مشکل کُشا کہتے ہیں ، حالانکہ مشکل کشائی کی کوئی طاقت اس کے پاس نہیں ہے ۔ کسی کو گنج بخش کے نام سے پکارتے ہیں ، حالانکہ اس کے پاس کوئی گنج نہیں کہ کسی کو بخشے ۔ کسی کے لیے داتا کا لفظ بولتے ہیں ، حالانکہ وہ کسی شے کا مالک نہیں کہ داتا بن سکے ۔ کسی کو غریب نواز کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے حالانکہ وہ غریب اس اقتدار میں کوئی حصہ نہیں رکھتا جس کی بنا پر وہ کسی غریب کو نواز سکے ۔ کسی کو غوث ( فریاد رس ) کہا جاتا ہے ، حالانکہ وہ کوئی زور نہیں رکھتا کہ کسی کی فریاد کو پہنچ سکے ۔ پس در حقیقت ایسے سب نام محض نام ہی ہیں جن کے پیچھے کوئی مسمّٰی نہیں ہے ۔ جو ان کے لیے جھگڑتا ہے وہ دراصل چند ناموں کے لیے جھگڑتا ہے نہ کہ کسی حقیقت کے لیے ۔
سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :55
یعنی اللہ جس کو تم خود بھی رب اکبر کہتے ہو ، اس نے کوئی سند تمہارے ان بناوٹی خداؤں کی الٰہیت و ربوبیت کے حق میں عطا نہیں کی ہے ۔ اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں کی طرف اپنی خدائی کا اتنا حِصّہ منتقل کر دیا ہے ۔ کوئی پروانہ اس نے کسی کو مشکل کشائی یا گنج بخشی کا نہیں دیا ۔ تم نے آپ ہی اپنے وہم گمان سے اس کی خدا ئی کا جتنا حصّہ جس کو چاہا ہے دے ڈالا ہے ۔