Commentary The event of the battle of Badr which has been described in a somewhat detailed manner in the previous verses contains many lessons in hard advice and wisdom both for those who adhere to Islam and those who stick to disbelief. These appear intermittently during the course of relevant narrations and serve as warning signals. For example, in the previous verses, after having recounted the defeat and disgrace of the disbelievers of Makkah, it was said: ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَسُولَہ (That is because they were hostile to Allah and His Messenger - 13). It means that the disbelievers of Makkah were defeated despite their numerical and logistic strength and the real reason behind it was that they had elected to act hostile to Allah and His Messenger. In this, there lies a chastening lesson for people who bypass the most perfect power of the Creator and Master of the heavens and the earth - the power that is visible and the power that is invisible - and who opt for placing their reliance on material strengths only, or just choose to cheat their own selves by hoping and praying that the help and support of Allah will be by their side despite all their acts of disobedience to Him. In the present verse, the other side of this very problem has been taken up by addressing Muslims. Stated briefly, the truth of the matter is that Muslims were blessed with this great victory despite their low numbers and ill-equipped fighting force only through the help and support of Allah Almighty - and this Divine help and support is the outcome of their obedience to Allah. This obedience is what Muslims have been obligated with and to this they have to adhere firmly: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ( O those who believe, obey Allah and His Messenger). In the sentence which follows, the same subject has been further emphasized by saying: وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (and do not turn away from him while you are listening). The sense is that once you have listened to the Qur&an, the true word of Allah, do not go about doing things against the norms of genuine obedience. Listening denotes listening to what is the truth and it has four degrees in terms of effective response. (1) The hearer with ears simply heard some voice but neither tried to understand it, nor understood it, nor believed in or relied upon it, nor did he act accordingly. (2) He heard it through his ears all right, even understood it, but did neither believe in it nor acted accordingly. (3) He heard, he understood, even believed and trusted, but did not act accordingly. (4) He heard, he understood, he believed, he trusted - and acted accordingly as well. It is obvious that the real purpose of listening is fully realized only through the fourth degree - which is the station of perfect believers. As for the earlier three degrees, the act of listening described there is imperfect and incomplete which, in a manner of saying, could be set aside as just not listening - as readily pointed to in the verses appearing next. The third degree mentioned above has the ingredients of hearing the truth, understanding it and believing in it, but lacks corresponding deeds. Here, the real purpose of listening is though not realized as it should be, yet belief has its own importance and cannot be rejected as useless. This degree pertains to sinning Muslims. Then there is the second degree where we find only listening and under-standing but no belief and no corresponding deed. This degree is that of the munafiqin (hypocrites) for they do listen to the Qur&an, understand it too, even have a feigned claim to desired belief and deed, but the reality is that they do not believe and do what is right and due. Finally, the first degree is that of polytheists and disbelievers who listened to the message of truth and the &ayat of the Qur&an with their own ears but were never motivated enough to understand and think about that. In the verse cited above (20), the address is to Muslims who have been told that they do listen to the message of truth after all, that is, the initial requirement of listening, understanding and believing is present in their attitude as it is, but they have to do more than that. They must act, do what must be done and do it fully and faithfully. They have been asked not to do anything which would take them away from the path of obedience so that the real purpose of listening to the word of truth stands realized fully.
خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم ( اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو ( یعنی جیسا اعتقاد سے سن لیتے ہو ایسا ہی عمل بھی کیا کرو) اور تم ترک اطاعت میں) ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا ( جیسا کفار کہ مطلق سماع کے اور منافقین سماع مع الاعتقاد کے مدعی تھے) حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں ( کیونکہ تفہم اور اعتقاد دونوں میں مفقود ہے مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سنا ہی نہیں جس کو تم بھی سخت مزموم جانتے ہو) بیشک یہ بات ضرور ہے کہ اعتقاد سے سن کر عمل نہ کرنے والے اور ایک بلا اعتقاد سننے والے جو مثل نہ سننے کے ہے برے ہونے میں متفاوت ضرور ہیں کیونکہ کافر اور عاصی برابر نہیں چنانچہ) بدترین خلائق اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو ( حق بات کو اعتقاد کے ساتھ سننے سے) بہرے ہیں ( اور حق بات کے کہنے سے) گونگے ہیں ( اور) جو کہ ( حق بات کو) ذرا نہیں سمجھتے ( اور باوجود اعتقاد کے جن سے عمل میں کوتاہی ہوجاتی ہے وہ بدتر نہیں ہیں گو بد ہیں سو بد بھی نہ ہونا چاہئے) اور ( جن کا حال مذکور ہوا کہ وہ اعتقاد سے نہیں سنتے وجہ اس کی یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی خوبی کی کسر ہے اور وہ خوبی طلب حق ہے کیونکہ مبدأ اعتقاد کا بھی طلب اور تلاش ہے گو اس وقت اعتقاد نہ ہو مگر کم از کم تردد تو ہو پھر اسی تردد و طلب کی برکت سے حق واضح ہوجاتا ہے اور وہ تردد اعتقاد بن جاتا ہے جس پر سماع کا نافع ہونا موقوف ہے سو ان میں یہی خوبی مفقود ہے چنانچہ) اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتے ( مراد یہ کہ ان میں وہ خوبی مذکورہ ہوتی کیونکہ خوبی کے وجود کے وقت علم الہی کا تعلق لازم ہے پس لازم بول کر ملزوم مراد لے لیا اور کوئی خوبی اس لئے کہا کہ جب ایسی خوبی نہیں جس پر مدار نجات ہے تو گویا کوئی خوبی بھی نہیں یعنی اگر ان میں طلب حق ہوتی) تو ( اللہ تعالی) ان کو ( اعتقاد کے ساتھ) سننے کی توفیق دیتے ( جیسا مذکور ہوا کہ طلب سے اعتقاد پیدا ہوجاتا ہے) اور اگر ( اللہ تعالیٰ ) ان کو اب ( حالت موجودہ میں کہ ان میں طلب حق نہیں ہے) سنا دیں ( جیسا کہ گاہ گاہ ظاہری کانوں سے سن ہی لیتے ہیں) تو ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے ( یعنی یہ نہیں کہ تامل و تدبر کے بعد بوجہ ظہور غلطی کے روگردانی کی ہو کیونکہ یہاں غلطی کا نام و نشان ہی نہیں بلکہ غضب تو یہ ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے اور) اے ایمان والو ! ( ہم نے جو اوپر تم کو اطاعت کا حکم کیا ہے تو یاد رکھو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے کہ وہ حیات ابدی ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جب کہ رسول ( جن کا ارشاد خدا ہی کا ارشاد ہے) تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف ( یعنی دین کی طرف جس سے زندگی جاوید میسر ہوتی ہے) بلاتے ہوں ( تو اس حالت میں جب کہ ہر طرح تمہارا ہی فائدہ ہے کوئی وجہ نہیں کہ تم عمل نہ کرو) اور ( اس کے متعلق دو باتیں اور) جان رکھو ( ایک بات یہ) کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان میں ( دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالف کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے) اور ( دوسری بات یہ جان رکھو کہ) بلاشبہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے ( اس وقت اطاعت پر جزا اور مخالفت پر سزا ہوگی اس سے بھی اطاعت کا نافع ہونا اور مخالفت کا مضر ہونا ثابت ہوا) معارف ومسائل غزوہ بدر جس کا واقعہ پھچلی آیات میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے اس میں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے عبرت اور حکمت کے بہت سے اسباق ہیں جن کی طرف قصہ کے درمیانی جملوں میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ مثلا پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کی شکست و ذلت کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا تھا (آیت) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی ہر طرح کی قوت و سامان کے باوجود مشرکین مکہ کی شکست کا اصلی سبب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت تھی۔ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے جو زمین و آسمان کے خالق ومالک کی قدرت کاملہ اور غیبی قوت سے قطع نظر کرکے صرف مادی قوتوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے باوجود اس کی امداد و نصرت کی غلط آرزوؤں سے اپنے نفس کو فریب دیتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں اسی مسئلہ کا دوسرا رخ مسلمانوں کو خطاب کرکے بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باوجود قلت تعداد اور بےسامانی کے یہ فتح عظیم صرف اللہ جل شانہ کی نصرت و امداد سے حاصل ہوئی اور یہ نصرت و امداد نتیجہ ہے ان کی اطاعت حق کا۔ اس اطاعت پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا۔ (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اختیار کرو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہوں۔ پھر اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے فرمایا (آیت) وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ، یعنی قرآن اور کلمہ حق سن لینے کے باوجود اطاعت سے روگردانی نہ کرو۔ سن لینے سے مراد حق بات کا سننا ہے اور سننے کے چار درجات ہیں ایک یہ کہ کوئی آواز صرف کانوں سے سن لی مگر نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی نہ سمجھا اور نہ اس پر اعتقاد و اعتماد کیا اور نہ عمل کیا۔ دوسرے یہ کہ کانوں سے سنا بھی اور سمجھا بھی مگر نہ اس پر اعتقاد کیا نہ عمل۔ تیسرے یہ کہ سنا بھی اور سمجھا بھی اور اعتقاد و اعتماد بھی کیا مگر عمل نہیں کیا۔ چوتھے یہ کہ سنا بھی سمجھا بھی اور اعتماد بھی کیا اور عمل بھی۔ یہ ظاہر ہے کہ سننے کا اصل مقصد پوری طرح تو چوتھے درجہ ہی سے حاصل ہوتا ہے جو مومنین کاملین کا مقام ہے اور ابتدائی تینوں درجوں میں سننا ناقص اور نامکمل ہے جس کو ایک حیثیت سے نہ سننا بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔ اور تیسرا درجہ جس میں حق کا سننا، سمجھنا، اعتقاد کرنا تو موجود ہے مگر عمل نہیں، اس میں اگرچہ سننے کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا مگر اعتقاد بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے وہ بھی بیکار نہیں، یہ درجہ گناہگار مسلمانوں کا ہے۔ اور دوسرا درجہ جس میں صرف سننا اور سمجھنا ہے نہ اعتقاد ہے نہ عمل، یہ منافقین کا درجہ ہے کہ قرآن کو سنتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں اور ظاہر میں اعتقاد و عمل کا دعوی بھی ہے مگر حقیقت میں عقیدہ اور عمل سے خالی ہیں اور پہلا درجہ عام مشرکین و کفار کا ہے جنہوں نے کلمہ حق اور قرآن کی آیات کانوں سے تو سن لی مگر کبھی سمجھنے اور غور کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ آیت مذکورہ میں مسلمانوں کو خطاب ہے کہ تم لوگ حق بات کو سن تو لیتے ہی ہو یعنی سننا سمجھنا، اعتقاد رکھنا تو تمہاری طرف سے موجود ہے مگر آگے اس پر عمل بھی پورا کرو اطاعت سے روگردانی نہ کرو تاکہ سننے کا اصل مقصد مکمل ہوجائے۔