Surat ul Muzammil

The Enshrouded One

Surah: 73

Verses: 20

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة المزمل سورة نمبر 73 کل رکوع 2 آیات 20 الفاظ وکلمات 275 حروف 888 مقام نزول پہلا رکوع مکہ مکرمہ دوسرا رکوع مدینہ منورہ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شان محبوبیت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیے بغیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کیفیت کے ساتھ پکارا گیا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت تھوڑا قرآن کریم نازل کیا گیا تھا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کے طعنوں اور الزامات سے پریشان ہو کر اور کپڑا لپیٹ کر لیٹ گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ اے کپڑوں میں لپٹ کر بیٹھنے والے راتوں کو اٹھ کر اپنے اللہ کی عبادت و بندگی کیجئے تاکہ وہ بھاری اور عظیم کلام جو ساری کائنات کی ہدایت کے لئے نازل کیا جا رہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو اٹھانے اور اس سلسلہ کی تمام ذمہ داریوں کو سنبھالنے اور پورا کرنے کی ہمت پیدا کرلیں۔ جب تک پانچ وقت کی نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں اس وقت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اور امت کے افراد کے لئے نماز تہجد اور قیام الیل فرض تھا۔ اس وقت حکم تھا کہ آدھی رات، آدھی رات سے کم یا آدھی رات سے زیاہد نماز تہجد ادا کی جائے اور اس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کو پورے آداب اور شرائط کے ساتھ پڑھا جائے۔ فرمایا کہ راتوں کو اٹھنا اور اس میں عبادت کرنا نفس کو قابو میں کرنے کا بہترین وقت ہے اور قرآن کریم پڑھنے کا بہترین اور موزوں وقت یہی ہے۔ دن کے وقت میں تو اور بہت سے کام ہوتے ہیں لہٰذا راتوں کو اٹھ کر اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے اور سب سے کٹ کر اسی ایک ذات کی طرف متوجہ رہا جائے جو مشرق و مغرب کی ہر سمت کا مالک ہے وہی عبادت اور بھروسے کے قابل ہے۔ کفار کے اعتراضات اور باتیں بنانے پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار کی باتوں اور طعنوں پر صبر کیجئے، نہایت اچھے اور احسن طریقے کے ساتھ ان سے الگ رہیے۔ ان جھٹلانے والوں اور عیش پسندوں سے نمٹنے کا معاملہ ہم پر چھوڑئیے۔ ان کو اسی حالت پر کچھ دن کوش ہونے دیجئے۔ ہمارے پاس ان کے لئے بھاری بیڑیاں، بھڑکتی آگے، حلق میں پھنس جانے والا کھانا اور المناک عذاب تیار ہے۔ یہ اس دن ہوگا جب یہ مضبوط اور بلند وبالا پہاڑ لرز اٹھیں گے اور ریت کا ڈھیر بن کر بکھر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے اس پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے ہدایت کے لئے اسی طرح سیرت طیبہ کا پیکر بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی اصلاح کے لئے (حضرت موسیٰ جیسے) رسول کو بھیجا تھا۔ جب فرعون نے ہمارے رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑے سخت عذاب میں پکڑ لیا ( اور غرق کردیا) فرمایا کہ اگر تم نے ماننے سے انکار کردیا تو اس دن سے تم کیسے بچوگے جس دن کی شدت سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور آسمان بھی لرز اٹھے گا اور پھٹا جا رہا ہوگا۔ اللہ کا یہ وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔ یہ نصحت ہر شخص کے لئے ہے جو اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ سورۃ المزمل کے دوسرے رکوع کے متعلق مفسرین نے فرمایا ہے کہ کافی طویل عرصہ کے بعد یہ رکوع نازل ہوا۔ جب پانچ وقت کی نمازیں فرض کی جاچکی تھیں۔ اسی لئے اس میں پانچ وقت کی نمازوں کی وجہ سے قیام الیل یعنی نماز تہجد کی فرضیت خو ختم کردیا گیا تھا۔ فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کو معلوم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی دو تہائی رات، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات اللہ کی عبادت میں کھڑے رہتے ہیں اور یہی حال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کا بھی ہے۔ دن اور رات میں عبادت کا کتنا ثواب ہے اس کا حساب اور شمار تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ اب یہ سہولت دی جا رہی ہے کہ آسانی کے ساتھ جتنا قرآن پڑھنا ممکن ہو وہ پڑھ لیا کریں۔ اللہ کو معلوم ہے تم میں سے کوئی ضعیف، کمزور اور بیمار ہے۔ کچھ لوگ اللہ کا فضل (تجارت) تلاش کرنے کی جدوجہد میں مشغول ہیں اور کوئی اللہ کے راستے میں جہاد کی تیاری میں مصروف ہے۔ لہٰذا جتنا آسانی سے ہوسکے قرآن کریم پڑھ لیا کرو البتہ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور قرض حسنہ دیتے رہا کرو کیونکہ آدمی اللہ کی رضا کے لئے جو کچھ آگے بھیج دے گا وہ اس کو وہاں (قیامت، آخرت میں) موجود پائے گا۔ اللہ اچھے اعمال کا بہت قدر دان ہے اس پر بہت بڑا اجر بھی عطا فرمائے گا۔ مغفرت بھی کردے گا کیونکہ وہی تو سب سے زیادہ معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة المزّمل کا تعارف المزّمل کا لفظ اس سورت کی پہلی آیت کا دوسرا لفظ ہے یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کے دو رکوع ہیں جو بیس آیات کا احاطہ کرتے ہیں۔ المزّمل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا توصیفی نام ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کپڑا اوڑھ کر آرام فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة المزّمل کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری رات سونے کی بجائے رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز پڑھا کرو اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ رات کے وقت اٹھنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا بیشک بھاری کام ہے لیکن یہ اپنے آپ پر ضبط پیدا کرنے اور قرآن مجید پڑھنے کے لیے نہایت موضوع وقت ہے۔ “ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک نبوت کا کام مشکل ترین کام ہے اس راستے میں مشکلات کا آنا فطری بات ہے۔ مگر آپ کو صبر کرنا ہوگا اس لیے ہر حال میں اپنے رب کو اپنا کفیل سمجھو جو مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ مشکلات پر صبر کرنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش کا ذکر کیا ہے اور پھر اہل مکہ کو مخاطب فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف اس طرح کا رسول بھیجا تھا جس طرح کا رسول فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ فرعون نے اپنے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے پوری سختی کے ساتھ پکڑ لیا لہذا فرعون کا انجام اپنے سامنے رکھو اور یاد رکھو کہ تم فرعون اور اس کے ساتھیوں سے طاقتور نہیں ہو۔ جب فرعون اور اس کے ساتھی پکڑے گئے تو انہیں بچانے والا کوئی نہیں تھا جب تمہاری پکڑ کا وقت آئے گا تو تمہیں بھی بچانے والا کوئی نہیں ہوگا اس لیے اپنے آپ کو سیدھے راستے پر ڈال لو ورنہ قیامت کے دن پکڑے جاؤ گے جو حساب و کتاب کا ایسا دن آنے والا ہے جس دن کی شدت اور سختی کی وجہ سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ قرآن مجید بہترین نصیحت ہے مگر اس شخص کے لیے جو اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر تہجد کا ذکر کیا گیا اور حکم فرمایا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو جو کچھ تم اپنے لیے آگے بھیجو گے جو آگے بھیجو گے وہ پورے کا پورا اپنے رب کے پاس پاؤ گے اور اپنے کیے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرنے والا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَسْاَلنِیْ فأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرَلَہُ ) (رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتے ہیں : کون ہے مجھ سے طلب کرنے والا میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة المزمل ایک نظر میں اس سورت کی اسباب نزول میں یہ روایت بھی ہے کہ اہل قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے اور یہ سوچنا شروع کیا کہ دعوت اسلامی کو روکنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کریں اور رسول اللہ کے خلاف کیا سازشیں کریں۔ یہ اطلاعات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچیں تو آپ بےحد پریشان ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا کمل اوڑھ لیا اور نہایت فکر مندی کی حالت میں سوگئے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس سورت کی ابتدائی آیات لے کر تشریف لائے۔ یایھا المزمل (1) قم ............ قلیلا (2:73) ............ اور سورت کا دوسرا حصہ جو ان ربک ........................ الیل ............ آخر تک ، اس پورے ایک سال بعد نازل ہوا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ ساتھی رات کو طویل وقت تک عبادت کرتے رہتے تھے اور ان کے پاؤں پھول گئے تھے۔ چناچہ اللہ کی طرف سے یہ تخفیفی احکامات نازل ہوئے۔ سورت کا دوسرا حصہ گویا پورے بارہ ماہ بعد نازل ہوا۔ ایک دوسری روایت بھی اس مضمون کو دہراتی ہے۔ ہم انشاء اللہ سورة مدثر کے مقدمے میں نقل کریں گے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حرا میں ذکر الٰہی کے لئے جایا کرتے تھے تاکہ روحانی پاکیزگی اختیار کریں۔ یہ واقعہ بعثت سے تین سال پہلے کا ہے۔ آپ غار حراء میں سال کا ایک مہینہ گزارتے۔ یہ رمضان کا مہینہ ہوتا۔ یہ غار مکہ سے تقریباً دو میل دور ہے۔ آپ اپنی اہلیہ کو بھی ساتھ لے جاتے ، جو آپ کے قریب ہی ہوتیں۔ مساکین میں سے جو بھی آتا ، اسے کھانا کھلاتے ، آپ پورا مہینہ عبادت اور ذکر وفکر میں گزارتے۔ آپ پوری کائنات پر غور فرماتے اور دیکھتے کہ اس کائنات کی پشت پر ایک عظیم قوت کارفرما ہے۔ پھر آپ اپنی پاکیزہ فطرت کی بنا پر اس صورت حال کو پسند نہ کرتے تھے جو اس وقت موجود تھی یعنی اہل عرب کے عقائد ، افسانوی تصورات اور اوہام واخرافات جن میں یہ لوگ بندھے ہوئے تھے۔ لیکن آپ پریشان تھے کہ اگر ان طور طریقوں کو ختم کردیا جائے تو پھر کیسا نظام رائج ہو ۔ آپ کے سامنے کوئی واضح راستہ نہ تھا جو آپ لوگوں کے لئے تجویز کرتے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح غار حرا کی تنہائیوں میں بھجوانا بھی اللہ کی ایک تدبیر تھی تاکہ آپ آنے والے منصب کی ذمہ داریوں کے لئے ذھنا تیار ہوجائیں اور یہ ایک عظیم حکمت تھی۔ اس تنہائی میں آپ اپنے آپ کو دنیا کی مصروفیات سے علیحدہ کردیتے تھے۔ اور ان میں آپ اپنی فطرت صافی سے ہدایات لیتے تھے۔ اس کائنات اور اس کی تخلیق کے مناظر پر غور کرتے تھے۔ آپ کی روح کائنات کے ساتھ تسبیح الٰہی میں مصروف ہوتی تھی۔ اور آپ اس کائنات کے جمال و کمال کو اپناتے تھے۔ اور اس پوری کائنات کے ساتھ آپ کی سوچ مصروف تھی۔ آپ اس نظام قدرت کو سمجھنے کی سعی فرماتے تھے۔ ایسی روحانی شخصیات کو ، جنہوں نے زندگی کے دھارے کو بدل ڈالنا ہوتا ہے اور جنہوں نے زندگی کی اداؤں کو بدلنا ہوتا ہے ، اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ کچھ وقت کے لئے عزلت نشینی اختیار کریں اور ایک عرصہ کے لئے اس دنیا کے مشاغل سے دور ہوجائیں اور اس حقیر دینا کے چھوٹے موٹے غموں سے اپنے آپ کو دور کردیں۔ ایسے افراد کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایک طویل وقت صرف غوروفکر میں گزاریں اور ان کا معاملہ اور موضوع فکریہ پوری کائنات ہو۔ جب انسان اس دنیائے دنی کے مشاغل اور شوروشغب میں مصروف ہوتا ہے تو وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ وہ اس میں گم ہوجاتا ہے اور مگن ہوجاتا ہے کہ اس کے ذہن سے اس دنیا کے بدل دینے کا داعیہ ہی جاتا رہتا ہے۔ لیکن جب انسان کچھ دیر کے لئے اس دنیا سے ایک طرف ہوجائے ، اس سے دوری اختیار کرلے ، تو پھر ایسے انسان کے لئے ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ کسی بڑی بات کے بارے میں سوچ سکے ، جو اس دنیائے دنی کی نہایت ہی حقیر اور معتبر چیزوں اور قدروں سے بڑی ہو۔ اس طرح اس کی روح اور اس کی سوچ مروج رسوم و رواج اور مروجہ اقدار سے ذرا آزاد ہوکر کسی اعلیٰ اور برتر مصدر سے حقائق اخذ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایسا ہی چاہا۔ چونکہ آپ کو ایک عظیم ذمہ داری کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا جارہا تھا کہ آپ نے زمین کے چہرے کو بدل کر کے رکھ دینا ہے۔ تاریخ کا دھارا بدل دینا ہے تو آپ کی ذات کی تربیت کے لئے اللہ نے آپ کو یہ ترغیب دی۔ اور آپ پورے تین سال تک ایک ماہ کے لئے غار حرا میں عزلت نشینی اختیار کرتے رہے۔ اس عرصہ میں آپ اپنی روح کو اس دنیا کی آلودگیوں سے جدا کردیتے اور اس کائنات کے پردوں کے پیچھے جو خفیہ غیبی راز اور حکمتیں تھیں ، ان پر غور کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آپہنچا جس کے لئے آپ کو تیار کیا جارہا تھا۔ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ انہیں اور لوگوں کو ڈرائیں۔ غرض جب وقت آگیا۔ اللہ کا حکم صادر ہوگیا کہ اب اس فیض اور رحمت کے دروازے اہل جہاں کے لئے کھول دیئے جائیں ، تو جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے۔ اس وقت آپ غار حراء میں تھے۔ یہ کہانی ابن اسحاق نے وھب ابن کیسان سے ، انہوں نے عبید سے یوں روایت کی ہے : جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے ، میں سو رہا تھا۔ ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا ، جس میں ایک کتاب تھی ، تو انہوں نے کہا پڑھو۔ میں نے کہا میں نہیں پڑھتا ، (بعض روایات میں آتا ہے میں پڑھنے والا نہیں ہوں) فرمایا : ” انہوں نے مجھے خوب دبایا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کرلیا کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس کے بعد مجھے چھوڑ دیا۔ اور کہا : پڑھو ، میں نے پھر کہا : میں نہیں پڑھا کرتا ، آپ نے فرمایا انہوں نے دوبارہ مجھے دونوں بازوؤں میں پکڑ کر دبایا۔ یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ شاید میں مرجاؤں گا۔ اس کے بعد مجھے چھوڑا اور کہا : پڑھو ، آپ نے فرمایا : ” میں نے کہا میں کیا پڑھوں ؟ “ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سوال میں نے اس لئے کیا کہ وہ مجھے دوبارہ اس طرح نہ دبائیں جس طرح پہلے انہوں نے مجھے دبایا۔ اس پر انہوں نے کہا : اقرا باسم ........................................ مالم یعلم (1:97 تا 5) ” پڑھو اے نبی ! اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے ، انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ آپ نے فرمایا : تو میں نے اسے پڑھا۔ پھر یہ ختم ہوا اور وہ مجھ سے چلے گئے۔ اور میں اس خواب سے اٹھا اور میری حالت یہ تھی کہ گویا میرے دل کے اوپر ایک تحریر لکھ دی گئی تھی۔ میں غار حرا سے نکلا یہاں تک کہ میں پہاڑ کے درمیان تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی ” اے محمد ! تم رسول اللہ ہو اور میں جبرائیل ہوں “۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جبرائیل ایک مرد کی شکل میں ہیں ، پاؤں آسمان کے افق پر ہیں ، کہتے ہیں اے محمد ! تم رسول اللہ ہو اور میں جبرائیل ہوں۔ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوا کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔ نہ آگے جاتا ہوں ، نہ پیچھے۔ میں افق پر ان سے چہرہ پھیرتا ہوں ، میں افق پر جس طرف دیکھتا ہوں آگے جبرائیل (علیہ السلام) نظر آتے ہیں۔ میں اسی طرح کھڑا ہوں نہ آگے جاتا ہوں ، نہ پیچھے۔ یہاں تک کہ خدیجہ نے میری تلاش میں آدمی بھیجے ، یہ لوگ مکہ کے بالائی حصے تک گئے اور واپس ہوگئے اور میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ پھر وہ چلے گئے اور میں بھی اپنے گھر کو لوٹ آیا۔ میں خدیجہ ................ کے پاس آیا۔ میں ان کے پہلو میں ان کی ران کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا۔ حضرت خدیجہ (رض) نے کہا : ” ابو القاسم تم کہاں تھے ؟ میں نے تمہاری تلاش میں لوگ دوڑائے ، وہ اعلیٰ مکہ تک گئے اور واپس آگئے “۔ اس کے بعد میں نے ان کے سامنے یہ واقعہ دہرایا۔ تو انہوں نے کہا کہ اے میرے چچازاد تمہیں مبارک ہو تم ثابت قدم رہو۔ اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اس امت کے نبی ہوگے “۔ اس کے بعد ایک مدت کے لئے وحی بند ہوگئی۔ ایک بار پھر آپ پہاڑ پر تھے تو آپ نے دیکھا جبرائیل پھر موجود ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے رعب کی وجہ سے کپکپی طاری ہوگئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آہستہ آہستہ چل کر اور زمین کی طرف جھکتے ہوئے اور کانپتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے پاس گئے۔ آپ یہ کہہ رہے تھے مجھے کپڑا اڑھاؤ ! مجھ پر لحاف ڈالو “۔ گھر والوں نے ایسا ہی کیا اور آپ اس طرح کانپ رہے تھے جس طرح سخت سردی لگی ہو ، چناچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز دی۔ یایھا المزمل (1:73) بعض روایات میں آیا ہے۔ یا یھا المدثر (1:73) خدا کو علم ہے کہ اس وقت کون سی آیت تھی۔ اس سورت کی ابتدائی آیات کے نزول کے بارے میں پہلی روایت صحیح ہو یا دوسری ، بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ جان گئے کہ اب سونے کا وقت چلا گیا ہے ، اب تو مجھے بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اب مجھے ایک طویل جدوجہد کرنی پڑے گی ، اب جاگنا ہے ، بیداری ہے ، جدوجہد ہے اور پکار ہے اور یہ پکار مجھے کبھی سونے نہ دے گی۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا گیا ” اٹھو “۔ آپ کھڑے ہوئے اور کھڑے رہے۔ اور تیئس سال تک کھڑے رہے۔ آپ کھڑے ہوگئے اور کھڑے رہے اور ہمیشہ دعوت دیتے رہے۔ یہ بوجھ آپ نے اٹھالیا۔ یہ تو بہت ہی بھاری بوجھ تھا۔ یہ امانت کبریٰ کا بوجھ تھا۔ پوری انسانیت کا بوجھ تھا۔ اسلامی نظریہ حیات کا بوجھ تھا اور مختلف میدانوں میں جدوجہد کا بوجھ تھا۔ یہ بوجھ انسانی ضمیر کی صفائی کا بوجھ تھا۔ انسانی ضمیر جاہلیت کے اوہام اور خرافات میں غرق تھا ، انسانی نفس پر زمین کے رجحانات اور میلانات چھائے ہوئے تھے۔ انسانی شہوات نفسانیہ کے ہاتھوں میں قید تھا ، اور اس کے گلے میں دنیا پرستی کے طوق پڑئے ہوئے تھے۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کی تطہیر سے فارغ ہوئے تو دوسرے معرکے کے شروع ہوگئے ، اسلام کے دشمن ہر طرف سے اس تحریک پر حملہ آور ہوگئے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو گروہ تیار کیا تھا اور جن کا ضمیر صاف ہوگیا تھا یہ دشمن اس گروہ کو نیست ونابود کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ۔ قبل اس کے کہ وہ تناور درخت ہوجائے اور دوسرے علاقوں کو اپنے سائے میں لے لے۔ ابھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جزیرة العرب کے معرکوں سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ رومی حملہ آور ہوگئے اور شمال کی جانب سے انہوں نے سخت گرفت کی سعی کی جس کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے مقابلہ کیا۔ لیکن ان تمام معرکوں اور تمام میدانوں کے اندر لڑنے کے باوجود ایمان وکفر کا معرکہ بہرحال جاری رہا۔ کیونکہ نفس وضمیر کے معرکے کا فریق مخالف شیطان ہوتا ہے اور شیطان انسانی نفس اور انسانی ضمیر کے میدان میں ہر وقت برسرپیکار رہتا ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موجود تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہر میدان میں برسرجنگ تھے اور یہ چومکھی لڑائی آپ نہایت غربت اور تنگدستی کی حالت میں لڑ رہے تھے حالانکہ دنیا کے وسائل آپ کے پاس ہر طرف سے امڈتے چلے آرہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حال میں بھی جہد مسلسل میں اور مشقت میں رہے جبکہ آپ کے ارد گرد اہل ایمان نہایت خوشحالی کی زندگی بسر کررہے تھے۔ آپ یہ ان تھک جدوجہد کررہے تھے ، مسلسل صبر کررہے تھے ، راتوں کو جاگ رہے تھے ، رب کی عبادت کررہے تھے قرآن مجید نہایت درد سے سنا رہے تھے ، اللہ کے ہوگئے تھے ، جس طرح اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ احکام دیئے تھے : یایھا المزمل ................................ ھجرا جمیلا (1:73 تا 10) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھادو ، اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو۔ وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، لہٰذا اسی کو اپنا وکیل بنالو اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ “۔ یوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور اس طرح آپ نے اس جہد مسلسل کا مظاہرہ کیا اور یہ مسلسل جنگ لڑی۔ بیس سال سے زیادہ عرصہ تک آپ میدان جنگ میں رہے۔ اس دوران کوئی بات آپ کو اس معرکے سے غافل نہ کرسکی۔ جب سے آپ نے عالم بالا سے یہ نداء سنی کہ قم تو آپ کھڑے رہے اور انسانیت کے ساتھ آپ (علیہ السلام) نے جو بھلائی کی اس پر اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ سورت کا یہ پہلا حصہ یکساں ترنم کا انداز رکھتا ہے۔ ایک ہی ٹون ہے۔ لام ممدود پر آیات ختم ہوتی ہیں ، یہ لہجہ نہایت ہی نرم ، سنجیدہ اور رعب دار ہے۔ جس طرح ایک عظیم ذمہ داری کے احکامات دیئے جارہے ہیں اس طرح انداز بھی ذمہ دارانہ ہے۔ سیاق کلام میں بھی واضح کردیا جاتا ہے کہ معاملہ کس قدر ذمہ داری کا ہے اور کس قدر نازک ، حساس اور بھاری ہے۔ ایک بھاری ذمہ داری عائد کی جارہی ہے اور اس میں مخالفین کے لئے بھی سخت تہدید ہے۔ وذرنی ................................ عذابا الیما (11:73 تا 13) ” ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور انہیں ذرا کچھ دیر اسی حالت پر رہنے دو ۔ ہمارے پاس (ان کے لئے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگے اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے “۔ اس کائنات کے ہولناک مشاہد اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے۔ یوم ترجف ........................ مھیلا (14:73) ” یہ اس دن ہوگا جب زمین وپہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر بکھرے جارہے ہیں “۔ اور فکیف تتقون ............................ مفعولا (18:73) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہوکر ہی رہتا ہے “۔ اب ہمارے سامنے سورت کی ایک طویل آیت ہے ، سورت کا دوسرا حصہ بھی آیت ہے۔ یہ قیام اللیل کے سال کے بعد نازل ہوئی جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ کے پاؤں سوج گئے تھے۔ اس قیام کے ذریعہ اللہ ان لوگوں کو جس عظیم کام کے لئے تیار کررہا تھا ، وہ واضح ہے۔ اس آیت کے ذریعہ یہ تخفیف نازل ہوئی اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یہ تسلی دی گئی کہ یہ انداز تربیت اللہ نے اپنے علم و حکمت کے ذریعہ تمہارے لئے تجویز کیا تھا۔ اور یہ فرائض اللہ کے علم اور حکمت کے مطابق ضروری تھے۔ اس آیت کا اسلوب بھی خاص ہے اور مضمون اور معانی کے اعتبار سے طرز ادا بھی طویل جملوں والی ہے۔ اور انداز بیان میں ٹھہراؤ اور وضاحت کا انداز ہے۔ اور الفاظ اور قافیہ میں انہی کے مناسبت سے ہے۔ غفور رحیم یعنی میم اور اس سے قبل یائے مددد۔ یہ سورت اپنے دونوں حصوں کے ساتھ دعوت اسلامی کی تاریخ کی ایک اہم کڑی پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز عالم بالا کی ایک پکار سے ہوتا ہے جس میں آپ کے کاندھوں پر عظیم ذمیہ داری عائد کی جاتی ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ اس عظیم ڈیوٹی کے لئے تربیت کی ضرورت ہے ، قیام اللیل ، نماز ، ترتیل قرآن ، ذکروفکر اور خضوع وخشوع اور اللہ کے لئے کٹ کر علیحدہ ہوجانا ، صرف اللہ پر بھروسہ کرنا ، اس راہ کی مشکلات پر صبر کرنا۔ اور اگر کسی سے قطع تعلق کرنا ہی پڑے تو اچھے انداز سے قطع تعلق کرنا۔ منکرین کے معاملے کو جبار وقہار کے سپرد کردینا کیونکہ یہ دعوت اور یہ دین تو اسی کا ہے۔ وہ جانے اور اس کی دعوت کے معاندین جانیں۔ اس کے بعد پھر ٹریننگ اور تربیت کے کورس میں قدرے تخفیف کی جاتی ہے ، اور سہولت پیدا کی جاتی ہے۔ ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کی بندگی کرو ، اللہ کے راستے میں خرچ کرو ، اور اللہ کی رحمت طلب کرو ، اللہ غفور رحیم ہے۔ غرض یہ سورت دراصل اس جدوجہد کا آغاز ہے جو تاریخ انسانیت کے بہترین لوگوں نے پوری انسانیت کی خاطر شروع کی تاکہ اس گم گشتہ راہ انسانیت کو واپس رب کی طرف لایا جائے۔ اس گروہ کو ہدایت کی گئی کہ اس جدوجہد کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں۔ ان پر صبر کریں اور خود اپنے ضمیر کے اندر آنے والے خیالات کے ساتھ بھی مجاہدہ کریں۔ تمام دنیاوی اغراض سے اپنے آپ کو بالا کرلیں ، تمام فوائد سے دستکش ہوجائیں اور ان تمام راحتوں کو خیر باد کہہ دیں جن سے بےکار لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور نیند کو بھی کم کردیں جس سے فارغ البال لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ یہ تھے اس سورت کے مضامین ، اب ذرا تفصیلات کے ساتھ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi