تعارف سورة الجن سورة نمبر 72 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 287 حروف 1126 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث سے ثابت ہے کہ جس طرح انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اسی طرح جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے یہ ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی ہماری نظروں سے پوشیدہ اور بااختیار ہے۔ ان میں اللہ کے فرمانبردار اور نافرماں دونوں طرح کے جنات ہیں۔ جس طرح انسان شہروں اور آبادیوں میں رہتا ہے۔ جنات کا بسیرا ویرانوں اور جنگلوں اور پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے یہ جنات آسمانوں کی طرف نکل جاتے اور فرشتوں کی گفتگو سے آئندہ ہونے والے واقعات کی کچھ باتیں سن کر رہ اپنے کاہنوں کے پاس آتے۔ کاہن کچھ جنات سے سن کر اور کچھ اپنی طرف سے بیان کرکے آنے والے حالات کی پیشین گوئیاں کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا کرتے تھے۔ لوگ سمجھتے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تو اللہ نے جنات کا آسمان کی طرف آنا بند کردیا۔ جب وہ سن گن لینے آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے تو ان پر آگ کے گولوں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی۔ جنات حیران تھے کہ آسمان پر ہر طرف پہرے لگا دئیے گئے ہیں اور جو آسمانوں کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر آگے کے گولے برسائے جاتے ہیں یقینا ضرور کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے۔ جنات کے کئی گروہ زمین کے اطراف میں پھیل گئے ایک مرتبہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے واپس آتے ہوئے عکاظ کے مقام پر فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات پر مشتمل ایک گروہ نے جو حالات کی تحقیق کے لئے نکلا ہوا تھا قرآن کریم کو بڑے غور سے سنا۔ وہ قرآن کریم کی لذت اور کیفیت میں کھو گئے۔ آخر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت سن کر ایمان قبول کرلیا پھر وہ نو جنات اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو جو کچھ بتایا اللہ تعالیٰ نے ان کی گفتگو کے جملوں کو نقل فرمایا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے اللہ نے میری طرف وحی کرکے بتایا ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کریم کو سنا اور پھر اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلندو برتر ہے۔ اس نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا ہے۔ ہم نے سمجھا تھا کہ جو لوگ اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت باتیں کرتے تھے وہ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں لیکن بعض لوگوں نے جنات سے پناہ مانگ کر ان کے غرور وتکبر میں اضافہ کیا ہے۔ اور انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا کہ تمہارا گمان تھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ جنات نے کہا کہ جب ہم نے آسمانوں کو کھنگالا تو دیکھا وہ پہرے داروں سے بھرا ہوا تھا اور شہاب ثاقب برسائے جا رہے ہیں۔ پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمانوں میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے مگر اب یہ حال ہے کہ جب ہم پوری چھپے کچھ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم شہاب ثاقب اپنے پیچھے لگا ہوا پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ زمین والوں پر کسی عذاب کی تیاری ہے یا ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم بھی تو مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں کوئی نیک اور صالح ہے اور کوئی ان سے کم تر ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ کہیں بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں۔ جب ہم نے ہدایت کی تعلیم کو سنا تو ہم ایمان لے آئے۔ اب جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس پر کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ جنات نے کہا ہم میں کچھ تو مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) اور کچھ حق کا انکار کرنے والے ہیں۔ تو جنہوں نے اسلام ( اطاعت) کا راستہ اختیار کرلیا انہوں نے تو نجات کا راستہ تلاش کرلیا اور جنہوں نے کفرو انکار کیا ان کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ جنات کی اس گفتگو اور کہے گئے جملوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ جو لوگ سیدھے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں گے تو ان کو خوب سیراب کیا جائے گا اور یہ خوش حالی ان کی آزمائش بھی ہوگی اور جو لوگ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیر کر چلیں گے تو ان کا رب ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ مسجدیں تو اللہ کے ذکر کے لئے ہیں اور ان میں اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب اللہ کا ایک بندہ (یعنی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پکارنے کے لئے اللہ کے گھر میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان پر چاروں طرف سے یلغار کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ نہ میں لوگوں کے نفع نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی کو بھلائی پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر میں اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ مانگوں گا (جس طرح کفار جنات سے مدد مانگتے ہیں) تو مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دوں۔ اس کے باوجود جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرے گا اس کے لئے ایسی آگ تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ فرمایا کہ جب یہ لوگ اس چیز کو (قیامت کو) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت تعداد میں کم ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر کی ہے۔ اس کا تعلق غیب سے ہے اور اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کا مطلع نہیں کرتا البتہ جس رسول کو وہ غیب کا علم دینا پسند کرے تو وہ اس کو (وحی کے ذریعہ) غیب کا علم دے دیتا ہے۔ لیکن وہ اس کے آگے اور پیچھے ایسے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے تاکہ وہ علم محفوط طریقے سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی طرح کی آمیزش یا ملاوٹ نہ ہوسکے۔ اللہ نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو گن رکھا ہے۔
سورة الجنّ کا تعارف یہ سورت بھی اسم بامسمّہ ہے اس لیے کہ اس میں جن کا تذکرہ ہوا ہے، الجنّ کا لفظ اس سورت میں تین مرتبہ آیا ہے۔ اس کی اٹھائیس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں اور یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عکاز کی منڈی، بعض مفسرین نے طائف کے سفر سے بعد کا واقعہ لکھا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے دسویں سال اہل مکہ سے مایوس ہو کر طائف کی طرف گئے تاکہ طائف والوں کو دین کی دعوت دی جائے، لیکن طائف والوں نے آپ کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ آپ زخمی حالت میں مکہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں جنوں کے ایک وفد نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید کی تلاوت سنی جونہی انہوں نے قرآن پاک سنا تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ ہم نے قرآن کی صورت میں عجب کلام سنا ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم نے عہد کرلیا ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اس لیے کہ ہمارا رب بڑی شان والا ہے نہ اس کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔ اس کے باوجود ہم میں سے بیوقوف اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف عقائد رکھتے ہیں۔ قرآن مجید سننے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ جن اور انسان اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بول سکتے مگر قرآن مجید کی تلاوت سننے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بیشمار جن اور انسان اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم نے ایک اور بات محسوس کی ہے کہ اب ہم میں کوئی بات سننے کے لیے آسمان کی طرف چڑھتا ہے تو ایک بڑھکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی انقلاب آنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے جنات کے خیالات ذکر کرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” قل “ کا لفظ بول کر درجہ ذیل ہدایات سے سرفراز فرمایا : ١۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالات جیسے بھی ہوجائیں آپ یہی کہیں اور دعوت دیتے رہیں کہ میں صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤں گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نفع نقصان اور ہدایت دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ٣۔ اے لوگو ! اگر اللہ تعالیٰ میری گرفت کرنے پر آئے تو مجھے بھی کوئی نہیں بچا سکتا، یاد رکھو جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرے گا وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ ٤۔ اے لوگو ! میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی لمبی مدت مقرر کی رکھی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہی غائب کو جاننے والا ہے اس کے سوا کوئی بھی غائب نہیں جانتا الّا یہ کہ جتنا چاہے وہ اپنے رسول کو بتادیتا ہے۔
سورة الجن ایک نظر میں اس سورت کے معانی اور مفاہیم پر غور کرنے سے پہلے ہر احساس پر جو نمایاں چیز نمودار ہوتی ہے اور جو بہت واضح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک موسیی کا قطعہ ہے ، جس کی آواز کانوں میں مسلسل آرہی ہے۔ جس کا نغمہ نہایت قوی ہے اور جو ترنم سے بھر پور ہے۔ یہ پوری سورت گنگناہٹ سے بھر پور ہے۔ اس کی آواز میں حزن وملال اور تاسف اور شکایت وغم نمایاں ہے ۔ بلکہ اس پوری سورت کے اندر رنج والم اور درد وکرب واضح نظر آتا ہے۔ یہ خصوصیت اس سورت کے مناظر ، اس کی فضا اور اس کی روح میں نمایاں ہے۔ خصوصاً سورت کے آخری حصے میں جہاں جنوں کے قول کے اختتام پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہوتا ہے۔ اس خطاب کو وسن کر ہر شخص کے دل میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اس ہمدردی میں محبت کے جذبات بھرے نظر آتے ہیں۔ اس خطاب میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے ۔ کہ آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تبلیغ کریں اور یہ کہ اللہ آپ کا نگران ونگہبان ہے۔ قل انما……………شیء عددا (20:72 تا 28) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہو کہ ” میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا “۔ کہو ، ” میں تم لوگوں کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا “۔ کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں۔ اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔ وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ، سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ جنات نے جو حقائق پیش کیے ان کا نفسیاتی اثر اس کے علاوہ ہے۔ اس سورت میں جنات کی ایک طویل تقریر پیش کی گئی ہے۔ اور اس تقریر میں جنات نے بہت ہی وزن دار حقائق بیان کیے ہیں۔ جن کا انسانی احساس اور انسانی ادراک پر بہت بھاری اثر ہوتا ہے۔ اور انسان غوروفکر پر مجبور ہوتا ہے کہ جس دعوت کو جنات اس طرح ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ان کو انسان کیونکر نظر انداز کرسکتے ہیں۔ یہ غوروفکر جب اس سورت کے عمومی مغموم لہجے اور مغموم اور درد بھری موسیقی سے ملتے ہیں تو یہ باہم نہایت ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور پردہ احساس پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ پھر جو لوگ اس سورت کو ، ترتیل کے ساتھ اور اس پس منظر کے ساتھ سمجھتے ہوئے پڑھتے ہیں تو یہ احساسات واضح ہوکر سامنے آتے جاتے ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا۔ یہ تو تھا اس سورت کا ایک ممتاز پہلو ، اب اس سے آگے بھڑ کر جب ہم اس کے محور ، موضوع اور اس رخ کلام پر غور کرتے ہیں تو اس میں علم و حکمت کے بیشمار معانی واشارات پائے جاتے ہیں۔ یہ سورت ایک دوسرے جہاں سے اسلامی نظریہ حیات پر شہادت ہے ، جس کے بارے میں مشرکین جھگڑتے تھے۔ جدل وجدال کرتے تھے اور محض تیر تکے چلاتے تھے اور بعض اوقات سرے سے اس کے منکر ہوجاتے تھے۔ وہ کبھی یہ کہتے تھے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلامی نظریہ حیات کے بارے میں جو باتیں کرتے ہیں وہ ان پر جن القا کرتے ہیں۔ چناچہ اس سورت میں جنوں کی طرف سے اس نظریہ کی تصدیق آتی ہے اور وہ اس کی سچائی کی شہادت دیتے ہی۔ اور اس بات کی تکذیب کرتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنوں سے امداد لیتے ہیں حالانکہ خود جنوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اس قرآن کاتب پتہ چلاجب انہوں نے خود حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسے سنا اور قرآن سن کر یہ جن دم بخود رہ گئے ، مرعوب ہوگئے اور ان پر اس قرآن کے گہرے اثرات پڑے۔ ان کے دل اللہ کے فیوض وبرکات سے اس قدر بھر گئے کہ اب وہ خاموش نہیں رہ سکے۔ نہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی مجمل اور سرسری بات کی ، نہ مختصر بات کی بلکہ نکلے اور اس پیغام کو پوری تفصیل کے ساتھ اپنی قوم تک پہنچادیا۔ جس طرح کسی کو اچانک عظیم خبر مل جاتی ہے اور ورہ ہر کسی سے کہتا پھرتا ہے کیونکہ نزول قرآن دراصل ایک عظیم واقعہ تھا۔ جس سے زمین و آسمان ، کواکب وسیارے ، جن وانس ، ملائکہ اور پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ، اور اس واقعہ نے تمام عالم کو متاثر کرلیا تھا۔ یہ جنوں کی طرف سے اسلام کے حق میں ایک نہایت موثر نفسیاتی شہادت تھی۔ اس کے بعد سورت نے جنوں کے بارے میں وہ تمام اوہام واخرافات ختم کردیئے جو ان کے بارے میں لوگوں کے عقائد میں رچے بسے تھے ، نیز قرآن کے مخاطبین سے پہلے اور بعد کے زمانوں میں جنوں کے بارے میں لوگوں کے جو اوہام تھے ، ان کی تصحیح بھی کردی۔ اور اس چھپی ہوئی مخلوق کی پوری حقیقت بتادی کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے ، بغیر افراط وتفریط کے ۔ اس لئے کہ قرآن کریم کے پہلے مخاطبین کے عقائد میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی تھی کہ جنات کو اس کرہ ارض پر اقتدار حاصل ہے۔ اس لئے اہل عرب جب کسی بھی وادی اور نشیبی جگہ میں داخل ہوتے تھے یہ لوگ جنوں سے ان کے سردار کے ہاں پناہ لینے کا اعلان کرتے ۔ اور کہتے کہ میں اس وادی کے سردار کے ہاں اس وادی کے احمقوں کی حماقتوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعدوہ اپنے آپ کو امن میں سمجھتے تھے۔ نیز ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ جنات غیب بھی جانتے ہیں اور یہ غیب کی خبریں کاہنوں کو دیتے ہیں اور یہ کاہن پھر پیش گوئیاں کرتے تھے۔ بعض عرب جنوں کی عبادت بھی کرتے تھے اور بعض نے اپنا نسب نامہ جنوں کے ساتھ ملا دیا تھا۔ اور بعض یہ کہتے تھے کہ اللہ کی ایک بیوی جنوں میں سے ہے جس سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں۔ جنوں کے بارے میں یہ اور اس قسم کے دوسرے عقائد و تصورات جاہلیت میں عام تھے اور بعض حلقوں اور علاقوں میں یہ اوہام و خرافات آج تک موجود ہیں۔ ایک طرف تو یہ اوہام و خرافات تھے جو ایام جاہلیت میں لوگوں کے تصورات پر چھائے ہوئے تھے۔ اور جن کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی تھے اور ہیں جو سرے سے جنوں کے وجود سے انکار کرتے ہیں اور یہ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنات کے بارے میں جو بات بھی ہو وہ خرافات ہے۔ چناچہ بعض لوگ تو وہم کے سمندر میں غرق تھے اور بعض افکار کے اندھیرے میں غرق تھے۔ ان کے دو انتہائوں کے درمیان اسلام نے جنوں کی اصل حقیقت بیان کردی۔ اور ان کے بارے میں لوگوں کے افکار درست کردیئے۔ لوگوں کے دل و دماغ سے خرافات بھی نکال دیئے ، ان کے دلوں سے ان کا خوف بھی نکال دیا ، اور لوگوں کو اس بات سے نجات دے دی کہ لوگ خواہ مخواہ کی سلطنت کے تابع ہوں۔ جن ایک حقیقی مخلوق ہیں۔ وہ یہاں خود اپنے بارے میں یہ معلومات دیتے ہیں : وانا منا……………قدادا (11:72) ” اور ہم میں سے کوئی صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں “۔ بعض گمراہ اور گمراہ کنندہ ہیں اور بعض سادہ اور بےگناہ ہیں۔ یہ سادہ لوگ دھوکہ بھی کھاجاتے ہیں۔ وانہ ……………کذبا (5:72) ” اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں “۔ اور یہ کہ ” ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے “۔ اور یہ کہ جنات ہدایت کے قابل ہیں۔ اسی طرح وہ گمراہ بھی ہوتے ہیں اور قرآن مجید کو سن کر وہ سمجھتے ہیں اور گہرا تاثر لیتے ہیں۔ قل اوحی…………بربنا احدا (2:72) ” اے نبی کہو ، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا اور پھر جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : ” ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ اور یہ کہ وہ ازروئے تخلیق انسانوں کی طرح ایک ذمہ دار مخلوق ہیں اور ان پر جزاء وسزا کا اصول جاری ہوتا ہے۔ اور ایمان اور کفر کے بارے میں وہ مکلف ہیں۔ وانا لما…………حطبا (13:72 تا 15) ” اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہگا اور یہ کہ ہم میں سے کچھ مسلم ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام اختیار کرلیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنے والے ہیں “۔ یہ انسانوں کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتے جب یہ لوگ ان کی پناہ مانگتے ہیں بلکہ اس پناہ مانگنے کی وجہ سے جن اور مغرور ہوجاتے۔ وانہ …………رھقا (6:72) ” اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جن میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اس طرح انہوں نے جنوں کا غرور اور بڑھادیا “۔ اور یہ کہ وہ نہ علم غیب جانتے ہیں اور نہ عالم بالا میں انہیں کوئی رسائی حاصل ہے۔ وانا لمسنا……………ربھم رشدا (8:72 تا 10) ” اور یہ کہ ” ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہریداروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہورہی ہے “۔ اور یہ کہ ” پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لئے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے “۔ اور یہ کہ ” ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے “۔ اور یہ کہ ان کے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ وانہ ……………ولدا (3:72) ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا “۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں جنوں کی کوئی قوت نہیں ہے نہ وہ اللہ کے کاموں کے مقابلے میں کوئی حیلہ رکھتے ہیں۔ وانا ظننا…………ھربا (12:72) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یہ صفات جو یہاں ذکر ہوئیں اور ان کے علاوہ قرآن کریم میں ان کی جو صفات مذکور ہیں یا جو حالات بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جن علم غیب نہیں جانتے ۔ حضرت سلیمان السلام کے قصے میں آتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے لئے مسخر شدہ جن ، ایک عرصہ تک کام کرتے رہے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہیں۔ فلما قضینا…………المھین (14:72) ” پر جب اس کی موت کا فیصلہ کردیا تو اس کی موت کی اطلاع ان کو گھن سے لگی جس نے اس کا عصا کھالیا۔ پھر جب وہ گر پڑا تو جنوں کو علم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے تو اس ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔ “ ابلیس جو جنوں میں سے ہے ، اس کے بارے میں قرآن خصوصیت سے یہ کہتا ہے۔ انہ یرکم……………ترونھم (27:7) ” وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے “۔ یعنی ان کا وجود ایسا ہے کہ انسان اس کو نہیں دیکھ سکتے جبکہ جن انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور سورة رحمان میں جنوں کے مادہ تخلیق اور انسانوں کے مادہ تخلیق کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ خلق الانسان…………من نار (15:55) ” آدمی کو کھنکھارتی مٹی سے بنایا ، جیسے ٹھیکری ہوتی ہے ، اور جن کو آگ کی لپٹ سے “۔ ان تمام آیات سے اس مخلوق کے وجود اور اس کی نوعیت کی تفصیلات معلوم ہتی ہیں اور اس کی بیشتر خصوصیات بھی معلوم ہوتی ہیں۔ اور وہ تمام اوہام اور قصے کہانیاں اور خرافات کی تردید بھی ہوجاتی ہے ، جو جاہلیت کے دور میں جنوں کیساتھ وابستہ ہوگئے تھے۔ یوں جنات کے بارے میں ایک مسلم کا تصور بالکل صاف ستھرا اور واضح ہوجاتا ہے اور اس میں اوہام و خرافات کاشائبہ تک نہیں ہے۔ اور اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو جنات کے سرے سے وجود کے منکر ہیں۔ اس سورت نے مشرکین عرب کے ان خیالات کی پوری پوری تردید بھی کردی جو وہ اس کائنات میں جنوں کے کردار کے بارے میں رکھتے تھے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے جنوں کے وجودہی کا انکار کیا ہے تو ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اس انکار کو کس دلیل پر مبنی کرتے ہیں ؟ اور پھر اس قدر قطعی اور جزمی بات کرتے ہیں اور جو لوگ جنات کو تسلیم کرتے ہیں ان کے ساتھ ہنسی مزاح کرتے ہیں اور اسے خرافات قرار دیتے ہیں۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کا دعویٰ کس دلیل پر مبنی ہے۔ ان لوگوں کا دعویٰ صرف اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اس پوری کائنات کو چھان مارا ہو اور ان کو اس میں جن نہ ملے ہوں۔ آج تک کسی سائنس دان نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے پوری کائنات کو چھان مارا ہے۔ جبکہ خود اس زمین کے اندر بیشمار زندہ مخلوق ہے جس تک ابھی ہمارا علم رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ روزانہ کسی نہ کسی مخلوق کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ اور آئندہ بھی کئی زندہ اشیاء معلوم ہوں گی جو ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔ کیا انہوں نے اس کائنات کی تمام قوتوں کو معلوم کرلیا ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان میں سے جن نام کی کوئی قوت نہیں ہے۔ کوئی معقول شخص اس قسم کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس جہاں میں کئی پوشیدہ قوتیں ہیں اور آئے دن ان کے انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔ اور کل وہ قوتیں معلوم نہ تھیں اور اہل علم بڑی سنجیدگی سے مزید قوتوں کے انکشاف میں لگے ہوئے ہیں۔ اور جو انکشاف ہوئے وہ لوگ نہایت عاجزی سے اپنی کم مائیگی کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو جہالت کی چوکھٹ پر کھڑے ہیں اور ابھی تک انہوں نے کسی علمی کام کا آغاز ہی نہیں کیا ہے۔ کیا ان سائنس دانوں نے پوری کائناتی قوتوں کے انکشاف کردیئے ہیں اور ان میں سے جنات اور بجلی کو یہ لوگ ایک علمی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی نے بجلی کو دیکھا تک نہیں ہے۔ اور ان کی تجربہ گاہوں میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں یہ اس بجلی کو جمع کرسکیں جس کے بارے میں یہ لوگ رات دن بحث کرتے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس قدر قطعیت اور جزم کے ساتھ جنات کا انکار کرتے ہیں آخر ان کے پاس کیا علمی دلیل ہے ، اس دعویٰ پر ؟ اصل بات یہ ہے کہ اس کائنات اور اس کی قوتوں کے بارے میں انسان کا علم اس قدر کم ہے کہ کوئی معقول انسان کسی بات پر کوئی دعویٰ قطعیت کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ جنات کے ساتھ لوگوں نے بیشمار خرافات وابستہ کرلی ہیں۔ اور ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم ان تمام خرافات کا انکار کرتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے کئی خرافاتی کہانیوں کا انکار کیا بلکہ ان کی تردید کردی۔ اس طرح نہیں کہ ہم سرے سے اس مخلوق کے وجود ہی کا انکار کردیں اور بلا حجت اور دلیل انکار کردیں۔ یہ ایک غائب مخلوق ہے اور اس قسم کے غیبی امور کے بارے میں ہمیں چاہئے کہ ہم کسی ایسے سرچشمہ علم کی طرف رجوع کریں جو یقینی ہو اور سائنسی تصورات کے نتیجے میں اس یقینی سرچشمے کی مخالفت سے با زرہیں کیونکہ قرآن وسنت ایک یقینی ذریعہ علم ہے اور اس نے جو کچھ جنات کے بارے میں کہہ دیا ، وہ حرف آخر ہے۔ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ یہ سورت ، اسلامی تصور حیات کی حقیقت الوہیت اور حقیقت عبودیت کی وضاحت بھی کرتی ہے۔ اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی مخلوق کی حقیقت بھی واضح کرتی ہے۔ پھر اس مخلوق کے باہمی ربط وتعلق کو بھی واضح کرتی ہے۔ جنات کی تقریر میں عقیدہ توحید کی بہت ہی خوبصورت وضاحت کی گئی ہے۔ اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ کی کوئی بیوی ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس بات کی تشریح بھی کی گئی ہے کہ آخرت میں سب نے حساب دینا ہے اور یہ کہ زمین میں کوئی ایسی قوت نہیں ہے کہ وہ اللہ پر غالب ہوسکے یا اللہ سے چھوٹ سکے یا رہ سکے۔ اور اسے منصفانہ جزاء و سزا نہ ملے۔ اور اس سورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو خطاب کیا گیا ہے اس میں ان حقائق میں سے بعض حقائق بھی لئے گئے ہیں۔ قل انما……………ملتحد (20:72 تا 22) ” اے نبی ؐ ! کہو کہ ” میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا “۔ کہو ، ” میں تم لوگوں کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا “۔ کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں “۔ اور یہ اس واقعہ کے بعد ہوا جب جنات نے اس حقیقت پر صریح شہادت دے دی۔ اس سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ حاکم مطلق ہے اور انسانوں کے لئے اعلیٰ وارفع مقام یہ ہے کہ وہ بندگی کے بدتر مقام پر پہنچ جائیں۔ وانہ…………لبدا (19:72) ” یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہوگئے “۔ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہوتا ہے تو اس مضمون کی پھر تاکید کی گئی ہے۔ قل انی…………رشدا (21:72) ” کہو ، میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا “۔ یہ کہ غیب جاننے والا صرف اللہ وعدہ ہے ، جنات غیب نہیں جانتے۔ وانا…………رشدا (10:72) ” اور یہ کہ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے “۔ اسی طرح رسولوں کو بھی علم غیب نہیں ہے ، ان کو اسی قدر علم ہوتا ہے جس قدر اللہ بتادے۔ قل ان……………رصدا (25:72 تا 27) ” کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اسکے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔ وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ، سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے “۔ رہے اللہ کے بندے اور مخلوقات جو اس کائنات میں موجود ہیں ، تو اس بارے میں سورت بتاتی ہے کہ ان میں سے بعض اور بعض کے درمیان کچھ مشرکہ امور ہیں اور باہم ملنے کی کچھ راہیں ہیں۔ اگرچہ ان کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مثلاً جنوں اور انسانوں کے درمیان بعض امور بہت ہی مشترک ہیں ، جس طرح اس سورت اور دوسری سورتوں میں بتایا گیا ہے۔ انسان اس زمین پر بھی دوسری مخلوقات سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان باہم اتصال اور باہم اشتراک ہے۔ اور یہ انسان جو محسوس کرتا ہے کہ اس کی جنس ، اس کی قبائلی اور قوی حیثیت الگ اور ممتاز ہے۔ تو یہ بےحقیقت سوچ ہے۔ اس کائنات کی ساخت اور مزاج میں نہ ان چیزوں کا وجود ہے اور نہ کوئی حقیقت ہے ۔ انسان کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اس کائنات کے حوالے سے اپنے تصور اور شعور کو ذرا کھول دے کیونکہ اس کائنات میں انسان کے علاوہ کئی دوسری مخلوقات بھی ہیں ، ارواح ہیں اور خفیہ قوتیں ہیں ، انسان کو ان کے بارے میں علم نہیں ہے ، لیکن اس کائنات میں وہ موجود ہیں۔ انسان کے اردگرد موجود ہیں ، انسان اس کائنات میں وعدہ مالک نہیں ہے جس طرح بعض اوقات وہ محسوس کرتا ہے۔ پھر یہ دینی اور نظریاتی حقیقت کہ لوگ اگر اسلامی نظام پر قائم ہوجائیں اور یہ کائنات اس کے نتیجے میں اپنی حرکت اور رفتار بدل دے تو یہ بھی ایک معلوم حقیقت ہے ، جس انسان بدلتے ہیں تو اس کائنات کی قوتیں ان کے حق میں بدل جاتی ہیں۔ وان لو……………صعدا (17:72) ” اور لوگ راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا “۔ یہ وہ حقیقت ہے جو اسلامی تصور حیات کا ایک اہم پہلو ہے کہ انسانی قوتوں اور اعمال اور کائناتی قوتوں اور ان کے افعال کے درمیاں ایک ربط ہے ۔ یوں یہ سورت نہایت وسیع طول وعرض میں اشارات اور ہدایات کو پھیلاتی ہے ، اگرچہ اس کی آیات صرف 28 ہیں اور اس کا نزول ایک متعین واقعہ کے بعد ہوا ہے۔ رہا وہ واقعہ جس کی طرف اس سورت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض جنوں نے قرآن کریم سنا تو اس کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے۔ حافظ ابوبکر بیہقی اپنی کتاب دلائل النبوت میں یہ روایت کرتے ہیں ، ابوالحسن علی ابن احمد ابن عبدان سے ، انہوں نے احمد ابن عبید الصفار سے ، انہوں نے اسماعیل قاضی سے ، وہ مسدد سے ، وہ ابوعوانہ سے ، وہ ابو بشر سے ، وہ سعید ابن جبیر سے ، وہ ابن عباس سے (رضی اللہ عنہم) وہ کہتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ تو جنوں کے سامنے تلاوت کی اور نہ ہی جنات کو دیکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف چل پڑے۔ اس دور میں شیاطین پر پابندی لگ گئی تھی کہ وہ اب آسمانوں کی خبروں کی گن سن نہیں لے سکتے۔ جب بھی شیاطین آسمانوں میں چڑھتے ، ان پر شہاب ثاقب کی بارش ہوجاتی۔ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے رپورٹ دی کہ صورت حال کیا ہے ؟ تو سب نے کہا کہ ہمارے اور آسمان کی خیروں کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی گئی ہے۔ اور جب بھی ہم اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں شہاب ثاقب ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔ سب نے یہ کہا کہ یہ پابندی جو لگ گئی ہے تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اس کائنات میں کوئی بڑا واقعہ ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس زمین کے اطراف میں مشرق ومغرب کی طرف نکلو اور دیکھو کہ کیا بڑا واقعہ ہوگیا ہے اور یہ رکاوٹ کیوں ڈال دی گئی ہے۔ چناچہ شیاطین مشرق ومغرب کی طرف نکل گئے اور معلوم کرنے لگے کہ کیا بڑا واقعہ ہوگیا ہے کہ ہم پر آسمانوں کی خیریں لینے کی پابندی لگ گئی ہے۔ جو لوگ تہامہ کی طرف نکلے تھے ، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اس وقت آپ نخلہ کے مقام پر تھے اور آپ عکاظ کی طرف جارہے تھے۔ آپ اس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز فجر ادا کررہے تھے۔ جب انہوں نے قرآن مجید کو سنا تو اس کو کان لگا کر سنا۔ قرآن سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ ہے وہ بڑا واقعہ جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کے درمیان رکاوٹ ہوگئی ہے۔ یہاں سے جب یہ جن اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے یہ کہا ” اے ہماری قوم : انا سمعنا…………احدا (2:72) اور اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیات نازل کیں۔ قل اوحی…………من الجن……اللہ دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جنوں کے اقوال وحی فرمائے۔ (امام بخاری نے مسدد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور امام مسلم نے شیبان ابن فروح سے بھی یہی روایت نقل کی ہے “۔ یہ تو ہے ایک روایت اور صحیح مسلم میں اور روایات بھی ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں ، محمد ابن مثنیٰ سے ، وہ عبدالاعلیٰ سے ، وہ دائود سے (یہ ابن ابوہند ہیں) وہ عامر سے ، یہ کہتے ہیں : کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کہ جنوں والی رات میں ابن مسعود موجود تھے ؟ تو علقمہ نے کہا میں نے خود ابن مسعود سے یہ پوچھا تھا کہ جنوں کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تم میں سے بھی کوئی تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ” نہیں “ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات غائب ہوگئے ، ہم نے آپ کو وادیوں اور پہاڑیوں اور جھاڑیوں میں تلاش کیا۔ کسی نے کہا کوئی آپ کو لے اڑا ، یا کسی نے اچانک قتل کردیا۔ اس رات ہم پر بہت مصیبت گزری۔ یہ اس قدر بری رات تھی جو کسی پر آسکتی ہے۔ جب صبح ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرا کی طرف سے آرہے ہیں۔ ہم نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو نہ پایا اور بہت تلاش کیا۔ آپ نہ ملے۔ اور ہم پر یہ رات اس قدر بری گزری جو کسی پر گزر سکتی ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس جنوں کی طرف سے بلانے والا آیا تھا ، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ان پر قرآن کریم پڑھا “۔ کہتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ اس مقام تک تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جنوں کے آثار اور ان کی آگ جلانے کے مقامات بتلائے “۔ لوگوں نے آپ سے جنوں کی خوراک کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ” وہ سب ہڈیاں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، وہ تمہارے ہاتھ لگ جاتی ہیں اور جن پر بہت گوشت ہوتا ہے اور ہر وہ مینگنی جو تمہارے جانوروں کی ہو ، وہ جنوں کی خوراک ہے۔ لہٰذا تم ہڈیوں اور مینگنیوں کے ساتھ استنجانہ کرو ، کیونکہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے “۔ حضرت ابن مسعود سے ایک اور روایت بھی ہے کہ وہ اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ لیکن پہلی روایت کی سند زیادہ قوی ہے۔ لیکن ایسی روایات کو ہم نظرانداز کرتے ہیں۔ صحیحین کی دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم نہ تھا کہ جنات موجود ہیں اور قرآن سنتے ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جنوں نے خود دعوت دی تھی۔ امام بیہقی دونوں روایات کو علیحدہ علیحدہ واقعات قراردیتے ہیں۔ ابن اسحاق نے ایک تیسری روایت بھی نقل کی ہے۔ ” جب ابو طالب فوت ہوگئے تو قریش حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ اذیت محسوس کرنے لگے ، جو وہ ابوطالب کی موجودگی میں نہ کرتے تھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کی طرف نکل گئے کہ بنو ثقیف کی حمایت حاصل کرلیں ، اور اس طرح ثقیف قریش کے مقابلے میں آپ کو بچانے میں تعاون کریں اور شاید وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکیلے ان کی طرف گئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں ، بریدابن زیادہ نے روایت کی ، محمد ابن کعب قرظی سے ، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب طائف پہنچے تو آپ بنو ثقیف کے کچھ لوگوں سے ملے جو ان کے اشراف اور سردار تھے۔ یہ تین بھائی تھے ، یالیل ابن عمر ابن عمیر ، مسعود ابن عمر ابن عمیر اور حبیب ابن عمر ابن عمیر۔ ان میں سے ایک کی بیوی قریشی تھی یعنی بن جمح میں سے۔ ان کے پاس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ، ان کو اللہ کی طرف بلایا۔ اور ان کے ساتھ اسلام کی نصرت کرنے کے موضوع پر بات کی اور یہ درخواست کی کہ قریش کے مخالفین کے مقابلے میں میری امداد کرو۔ ان میں سے ایک نے کہا ، کہ اگر اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو میں کعبہ ہی کو نہیں مانتا (جو شخص کعبہ کا کپڑا پھاڑنے لگا) دوسرے بھائی نے کہا کیا اللہ کو تیرے سوا کوئی اور نہ ملا تھا اور تیسرے نے کہا خدا کی قسم میں تجھ سے بات ہی نہ کروں گا۔ اگر تو رسول ہے ، جس طرح تیرا دعویٰ ہے تو میں مناسب نہیں سمجھتا کہ تیری بات کے خلاف کروں اور اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹے شخص کے ساتھ کے ساتھ بات کرنا ہی مناسب نہیں ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور ثقیف کے بارے میں ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہوگئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا ” تم نے مجھے جو جواب دیا سو دیا لیکن اب تم یہ مہربانی کرو کہ اس بات کو یہاں تک ہی رہنے دو “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ آپ کی قوم کو آپ کے بارے میں یہ اطلاع ملے۔ اور وہ آپ کے خلاف مزید جری ہوجائیں۔ چناچہ انہوں نے ایسا نہ کیا اور اپنے اوباش ، غلاموں کو آپ کے پیچھے لگادیا ، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دیتے رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آوازے کستے رہے یہاں تک کہ لوگ جمع ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجبوراً ایک باغ کے اندر چلے گئے۔ یہ باغ عتبہ اور شیہ پسران ربیعہ کا تھا۔ یہ دونوں باغ میں موجود تھے۔ جب ثقیف کے اوباش چلے گئے جو آپ کا پیچھا کررہے تھے تو آپ نے انگور کی ایک بیل کے نیچے آرام کرنے کا ارادہ کیا۔ آپ انگور کے سایہ میں بیٹھ گئے۔ ربیعہ کے بیٹے دور سے دیکھ رہے تھے کہ ثقیف کے لوگوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مطمئن ہوگئے تو آپ نے یہ دعا فرمائی ” اللہ ! میں تیرے سامنے اپنی ناتوانی کی شکایت کرتا ہوں ، اپنی تدابیر کی کمی کا اعتراف کرتا ہوں ، اور اس بات کا بھی شکوہ کرتا ہوں کہ لوگوں کے دل میں میرا احترام نہیں رہا۔ اے الرحم الرحمین تو کمزوروں کا رب ہے لیکن تیری عافیت میرے لئے بہت ہی وسیع ہے۔ میں تیرے چہرے کے نور کی پناہ مانگتا ہوں جس سے پوری دنیا روشن ہے اور جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی ملتی ہے۔ میں تیرے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہوجائے تو میری سرزنش کرسکتا ہے کہ تور اضی ہو اور تیرے سوا نہ جائے پناہ ہے اور نہ قوت کا سرچشمہ ہے۔ “ کہتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عتبہ کے لڑکوں نے اس حال میں دیکھا تو ان کو آپ پر رحم آگیا۔ ان کا ایک عیسائی غلام تھا جس کا نام عداس تھا۔ تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ انگور کا ایک گچھا لو ، اسے تھالی میں رکھو ، اس شخص کے پاس لے جائو اور اس سے کہو یہ کھائیں۔ عداس نے ایسا ہی کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے انگور رکھے اور کہا آپ تناول فرمائیں۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں ہاتھ ڈالا تو فرمایا ” بسم اللہ “ اس کے بعدکھایا عداس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا یہ بات تو اس علاقے کے لوگ نہیں کہتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا عداس تم کہاں کے رہنے والے ہو ، اور تمہارا دین کیا ہے ؟ تو اس نے کہا میں نصرانی ہوں اور میں ” ننیوی “ کا رہنے والا ہوں۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” یونس ابن متی کے گائوں کے ہو جو ایک صالح شخص تھا “۔ تو عداس نے کہا آپ کو کیا پتہ ہے کہ یونس ابن متی کون تھا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ میرا بھائی ہے۔ میں بھی نبی ہوں اور وہ بھی نبی تھا “۔ عداس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھک پڑا۔ آپ کا سرہاتھ اور پائوں چومنے لگا۔ اس پر ربیعہ کے لڑکوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ تمہارے غلام کو اس نے بگاڑ ہی دیا۔ جب عداس آیا تو دونوں نے اس سے پوچھا : عداس تم ہلاک ہو تم اس شخص کے سر اور پائو اور ہاتھ کو کیوں چوم رہے تھے۔ تو اس نے کا : آقا ! اس سے زیادہ اچھی چیز اس روئے زمین پر نہیں ہے۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو ایک نبی ہی بتاسکتا ہے وہ کہنے لگے عداس تم پر ہلاکت ہو تمہیں وہ اپنے دین سے نہ پھیر دے ، تمہارا دین اس سے بہتر ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے مکہ کی طرف آئے۔ آپ ثقیف کی جانب سے مایوس ہوگئے۔ نخلہ کے مقام پر آپ رات کو رہے اور وہاں آپ نے نصف رات کو نماز میں تلاوت شروع کی۔ اس موقعہ پر جنات کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے قرآن سنا جس کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا۔ جیسا کہ کہا گیا ہے یہ لوگ سات افراد تھے ، دو حصوں میں۔ انہوں نے غور سے قرآن کو سنا۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو وہ پلٹ کر اپنی قوم کی طرف چلے گئے۔ یہ ایمان لے آئے اور انہوں نے دعوت اسلامی کو قبول کرلیا جس کی حکایت اللہ نے کی۔ واذصرفنا……………عذاب الیم ، اور دوسری جگہ فرمایا : قل اوحی……………من الجن…………یعنی سورة جن کی پوری آیات ابن کثیر نے اس پر تبصرہ کیا ہے یہ صحیح ہے لیکن یہ کہ جنوں نے اس رات کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام سنا ، یہ محل نظر ہے بلکہ جنوں نے کلام الٰہی آغاز وحی کے دور میں سنا تھا جس طرح حدیث ابن عباس (رض) میں مذکور ہے۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کو اس وقت گئے جب آپ کے چچا فوت ہوگئے تھے۔ اور یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل یا دو سال قبل کا ہے۔ واللہ اعلم ! اگر یہ حدیث صحیح ہو کہ حضور طائف سے دل شکستہ واپس ہوئے تھے کیونکہ طائف کے ذلیل کبراء نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہایت ہی توہین آمیز سلوک کیا تھا۔ اور اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رب تعالیٰ کے سامنے وہ دعا فرمائی تھی جس کے ایک ایک لفظ سے دل شکستگی ٹپکی پڑتی ہے تو اللہ کی جانب سے نہایت ہی حوصلہ افزا کاروائی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جنات کا رخ پھیر دیا جائے تاکہ آپ ان کو تبلیغ کریں اور وہ اپنی قوم تک اس پیغام کو پہنچائیں۔ اس میں نہایت ہی لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ اگر انسان نہ مانیں تو اس دعوت کو کائنات کی دوسری قوتیں تسلیم کریں گی۔ غرض وقعہ وہ ہو یا یہ ، بہرحال یہ ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس کا مفہوم بھی عظیم ہے اور حکمت بھی عظیم ہے۔ اور قرآن کے بارے میں جنوں کا جو تبصرہ ہے وہ بھی نہایت ہی معنی خیز ہے۔ اسلام کے بارے میں انسان کے ریمارکس اور جنوں کی پوری تقریر کا قرآن میں نقل ہونا بھی معنی خیز ہے۔ اب آیات تفصیلات !