Surat ul Muzammil

Surah: 73

Verse: 15

سورة المزمل

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾

Indeed, We have sent to you a Messenger as a witness upon you just as We sent to Pharaoh a messenger.

بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے والا رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ ... Verily, We have sent to you a Messenger to be a witness over you, meaning, witnessing your deeds. ... كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلً

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 جو قیامت والے دن تمہارے اعمال کی گواہی دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] اس سے پہلی آیات میں مخاطب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ اب خطاب کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑ گیا ہے اور انہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ اس رسول کی مخالفت پر تم کمر بستہ ہوگئے ہو۔ تو یہی رسول تمہاری ایک ایک حرکت کی قیامت کے دن تم پر گواہی دینے والا ہے۔ لہذا جو قدم اٹھانا ہے سنبھل کر اٹھاؤ۔ اس سے پہلے ہم نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ فرعون تم سے بہت زیادہ طاقتور، جابر اور ایک وسیع خطہ زمین پر حکمران تھا۔ لیکن اس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانی اور اکڑ گیا تو ہم نے اسے دریا میں ڈبو کر اس کا اور اس کی آل کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا تھا اور تم تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ لہذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اس رسول کی مخالفت سے باز آجاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟ (٢) شاھداً علیکم : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(انہ یجاء برجال من امتی فیوحذ بھم ذات الشمال، فاقول یا رب چ اصبحابی، فیقال انک لاتدری ما احد ثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح :(وکنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم ، فلما توفیتی کنت انت الرقیب علیھم) (فیقال ان ھولاء لم یزالوا مرتدین علی اعقابھم مندفارقتھم) (بخاری، التفسیر، باب :(وکنت علیھم شھدا…): ٣٦٢٥) ” میری امت کے کچھ آدمی لائے جائیں گی اور انہیں بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا :” اے میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ “ کہا جائے گا :” آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔ “ تو میں وہی کہوں گا جو عبد صالح (عیسیٰ (علیہ السلام) ) کہیں گے :(ونت علیھم شھیداً ما دمت فیھم ، فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علی کل شیء شھید) (المائدۃ : ١١٨) ” میں ان پر اس وقت تک شہادت دینے والا تھا جب تک میں ان میں موجود تھا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو خود ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر شہادت دینے والا ہے۔ “ کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ لوگ اس وقت سے اپنی ایڑیوں پر پھرے رہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ” شاھداً علیکم “ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام لوگوں کے تمام احوال دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر شہادت ہو نہیں سکتی، ان لوگوں کا استدلال درست نہیں۔ علاوہ ازیں شہادت کے لئے خود دیکھنا اور سننا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر ایسے ذریعے سے کوئی بات معلوم ہو جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (١٤٣) کی تفسیر۔ (٣) شیباً “” اشیب “ کی جمع ہے، سفید بالوں والا۔” شاب یشیب شیباً “ (ض) سفید بالوں والا ہونا۔” الولدان “ ” ولید “ کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یقول اللہ عزوجل یوم القیامۃ یا آدم ! یقول لبیک ربنا وسعدیک ، قینادی بصورت ان اللہ یامرک ان تخرج من ذریتک بعثاً الی النار قال یا رب ! و ما بعث النار ؟ قال من کل الف، اراہ قال ، تسع مائۃ وتسعۃ وتسعین، فحینئذ تصنع الحامل حملھا ویشیب الولید (وتری الناس سکریٰ وما ھم بسکریٰ ولکن عذاب اللہ شدید) فشق ذلک علی الناس حتی تغیرت وجوھھم ، فقال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من یاجوج وماجوج وتسعۃ وتسعین ، ومنکم واحد ، ثم انتم فی الناس کا لشعرۃ السوداء فی جنب النور الابیض، او کا لشعرۃ البیضاء فی جنب الثور الاسود) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وتری الناس سکری): ٣٨٣١)” اللہ عزو جل قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سے کہیں گے :” اے آدم ! “ وہ عرض کریں گے :“ اے ہمارے پروردگار ! میں بار بار حاضر ہوں تیری فرماں برداری کے لئے۔ “ پھر (انہیں) آواز دی جائے گی :” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کی جماعت نکالو۔ “ وہ پوچھیں گے :” اے میرے رب ! جہنم کی جماعت کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” ہر ہزار میں سے ننانوے۔ “ تو اس وقت حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے (وتری الناس سکری وما ھم بسکری ولکن عذاب اللہ شدید) (الحج : ٢)” اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ بےہشو ہیں، حالانکہ وہ بےہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔ “ یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری، حتیٰ کہا ن کے چہروں کے رنگ بدل گئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سیا یک ہوگا۔ لوگوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد اس طرح ہے جیسے سفید بیل کے پہلو میں ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہوتا ہے۔ “ آیت اور حدیث میں بچوں کے بوڑھے ہونے کے ذکر سے اس دن کی بےپناہ سختی اور ہولناکی کا اظہار ہو را ہے، کیونکہ عام غم سے آدمی کے بال فوراً سفید نہیں ہوتے۔ یقیناً وہ انتہائی غیر نفاق شدت اور ہولناکی ہوگی جو بچوں کے بالوں کو بھی سفید کرے گی۔ (٤) السمآء منفطربہ :” بائ “” فی “ کے معنی میں ہے، یعنی اس دن میں آسمان پھٹ جائے گا، یا ” بائ “ سیبہ ہے، یعنی اس ان کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کی شدت سے آسمان جیسی عظیم مخلوق پھٹ جائے گی تو دوسری چیزوں کا کیا حال ہوگا اور اگر کفر پر قائم رہے تو تم اس دن سے کس طرح بچو گے ؟ آسمان کے مقابلے میں تمہاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاہِدًا عَلَيْكُمْ كَـمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۝ ١٥ ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ، وعن الإقرار نحو : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] ، أن کان ذلک شَهَادَةٌ لنفسه . وقوله وَما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] أي : ما أخبرنا، وقال تعالی: شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] ، أي : مقرّين . لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] ، وقوله : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] ، فشهادة اللہ تعالیٰ بوحدانيّته هي إيجاد ما يدلّ علی وحدانيّته في العالم، وفي نفوسنا کما قال الشاعر : ففي كلّ شيء له آية ... تدلّ علی أنه واحدقال بعض الحکماء : إنّ اللہ تعالیٰ لمّا شهد لنفسه کان شهادته أن أنطق کلّ شيء كما نطق بالشّهادة له، وشهادة الملائكة بذلک هو إظهارهم أفعالا يؤمرون بها، وهي المدلول عليها بقوله : فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ۔ اور جب شہادت اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہو تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ چار بار خدا کی قسم کھائے ۔ اور آیت کریمہ : ما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق ( اس کے لے آنے کا ) عہد کیا تھا ۔ میں شھدنا بمعنی اخبرنا ہے اور آیت کریمہ : شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں گے ۔ میں شاھدین بمعنی مقرین ہے یعنی کفر کا اقرار کرتے ہوئے ۔ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ۔ اور ایت کریمہ ؛ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ ۔ میں اللہ تعالیٰ کے اپنی وحدانیت کی شہادت دینے سے مراد عالم اور انفس میں ایسے شواہد قائم کرنا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ (268) ففی کل شیئ لہ آیۃ تدل علی انہ واحد ہر چیز کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے یگانہ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ باری تعالیٰ کے اپنی ذات کے لئے شہادت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو نطق بخشا اور ان سب نے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا ۔ اور فرشتوں کی شہادت سے مراد ان کا ان افعال کو سر انجام دینا ہے جن پر وہ مامور ہیں ۔ جس پر کہ آیت ؛فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ دلاکت کرتی ہے ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہم نے تمہارے پاس محمد کو بھیجا ہے جو تم پر تبلیغ رسالت کی گواہی دیں گے جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس حضرت موسیٰ کو بھیجا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥{ اِنَّــآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا لا شَاہِدًا عَلَیْکُمْ } ” (اے لوگو ! ) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیج دیا ہے تم پر گواہ بنا کر۔ “ ہمارا یہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں تمہارے سامنے اپنے قول و عمل سے حق کی گواہی دے گا اور قیامت کے دن تمہارے خلاف گواہی دے گا ‘ کہ اے اللہ ! میں نے تو تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب اس حوالے سے یہ لوگ خود جواب دہ ہیں۔ { کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ۔ } ” جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف بھی ایک رسول۔ “ اسی طرح اس سے پہلے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رسول کی حیثیت سے فرعون کے پاس بھیجا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 The address now turns to the disbelievers of Makkah, who were denying the Holy Prophet (upon whom be peace) and persecuting him relentlessly. 16 Sending the Holy Prophet to be a witness over the people also means that he should testify to the Truth by his word and deed before them in the world and also that in the Hereafter when Allah's Court is established, he will testify that he had presented the whole Truth before the people in the world. (For further explanation, see E.N. 144 of Al-Baqarah, E.N. 64 of An-Nisa', An-Nahl: 84, 89, E.N. 82 of Al-Azab, E.N. 14 of Al-Fath) .

سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :15 اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے ۔ سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :16 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں ، اور یہ بھی آخرت میں جب اللہ تعالی کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کر دیا تھا ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، حاشیہ 144 ۔ النساء ، حاشیہ 64 جلد دوم ، النحل ، آیات 84 ، 89 ۔ جلد چہارم ، الاحزاب ، حاشیہ 82 ، جلد پنجم ، الفتح ، حاشیہ 14 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(73:15) انا ارسلنا الیکم رسولا : کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب مکہ کے المکذبین اولی النعمۃ سے۔ شاھدا علیکم : ای یشھد یوم القیامۃ بما صدر منکم من الکفر والعصیان (روح المعانی) جو کفر و نافرمانی تم سے صادر ہوتی ہے قیامت کے روز وہ اس کی گواہی دے گا۔ شاھدا۔ گواہ، حاضر ہونے والا۔ شہادت دینے والا۔ بتانے والا۔ شھادۃ وشھود (باب سمع ) مصدر سے اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر۔ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء گرامی میں سے ہے کیونکہ آپ قیامت میں امت کے گواہ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتانے والے ہیں۔ شاھدا صفت ہے رسولا کی۔ کما : ک تشبیہ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ ارسلنا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تمہاری طرف رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون کے پاس رسول کو بھیجا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی قیامت کے دن تم سب کے متعلق گواہی دے گا کہ کس نے اس کا کہنا مانا اور کس نے نافرمانی کی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جن مکذبین کو بیڑیوں سے جکڑا جائے گا اور ان کو اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ان میں سرفہرست فرعون اور اس کے پیروکار ہوں گے۔ سورة مزمل کی چوتھی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم آپ پر بھاری فرمان نازل کرنے والے ہیں اس کی تفسیر کرتے ہوئے یہ عرض کی ہے کہ کفار اور مشرکین کے سامنے قرآن مجید کی دعوت پیش کرنا فی نفسہٖ بڑا مشکل اور بھاری کام ہے۔ اس بھاری کام کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح وشام مکہ اور اس کے گرد ونواح میں سرانجام دے رہے تھے۔ اس کا رد عمل وہی تھا جس کا مظاہرہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے کیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتلانے کے لیے اہل مکہ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول مبعوث کیا ہے جیسا رسول فرعون کی طرف مبعوث کیا تھا، فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کی سخت ترین گرفت کی۔ (النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (المومن : ٤٦) ” آل فرعون صبح وشام جہنم کی آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اور قیامت کے دن حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو۔ “ (عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقُلْتُ قَدْ قُتِلَ أَبُو جَہْلٍ اَوْ قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَہْلٍ قَالَ أَنْتَ رَأَیْتَہُ ؟ قُلْتُ نَعَم قَال آللَّہِ مَرَّتَیْنِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْہَبْ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ فَذَہَبَ فَأَتَاہُ وَقَدْ غَیَّرَتِ الشَّمْسُ مِنْہُ شَیْءًافَأَمَرَ بِہِ وَبِأَصْحَابِہِ فَسُحِبُوا حَتَّی أُلْقُوا فِی الْقَلِیبِ قَالَ وَأُتْبِعَ أَہْلُ الْقَلِیبِ لَعْنَۃً وَقَالَ کَانَ ہَذَا فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ) (رواہ احمد : باب حدیث العباس، اسنادہ ضعیف) ” حضرت ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے کہا کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوجہل قتل ہوگیا ہے یا میں نے ابو جہل کو قتل کردیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو نے اس کو دیکھا ہے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے دو مرتبہ اللہ کی قسم کھائی میں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا میرے ساتھ چلو یہاں تک کہ میں بھی اسے دیکھ لوں۔ آپ چلے، جب اس کی لاش کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ دھوپ کی وجہ سے اس کا رنگ تبدیل ہوچکا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا تو انہیں گندے پانی کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ پھر کنویں والوں پر لعنت کی گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوجہل اس امت کا فرعون ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے ساتھ مشابہ قرار دیا۔ ٢۔ جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور نافرمانی کی اسی طرح اہل مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور نافرمانی کی۔ ٣۔ جس طرح فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ہوا بالکل ایسے ہی ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا بدترین انجام نکلا۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام : ١۔ ہم آج تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : ٩٢) ٢۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کیا۔ (الاعراف : ٦٤) ٣۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : ٥٥) ٤۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : ١٠٣) ٥۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : ٦٦) ٦۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : ٤٠) ٧۔ قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : ٩٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر پر جمے ہوئے ہو تم سوچ لو کہ اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا یعنی اس دن ایسی سختی ہوگی جو بچوں کو بوڑھا کر دے گی، اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اللہ کا جو وعدہ ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ بچوں کو بوڑھا کردینے کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ کنایہ ہے شدت سے یعنی وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ مصیبت کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چونکہ وہ دن بہت لمبا ہوگا اس لیے دن میں بچے بوڑھے ہوجائیں گے جو بچن میں وفات پا گئے تھے وہ قبروں سے اسی حال میں نکلیں گے پھر قیامت کے امتداد اور اشتداد کی وجہ سے بوڑھے ہوجائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” انا ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ شاھد، حق بیان کرنے والا، بتانے والا (شاہ عبدالقادر) ۔ لفظ شاہد سے گواہ مراد لے کر اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حاضر ناظر ہونے پر استدلال درست نہیں۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے (ص 70) ۔ خطاب مشرکین سے ہے۔ وبیلا، شدیدا غلیظا (مدارک) ۔ جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول (موسی علیہ السلام) بھیجا جس نے فرعون اور اس کی قوم کو توحید کی دعوت دی اسی طرح ہم نے تمہارے پاس بھی ایک عظیم الشان رسول (محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا ہے جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ فعصی فرعون، فرعون اور اس کی قم نے اس رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور اس کی دعوت کو رد کردیا تو ہم نے ان پر سخت گرفت کی اور ان کو دریا میں غرق کردیا۔ اب تم بھی اپنے رسول کی نافرمانی اور اس کی مخالفت کر رہے ہو۔ اگر تم اسی عصیان و طغیان پر قائم رہے تو تمہیں بھی درد ناک سزا دی جائے گی۔ چناچہ میدان بدر میں ان معاندین کو قتل و قید کے رسوا کن عذاب کا مزہ چکھنا پڑا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) بلاشبہ ہم نے تمہاری جانب تم پر گواہی دینے والا اور تمہارے احوال بتانے والا ایک ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا