Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 2

سورة الجن

یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.

جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے ( اب ) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ ... Say: "It has been revealed to me that a group of Jinn listened. They said: `Verily, we have heard a wonderful Recitation! It guides to the right path"' meaning, to what is correct and success. ... فَأمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا and we have believed therein, and we shall never join anything with our Lord. This position (that they took) is similar to what Allah said, وَإِذْ صَرَفْنَأ إِلَيْكَ نَفَراً مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْءَانَ And when We sent towards you a group of the Jinns listening to the Qur'an. (46:29) We have already presented the Hadiths that have been narrated concerning this, so there is no need to repeat them here. Concerning Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق کو واضح کرتا ہے یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔ یعنی ہم نے سن کر اس بات کی تصدیق کردی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا نہیں اس میں کفار کو توبیخ و تنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ ہی سن کر قرآن پر ایمان لے آئے لیکن انسانوں کو خاص کر ان کے سرداروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ کی زبان سے متعدد بار انہوں نے قرآن سنا۔ ہم کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنائیں گے نہ مخلوق میں سے نہ کسی اور معبود کو اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں متفرد ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَّہْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ۝ ٠ ۭ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۝ ٢ ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں رشد الرَّشَدُ والرُّشْدُ : خلاف الغيّ ، يستعمل استعمال الهداية، يقال : رَشَدَ يَرْشُدُ ، ورَشِدَ «5» يَرْشَدُ قال : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] ( ر ش د ) الرشد والرشد یہ غیٌ کی ضد ہے اور ہدایت کے معنی استعمال ہوتا ہے اور یہ باب نصرعلم دونوں سے آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] تاکہ وہ سیدھے رستے پر لگ جائیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جو حق و ہدایت اور کلمہ طیبہ کی رہنمائی کرتا ہے سو ہم تو رسول اکرم اور اس قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ ابلیس کو شریک نہیں کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ” جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ “ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ” منزل “ طے کرلیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ” پرکشش پیکج “ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اندازہ کیجیے ! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے ‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہوگی ؟ اب ذرا اس طرزعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے ّکا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا : { وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا ۔ } ” اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 This throws light on several things: (1) That the jinn do not deny Allah's existence and His being Lord and Sustainer; (2) that among them also there are polytheists, who like polytheistic human beings ascribe divinity to others than AIlah: thus, the community of the jinn whose members heard the Qur'an was polytheistic; (3) that the Prophethood and revelation of Divine scriptures dces not exist among the jinn, but whoever of them believe, they believe in the Prophets raised among human beings and in the Books brought by them. This same thing is confirmed by Al-Ahqaf: 29-30, where it has been stated that the jinn who had then heard the Qur'an, were from among the followers of the Prophet Moses, and they after having heard the Qur'an, had invited their people to believe in the Revelation that had been sent down by God confirming the previous scriptures. Surah ArRahman also points to the same, for its whole subject-matter shows that the audience of the Holy Prophet's invitation are both the men and the jinn.

سورة الْجِنّ حاشیہ نمبر :3 اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالی کے وجود اور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں ، چنانچہ جنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سن کر گئے تھے مشرک ہی تھے ۔ تیسرے یہ کہ نبوت اور کتب انسانی آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا ، بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں ۔ یہی بات سورہ احقاف آیات 29 ۔ 31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن جنہوں نے اس وقت قرآن سنا تھا ، حضرت موسیٰ کے پیرووں میں سے تھے اور انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کو دعوت دی تھی کہ اب جو کلام خدا کی طرف سے پچھلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے اس پر ایمان لاؤ ۔ سورہ رحمان بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے ، کیونکہ اس کا پورا مضمون ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مخاطب انسان اور جن دونوں ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جس طرح اِنسانوں کے لئے پیغمبر بنایا گیا تھا، اسی طرح آپ جِنّات کے لئے بھی پیغمبر تھے، چنانچہ آپ نے جِنّات کو بھی تبلیغ فرمائی، اور جِنّات کو تبلیغ کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ آپ کی نبوت سے پہلے جِنّات کو آسمانوں کے قریب تک پہنچنے دیاجاتا تھا، لیکن حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اُنہیں آسمانوں کے قریب جانے سے اس طرح روک دیا گیا تھا کہ جب کوئی جن یا شیطان آسمان کے قریب پہنچنا چاہتا تو اُسے ایک روشن شعلے کے ذریعے ماربھگادیاجاتا تھا، جیسا کہ سورۂ حجر (۱۵:۱۷) اور سورۂ صافات (۲۷:۱۰) میں گزرچکا ہے، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جِنّات نے جب اس بدلی ہوئی صورتِ حال کو دیکھا تو ان کے دِل میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے کہ اب انہیں آسمان کے پاس بھی پھٹکنے سے روک دیاجاتا ہے۔ اس غرض کے لئے اُن کی ایک جماعت دُنیا کا دورہ کرنے کے لئے نکلی۔ یہ وہ وقت تھا جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم طائف سے واپس تشریف لارہے تھے اور نخلہ کے مقام پر پڑاو ڈالے ہوئے تھے، وہاں آپ نے فجر کی نماز میں قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کی تو جِنّات کی یہ جماعت اُس وقت وہاں سے گزررہی تھی، اس نے یہ کلام سنا تو وہ اُسے اطمینان سے سننے کے لئے رُک گئے، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے فجر کے وقت قرآنِ کریم کے پُر اَثر کلام نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ جنات مسلمان ہوگئے، اور پھر اپنی قوم کے پاس بھی اسلام کے داعی بن کر پہنچے، انہوں نے اپنی قوم سے جاکر جو باتیں کیں، ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے اُن کا خلاصہ بیان فرمایا ہے۔ اس واقعے کی طرف مختصر اِشارہ سورۃ احقاف (۴۶:۳۰) میں بھی گذر چکا ہے۔ اس کے بعد جِنّات کے کئی وفود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور آپ نے انہیں تبلیغ و تعلیم کا فریضہ انجام دیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:2) یہدی الی الرشد۔ یہ جملہ قرآن کی صفت ہے۔ یھدی مضارع معروف واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ یہ ہدایت کرتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ الرشد، بھلائی۔ نیک راہ، راستی، راہ راست۔ فامنا بہ : ف تعلیل کا ہے۔ امنا ماضی جمع متکلم ایمان (افعال) مصدر سے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ سو (اس لئے) ہم اس (قرآن) پر ایمان لے آئے۔ ولن تشرک۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف امنا بہ پر ہے۔ لن نشرک مضارع منفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع متکلم اشراک (افعال) مصدر۔ ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ احد (کسی کو) منصوب بوجہ مفعول ہونے لن نشرک کے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اس میں بنی آدم خصوصاً رئوسا نے قریش میں سے کافر لوگوں کو شرم دلائی گئی ہے کہ جنوں نے جب پہلی ہی مرتبہ قرآن سنا تو وہ سمجھ گئے کہا یسا کلام کسی انسان کا تصنیف کیا ہوا نہیں ہوسکتا، لیکنتم ہو کہ بار بار قرآن کو سنتے ہو لیکن اس پر ایمان نہیں لاتے بلکہ یہی رٹ لگائے جا رہے ہو کہ محمد (ﷺ) نے یہ قرآن خود تصنیف کرلیا ہے یا کوئی عجمی ہے جو انہیں یہ قرآن سکھا جاتا ہے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ قرآن ہونا تو اس کے مضمون سے معلوم ہوا اور عجیب ہونا اس سے کہ مشابہ کلام بشر کے نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یھدی الی الرشد (٢٧ : ٢) ” جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے “۔ یہ قرآن مجید کی دوسری ممتاز بد یہی صفت ہے ، جنوں کے اس گروہ نے بادی النظر میں اسے محسوس کرلیا۔ اور انہوں نے جب قرآن کی حقیقت کو اپنے دلوں کے اندر پالیا تو انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے۔ پھر ہدایت کے بجائے انہوں نے ارشاد کا لفظ استعمال کیا جو ہدایت سے زیادہ وسیع المفہوم ہے۔ یعنی یہ کتاب ہدایت کرتی ہے اور حق وصواب کی راہ دکھاتی ہے۔ اور رسد کے لفظ میں ایک اور مفہوم بھی ہے یعنی سنجیدگی ، اعتدال اور علم ومعرفت تو گویا یہ کتاب علم ومعرفت ، سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ راہ صواب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کا انداز عالمانہ ہے۔ اور اس مطالعے سے ان حقائق تک پہنچنے کا ملکہ حاصل ہوجاتا ہے۔ گویا یہ نتائج اس کتاب کے ذاتی اثرات ونتائج ہیں۔ قرآن رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے۔ یوں کہ یہ دلوں کے اندر احساس اور کشادگی پیدا کردیتا ہے ، ادراک اور معرفت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اللہ کے ساتھ رابطہ پیدا کرتا ہے ، جو نور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ پھر یہ کتاب اس پوری کائنات کے اندر جاری قوانین فطرت کے ساتھ انسان کو جوڑ دیتی ہے اور پھر عملی زندگی میں یہ کتاب زندگی کا ایک عملی نظام تجویز کرتی ہے۔ اور اس نظام کے نتیجے میں انسانیت کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اس کے سوا کبھی کسی اور نظام میں نصیب نہیں ہوتا۔ اور یہ کتاب پھر ایک ممتاز تہذیب و تمدن کو جود میں لاتی ہے۔ جس کے اندر زندگی بسر کرنے والے لوگ فکری ، تصوراتی ، اخلاقی ، قانونی اور عملی اعتبار سے نہایت ہی ممتاز اور ترقی یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ فامنا بہ (٢٧ : ٢) اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں “۔ قرآن سننے کے بعد یہ ایک قدرتی اور فطری رد عمل ہے کہ انسان اسے تسلیم کرلے ، اس کو سمجھ لے۔ اور اس سے حقیقی تاثر حاصل کرلے ۔ اللہ تعالیٰ جنات کا یہ تبصرہ مشرکین مکہ کی غیر آموزی کے لئے نقل کرتے ہیں کہ تم عرصے سے قرآن سن رہے ہو اور مان کر نہیں دیتے۔ اور تم اس کتاب کو جنات کی طرف منسوب کرتے ہو۔ اس طرح کبھی کہتے ہو کاہن ہے ، کبھی کہتے ہو شاعر ہے اور کبھی کہتے ہو مجنون ہے ۔ اور ان تینوں کا جنات سے تعلق ہوتا تھا۔ لیکن ذرا جنوں کی حالت دیکھو کہ وہ قرآن سن کر مدہوش ہوگئے ، انہوں نے اسے سمجھ لیا اور اس دعوت کو لے کر اپنی قوم میں پھیل گئے۔ ایک منٹ بھی انہوں نے دیر نہ کی۔ نہ اپنے آپ کو روک سکے ، فوراً اس دعوت اور تاثر کو لے کر نکل گئے۔ انہوں نے حق کہ پہچان لیا اسے قبول کرلیا ، یقین کرلیا اور اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ اور کوئی مکروفریب نہ کیا اور کوئی بغض وعناد نہ کیا جس طرح مشرکین مکہ کررہے تھے۔ ولن ................ احدا (٢٧ : ٢) ” اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ یہ خالص ، صریح اور صحیح ایمان ہے ، اس میں نہ شرک شامل ہے ، نہ وہم کا دخل ہے۔ اور نہ خرافات کے لئے کوئی راہ ہے۔ یہ امان حقیقت قرآن کے ادراک کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے اور اس حقیقت کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے جس کی طرف قرآن داعی ہے۔ یعنی خالص توحید بغیر شائبہ شرک۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) جو سیدھی اور نیک راہ بتاتا ہے لہٰذا ہم تو اس قرآن پر ایمان لے آئے اور ہم آئندہ اپنے رب کا ہرگز کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة احقاف میں گزرا کہ حضرت نماز صبح پڑھتے تھے کتے جن سن کر ایمان لائے پھر جاکر اپنی قوم سے سے بیان کیا یہاں ان کے بیان کو اللہ نے وحی فرمائی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعد اس کے بہت یار جن حضرت پاس آکر ملے اور ایمان لائے قرآن سیکھا۔ خلاصہ : یہ کہ سورة احقاف کے آخر میں جنوں کا مختصر سا واقعہ مذکور ہوا تھا یہاں اسی واقعہ کی تفصیل کا ذکر ہے اور مکہ والوں کو جنوں کے خیالات سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ جنات کی قابلیت اور ان کی غیب دانی کا دماغوں پر بہت اثر تھا اور کاہن اس کا بہت پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد جنوں کا آسمان پر جانا بند کردیا گیا۔ تاکہ فرشتوں سے کوئی قرآنی وحی سن کر بھاگ نہ آئیں اور کاہنوں کی معرفت قرآنی اعجاز کا معارضہ نہ کرائیں اس لئے آسمانوں تک پہنچنا ان کا بالکل بند کردیا گیا تاکہ قرآن کا اعجاز بلند وبالا تر ہو، نہ انسان اس کا مقابلہ کرسکیں نہ جنات اس کا جواب لاسکیں اس خداوندی تدبیر نے کاہنوں اور جنات کے تمام نظام کو درہم برہم کردیا، جنات کے متعلق اور ان کی ماہیت کے بارے میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں جن کو ہم نے بخوف طوالت ترک کردیا ہے۔ اس موضوع پر آکام المرجان فی احکام الجان بہت عمدہ کتاب ہے جو صاحب چاہیں اس کا مطالعہ کریں ان آیات میں ان جنوں کے ایمان لانے کا اعلان ہے جنہوں نے قرآن سنا اور شرک سے بےزاری اور آئندہ رشک نہ کرنے کا وعدہ کیا اور یہ ان لوگوں کی اصلاح کے لئے بہت ضروری ہے جو جنات کی ہر ایک بات کو صحیح سمجھتے ہیں اور جنات کی باتوں کا یقین کرتے ہیں آگے انہی جنات کے اور کلمات اور ان کے مضامین جو انہوں نے اپنی قوم میں جاکرک ہے ان کا بیان ہے۔