Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 1

سورة نوح

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾

Indeed, We sent Noah to his people, [saying], "Warn your people before there comes to them a painful punishment."

یقیناً ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو ( اور خبردار کردو ) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nuh's Invitation to His People Allah says, إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ ... Verily, We sent Nuh to his people (saying): Allah says concerning Nuh that He sent him to his people commanding him to warn them of the punishment of Allah before it befell them. He was to tell them that if they would repent and turn to Allah, then the punishment would be lifted from them. Due to this Allah says, ... أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا ، حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں ، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا ، آیت ( يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Ć۝ ) 71-نوح:4 ) میں لفظ ( من ) یہاں زائد ہے ، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ ( من ) زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے ( قد کان من مطر ) میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں عن کے ہو بلکہ ابن جریر تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ من تبعیض کے لئے ہے یعنی تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں ، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا ، اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اطاعت اللہ اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے ، حدیث میں یہ بھی ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لئے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے ، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 حضرت نوح (علیہ السلام) جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ 1۔ 2 قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہ سورت پوری کی پوری آپ کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس سورت میں آپ کی زندگی کے پورے واقعات مذکور نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا اکثر حصہ سیدنا نوح کی اپنے پروردگار سے فریاد اور دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی تبلیغ اور پورے ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں قوم نے آپ کی تبلیغ سے جیسا اثر قبول کیا، اسی کا شکوہ سیدنا نوح اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے بیان فرماتے ہیں۔ آپ کا مرکز تبلیغ عراق میں دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ تھا۔ سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے درمیان پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ حائل ہے اور اس طویل درمیانی عرصہ میں صرف ایک ہی قابل ذکر نبی سیدنا ادریس (علیہ السلام) کا ذکر ہمیں قرآن میں ملتا ہے۔ لیکن وہ بھی صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ جب سیدنا نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو اس وقت ان کی قوم میں شرک کا مرض ایک وبا کی طرح پھیل چکا تھا۔ چناچہ ان ابتدائی آیات میں ہی سیدنا نوح (علیہ السلام) کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ اپنی قوم کو شرک کے برے انجام سے وارننگ دے دیجئے اور اگر وہ باز نہ آئے تو یقیناً انہیں دردناک سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(انا ارسلنا نوحاً الی قومہ…: نوح (علیہ السلام) کی قوم جس شرک اور بت پرستی میں گرفتار تھی اس کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں عذاب الیم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ آگاہ کرنے اور ڈرانے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : ١٥) سو اس عذاب الیم سے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے پاس (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو (وبال کفر سے) ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر درد ناک عذاب آوے (یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الیم آوے گا، خواہ نیوی یعنی طوفان یا اخروی یعنی دوزخ غرض) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور کہتا ہوں) کہ تم اللہ کی عبادت (یعنی توحید اختیار) کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا (من ذنوبکم کی تحقیق سورة احقاف میں گزر چکی) اور تم کو وقت مقرر (یعنیوقت موت) تک (بلاعقوبت) مہلت دے گا (یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا اور باقی موت کے لئے جو) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت (ہے) جب (وہ) آجاوے گا تو ٹلے گا نہیں (یعنی موت تو آنا ہر حال میں ضروری ہے ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور ایک حالت میں مثل دنیا و آخرت دونوں کے عذابوں سے محفوظ رہو گے) کیا خوب ہوتا اگر تم (ان باتوں کو) سمجھتے (جب دنیا و آخرت دونوں کے عذابوں سے محفوظ رہو گے) کیا خوب ہوتا اگر تم (ان ابتوں کو) سمجھتے (جب مدتہائے دراز تک ان نصائح کا کچھ اثر قوم پر نہ ہوا تو) نوح (علیہ السلام) نے (حق تعالیٰ سے) دعا (اور التجا) کی کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوکو رات کو بھی اور دن کو بھی (دین حق کی طرف) بلایا، سو میرے بلانے پر (دین سے) اور زیادہ بھاگتے رہے اور (وہ بھاگنا یہ ہوا کہ) میں نے جب کبھی ان کو (دین حق کی طرف) بلایا تاکہ (ان کے ایمان کے سبب) آپ ان کو بخشدیں تو ان لوگوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں (تاکہ حق بات سنیں بھی نہیں اور یہ نفرت کی انتہا ہے) اور (نیز انتہائی بغض سے انہوں نے) اپنے کپڑے (اپنے اوپر) لپیٹ لئے (تاکہ حق بات کہنے والے کو دیکھیں بھی نہیں اور کہنے والا بھی ان کو نہ دیکھے) اور (انہوں نے اپنے کفر و انکار پر) اصرار کیا اور (میری اطاعت سے) غایت درجہ کا تکبر کیا (مگر باوجود اس تنفیر وتکبر کے) پھر (بھی میں ان کو مختلف طریقوں سے نصیحت کرتا رہا چنانچہ) میں نے ان کو (دین حق کی طرف) با آواز بلند بلایا (مراد اس سے خطاب و وعظ عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے) پھر میں نے ان کو (خطاب خاص کے طور پر) علانیہ بھی سمجھایا اور ان کو بالکل خفیہ بھی سمجھایا (یعنی جتنے طریقے نفع کے ہو سکتے تھے سب ہی طرح سمجھایا، غرض اوقات میں بھی عموم کیا گیا، کماقال لیلاً ونھاراً اور کیفیات میں بھی کما قال دعوتھم جھاراً الخ) اور (اس سمجھانے میں) میں نے (ان سے یہ) کہا کہ تم اپنے پروردگار سے گناہ بخشواؤ ( یعنی ایمان لے آؤ تاکہ گناہ بخشے جائیں) بیشک وہ بخشنے والا ہے (اگر تم ایمان لے آؤ گے تو علاوہ اخروی نعمت کے) کہ (مغفرت ہے دنیوی نعمتیں بھی تم کو عطا کریگا، چنانچہ) کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغ لگا دے گا اور تمہارے لئے نہریں بہا دے گا (ان نعمتوں کے ذکر شے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں نقد اور جلد حاصل ہونے اولی چیزوں کی طلب زیادہ ہے۔ در منشور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریض تھے اس لئے یہ فرمایا اور اس پر یہ شبہہ نہ کیا جاوے کہ بسا اوقات یہ امور دنیویہ ایمان وا ستغفار پر مرتب نہیں ہوتے، بات یہ ہے کہ یا تو یہ وعدہ خاص انہی لوگوں کے لئے ہوگا اور اگر عام ہو تو قاعدہ ہے کہ موعود سے افضل کوئی چیز بلحاظ بھی ایفائے وعدہ ہی ہوتا ہے بلکہ وعدہ سے زیادہ، اس ایمان کامل پر روحانی مسرت و قناعت و رضا بالقضا ضرور عطا ہوتا ہے جو ان اشیاء سے بھی افضل و اکمل ہے بلکہ ساری متاع دنیا اور سبا شیاء مذکورہ کا اصلی مقصد بھی تو دل کا سکون و آرام ہی ہے۔ آگے نوح (علیہ السلام) کا تتمہ کلام ہے یعنی میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ) تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے معتقد نہیں ہو حالانکہ (مقضیات اعتقاد عظمت کے موجود ہیں کہ) اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا (کہ عناصر اربعہ سے تمہاری غذا، پھر غذا سے نطفہ اور نطفہ کے بعد علقہ و مضغہ وغیرہ کی مختلف صورتوں سے گزر کر مکمل انسان بنا یہ دلیل تو خود انسان کی ذات سے متعلق تھی، آگے دلیل آفاقی فرماتے ہیں کہ) کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے اور ان میں چاند کو نور (کی چیز) بنایا اور سورج کو (مثل) چراغ (روشن کے) بنایا (اور چاند گو سب آسمانوں میں نہیں ہے مگر فیھن باعتبار مجموعہ کے فرما دیا اور اس کے متعلق کچھ سورة فرقان میں گزر چکا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا (یا تو اس طرح کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے بنائے گئے اور یا اس طرح کہ انسان نطفہ سے بنا اور نطفہ غذا سے اور غذا عناصر سے بنی اور عناصر میں غالب اجزاء مٹی کے ہیں) پھر تم کو (بعد مرگ) زمین ہی میں لیجاوے گا اور (قیامت میں پھر اسی زمین سے) تم کو باہر لے آوے گا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا تاکہ تم اس کے کھلے رستوں میں چلو (یہ تمامتر وہ کلام ہے جس کی حکایت نوح (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ سے بطور فرمایا کی کی اور یہ سب حکایت عرض کر کے) نوح (علیہ السلام) نے (یہ) کہا کہ اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہنا مانا اور ایسے شخصوں کی پیروی کی کہ جن کے مال اور اولاد نے ان کو نقصان ہی زیادہ پہنچایا (مراد ان شخصوں سے رؤسا ہیں جن کا عوام اتباع کیا کرتے ہیں اور مال اور اولاد کا ان رؤسا کو نقصان پہنچانا بایں معنے ہے کہ مال و اولاد سرکشی کا سبب بن گئے) اور (انہوں نے جن کا اتباع کیا ہے وہ ایسے ہیں) جنہوں نے (حق کے مٹانے میں) بڑی بڑی تدبیریں کیں اور جنہوں نے (اپنے تابعین سے یہ) کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ (بالخصوص) ود کو اور رسواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو چھوڑنا (خصوصیت ان کے ذکر کی اس لئے ہے کہ یہ بت زیادہ مشہور تھے) اور ان (رئیس) لوگوں نے بہتوں کو (بہکا بہکا کر) گمراہ کردیا (وہ مکر کبار یہی گمراہ کرنا ہے) اور (چونکہ مجھ کو آپ کے ارشاد لن یومن فی قومک الامن قدامن سے معلوم ہوگیا کہ یہ اب ایمان نہ لاویں گے اس لئے یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ) ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے (تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجائیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقصود دعا کرنا زیادہ ضلال کی نہیں بلکہ استحقاق ہلاکت کی ہے اور تحقیق اس دعا کی سورة یونس میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) میں گزری ہے۔ غرض انجام ان لوگوں کا یہ ہوا کہ) اپنے ان ہی گناہوں کے سبب وہ غرق کئے گئے پھر (بعد غرق برزخی یا اخروی) دوزخ میں داخل کئے گئے اور خدا کے سوا ان کو کچھ حمایتی بھی میسر نہ ہوئے اور نوح (علیہ السلام) نے (یہ بھی) کہا کہ اے میرے پروردگار کافروں میں سے زمین پر ایک باشندہ بھی مت چھوڑ (بلکہ سب کہ ہلاک کر دے اور عموم ہلاکت و عموم بعثت کی بحث سورة صافات میں گزری ہے آگے اس دعا کی علت ہے کیونکہ) اگر آپ ان کو روئے زمین پر رہنے دیں گے تو (حب ارشاد لن یومن الخ) یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے اور (آگے بھی) ان کے محض فاجر اور کافر ہی اولاد پیدا ہوگی (اور کافروں کے لئے بددعا کرنے کے بعد مؤمنین کے لئے دعا فرمائی کہ) اے میرے رب مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں ان کو (یعنی اہل و عیال باستثاء زوجہ اور کنعان کے) اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخشدیجئے اور (چونکہ مقصود مقام میں بد دعا ہے کافروں کے لئے اور مومنین کے لئے دعا محض مقابلے کی ھمناسبت سے ہوگئی تھی اس لئے پھر مضمون بد دعا کی طرف عود ہے جس میں وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا کے مقصود کی تفسیر ہے یعنی) ان ظالموں کی ہلاکت اور بڑھا دیجئے (یعنی ان کی نجات کی کوئی صورت نہ رہے ہلاک ہی ہوجاویں اور یہی مقصود تھا اس دعا سے کہ ان کی گمراہی بڑھا دی جائے اور ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے والدین مومن تھے اور اگر اس کے خلاف ثابت ہوجائے تو والدین سے مراد آباد و امہات بعدیہ ہوں گے، اول دعا اپنے نفس کے لئے کی پھر اصول کے لئے پھر اہل و عیال کے لئے پھر عام تابعین کے لئے۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ١ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ تم اپنی قوم کو ڈراؤ اس سے پہلے کہ ان پر پانی کا دردناک عذاب آجائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 "Warm your people ... ": Warn them that the errors and moral evils that they were involved in, would only earn them Allah's punishment, if they did not desist from them, and tell them what way they should adopt in order to ward off that punishment.

سورة نُوْح حاشیہ نمبر :1 یعنی ان کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ جن گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں میں وہ مبتلا ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا دیں گی اگر وہ ان سے باز نہ آئے ، اور ان کو بتا دے کہ اس عذاب سے بچنے کے لیے انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: اس سورت میں صرف حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغی جدوجہد اور اُن کی دُعاوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، آپ کا مفصل واقعہ سورۂ یونس (۱۰:۲۱) اور سورۂ ہود(۱۱:۳۶) میں گزرچکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٤۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کا یہ اثر ہوا کہ فرمانبردار چند آدمیوں کے سوا تمام دنیا کے لوگ طوفان سے ہلاک ہوگئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ نصیحت جو اپنی قوم کو فرمائی کہ اللہ کی عبادت کرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک سب انبیاء نے یہی نصیحت فرمائی ہے اس لئے کہ سوائے اللہ کی عبادت کے تو کسی کی عبادت کسی شریعت میں جائز نہیں ہاں اللہ کی عبادت کا طریقہ بغیر اللہ کے رولوں کی فرمانبرداری کے معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس واسطے اللہ کے رسولوں کی اور ان حاکموں اور دین کے بزرگوں کی جو اللہ کے رسول کے نائب ہیں امت کے عام لوگوں کو فرمانبرداری ضرور ہے لیکن اپنے نائبوں کی فرمانبردار میں خود اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ شرط لگا دی ہے کہ یہ فرمانبرداری وہیں تک ہے جہاں تک شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ پیدا ہوجائے۔ چناچہ صحیحین ١ ؎ میں حضرت علی (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر کسی کے قول و فعل کی فرمانبرداری شریعت کی حد تک ہے۔ دوسری حدیث صحیحین ٢ ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حد شریعت سے باہر کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے حاصل کلام یہ ہے کہ نبوت کا زمانہ تو اب دور ہوگیا ہے اس زمانہ میں صاحب شریعت کے حکم کے معلوم کرنے کے لئے صاحب شریعت کے نائبوں کی فرمانبرداری کا موقع پیش آئے تو خود صاحب شریعت کی اس نصیحت اور وصیت کی پابندی ہر مسلمان کر ضرور ہے تاکہ کسی پیرو استاد و حاکم کی فرمانبرداری میں شریعت کی فرمانبرداری ہاتھ سے نہ جاتی رہے۔ ویو خرکم الی اجل مسمی کا یہ مطلب ہے کہ زندگی تک عبادت کرو تاکہ عبادت کے چھوڑ دینے کے وبال میں کوئی آفت نہ آجائے اگر موت یا موت سے پہلے کوئی اور آفت خدا کی طرف سے آجائے گی تو پھر مہلت کا موقع باقی نہ رہے گا جو باتیں میں کہتا ہوں اگر ان کو تم غور کرو گے توجلدی راہ راست پر آجاؤگے۔ ١ ؎ صحیح بخاری باب السمع والطاعۃ للامام ص ١٠٥٨ ج ٢ و صحیح مسلم باب وجوب طاعۃ الامراء الخ ص ١٢٤ ج ٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری باب السمع والطاعۃ للامام ص ١٠٥٧ ج ٢ و مسلم باب وجوب طاعۃ الامراء الخ ص ١٢٤ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:1) انا ارسلنا نوحا الی القومہ : صاحب تفسیر مظہری (رح) لکھتے ہیں :۔ آغاز کلام میں ان (تحقیقیہ) لانے سے واقعہ کی اہمیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ الی قومہ ظاہر کر رہا ہے کہ آپ کی رسالت صرف آپ کی قوم تک محدود تھی۔ تمام انسانوں کے لئے عمومی نہ تھی۔ ان انذرقو مک میں ان تفسیر یہ ہے کیونکہ ارسال کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے (ان مفسرہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنے پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو یا معنوی) یعنی یہ کہنے کے لئے بھیجا۔ اس لئے ان انذر قول مخفی کی تشریح ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان مصدر یہ ہو اور قلنا محذوف ہو یعنی ہم نے نوح سے کہا کہ اپنی قوم کو عذاب سے ڈراؤ۔ من قبل ان یاتیہم عذاب الیہم : من حرف جر۔ قیل مضاف اگلا جملہ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور : ان مصدریہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ان کو دردناک عذاب پہنچے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 حضرت نوح پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو شرک کے انجام سے ڈرانے کا حکم دیا۔ ان کے زمانہ اور عجم وغیرہ کے متعلق بحث سورة عنکبوت میں گزر چکی ہے۔4 مراد دوزخ کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور طوفان کا بھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة نوح۔ آیات ١ تا ٢٠۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں گے اور وقت مقررہ سے پہلے عذاب کے ذریعے ہلاک نہ کیے جاؤ گے کہ آخر کو تو موت ضرور آئے گی اور تم جانتے ہو جب اللہ کی طرف سے وقت مقررہ آجائے تودھیل نہیں ملتی۔ موت کی اقسام۔ مفسرین کرام کے مطابق موت کی دو اقسام ہیں جو حدیث پاک سے ثابت ہیں اول قضامبرم ، جو ٹل نہیں سکتی اور یقینی طور پر وقت مقرر ہے دوسرے قضا معلق۔ جو کسی شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے اور مقررہ وقت سے پہلے گناہوں کی وجہ سے مسلط ہوجاتی ہے جس کی گرفت میں آکراقوام تباہ ہوئیں اور اپنی مدت عمر جو طبعی تھی پوری نہ کرسکیں۔ حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ نیکی سے عمر بڑھتی ہے تو مراد یہی ہے کہ آدمی قضاء معلق سے نہیں مرتا اور عمر طبعی طور پر پوری کرتا ہے لیکن لوگوں نے مان کر نہ دیا۔ جبکہ کتاب اللہ کے مطابق انہوں نے نوسو پچاس سال تبلیغ فرمائی اور لوگوں کی کئی نسلیں انکے سامنے گزر گئیں اتنے طویل صبرآزمامجاہدے کے بعد عرض کیا باری تعالیٰ میں اپنی کوشش کرچکا میں نے دعوت میں رات دن ایک کردیا لیکن اس قوم پر الٹا اثر ہو اور یہ دین سے دور ہی بھاگی اب تو حدیہ ہے کہ ان سے بات کروں تو یہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور سر پر کپڑے لپیٹ لیتے ہیں کہ کانوں پہ آکر بند کردیں اور محض ضد میں حق کا انکار کر رہے ہیں یہ ان کے تکبر کی انتہاء ہے میں نے انہیں کھل کر دعوت دی اعلانیہ بھی اور پردے سے بھی ہر کوشش کرلی۔ انبیاء اسرار الٰہی سے مطلع فرماتے ہیں۔ ان پر بےشماراسرار بیان کر چاہیے انہیں یہ راز بھی بتایا کہ اگر تم اپنے پروردگار کے حضور توبہ کرو تو وہ بخشنے والا ہے جہاں آخرت میں تمہاری خطا معاف کرے گا وہاں دنیا کے انعامات بھی عطا کرے گا آسمان سے درست مواقع پر برسات کرے گا جو تمہارے لیے خوش حالی کا سبب بنے گی اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا اور تمہارے کھیت کھلیان پھلیں پھولیں گے تمہیں باغات عطا کرے گا چشمے اور نہریں جاری فرمائے گا آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی عظمت سے امید نہیں لگاتے ہو۔ اگر غور کرو تو دیکھو اس نے تمہیں کیسے مختلف منازل سے گزار کر پیدا فرمایا عناصر سے غذا اور غذا سے نطفہ پھر اس سے انسان اور اس کی رہائش پھر اس پر آسمان کی چھت جو خود درجہ بدرجہ ہے پھر آسمانوں اور بلندیوں پہ چاند جو نور اور ٹھنڈی روشنی ہے اور سوج جو جلتا ہواچراغ ہے اور اس سارے نظام اور اس کی باریکیوں پہ غورکرو اور یہ جان لو کہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا پھر موت دے کر اسی میں ملادیتا ہے اور قیامت کے روز تمہیں پھر اسی میں سے نکال کھڑا کرے گا للہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابرمعلوم ہوتی ہے اور تم آرام سے اس پر راستے بنائے پھرتے ہو اور زندگی بسر کر رہے ہو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں پشت تک کوئی کافر و مشرک نہ تھا۔ جو لوگ راہ حق سے ہٹ جاتے ان کی اصلاح کے لئے نبی آتے رہے اور حضرت ادریس (علیہ السلام) جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے انہوں نے پوری قوم کو توحید کا درس دیا۔ ان کے ماننے والے بزرگوں میں سے ود، سواع، یغوچ، یعقو، اور نسر تھے جنہوں نے دین کی سچائی پر پوری قوم کو چلایا۔ پوری قوم ان سے بےانتہا عقیدت و محبت رکھتی تھی اور ان کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلتی تھی۔ جب ان پانچوں بزرگوں کا انتقال ہوگیا تو لوگوں کے عقیدوں میں بھی کمزوریاں آنا شروع ہوگئیں۔ کسی طرح شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ اگر بزرگوں کو یاد رکھنے کے لئے ان کی تصویریں بنا لی جائیں تو نہ صرف عبادت میں خشوع و خضوع اور سکون حاصل ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ ان بزرگوں کے طفیل انہیں راہ ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ چونکہ ہر گمراہی کیا بتداء ہمیشہ عقیدت و محبت میں حد سے بڑھ جانے سے ہوتی ہے لہٰذا لوگوں نے ان بزرگوں کی مورتیاں بنالیں اور ان کی زیارت کرکے اپنی عقیدت و محبت میں ایک خاص لذت محسوس کرنے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اس کے بعد کی نسلوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے باپ دادا ان تصویروں سے محبت وعقیدتے رکھتے تھے۔ ہمیں ان کا پوری طرح احترام کرنا چاہیے۔ پھر شطان نے ان کو یہ بات سمجھا دی کہہ اصل میں یہی تمہارے معبود ہیں۔ اس طرح بت پرستی کا آغاز ہوا جس کے بہت کچھ آثار عربوں میں بت پرستی کی شکل میں بھی پائے جاتے ہں۔ بت پرستی کی شدت بڑھتی چلی گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پورے معاشرہ میں بسنے والے لوگوں کا اخلاقی اور مذہبی بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ جو بھی اٹھتا وہ مزید خرابیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب چالیس سال کی عمر میں نبوت و رسالت سے نوازا تو انہوں نے تمام پیغمبروں کی طرح عبادت و بندگی، تقویٰ ، پرہیز گاری اور اطاعت رسول کا درس دینا شروع کیا۔ ابتداء میں تو لوگوں نے کوئی توجہ نہ کی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا اچھا خاصا اثر ہونا شروع ہوگیا ہے تو انہوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ کہنے لگ کہ اے نوح (علیہ السلام) ! نہ تو تمہارے پاس کوئی مال و دولت ہے اور نہ کوئی صاحب حیثیت مال دار تمہاری کسی بات کو سننا پسند کرتا ہے۔ کچھ غریب و مفلس لوگ تمہاری باتوں کو سن کر تمہارے اردگرد جمع ہوگئے ہیں اور یہ معاشرہ کے وہ لو گ ہیں جن کے پاس بیٹھنا نہ صرف ہماری توہین ہے بلکہ ہمیں ان کے قریب آنے سے بھی گھن آتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اس کا یہی جواب دیتے تھے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اب اگر میری بات غریب اور مفلس لوگ ہی سنتے ہیں تو یہ ان کی سعادت ہے یہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے ہیں میں ان کو اپنے پاس سے کیسے بھگا سکتا ہوں۔ اگر میں نے بھی ان سے وہی معاملہ کیا جو تم کر رہے ہو تو بتائو مجھے اللہ سے کون بچائے گا ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نسل در نسل ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد کی اس طویل عرصہ میں نہ تو آپ نے اپنی جدوجہد اور کوشش میں کمی آنے دی اور نہ مایوس ہوئے بلکہ تبلیغ دین کی وجہ سے قوم نے جو بدترین تکلیفیں پہنچائیں ان پر صبر کیا۔ اس قوم کا یہ حال تھا کہ وہ کبھی ان کا گلا گھونٹ دیتے جس سے وہ بےہوش ہوجاتے۔ کبھی وہ پتھر مار مار کر ان کو زخمی کردیتے۔ کبھی اتنا مارتے کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی لیکن ہوش میں آنے پر ان کی زبان پر بدعا کے بجائے یہ الفاظ ہوتے رب اغفر لقومی بانھم لا یعلمون۔ اے میرے پروردگا ان کو معاف فرما دے کیونکہ یہ مجھے جانتے نہیں۔ ان تمام تر اذیتوں کے باوجود حضرت نوح (علیہ السلام) صبح و شام رات اور دن اپنی قوم کو یہی پیغام دیتے تھے کہ لوگو ! اللہ کی عبادت و بندگی کرو، اسی سے ڈرو میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی اطاعت کرو جس سے منع کردوں اس سے رک جائو۔ اگر تم نے بتوں کے بجائے صرف اللہ کی عبادت و بندگی کی اور میری اطاعت کی تو اللہ نہ صرف تمہارے گناہ معاف کردے گا بلکہ وہ قحط کو دور کرکے تم پر مسلسل بارش برسائے گا جس سے تمہارے کھیل لہلہا اتھیں گے۔ تمہارے مالوں اور اولاد میں برکت اور ترقی ہوگی۔ تمہارے لئے حسین ترین باغات پیدا کرکے نہریں جاری کردے گا۔ جس نے اوپر تلے سات آسمان بنائے، چاند کو روشن کیا، سورج کی دھکایا، زمین کو راحت و آرام کا ذریعہ بنایا۔ اسی نے راستے بنائے تاکہ تم ان میں چل پھر سکو تم صرف اسی کی عبادت و بندگی کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ تم جس عذا کی دھمکی دیتے ہو وہ آخر کب آئے گا ؟ ہم تو سن سن کر حیران و پریشان ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا سنجید جواب یہی ہوا کرتا تھا کہ اس کا علم تو اللہ کو ہے مجھے اس کو کوئی علم نہیں البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ نافرمان قوموں کا انجام بڑا بھیانک ہوا کرتا ہے۔ جب اس کا عذاب آتا ہے تو پھر کسی میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس عذاب کو ٹال سکے۔ ابھی وقت ہے کہ تم ایمان لا کر اعمال صالح اختیار کرلو۔ وہ قوم حضرت نوح کی باتوں سے بچنے کے لئے کبھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتی کبھی منہ پر کپڑا دال لیتی تاکہ نہ وہ سن سکیں اور نہ دیکھ سکیں۔ وہ اپنے لوگوں سے کہتے کہ تمہارے معبود تو ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ہیں تم ان کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ حق و صداقت کی باتوں کو سننے کے باوجود ان میں ضد اور ہٹ دھرمی بڑھتی گئی اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت میں اور شدت پیدا کردی۔ جب اسلاح کی ہر کوشش ناکام ہوگئی اور ان کو اشارہ الٰہی بھی مل گیا کہ اب اس قوم میں سے جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد پیش کردی اور عرض کیا الٰہی ! میں نے ان کو دن رات ہر مجلس میں اور ہر جگہ پوری طرح سمجھایا مگر وہ میرے قریب آنے کے بجائے مجھ سے دور ہی بھاگتے رہے۔ اب آپ اس قوم کے لئے فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) آپ ایساجہاز (ایسی کشتی) تیار کیجئے جس میں اہل ایمان کو اور جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو سوار کرا سکیں اور راکھ سکیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب کشتی تیار کرنا شروع کی تو کفار نے مذاق اڑانا شروع کیا کہ کیا خشکی میں بھی کشتیاں چلا کریں گے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے کشتی تیار کرتے رہے۔ جب انہوں نے اس بڑی کشتی کو تیار کرلیا تو زمین کی تہہ سے پانی کا چشمہ ابلنا شروع ہوا۔ روایات کے مطابق صرف چالیس یا کچھ زیادہ اہل ایمان آپ کے ساتھ تھے جن کو کشتی پر سوار کرلیا گیا تھا۔ اور جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو رکھ لیا گیا تھا۔ پھر اس کے بعد اللہ نے زمین و آسمان کے سوتے کھول دئیے۔ ہر طرف سے پانی کا طوفان آیا تو لوگ پہاڑوں کو رکھ لیا گیا تھا۔ پھر اس کے بعد اللہ نے زمین و آسمان کے سوتے کھول دیئے۔ ہر طرف سے پانی کا طوفان آیا تو لوگ پہاڑوں پر پناہ لینے کے لئے دوڑے مگر پانی بڑھتا چلا گیا اور پہاڑوں پر پناہ لینے والے بھی ڈوب گئے۔ یہ کشتی نوح چلتی رہی جب یہ طوفانی پانی کم ہونا شروع ہوا تو وہ اراراط کے پہاڑی سلسلہ میں سے ایک پہاڑ جس کا نام ” جودی “ تھا جو دجلہ و فرات کے درمیان میں موجود تھا یہ سفینہ نوح وہاں جا کر ٹھہر گیا۔ اور اس طرح اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرکے کفار و مشرکین اور ان کی ترقیات کو تہس نہس کردیا اور اللہ نے اہل ایمان کو بچالیا۔ اہل مکہ کو خاص طور پر بتایا جا رہا ہے کہ یہ اللہ کا وہ نظام ہے جو شروع سے چلا آرہا ہے اگر انہوں نے بھی اللہ کے رسول کی نافرمانی کی اور ان کو حضرت نوح کی طرح سے ستایا ان پر ایمان لانے والے غریب اور مفلسوں کا مذاق اڑایا اور اللہ کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری نہ کی تو ان کو انجام بھی حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے پیغمبروں کی نافرمان امتوں سے مختلف نہ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ سورة سابقہ میں موجبات عقوبت کا بیان تھا ان میں سے ایک رسول کی تکذیب ہے، اس سورت میں بضمن قصہ نوح (علیہ السلام) اس کا بیان ہے، و نیز عقوبت اخرویہ مذکورہ سورت سابقہ کے ساتھ اس سورت میں کفر پر استحقاق عقوبت دنیویہ کا بھی اثبات ہے، نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس میں تسلیہ بھی ہے کہ قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی۔ 2۔ یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاوگے تو تم پر عذاب الیم آوے گا خواہ دنیوی یعنی طوفان، یا اخری یعنی دوزخ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة المعارج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو برے لوگوں کو ختم کر کے نیک لوگ لے آئے۔ سورة نوح میں اس کا عملی ثبوت دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو کس طرح ہلاک کیا اور نیک لوگوں کو آباد فرمایا اور انہیں ترقی دی۔ اس لیے المعارج کے بعد سورة نوح کو رکھا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی کہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے ایک صدی یعنی سو سال نہیں ہوسکتے کیونکہ حضرت آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیانئی نسلیں گزری ہیں لہٰذا نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ السلام) کی پیدائش کے درمیان ہزاروں سال کی مدت بنتی ہے۔ کیونکہ پہلے لوگوں کی عمر صدیوں پر محیط ہوا کرتی تھی جس بنا پر حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ثابت ہوتا ہے، بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا ارسلنا ................................ کنتم تعلمون سورت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ رسالت اور نبوت کا سرچشمہ کیا ہے اور یہ نظریہ اور عقیدہ کہاں سے آرہا ہے۔ انا ارسلنا ............ قومہ (١٧ : ١) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ گویا سرچشمہ ہدایت و رسالت ذات باری تعالیٰ ہے۔ تمام انبیاء اپنے عقائد اور ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ، اللہ انسانوں کا بھی خالق ہے۔ اس کائنات کا بھی خالق ہے اور اللہ ہی ہے جس نے افسانوں کی فطرت کے اندر معرفت رب کی استعداد رکھی ۔ اور جب بھی انسانوں نے راہ فطرت اور اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا ، اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیج دیا۔ اور تمام رسول ہمیشہ گم کردہ راہ انسانیت کو راہ راست کی طرف موڑتے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سلسلہ رسل کی پہلی کڑی تھے۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد۔ قرآن کریم نے حضرت آدم کی رسالت کا ذکر نہیں فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے یہ یہ کام کیا ، اس لئے کہ حضرت آدم صرف اپنے بیٹوں اور پوتوں کی ہدایت پر مامور تھے۔ اور حضرت آدم کے پوتے اور اولاد آپ کی وفات کے بعد ایک عرصے کے بعد گمراہ ہوئی اور اپنے لئے بت گھڑ لیے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگی۔ پہلے تو وہ ان کو مقدس قوتوں کے لئے بطور مزواشارہ استعمال کرتے تھے بعد میں انہوں نے ان بتوں ہی کی پوجا اختیار کرلی۔ اور ان بتوں میں سے مشہور وہ پانچ بت تھے ، جن کا ذکر اس سورت میں آرہا ہے۔ چناچہ جب یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ارسال فرمایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو عقیدہ توحید کی طرف واپس لانے کی طویل جدوجہد کی۔ اور ان کے عقائد کو درست کرنے کی سعی کی۔ کتب سابقہ میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو سب سے پہلے نبی کے طور پر ذکر کیا گیا۔ یعنی حرضت نوح (علیہ السلام) سے بھی پہلے۔ لیکن کتب سابقہ کے مندرجات ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر باربار تحریف ہوتی رہی ہے اور ان میں بار بار حذف واضافہ ہوتا رہا ہے۔ قرآن کریم کے قصص کے مطالعے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے نبی ہیں اور ان کو بالکل انسانیت کے ابتدائی دور میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی۔ اس دور کے لوگوں کی یہ طویل عمر بھی یہ بتاتی ہے کہ یہ لوگ بہت ہی ابتدائی دور کے لوگ تھے اور پھر اس دور میں انسانوں کی تعداد بھی بہت کم تھی اور انسانوں کی نسل ابھی تک اس طرح نہ پھیلی تھی جس طرح زمانہ مابعد میں پھیل گئی۔ حیاتیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اشیاء کی تعداد کم ہو تو عمر زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ ہی حقیقت سے واقف ہے۔ یہ سنن الٰہی کے مطالعہ پر مبنی ہمارا قیاس ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت کے مشن اور ہدف کی طرف مختصراشارہ آتا ہے۔ یہ کہ اے نوح (علیہ السلام) تم اپنی قوم کو ڈراﺅ: ان انذر .................... الیم (١٧ : ١) ” کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردے قبل اس کے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آئے “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جس حالت تک پہنچ چکی تھی اور جس طرح وہ آپ کی ہدایات اور تبلیغ سے منہ موڑ رہی تھی ، تکبر کررہی تھی اور نہایت ہی ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھی ، اس کے لئے یہاں یہ کہنا مناسب ہے کہ بس تم ان کو انجام بد سے ڈراﺅ، چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا آغازیوں کیا کہ لوگو ، دنیا وآخرت کے عذاب سے ڈرو ، تم اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا رہے ہو۔ فریضہ رسالت کے تعین کے بعد فوراً یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تبلیغ شروع کرچکے ہیں۔ آپ کا خطاب یوں ہے کہ لوگوں تم اگرچہ نہایت گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کرچکے ہو لیکن باز آجاﺅ، توبہ کرو ، تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور تمہارا حساب قیامت تک کے لئے ملتوی کردیا جائے گا۔ ورنہ تم تو فوری ہلاکت اور پکڑ کے مستحق ہو۔ ساتھ ساتھ اصول دعوت کا ذکر بھی کردیا گیا کہ اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، تمام معاملات میں میری سنت کی پیروی کرو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور طرح طرح سے کٹ حجتی کرنے لگے جس کا کچھ تذکرہ سورة ٴ اعراف میں اور سورة ٴ ھود میں گزر چکا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو میں اللہ کا رسول ہوں میری بات مانو میں جس طرح کہوں اس طرح زندگی گزارو۔ ایمان قبول کرلو گے تو تمہارے گزشتہ سب گناہ معاف ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے ایک اجل مقرر فرما دی ہے وہ تمہیں اس اجل تک پہنچا دے گا (یہ اجل ایمان اور اطاعت کی صورت میں ہے) اور اگر تم کفر اور معصیت پر جمے رہے تو وہ اجل تمہارا صفایا کر دے گی جو ایمان اور اطاعت والی اجل کے علاوہ ہے اور بصورت عدم ایمان تمہیں اس کے وقت پر ہلاک ہونا ہوگا، بلاشبہ اللہ نے جو اجل مقرر فرمائی ہے اس میں تاخیر نہیں کی جاتی لہٰذا تم اس اجل کے آنے سے پہلے ایمان قبول کرلو جو بحالت کفر تمہارے ہلاک ہونے کے لیے مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ اجل جب آتی ہے تو موخر نہیں کی جاتی کیا ہی اچھا ہوتا تم جانتے ہوتے حق کو مانتے، موحد بنتے۔ اوپر جن باتوں کا تذکرہ تھا یہ وہ باتیں تھیں جن کے ذریعہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب فرمایا ان کے مخاطب ان کی بات نہ مانیں تو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی ایمان کی طرف بلایا اور اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی سستی سے کام نہیں لیا۔ لیکن وہ لوگ الٹی ہی چال چلے۔ میں نے انہیں جس قدر بھی دعوت دی وہ اسی قدر دور بھاگے، میں نے کہا کہ ایمان قبول کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں یعنی بات سننا بھی گوارا نہ کیا اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کپڑے اوڑھ کر لیٹ گئے تاکہ نہ مجھے دیکھ سکیں نہ میری بات سن سکیں، انہیں کفر پر اصرار ہے اور ان میں تکبر کی شان بھی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ میری بات مانیں گے (شرک کو چھوڑ کر توحید پر آجائیں گے) تو ان کی بڑائی میں فرق آجائے گا۔ قبول حق کی راہ میں تکبر رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے انہیں زور سے بھی دعوت دی۔ شاید زور سے بات کرنے سے مان جائیں لیکن وہ نہ مانے، آہستہ آہستہ طریقہ پر بھی انہیں سمجھایا بجھایا۔ حق پر لانے کی کو شس کی لیکن انہوں نے دھیان نہ دیا ان سے میں نے کہا کہ دیکھو ایمان قبول کرلو اپنے رب سے مغفرت چاہو وہ بہت بڑا معاف فرمانے والا ہے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور خوب زیادہ بارش بھی بھیجے گا، یہ جو تمہیں قحط سالی کی تکلیف ہو رہی ہے دور ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اموال میں بھی اضافہ فرمائے گا اور بیٹوں میں بھی، وہ تمہیں باغ بھی دے گا اور نہریں بھی جاری فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق اور اس کے انعامات تمہارے سامنے ہیں اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ سب کچھ اسی نے پیدا فرمایا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے۔ دیکھو اس نے تمہیں مختلف اطوار سے پیدا فرمایا تم پہلے نطفہ تھے پھر جمے ہوئے خون کی صورت بن گئے، پھر ہڈیاں بن گئیں اور ان پر گوشت چڑھ گیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے اس نے تمہیں پیدا فرما کر احسان فرمایا لیکن تمہیں کیا ہوگیا عقلوں پر پتھر پڑگئے کہ خالق تعالیٰ شانہ کی ذات پاک پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی وحدانیت کے قائل نہیں ہوتے۔ انسانوں کے اپنے اندر جو دلائل توحید ہیں ان کے ذکر کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دوسرے دلائل کی طرف بھی متوجہ کیا اور فرمایا کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے نیچے اوپر سات آسمان پیدا فرمائے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا جس طرح ایک گھر میں ایک چراغ کے ذریعے سارے گھر کی چیزوں کو دیکھ لیا جاتا ہے اسی طرح سورج کے ذریعے اہل دنیا سورج کی روشنی میں وہ سب کچھ دیکھ لیتے ہیں جو زمین کے اوپر ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین سے ایک خاص طریقہ پر پیدا فرمایا ہے جس کا ذکر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے سلسلہ میں گزر چکا ہے پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس فرما دے گا یعنی موت کے بعد اسی زمین میں چلے جاؤ گے پھر وہ تمہیں قیامت کے دن ایک خاص طریقہ پر قبروں سے نکالے گا ہڈیاں آپس میں مرکب ہوجائیں گی وہ ان پر گوشت پیدا فرما دے گا اور قبروں سے تیزی کے ساتھ نکل کر میدان حشر کی طرف روانہ ہوجاؤ گے۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت بھی بیان فرمائی اور میدان حشر کی حاضری کا بھی احساس دلا دیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عالم علوی کے ذکر کے بعد عالم سفلی کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بساط یعنی فرش بنا دیا جس طرح بستر بچھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح زمین تمہارے لیے بچھی ہوئی ہے اس زمین میں چلتے پھرتے ہو یہاں سے وہاں آتے جاتے ہو، اللہ تعالیٰ نے جو راستے بنا دیئے ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہو اپنی حاجات پوری کرتے ہو، زمین کو تمہارے قابو میں دے رکھا ہے، اس سے طرح طرح کے منافع حاصل کرتے ہو۔ قال تعالیٰ فی سورة الملک ﴿هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ١ؕ ﴾ (اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر فرمایا، سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ) ۔ فائدہ : آفتاب کو جو سراج یعنی چراغ بتایا اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے سراج سے اس لیے تشبیہ دی ہو کہ چراغ میں خود اپنی ذاتی روشنی ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے منعکس ہو کر نہیں آتی۔ سورج میں اپنی روشنی ہے جو کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئی جبکہ چاند کی روشنی آفتاب سے منعکس ہو کر آتی ہے لہٰذا چاند کو نور اور شمس کو سراج فرمایا۔ اور ﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْہِنَّ نُوْرًا﴾ جو فرمایا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : جعلہ فیھن مع انہ فی احداھن وھی السماء الدنیا کما یقال زید فی بغداد وھو فی بقعة منھا (چاند کا ذکر فرماتے ہوئے فیھن ضمیر جمع استعمال فرمائی ہے حالانکہ وہ سماء دینا یعنی قریب والے آسمان میں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے زید بغداد میں ہے حالانکہ وہ بغداد کے ایک حصے میں ہوتا ہے) ۔ اور صاحب بیان القرآن نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ چاند گو سب آسمانوں میں نہیں مگر فیھن باعتبار مجموعہ کے فرما دیا۔ زمین کو جو یہاں سورة ٴ نوح میں بساط فرمایا اور سورة ٴ نباء میں مہاد فرمایا اور سورة الغاشیہ میں ﴿ وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ٠٠٢٠﴾ فرمایا اس سے زمین کا مسطح یعنی غیر کرہ ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ بڑے کرہ پر بہت سی چیزیں رکھ دی جائیں خواہ کتنی ہی بڑی ہوں تو یہ محسوس نہیں ہوگا یہ کرہ پر رکھی ہیں جیسے ایک گیند پر ایک چیونٹی بیٹھ جائے تو اس کے جسم کے اعتبار سے گیند ایک سطح ہی معلوم ہوگی اور یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ زمین کا کرہ ہونا یا کرہ نہ ہونا کوئی امر شرعی نہیں ہے جس کا اعتقاد رکھا جائے زمین اگر کرہ ہو تو کسی آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” انا ارسلنا “ دلیل نقلی تفصیلی از نوح علیہ السلام۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ اپنی قوم کو سمجھائیں کہ دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ہی دعوت توحید کو مان لو۔ ” قال یقوم “ چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم کو واضح اور کھلے لفظوں میں خبردار کرنے آیا ہوں کہ ” اعبدو اللہ واتقوہ “ تم صرف اللہ کی عبات کرو۔ صرف اسی کو برکات دہندہ سمجھو اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ اس کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو مسئلہ سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اے اہل مکہ، آؤ مسئلہ مان لو ورنہ تم پر بھی خدا کا عذاب آئیگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اے نوح (علیہ السلام) تو اپنی قوم کو کفرو شرک سے ڈرادے اس سے پہلے کہ ان پر درد ناک عذاب آئے۔ یعنی ان کو کہو کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نہ خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کرو ورنہ یادرکھو کہ تم پر سخت دردناک عذاب نازل ہوگا ، یعنی طوفان میں غرق کردیئے جائو گے یا جہنم میں داخل ہوگے یا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جگہ عذاب دیئے جائو گے آگے نوح (علیہ السلام) کا بیان ہے۔