15 The address now turns to the disbelievers of Makkah, who were denying the Holy Prophet (upon whom be peace) and persecuting him relentlessly.
16 Sending the Holy Prophet to be a witness over the people also means that he should testify to the Truth by his word and deed before them in the world and also that in the Hereafter when Allah's Court is established, he will testify that he had presented the whole Truth before the people in the world. (For further explanation, see E.N. 144 of Al-Baqarah, E.N. 64 of An-Nisa', An-Nahl: 84, 89, E.N. 82 of Al-Azab, E.N. 14 of Al-Fath) .
سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :15
اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے ۔
سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :16
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں ، اور یہ بھی آخرت میں جب اللہ تعالی کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کر دیا تھا ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، حاشیہ 144 ۔ النساء ، حاشیہ 64 جلد دوم ، النحل ، آیات 84 ، 89 ۔ جلد چہارم ، الاحزاب ، حاشیہ 82 ، جلد پنجم ، الفتح ، حاشیہ 14 ) ۔