Surat Nooh

Noah

Surah: 71

Verses: 28

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة نوح سورة نمبر 71 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 231 حروف 974 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : سورة نوح اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ میں کفار مکہ نے اسلامی دعوت کے خلاف زبردست مزاحمت شروع کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار قریش اور مشرکین پر سورة نوح کے ذریعہ اس بات کو صاف صاف واضح فرما دیا ہے کہ جس طرح آج اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو کفار مکہ رد کر رہے ہیں اور مخالفت کی انتہاؤں پر پہنچ گئے ہیں اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے دن رات اپنی قوم کو سمجھایا مگر وہ قوم اللہ ورسول کی نافرمانیوں میں لگی رہی جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے قطعاً مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سارے معاملہ کو رکھ کر دعا کی جو قبول کرلی گئی اور پھر پوری قوم کو نہ صرف پانی میں غرق کردیا گیا بلکہ آخرت میں بھی ان پر آگ کا عذاب مسلط کیا جائے گا۔ کفار قریش سے کہا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری نافرمانیاں بھی انتہا تک پہنچ جائیں اور ہمارا نبی ہماری بارگاہ میں فریاد پہنچا دے۔ اگر تم نے اپنا انداز اور طریقہ نہ بدلا تو تمہارا انجام بھی قوم نوح جیسا ہوسکتا ہے۔ سورة نوح میں صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان فرمائی تھیں۔ پوری سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو ایک المناک عذاب آنے سے پہلے آگاہ اور خبردار کردیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا۔ لوگو ! میں تمہیں صاف صاف انداز سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ وہ اللہ اتنا مہربان ہے کہ نہ صرف تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا بلکہ تمہیں ایک مقرر اور معین وقت تک باقی رکھے گا۔ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ کی طرف سے مقرروقت گزرجاتا ہے تو پھر (عذاب الٰہی کو) ٹالا نہیں جاسکتا۔ کاش تم میرے اس بات کو سمجھ سکو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا۔ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت پیش کی مگر وہ میری پکار اور دعوت سے بھاگتے ہی رہے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے پانے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگ لو تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے منہ پر کپڑا ڈھانپ لیا تاکہ نہ سنائی دے نہ دکھائی دے۔ پھر وہ اپنے کفر پر اسی طرح اڑ گئے کہ تکبر کے ساتھ انہوں نے ہر بات کو رد کردیا۔ میں نے پھر بھی بلند آواز سے، کھل کر، چھپ کر ہر طرح سمجھایا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ سے معافی مانگ لو وہ بہت معاف کرنے والا مہربان ہے۔ وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال و دولت، اولاد اور خاص طور پر بیٹوں سے نواز دے گا۔ تمہارے لئے ہرے بھرے باغ پیدا کرکے نہریں بہا دے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت و وقار کا اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس نے تمہیں کس کس طرح نشوونما دی ہے۔ کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ اسی نے ایک پر ایک سات آسمان بنائے ہیں اس نے چاند کو نور اور سورج کو چراگ کی طرح روشن کیا ہے اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور پھر اسی زمین سے تمہیں دوبارہ نکال کر کھڑا کر دے گا۔ اسی نے تو زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا ہے تاکہ تم اس کے کھلے اور کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی ! وہ لوگ میری اطاعت کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے لگ گئے ہیں جو ان میں سے مال دار اور رئیس ہیں جنہوں نے مکرو فریب کے جال ہر طرف پھیلا رکھے ہیں۔ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ لوگو تم ہرگز اپنے معبودوں ود، سواع، یغوچ، یعوق اور نسر کو مت چھوڑنا یہی تو ہمارے کام بنانے والے ہیں۔ اس طرح انہوں نے پوری قوم کو گمراہ کرکے رکھ دیا ہے۔ الٰہی ! جب انہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار ہی کرلیا ہے تو آپ بھی ان ظالموں کو گمراہیی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دیجئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اے میرے پروردگار ان کافروں میں سے زمین پر بسنے والے کسی کافر کو نہ چھوڑئیے۔ اگر آپ نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کرکے چھوڑیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا وہ فاسق و بدکار ہی ہوگا۔ میرے رب ! مجھے، میرے والدین کو اور جو بھی میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہے اس کو اور تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو معاف فرما دیجئے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ فرمائیے۔ ” آخر کار اس طرح وہ پوری قوم اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کردی گئی اور قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ پھر وہ اللہ کے سوا نہ کسی کو بچانے والا پائیں گے اور نہ اپنا مددگار۔ “

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة نوح کا تعارف یہ سورت اسم بامسمّہ ہے کیونکہ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے ردّ عمل کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام اس سورت میں دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی اٹھائیس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا دورانیہ ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام سے طویل ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو ” اللہ “ کی توحید اور اس کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور سمجھایا کہ اے میری قوم اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگو بیشک وہ توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ توبہ استغفار کے بدلے وہ تمہیں بیٹے دے گا بروقت بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے علاقے کو گلشن و گلزار بنا دے گا۔ لیکن قوم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے چہروں کو چھپالیا بلکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اے نوح ہم اپنے معبودوں بالخصوص ودّ ، یغوث، یعوق، سواعا اور نسر کو ہرگز نہیں چھوڑئیں گے۔ اگر تو اپنی دعوت میں سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار سمجھایا کہ عذاب کا مطالبہ کرنے کی بجائے شرک سے توبہ کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما کر اپنی نعمتوں سے تمہیں نوازے گا۔ لیکن قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کہا کہ اگر آپ اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس صورت حال میں بےحد مجبور ہو کر فریاد کی کہ اے میرے رب میری قوم نے یکسر طور پر مجھے مسترد کردیا ہے اور جو بھی ان کی نسل سے پیدا ہوگا وہ فاسق اور فاجر ہی پیدا ہوگا۔ اس لیے میری تیرے حضور فریاد ہے کہ اب اس قوم کو تباہ و برباد کر دے اے بار الٰہا جب تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے اور میرے والدین اور جو بھی مومن مرد اور عورت میرے گھر میں داخل ہو اسے محفوظ فرما۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بارشوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے اوپر بہنے لگا سورة القمر میں ارشاد ہوا کہ ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور جگہ جگہ زمین میں چشمے جاری ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں قوم نوح غرق ہوئی اور اسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة نوح ایک نظر میں یہ پوری سورت حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے پر مشتمل ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا۔ یہ قصہ دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے ایک تجربہ ہے کہ دیکھو کبھی یوں بھی ہوتا ہے اور کبھی کبھی انسانیت پر ایسا دور بھی آتا ہے اور خیروشر ، ہدایت وضلالت اور حق و باطل کی دائمی کشمکش کے اندر بھی خیر ، ہدایت اور حق کو ایسے حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ اس سورت میں ایک ایسی انسانی سوسائٹی کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو حددرجہ ہٹ دھرم ، گمراہ اور باطل پرست ہے۔ لوگ پوری طرح گمراہ قیادت کی گرفت میں ہیں اور یہ قیادت حددرجہ متکبر ، حق سے منہ موڑنے والی ، دلائل ایمان اور معجزات حق پر توجہ نہ کرنے والی ہے۔ حالانکہ یہ معجزات ان کے نفوس اور آفاق کائنات کے اندر جا بجا بکھرے پڑے تھے۔ یہ نشانات ومعجزات اس کائنات کی کھلی کتاب میں موجود تھے اور نفس انسانی کی خفیہ کتاب کے اوراق کے اندر بکھرے پڑے تھے۔ یہ سورت حمت الٰہیہ کے مختلف نمونوں میں سے ایک واضح نمونہ بھی ہے ، جس سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان پر کس قدر مہربان ہے کہ وہ محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اس انسان کو راہ ہدایت دکھانے کے لئے پے درپے رسولان کرام کو بھیجتا رہا ہے۔ جبکہ یہ انسان ہمیشہ گمراہ قیادت کی اطاعت کو پسند کرتا رہا ہے۔ ایک ایسی قیادت کا گرویدہ ہوتا رہا ہے۔ جو گمراہ کرتی ہے ، گمراہ کنندہ ہوتی ہے اور ہدایت وسچائی کو قبول کرنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ یہ سورت تھکا دینے والی جدوجہد ، ناقابل برداشت بوجھ ، صبر جمیل اور جہد مسلسل اور اپنے نظریہ بر اصرار کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتی ہے کہ انبیائے کرام نے اس گم کشتہ راہ ، ضدی اور معاند انسانیت کو راہ راست پر لانے کے لئے کس قدر ان تھک جدوجہد کی جبکہ اس جدوجہد کے نتیجے میں وہ اپنے لئے کچھ نہ چاہتے تھے۔ نہ وہ ان لوگوں سے کوئی اجر طلب کرتے تھے جو ہدایت پاتے تھے ، وہ نہ کوئی انعام چاہتے تھے اور نہ کوئی شکرانہ وصول کرتے تھے۔ نہ وہ کوئی فیس یا تنخواہ وصول کرتے تھے جو بالعموم معلمین وصول کرتے ہیں ، یا جس طرح مدارس ، جامعات اور اداروں کے کارکن وصول کرتے ہیں۔ جس طرح دور جدید کا رواج ہے اور قدیم زمانوں میں بھی یہ معاوضہ کسی نہ کسی صورت میں ہوا کرتا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے سامنے اپنی ساڑھے نو سو سال کی جدوجہد کی جو رپورٹ پیش کرتے ہیں وہ اس تھکادینے والی جدوجہد اور اعصاب شکن محنت کی اچھی تصویر ہے۔ نیز وہ اس میں ان کی قوم کی ہٹ دھرمی ، عناد ، ضال ومضل قیادت کی اطاعت اور اقتدار پرستی کی بھی اچھی تصویر کشی کرتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں : قال رب …………فجاجا (5:71 تا 20) ” اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ اور جب بھی میں ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھنک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔ میں نے کہا ” اپنے رب سے معافی مانگو ، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔ رب انھم……………کثیرا (21:71 تا 24) ” میرے رب ، انہوں نے میری بات رد کردی اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں۔ ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلارکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو ، اور نہ چھوڑو ود اور سواع کو ، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسرکو۔ انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے “۔ بیشک یہ نہایت ہی تلخ حاصل تھا اور نہایت ہی کڑوا پھل تھا ، مگر وہ یہ محنت ساڑھے نو سو سال تک کرتے رہے۔ یہ کیونکر ایک رسول کا فریضہ تھا۔ یہ انہیں ادا کرنا تو تھا ہی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس تلخ تجربہ کی روئیداد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کی جارہی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کا فریضہ اب قیامت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا گیا ہے اور پورے کرہ ارض کے حوالے سے یہ فریضہ آپ کے حوالے کیا گیا ہے۔ یہ سب سے بڑا فریضہ ہے جو کبھی کسی رسول کے حوالے کیا گیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے تھے کہ آپ کے ایک بھائی نے کس قدر طویل جدوجہد کی اور اس کرہ ارض پر ایمان کا دیار روشن کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی اور لوگوں نے اس دعوت کے مقابلے میں کس قدراندھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ کس طرح دنیا کو گمرہاہ لیڈرشپ نے ہدایت یافتہ لیڈرشپ کو مغلوب کردیا۔ اور لوگوں کے عناد اور گمراہی کے باوجود کس طرح اللہ نے ان کو ہدایات کے لئے مسلسل رسول بھیجے۔ اور نوح (علیہ السلام) کے بعد ، جو آدم ثانی ہیں ، یہ سلسلہ چلتا ہی رہا۔ ایور یہ رڈئیداد مکہ میں اٹھنے والی جماعت مسلمہ کے سامنے بھی پیش کی جارہی ہے کہ اب قیامت تک یہ امت اس دعوت کی وارث ہوگی۔ اس دعوت کے خطوط پر جو منہاج زندگی قائم ہوگا اور جس طرح یہ نظام اس وقت کی جاہلیت کے بالمقابل پیش ہورہا ہے ، اسی طرح آئندہ بھی ہر جاہلیت کے مقابلے میں قائم کرنا ہوگا تاکہ امت مسلمہ دیکھے اور سمجھے کہ اس نے اسراہ میں کس قدر جدوجہد کرنی ہے۔ اس نے اپنی اس دعوت پر کس طرح اصرار کرنا ہے ، کس قدر ثابت قدمی دکھانی ہے ، اس طرح جس طرح آدم ثانی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دکھائی۔ نیز وہ یہ سبق بھی لے کہ مومنین کی قلیل تعداد پر اللہ ہمیشہ نظر کرم رکھتا ہے اور کس طرح ان کو ایک مکمل تباہی کے طوفان سے بچانے کا انتظام کرتا ہے۔ نیز مشرکین مکہ کو بھی یہ بتانا مقصود ہے کہ ذرا غور کریں کہ ان کے اسلاف مکذبین کا انجام کیا ہوا اور اللہ کی اس عظیم نعمت پر غور کریں کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نہایت ہی رئوف ورحیم رسول بھیجا ، جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح تمہاری ہلاکت اور بربادی کی دعا نہیں کرتا ، اس لئے کہ اللہ کے نظام وقضا وقدر نے تمہیں ایک وقت تک مہلت دے دی ہے اور یہ تم پر بہت بڑی رحمت ہے کہ تمہارے نبی نوح (علیہ السلام) کی طرح تمہارے خلاف بددعا نہیں کرتے اور جس طرح اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا سکھائی تھی ایسی کوئی ہدایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں کی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بددعا فرمائی۔ ولا تزد………ضللا (24:71) ” اور تو ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ اور مزید فرمایا : وقال…………کفارا (26:71 تا 27) ” اور نوح نے کہا…” میرے رب ، ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تونے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا “۔ انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی کی اس کڑی کی روئیداد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول اور فروع اور جڑیں ایک رہی ہیں۔ ایک ہی بنیاد پر یہ نظر یہ مبنی رہا ہے۔ اور اس کی جڑیں انسانی تاریخ میں گہری ہیں اور یہ عمارت ایک مستقل اور نہایت متعین بنیادوں پر استوار رہا ہے۔ پھر یہ نظریہ اس پوری کائنات کے نظام ، اس پوری کائنات میں جاری اللہ کے نظام قضا وقدر اور اللہ کے ارادے اور مشیت سے مربوط ہے ۔ یہ باتیں حضرت نوع (علیہ السلام) کی دعوت سے صاف ظاہر ہوتی ہیں۔ حضرت نوع (علیہ السلام) فرماتے ہیں : قال یقوم……………تعلمون (2:71 تا 4) ” اس نے کہا ، اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی ایک دوسری تقریر کو یوں نقل کیا گیا ہے : مالکم لاتر……………فجاجا (13:71 تا 20) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھادیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں پرچلو “۔ یہ باتیں مسلمانوں کے شعور میں بٹھانے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنی دعوت کی نوعیت کو سمجھ جائیں ، ان کو اپنا نظریاتی شجرہ نسب معلوم ہوجائے اور وہ یہ جان لیں کہ تاریخ انسانیت میں ان کے قافلے کی اہمیت کیا ہے۔ اور انہوں نے اس دعوت اور اس دعوت پر مبنی نظام کے قیام کے لئے کچھ کرنا ہے اور یہ کہ یہ دعوت اللہ کا منہاج قدیم ہے جس کے لئے تمام پیغمبروں نے کام کیا ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ جب انسان تمام رسولوں کی جدوجہد ، اس انتھک جدوجہد کی روئیداد پر غور کرتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے ، اور وہ کانپ اٹھتا ہے کہ رسولان کرام کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں کیا تبدیلی آئی ؟ نظر تو یہی آتا ہے کہ انسانیت نے بےراہ روی ہی اختیار کی اور رسولوں کے ساتھ سخت عناد کیا۔ اور مان کر نہ دیا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک کے بعد ایک رسول آتا رہا ، یہ کیوں ؟ ایک انسان یہ سوال کرسکتا ہے کہ آیا اس طویل جدوجہد اور اس کے نتائج کے درمیان کوئی نسبت ہے ؟ جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے چلی اور چلتے چلتے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے مختلف لوگ بھی یہ جدوجہد کرتے رہے اور اس سلسلے میں ناقابل تصور قربانیاں دی جاتی رہیں ، تو کیا اس عظیم جدوجہد اور اس کے نتائج کے درمیان کوئی توازن اور نسبت ہے ؟ اوروں کو تو چھوڑئیے ، کیا خود حضرت نوح (علیہ السلام) کی جدوجہد جس کی تفصیلات اس سورت میں دی گئی ہیں اور دوسروی سورتوں میں بھی اس کی روائیداد موجود ہے کہ آپ نے نہایت ہی طویل عرصہ تک یہ جدوجہد فرمائی اور اس میں قوم نوح نے کفر اور نافرمانی ہی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ وہ آپ کا مذاق بھی اڑاتے رہے ، بلکہ مذاق کے علاوہ بہتان تراشی بھی کرتے رہے اور آپ تھے کہ صبر اور نیکی اور اعلیٰ شائستہ آداب اور نہایت ہی دلسوز انداز بیان کے ذریعہ اپنا کام رکھتے رہے۔ ازمنہ قدیمہ سے ، یہ جہد مسلسل ، یہ ناقابل تصور قربانیاں جاری ہیں۔ ایک کے بعد ایک رسول آتا ہے۔ اس کا انکار ہوتا ہے ، مذاق اڑایا جاتا ہے ، بعض کو آگ میں جلایا جاتا ہے ، بعض کو آروں کے ساتھ چیرا جاتا ہے ، بعض کو اپنے گھروں سے اور اپنے ملک سے نکالا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آخری رسالت آجاتی ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح جدوجہد کرتے رہے ہیں ، جس کا مفصل ریکارڈ قرآن وسنت و سیرت میں موجود ہے۔ اس کے بعد امت میں مصلحین اور مجددین آتے ہیں۔ اور وہ بےحد جدوجہد کرتے ہیں ، ہر ملک اور ہر سر زمین تک پہنچتے ہیں۔ ہر دور اور ہر زمانے میں جہد مسلسل اور دعوت جاری رہتی ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس جہاد اور سعی اور ان تھک محنتوں اور کاوشوں کے مطابق نتائج نکلے ہیں ؟ اور کیا انسانیت جس نے ان عظیم مساعی کی ناقدری کی اور اب بھی کررہی ہے ، یہ انسانیت اس بات کی مستحق تھی کہ اللہ اس پر اس قدر کرم کرتا ؟ یا کیا اب بھی لوگ اس کے مستحق ہیں کہ یہ جدوجہد جاری رکھی جائے ، لوگوں کے انکار ، ناقدری اور مسلسل روگردانی کے باوجود کیا یہ مناسب ہے کہ اللہ ان پر اسی طرح رحمتیں کرتا چلاجائے ، اس ناشکرے ، حقیر ، چھوٹے کیڑے پر ، جسے انسان کہا جاتا ہے ؟ ہاں یقینا ان سب سوالات کا جواب اثبات میں ہے اور بلاجدل وجدال اور بغیر کسی شک وشبہ کے اثبات میں ہے…حقیقت یہ ہے کہ زمین کے اوپر ایمان کی حقیقت کا قائم ہوجانا ، اس پوری جدوجہد ، اس مسلسل صبر ، اس ان تھک محنت اور ان بےمثال قربانیوں کے برابر ہے۔ تمام انبیاء اور ان کے متبعین نے اس سلسلے میں جو مساعی کیں ، خواہ جس زمان ومکان میں بھی کیں ، حقیقت ایمان کا قیام ان کا مناسب حاصل ہے۔ بلکہ حقیقت ایمان کا قیام ان تمام مساعی سے زیادہ قیمتی ہے ، بلکہ اس کی قدروقیمت اس پوری کائنات سے زیادہ ہے۔ یہ پوری کائنات جس کی اندر اس زمین کی وہی حیثیت ہے جو ہماری اس زمین کی فضا میں اڑنے والے ایک ذرے کی بمقابلہ اس زمین کے ہے۔ ایسا ذرہ جسے کوئی محسوس ہی نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا ہوں ہوا کہ اس انسانی مخلوق کو متعین خصائص عطا کیے جائیں اور اس نظام کو اس کے ضمیر میں بٹھا دیا جائے اور اس کی زندگی میں قائم کردیا جائے اور یہ قیام خود اسی کے ہاتھوں سے ہو۔ اور اللہ انسان کو ایسا کرنے کی توفیق دے اور اس کی مدد کرے۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ اللہ نے اس مخلوق کو یہ خصوصیات کیوں عطا کیں۔ اور کیوں اللہ نے انسان کو یہ خصوصیت دی کہ وہ اپنی جدوجہد اور اپنے ارادے سے اپنی ذات میں بھی حقیقت ایمان پیدا کرے اور دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے وہ جو نظام زندگی اختیار کرے ، اس میں بھی اس حقیقت کو قائم کرے اور اللہ نے انسان کو اس طرح نہیں پیدا کیا جس طرح فرشتے ہوتے ہیں کہ وہ ازروئے تخلیق مومن ، مطیع اور نیکو کار ہیں اور ان کے اندر شر اور معصیت کی قدرت ہی نہیں ہے ، جس طرح ابلیس کے اندر ہے۔ ہمیں اس کا راز نہیں معلوم کیونکہ اللہ نے بتایا نہیں ہے ، البتہ اس طرح تخلیق کرنے میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوگی ۔ اس کائنات کے لئے اس قسم کی مخلوق کو کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟ لہٰذا انسانی دنیا میں حقیقت ایمان کے قیام کے لئے انسانی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اسی جدوجہد کے لئے اللہ نے انبیائے کرام کا برگزیدہ گروہ بھیجا اور انبیاء کے بعد ان کے متبعین میں سے ایک برگزیدہ گروہ کو چنا ، جو سچی طرح حقیقت ایمان پر عمل پیرا تھا اور انبیاء کے سچے متبعین کو بھی اللہ نے اس مقصد کے لئے چنا اور انہوں نے بھی حقیقت ایمان کے قیام کے لئے انتھک سعی کیں۔ نہایت ہی جامع اور نہایت پر مشقت جہاد کیا۔ اس حقیقت کا دل میں بیٹھنے کا مفہوم یہ ہے کہ دل کے اندر اللہ کے نور کی ایک چنگاری بیٹھ جائے اور قلب انسانی کے اندر اللہ کے اسرار پوشیدہ ہوں اور مومن کا یہ دل اللہ کی تقدیر کا آلہ بن جائے اور یہ ایمان ایک عظیم حقیقت ہو ، مجرد تصور ہی نہ ہو اور پھر یہ عظیم حقیقت خود انسان اور انسان کے ماحول میں پائے جانے والے ، زمین و آسمان سے بھی عظیم تر ہو بلکہ یہ حقیقت پوری کائنات سے بھی بڑی ہو۔ جب حقیقت ایمان انسانوں کی زندگی میں ٹھوس شکل اختیار کرکے یا انسانوں میں سے ایک جماعت کی زندگی میں ٹھوس شکل اختیار کرے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس زمین کی زندگی عالم بالا کی زندگی سے مربوط ہوجاتی ہے۔ اور پھر انسان اس حقیقت کی وجہ سے عالم بالا کی زندگی سے رابطہ پیدا کرنے کے اہل ہوجاتا ہے۔ ایک فانی ایک باقی کے ساتھ رابطہ قائم کرلیتا ہے۔ ایک جزء ایک کل کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے۔ ایک ناقص ایک کامل کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ یہ وہ حاصل ہے جو ہر قسم کی انسانی جدوجہد اور محنت سے بھاری ہے۔ ہر قربانی سے زیادہ قیمتی ہے۔ اگرچہ یہ مقام کسی کو اس زمین پر ایک دن یا اس سے بھی کم وقت کے لئے حاصل ہو۔ کیونکہ جب انسانیت اس مقام تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اس کی نظریں بلندافق پر ہوتی ہیں اور اس کے سامنے ایک عملی روشنی اور نور آجاتا ہے۔ اور اس نور کی روشنی میں پھر وہ صدیوں تک جدوجہد کرتی رہتی ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں نے جب کبھی ترقی و کمال کے اعلیٰ مدارج حاصل کیے وہ ایمان ہی کی روشنی میں حاصل کیے۔ اور ایمان ہی کی وجہ سے حاصل کیے۔ صرف ایمان ہی کے ذریعہ انسانیت کو وسعتیں حاصل ہوئیں۔ انسانی تاریخ میں جن ادوار میں انسانیت کو عروج حاصل ہوا وہ ایمان ہی کے ادوار رہے ہیں۔ ان ادوار میں ایمان کو زمین پر عروج حاصل ہو اور ایمان نے انسانیت کی قیادت سنبھالی ۔ یہ اداوار زمانہ مابعد کے لوگوں کو محض خیالی تصوراتی ہی نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ حقیقت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فلسفہ ، کسی علم ، کسی فن ، کسی مذہب اور کسی نظام کے ذریعہ انسانیت اس قدر ترقی نہیں کرسکتی ، جس قدر اس ذریعہ سے کرسکتی ہے کہ ” حقیقت ایمان “ زمین پر ایک حقیقت کا روپ اختیار کرلے ، یوں کہ لوگوں کے عقیدے ، ان کی عملی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے تصورات اور ان کی اقدار میں ” حقیقت ایمان “ ایک حقیقت بن جائے۔ اور اس حقیقت کے نتیجے میں انسان ایک مکمل نظام زندگی اختیار کرلیں ، جس طرح ہر رسالت کے دور میں ایسا ہی ہوا کہ رسولوں نے ایمان کی حقیقت کو لوگوں کی زندگی میں جاگزیں کیا اور اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آیا۔ اور یہ کہ ” اسلامی نظریہ حیات اللہ کی جانب سے ہے “۔ یہ امر واقعہ قطعی دلیل ہے کہ جس انسانیت نے ایمان باللہ کو اس زمین پر حقیقت کا روپ دیا ہے ، انسانیت نے بےپناہ ترقی کی ہے اور اس کے سوا کوئی اور ذریعہ سے کبھی بھی انسانیت کو ترقی اور عروج نصیب نہیں ہوا۔ نہ سائنس کے ذریعہ ، نہ فلسفہ کے ذریعہ ، نہ علوم وفنون کے ذریعہ اور نہ کی نظام زندگی کے ذریعہ ۔ جب انسانیت کے اندر حقیقی مومنین کی قیادت ناپید ہوئی ، اسے ایمان کے سوا کوئی اور حقیقت فائدہ نہیں دے سکی بلکہ ایمان کے بغیر انسانیت کی اقدار ، اس کے پیمانے اور اس کی انسانی سطح کرگئی اور اس پر نفسیاتی مصیبت ، فکری انتشار اور اعصابی امراض کا بدترین دور آگیا۔ اور باوجودیکہ مادی ترقی کے ، انسانیت مصائب کا شکار ہوئی۔ باوجود مادی ترقی ، جسمانی آرام اور عقلی ترقی اور مادی سہولیات کے انسانیت ، اطمینان ، راحت اور سکون سے محروم رہی۔ اور اس کا تصور حیات اس قدر بلند نہ ہوسکا۔ جس طرح ایمان کی روشنی میں بلند ہوا۔ نیز اس کائنات کے ساتھ اس کا ربط اس قدر مضبوط نہ ہوا جس طرح ایمان کے زیر سایہ انسان اس پوری کائنات سے مربوط ہوجاتا ہے اور نہ حقیقت ایمان کم کردینے سے انسانیت کو انسانی شرف حاصل ہوا۔ پوری انسانی تاریخ میں اگر ایمانی تصورات کا گہرا مطالعہ ہو تو انسان اسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ حقیقت ایمان کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے قربانیاں دیں اور حقیقت ایمانی کے استقرار کے لئے اس قدر عظیم قربانیاں دیں ، جس قدر ان کی قوت واستطاعت ہو۔ ایک ایسا گروہ تیار کریں جن کا دل ، نور الٰہی سے بھرا ہوا ہو ، اور اس گروہ کے دل اللہ کی روح سے متصل ہوں۔ ان لوگوں کی زندگیاں اس طرح بسر ہوں کہ وہ اسلامی نظام زندگی کا زندہ نمونہ ہوں۔ جو اعلیٰ انسانی تصورات اور اعلیٰ انسانی اخلاق کا نمونہ ہوں۔ اور ان کو عمومی زندگی بھی ایک اعلیٰ معیار کی زندگی ہو۔ اس طرح جس طرح حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کے دور میں ” الگ زندگی “ عملاً برپا ہوئی تھی۔ انسانیت پھر بھی دعوت اسلامی سے اس طرح منہ موڑے گی جس طرح اس نے حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (علیہم السلام) اور ان کے بھائی دوسرے انبیاء کی دعوت سے منہ موڑا ۔ اور آئندہ بھی بشریت انہی گمراہ قیادتوں کے پیچھے بھاگے گی جس طرح اس سے پہلے انسانی تاریخ میں ہوتا ہے۔ لوگوں نے انہیں لوگوں کی اطاعت کی جو گمراہی میں دور تک ڈوبے ہوئے تھے اور آئندہ بھی سچائی کی طرف بلانے والوں کو قسم قسم کی سزائیں دی جائیں گی۔ اور ان سے قسم قسم کے انتقام لیے جائیں گے ، جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا گیا ، جس طرح بعض پیغمبروں کو آرے کے ساتھ چیرا گیا ، جس طرح تمام رسولوں کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ اور پوری انسانی تاریخ میں ایسا ہوتا رہا۔ لیکن اللہ کی طرف دعوت کا کام یونہی جاری رہا ، جس طرح اللہ نے چاہا کیونکہ یہ وہ نتیجہ ہے جس کی راہ میں ہمیشہ بڑی بڑی قربانیاں دی جاتی رہی ہیں اور یہ اس قدر قیمتی مقصد ہے کہ اس کے لئے عظیم قربانیاں دی جاتی رہی ہیں۔ اگرچہ حاصل صرف یہ نکلے کہ ایک یا چند افراد کے دلوں میں نور ایمان کا چراغ روشن ہوجائے۔ اور صرف ایک ہی دل اللہ سے مربوط ہوجائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک نبوت اور دعوت کا یہ طویل فاصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمہ لگائی ہے کہ دعوت ایمانی کا سلسلہ جاری رہے گا اور ہر دور اور ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی انسان ایمان کی دعوت لے کر اٹھتا رہے گا۔ اس طویل اور مسلسل جدوجہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس دعوت کی قدروقیمت کیا ہے۔ اس جدوجہد سے کم از کم مطلوبہ نتائج نہ ملیں کہ ایک داعی بذات خود سچا مومن بن جائے ، وہ دعوت کی راہ میں اپنی جان تک دینے کے لئے تیار ہوجائے اور کسی صورت بھی دعوت اسلامی کی جدوجد سے منہ نہ موڑے۔ یہی وہ اعلیٰ نصب العین ہوتا ہے جس کی وجہ سے داعی اس پوری زندگی کے دائرہ کشش سے بلند ہوتا ہے۔ اس پر اس زمین کی کشش اور جاذبیت اثر انداز نہیں ہوتی۔ اور وہ اس زمین اور زمینی میلانات کے دائرہ کشش سے باہر نکل جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم حاصل ہے۔ یہی عظیم کمائی ہے۔ اور یہ اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے مقابلے میں تلخ ترین جدوجہد بھی کم نظر آتی ہے۔ یہ داعیان الی اللہ کی کمائی ہے ۔ یہ انسانیت کی کمائی ہے جس کی وجہ سے یہ انسانیت شرف اور بلندی حاصل کرتی ہے اور اس شرف اور کمائی کی وجہ ہی سے فرشتے انسانوں کو سجدے کرتے ہیں حالن کہ انسان زمین پر فساد برپا کرنے والا اور خونریزی کرنے والا ہے۔ لیکن ان کمزوریوں کے باوجود انسان اپنی جدوجہد سے ایمان کی روشنی بھی حاصل کرلیتا ہے۔ اور ایمان کی راہ میں قربانیاں بھی دیتا ہے اور اپنی جدوجہد کے ذریعہ ہی وہ دست قدرت کی تقدیر بن جاتا ہے اور پھر زمین پر اللہ کا مقرر کردہ نظام زندگی قائم کرتا ہے ۔ اور وہ اس قدر روحانی آزادی حاصل کرلیتا ہے کہ اس راستے میں اپنی جان تک دے دیتا ہے۔ اور وہ اس قدر عظیم مشقتیں برداشت کرتا ہے جو زندگی سے بھی بھاری ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے عقیدے کو سینے سے لگا کر نجات حاصل کرے۔ اور اس زمین پر اس عقیدے اور ایمان کو ثبات وقرار عطا کردے۔ اور دوسرے لوگ اس عقیدے اور ایمان سے مستفید ہوں۔ اور اس طرح ایک مومن کی قربانیوں کی وجہ سے دوسرے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور ان کا کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ جس کسی روح کو اس قدر آزادی نصیب ہوتی ہے تو اس کے لئے ہر قسم کی جدوجہد اور مشقت آسان ہوجاتی ہے۔ پھر وہ ہر قسم کی قربانیاں دیتا ہے۔ اور یہ ان تھک جدوجہد اور عظیم قربانیاں پس پردہ چلی جاتی ہیں اور وہ ” حاصل “ نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے جو اللہ کے ترازو میں زمین وآسمانوں اور پوری کائنات سے بھاری ہے۔ اب اس تبصرے کے بعد سورة نوح کی آیات کی تشریح جس میں اول سے آخر تک یہی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi