Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 7

سورة الجن

وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ﴿۷﴾

And they had thought, as you thought, that Allah would never send anyone [as a messenger].

اور ( انسانوں ) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کرلیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا ( یا کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا )

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they thought as you thought that Allah will not send any Messenger.' meaning, Allah would never send a Messenger after this long period of time. This was said by Al-Kalbi and Ibn Jarir.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] یہ ذومعنی فقرہ ہے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ گویا جس طرح انسانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسالت اور آخرت دونوں کے منکر ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ جب جنوں نے قرآن سن کر معلوم کیا کہ ان کے یہ دونوں عقیدے غلط تھے۔ چناچہ ان عقائد سے دستبردار ہو کر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وانھم ظنوا کما ظننتم …: جن اپنی قوم کے لوگوں کو کافر انسانوں کے متعق بتا رہے ہیں کہ شرک کے علاوہ ان انسانوں کا عقیدہ تمہاری طرح یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قیامت کے دن دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ معین بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو (نبی بنا کر) نہیں بھیجے گا۔ کفار میں ہمیشہ ، خواہ وہ انسان ہوں یا جن، توحید، آخرت اور رسالت تینوں کا انکار پایا جاتا رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَنَّہُمْ ظَنُّوْا كَـمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللہُ اَحَدًا۝ ٧ ۙ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر، وقوله عزّ وجلّ : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] ، أي : قيّضه، وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] ، نحو : أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] ، وقوله تعالی: ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ، وذلک إثارة بلا توجيه إلى مکان، وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] ، قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] ، وقال عزّ وجلّ : فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] ، والنوم من جنس الموت فجعل التوفي فيهما، والبعث منهما سواء، وقوله عزّ وجلّ : وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] ، أي : توجههم ومضيّهم . ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] جو لوگ کافر ہوئے ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ( دوبارہ ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ کہدو کہ ہاں ہاں میرے پروردیگا کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤگے ۔ ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھا نا ایک شخص د کے پیدا کرنے اور جلانے اٹھانے ) کی طرح ہے پس بعث دو قسم پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید نے لگا ۔ میں بعث بمعنی قیض ہے ۔ یعنی مقرر کردیا اور رسولوں کے متعلق کہا جائے ۔ تو اس کے معنی مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] فرمایا ہے اور آیت : ۔ ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] پھر ان کا جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ ( غار میں ) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کو مقدار کس کو خوب یاد ہے ۔ میں بعثنا کے معنی صرف ۃ نیند سے ) اٹھانے کے ہیں اور اس میں بھیجنے کا مفہوم شامل نہیں ہے ۔ وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] اور اس دن کو یا د کرو جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑا کریں گے ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہہ و کہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے عذاب بھیجے ۔ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی ( اور ) سو برس تک ( اس کو مردہ رکھا ) پھر اس کو جلا اٹھایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کبھی تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھادیتا ہے ۔ میں نیند کے متعلق تونی اور دن کو اٹھنے کے متعلق بعث کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت سے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] لیکن خدا نے ان کا اٹھنا ( اور نکلنا ) پسند نہ کیا ۔ میں انبعاث کے معنی جانے کے ہیں ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور کفار جن ایمان لانے سے پہلے کفار مکہ کی طرح یہ اعتقاد کیے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا یا یہ کہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ وَّاَنَّـہُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّـبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۔ } ” اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ “ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘ یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورة الاحقاف میں جنات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان تقریباً چھ سو برس کا زمانہ انسانی تاریخ میں سلسلہ رسالت کے انقطاع کا طویل ترین وقفہ ہے) ۔ چناچہ اپنی ان معلومات کی بنیاد پر جنات یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے اور یہ کہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 Ibn `Abbas says that in the pre-lslamic days of ignorance when the Arabs had to spend a night in some uninhabited, desolate valley, they would shout out: "We seek refuge of the jinn, who is owner of this valley." In other traditions of the pre-Islamic ignorance also the same thing has been reported frequently. For example, if in a place they ran short of water and fodder, the wandering Bedouins would send one of their men to some other place to see if water and fodder were available; and when they reached the new site under his direction, they would shout out before they halted to pitch the camp: "We seek refuge of the sustainer of this valley so that we may live here in peace from every calamity." They believed that every un-inhabited place was under the control of one or another jinn, and if someone stayed there without seeking his refuge, the jinn would either himself trouble the settlers, or would let others trouble them. These believing jinn are referring to this very thing. They meant that when man, the vicegerent of the earth, started fearing them without any reason, and started seeking their refuge instead of God's, it caused their people to become even more arrogant, haughty and wicked, and they became even more fearless and bold in adopting error and disbelief.

سورة الْجِنّ حاشیہ نمبر :8 اصل الفاظ ہیں ان لن یبعث اللہ احدا ۔ اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا ۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پایا جاتا تھا ۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابل ترجیح ہے ، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا نہیں ، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: اس فقرے میں جِنّات اپنی قوم کے دوسرے جِنّات سے کہہ رہے ہیں کہ جس طرح تم آخرت کے قائل نہیں تھے۔ اسی طرح اِنسان بھی اس کے قائل نہیں تھے۔ لیکن اب یہ بات غلط ثابت ہوگئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:7) وانھم ظنوا کما ظننتم : واؤ عاطفہ، انھم میں ان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ سب لوگ ہم ضمیر کا مرجع بنی آدم ہیں۔ ظنوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے گمان کیا۔ انہوں نے خیال کیا۔ انہوں نے سمجھا کما میں ک تشبیہ کے لئے ہے تم نے خیال کیا۔ تم ضمیرجمع مذکر حاضر کا مرجع وہ جن ہیں کہ جن کو مخاطب کرکے قرآن سن کر آنے والے جنات اپنے تاثرات بیان کر رہے تھے : وہ بتا رہے تھے کہ انسانوں نے بھی وہی سمجھ رکھا تھا جو اے جنات تم نے سمجھ رکھا تھا۔ یعنی اللہ کسی کو رسول مبعوث نہیں کرے گا ان لن یبعث اللہ احدا : ان مصدریہ۔ لن یبعث مضارع منصوب نفی تاکید بلن۔ وہ ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ وہ ہرگز نہیں بھیجے گا (رسول بنا کر) کسی کو بھی منصوب بوجہ مفعول ہے۔ کہ اللہ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یا ” جن بھی اے آدمیو ! تمہاریطرح یہ سمجھنے لگے۔ “13 یا ” اللہ تعالیٰ کسی کو پیغمبر بنا کر) مبعوث نہ کریگا۔ “ مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت یا رسالت کے منکر ہوگئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانھم ................ احدا (٢٧ : ٧) ” اور یہ کہ انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا “۔ جن قوم سے گفتگو کرتے ہیں کہ جس طرح بعض انسان جنوں کی پناہ مانگتے تھے اسی طرح وہ بھی یہ گمان رکھتے تھے جس طرح تم گمان رکھتے ہو کہ اللہ رسول نہ بھیجے گا۔ لیکن دیکھ لو اللہ نے تو رسول بھیج دیا اور رسول کو یہ قرآن بھی دے دیا ہے جو رشد وہدایت کا سامان فراہم کررہا ہے یا مفہوم یہ ہے کہ ان کے عقائد یہ تھے جس طرح تمہارے ہیں کہ اللہ قیامت میں کسی کو نہ اٹھائے گا لہٰذا انہوں نے قیامت کے لئے کوئی تیاری نہ کی اور رسول خدا نے جس انجام سے ڈرایا تھا اس کی پرواہ نہ کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یہ دونوں ظن و گمان حقیقت کے مطابق نہ تھے۔ یہ جاہلانہ خیالات پر مبنی تھے۔ اور اس پوری کائنات کی حکمت و تخلیق سے بیخبر ی پر مبنی تھے۔ اللہ نے تمام مخلوق کو یوں پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر خیر کی صلاحیت بھی تھی اور شر کی صلاحیت بھی تھی۔ (جس طرح اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کو بھی دوہری صلاحیت دی گئی ہے۔ خیر کی بھی اور شر کی بھی ، ہاں ان میں سے بعض نے اپنے آپ کو شر مجسم کرلیا مثلاً ابلیس ، جس نے اپنے آپ کو رحمت خداوندی سے محروم کرلیا اور خالص شرین گیا) اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیج کر خیر کی معاونت کی۔ رسولوں کا مشن قرار پایا کہ وہ انسانوں کے اندر پائی جانے والی خیر کی صلاحیت کو ابھاریں اور ان کی فطرت میں جو خیر کی استعداد ہے اسے جلا دیں ، لہٰذا یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو نہ بھیجے گا۔ یہ تو اس صورت میں ہے جب ہم آیت میں بعث سے مراد ” رسولوں کا بھیجنا “ لیں۔ اگر بعث سے مراد آخرت میں اٹھانا ہے تو پھر بھی یہ بات حکمت تخلیق کے خلاف ہے کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی نیکی اور بدی کا حساب و کتاب اس دنیا میں پورا نہیں ہوجاتا۔ لہٰذا اللہ کی حکمت تخلیق اور عدل کے تقاضے کے مطابق بھی ضروری ہے کہ ایسا جہاں ہو جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف کیا جائے ، نیکوکاروں کو انعام اور بدکاروں کو سزا دی جائے اور حساب و کتاب بےباک ہو۔ اور جو جس مقام کا حیات دنیا کا مطابق ، اہل بنتا ہو ، اس میں جائے۔ لہٰذا اس بات کا کوئی موقعہ ومقام نہیں ہے کہ اللہ کسی کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ اعتقاد حکمت الٰہیہ کے خلاف ہے۔ عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ چناچہ اس انداز میں جنوں نے اپنی قوم کے غلط خیالات کو درست کرنے کی سعی کی اور قرآن نے یہ بات مشرکین عرب کے غور کے لئے نقل کی کہ جن تو خود اپنے خیالات پر نظرثانی کررہے ہیں تم کیا کررہے ہو۔ اس آخری رسالت کے اثرات اس پوری کائنات پر مرتب ہوگئے ہیں ، کائنات کے اطراف میں قوائے طیبعیہ بھی بدل گئی ہیں۔ زمین و آسمان میں انتظامی تبدیلیاں آگئی ہیں تاکہ وہ اپنی وہ تمام کاروائیاں ترک کردیں جو اس آخری رسالت کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ ہر قسم کی غیب دانی کا دعویٰ ترک کردیں اور یہ کہ وہ اعلان کردیں کہ اس کائنات میں وہ کچھ قوت بھی نہیں رکھتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” وانھم ظنوا “ ضمیر انس کی طرف راجع ہے۔ ” ظننتم “ خطاب جنات سے ہے اے قوم شرک کے علاوہ تم حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے اس طرح بنی آدم کا بھی یہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ” وانا لمسنا السماء فملئت حرسا شدیدا “ جنات نے مزید کہا کہ پہلے ہم آسمان کی طرف جاتے تھے اور قریب ہی اطمینان سے بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کوئی روک ٹوک نہ تھی اور نہ کوئی چوکیدار وہاں مقرر تھے، لیکن ہم اب آسمان کے قریب جاتے ہیں تو وہاں نہایت سخت پہرہ لگا ہے اور جنوں کو بھگانے کے لیے چمکتے شہا بےموجود ہیں اس لیے اب اگر کوئی آسمان کی طرف وہاں کی باتیں سننے کے لیے جائے تو شہاب ثاقب اس کے تعاقب کے لیے تیار اور گھات میں ہوتا ہے۔ یہ سارا انتظام اس لیے کیا گیا ہے کہ اب اللہ کا رسول آچکا ہے تاکہ آپ کا معجزہ ظاہر ہو اور کاہن آسمانوں کی کوئی خبر دینے سے عاجز رہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور یہ کہ جس طرح تم نے یہ خیال قائم کررکھا تھا کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو مبعوث نہیں فرمائے گا۔ یعنی جس طرح تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اسی طرح نبی آدم بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس اب رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ ان لن یبعث کا مطلب یہ ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ کرے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبروں سے ن اٹھاوے گا یارسول نہ کھڑا کرے گا پہلے جو رسول ہوچکے سو ہوچکے۔ خلاصہ یہ کہ قبروں کی بعثت یارسول کے مبعوث ہونے کے متعلق جو تم نے اور تمہاری طرح انسانوں نے خیال قائم کیا تھا وہ غلط ثابت ہوا، رسول کی بعثت ہوگئی اور مرنے کے بعد قبروں سے اٹھنے پر قرآن نے اتنے دلائل قائم کردیئے کہ وہ نظریہ بھی غلط ہوگیا اور اس کا یقین ہوگیا کہ مرنے کے بعد سب کو قبروں سے زندہ ہوکر اٹھنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو رسول بنا کر بھیجا نہ آئندہ بھیجے گا یا آج تک اللہ تعالیٰ نے نہ کسی مردے کو زندہ کیا نہ آئندہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرے گا۔