Surat ul Muzammil

Surah: 73

Verse: 9

سورة المزمل

رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾

[He is] the Lord of the East and the West; there is no deity except Him, so take Him as Disposer of [your] affairs.

مشرق و مغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بنا لے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Lord of the east and the west; La ilaha illa Huwa. So take Him a trustee. meaning, He is the Owner and Controller of affairs in the eastern regions and the western regions. He is the One except whom there is no deity worthy of worship. Just as you single Him out for worship, you should also single Him out for reliance. Therefore, take Him as a guardian and trustee. This is as Allah says in another Ayah, فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ So worship Him and rely upon him. (11:123) It is also similar to His statement, إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ You (Alone) we worship, and you (Alone) we ask for help. (1:5) The Ayat with this meaning are numerous. They contain the command to make worship and acts of obedience exclusively for Allah, and to rely solely upon Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] وکیل کا لفظ ہماری زبان میں بھی ٹھیک اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس میں عربی زبان میں مستعمل ہے۔ ہم جب مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں تو سب ذمہ داری اس کے سپرد کرکے خود مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر سے فرما رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تو پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجائیے اور اپنے سب معاملات اپنے پروردگار کے سپرد کردیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باقی سب معاملات وہ درست کر دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(رب المشرق والمغرب…: یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : ١٢٣)” سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ “ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : ٣)” ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ “ ” وکیلاً “ ” وکل یکل “ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا (He is the Lord of the East and the West; there is no god but He; so take Him for [ your ] Guardian...73:9). The word wakil, lexicologically, refers to a &person who has been given a task to do&. &To take Allah as guardian& means that all matters and affairs should be entrusted to Allah. Technically, this is called tawakkul &trust&. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is given several injunctions in this Surah. This is the fifth injunction. Imam Ya` qub Karkhi says that from the beginning of the Surah up to this verse there is reference to the maqamat suluk &journeying or a methodical travelling along the spiritual path through the various states and stations under the direction of a spiritual master or adept&. The references are as follows: [ 1] solitude at night to worship Allah; [ 2] preoccupation with Qur&an; [ 3] constant Remembrance of Allah; [ 4] severance of relationship with |"everything-other-than-Allah, and [ 5] total trust in Allah. Preceding the last injunction about trust, Allah&s attribute is given, thus: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ &He is the Lord of the East and the West__[ 73:9] &. In other words, Allah is the Cherisher and Sustainer of the entire universe. He is responsible to fulfill the needs of all from the beginning to the end. He alone can assist in all matters. Just as He has been singled out for worship, so should He be singled out for reliance, and full trust must be put in Him. Anyone who trusts and relies on Allah will never be deprived of his needs as the Qur&an puts it: &...And whoever places his trust in Allah, He is sufficient for him. _[ 65:3] & The Correct Concept of Tawakkul [ Trust ] Trust in Allah does not imply for anyone to avoid the apparent means of acquiring livelihood, or giving up the normal ways of saving oneself from any affliction. The ways and means that Allah has created for a particular purpose should not be abandoned while placing total trust in Allah. On the contrary, in order to achieve our purpose it is necessary for us to utilize the God-given power and causes at our disposal to the fullest extent, but we should not repose blind faith in material causes and means. But having adopted actions of choice, the result should then be left with Allah whose will is the Ultimate Cause of everything. The Holy Prophet himself has explained tawakkul in this way. Imam Baghawi, in his Sharh-us-Sunnah, and Baihagi, in his Shu` ab-ul-&Iman, have cited the following Hadith: ان نفسا لن تموت حتی تستکمل رزقھا، الا فاتقواللہ واجملوا فی الطلب۔ |"Jibra&il (علیہ السلام) has inspired me with the thought that no person will ever die until he receives, in full, his sustenance that Allah has decreed for him. Therefore, fear Allah and be moderate in your search.|" In other words, we should not be over-absorbed in quest for our needs so deeply that the attention of the heart is totally focused on the material causes and means. Instead, after adopting the ways and means to fulfill our needs, we should repose our total trust in and reliance upon Allah in the sense that without His will, no cause can bring any effect. Tirmidhi transmits a Hadith on the authority of Sayyidna Abu Dharr Al-Ghifari that the Holy Prophet said: |"Zuhd (Renunciation of the world) does not mean to turn lawful things into unlawful or squander the wealth Allah has given you. Renunciation of the world means to have more faith in the things that are in Allah&s hands than what are in your hands.|" [ Mazhari ]

(آیت) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا، وکیل لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو کوئی کام سپرد کیا جائے۔ فاتخذہ وکیلا کا مفہوم یہ ہوا کہ اپنے سب کاروبار معاملات اور حالات کو اللہ کے سپرد کرو۔ اسی کا نام اصطلاح میں توکل ہے۔ اس سورت میں جو احکام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے گئے ہیں یہ ان میں پانچواں حکم ہے۔ امام یعقوب کرخی (رح) نے فرمایا شروع سورت سے اس آیت تک مقامات سلوک کی طرف اشارہ ہے یعنی رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خلوت۔ قرآن کریم میں اشتعال، ذکر اللہ پر دوام، ماسوی اللہ سے اعراض و ترک تعلق اللہ تعالیٰ پر توکل توکل کے آخری حکم سے پہلے اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت رب المشرق والمغرب بیان کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جو ذات پاک مشرق و مغرب یعنی سارے جہان کی پالنے والی اور ان کی تمام ضروریات ابتداء سے انتہا تک پورا کرنے کی متکفل ہے۔ توکل اور بھروسہ کرنے کے قابل صرف وہی ذات ہو سکتی ہے اور اس پر بھروسہ کرنے والا کبھی محروم نہیں رہ سکتا جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ (آیت) ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ۔ یعنی جو شخص اللہ پر توکل (بھروسہ) کرتا ہے اللہ اس کے (سب مہمات و مشکلات کے لئے) کافی ہوتا ہے۔ توکل کے معنی شرعی :۔ اللہ پر توکل اور بھروسہ کے یہ معنی نہیں کہ کسب معاش اور دفع بلا کے جو اسباب و آلات قدرت حق نے آپ کو عطا فرمائے ہیں ان کو معطل کر کے اللہ پر بھروسہ کرو، بلکہ حقیقت توکل کی یہ ہے کہا پنے مقاصد کے لئے اللہ کی دی ہوئی قوت و توانائی اور جو اسباب میسر ہیں ان سب کو پورا استعمال کرو مگر اسباب مادیہ میں غلو اور انہماک زیادہ نہ کرو اعمال اختیار یہ کو کرلینے کے بعد نتیجہ کو اللہ کے سپرد کر کے بےفکر ہوجاؤ۔ توکل کا یہ مفہوم خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ امام مغوی نے شرح السنتہ میں اور بہیقی نے شعیب الایمان میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( ان نفسا لن تموت حتی تستکمل رزقھا الا فاتقواللہ واجملوا فی الطلب (مظہری) یعنی روح القدس (جبرئیل امین) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس لئے تم خدا سے ڈرو اور اپنے مقاصد کی طلب میں اختصار سے کام لو، زیادہ منہمک نہ ہو کہ قلب کی توجہ ساری انہیں مادی اسباب و آلات میں محصور ہو کر رہ جائے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور ترمذی میں حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ترک دنیا اس کا نام نہیں کہ تم اپنے اوپر اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کرلو یا جو مال تمہارے پاس ہو اسے خواہ مخواہ اڑا دو ، بلکہ ترک دنیا اس کا نام ہے کہ تمہارا اعتماد اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں جو چیز ہے اس پر زیادہ ہو بہ نسبت اس کے جو تمہارے ہاتھ میں ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَفَاتَّخِذْہُ وَكِيْلًا۝ ٩ شرق شَرَقَتِ الشمس شُرُوقاً : طلعت، وقیل : لا أفعل ذلک ما ذرّ شَارِقٌ وأَشْرَقَتْ : أضاءت . قال اللہ : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْراقِ [ ص/ 18] أي : وقت الإشراق . والْمَشْرِقُ والمغرب إذا قيلا بالإفراد فإشارة إلى ناحیتي الشَّرْقِ والغرب، وإذا قيلا بلفظ التّثنية فإشارة إلى مطلعي ومغربي الشتاء والصّيف، وإذا قيلا بلفظ الجمع فاعتبار بمطلع کلّ يوم ومغربه، أو بمطلع کلّ فصل ومغربه، قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، وقوله تعالی: مَکاناً شَرْقِيًّا[ مریم/ 16] ، أي : من ناحية الشّرق . والْمِشْرَقَةُ : المکان الذي يظهر للشّرق، وشَرَّقْتُ اللّحم : ألقیته في الْمِشْرَقَةِ ، والْمُشَرَّقُ : مصلّى العید لقیام الصلاة فيه عند شُرُوقِ الشمس، وشَرَقَتِ الشمس : اصفرّت للغروب، ومنه : أحمر شَارِقٌ: شدید الحمرة، وأَشْرَقَ الثّوب بالصّبغ، ولحم شَرَقٌ: أحمر لا دسم فيه . ( ش ر ق ) شرقت ( ن ) شروقا ۔ الشمس آفتاب طلوع ہوا ۔ مثل مشہور ہے ( مثل ) الاافعل ذالک ماذر شارق واشرقت جب تک آفتاب طلوع ہوتا رہیگا میں یہ کام نہیں کروں گا ۔ یعنی کبھی بھی نہیں کروں گا ۔ قرآن میں ہے : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْراقِ [ ص/ 18] صبح اور شام یہاں اشراق سے مراد وقت اشراق ہے ۔ والْمَشْرِقُ والمغربجب مفرد ہوں تو ان سے شرقی اور غربی جہت مراد ہوتی ہے اور جب تثنیہ ہوں تو موسم سرما اور گرما کے دو مشرق اور دو مغرب مراد ہوتے ہیں اور جمع کا صیغہ ہو تو ہر روز کا مشرق اور مغرب مراد ہوتا ہے یا ہر موسم کا قرآن میں ہے : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] وہی مشرق اور مغرب کا مالک ( ہے ) رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے ۔ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] اور مشرقوں کا رب ہے ۔ مَکاناً شَرْقِيًّا[ مریم/ 16] مشر ق کی طرف چلی گئی ِ ۔ المشرقۃ جاڑے کے زمانہ میں دھوپ میں بیٹھنے کی جگہ جہاں سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی دھوپ پڑتی ہو ۔ شرقت اللحم ۔ گوشت کے ٹکڑے کر کے دھوپ میں خشک کرنا ۔ المشرق عید گاہ کو کہتے ہیں کیونکہ وہاں طلوع شمس کے بعد نماز اد کی جاتی ہے ۔ شرقت الشمس آفتاب کا غروب کے وقت زردی مائل ہونا اسی سے احمر شارق کا محاورہ ہے جس کے معنی نہایت سرخ کے ہیں ۔ اشرق الثوب کپڑے کو خالص گہرے رنگ کے ساتھ رنگنا ۔ لحم شرق سرخ گوشت جس میں بالکل چربی نہ ہو ۔ غرب الْغَرْبُ : غيبوبة الشّمس، يقال : غَرَبَتْ تَغْرُبُ غَرْباً وغُرُوباً ، ومَغْرِبُ الشّمس ومُغَيْرِبَانُهَا . قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، وقد تقدّم الکلام في ذكرهما مثنّيين ومجموعین «4» ، وقال : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] ، وقال : حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] ، وقیل لكلّ متباعد : غَرِيبٌ ، ولكلّ شيء فيما بين جنسه عدیم النّظير : غَرِيبٌ ، وعلی هذا قوله عليه الصلاة والسلام : «بدأ الإسلام غَرِيباً وسیعود کما بدأ» «5» وقیل : العلماء غُرَبَاءُ ، لقلّتهم فيما بين الجهّال، والغُرَابُ سمّي لکونه مبعدا في الذّهاب . قال تعالی: فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] ، وغَارِبُ السّنام لبعده عن المنال، وغَرْبُ السّيف لِغُرُوبِهِ في الضّريبة «6» ، وهو مصدر في معنی الفاعل، وشبّه به حدّ اللّسان کتشبيه اللّسان بالسّيف، فقیل : فلان غَرْبُ اللّسان، وسمّي الدّلو غَرْباً لتصوّر بعدها في البئر، وأَغْرَبَ الساقي : تناول الْغَرْبَ ، والْغَرْبُ : الذّهب «1» لکونه غَرِيباً فيما بين الجواهر الأرضيّة، ومنه : سهم غَرْبٌ: لا يدری من رماه . ومنه : نظر غَرْبٌ: ليس بقاصد، و، الْغَرَبُ : شجر لا يثمر لتباعده من الثّمرات، وعنقاء مُغْرِبٌ ، وصف بذلک لأنه يقال : کان طيرا تناول جارية فَأَغْرَبَ «2» بها . يقال عنقاء مُغْرِبٌ ، وعنقاء مُغْرِبٍ بالإضافة . والْغُرَابَانِ : نقرتان عند صلوي العجز تشبيها بِالْغُرَابِ في الهيئة، والْمُغْرِبُ : الأبيض الأشفار، كأنّما أَغْرَبَتْ عينُهُ في ذلک البیاض . وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] ، قيل : جَمْعُ غِرْبِيبٍ ، وهو المُشْبِهُ لِلْغُرَابِ في السّواد کقولک : أسود کحلک الْغُرَابِ. ( غ رب ) الغرب ( ن ) سورج کا غائب ہوجانا غربت نغرب غربا وغروبا سورج غروب ہوگیا اور مغرب الشمس ومغیر بانھا ( مصغر ) کے معنی آفتاب غروب ہونے کی جگہ یا وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] وہی ) مشرق اور مٖغرب کا مالک ہے ۔ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے ۔ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ ان کے تثنیہ اور جمع لانے کے بحث پہلے گذر چکی ہے ۔ نیز فرمایا : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] کہ نہ مشرق کی طرف سے اور نہ مغرب کی طرف ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے جگہ پہنچا ۔ اور ہر اجنبی کو غریب کہاجاتا ہے اور جو چیز اپنی ہم جنس چیزوں میں بےنظیر اور انوکھی ہوا سے بھی غریب کہہ دیتے ہیں ۔ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا (58) الاسلام بدء غریبا وسعود کمابدء کہ اسلام ابتداء میں غریب تھا اور آخر زمانہ میں پھر پہلے کی طرح ہوجائے گا اور جہلا کی کثرت اور اہل علم کی قلت کی وجہ سے علماء کو غرباء کہا گیا ہے ۔ اور کوے کو غراب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ بھی دور تک چلا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدٹے لگا ۔ اور غارب السنام کے معنی کو ہاں کو بلندی کے ہیں کیونکہ ( بلندی کی وجہ سے ) اس تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور غرب السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں کیونکہ تلوار بھی جسے ماری جائے اس میں چھپ جاتی ہے لہذا ی مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ پھر جس طرح زبان کو تلوار کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اسی طرح زبان کی تیزی کو بھی تلوار کی تیزی کے ساتھ تشبیہ دے کر فلان غرب اللسان ( فلاں تیز زبان ہے ) کہاجاتا ہے اور کنوئیں میں بعد مسافت کے معنی کا تصور کرکے ڈول کو بھی غرب کہہ دیا جاتا ہے اور اغرب الساقی کے معنی ہیں پانی پلانے والے ڈول پکڑا اور غرب کے معنی سونا بھی آتے ہیں کیونکہ یہ بھی دوسری معدنیات سے قیمتی ہوتا ہے اور اسی سے سھم غرب کا محاورہ ہے یعنی دہ تیر جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کدھر سے آیا ہے ۔ اور بلا ارادہ کسی طرف دیکھنے کو نظر غرب کہاجاتا ہے اور غرب کا لفظ بےپھل درخت پر بھی بولا جاتا ہے گویا وہ ثمرات سے دور ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عنقاء جانور ایک لڑکی کو اٹھا کر دوردروازلے گیا تھا ۔ اس وقت سے اس کا نام عنقاء مغرب اوعنقاء مغرب ( اضافت کے ساتھ ) پڑگیا ۔ الغرابان سرینوں کے اوپر دونوں جانب کے گڑھے جو ہیت میں کوے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔ المغرب گھوڑا جس کا کر انہ ، چشم سفید ہو کیونکہ اس کی آنکھ اس سفیدی میں عجیب و غریب نظر آتی ہے ۔ اور آ یت کریمہ : وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] کہ غرابیب کا واحد غربیب ہے اور اس کے معنی کوئے کی طرح بہت زیادہ سیاہ کے ہیں جس طرح کہ اسود کحلک العراب کا محاورہ ہے ۔ ( یعنی صفت تاکیدی ہے اور اس میں قلب پایا جاتا ہے اصل میں سود غرابیب ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 " Wakil is a person in whom one has complete faith; so much so that one can entrust all one's affairs to him with full satisfaction of the heart. Thus, the verse means: "Do not feel distressed at the hardships that you are experiencing at the storm of opposition that has been provoked by your invitation to we Faith. Your Lord is He Who is the Owner of the East and the West, (i.e. of the whole universe) besides Whom no one else possesses the powers of Godhead. Entrust your affair to Him and be satisfied that He will fight your case, He will deal with your opponents, and He will look after all your interests well. "

سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :10 وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر اعتماد کر کے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دے ۔ قریب قریب اسی معنی میں ہم اردو زبان میں وکیل کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے حوالہ اپنا مقدمہ کر کے ایک آدمی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے وہ اچھی طرح مقدمہ لڑے گا اور اسے خود اپنا مقدمہ لڑنے کی حاجت نہ رہے گی ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دین کی دعوت پیش کرنے پر تمہارے خلاف مخالفتوں کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات تمہیں پیش آ رہی ہیں ان پر کوئی پریشانی تم کو لاحق نہ ہونی چاہیے ۔ تمہارا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب ، یعنی ساری کائنات کا مالک ہے ، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ تم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کر دو اور مطمئن ہو جاؤ کہ اب تمہارا مقدمہ وہ لڑے گا ، تمہارے مخالفین سے وہ نمٹے گا اور تمہارے سارے کام وہ بنائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(73:9) رب المشرق والمغرب۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ جملہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا۔ ھو رب المشرق والمغرب۔ (2) یہ جملہ مبتداء ہے اور لا الہ الا ھو اس کی خبر ہے۔ لا الہ الا ھو : لا۔ لاء نہی ہے الہ کا نصب لا کے عمل سے ہے۔ الا حرف استثناء ہے ھو مستثنیٰ ۔ ماسوائے الوہیت کی نفی کا ذکر ہے۔ یعنی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یہ خدا کی صفت ہے۔ فاتخذہ وکیلا : ف سببیہ ہے اتخذ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر ہے۔ تو بنالے۔ تو پکڑ رکھ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ وکیلا : وکل سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ مفعول کے ہے بمعنی کارساز ۔ مددگار، نگہبان۔ ذمہ دار۔ مطلب یہ کہ اللہ کی الوہیت منفردہ اس کے کارساز ہونے کی علت ہے جب اللہ ساری مخلوق کا رب ہے اور الوہیت میں منفرد ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات اسی کے سپرد کر دئیے جائیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

رب المشرق .................... وکیلا (73:9) ” وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، لہٰذا اسی کو اپنا وکیل بنالو “۔ وہ ہر متوجہ ہونے والے کا رب ہے۔ مشرق ومغرب کا رب ہے ، وہ واحد الٰہ ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اللہ کا ہوجائے ، وہ دراصل اس اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ عقیدہ خود بخود آجاتا ہے کہ اللہ اس کائنات کے شرق وغرب اور پوری کائنات پر قادر مطلق ہے۔ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن سے یہ کہا جارہا ہے کہ اٹھو کہ تم نے اس جہاں میں ایک بھاری ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تم اللہ کے ہوجاؤ اور پوری کائنات کی طرف پشت کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ اس کام کے لئے قوت ، طاقت ، سازوسامان اسی سرچشمے سے ملتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ کی قوم کی طرف سے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے ، لوگ منہ موڑ رہے ہیں ، الزامات لگاتے ہیں اور دوسروں کو راہ راست سے دور کرتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ ان مکذبین کو مجھ پر چھوڑیں ، میں ان سے نمٹ لوں گا کیونکہ میں نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کررکھا ہے اور ان سے میں سخت انتقام لوں گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا ٠٠٩﴾ (وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں) ۔ اس میں بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی حاجت روا نہیں اور کوئی معبود نہیں۔ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان وجود میں آتا ہے سب اسی کی مشیت سے ہوتا ہے وہی سب کا رب ہے آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں اسی کے سامنے اپنی حاجت رکھیں اسی سے سب کچھ مانگیں اور اسی کی طرف متوجہ رہیں۔ قولہ تعالیٰ : ﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ٠٠١﴾ قال الاخفش سعید ﴿المزمل﴾ اصلہ المتزمل فادغمت التاء فی الزای وکذلک ﴿المدثر﴾ وفی اصل المزمل قولان : احدھما انہ متحمل یقال ازمل الشی اذا حملہ ومنہ الزاملة لانھا تحمل القماش۔ الثانی ان المزمل ھو المتلفف : یقال : تزمل ودثر بثوبہ اذا تغطی : وزمل غیرہ اذا غطاہ، و كل شیء لفف فقد زمل ودثر، قال امرؤ القیس : (کبیر اناس فی بجادٍ مزمل) ۔ قال السھیلی : لیس المزمل باسم من اسماء النبی : ولم یعرف بہ کما ذھب الیہ بعض الناس وعدوہ فی اسمائہ علیہ الصلٰوة والسلام، وانما المزمل اسم مشق من حالتہ التی کان علیھا حین الخطاب، وکذلک المدثر۔ قولہ تعالیٰ : ﴿ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ بفتح الواو وسکون الطاء المقصورہ و اختارہ ابو حاتم، من قولک، اشتدت علی القوم وطاة سلطانھم۔ ای ثقل علیھم ما حملھم من المون، ومنہ قولہ (علیہ السلام) (اللھم اشدد وطاتک علی مضر) فالمعنی انھا اثقل علی المصلی من ساعات النھار۔ وذلک ان اللیل وقت منام وتودع واجما فمن شغلہ بالعبادة تحمل المشقة العظیمة۔ (من روح العانی) قولہ تعالیٰ : ﴿ وَّ اَقْوَمُ قِيْلًا ﴾: ای القراء ة باللیل اقوم منھا بالنھار ای اشد استقامة واستمرارا اعلی الصواب لان الا صوات ھادئة والدنیا ساکنة فلا یضطرب علی المصلی ما یقرہٴ۔ قولہ تعالیٰ : ﴿ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ یرید القیام والانتصاب للصلاة۔ ومنہ نشأ السحاب لحدوثہٖ فی الھواء وتربیتہ شیئا فشیئا۔ (ذكرہ الراغب فی مفرادتہ)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:َ ” رب المشرق “ یہ مبتدا مقدر کی خبر ہے۔ ای ھو رب المشرق۔ مشرق و مغرب تمام کائنات سے کنایہ ہے۔ ” فاتخذہ “ میں فا فصیحہ ہے جب ساری کائنات کا رب اور املک وہی ہے اور اس کے سوا کوئی الہ اور معبود نہیں تو پھر صرف اسی کی اپنا کارساز بناؤ اور اپنے تمام مہمات میں اسی پر تکیہ کرو اور تمام امور میں صرف اسی کو پکارو۔ فالمعنی انہ لما ثبت انہ لا الہ الا ھو لزمک ان تتخذوہ وکیلا وان تفوض کل امورک الیہ (کبیر ج 8 ص 340) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اور وہ مشرق ومغرب کا مالک اور پروردگار ہے اس کے سوا کوئی دوسرا قابل پرستش اور پوجنے کے لائق نہیں لہٰذا آپ اسی کو اپنا کام بنانے والا مقرر رکھیے اور آپ اپنا ہر کام سپرد کرنے کے لئے اسی کی تجویز کیجئے۔ مطلب یہ ہے کہ آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کی جگہ کا وہی مالک ہے یعنی تمام عالم کا وہی مالک ہے جب وہی بادشاہ اور وہی پروردگار ہے تو آپ اپنا کارساز اور مددگار اسی کو بنائیے۔ جیسا کہ اب تک اسی کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں اور تمام کام اسی کے سپرد کرتے رہا کیجئے اور اس کے تعلق کے مقابلے میں کسی اور کے تعلقات کی پروانہ کیجئے۔