Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 1

سورة الدھر

ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾

Has there [not] come upon man a period of time when he was not a thing [even] mentioned?

یقیناً گزرا ہے انسان پرایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah created Man after He did not exist Allah informs that He brought man into existence after he was not even a thing worth mentioning, due to his lowliness and weakness. Allah says, هَلْ أَتَى عَلَى الاِْنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْيًا مَّذْكُورًا Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning? Then Allah explains this by saying,

اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے ، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا ، اسے ہم آزما رہے ہیں ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ Ą۝ۙ ) 67- الملك:2 ) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو ۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17۝ۚ ) 41- فصلت:17 ) یعنی ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی اور جگہ ہے آیت ( وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ 10۝ۚ ) 90- البلد:10 ) ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں ، یعنی بھلائی برائی کی ، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی ، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے شاکراً اور کفوراً کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال لا کی ضمیر ہے جو آیت ( اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا Ǽ۝ ) 76- الإنسان:3 ) میں ہے ، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے ، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ، مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ نے فرمایا اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے؟ فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے ۔ اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا وہ حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے ، اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گذرتا ہے ، سورہ روم کی آیت ( فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ ) 30- الروم:30 ) کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گذر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گذار بنتا ہے یا ناشکرا ، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 یعنی انسان اول حضرت آدم ہیں اور حِیْن (ایک وقت) سے مراد، روح پھونکے جانے سے پہلے کا زمانہ ہے، جو چالیس سال ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک الانسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے اور حِیْن، سے مراد حمل یعنی رحم مادر کی مدت ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہیں ہوتا۔ اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں جب باہر آتا ہے تو رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں جب میں عالم نیست میں تھا، تو مجھے کون جانتا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] دہر کا لغوی مفہوم & دہر اللہ کی ذات ہے :۔ دھر بمعنی زمانہ کائنات، مدت عالم، جب سے کائنات شروع ہوئی اس وقت سے لے کر اس کے اختتام تک کا وقت (مفردات) اور ابن الفارس کہتے ہیں کہ دھر میں غلبہ اور قہر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور دہر کا یہ عالم اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز پر اضطراراً گزرتا اور اس پر غالب آتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ) اور دہر کا تعلق مشیئت الٰہی سے ہے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && لا تسبوا الدھر فان اللہ ھوالدھر && یعنی دہر کو برا بھلا نہ کہہ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لا تسبوا الدھر) اور دہری وہ شخص ہے جو کائنات کی تخلیق کا قائل نہیں بلکہ اسے ابدالاباد سے شمار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی صانع نہیں بس یہ آپ سے آپ اتفاقات کے نتیجہ میں وجود میں آگئی تھی۔ اس آیت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ انسان پر ایسا وقت بھی گزر چکا ہے جبکہ بنی نوع انسان کی ابھی تخلیق ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اس کا نام و نشان تک صفحہ ہستی پر موجود نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور اور طور طے کرنے کے بعد یہ نطفہ کی شکل میں آیا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب انسان نطفہ کی حالت میں تھا تو اس کی موجودہ شرافت و کرامت کے مقابلہ میں اس کی وہ حالت اس قابل ہی نہیں تھی کہ اسے زبان پر لایا جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ھل اتی علی الانسان…:” ھل “ (کیا) پوچھنے کے لئے آتا ہے۔ یہ پوچھنا کبھی تو کوئی خبر معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے، جیسے ” ھل فی الدار زید “” کیا گھر میں زید ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کبھی یہ سوال کسی بات کی نفی کے لئے ہوتا ہے، جیسے :” وھل یستطیع ذلک احد “” بھلا یہ کام کوئی کرسکتا ہے ؟ “ یعنی کوئی نہیں کرسکتا۔ عربی میں سے نفی کے علاوہ حجد بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پوچھنا بات منوانے کیلئے ہوتا ہے، اسے عربی میں تقریر کہتے ہیں، جیسے آپ نے کسی کو کچھ دیا ہو یا اس کی عزت کی ہو تو اسے کہیں ” ھل اعطیتک “ ” کیا میں نے تمہیں دیا ؟ “ اور ” ھل اکرمتک “ ” کیا میں نے تمہاری عزت کی ؟ “ اس وقت یہ ” ھل ‘ بمعنی ” قد “ ہوتا ہے، یقینی یقینا میں نے تمہیں دیا اور یقینا میں نے تمہاری عزت کی۔ اس آیت میں ” ھل “ اسی آخری معنی کے لئے آیا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس کا ترجمہ ” یقینا “ یا ” تحقیق “ کیا ہے، لیکن ” ھل “ کا معنی اپنی اصل پر (کیا) ہو تب بھی مراد یہی ہے کہ یقینا اس پر ایسا وقت گزرا ہے۔ (٢) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، ان کے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے خاک ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ پیدا کیا جاسکے۔ یہاں ایسے لوگوں کو قائل کرنے کے لئے سوال ہے کہ کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے جب وہ کوئی ایسی چیز ہی نہ تھا جس کا ذکر ہوتا ہو ؟ صاف ظاہر ہے کہ ان کاج واب یہ ہوگا کہ یقیناً انسان پر ایسا وقت گزرا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت بنا لیاجب یہ کچھ بھی نہ تھا بلکہ کہیں اس کا ذکر بھی نہ تھا تو پیدا کرنے کے بعد دوبارہ وہ کیوں نہیں بنا سکتا ؟ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ویقول الانسانء اذا مامت لسوف اخرج حیاً اولایذکر الانسان انا خل قنہ من قبل ولم یک شیئاً ) (مریم : ٦٦، ٦٨)” اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا مجھے زندہ کر کے (قبر سے ) نکالا جائے گا ؟ کیا اسے یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے پیدا کیا جب وہ کوئی چیز ہی نہ تھا۔ “ (٣)” الانسان “ سے مراد یہاں صرف آدم (علیہ السلام) نہیں بلکہ نسل انسانی ہے، کیونکہ آیت میں انسان کے نطفہ یدا ہونے کا ذکر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Surah Ad-Dahr has also been called Surah Al-Insan (Man) and Surah Al-Abrar (The Righteous) [ Ruh ]. The Surah describes in a very effective, eloquent and elegant style the inception and end of human creation, reward and punishment of deeds, and the conditions of the Hereafter, Paradise and Hell. هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا (There has come upon man a period of time in which he was nothing worth mentioning 76:1). The interrogative particle hal is used [ linguistically ] to introduce an interrogative sentence. Often, however, an interrogative construction is used to emphasise a self-evident truth. Such an interrogative means that whenever this question is put to anyone at anytime, the same answer is likely to come forth. There can be no other possibility. For instance, if a question is posed to anyone in the middle of day &Is it not a day?&, it is an interrogative sentence, but the answer is predictable and will emphasise its obviousness. Therefore, some scholars say that the particle hal is used here in the sense of qad &indeed&. In both cases, the verse signifies that there has come upon man a period of time in which he was nothing worth mentioning. The word hinun with nunation [ which is the sign of &indefiniteness&] signifies &a long indefinite period of time; The verse mentions that a long period of time came upon man. This indicates that man essentially did exist at that time in one form or another, (but he was not worth mentioning), because time could not have come upon &man& if he was in a state of pure non-existence [ Al-&adam-ul- mahd ]. Therefore, most commentators say that the &period of time& here refers to the period when he was conceived in the mother&s womb till his birth, which normally is nine months. This period covers all the stages of his creation, right from his being a sperm-drop up to his having a body and organs, and then his acquiring life and soul. During this time, he is thought existent, neither his gender is known to anyone, nor his name or his shape or size. Therefore, he is unmentionable. The statement of the verse may also be taken in a wider sense. The inception of human creation takes place with the sperm that is produced by food. This food and its source and substance was existent in one or other form. If the period of that time is calculated, this long indefinite period of time can stretch into thousands of years. In any case, Allah has drawn man&s attention in this verse to a particular fact. If he uses his sense, he will discover his own reality. In addition, he will have no choice but to have complete faith and unshaken belief in the Allah, His Omniscience and His Omnipotence. Suppose, a person of seventy years reflects that he was unmentionable in any way about seventy-one years ago, even his and parents had not imagined his particular existence, though they might have had a general concept of a child, then what caused his creation, what bewildering power drew together particles from different parts of the world to form a perfect human being, making him an intelligent, a hearing and seeing creature? Such a reflection will spontaneously force such a person to confirm the Persian poet who says: ما نبودیم وتقاضا مانبود، لطف تو ناگفتہ مامی شنود

خلاصہ تفسیر بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا (یعنی انسان نہ تھا بلکہ نطفہ تھا اور اس سے قبل غذا اور اس سے پہلے عناصر کا جز تھا) ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا (یعنی مرد اور عورت دونوں کے نطفے سے کیونکہ عورت کی منی بھی اندر ہی اندر عورت کے رحم میں گرتی ہے۔ پھر کبھی فم رحم سے خارج ہو کر ضائع ہوجاتی ہے اور کبھی اندر رہ جاتی ہے اور مخلوط کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اجزاء مختلفہ سے مرتکب ہے چناچہ ترکیب منی کی اجزاء مختلفہ سے ظاہر ہے غرض ہم نے اس کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا) اس طور پر کہ ہم اس کو مکلف بنائیں تو (اسی واسطے) ہم نے اس کو سنتا دیکھتا (سمجھتا) بنایا (اور چونکہ محاورہ میں سمیع وبصیرا استعمالاً مخصوص ہے عاقل کے ساتھ اسلئے عقل دینے کی جو کہ مدار ہے مکلف ہونے کا تصریح نہیں فرمائی گئی مگر مراد وہ بھی ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیئات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں احکام شرعیہ کا مکلف بننے کی قابلیت ہو، اس کے بعد جب مکلف ہونے کا وقت آگیا تو) ہم نے اس کو ( بھلائی برائی پر مطلع کرکے) راستہ بتلایا (یعنی احکام کا مخاطب بنایا پھر) یا تو وہ شکر گزار (اور مومن) ہوگیا یا ناشکر ( اور کافر) ہوگیا (یعنی جس رستہ پر چلنے کو اس کو کہا تھا جو اس پر چلا وہ مومن ہوگیا جو بالکل نہ چلا کافر ہوگیا۔ آگے فریقین کی جزا کا ذکر ہے کہ) ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور آتش سوزاں تیار کر رکھی ہے (اور) جو نیک (لوگ) ہیں وہ ایسے جام شراب سے (شرابیں) پیویں گے۔ جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمے سے (پیویں گے) جس سے خدا کے خاص بندے پئیں گے (اور) جس کو وہ ( خاص بندے جہاں چاہیں گے) بہا کرلے جائیں گے (اور یہ بہشتیوں کی ایک کرامت ہوگی کہ انہار جنت ان کے تابع ہوں گی جیسا کہ درمنثور میں ابن شوذب سے مروی ہے کہ جنتیوں کے ہاتھ میں سونے کی چھڑیاں ہوں گی اور وہ چھڑیوں سے جس طرف اشارہ کردینگے نہریں اسی طرف چلنے لگیں گی۔ اور یہ کافور دنیا کا کافور نہیں ہے بلکہ جنت کا کافور ہے جو سپیدی اور خنکی اور تفریح وتقویت دل و دماغ میں اس کا مشارک ہے شراب میں خاص کیفیات حاصل کرنے کے لئے عادت ہے بعض مناسب چیزوں کے ملانے کے پس وہاں اس جام میں کافور ملایا جاوے گا اور وہ جام شراب ایسے چشمے سے بھرا جاوے گا جس سے مقرب بندے پیویں گے تو ظاہر ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کا ہوگا سو اس سے ابرار کی بشارت میں تقویت ہوگئی اور اگر ابرار وعباد اللہ کا مصداق ایک ہو تو دو جگہ بیان کرنے سے جدا جدا مقصود ہے ایک جگہ اس کی آمیزش بتلانا ہے دوسری جگہ اس کا کثیر ومسخر ہونا کہ اسباب عیش کی کثرت اور تابع طبیعت ہونا لذت عیش کو بڑھا دیتا ہے۔ آگے ان ابرار کی صفات مذکور ہیں کہ) وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں اور ( ادا بھی کرتے ہیں خلوص سے کیونکہ وہ) ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی ( یعنی کم وبیش سب پر اس کی سختی کا اثر ہوگا مراد قیامت کا دن ہے الامن شاء اللہ تعالیٰ ) اور ( وہ لوگ ایسے مخلص ہیں کہ عبادات مالیہ میں بھی جس میں غالباً اخلاص کم ہوتا ہے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں چنانچہ) وہ لوگ (محض) خدا کی محبت سے غربت اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (قیدی اگر مظلوم ہے کہ ظلما پید کرلیا گیا تب تو اس کی اعانت کا مستحسن ہونا ظاہر ہے اور اگر ظالم ہے کہ ظلم کی سزا میں قید ہوا ہے تو شدت حاجت کے وقت اس کا اطعام بھی مستحسن ہے اور وہ لوگ کھانا کھلا کر زبان سے یا دل سے یوں کہتے ہیں کہ) ہم تم کو محض خدا کی رضا مندی کیلئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے (اسکا عملی) بدلہ چاہیں اور نہ ( اس کا قولی) شکریہ (چاہیں اور ہم خدا کی رضا مندی کے لئے اس واسطے تم کو کھانا کھلاتے ہیں کہ) ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں ( تو امید رکھتے ہیں کہ ان مخلصانہ اعمال کی بدولت اس دن کی تلخی اور سختی سے محفوظ رہیں اور اس سے معلوم ہوا کہ خوف آخرت سے کوئی کام کرنا اخلاص اور اتبغا مرضاة اللہ کے منافی نہیں) سو اللہ تعالیٰ ان کو (اس اطاعت و اخلاص کی برکت سے) اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور ان کی تازگی اور خوشی عطا فرما دے گا (یعنی چہروں پر تازگی اور قلوب میں خوشی دے گا) اور ان کی پختگی (یعنی استقامت فی الدین) کے بدلہ میں ان کو جنت اور ریشمی لباس دے گا اس حالت میں کہ وہ وہاں (جنت میں) مسہریوں پر (آرام وعزت سے) تکیہ لگائے ہوں گے (اور) نہ وہاں تپش (اور گرمی) پاویں گے اور نہ جاڑا (بلکہ فرحت بخش معتدل موسم ہوگا) اور یہ حالت ہوگی کہ (وہاں کے یعنی جنت کے) درختوں کے سائے ان (بہشتیوں) پر جھکے ہوں گے (یعنی قریب ہوں گے اور سایہ اسباب تنعم سے ہے۔ جنت میں آفتاب ماہتاب نہیں ہوں گے تو پھر سایہ کا کیا مطلب ہے ہوسکتا ہے کہ دوسرے اجسام نورانیہ کی روشنی سے سایہ مقصود ہو، اور فائدہ سایہ کا غالباً یہ ہے کہ حالات بدلتے رہیں، ایک حال کتنے بھی آرام ولذت کا ہو آخر کار اس سے طبیعت اکتا ہی جاتی ہے) اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے (کہ ہر وقت ہر طرح بلا مشقت لے سکیں گے) اور ان کے پاس (کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے کے لئے) چاندی کے برتن لائے جاویں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے ( اور) وہ شیشے چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا (یعنی اس میں مشروب ایسے انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے اور نہ اس سے بچے کہ دونوں میں بےلطفی ہوتی ہے اور چاندی کے شیشے کے یہ معنی کہ سفیدی تو چاندی جیسی ہوگی اور شفافی شیشہ جیسی اور دنیا کی چاندی میں آرپار نظر نہیں آتا اور شیشے میں یہاں ایسی سفیدی نہیں ہوتی پس یہ ایک عجیب چیز ہوگی) اور وہاں ان کو (علاوہ جام شراب مذکورہ بالا کے جس میں کافور کی آمیزش تھی اور بھی) ایسا جام شراب پلایا جاوے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی (کہ انتعاش حرارت غریزی اور منہ کا مزہ بدلنے کے لئے شراب میں اس کو بھی ملاتے تھے یعنی ایسے چشمے سے جو وہاں ہوگا ( ان کو پلایا جاوے گا) جس کا نام (وہاں) سلسبیل (مشہور) ہوگا (مجموعہ مقام بالا اور مقام ہذا سے معلوم ہوتا ہے کہ چشمہ مذکورہ بالا کی شراب میں آمیزش کافور کی ہوگی اور اس چشمہ مذکورہ مابعد کی شراب میں آمیزش زنجیل کی ہوگی واللہ اعلم باسرارہ) اور ان کے پاس (یہ چیزیں لے کر) ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ( اور وہ اسقدر حسین ہیں کہ) اے مخاطب اگر تو ان کو (چلتے پھرتے) دیکھے تو یوں سمجھے کہ موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں (موتی سے تو تشبیہ صفائی اور اشراق میں اور بکھرے ہوئے کا وصف ان کے چلنے پھرنے کے لحاظ سے جیسے بکھرے موتی منتشر ہو کر کوئی ادھر جارہا ہے کوئی ادھر جارہا ہے اور یہ اعلیٰ درجہ کی تشبیہ ہے) اور (ان مذکورہ اسباب تنعم میں انحصار نہیں بلکہ وہاں اور بھی ہر سامان اس افراط اور رفعت کیساتھ ہوگا کہ) اے مخاطب اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھ کو بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھلائی دے ( اور) ان جنتیوں پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے ( کیونکہ ہر لباس میں جدا لطف ہے) اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جاویں گے ( اس سورت میں تین جگہ چاندی کے سامان کا ذکر آیا ہے اور دوسری آیات میں سونے کا مگر دونوں میں تعارض نہیں کیونکہ دونوں طرح کا سامان ہوگا اور حکمت اس کی وہی تفنن اور تغیر طبائع وتنعمات کا ہے اور یہ شبہ کہ مردوں کو زیور معیوب ہے اسلئے مندفع ہے کہ ہر مقام کا مقتضاد جدا ہے یہاں عیب ہونا وہاں عیب ہونے کو مستلزم نہیں) اور ان کا رب (جو ان کو شراب پینے کو دے گا جس کا اوپر ذکر آیا ہے تو مثل شراب دنیا کے ناپاک اور مزیل عقل وموجب خمار نہ ہوگی بلکہ اللہ تعای) ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا ( جس میں نجاست نہ ہوگی اور نہ کدورت وہذا کقولہ تعالیٰ لا یصدعون عنھا ولا ینزفون اور تین جگہ جو سورت میں ذکر شراب کا آیا ہے ہر جگہ غرض جدا ہے جیسا تقریر ترجمہ سے واضح ہے پھر اول میں یشربوں ہے دوسری جگہ یسقون جو زیارت اکرام اور اعزاز پر دلالت کرتا ہے۔ تیسری جگہ سقھم ربھم میں نہایت ہی تشریف و تکریم ہے پس تکرار کا شائبہ نہ رہا اور ان سب نعمتوں کو دے کر اہل جنت سے مسرت روحانی بڑھانے کے لئے کہا جاوے گا کہ) یہ تمارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (جو دنیا میں کیا کرتے تھے) مقبول ہوئی (آگے فریقین کی جزا کافر کا ذکر کرنے کے بعد بطور تفریح معنوی کے آپ کو تسلی دینے کا بیان ہے۔ یعنی ان مخالفین کی سزا آپ نے سن لی، پس آپ ان کی مخالفت سے غم نہ کیئجے اور اپنی عبادت اور دعوت و اصلاح کے کام میں لگے رہیئے کے علاوہ اطاعت ہونے کے اس میں قلب کی بھی تو تقویت ہے اور بیان اس اطاعت کا یہ ہے کہ) ہم نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے ( تاکہ تھوڑا تھوڑا لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور انکو اس سے فائدہ اٹھاے میں آسانی ہو جیسا کہ سورة اسرا کے آخر میں ہے وقرانا فرقنہ الخ) سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر (کہ اس میں تبلیغ بھی داخل ہے) مستقل رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آئیے (یعنی جو تبلیغ سے منع کرتے ہیں کمافی الدر المنثور من سورة الکافرین، اس کی موافقت نہ کیجئے، مقصود اس سے اظہار اہتمام شان ہے ورنہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی موافقت کرنے کا کوئی احتمام ہی نہیں تھا یہ تو عبادت متعدیہ کا امر ہوا) اور (آگے عبادت لازمہ کا امر ہے یعنی) اپنے پروردگار کا صبح وشام نام لیا کیئجے اور کسی قدر رات کے حصے میں بھی اس کو سجدہ کیا کیجئے (یعنی نماز فرض پڑھا کیجئے) اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح (و تقدیس) کیا کجیئے (مراد) اس سے تہجد ہے علاوہ فرائض کے اور آگے تقویت تسلی کے لئے ایک اور مضومن ہے جس میں کفار کی مذمت بھی ہے یعنی ان لوگوں کی مخالفت کی اصل وجہ آپ کے ساتھ یہ ہے کہ) یہ لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور اپنے آگے (آنیوالے) ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں ( پس حب دنیا نے اندھا کر رکھا ہے اسلئے حق کہنے سے بعض رکھتے ہیں اور یوم ثقیل کا ذکر سنکر چونکہ احتمال ان کے انکار کا تھا اسلئے آگے اس یوم ثقیل کے استبعاد کو دفع فرماتے ہیں یعنی) ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور (نیز) جب ہم چاہیں ان ہی جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں ( اور امر اول تو مشاہد ہے اور دوسرا امر ادنی تنبیہ سے معلوم ہوسکتا ہے پس دونوں امروں سے قدرت الٰہیہ ظاہر ہے پھر مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے ہی میں کون بات زیادہ دشوار ہے کہ اس پر قدرت نہ ہو، آگے ان تمام مضامین سابقہ پر بطور تفریح کے فرماتے ہیں کہ) یہ (سب جو مذکور ہوا کافی) نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے ( وقد مرفی المزمل) اور (قرآن کے تذکرہ ہونے میں اس سے شبہ نہ کیا جاوے کے بعض کو اس سے ہدایت نہیں ہوتی، بات یہ ہے کہ قرآن فی نفسہ تذکرہ اور ہدایت کافی ہے لیکن) بدون خدا کے چاہے تم لوگ کوئی بات چاہ نہیں سکتے ( اور بعض لوگوں کے لئے خدا کے نہ چاہنے میں بعضی حکمتیں ہوتی ہیں کیونکہ) خدا تعالیٰ بڑا علم والا اور حکمت والا ہے وہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور (جسکو چاہئے کفر میں مبتلا رکھتا ہے پھر) ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ معارف ومسائل سورة دہر کا نام سورة انسان اور سورة الابرار بھی ہے (روح) اسمیں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا و اعمال پر جزا وسزا قیامت اور جنت دوزخ کے خاص حالات نہایت بلیغ اور موثر انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا حرف ہل دراصل استفہام کے لئے آتا ہے اور بعض اوقات کسی بدیہی اور کھلی ہوئی چیز کی بصورت استفہام اس لئے تعبیر کیا جاسکتا ہے اس کا واضح ہونا اور موکد ہوجائے کہ جس سے پوچھو گے یہی جواب دے گا، دوسرا احتمام ہی نہیں جیسے کوئی شخص نصب النہار کے وقت کسی سے کہے کہ کیا یہ دن نہیں ہے اس کی صورت میں تو استفہام کی ہے مگر درحقیقت اسکے انتہائی واضح ہونے کا بیان ہے۔ اسی لئے ایسے مواقع میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ حرف ھل بمعنے قد ہے جو تحقیق واقع کے لئے بولا جاتا ہے۔ بہر دو صورت مطلب آیت کا یہ ہے انسان پر ایک زمانہ دراز ایسا گزار ہے کہ دنیا میں کہیں اس کا نام ونشان یہاں تک کہ ذکر و تذکرہ تک نہ تھا۔ لفظ حین تنوین کے ساتھ ذکر کرنے سے اس وقت اور زمانے کی درازی کی طرف اشارہ ہے اور اس آیت میں یہ زمانہ دراز انسان پر گزرنا بیان فرمایا ہے جس میں اس کا فی الجملہ کسی نہ کسی طرح کا وجود ہونا لازمی ہے عدم محض کے زمانے کو تو انسان پر گزرنا نہیں کہا جاسکتا اس لئے اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس زمانے دراز سے جو انسان پر گزرا وہ زمانہ مراد ہے جو قرار حمل کے بعد سے پیدائش تک کا وقت ہے جو عادة نو مہینے ہوتے ہیں کہ اس میں انسان کی تخلیق پر جتنے دور گزرتے ہیں نفطہ سے لے کر جسم اور اعضا اور پھر اس میں روح حیات آنے تک وہ سب شامل ہیں۔ اس پورے زمانے میں اگرچہ اس کا وجود ایک طرح قائم ہوچکا ہے مگر نہ کوئی جانتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی نہ کوئی اس کا نام ہے نہ کسی کو اس کی شکل و صورت معلوم ہے اس لئے اس کا کہیں ذکر و تذکرہ تک نہیں ہے اور اگر اس کو وسیع ترمعنے دیئے جائیں تو تخلیق انسانی کی ابتدا جس طرح نطفہ سے سمجھی گئی ہے وہ نطفہ بھی جس غذا سے پیدا ہوا وہ غذا اور غذا سے پہلے اس غذا کا مادہ کسی نہ کسی صورت سے دنیا میں تھا اگر اس زمانے کو بھی شامل رکیں تو یہ زمانہ درازہزاروں سال کا ہوسکتا ہے۔ بہرحال حق تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کو ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلائی کہ اس میں ذرا بھی شعور ہوا اور کچھ بھی غور کرے تو اس کو اپنی حقیقت کے انکشاف کے ساتھ اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے وجود اور علم وقدرت پر مکمل ایمان و یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اگر ایک ستر برس کا انسان اس کا مراقبہ کرے اور اس پر غور کرے کہا اب سے اکہتر سال پہلے اس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور نہ اس کا کسی عنوان سے کوئی ذکر کرسکتا تھا۔ ماں باپ اور دادا دادی کے دل میں بھی اس کے مخصوص وجود کا کوئی خطرہ تک نہ تھا گو مطلق بچہ کا تصور ہو۔ اس وقت کیا چیز اس کی ایجادو تخلیق کی داعی ہوئی اور کس مخیر العقول قدرت نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ذرات کو اس کے وجود میں سمو کر اس کو ایک ہوشیار دانا، سمیع وبصیر انسان بنادیا تو وہ بےساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا۔ مانبودیم و تقاضا مانبود ٭لطف تو ناگفتہ مامی شنود

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ يَكُنْ شَـيْــــًٔا مَّذْكُوْرًا۝ ١ هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] ، هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] ، هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] ، هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] قيل : ذلک تنبيه علی قدرة الله، و تخویف من سطوته . ( ھل ) ھل یہ حرف استخبار اور کبھی استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جیسے قرآن پاک میں ہے : هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] کہدو کہ تمہارے پاس کوئی سند ہے اگر ہے تو اسے ہمارے سامنے نکالو ۔ اور کبھی تنبیہ تبکیت یا نفی کے لئے چناچہ آیات : ۔ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یار کہیں ان کی بھنکسنتے ہو ۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا ئم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو کیا تجھے ( آسمان میں ) کوئی شگاف نظر آتا ہے ۔ میں نفی کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ اور آیات : ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب ) بادل کے سائبانوں میں نازل ہو اور فرشتے بھی اتر آئیں ۔ ھلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] یہ اس کے سوا اور کسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا ۔ هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] یہ شخص کچھ بھی ) نہیں ہے مگر تمہارے جیسا آدمی ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تنبیہ اور اس کی سطوت سے تخو یف کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔ دهر الدّهر في الأصل : اسم لمدّة العالم من مبدأ وجوده إلى انقضائه، وعلی ذلک قوله تعالی: هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ [ الدهر/ 1] ، ثمّ يعبّر به عن کلّ مدّة كثيرة، وهو خلاف الزمان، فإنّ الزّمان يقع علی المدّة القلیلة والکثيرة، ودَهْرُ فلان : مدّة حياته، واستعیر للعادة الباقية مدّة الحیاة، فقیل : ما دهري بکذا، ويقال : دَهَرَ فلانا نائبة دَهْراً ، أي : نزلت به، حكاه ( الخلیل) فالدّهر هاهنا مصدر، وقیل : دَهْدَرَهُ دَهْدَرَةً ، ودَهْرٌ دَاهِرٌ ودَهِيرٌ. وقوله عليه الصلاة والسلام : «لا تسبّوا الدّهر فإنّ اللہ هو الدّهر» قد قيل معناه : إنّ اللہ فاعل ما يضاف إلى الدّهر من الخیر والشّرّ والمسرّة والمساءة، فإذا سببتم الذي تعتقدون أنه فاعل ذلک فقد سببتموه تعالیٰ عن ذلک وقال بعضهم : الدّهر الثاني في الخبر غير الدّهر الأوّل، وإنما هو مصدر بمعنی الفاعل، ومعناه : أنّ اللہ هو الدّاهر، أي : المصرّف المدبّر المفیض لما يحدث، والأول أظهر وقوله تعالیٰ إخبارا عن مشرکي العرب : ما هِيَ إِلَّا حَياتُنَا الدُّنْيا نَمُوتُ وَنَحْيا وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] ، قيل : عني به الزمان . ( د ھ ر ) الدھر ( زمانہ ) اصل میں مدت عالم کو کہتے ہیں یعنی ابتدا آفرینش سے لے کر اس کے اختتام تک کا عرصہ ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ [ الدهر/ 1] بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے ۔ میں الدھر سے یہی معنی مراد ہیں پھر ( مجاز ) اس سے ہر طویل مدت مراد لی جاتی ہے برخلف لفظ زمان ، ، کے یہ مدت قبیلہ اور کثیرہ دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ اور دھرفلان کے معنی اس کی مدت حیاۃ کے ہیں اور جو عادت زندگی پھر باقی رہے اس پر بھی استعارہ کدھر کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ مثلا کہاجاتا ہے ۔ مادھری بکذا میں اس کا عادی نہیں ہوں ۔ اور خلیل (رح) نے حکایت کی ہے : ۔ یعنی فلاں پر مصیبت نازل ہوگئی تو یہاں دھر کا لفظ مصدر ہے اور بعض نے دھدرۃ دھرۃ بھی کہا ہے دھرداھر ودھیر زمانہ بےانتہا وقت ایک حدیث میں ہے کہ زمانہ کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہی بعض نے اللہ تعالیٰ کے دھر ہونے کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو خیر وشر اور خوشی وناخوشی زمانہ کی طرف منسوب ہوتی ہے اس کا فاعل حقیقی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا جب تم زمانہ کو برا بھلا کہو گے جو تمہارے اعتقاد کے مطابق فاعل ہے ۔ تو گویا اللہ تبارک وتعالٰی کو گالیاں دے رہے ہو ۔ اور بعض نے کہا کہ حدیث میں دھر ثانی دھر اول کا غیر ہے اور یہ مصدر بمعنی فاعل ہے یعنی اور معنی یہ ہیں کہ ہر قسم کا تصرف وتدبیر اور جو کچھ رونما ہوتا ہے اس کا فیضان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر معنی اول ظہرو انسب ہے ۔ اور قرآن پاک نے مشرکین عرب کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ هِيَ إِلَّا حَياتُنَا الدُّنْيا نَمُوتُ وَنَحْيا وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ ( یہیں ) مرتے اور جیتے ہیں اور یہ صرف زمانہ ہی ہے جو ہمیں ہلاک کردیتا ہے ۔ اس کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ یاہں دھو سے مراد زمانہ ہی ہے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، مَذْكُوراً وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، وإن کان موجودا في علم اللہ تعالی.

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آدم پر چالیس سال کا ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جبکہ ان کا پتلا بنا ہوا تھا کہ ان کو کسی چیز کی خبر نہ تھی اور کس غرض سے وہ بنائے گئے اس کی خبر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو نہ تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا ۔ } ” کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہ تھا ؟ “ ” دَہْر “ سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا ‘ جبکہ ” حِیْن “ سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لامتناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو - - چناچہ ” دَہْر “ دراصل وقت کا وہ سمندر ہے جس کے اندر سے کائنات میں رونما ہونے والے ہر قسم کے واقعات و حادثات جنم لیتے ہیں۔ وقت کے اسی سمندر میں سے ہم انسان بھی نکلے ہیں۔ ع ” قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانند ِحباب “ (اقبال) ۔ چناچہ اس قلزم ہستی کے اندر ہر انسان پر ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب اس کا وجود حقیر پانی کی ایک ایسی بوند کی شکل میں تھا جس کا ذکر کرنا اور نام لینا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Most of the conunentators and translators have taken hal in the first sentence hal ata alal-insan-i, in the meaning of qad. Accordingly, they interpret this sentence to mean; "No doubt, there has indeed passed on man a time." But, in fact, the word hal in Arabic is used only as an interrogative particle, and its object is not to ask a question in every case, but this apparently interrogative particle is used in different meanings on different occasions. For example, sometimes, in order to find out whether a certain incident has taken place or not, we ask: "Has this thing happened?" Sometimes we do not mean to ask a question but to deny something and we express the denial, thus: "Can any other also do this?" Sometimes we want somebody to affirm something and so ask him: "Have I paid what was due to you? And sometimes we do not intend to have something just affirmed but we put a question in order to make the addressee pay particular attention to something which follows his affirmation as a sequel. For example, we ask someone: "Have I harmed you in any way'?" The object is not only to make him affirm that one has not done him any harm, but also to make him think how far one is justified to harm somebody who has not harmed him in any way. The interrogative sentence in the verse before us illustrates this last meaning. 'i ne object is not only to make man affirm that there has indeed passed on him such a period of time but also to make him think that the God Who developed and shaped him into a perfect man from an insignificant, humble beginning, would not be helpless to create him once again. In the second sentence, hin um-min ad-dahr the word dahr implies the endless time, the beginning and end of which are unknown to tnan and hin is the particular period of tune which might at some time have passed during this endless period. What is meant to be said is that in this immensely long span of time there has passed g long period when human race was altogether non-existent. Then a time came in it when a species called Man was created, and in the same period a time has passed on every person when a beginning was made to bring him into existence from nothingness. The third sentence, "when he was not yet a thing worthy of mention" implies that a part of him existed in the form of a microscopic gene in the sperm drop of the father and a part in the form of a microscopic ovum in the mother. For long ages man did not even know that he comes into being when the sperm gene and the ovum combine. Now both have been observed by means of powerful microscopes but even now no one can say how much of man exists in the father's germ and how much in the mother's ovum. Then, the initial cell that comes into being by the combination of the two at the time of conception is such an insignificant thing that it can be seen only through highly powerful microscopes and seeing it also no one at first sight can claim that it is a man taking shape, nor that even if a man emerges from this humble beginning, what will be his size and stature, what will be his form and figure, and what will be his capabilities and personality like. This is the meaning of the sentence that at that tithe he was not yet a thing worthy of any mention although a beginning of his being as a man had been made.

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :1 پہلا فقرہ ہے ھل اتی علی الانسان ۔ اکثر مفسرین و مترجمین نے یہاں ھل کو قد کے معنی میں لیا ہے ۔ اور وہ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ بے شک یا بلا شبہ انسان پر ایسا ایک وقت آیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھل عربی زبان میں کیا کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے ، اور اس سے مقصود ہر حال میں سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف مواقع پر یہ بظاہر سوالیہ لفظ مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے ۔ مثلاً کبھی تو ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں اور کسی سے پوچھتے ہیں کیا یہ واقعہ پیش آیا ہے؟ کبھی ہمارا مقصود سوال کرنا نہیں ہوتا بلکہ کسی بات کا انکار کرنا ہوتا ہے اور یہ انکار ہم اس انداز میں کرتے ہیں کہ کیا یہ کام کوئی اور بھی کر سکتا ہے؟ کبھی ہم ایک شخص سے کسی بات کا اقرار کرانا چاہتے ہیں اور اس غرض کے لیے اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں نے تمہاری رقم ادا کر دی ہے ؟ اور کبھی ہمارا مقصود محض اقرار ہی کرانا نہیں ہوتا بلکہ سوال ہم اس غرض کے لیے کرتے ہیں کہ مخاطب کے ذہن کو ایک اور بات سوچنے پر مجبور کر دیں جو لازماً اس کے اقرار سے بطور نتیجہ پیدا ہوتی ہے ۔ مثلاً ہم کسی سے پوچھتے ہیں کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی برائی کی ہے؟ اس سے مقصود صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کا اقرار کرے کہ آپ نے اس کے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے ، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی مقصود ہوتا ہے کہ جس نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے اس کے ساتھ میں برائی کرنے میں کہاں تک حق بجانب ہوں ۔ آیت زیر بحث میں سوالیہ فقرہ دراصل اسی آخری معنی میں ارشاد ہوا ہے ۔ اس سے مقصود انسان سے صرف یہی اقرار کرانا نہیں ہے کہ فی الواقع اس پر ایک وقت ایسا گزرا ہے ، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہے کہ جس خدا نے اس کی تخلیق کا آغاز ایسی حقیر سی حالت سے کر کے اسے پورا انسان بنا کھڑا کیا وہ آخر اسے دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہو گا ؟ دوسرا فقرہ ہے حین من الدھر ۔ دھر سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا ، اور حین سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لا متناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو ۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس لا متناہی زمانے کے اندر ایک طویل مدت تو ایسی گزری ہے جب سرے سے نوع انسانی ہی موجود نہ تھی ۔ پھر اس میں ایک وقت ایسا آیا جب انسان نام کی ایک نوع کا آغاز کیا گیا ۔ اور اسی زمانے کے اندر ہر شخص پر ایک ایسا وقت آیا ہے جب اسے عدم سے وجود میں لانے کی ابتدا کی گئی ۔ تیسرا فقرہ ہے لم یکن شیئا مذکوراً ، یعنی اس وقت وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ۔ اس کا ایک حصہ باپ کے نطفے میں ایک خورد بینی کیڑے کی شکل میں اور دوسرا حصہ ماں کے نطفے میں ایک خورد بینی بیضے کی شکل میں موجود تھا ۔ مدتہائے دراز تک تو انسان یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ دراصل وہ اس کیڑے اور بیضے کے ملنے سے وجود میں آتا ہے ۔ اب طاقتور خورد بینوں سے ان دونوں کو دیکھ تو لیا گیا ہے لیکن اب بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنا انسان باپ کے اس کیڑے میں اور کتنا ماں کے اس بیضے میں موجود ہوتاہے ۔ پھر استقرار حمل کے وقت ان دونوں کے ملنے سے جو ابتدائی خلیہ ( Cell ) وجود میں آتاہے وہ ایک ایسا ذرہ بے مقدار ہوتا ہے کہ بہت طاقتور خورد بین ہی سے نظر آ سکتا ہے کہ اس حقیر سی ابتداء سے نشوو نما پا کر کوئی انسان اگر بنے گا بھی تو وہ کس قد و قامت ، کس شکل و صورت ، کس قابلیت اور شخصیت کا انسان ہو گا ۔ یہی مطلب ہے اس ارشاد کا کہ اس وقت وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا اگرچہ انسان ہونے کی حیثیت سے اس کے و جود کا آغاز ہو گیا تھا ۔ سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :2 ایک مخلوط نطفے سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے دو الگ الگ نطفوں سے نہیں ہوئی بلکہ دونوں نطفے مل کر جب ایک ہو گئے تب اس مرکب نطفے سے انسان پیدا ہوا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٣۔ لم یکن شیئا مذکورا کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا وجود اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں تو تھا لیکن آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کچھ تذکرہ ظاہر نہیں تھا۔ اوپر صحیح ٢ ؎ حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے جب تک اس بچہ کی زبان کھلتی ہے اور بات چیت کرنی سیکھتا ہے اس وقت تک اسی فطرت اسلامی کی حالت پر رہتا ہے اور بعد اس کے ہر ایک امت کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کی ہدایت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہے اگر اس بچہ کے ماں باپ نیک راستہ پر نہ ہوئے تو پھر وہ بچہ ماں باپ کی صحبت سے اور شیطان کے بہکانے سے بگڑ جاتا ہے اس واسطے پہلے پیدائش انسان کا ذکر فرمایا کہ پیدائش کے وقت جو نیک راہ انسان کو دکھا دی جاتی ہے پیدا ہونے کے بعد ہوشیار ہو کر بعض اس پر قائم رہتے ہیں اور بعض نہیں رہتے۔ پھر نیک راہ پر قائم رہنے والوں اور نہ رہنے والوں کے انجام کے طور پر جنت و دوخ کا اور جنت کی طرح طرح نعمتوں اور دوزخ کے طرح طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا۔ اور دنیا میں اہل جنت اور اہل دوزخ کی جو نشانیاں ہیں وہ بھی ذکر فرمائیں کہ اہل جنت وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فرائض کو اور اپنی طرف سے جو نذریں مان لیں اس کو پورا کرتے ہیں اور اللہ کے نام پر محتاجوں کو کھانا کھلاتے رہتے ہیں اور اہل دوزخ وہ ہیں جو عاقبت کو بھولے ہوئے ہیں اور رات دن دنیا کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں اور فقط ذکر نذر کا اس لئے فرمایا کہ جو شخص اپنی مانی ہوئی نذر کو خالص دل سے اللہ کے واسطے ادا کرے گا وہ اللہ کے فرائض کو ضرور ادا کرے گا۔ صحیحین ١ ؎ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ اور اس طرح کی شرع کی تکلیف کی چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور دوزخ طرح طرح کی حرص و ہوا کی چیزوں سے گھرا ہوا ہے۔ امام نووی ٢ ؎ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ جنت اور ٢ دوزخ و مکان ہیں اور تکلیفات شرعیہ اور ممنوعات شرعیہ ان دونوں مکانوں کے دو رہبر ہیں جس شخص نے تکلیفات شرعیہ کو اپنا پیشوا اور رہبر بنایا وہ جنتی ہوا اور جس نے دنیا کی حرص و ہوس کی چیزوں کو اپنا پیشوا اور رہبر بنایا وہ دوزخی ہوا۔ صحیح ٣ ؎ مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ دنیا ایک بازار ہے بعض لوگ اس بازار سے اپنی ہلاکت کی چیزیں خریدتے ہیں اور بعض لوگ اپنی نجات کی چیزیں خریدتے ہیں۔ امشاج کے معنی مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی۔ نبتلیہ کے معنی یہ ہیں کہ علم ازلی میں نیک و بد جو ٹھہر چکے تھے علم ظاہری میں ان کا طہور جانچنے کو انسان کی پیدائش عمل میں آئی کیونکہ علم باطنی پر جزا و سزا کا مدار خلاف انصاف تھا۔ (٢ ؎ صحیح بخاری باب اللہ اعلم ماکانوا عاملین ص ٩٧٦ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفت نعیمھا واھلھا ص ٣٧٨ ج ٢۔ ) (؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفت نعیمھا واھلھا ص ٣٧٨ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب فضل الوضوء ص ١١٨ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:1) ہل اتی : استفہام تقریری ہے ہل بمعنی قد ہے۔ بیشک آچکا ہے بیشک گذر چکا ہے۔ علی الانسان۔ انسان سے عام انسان مراد ہے۔ یا حضرت آدم (علیہ السلام) ؟ اگلی آیت میں الانسان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے نطفہ امشاج سے پیدا کیا۔ امام فخر الدین رازی نے دونوں جگہ الانسان سے مراد عام انسان لیا ہے (اضواء البیان) حین : طائفۃ محدودۃ من الزمان الممتد الخیر المحدودۃ (بیضاوی) طویل ولا محدود زمانہ کا ایک محدود حصہ۔ الدھر : طریل، غیر محدود زمانہ۔ لم یکن شیئا مذکورا۔ جملہ محل نصب میں ہے اور الانسان سے حال ہے لم یکن مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں تھا۔ شیئا موصوف مذکورا ۔ ذکر سے اسم مفعول۔ صفت شی کی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ :۔ انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ اس وقت نہ یہ دنیا میں موجود تھا نہ اہل دنیا میں اس کا تذکرہ تھا۔ کوئی انسان کے نام سے واقف نہ تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی پیدائش سے پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا کہ کوئی اس کا ذکرتک کرتا۔ اس آیت میں ” ھل “ بمعنی قدر ہے اور اس لحاظ سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ سیبویہ، کسائی اور دوسرے ائمہ لغت کا اس پر اتفاق ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة الدھر۔ آیات ١ تا ٢٢۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر اس کو مختلف حالتوں سے گزار کر عقل وخرد کا مالک اور شعور انسانی عطا کردیتا ہے پھر اس کی ہدایت کا سامان کیا جاتا ہے اور اسے اختیار مل جاتا ہے کہ اطاعت کا راستہ اختیار کرے یانافرمانی کا اگر کفر کی راہ اپنائے گا تو انجام کار زنجیروں میں جکڑا جائے گا اور طوق پہنا کر دوزخ میں ڈالاجائے گا جبکہ اطاعت گزاروں پہ انعامات ہوں گے اور ایسے لذیذ مشروب کہ ان میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ان کی تواضع کے لیے ہوں گے اور ایسے مشروبات کے چشمے ہوں گے جنہیں اہل جنت اپنی مرضی سے چلائیں گے جہاں حکم دیں وہ ادھر جاری ہوجائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں نذر تک پوری کرتے تھے۔ نذر یامنت۔ نذر اس کام کی مانی جاسکتی ہے جو شرعا درست ہو اور وہ مانی جاسکتی ہے جو ازقسم فرائض پر ہو فرض نہ ہو جیسے نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ فرض ہے توفرائض کے علاوہ نوافل یانفلی روزے یاصدقہ کی منت مانی جاسکتی ہے پھر اسے ضرور پورا کیا جائے۔ یہاں مراد ہے جو اپنی طرف سے اپنے اوپر مقرر کرتے وہ بھی پورا کرتے تھے جو اللہ نے کردیا وہ تو بہرحال ضرور کرتے ہوں گے اور قیامت کے دن سے جس کا عذاب پھیل پڑے گا اور کفار کو سیلاب کی طرح نگلے گا ، ڈرتے تھے ان کا مالی نظام اور معاشی سلسلہ ایسا تھا کہ اللہ کے حکم کے تابع تھا یعنی اس کی محبت میں مساکین اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے تھے کہ کافر بھی اگر قیدی ہوتوریاست اسلامی اس کے کھانے کا اہتمام کرے گی اور ان سے اس کا بدلہ نہیں چاہتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے تم سے کسی بدلے کی ضرورت نہیں۔ تم سے احسان منوانا بھی نہیں چاہتے بلکہ ہم تو اللہ سے ڈرتے ہیں کہ قیامت بہت اداس کردینے والا اور سختی والا دن ہوگاتو اللہ ایسے لوگوں کو اس روز کی شدت اور عذاب سے بچائے گا اور انہیں تازگی اور مسرت و خوشی نصیب ہوگی یعنی روز قیامت بیک وقت وذاب سے بھر پور ہوگا اور لذت سے بھی اور انہوں نے خود کو اللہ کی اطاعت پہ قائم رکھا لہذا یہاں انہیں اس کا انعام بخشا جائے گا جو خوبصورت باغوں اور ریشمی لباسوں کی شکل میں عطا ہوگاجہاں وہ گاؤ تکیے لگاکربیٹھے ہوں گے وہاں موسموں کی شدت نہ ہوگی نہ گرمی نہ سردی یعنی کسی طرح سے کوئی شے ان کی لذات میں مخل نہ ہوگی ۔ حسین درختوں کی خوبصورت چھاؤں اور پھلوں سے جھکی ہوئی شاخیں جو ان کی خدمت کو حاضر ہوں یعنی جیسے اور جب چاہیں گے پھل حاصل کریں گے اور خدام ان کے لیے چاندی کے آبخوروں میں مشروب لیے پھرتے ہوں گے جو شیشے کی طرح شفاف ہوں گے اور خوبصورت انداز میں بھرے ہوئے ہوں گے۔ دوسری طرح کا مشروب بھی ہوگا جس میں سونٹھ کا ذائقہ ہوگایہ اس چشمے کا ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے ان کی خدمت کے لیے نوعمر لڑکے ہوں گے کہ اگر انہیں دیکھاجائے تو لگے موتی بکھرے پڑتے ہیں۔ جنت کے خدام میں نوعمر بچے بھی ہوں گے۔ جنت میں جنتیوں کے خادم نوعمر خوبصورت حسین لڑکے بھی ہوں گے جو ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے کہ ان کے گھروں کے اندر بھی خدمت کرسکیں گے یہ مخلوق جنت میں اللہ پیدا فرمادیں گے اور علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کفار کے نابالغ بچے جنت میں خادم بنادیے جائیں گے۔ اور جس جنتی کو دیکھیں وہی سلطان نظر آئے گا کہ اس کی رہائش کی وسعت کسی سلطنت سے کم نہ ہوگی ان کے لباس بہت خوبصورت ہوں گے کہ سبز گاڑھے اور اوپر ایک باریک ریشمی لباس اور جنت کی چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہوں گے اور اللہ انہیں مشروب پلائیں گے اور ارشاد ہوگایہ تمہارا انعام ہے کہ تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے سروں پر نبوت کا تاج سجایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا ہے کہ انسان کو اپنی پیدائش اور وجود پر غور کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب اس دنیا میں اس کا نام و نشان نہ تھا اور کوئی قابل ذکر چیز بھی نہ تھا۔ پھر اللہ نے اس کو پیدا کرکے عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اللہ ہی نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کرکے سننے اور دیکھنے کی طاقتوں سے نوازا ہے کہ اس کو آزمایا جاسکے کہ وہ اپنے حواس سے کام لے کر ایمان اور شکر کا راستہ اختیار کرتا ہے یا وہ دیکھتے بھالتے اللہ سے کفرو انکار اور ناشکری کرتا ہے۔ مخلوط نطفہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے الگ الگ نطفوں سے نہیں ہوئی بلکہ عورت کا بیضہ (Ovum) اور مرد کا نطفہ (Sperm) جب یہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں تو اس وقت ماں کے رحم میں وہ چیز بننا شروع ہوجاتی ہے جو مختلف فطری مرحلوں سے گزر کر آخر کار ایک جیتے جاگتے انسان یا جاندار کی صورت شکل اختیار کرلیتی ہے۔ مفسرین نے اس پر بحث کی ہے کہ اس انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یا کائنات میں قدم رکھنے والا ہر انسان ہے ؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) اور صحابہ کرام (رض) سے یہ روایات نقل کی گئی ہیں کہ یہاں انسان سے مراد کوئی خاص انسان نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ” جنس انسانی “ ہے یعنی آج تک جتنے انسان آئے ہیں یا آئندہ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پیدائش کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم سب کچھ دے کر انسان کو آزمانا اور جانچنا چاہتے ہیں “ کہ وہ یہ سب کچھ پا کر بہک جاتا ہے یا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ کا اٹل قانون یہ ہے کہ جو بھی کفرو شرک اور ناشکری کا طریقہ اپنائے گا اس کو انتہائی سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ نے ایسے ناشکرے لوگوں کے لئے ایسی زنجیریں تیار کررکھی ہیں جن میں باندھ کر ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور اس کو مضبوط باندھ کر ان کو جہنم کی بھڑکتی آگے میں جھونک دیا جائے گا۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرکے ایمان اور شکر کا راستہ اختیار کیا ہوگا ان کو جنت کی تمام راحتیں اور نعمتیں عطا کی جائیں گے۔ وہاں ان کو ایسی بہترین اور مزید شراب پلائی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔ وہ بہتے ہوئے ایسے چشمے ہوں گے کہ اہل جنت جہاں جائیں گے وہ چشمے ان کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں سونے کی ایسی چھڑیاں ہوں گی کہ وہ ان چھڑیوں سے جس طرف اشارہ کردیں گے نہریں اسی طرف بہنا شروع ہوجائیں گی یہ کون لوگ ہوں گے ؟ اور ان کی خصوصیات کیا ہوں گی ؟ اس کی تفصیل یہ ہے۔ 1۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب بھی کوئی نذر یا منت مانتے ہیں تو وہ اس کو پورا کرتے ہیں۔ اصل میں نذر یا منت وہ چیز ہے جس کے کرنے کیلئے شریعت نے مجبور نہیں کیا کیونکہ ایک شخص اپنی مرضی سے ایک منت مانتا ہے اور اس کے پورا کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے۔ ایسے لوگ جو خود سے ایک نیکی کا ارادہ کر کے اس کو پورا کرتے ہیں ان سے اس بات کی قوی امید ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ نے جن باتوں کو فرض اور لازم کیا ہے وہ اس کو یقینا پورا کرنے والے ہوں گے لہٰذا یہ خصوصیت ان کو جنت کی راحتوں سے ہم کنار کردے گی۔ 2۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر وقت قیامت کے اس دن سے ڈرتے ہیں جو مجرموں کے لئے بڑا ہولناک دن ہوگا اور اس دن کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ جس کا جیسا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کو جزا یا سز ادی جائے گی۔ 3۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان کا ہر کام اور خدمت اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتی ہے ان کے کسی کام میں ریاکاری یا دکھاوا نہیں ہوتا محتاج اور حاجت مند کو کھانا کھلانا، یتیم بچوں پر شفقت و محبت اور کسی قیدی کو (مسلم ہو یا کافر) کھانا کھلانا۔ 4۔ چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کوئی نیکی کرکے نہ تو اس کی تمنا رکھتے ہیں کہ کون ان کا شکریہ ادا کرے اور وہ کسی سے کسی بدلے کے طلب گار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی زبانوں پر بس یہی ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے کر رہے ہیں۔ اور ہم اس دن سے پناہ مانگتے ہیں جس دن مجرموں پر انتہائی ہیبت ناک اور سخت دن ہوگا۔ فرمایا کہ ایسے صبر وشکر، تحمل اور برداشت کرنے والوں کے لئے اللہ ان پر سختی کو بھی آسان فرما دے گا۔ ان کو تروتازگی، خوشی اور مسرت عطا فرمائے گا۔ ان کے صبر کے وجہ سے ان کو جنت کا ریشمی لباس پہنایاجائے گا۔ وہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ خوبصورت ترین مسہریوں پر تکئیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بڑا خوشگوار اور معتدل موسم ہوگا نہ اس میں گرمی کی تپش ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور ٹھنڈک، ہرے بھرے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے جن درختوں کے ہر طرح کے پھل ان کے قبضے اور اختیار میں ہوں گے وہ جس قدر اور جیسے ان پھلوں کو کھانا چاہیں گے کھائیں گے، سونے چاندی کے کنگن، سونے چاندی کے برتن اور شیشے کی طرح چمکتے ہوئے جام پیش کیے جائیں گے جن کو خوب بھر بھر کردیا جائے گا یعنی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ان کو ایسے جام پیش کئے جائیں گے جس شراب میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ وہ ایسے چشمے سے حاصل ہوگی جس کا نام سلسبیل ہوگا۔ ان جنتیوں کے اردگرد دوڑتے بھاگتے خدمت گزار لڑکے ہوں گے جو جنت میں موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے اور ہمیشہ جوان ہی رہیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ دیکھیں گے کہ جنت میں ہر طرف نعمتوں کے ڈھیر ہوں گے ۔ قدیم بادشاہوں کی طرح ان کو سونے چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ایسا معلوم ہوگا جیسے اہل جنت ایک عظیم سلطنت کے مالک ہیں۔ ان کے اوپر کالباس باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے بہترین شراب پلائی جائے گی جو انتہائی پاکیزہ اور نفیس ہوگی۔ اللہ کی طرف سے یہ اعلان کردیا جائے گا کہ یہ ساری نعمتیں تمہارے لئے ہیں۔ یہ درحقیقت تمہاری ان نیکیوں کا صلہ اور اچھی کر ششوں کو بدلہ ہے جو تم نے دنیا میں کی تھیں اور اللہ نے ان کو قبول بھر کرلیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : القیامہ کے آخر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا اور پھر نر اور مادہ کی صورت میں جوڑے بنا دئیے، دنیا میں انسان کا وجود نطفہ سے پہلے نہیں ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی ابتداء میں یوں کیا گیا ہے کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ زمانے میں اس کا ذکر تک موجود نہیں تھا پھر ” اللہ تعالیٰ “ نے اسے انسان کی شکل میں پیدا فرمایا۔ سورۃ الدھر کی ابتدا میں ” ھَلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر سوال کیا ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا دور گزرا ہے کہ جب اس کا ذکر تک نہیں تھا اس دور سے مراد تین ادوار ہوسکتے ہیں۔ ١۔ تخلیق آدم سے پہلے کا دور۔ ٢۔ انسان کی تخلیق کا دورانیہ جب وہ رحم مادر میں ہوتا ہے۔ ٣۔ انسان کے بچپن کا دور جب وہ کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا فرمایا۔ ” مَشِیْجٍ “ کی جمع ” اَمْشَاجٍ “ ہے اس سے مراد میاں بیوی کے نطفے کے وہ اجزاء ہیں جو رحم مادر میں آپس میں ملتے ہیں۔ اسی سے انسان کا وجود بنتا ہے اور انہی اجزاء کی بنیاد پر انسان کی رنگت، لیاقت اور قدوقامت وجود میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر کھلا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا اور اسے سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں جس کے لیے ” سمیع “ اور ” بصیر “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بظاہر تو ہر جاندار کان اور آنکھیں رکھتا ہے مگر ” سمیع “ اور ” بصیر “ کے اعتبار سے جو صلاحیتیں انسان کو عطا کی گئی ہیں وہ کسی اور جاندار میں موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اسے ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے بلکہ اسے یہ صلاحیت بھی بخشی ہے کہ انسان جو کچھ سنتا اور دیکھتا ہے اس میں امتیاز کرنے کی دوسری مخلوق سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دیکھنے اور سننے کی صلاحیتوں کو صحیح سمت پر چلانے کے لیے اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمادیا ہے کیونکہ انسان کو ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے اس لیے اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے فائدہ اٹھائے یا انحراف کرے۔ یہ بات اس کے دل میں ڈال دی گئی ہے۔ ” بُرائی اور پرہیزگاری بتلائی دی گئی ہے۔ “ (الشمس : ٨) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اترجانے کا حکم دیا، اس حکم کے ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوا کہ اے آدم ! جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو اس کی اتباع کرنا۔ جس نے میری راہنمائی کو قبول کیا اور اس کی اتباع کی تو اسے کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا۔ اس ہدایت کو واضح کرنے اور لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث کیے گئے جنہوں نے لوگوں کی راہنمائی کرنے کا حق ادا کردیا۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کا پہلا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پہچان حاصل کرے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے جس نے اس کی ذات کی معرفت پا لی اور اس کی نعمتوں کا ادراک کرلیا وہ ضرور اس کی بندگی بجالائے گا۔ ہدایت کے بنیادی اجزاء تین ہیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ پر بلاشرکت غیرے ایمان لاکر خالص اس کی بندگی کرنا یعنی پوری زندگی کو اس کے حکم کے تابع کردینا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا تقاضا ہے کہ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری طرح اتباع کی جائے اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ ٣۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے یقین رکھنا کہ ایک دن آنے والا ہے جب مجھے نیکی کی جزا اور برائی کی سزا دی جائے گی۔ مسائل ١۔ ہر انسان پر ایسا دور گزرا ہے کہ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمانے کے لیے اسے ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر اور کفر کے راستے میں فرق بتلا دیا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت اور گمراہی سمجھا کر کھلا چھوڑ دیا ہے : (البقرۃ : ١٢٠) (القصص : ٥٦) (البقرۃ : ٢١٣) (الاعراف : ٤٣) (الاعراف : ١٨٦) (النساء : ٨٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ استفہام تقریری ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی اطلاع دینا مقصود ہے کہ ایسا ضرور تھا۔ لیکن سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ انسان کو خود اس حقیقت کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ، اور سوچنا چاہئے کہ وہ کسی وقت کوئی قابل ذکر شے نہ تھا اور جب وہ اب ایک قابل ذکر شے ہے تو اسے دست قدرت کا کسی قدر تو شعور ہونا چاہئے جو اسے عدم سے وجود میں لائی اور تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائی۔ جہاں یہ اس دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ بہرحال استفہامیہ اور سوالیہ انداز میں ، اس مقام پر چند حقائق کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ نہایت ہی اونچے درجے کے اشارات ہیں۔ گہرے حقائق ہیں اور ان کو پیش نظر رکھ کر قابل غور نکات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا اپنے وجود میں آنے سے قبل اور آغاز وجود کے زمانے اور حالات پر غور کرو ، کہ یہ دنیا ایسی ہی تھی اور اس پر انسان آباد نہ تھا۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت یہ دنیا کیسی لگ رہی ہوگی ؟ انسان اللہ کی ایک مخلوق ہے ، لیکن اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتا ہے اور مغرور ہے۔ لیکن وہ نہیں سوچتا کہ یہ دنیا اس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے زمانوں سے ایسی ہی تھی۔ بلکہ اس کائنات کی مخلوق انسان کی تخلیق کی توقع ہی نہ رکھتی تھی۔ لیکن اللہ کا ارادہ ہو اور اس نے انسان کی تخلیق فرمائی۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا ان لمحات پر غور کرو جن میں یہ مخلوق انسانی وجود میں آئی۔ ان لمحات کے بارے میں انسان تو ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے جبکہ تخلیق انسان کے آغاز کا علم تو خالق کائنات ہی کو ہوسکتا ہے۔ یہ تو خالق ہی جانتا ہے کہ اس کائنات اور دنیا میں حضرت انسان کا اضافہ کس طرح ہوا۔ اس کائنات کی طویل تایرخ میں اللہ ہی نے انسان کے لئے مخصوص کردار متعین کیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے اس ذات انسان کو ، کائنات کے اس اسٹیج پر ، دست قدرت نے کس طرح لاکر کھڑا کیا اور ایک ذمہ داری اور ایک کردار اس کے سپرد کیا ؟ اس کے لئے اسے تیار کیا۔ اس کے کردار کا تانا بانا اس پوری کائنات کے خطوط کے ساتھ ملایا۔ اور وہ حالات اس کے لئے مہیا کیے جن کے اندر اس کے لئے وہ کردار ادا کرنا ممکن اور آسان ہو۔ جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد قدم قدم پر اس کے لئے سہولیات فراہم کیں۔ یوں یہ حضرت انسان اس کائنات کی ہر چیز کے ساتھ وابستہ وپیوستہ ہوگیا۔ بہت سے اشارات ہیں اور بہت سے قابل غور نکات ہیں جو یہ آیات قلب انسانی کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ جن سے انسانی سوچ اور انسانی فکر ، انسان کے مقصد وجود ، اس کے ارادوں اور آغاز سے انجام تک ہر مرحلے پر اس کے نظام تقدیر کے نکات اخذ کرتی ہے۔ یہ تو تھے نکات انسان کے آغاز تخلیق کے متعلق۔ رہا وہ نظام جو نسل انسانی کے بقائے دوام کے لئے اور تاقیامت تسلسل کے لئے وضع کیا گیا تو وہ نظام بالکل مختلف ہے اور اس کا ایک اپنا قصہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے والا سننے والا بنایا اسے صحیح راستہ بتایا، انسانوں میں شاکر بھی ہیں کافر بھی ہیں یہاں سے سورة الدھر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الانسان بھی ہے اس کے پہلے رکوع میں انسان کی ابتدائی آفرینش بتائی ہے اس کے بعد انسان کی دو قسمیں بتائیں ایک شکر گزار اور ایک ناشکرا اس کے بعد ناشکروں کا عذاب اور شکر گزاروں کے انعامات بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے رکوع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے اور ذکر کرنے اور راتوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور دنیا داروں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑا دن چھوڑ رکھا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ بالکل ہی قابل ذکر کوئی چیز نہ تھا نہ اس کا کوئی تذکرہ کرتا تھا نہ اس کا کچھ نام تھا نہ اس کی کچھ حیثیت تھی، مطلب یہ ہے کہ یہ انسان جو دنیا میں نظر آ رہے ہیں ان میں بڑے بھی ہیں چھوٹے بھی ہیں متکبر بھی ہیں اکڑفوں دکھانے والے بھی ہیں ان میں سے ہر شخص پر ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی چیز بھی نہ تھا جو قابل ذکر ہو بلکہ نطفہ منی تھا اور اس سے پہلے غذا تھا اور یہ غذا مٹی سے نکلی تھی، ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا یعنی مرد اور عورت دونوں کے مخلوط مادہ منویہ سے رحم مادر میں اس کی ابتداء کی پھر وہ ایک عرصے تک نطفہ رہا پھر علق یعنی خون کا لوتھڑا بنا دیا پھر اس کے اعضاء بنا دیئے پھر اس میں جان ڈال دی اس کے بعد رحم مادر سے باہر آگیا یہ اس کا باہر آنا پلنا بڑھنا بےحکمت نہیں ہے انسان یوں نہ سمجھے کہ میں یوں ہی چھوڑ دیا جاؤں گا۔ (كما مر فی السورة السابقة) بلکہ اس کی یہ تخلیق ابتلاء اور امتحان اور آزمائش کے لیے ہے اسے بہت سے کاموں کا مکلف کیا گیا ہے۔ سورة ٴ ملک میں فرمایا ﴿لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے اعمال والا کون ہے) ۔ اور انسان کو صرف حیات دے کر آزمائش میں نہیں ڈالا بلکہ اس کو عقل و فہم و سمع و بصر کا عطیہ دیا ہے وہ سمجھتا ہے دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور ہدایت کو اس کی عقل و فہم پر نہیں رکھا بلکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان کے واسطے سے حق راہ بتائی چاہیے تو یہ تھا کہ تمام انسان اپنے خالق کو پہچانتے، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی معرفت حاصل کرتے اور حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جو دین پیش کیا اسے قبول کرتے اور اللہ کے شکر گزار بندے بنتے لیکن انسانوں کی دو قسمیں ہوگئیں ان میں سے بعض شکر گزار بنے اور بعض ناشکرے بن گئے، مومن بندے شکر گزار ہیں اور غیر مومن یعنی کافر ناشکرے ہیں جنہوں نے عقل اور سمع و بصر سے فائدہ نہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کر کے کفر اختیار کرلیا۔ (قال صاحب الروح وحاصلہ دللنا علی الھدایة والاسلام فمنھم مھتد مسلم ومنھم ضال کافر) قولہ تعالیٰ : ﴿هَلْ اَتٰى ﴾ قیل ھل بمعنی قدو قیل اصلہ اھل علی ان الاستفھام للتقریر ای الحمل علی الاقرار بما دخلت علیہ۔ وقولہ : امشاج، جمع مشجٍ بفتحتین او بفتح فکسر او جمع مشیج جمع خلطٍ بمعنی مختلف ممتزج یقال مشجت الشیٔ اذ خلطتہ ومزجتہ فھو مشیج وممشوج وھو صفة لنطفة ووصف بالجمع وھی مفردة لان المرادبھا مجموع ماء الرجل والمراة۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” ھل اتی “ ھل یہاں باتفاق مفسرین تاکید کے لیے بمعنی قد اتفقوا علی ان ھل ھہنا وفی قولہ تعالیٰ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ بمعنی قد (کبیر ج 8 ص 384) ۔ یہاں حشر و نشر پر بطور دلیل انسان کی پیدائش کو بطور نمونہ پیش کیا گیا۔ ہر انسان پر طویل عرصی ایسا آچکا ہے کہ اس عرصہ میں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ ” انا خلقنا الانسان “ امشاج مفرد ہے، جمع نہیں جیسا کہ اس کی بناء سے وہم ہوتا ہے کیونکہ وہ نفۃ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ برمۃ اعشار، ثوب اخلاق اور ارض سباسب اور امشاج کے معنی ہیں۔ مختلط یعنی باہم ملا جلا چونکہ انسان ماں باپ کے نطفوں کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے اس لیے نطفہ کو امشاج سے متصف فرمایا۔ سمع وبصر، عقل و دانش اور فہم وتمیز سے کنایہ ہے پہلے ہر انسان کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ پھر ہم نے اس کو ماں باپ کے مخلوط نطفہ سے پیدا کیا اور اس کو عقل وتمیز کی نعمتوں سے سرفراز کیا تاکہ اس کی آزمائش کریں کہ وہ خداداد عقل و فہم سے کام لے کر اللہ کی ہدایت کو قبول کرتا ہے یا عقل و خرد سے کام نہ لے کر خدا سے بغاوت کرتا ہے۔ یہ۔ یہ حشر و نشر کیلئے ایک نمونہ ہے۔ انسان کو عدم سے وجود میں لانا اور ایک معمولی قطرہ منی سے اس کو پیدا کرنا پھر اس کو عقل و خرد اور فہم و تمییز ایسی خوبیوں سے متصف کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ایک کرشمہ ہے۔ اسی طرح انسانوں کو قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) بے شک زمانے میں انسان پر ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا یعنی انسان کا کہیں وجود نہ تھا وجود ذہنی نہ خارجی ، خدا جانے کتنی الٹ پلٹ اور کتنے دور گزرنے اور کتنے اطوار طے کرنے کے بعد نطفہ کی شکل اختیار کی ، نطفہ کی حالت بھی کوئی قبال تذکرہ نہیں بعض حضرات کا قول ہے کہ انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، حضرت قتادہ ثوری اور عکرمہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی چالیس سال گندھی ہوئی مٹی اور چالیس سال تک کیچڑ اور چالیس سال تک خشک کھنکھناتی حالت میں رہے یہ ایک سو بیس برس کی معیاد کو حین کہتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں، حین اس غیر مقدار زمانے کو کہتے ہیں جس کے واسطے کوئی حد مقرر نہ ہو ، حضرت عبداللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ (رض) فرماتے ہیں یہاں انسان سے کوئی خاص انسان مراد نہیں لیتے بلکہ جنس انسان مراد ہے۔ بہرحال ! آدمی پر یقینا ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ جب یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھی کیونکہ پیدا ہونے کے بعد اور مرنے کے بعد ہر شخص کا تذکرہ اس کی حیثیت کے موافق رہتا ہے لیکن جو ابھی غذائوں کے ہیر پھیر میں اور نطفہ کی شکل میں ہوا اس کو کون جانتا ہے آپ سبزیوں اور غلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ ا س سبزی یا اس غلے کو کون کھائے گا اور غذائوں کے ہضم سے جو نطفہ بنے گا اس سے کون پیدا ہوگا، یہی ہر انسان کا وہ دور ہے جس کو فرمایا۔ حین من الدھر لم یکن شیئا مذکوراً سبزی اور غلہ تو بعد کی چیز ہے ہم کسی کھیت کی مٹی کو دیکھ کر یہ نہیں بتاسکتے کہ اس کھیت میں کون سی سبزی اور کونسا میوہ اور کونسا غلہ پیدا ہوگا اس کو کون کھائے گا اور ہضم رابع پر جو نطفہ ہوگا اس سے کون پیدا ہوگا۔ بہرحال جب تک کوئی نطفہ بچہ بن کر موجود نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی قابل تذکرہ چیز نہیں ہے اور یہی وہ حالت ہے جس کو قرآن نے لم یکن شیئا مذکوراً فرمایا ہے جن حضرات مفسرین نے جنس انسان مراد لی ہے وہی راجح ہے اور اسی بنا پر ہم نے خلاصہ عرض کیا ہے ہر کھیت کی مٹی اور ہر باغ کے میوے اور ہر غلے میں کون جانتا ہے کہ کتنے انسانوں کے ذرے اور مادے پنہاں ہیں۔