Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 24

سورة نوح

وَ قَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ ۚ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾

And already they have misled many. And, [my Lord], do not increase the wrongdoers except in error."

اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ( الٰہی ) تو ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ... And indeed they have led many astray. meaning, by the idols that they took for worship, they mislead a large number of people. For verily, the worship of those idols continued throughout many generations until our times today, among the Arabs, the non-Arabs and all the groups of the Children of Adam. Al-Khalil (Prophet Ibrahim) said in his supplication, وَاجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ الاٌّصْنَا مَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ And keep me and my sons away from worshipping idols. "O my Lord! They have indeed led astray many among mankind...") (14:35,36) Allah then says, ... وَلاَ تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلاَّ ضَلَلاً Grant no increase to the wrongdoers save error. This is a supplication from him (Nuh) against his people due to their rebellion, disbelief and obstinacy. This is just as Musa supplicated against Fir`awn and his chiefs in his statement, رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَ يُوْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment. (10:88) Verily, Allah responded to the supplication of both of these Prophets concerning their people and He drowned their nations due to their rejection of what he (that Prophet) had come with.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وقد اضلوا کثیراً …: یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔” ولا تزد الظلمین الا ضلاً “ (اور ان ظالموں کو گمرایہ کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لئے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوجائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آل فرعون کے حق میں یہی بد دعا کیھی :(ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم) (یونس : ٨٨)” اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔ “ ضمیر کی جگہ ” الظلمین “ کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

(آیت) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا یعنی ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا فرض منصبی قوم کو ہدایت کرنے کا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کی گمراہی کی بد دعا کیسے کی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس کی تو خبر دے دیتھی کہ اب ان میں کوئی مسلمان نہیں ہوگا اس لئے ان کا گمراہی اور کفر پر مرنا تو یقینی تھا حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کی گمرایہ بڑھا دینے کی دعا اس لئے فرمائی کہ جلد ان کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہلاک کردیئے جائیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا۝ ٠ۥۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا۝ ٢٤ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان سرداروں نے ان میں بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا یہ کہ ان کی وجہ سے بہت سے گمراہ ہوگئے۔ لہذا ان مشرکین کی بتوں کی پرستش کی وجہ سے گمراہی نقصان اور ہلاکت اور بڑھا دیجیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤{ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًاج وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا ۔ } ” اور انہوں نے تو بہتوں کو بہکا دیا ہے۔ اور (اے اللہ ! ) اب ُ تو ان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہ فرما ! “ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر آپ (علیہ السلام) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب آپ (علیہ السلام) کی حمیت دینی کو اس ناہنجار قوم کا ایمان لانا بھی گوارا نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہیں کہ پروردگار ! اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرما۔۔۔۔ بالکل ایسی ہی کیفیت کی جھلک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا میں بھی نظر آتی ہے : { وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَآ اِنَّکَ اٰ تَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہٗ زِیْنَۃً وَّاَمْوَالاً فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَج رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ } (یونس) ” اور موسیٰ (علیہ السلام) ٰ نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زیب وزینت اور اموال عطا کردیے ہیں دنیا کی زندگی میں۔ پروردگار ! اس لیے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں تیرے راستے سے ! اے ہمارے رب ! اب ان کے اموال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دے کہ یہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ یہ کھلم کھلا دیکھ نہ لیں عذاب ِالیم کو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 As we have explained in the introduction to this Surah, the Prophet Noah did not invoke this curse out of impatience but he invoked it when, after doing full justice to the preaching of his mission for many centuries, he became totally despaired of any success with his people. Similar were the conditions under which the Prophet Moses also had cursed Pharaoh and his people, thus: "Lord, destroy their wealth and harden their hearts in a manner so that they do not believe until they see the painful torment." And Allah, in response, had said: "The prayer of you both has been granted" Yunus: 88-89) . Like the Prophet Moses', the Prophet Noah's curse also was in complete conformity with Divine Will. Thus, in Surah Hud it has been said: "And it was revealed to Noah: No more of your people will believe in you now than those who have already believed. So, do not grieve at their misdeeds." (v. 36) .

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:24) وقدا ضلوا کثیرا۔ واؤ عاطفہ ، قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ اضلوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر سے۔ انہوں نے گمراہ کیا۔ انہوں نے بہکا دیا۔ اس میں ضمیر فاعل قوم نوح کے سرداروں کی طرف راجع ہے یا بتوں کی طرف راجع ہے بہکانے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے بت گمراہی کا سبب ہیں وہ گمراہ نہیں کرتے۔ ان کے ذریعہ شیطان نے گمراہ کیا تھا۔ جیسا کہ آیت رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14:36) میں گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے۔ کثیرا : ای خلقا کثیرا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (اے پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے جملہ وقد اضلوا کثیرا حالیہ ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ولاتزد الظالمین الا ضلال : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف انھم عصوفی پر ہے یا جملہ قد اضلوا کثیرا پر ہے۔ لا تزد فعل نہی واحد مذکر حاضر زیادۃ (باب ضرب) مصدر تو زیادہ نہ کر۔ تو مت بڑھا الظلمین ظلم کرنے والے۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔ الاضلال مستثنیٰ مفرغ۔ ضلال گمراہی، ہلاکت۔ ترجمہ :۔ اور تو نہ بڑھا ظالموں کو مگر گمراہی میں (یعنی ان ظالموں کی گمراہی کو اور بڑھا دے ، تاکہ جلدی عذاب کا مزہ چکھیں) ۔ فائدہ : حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ بددعا کسی بےصبری کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ یہ اس وقت آپ کی زبان مبارک سے نکلی تھی جب صدیوں تک تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد وہ اپنی قوم سے مایوس ہوچکے تھے اور وحی الٰہی خود ظالموں کے قبول اسلام نہ کرنے سے مطلق کرچکی تھی سورة ہود میں ارشاد الٰہی ہے :۔ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن من قومک الا من قدا من فلا تبتئس بما کانوا یفعلون ۔ (11:34) اور نوح علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے (لاچکے) ان کے سوا اور کوئی ایمان نہ لائے گا۔ تو جو یہ کام کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔ ایسے ہی حالات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے لئے یہ بددعا کی تھی۔ وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ و امنو الا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبھم فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم (11:88) اور (حضررت) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازوبرگ اور مال و زر دے رکھا ہے اے پروردگار اس کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا :۔ قال قد اجیبت دعوتکما فاستقیما ولا تتبعن سبیل الذین لا یعلمون (11:89) (خدا نے) فرمایا : ۔ کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے پر نہ چلنا۔ فائدہ : (2): بعض نے ضلال کے معنی ہلاکت کے لئے ہیں جیسے آیت ان المجرمین فی ضلل وسعر (54:47) میں ضلال سے تباہی مراد ہے۔ فائدہ : (3) صاحب تفسیر حقانی نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے (وہ بت ستمگاروں کو یعنی اپنے پرستاروں کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا کرتے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 کیونکہ جب ان کی گمراہی بڑھے گی تو وہ مزید عذاب کے سزا وار ٹھہریں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجاویں، پس مقصود دعا کرنا زیادہ ضلال کی نہیں بلکہ استحقاق ہلاکت کی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقد .................... کثیرا (١٧ : ٤٢) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔ اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔ ولا تزد .................... ضللا (١٧ : ٤٢) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے “۔ یہ ایک ایسے دل کی بددعا ہے جس نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی۔ ایک طویل عرصہ تک مشقتیں برداشت کیں۔ یہ بددعا تب نکلی کہ تمام ذرائع ختم ہوگئے اور معلوم ہوگیا کہ ان ظالم باغی اور سرکش دلوں میں اب بھلائی کا رمق بھی باقی نہیں ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دل رب کی ہدایت اور نجات کے مستحق ہی نہیں رہے۔ قبل اس کے حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری بددعا یہاں نقل کی جائے ، ظالموں اور خطاکاروں کا انجام نقل کیا جاتا ہے۔ ان کا وہ انجام بھی جو یہاں ہوا اور وہ بھی جو آخرت میں ہوا۔ کیونکہ اللہ کے علم کے نقطہ نظر سے آخرت بھی حاضرو موجود ہے اور زاویہ سے بھی کہ اس کا وقوع اس قدر یقینی ہے کہ گویا واقع ہوگیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) اور بلا شبہ ان ذی اقتدار اور ذی وجاہت و ریاست لوگوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا اور بہکا دیا اور اے میرے پروردگار ان ظالموں اور بےانصافوں کی گمراہی اور زیادہ کردے یعنی ان میں سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ بڑھے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) عرصہ دراز تک قوم کی ایذارسانی برداشت کرتے رہے آخر ان کے ایمان لانے کی جب کوئی امید نہ رہی اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ لن یومن من قومک الا من قدامن جیسا کہ سورة ہود میں گزرچکا تو انہوں نے حق تعالیٰ کی بارگا ہ میں فریاد کی۔ اوپر کی آیتوں میں قوم کو سمجھانے اور بلانے کی تفصیل تھی اور یہاں سے ان کی ہلاکت اور تباہی کی دعا کے لئے تمہید ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور میرے کہنے پر نہ چلے اور اپنے روساء اور ذی اقتدار اور پنچایت کے سرپنچ غرض بڑے لوگوں کے کہنے پر چلے اور ان کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ وہ ان پر نقصان اور خسارہ ہے نقصان کی بات یہی ہے کہ خودبھی اسلام سے دور رہے اور دوسروں کو بھی اپنے اثر اور دبائو سے قبول کرنے نہ دیا ہم نے من لم یزد کا ترجمہ معنی کے اعتبار سے جمع کے ساتھ کردیا ہے یہ ایسا ہی جیسا من یقول امنا۔ آگے حضرت حق تعالیٰ نے بھی جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رئوسا اور ذی اقتدار سب ہی حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں آگے آگے تھے چناچہ فرمایا کہ ان رئوسا اور بڑے لوگوں نے مجھ کو بہت بڑا فریب دیا یعنی ایک طرف مجھ کو تھپکتے رہے اور دوسری طرف قوم ک واللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکتے رہے اور میر ی ایذارسانی پر ابھارتے رہے اور ان کو بت پرستی پر جماتے رہے چناچہ انہوں نے قوم کے ضعفا اور ماتحت لوگوں کو تاکیداً کہا کہ تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا بلکہ ان کی پوجاپرجمے رہنا اور بالخصوص تو ود کو اور سواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو تو چھوڑنا ہی نہیں یہ شاید نیک اور عابد لوگ تھے جن سے لوگ عقیدت رکھتے تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے ان کی تصویریں بناکر ان کو مسجد میں رکھ دیں یہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنا غم غلط کرلیا کرتے تھے کئی پشتوں کے بعد آہستہ آہستہ شیطان نے ان تصویروں کی پوجا شروع کرادی ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ ان رئوسا اور ذی اقتدار لوگوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا اور بہکا دیا آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا ہے۔ ولاتزد الظلمین الا ضلالاً ۔ یعنی اے پروردگار ان میں سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ بڑھا یعنی ان نابکاروں میں گمراہی اور بےراہ روی ہی بڑھتی رہے۔ اسی طرح کی ایک بدعا سورة یونس (علیہ السلام) میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی بھی گزر چکی ہے جو فرعون کے حق میں انہوں نے کی تھی۔ اس قسم کی دعا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان پر عذاب آئے تو پھر بھرپور عذاب آئے اور ان کی گرفت میں نہ تو تاخیر ہو اور نہ رعایت اور اس قسم کی دعا کوئی پیغمبر جب ہی کرتا ہے جب اسکو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ میری قوم ایمان لانے والی نہیں۔ پھر ایسے افراد کو جن کی ہدایت سے مایوسی ہوچکی ہو اور وہ قوم کے لئے ایک عضو فاسد کا حکم رکھتے ہوں ان کو ختم کرنے اور جس سے علیحدہ کرنے کے سوا چار کار اور ہے بھی کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح استدراجاً کسی کافر کو مہلت دیجاتی ہے وہ بھی ان کو ملے ان کے پیمانے میں اگر کچھ کمی ہے تو اس کو پورا کرکے ان کو ٹھکانے لگائے۔ آخر ایک ہزار یا ساڑھے نو سو برس تک سمجھانے کے بعد بھی جس قوم کی یہ حالت ہو کہ وما امن معہ الا قلیل۔ تو وہ سوائے تباہ اور برباد ہونے کے اور کس چیز کی مستحق ہوسکتی ہے آگے ان کے غرق ہونے کا ذکر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے مال داروں کا کہا مانا اور ان کے مال واولاد میں کچھ خوبی نہیں بلکہ ان پر ٹوٹا ہے انہی کے سبب دین سے محروم رہے۔ یعنی سب کو سمجھا دیا کہ اس کی بات نہ مانو۔ یعنی بھٹکتے رہیں کوئی تدبیر بن پڑے اور دو اور سواع وغیرہ ناک تھے بتوں کے ہر ہر مطلب کا ایک بت تھا۔ غرض یہ دعا حضرت نوح (علیہ السلام) کی حقیقت میں استحقاق ہلاکت و بربادی کی ہے۔