Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 82

سورة الأعراف

وَ مَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرۡیَتِکُمۡ ۚ اِنَّہُمۡ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿۸۲﴾

But the answer of his people was only that they said, "Evict them from your city! Indeed, they are men who keep themselves pure."

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کےکہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells; وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ... And the answer of his people was only that they said: "Drive them out of your town, these are indeed men who want to be pure (from sins)!" So they answered Prophet Lut by trying to expel and banish him from their village, along with those who believed with him. Allah indeed removed Prophet Lut safely from among them, and He destroyed them in their land in disgrace and humiliation. They said (about Lut and the believers): ... إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ "These are indeed men who want to be pure (from sins)!" Qatadah commented, "They shamed them (Lut and the believers) with what is not a shame at all." Mujahid commented, "(Lut's people said about Lut and the believers,) They are a people who want to be pure from men's anuses and women's anuses!" Similar was narrated from Ibn Abbas.

قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس نکال دینے پر تل گئے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بجا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کر دیا ، ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں دور ہیں پھر ان کا ہم میں کیا کام ؟ مجاہد اور ابن عباس کا یہی قول ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

82۔ 1 یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی میں ہی نہ رہیں اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٧] قوم کے اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے اور اس بدفعلی سے اجتناب کرنے والے کم ہی لوگ تھے یہ قوم جب اپنی اس بدفعلی کا کوئی عقلی جواز پیش نہ کرسکی تو الزامی جواب پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو ہوئے گندے لوگ اور لوط اور اس کے پیروکار پاکباز رہنا چاہتے ہیں تو ان کا ہم گندوں میں کیا کام ؟ لہذا انہیں اپنی بستی سے نکال دینا چاہیے تاکہ یہ روز روز کی تکرار اور جھگڑا ختم ہوجائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ : یعنی ان پاک باز لوگوں کا ہم گناہ گار و ناپاک لوگوں میں کیا کام ؟ یہ بات انھوں نے طنز اور تمسخر سے کہی اور ان کا جرم کیا بتایا کہ وہ گندگی میں آلودہ ہونے کا جرم کیوں نہیں کرتے، انھیں اپنی بستی سے نکال دو ۔ ” يَّتَطَهَّرُوْنَ “ باب تفعل سے ہے جس کا ایک معنی تکلف بھی ہے، اس صورت میں ان کا کہنا طنز کے ساتھ بہتان بھی ہے کہ یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ پاک باز نہیں ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (82) Lut (علیہ السلام) in response to his word of advice has been put in a way that it shows that his people could not find a suitable rejoinder to what he had said. But, they were still adamant and started saying among themselves that these people seem to be self-righteous claiming a lot of purity for themselves. The treatment they deserved was that they should be thrown out of their town.

تیسری آیت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی نصیحت کے جواب میں ان کی قوم کا جواب اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کوئی معقول جواب تو بن نہیں سکا ضد میں آکر آپس میں یہ کہنے لگے کہ یہ لوگ بڑی پاکی اور صفائی کے مدعی ہیں ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ۝ ٠ ۡ ۖ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۝ ٨٣ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ غبر الْغَابِرُ : الماکث بعد مضيّ ما هو معه . قال :إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الشعراء/ 171] ، يعني : فيمن طال أعمارهم، وقیل : فيمن بقي ولم يسر مع لوط . وقیل : فيمن بقي بعد في العذاب، وفي آخر : إِلَّا امْرَأَتَكَ كانَتْ مِنَ الْغابِرِينَ [ العنکبوت/ 33] ، وفي آخر : قَدَّرْنا إِنَّها لَمِنَ الْغابِرِينَ [ الحجر/ 60] ( غ ب ر ) الغابر اسے کہتے ہیں جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جائے چناچہ آیت کریمہ :إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الشعراء/ 171] مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی ۔ کی تفسیر میں بعض نے اس سے پیغمبر کے مخالفین لوگ مراد لئے ہیں جو ( سدوم میں ) پیچھے رہ گئے تھے اور لوط (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں گئے تھے بعض نے عذاب الہی میں گرفتار ہونیوالے لوگ مراد لئے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایک مقام پر :إِلَّا امْرَأَتَكَ كانَتْ مِنَ الْغابِرِينَ [ العنکبوت/ 33] بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی ۔ اور دوسرے مقام پر : قَدَّرْنا إِنَّها لَمِنَ الْغابِرِينَ [ الحجر/ 60] ، اس کے لئے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٢) تو ان کی قوم کو اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہ بن پڑا کہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) اور ان کی دونوں صاحبزادیاں، زعوراء اور یثاء کو اپنے شہر سے نکال دو ، یہ لوگ مردوں اور عورتوں کے پچھلے راستہ سے بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢ (وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ الاّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ ) ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل ‘ کوئی عذر ‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہوگئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی ‘ اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

65. It is evident from the present verse that the people of Lot Were not only shameless and corrupt, but were also a people who had sunk in moral depravity to such a degree that even the presence of a few righteous persons had become intolerable to them. Their moral degradation left them with no patience for anyone who sought to bring about any moral reform. Even the slightest element of purity found in their society was too much for them, and they simply wished to have their society purged of it. When these people reached such a low point of wickedness and hostility to good, God decreed that they be wiped out altogether. When the collective life of a people becomes totally bereft of goodness and purity, it forfeits the right to exist on earth. Their example is like that of a basket of fruit. As long as some fruit remains firm, there is some justification to keep that basket. But the basket has to be thrown away when the fruit becomes rotten.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :65 اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف بے حیا اور بدکردار اور بداخلاق ہی نہ تھے بلکہ اخلاقی پستی میں اس حد تک گر گئے تھے کہ انہیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں اور بدی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہ تھا ۔ وہ بدی میں یہاں تک غرق ہوچکے تھے کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہ کرسکتے تھے اور پاکی کے اس تھوڑے سے عنصر کو بھی نکال دینا چاہتے تھے جو ان کی گھناؤنی فضا میں باقی رہ گیا تھا ۔ اسی حد کو پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے استیصال کا فیصلہ صادر ہوا ۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے پھر اسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی ۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میں جب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اس وقت تک تو ٹوکرے کو رکھا جا سکتا ہے ، مگر جب وہ پھل بھی اس میں سے نکل جائیں تو پھر اس ٹوکرے کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں رہتا کہ اسے کسی گھوڑے پر اُلٹ دیا جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اہل سدو کو اس لحاظ سے حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی قوم کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے یہ یا شایدان کا ان سے سسرال کا رشتہ ہوگا۔ 1 یعنی ہم گنہگار ناپاک لوگوں میں ان کا کیا کام۔ یہ بات انہوں نے طنزا یا مسخرے پن سے کہی۔ ( رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82) ” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “ عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور مرد کی آزادی کا نام دیتے ہیں یہ جاہلیت آج کے دور میں ایسے پاکباز لوگوں پر رزق کے دورازے بند کررہی ہے انکا زندہ رہنا اس نے مشکل کردیا ہے ۔ ان کی دولت کے ذرائع سکیڑ دیئے گئے ہیں ‘ ان کے افکار و تصورات کو دبایا جاتا ہے ۔ جاہلیت اس بات کو دیکھ ہی نہیں سکتی کہ کوئی پاکبازی اختیار کرے کیونکہ اس جاہلیت کو صرف وہی لوگ قبول ہیں جو گندے ناپاک اور برائیوں میں ملوث ہوں ‘ پاک لوگوں کے لئے اس کا دل تنگ ہے ۔ ہر دور میں جاہلیت کی ذہنیت یہی رہی ہے ۔ چناچہ انکو جلدی اپنے انجام سے دو چار کردیا جاتا ہے اور تمام دوسری تفصیلات کو یہاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88: اللہ نے اس بد کردار قوم پر آسمان سے پتھر برسا کر اسے تباہ کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور جو ان پر ایمان لا چکے تھے صرف وہی بچ سکے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی چونکہ درپردہ مشرکہ تھی اس لیے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہوگئی۔ “ فَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ” بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ پہلے ان کی بستیوں کو الٹا دیا گیا۔ پھر اوپر سے پتھر برسائے گئے جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا۔ “ فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ ”۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

82 لوط (علیہ السلام) کی قوم کا اس کے علاوہ کوئی جواب ہی نہیں تھا اور آخر کار وہ اس ہی فیصلہ پر پہنچے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہرکرو کیونکہ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔