Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 11

سورة الجن

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾

And among us are the righteous, and among us are [others] not so; we were [of] divided ways.

اور یہ کہ ( بیشک ) بعض تو ہم میں نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Jinns testify that among Them there are Believers, Disbelievers, Misguided and Guided Allah says that the Jinns said about themselves, وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ ... There are among us some that are righteous, and some the contrary; meaning, other than that. ... كُنَّا طَرَايِقَ قِدَدًا We are groups having different ways. meaning, on numerous differing paths and having different thoughts and opinions. Ibn `Abbas, Mujahid and others have said, كُنَّا طَرَايِقَ قِدَدًا (We are groups having different ways). "This means among us are believers and among us are disbelievers." Ahmad bin Sulayman An-Najjad reported in his (book of) Amali that he heard Al-A`mash saying, "A Jinn came to us, so I said to him, `What is the most beloved food to your kind' He replied, `Rice.' So we brought them some rice and I saw the morsels being lifted but I did not see a hand lifting it. So I asked him, `Do you have these desires (religious innovations) among your kind as we have among ours' He replied, `Yes.' Then I said, `Who are the Rafidah among you' He said, `They are the worst of us."' I presented this chain of narration to our Shaykh, Al-Hafiz Abi Al-Hajjaj Al-Mizzi and he said its chain is authentic to Al-A`mash. The Jinns confess to Allah's Perfect Power Concerning Allah's statement, وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعجِزَ اللَّهَ فِي الاْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے ۔ حضرت اعمش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا ۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے؟ اس نے کہا چاول ۔ میں نے لا کر دیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا ۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں؟ اس نے کہا ہاں ، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں؟ کہا بدترین ۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے ، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہو گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں ۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہو چکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کر سکیں ۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے ، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام ۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے ، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا ١١٢؁ ) 20-طه:112 ) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں ۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں ۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں ۔ اس کے بعد کی آیت ( وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16؀ۙ ) 72- الجن:16 ) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66؀ۧ ) 5- المآئدہ:66 ) یعنی اگر یہ توراۃ وانجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت ( وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66؀ۧ ) 5- المآئدہ:66 ) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت ( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96؀ ) 7- الاعراف:96 ) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہو جائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے ، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا ، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہو جائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہو جائیں ، جیسے فرمان باری ہے آیت ( فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44؀ ) 6- الانعام:44 ) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے ، اسی طرح کی آیت ( اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55؀ۙ ) 23- المؤمنون:55 ) ، بھی ہے ۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ( صعد ) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وانا منا الصلحون و منا دون ذلک …:” طرآئق “ ” طریقہ “ کی جمع اور ” قدداً “ ” قدۃ “ بروز (قطعۃ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں میں صالح اور غیر صالح ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور اس کے برعکس بھی، ان میں موجودبھی ہیں اور مشرک بھی، متبع سنت بھی ہیں اور بدعتی بھی، خوش اخلاق بھی ہیں اور بد اخلاق بھی، وہ بھی ہیں جو آسمان سے کوئی خبر سن کر اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ مومن جنوں کا اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب کے سب راہ راست پر نہیں بلکہ ہم میں بھی غیر صالح لوگ موجود ہیں، جنہیں حق بات سمجھانا اور ان کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ۝ ٠ ۭ كُنَّا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا۝ ١١ ۙ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ طرق الطَّرِيقُ : السّبيل الذي يُطْرَقُ بالأَرْجُلِ ، أي يضرب . قال تعالی: طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] ، وعنه استعیر کلّ مسلک يسلكه الإنسان في فِعْلٍ ، محمودا کان أو مذموما . قال : وَيَذْهَبا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلى[ طه/ 63] ، وقیل : طَرِيقَةٌ من النّخل، تشبيها بالطَّرِيقِ في الامتداد، والطَّرْقُ في الأصل : کا لضَّرْبِ ، إلا أنّه أخصّ ، لأنّه ضَرْبُ تَوَقُّعٍ كَطَرْقِ الحدیدِ بالمِطْرَقَةِ ، ويُتَوَسَّعُ فيه تَوَسُّعَهُم في الضّرب، وعنه استعیر : طَرْقُ الحَصَى للتَّكَهُّنِ ، وطَرْقُ الدّوابِّ الماءَ بالأرجل حتی تكدّره، حتی سمّي الماء الدّنق طَرْقاً «2» ، وطَارَقْتُ النّعلَ ، وطَرَقْتُهَا، وتشبيها بِطَرْقِ النّعلِ في الهيئة، قيل : طَارَقَ بين الدِّرْعَيْنِ ، وطَرْقُ الخوافي «3» : أن يركب بعضها بعضا، والطَّارِقُ : السالک للطَّرِيقِ ، لکن خصّ في التّعارف بالآتي ليلا، فقیل : طَرَقَ أهلَهُ طُرُوقاً ، وعبّر عن النّجم بالطَّارِقِ لاختصاص ظهوره باللّيل . قال تعالی: وَالسَّماءِ وَالطَّارِقِ [ الطارق/ 1] ، قال الشاعر : 299 ۔ نحن بنات طَارِقٍ«4» وعن الحوادث التي تأتي ليلا بالطَّوَارِقِ ، وطُرِقَ فلانٌ: قُصِدَ ليلًا . قال الشاعر :۔ كأنّي أنا المَطْرُوقُ دونک بالّذي ... طُرِقْتَ به دوني وعیني تهمل «5» وباعتبار الضّرب قيل : طَرَقَ الفحلُ النّاقةَ ، وأَطْرَقْتُهَا، واسْتَطْرَقْتُ فلاناً فحلًا، کقولک : ضربها الفحل، وأضربتها، واستضربته فحلا . ويقال للنّاقة : طَرُوقَةٌ ، وكنّي بالطَّرُوقَةِ عن المرأة . وأَطْرَقَ فلانٌ: أغضی، كأنه صار عينه طَارِقاً للأرض، أي : ضاربا له کا لضّرب بالمِطْرَقَةِ ، وباعتبارِ الطَّرِيقِ ، قيل : جاءت الإبلُ مَطَارِيقَ ، أي : جاءت علی طَرِيقٍ واحدٍ ، وتَطَرَّقَ إلى كذا نحو توسّل، وطَرَّقْتُ له : جعلت له طَرِيقاً ، وجمعُ الطَّرِيقِ طُرُقٌ ، وجمعُ طَرِيقَةٍ طرَائِقُ. قال تعالی: كُنَّا طَرائِقَ قِدَداً [ الجن/ 11] ، إشارة إلى اختلافهم في درجاتهم، کقوله : هُمْ دَرَجاتٌ عِنْدَ اللَّهِ [ آل عمران/ 163] ، وأطباق السّماء يقال لها : طَرَائِقُ. قال اللہ تعالی: وَلَقَدْ خَلَقْنا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرائِقَ [ المؤمنون/ 17] ، ورجلٌ مَطْرُوقٌ: فيه لين واسترخاء، من قولهم : هو مَطْرُوقٌ ، أي : أصابته حادثةٌ لَيَّنَتْهُ ، أو لأنّه مضروب، کقولک : مقروع، أو مدوخ، أو لقولهم : ناقة مَطْرُوقَةٌ تشبيها بها في الذِّلَّةِ. ( ط رق ) الطریق کے معنی راستہ ہیں جس پر چلا جاتا ہے ۔ قرآں میں ہے ؛طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] پھر ان کے لئے دریا میں راستہ بناؤ ۔ اسی سے بطور استعارہ ہر اس مسلک اور مذہب کو طریق کہاجاتا ہے جو انسان کوئی کام کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے اس سے کہ وہ قتل محمود ہو یا مذموم ۔ قرآن میں ہے : وَيَذْهَبا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلى[ طه/ 63] اور تمہارے بہتر مذہب کو نابود کردیں ۔ اور امتداد میں راستہ کے ساتھ تشبیہ دے کر کھجور کے لمبے درخت کو بھی طریقۃ کہہ دیتے ہیں ۔ الطرق کے اصل معنی مارنے کے ہیں مگر یہ ضرب سے زیادہ خاص ہے ۔ کیونکہ طرق کا لفظ چٹاخ سے مارنے پر بولا جاتا ہے جیسے ہتھوڑے سے لوہے کو کوٹنا بعد ازاں ضرب کی طرح طرق کے لفظ میں بھی وسعت پیدا ہوگئی چناچہ بطور استعارہ کہاجاتا ہے ۔ طرق الحصی ٰ کا ہن کا اپنی کہانت کے لئے کنکر مارنا طرق الدواب چوپائے جانورون کا پانی میں داخل ہوکر اسے پاؤں سے گدلا کردینا ۔ طارقت النعل وطرق تھا میں نے جوتے ایک پر تلہ پر دوسرا رکھ کر اسے سی دیا ۔ پھر طرق النعل کی مناسبت سے طارق بین الدرعین کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ایک زرہ کے اوپر دوسری زرہ پہننا کے ہیں ۔ طرق الخوارج پرند کے اندورنی پروں کا تہ برتہ ہونا اور الطارق کے معنی ہیں راستہ پر چلنے والا ۔ مگر عرف میں بالخصوص اس مسافر کو کہتے ہیں جو رات میں آئے چناچہ طرق اھلہ طروقا کے معنی ہیں وہ رات کو آیا اور النجم ستارے کو بھی الطارق کہاجاتا ہے کیونکہ وہ بالخصوص رات کو ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالسَّماءِ وَالطَّارِقِ [ الطارق/ 1] آسمان اور رات کو آنے والے کی قسم ۔ شاعر نے کہاے ُ ۔ ( الرجز) (291) نحن بنات طارق ہم طارق یعنی سردار کی بیٹیاں ہیں ۔ طوارق اللیل وہ مصائب جو رات کو نازل ہوں ۔ طرق فلان رات میں صدمہ پہنچا ۔ شاعرنے کہا ہے ( الطویل ) (292) کانی انا المطروق دونک بالذی طرقت بہ دونی وعینی تھمل میں اس طرح بےچین ہوتا ہوں کہ وہ مصیبت جو رات کو تجھ پر آتی ہے مجھے پہنچ رہی ہے ۔ اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں ۔ اور معنی ضرف یعنی مجفتی کرنے کے اعتبار سے کہاجاتا ہے ۔ صرق الفحل الناقۃ ( اونٹ کا ناقہ سے جفتی کرنا ) اطرق تھا میں نے سانڈہ کو اونٹنی پر چھوڑا۔ استطرقت فلانا الفحل : میں نے فلاں سے جفتی کے لئے سانڈھ طلب کیا اور یہ محاورات ضربھا الفحل واضرب تھا واستضربتہ کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور اس ناقہ کو جو گابھن ہونے کے قابل ہوجائے اسے طروقۃ کہاجاتا ہے اور بطور کنایہ طروقۃ بمعنی عورت بھی آجاتا ہے ۔ اطرق فلان فلاں نے نگاہیں نیچی کرلیں ۔ گویا اس کی نگاہ زمین کو مارنے لگی جیسا کہ مطرقۃ ( ہتھوڑے ) سے کو ٹا جاتا ہے اور طریق بمعنی راستہ کی مناسبت سے جاءت الابل مطاریق کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی اونٹ ایک ہی راستہ سے آئے اور تطرقالیٰ کذا کے معنی ہیں : کسی چیز کی طرف رستہ بنانا طرقت لہ کسی کے لئے راستہ ہموار کرنا ۔ الطریق کی جمع طرق آتی ہے اور طریقۃ کی جمع طرائق ۔ چناچہ آیت کریمہ : كُنَّا طَرائِقَ قِدَداً [ الجن/ 11] کے معنی یہ ہیں کہ ہم مختلف مسلک رکھتے تھے اور یہ آیت کریمہ : هُمْ دَرَجاتٌ عِنْدَ اللَّهِ [ آل عمران/ 163] ان لوگوں کے خدا کے ہاں ( مختلف اور متقارب ) درجے ہیں ۔ کی مثل ہے یعنی جیسا کہ یہاں دربات سے مراد اصحاب الدرجات ہیں اسی طرح طرئق سے اصحاب طرائق مراد ہیں ) اور آسمان کے طبقات کو بھی طرائق کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرائِقَ [ المؤمنون/ 17] ہم نے تمہارے اوپر کی جانب سات طبقے پیدا کئے ) رجل مطروق نرم اور سست آدمی پر ھو مطروق کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی مصیبت زدہ کے ہیں یعنی مصائب نے اسے کمزور کردیا جیسا کہ مصیبت زدہ آدمی کو مقروع یا مدوخکہاجاتا ہے یا یہ ناقۃ مطروقۃ کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ ذلت میں اونٹنی کیساتھ تشبیہ دیکر بولا جاتا ہے ۔ قدد القَدُّ : قطع الشیء طولا . قال تعالی: إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] ، وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] . والْقِدُّ : الْمَقْدُودُ ، ومنه قيل لقامة الإنسان : قَدٌّ ، کقولک : تقطیعه وقَدَّدْتُ اللّحم فهو قَدِيدٌ ، والقِدَدُ : الطّرائق . قال : طَرائِقَ قِدَداً [ الجن/ 11] ، الواحدة : قِدَّةٌ ، والْقِدَّةُ : الفِرقة من الناس، والْقِدَّةُ کالقطعة، واقْتَدَّ الأمر : دبّره، کقولک : فصله وصرمه . ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( ق د د ) القد ( ق د د ) القد کے معنی کسی چیز کو طول میں قطع کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] اگر ان کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو۔ وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو ۔ القد بمعنی مقدود ہے اور اسی سے انسان کے قدوقامت کو قد کہاجاتا ہے جیسا کہ ۔ تقطیع الانسان ( انسان کا قدوقامت ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ قددت اللحم کے معنی گوشت کے پارچے بنانے کے ہیں اور کٹے ہوئے گوشت کو قدید کہاجاتا ہے ۔ القدد اس کا واحد قدۃ ہے اور اس کے معنی مختلف طرق اور مذاہب کے ہیں جیسے فرمایا طَرائِقَ قِدَداً [ الجن/ 11] ہمارے کئی طرح کے مذاہب ہیں ۔ اور قدہ کے معنی لوگوں کی ٹولی اور گروہ کے بھی آتے ہیں جیسے قطعۃ اقتدالامر کسی کا م کی تدبیر کرنا جیسا کہ : فصل وحرم الامر کا محاورہ ہے ۔ ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم میں پہلے سے بھی بعض وحادنیت کو ماننے والے ہوتے آئے ہیں جو حضور و قرآن پر ایمان لائیں گے اور بعض کافر ہوتے آئے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے پہلے یہودیت و نصرانیت کے مختلف طریقوں پر تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط } ” اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔ “ یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے ‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔ { کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ۔ } ” ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔ “ طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّاکے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔ جیسے سورة یوسف کی آیت ٢٥ میں آیا ہے : { قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ } ” اس (عورت) نے پھاڑ دی آپ (علیہ السلام) کی قمیص پیچھے سے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 This shows that such extraordinary measures were adopted in the heavens only on two kinds of occasions: first, when Allah might decide to inflict the dwellers of the earth with a torment, and the Divine will might be that before it was actually inflicted the jinn might not know and convey its news to warn their friendly human beings of the impending disaster. Second, that Allah might appoint a Messenger on the earth, and strict security measures might be adopted so that neither the messages being conveyed to him be interfered with by the satans nor should they be able to know beforehand what instructions were being given to the Messenger. Thus, the saying of the jinn means: "When we noticed that strict security measures had been adopted in the heavens for the safeguard of the news, and the meteorites were being showered profusely, we wanted to know which of the two things had happened: whether Allah had caused a torment to descend suddenly on some people of the earth, or a Messenger had been raised somewhere on the earth. We were on the lookout for the same when we heard the wonderful Revelation, which guides to the Right Path, and we came to know that Allah had not sent down a torment but had raised a Messenger to show the Right Way to the people." For further explanation, see E.N.'s 8 to 12 of Al-Hijr, E.N. 7 of ASSaaffat, E.N. I 1 of Al-Mulk) .

سورة الْجِنّ حاشیہ نمبر :11 یعنی اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے جن پائے جاتے ہیں ، اور اعتقادات میں بھی ہمارا کوئی ایک مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف گروہوں میں منقسم ہیں ۔ یہ بات کہہ کر یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے جنوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم راہ راست معلوم کرنے کے یقیناً محتاج ہیں؟ اس سے ہم بے نیاز نہیں ہو سکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: مطلب یہ ہے کہ جِنّات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جِنّات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جِنّات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لئے ہم سب کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ ١٧۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کبھی کسی طرح کا ٹوٹا نہ ہوگا اور جو نافرمان ہیں وہ آخر کو دوزخ کا ایندھن بنیں گے اب جنات کے اس تذکرہ میں قریش کو یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح مجھ کو یہ وحی اللہ کی طرف سے آئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن سنا اور وہ ایمان لے آئے اسی طرح یہ بھی وحی آئی ہے کہ اگر ان جنات کی طرح یہ لوگ بھی سیدھے راستہ پر آجاتے تو یہ قحط کی آفت ان پر سے ٹل جاتی اور ان کی شکر گزاری آزمانے کے لئے ان کے رزق میں اچھی فراخی کردی جاتی انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ عادت الٰہی جاری ہے کہ جو اللہ کی نصیحت نہیں مانتا۔ اللہ اسے ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جو روز بروز بڑھتا چڑھتا رہتا ہے مثلاً کبھی مکہ کا سات برس کا قحط ہے کبھی بدر کی لڑائی کے قتل اور قید کی آفت پھر سب سے بڑھ چڑھ کر دوزخ کا عذاب جس کے بڑھنے چڑھنے کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ ابن ١ ؎ ماجہ مستدرک حاکم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کم تولنے اور زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے سے قحط پڑتا ہے۔ ١ ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من منع الزکوًۃ الخ ص ٧١٧ ج ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:11) وانا مما الصلحون اور یہ کہ ہم میں سے بعض نیک بھی ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ صالحون سے مراد ہیں وہ جنات جو گزشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں ہر خصوصا تورات پر ایمان رکھتے تھے۔ ومنا دون ذلک : دون فوق فوق کی نقیض ہے ظرف ہوکر استعمال ہوتا ہے بمعنی جو کسی سے نیچے ہو۔ دون مضاف ذلک مضاف الیہ۔ اور بعض ہم میں سے اس وجہ سے نیچے ہیں۔ یعنی صالحین کے درجے سے نیچے ہیں صالح نہیں ہیں۔ اس کے سوا ہیں۔ فتنہ پرور، شرارتی ، فسادی و گمراہ ہیں۔ کنا طرائق قددا : طرائق جمع ہے طریقۃ کی۔ راہیں۔ طریقے۔ آسمان کے طبقے۔ یہاں اس آیت میں مسلک ، مشرب نیز درجات کا اختلاف مراد ہے۔ قددا جمع ہے قدۃ کی۔ مختلف راہیں۔ جدا جدا ارادے رکھنے والے لوگ۔ یا گروہ ۔ کنا طرائق قدرا : ای کنا ذوی طرائق قددا : ہمارے بھی کئی مسلک ہیں۔ ہم بھی کئی متفرق راستوں پر گامزن ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 امام سعید بن المسیب اور مجاہد کہتے ہیں کہ آدمیوں کی طرح جنوں کے بھی مختلف گروہ تھے۔ چناچہ کوئی مسلمان تھا کوئی یہودی کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانا منا .................... حطبا یہ تو ضیحات کہ جنوں میں سے بعض لوگ اچھے ہیں اور بعض برے ہیں ، بعض مسلم ہیں اور بعض منکر ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ جن بھی دوہری شخصیت کے مالک ہیں ، جس طرح انسان دوہری شخصیت کا مالک ہے ، جو نیکی اور بدی دونوں کی استعداد رکھتا ہے ، ہاں جنوں میں سے بعض لوگ خالص شر اور خالص بدی کے مجسم ہوگئے ، مثلا ابلیس اور اس کے قبیلے کے لوگ ، ان توضیحات کی بڑی اہمیت ہے اور ان کی وجہ سے اس مخلوق کے بارے میں ہمارے خیالات درست ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اکثر لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جن صرف شرارت کی فطرت رکھتے ہیں اور صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے اندر خشروشر کے دونوں پہلو ہیں۔ اور انسانوں کے یہ خیالات اس لئے تھے کہ ان کو قرآن کی فکری اصلاح پر غور کرنے کا موقعہ نہ ملا تھا لیکن قرآن کی ان توضیحات کے بعد تو انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خیالات کو درست کرلیں۔ جنوں کے اس گروہ کا قول ہے : وانا منا .................... ذلک (٢٧ : ١١) ” اور یہ کہ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں “۔ اور اپنا عمومی حال وہ یوں بیان کرتے ہیں۔ کنا طرائق قددا (٢٧ : ١١) ” ہم مختلف طریقوں سے بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ہر شخص نے اپنے لئے ایسا طریقہ اپنا لیا ہے جو دوسرے سے مختلف ہے اور کٹا ہوا ہے اور وہ ایمان لانے سے پہلے کے اپنے عقائد یوں بیان کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” وانا منا الصالحون “ یعنی ہم جنات میں سے بعض مشرک ہیں، اور بعض موحد، جنات یہ وعظ اپنی قوم کو کر رہے ہیں۔ ” کنا طرائق قددا “ قدد کے معنی متفرق و مختلف کے ہیں۔ یعنی ہماری قوم بھی مختلف طریقوں پر ہے یعنی کچھ تو احکام پر عامل ہیں اور کچھ عامل نہیں ہیں۔ صیغہ ماضی سے ماضی کا معنی مراد نہیں۔ ” وانا ظننا ان لن نعجز اللہ “ ظننا “ بمعنی علمنا ہے۔ واعظ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو اب یقین آگیا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ہم اس کو زمین کے کسی بھی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اور یہ کہ ہم میں سے پہلے بھی بعض نیک ہوئے ہیں اور بعض دوسری طرح کے بھی ہوتے رہے ہیں غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے۔ یعنی نزول قرآن سے پیشتر بھی ہم میں کچھ نیک لوگ ہوتے تھے اور کچھ شریر قسم کے جو خیر سے نفرت کرتے تھے اور شریر اصرار کرتے تھے اور شر کو دوڑ کر قبول کرتے تھے۔ غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے اور اس نبی کی بعثت کے بعد بھی ہم میں سیکچھ اس نبی پر اور قرآن پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض متامل ہیں اور کچھ شرارت پر قائم ہیں، یعنی اب بھی دونوں طریقوں کے لوگ ہیں۔