Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 11

سورة الدھر

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَ لَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾

So Allah will protect them from the evil of that Day and give them radiance and happiness

پس انہیں اللہ تعالٰی نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So, Allah saved them from the evil of that Day, and gave them Nadrah (a light of beauty) and joy. This is used as a way of eloquence in stating similarity (i.e., two similar things). فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ So, Allah saved them from the evil of that Day, meaning, He protects them from that which they fear of it. وَلَقَّاهُمْ نَضْرَة and gave them Nadrah (a light of beauty), meaning, in their faces. وَسُرُورًا And joy (in their hearts). Al-Hasan Al-Basri, Qatadah, Abu `Aliyah and Ar-Rabi` bin Anas all stated this. This is similar to Allah's statement, وُجُوهٌ يَوْمَيِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَـحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ Some faces that Day will be bright, laughing, rejoicing at good news. This is because if the heart is happy, then the face will be enlightened. (80:38-39) As Ka`b bin Malik said in his lengthy Hadith about Allah's Messenger, whenever he was happy, then his face will be radiant until it will be as if it is a piece of the moon. A'ishah said, "The Messenger of Allah entered into my home happy and his facial expression was glowing." And the Hadith continues. Allah then says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔ 11۔ 2 تازگی چہروں پر ہوگی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہوجاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] یعنی اللہ ان کے اس نیک عمل کا بدلہ یہ دے گا کہ ان کے چہرے بگڑنے کے بجائے خوب ترو تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور دلوں میں گھبراہٹ واقع ہونے کے بجائے ان کو دل کا اطمینان اور سرور عطا فرمائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فوقھم اللہ شر ذلک الیوم…: اللہ تعالیٰ اخلاص اور خوف کے ساتھ مذکورہ اعمال کرنے والے ابرار و عباد اللہ کو اس دن کی برائی سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائیگا ۔ تازگی چہرے کی اور خوشی دل کی ۔ دل میں خشوع ہو تو چہرے پر تازگی آجاتی ہے۔ (دیکھیے عبس : ٣٨، ٣٩) ان کے برعکس کفار وف جار کے چہرے بگڑے ہوئے اور دل غم و فکر سے بھرے ہوں گے۔ دیکھیے سورة عبس (٤٠ تا ٤٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَوَقٰىہُمُ اللہُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰىہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا۝ ١١ ۚ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] ، ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] ، قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے گا ۔ وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] اور ان خدا کے عذاب سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ۔ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] تو خدا کے سامنے نہ کوئی تمہارا مدد گار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ۔ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش جہنم سے بچاؤ ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ نضر النَّضْرَةُ : الحُسْنُ کالنَّضَارَة، قال تعالی: نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] أي : رَوْنَقَهُ. قال تعالی: وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] ونَضَرَ وجْهُه يَنْضُرُ فهو نَاضِرٌ ، وقیل : نَضِرَ يَنْضَرُ. قال تعالی: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ إِلى رَبِّها ناظِرَةٌ [ القیامة/ 22- 23] ونَضَّرَ اللَّهُ وَجْهَهُ. وأَخْضَرُ نَاضِرٌ: غُصْنٌ حَسَنٌ. والنَّضَرُ والنَّضِيرُ : الذَّهَبُ لِنَضَارَتِهِ ، وقَدَحٌ نُضَارٌ: خَالِصٌ کالتِّبْرِ ، وقَدَحُ نُضَارٍ بِالإِضَافَةِ : مُتَّخَذٌ مِنَ الشَّجَرِ. ( ن ض ر ) النضرۃ والنضارۃ کے معنی حسن اور ترو تازگی کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلو گے ۔ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] اور تازگی اور خوشدلی عنایت فر مائے گا ۔ اور یہ نضر وجھہ ینضر فھوا ناضر ( نصر ) سے آتا ہے ۔ اور بعض نے نضر ینضر یعنی باب علم سے مانا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ إِلى رَبِّها ناظِرَةٌ [ القیامة/ 22- 23] اسروز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے اور اپنے پروردگار کے محو دید ار ہوں گے اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو ترو تازہ ( یعنی خوش وخرم رکھے ۔ غصبن اخضر وناضر تر تازہ ٹہنی اور سونے کو بھی اس کی تر وتازگی اور حسن کے باعث نضر ونضیر کہا جاتا ہے وتدح نضا ر را ضافت کے ساتھ پیالہ کو کہتے ہیں جو عمدہ لکڑی سے بنا ہوا ہو ۔ سرر الْإِسْرَارُ : خلاف الإعلان، قال تعالی: سِرًّا وَعَلانِيَةً [إبراهيم/ 31] ، وقال تعالی: وَيَعْلَمُ ما تُسِرُّونَ وَما تُعْلِنُونَ [ التغابن/ 4] ، وقال تعالی: وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ [ الملک/ 13] ، ويستعمل في الأعيان والمعاني، والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ، وسَارَّهُ : إذا أوصاه بأن يسرّه، وتَسَارَّ القومُ ، وقوله : وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ [يونس/ 54] ، أي : کتموها وقیل : معناه أظهروها بدلالة قوله تعالی: يا لَيْتَنا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآياتِ رَبِّنا [ الأنعام/ 27] ، ولیس کذلک، لأنّ النّدامة التي کتموها ليست بإشارة إلى ما أظهروه من قوله : يا لَيْتَنا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآياتِ رَبِّنا [ الأنعام/ 27] ، وأَسْرَرْتُ إلى فلان حدیثا : أفضیت إليه في خفية، قال تعالی: وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُ [ التحریم/ 3] ، وقوله : تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ [ الممتحنة/ 1] ، أي : يطلعونهم علی ما يسرّون من مودّتهم، وقد فسّر بأنّ معناه : يظهرون وهذا صحیح، فإنّ الإسرار إلى الغیر يقتضي إظهار ذلک لمن يفضی إليه بالسّرّ ، وإن کان يقتضي إخفاء ه عن غيره، فإذا قولهم أسررت إلى فلان يقتضي من وجه الإظهار، ومن وجه الإخفاء، وعلی هذا قوله : وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] . وكنّي عن النکاح بالسّرّ من حيث إنه يخفی، واستعیر للخالص، فقیل : هو من سرّ قومه ومنه : سِرُّ الوادي وسِرَارَتُهُ ، وسُرَّةُ البطن : ما يبقی بعد القطع، وذلک لاستتارها بعکن البطن، والسُّرُّ والسُّرَرُ يقال لما يقطع منها . وأَسِرَّةُ الرّاحة، وأَسَارِيرُ الجبهة، لغضونها، والسَّرَارُ ، الیوم الذي يستتر فيه القمر آخر الشهر . والسُّرُورُ : ما ينكتم من الفرح، قال تعالی: وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] ، وقال : تَسُرُّ النَّاظِرِينَ [ البقرة/ 69] ، وقوله تعالیٰ في أهل الجنة : وَيَنْقَلِبُ إِلى أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 9] ، وقوله في أهل النار : إِنَّهُ كانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 13] ، تنبيه علی أنّ سُرُورَ الآخرة يضادّ سرور الدّنيا، والسَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» ( س ر ر ) الاسرار کسی بات کو چھپانا یہ اعلان کی ضد ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ سِرًّا وَعَلانِيَةً [إبراهيم/ 31] اور پوشیدہ اور ظاہر اور فرمایا : ۔ وَيَعْلَمُ ما تُسِرُّونَ وَما تُعْلِنُونَ [ التغابن/ 4]( کہ ) جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں خدا کو ( سب ) معلوم ہے ۔ وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ [ الملک/ 13] اور تم ( لوگ ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔ اور اس کا استعمال اعیال ومعانی دونوں میں ہوتا ہے السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ نیز فرمایا ۔ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے ۔ سارۃ ( مفاعلہ ) کے معنی ہیں کسی بات کو چھپانے کی وصیت کرنا اور تسار القوم کے معنی لوگوں کا باہم ایک دوسرے کو بات چھپانے کی وصیت کرنے یا باہم سر گوشی کرنے کے ہیں اور آیت ۔ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ [يونس/ 54] ( پچھتائیں گے ) اور ندامت کو چھپائیں گے ۔ تو یہاں اسروا کے معنی چھپانے کے ہیں ۔ اور بعض نے اس کے معنی ظاہر کرنا بھی کئے ہیں کیونکہ دوسری آیت میں ہے : يا لَيْتَنا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآياتِ رَبِّنا [ الأنعام/ 27] اور کہیں گے اے کاش ہم پھر ( دنیا میں ) لوٹا دیے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں ۔ لیکن یہ معنی صحیح نہیں ہیں ۔ کیونکہ آیت مذکور میں جس ندامت کے چھپانے کا ذکر ہے اس سے وہ ندامت مراد نہیں ہے جس کے اظہار کی طرف آیت یا لیتنا میں اشارہ پایا جاتا ہے ۔ اسررت الیٰ فلان حدیثا کسی سے پوشیدہ طور پر راز کی بات کہنا ۔ چناچہ قرآن میں ۔ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُ [ التحریم/ 3] ( اور یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ اور آیت : تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ [ الممتحنة/ 1] اور تم ان کی طرف پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم انہیں اپنی پوشیدہ دوستی سے آگاہ کرتے ہو ۔ اس بنا پر بعض نے یہاں تسرون کے معنی تظھرون کئے ہیں اور یہی معنی صحیح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اسرار الی الغیر ( کسی سے بھید کی بات کہنا ) جس طرح دوسروں سے اخفا کو مقتضی ہے اسی طرح اس شخص کے سامنے اظہار کو متلزم ہے جس سے وہ بھید کہا جاتا ہے لہذا اسررت الیٰ فلان ( یعنی دوسرے سے راز کی بات کہنا ) میں من وجہ اخفا اور من وجہ اظہار کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ اور آیت : وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ( ظاہر ) اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا ۔ بھی اس معنی پر محمول ہے ۔ اور کنایہ کے طور پر السر کے معنی نکاح ( جماع ) کے بھی آتے ہیں کیونکہ وہ بھی چھپ کر کیا جاتا پے اور ستر خالص چیز کو کہتے ہی جیسے کہا جاتا ہے ۔ هو من سرّ قومه : وہ اپنی قوم میں سب سے بہتر ہے اور اسی سے سِرُّ الوادي وسِرَارَتُهُ ہے جس کے معنی وادی کے بہتر حصہ کے ہیں ۔ سرۃ البطن ناف کا وہ حصہ جو قطع کرنے کے بعد باقی رہ جاتا ہے اور یہ چونکہ بطن میں مخفی رہتا ہے اسلئے اسے سرۃ البطن کہتے ہیں اور وہ چیز جو ناف سے قطع کی جاتی ہے اسے سر و سرر کہا جاتا ہے ہتھیلی کی لکیروں کو اسرۃ الراحۃ کہتے ہیں اسی طرح پیشانی کے خطوط کو اساریر الجبھۃ کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح مہینہ کی آخری تاریخ جس میں چاند ظاہر ہوتا اسے سرار کہاجاتا ہے ۔ السرور قلبی فرحت کو کہتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11]( تو خدا ) ان کو تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا ۔ تَسُرُّ النَّاظِرِينَ [ البقرة/ 69] کہ دیکھنے والے ( دل ) کو خوش کردیتا ہو ۔ اسی طرح اہل جنت کے متعلق فرمایا : وَيَنْقَلِبُ إِلى أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 9] اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے ۔ اور اہل نار کے متعلق فرمایا :إِنَّهُ كانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 13] یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا ۔ تو اس میں تنبیہ ہے کہ آخرت کی خوشی دنیا کی خوشی کے برعکس ہوگی ۔ السریر ( تخت ) وہ جس پر کہ ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے ۔ قرآن نے اہل جنت کے متعلق فرمایا : مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ۔ فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے ۔ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] اور ان کے گھروں کے دروازے بھی ( چاندی کے بنا دئیے ) اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ۔ اور میت کے جنازہ کو اگر سریر المیت کہا جاتا ہے تو یہ سریر ( تخت ) کے ساتھ صوری مشابہت کی وجہ سے ہے ۔ یا نیک شگون کے طور پر کہ مرنے والا دنیا کے قید خانہ سے رہائی پا کر جوار الہی میں خوش و خرم ہے جس کی طرف کہ آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : الدنیا سجن المومن : کہ مومن کو دنیا قید خانہ معلوم ہوتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١۔ ١٢) سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھے گا اور ان کو چہروں کی اور دلوں کی فرحت و خوشی عطا کرے گا اور دنیا میں جو انہوں نے فقر و تنگیوں پر صبر کیا، اس کے صلہ میں جنت دے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ فَوَقٰـٹہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ } ” تو اللہ انہیں بچا لے گا اس دن کے شر سے “ { وَلَقّٰٹہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا ۔ } ” اور بخش دے گا انہیں تروتازگی اور مسرت۔ “ یعنی چہروں کی تازگی اور دلوں کا سرور۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 "Freshness and joy": freshness of the face and joy of the heart. In other words, all the severities and terrors of the Day of Resurrection will be meant only for the disblievers and the culprits. The righteous will on that Day remain immune from every hardship and will be well-pleased with their lot. The same theme has been expressed in Al-Anbiya': 103, thus: "The time of great fright will not trouble them at all; the angels will rush forth to receive them, saying: this is the Day that you were promised; and in An-Naml: 89 thus: "He who brings good deeds, will have a reward better than that, and such people shall be secure from the terror of that Day. "

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :15 یعنی چہروں کی تازگی اور دل کا سرور ۔ دوسرے الفاظ میں روز قیامت کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار و مجرمین کے لیے ہوں گی ، نیک لوگ اس دن ہر تکلیف سے محفوظ اور نہایت خوش و خرم ہوں گے ۔ یہی بات سورہ انبیاء میں بیان کی گئی ہے کہ وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ( آیت 103 ) اور اسی کی صراحت سورہ نمل میں کی گئی ہے کہ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے ۔ ( آیت 89 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:11) فوقھم اللہ : ف سببیہ ہے۔ وقی (وہ بچالے گا) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ وقی مادہ۔ یہاں اگرچہ فعل ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور واقعہ کا تعلق مستقبل سے ہے : مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغہ سے اس لئے کردی ہے کہ گویا ایسا ہو ہی گیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الابرار ہے۔ جن کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ بہ سبب اس کے کہ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو خدا کی رضا کی خاطر اور روز قیامت کی سختی کے خوف سے کھانا کھلاتے ہیں اور ان سے کسی شکر گزاری اور اجر کی خواہش نہیں رکھتے اللہ ان کے روز قیامت کے شر سے بچالے گا۔ شر ذلک الیوم : ذلک اسم اشارہ الیوم مشار الیہ دونوں مل کر شر مضاف کا مضاف الیہ۔ اس دن کے شر سے۔ جملہ فعل وقی کا مفعول ہے۔ شر سے مراد اس دن کی سختیاں ۔ ولقہم نضرۃ وسرورا۔ واؤ عاطفہ لقی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب قلقیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اور ان کو عطا کرے گا۔ اصل میں لقی کا مطلب ہے کسی کی طرف کسی چیز کو پھینکنا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ کلما القی فیہا فوج (67:8) جب بھی اس میں کوئی جتھا پھینکا جائے گا اس لئے تلقیۃ کا مطلب ہے پھینکنا۔ لیکن اللہ کی طرف سے تلقیۃ کا مطلب ہے وحی، عطائ۔ نضرۃ اسم منصوب۔ تروتازگی۔ رونق (چہرہ کی) چناچہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وجوہ یومئذ ناضرۃ (75:22) کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ لقی کا مفعول ثانی۔ سرورا۔ خوشی۔ جو خوشی کہ اندر چھپ رہی ہو اس کا نام سرور ہے۔ لقی کا مفعول سوم ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت 21 تک ان انعامات کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عالم آخرت میں عطا فرمائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں نہایت تیزی کے ساتھ یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس دن کے شر سے بچا لیے جائیں گے جس سے وہ بہت ڈرتے ہیں تاکہ دنیا میں بھی یہ لوگ مطمئن ہوجائیں کیونکہ یہاں وہ قرآن کریم کی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ، اس لئے وہاں ان کو اللہ کی جانب سے تروتازگی اور مسرت حاصل ہوگی۔ ان کو سخت مصیبت والے دن کا وہاں احساس ہی نہ ہوگا کیونکہ یہاں وہ خوف کھاتے تھے اور اللہ کے سامنے جانے سے ڈرتے تھے۔ چناچہ قیامت میں ان کے دل تروتازہ اور ان کا شعور مسرت آمیز ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ٠٠١١﴾ (سو اللہ انہیں اس دن کی سختی سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں تازگی اور خوشی سے ہمکنار فرمائے گا) وہ دنیا میں قیامت کے دن سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کی سختی سے بچا دے گا ان کے چہروں میں حسن ہوگا ترو تازگی ہوگی اور دلوں میں خوشی ہوگی خوب ہشا ش ہوں گے۔ جعلنا اللّٰہ تعالیٰ منھم۔ (آمین)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” فوقاھم “ فاء سببیہ ہے اور مستقبل کو لفظ ماضی سے قطعی اور یقینی ہونے کی وجہ سے تعبیر کیا گیا ہے (مظہری) ۔ یعنی خوف خدا اور موجبات عذاب سے اجتناب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے شدائد سے محفوظ رکھے گا۔ ولقاھم نضرۃ وسرورا، اور عبوست و ترشروئی کے بجائے ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ آخرت کی کامیابی پر ان کے چہرے فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں گے۔ نضرۃ، تازگی، رونق۔ سرور، خوشی اور شادمانی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) سو اللہ تعالیٰ ان مذکوروہ کو اس دن کی سختی اور برائی سے محفوظ رکھے گا اور بچالے گا اور ان کو تازگی اور مسرت و خوشی سے بہرہ مند کردے گا۔ یعنی ان کے اخلاف و اطاعت کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ان کے چہروں کو تروتازگی سے اور ان کے دلوں کو خوش سے بہرہ مند کرے گا۔