Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 20

سورة الأنفال

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴿ۚ ۖ۲۰﴾

O you who have believed, obey Allah and His Messenger and do not turn from him while you hear [his order].

اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس ( کا کہنا ماننے ) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to obey Allah and His Messenger Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ ... O you who believe! Obey Allah and His Messenger, Allah commands His believing servants to obey Him and His Messenger and warns them against defying him and imitating the disbelievers who reject him. Allah said, ... وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ ... and turn not away from him..., neither refrain from obeying him or following his commands nor indulge in what he forbade, ... وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ while you are hearing. after you gained knowledge of his Message, وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لاَ يَسْمَعُونَ

اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو ، تابع داری سے منہ نہ موڑو ۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو ، سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو ، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا ، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں ۔ بدترین مخلوق جانوروں ، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں ، بےعقلی سے کام لیں ۔ اس لئے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لئے لیکن کفر کرتے ہیں ۔ چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی ۔ فرمان ہے آیت ( وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ١٧١؁ ) 2- البقرة:171 ) کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں ۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں ۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے ۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ ۔ اللہ جل سانہ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ && اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ && یہاں ایسے مومنوں کی ہی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ یعنی ایسے مومن جو کسی حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے سرتابی نہ کریں۔ خواہ اس میں اپنا فائدہ نظر آ رہا ہو یا نقصان۔ جیسا کہ مسلمانوں میں سے ہی ایک گروہ غزوہ بدر سے جی چرا رہا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : کفار کو تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کو تلقین ہو رہی ہے کہ جب تمہیں کسی معاملے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم معلوم ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کی مت سنو ! بلکہ اس کی اطاعت کرو۔ پہلے اللہ کی اطاعت بطور تمہید ہے، کیونکہ رسول کی اطاعت بھی اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ سورت کے ابتدا میں اموال غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے (ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ) کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول کو ایمان کی شرط قرار دیا تھا، پھر درمیان میں اپنے انعامات ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو پھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ : اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تم سن رہے ہو اس وقت اس سے منہ نہ پھیرو، دوسرے اوقات میں بیشک پھیر لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت اللہ کے احکام قرآن و حدیث کی صورت میں سنتے ہو، اگر نہ سنا ہو، یا علم نہ ہو تو عذر ہوسکتا ہے، مگر حکم سن کر پھر بجا نہ لانا ایمان والوں کو زیب نہیں دیتا۔ جو شخص خود حکم سن کر بجا نہیں لاتا اس تک حکم اگر کسی کے واسطے سے پہنچے گا تو کیسے مانے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The event of the battle of Badr which has been described in a somewhat detailed manner in the previous verses contains many lessons in hard advice and wisdom both for those who adhere to Islam and those who stick to disbelief. These appear intermittently during the course of relevant narrations and serve as warning signals. For example, in the previous verses, after having recounted the defeat and disgrace of the disbelievers of Makkah, it was said: ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَہ (That is because they were hostile to Allah and His Messenger - 13). It means that the disbelievers of Makkah were defeated despite their numerical and logistic strength and the real reason behind it was that they had elected to act hostile to Allah and His Messenger. In this, there lies a chastening lesson for people who bypass the most perfect power of the Creator and Master of the heavens and the earth - the power that is visible and the power that is invisible - and who opt for placing their reliance on material strengths only, or just choose to cheat their own selves by hoping and praying that the help and support of Allah will be by their side despite all their acts of disobedience to Him. In the present verse, the other side of this very problem has been taken up by addressing Muslims. Stated briefly, the truth of the matter is that Muslims were blessed with this great victory despite their low numbers and ill-equipped fighting force only through the help and support of Allah Almighty - and this Divine help and support is the outcome of their obedience to Allah. This obedience is what Muslims have been obligated with and to this they have to adhere firmly: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ ( O those who believe, obey Allah and His Messenger). In the sentence which follows, the same subject has been further emphasized by saying: وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (and do not turn away from him while you are listening). The sense is that once you have listened to the Qur&an, the true word of Allah, do not go about doing things against the norms of genuine obedience. Listening denotes listening to what is the truth and it has four degrees in terms of effective response. (1) The hearer with ears simply heard some voice but neither tried to understand it, nor understood it, nor believed in or relied upon it, nor did he act accordingly. (2) He heard it through his ears all right, even understood it, but did neither believe in it nor acted accordingly. (3) He heard, he understood, even believed and trusted, but did not act accordingly. (4) He heard, he understood, he believed, he trusted - and acted accordingly as well. It is obvious that the real purpose of listening is fully realized only through the fourth degree - which is the station of perfect believers. As for the earlier three degrees, the act of listening described there is imperfect and incomplete which, in a manner of saying, could be set aside as just not listening - as readily pointed to in the verses appearing next. The third degree mentioned above has the ingredients of hearing the truth, understanding it and believing in it, but lacks corresponding deeds. Here, the real purpose of listening is though not realized as it should be, yet belief has its own importance and cannot be rejected as useless. This degree pertains to sinning Muslims. Then there is the second degree where we find only listening and under-standing but no belief and no corresponding deed. This degree is that of the munafiqin (hypocrites) for they do listen to the Qur&an, understand it too, even have a feigned claim to desired belief and deed, but the reality is that they do not believe and do what is right and due. Finally, the first degree is that of polytheists and disbelievers who listened to the message of truth and the &ayat of the Qur&an with their own ears but were never motivated enough to understand and think about that. In the verse cited above (20), the address is to Muslims who have been told that they do listen to the message of truth after all, that is, the initial requirement of listening, understanding and believing is present in their attitude as it is, but they have to do more than that. They must act, do what must be done and do it fully and faithfully. They have been asked not to do anything which would take them away from the path of obedience so that the real purpose of listening to the word of truth stands realized fully.

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم ( اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو ( یعنی جیسا اعتقاد سے سن لیتے ہو ایسا ہی عمل بھی کیا کرو) اور تم ترک اطاعت میں) ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا ( جیسا کفار کہ مطلق سماع کے اور منافقین سماع مع الاعتقاد کے مدعی تھے) حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں ( کیونکہ تفہم اور اعتقاد دونوں میں مفقود ہے مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سنا ہی نہیں جس کو تم بھی سخت مزموم جانتے ہو) بیشک یہ بات ضرور ہے کہ اعتقاد سے سن کر عمل نہ کرنے والے اور ایک بلا اعتقاد سننے والے جو مثل نہ سننے کے ہے برے ہونے میں متفاوت ضرور ہیں کیونکہ کافر اور عاصی برابر نہیں چنانچہ) بدترین خلائق اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو ( حق بات کو اعتقاد کے ساتھ سننے سے) بہرے ہیں ( اور حق بات کے کہنے سے) گونگے ہیں ( اور) جو کہ ( حق بات کو) ذرا نہیں سمجھتے ( اور باوجود اعتقاد کے جن سے عمل میں کوتاہی ہوجاتی ہے وہ بدتر نہیں ہیں گو بد ہیں سو بد بھی نہ ہونا چاہئے) اور ( جن کا حال مذکور ہوا کہ وہ اعتقاد سے نہیں سنتے وجہ اس کی یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی خوبی کی کسر ہے اور وہ خوبی طلب حق ہے کیونکہ مبدأ اعتقاد کا بھی طلب اور تلاش ہے گو اس وقت اعتقاد نہ ہو مگر کم از کم تردد تو ہو پھر اسی تردد و طلب کی برکت سے حق واضح ہوجاتا ہے اور وہ تردد اعتقاد بن جاتا ہے جس پر سماع کا نافع ہونا موقوف ہے سو ان میں یہی خوبی مفقود ہے چنانچہ) اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتے ( مراد یہ کہ ان میں وہ خوبی مذکورہ ہوتی کیونکہ خوبی کے وجود کے وقت علم الہی کا تعلق لازم ہے پس لازم بول کر ملزوم مراد لے لیا اور کوئی خوبی اس لئے کہا کہ جب ایسی خوبی نہیں جس پر مدار نجات ہے تو گویا کوئی خوبی بھی نہیں یعنی اگر ان میں طلب حق ہوتی) تو ( اللہ تعالی) ان کو ( اعتقاد کے ساتھ) سننے کی توفیق دیتے ( جیسا مذکور ہوا کہ طلب سے اعتقاد پیدا ہوجاتا ہے) اور اگر ( اللہ تعالیٰ ) ان کو اب ( حالت موجودہ میں کہ ان میں طلب حق نہیں ہے) سنا دیں ( جیسا کہ گاہ گاہ ظاہری کانوں سے سن ہی لیتے ہیں) تو ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے ( یعنی یہ نہیں کہ تامل و تدبر کے بعد بوجہ ظہور غلطی کے روگردانی کی ہو کیونکہ یہاں غلطی کا نام و نشان ہی نہیں بلکہ غضب تو یہ ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے اور) اے ایمان والو ! ( ہم نے جو اوپر تم کو اطاعت کا حکم کیا ہے تو یاد رکھو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے کہ وہ حیات ابدی ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جب کہ رسول ( جن کا ارشاد خدا ہی کا ارشاد ہے) تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف ( یعنی دین کی طرف جس سے زندگی جاوید میسر ہوتی ہے) بلاتے ہوں ( تو اس حالت میں جب کہ ہر طرح تمہارا ہی فائدہ ہے کوئی وجہ نہیں کہ تم عمل نہ کرو) اور ( اس کے متعلق دو باتیں اور) جان رکھو ( ایک بات یہ) کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان میں ( دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالف کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے) اور ( دوسری بات یہ جان رکھو کہ) بلاشبہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے ( اس وقت اطاعت پر جزا اور مخالفت پر سزا ہوگی اس سے بھی اطاعت کا نافع ہونا اور مخالفت کا مضر ہونا ثابت ہوا) معارف ومسائل غزوہ بدر جس کا واقعہ پھچلی آیات میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے اس میں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے عبرت اور حکمت کے بہت سے اسباق ہیں جن کی طرف قصہ کے درمیانی جملوں میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ مثلا پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کی شکست و ذلت کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا تھا (آیت) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی ہر طرح کی قوت و سامان کے باوجود مشرکین مکہ کی شکست کا اصلی سبب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت تھی۔ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے جو زمین و آسمان کے خالق ومالک کی قدرت کاملہ اور غیبی قوت سے قطع نظر کرکے صرف مادی قوتوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے باوجود اس کی امداد و نصرت کی غلط آرزوؤں سے اپنے نفس کو فریب دیتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں اسی مسئلہ کا دوسرا رخ مسلمانوں کو خطاب کرکے بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باوجود قلت تعداد اور بےسامانی کے یہ فتح عظیم صرف اللہ جل شانہ کی نصرت و امداد سے حاصل ہوئی اور یہ نصرت و امداد نتیجہ ہے ان کی اطاعت حق کا۔ اس اطاعت پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا۔ (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اختیار کرو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہوں۔ پھر اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے فرمایا (آیت) وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ، یعنی قرآن اور کلمہ حق سن لینے کے باوجود اطاعت سے روگردانی نہ کرو۔ سن لینے سے مراد حق بات کا سننا ہے اور سننے کے چار درجات ہیں ایک یہ کہ کوئی آواز صرف کانوں سے سن لی مگر نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی نہ سمجھا اور نہ اس پر اعتقاد و اعتماد کیا اور نہ عمل کیا۔ دوسرے یہ کہ کانوں سے سنا بھی اور سمجھا بھی مگر نہ اس پر اعتقاد کیا نہ عمل۔ تیسرے یہ کہ سنا بھی اور سمجھا بھی اور اعتقاد و اعتماد بھی کیا مگر عمل نہیں کیا۔ چوتھے یہ کہ سنا بھی سمجھا بھی اور اعتماد بھی کیا اور عمل بھی۔ یہ ظاہر ہے کہ سننے کا اصل مقصد پوری طرح تو چوتھے درجہ ہی سے حاصل ہوتا ہے جو مومنین کاملین کا مقام ہے اور ابتدائی تینوں درجوں میں سننا ناقص اور نامکمل ہے جس کو ایک حیثیت سے نہ سننا بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔ اور تیسرا درجہ جس میں حق کا سننا، سمجھنا، اعتقاد کرنا تو موجود ہے مگر عمل نہیں، اس میں اگرچہ سننے کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا مگر اعتقاد بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے وہ بھی بیکار نہیں، یہ درجہ گناہگار مسلمانوں کا ہے۔ اور دوسرا درجہ جس میں صرف سننا اور سمجھنا ہے نہ اعتقاد ہے نہ عمل، یہ منافقین کا درجہ ہے کہ قرآن کو سنتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں اور ظاہر میں اعتقاد و عمل کا دعوی بھی ہے مگر حقیقت میں عقیدہ اور عمل سے خالی ہیں اور پہلا درجہ عام مشرکین و کفار کا ہے جنہوں نے کلمہ حق اور قرآن کی آیات کانوں سے تو سن لی مگر کبھی سمجھنے اور غور کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ آیت مذکورہ میں مسلمانوں کو خطاب ہے کہ تم لوگ حق بات کو سن تو لیتے ہی ہو یعنی سننا سمجھنا، اعتقاد رکھنا تو تمہاری طرف سے موجود ہے مگر آگے اس پر عمل بھی پورا کرو اطاعت سے روگردانی نہ کرو تاکہ سننے کا اصل مقصد مکمل ہوجائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ۝ ٢٠ ۚۖ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠) یعنی صلح کے معاملات میں حکم الہی اور فرمان رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلاف ورزی مت کرو، اور تم نصائح قرآنی اور امورصلح کو سن تو لیتے ہی ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ) یعنی جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کی طرف چلنے کا ارادہ کرلیا تو پھر تمہاری طرف سے ردّو قدح اور بحث و استدلال کیوں ہو رہا تھا ؟ تم سب کو تو چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی پر فوراً سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر سر تسلیم خم کردیتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں خاص طور پر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اس موقع پر کمزوری دکھائی تھی ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠۔ اوپر یہ فرما کر کہ اللہ ایمانداروں کے ساتھ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمابرداری اور اطاعت کا حکم ایمانداروں کو فرمایا ہے اور اس میں کوتاہی کرنی اور پھرجانے سے منع فرمایا ہے ہم کو اللہ کا کلام بلاواسطہ رسول کے نہیں آتا اس واسطے رسول کی فرمانبرداری کا خاص طور پر آیت میں ذکر کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ رسول کی فرمابرداری میں کسی طرح کی کوتاہی عین اللہ کی فرما نبرداری کی کوتاہی ہے اب اللہ کے حکم کی فرمابراری کا نہ کرنا ایک تو اس شیوہ پر ہے جو کافروں کا شیوہ تھا کہ ظاہر باطن میں کسی طرح وہ اللہ کے احکام کو نہیں مانتے تھے اور ایک شیوہ منافقوں کا تھا کہ ظاہر میں تو اپنی جان اپنا مال پچانے کے لئے وہ اپنے آپ کو نبی وقت کے روبرو اور مسلمانوں کے روبرو مسلمان کہتے تھے مگر باطن میں مسلمان نہ تھے ان دونوں فرقوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرما کر مسلمانوں کو منع کیا ہے کہ تم ویسے نہ ہو کافروں اور منافقوں کی سی نافرمانی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کی برکت اور کوشش نے اس امت میں سے اکثر اٹھادی ہے مگر اور طرح کے بہکاوے کے جال شیطان نے پھیلا کر نافرمانی کے پھندے میں لوگوں کو پھنسا رکھا ہے کہ وہ اس بہکاوے کو چھوڑ کر اللہ اور رسول کے احکام کی فرمانبرداری پوری نہیں کرسکتے مثلا بعضے لوگ طرح طرح کی بدعتوں میں گرفتار ہیں اور شریعت میں بدعت کی جو مذمت آئی ہے اس کو کان لگا کر نہیں سنتے ایسے ہی بعضے لوگ ریاکاری میں مبتلا ہو کر اپنے سب نیک عملوں کو برباد کر رہے ہیں معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ اور ابن ماجہ میں عرباض بن ساریہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے بعد کے لوگ بہت سی اختلاف کی باتیں پاویں گے ایسے وقت میں ہر ایمان دار شخص کو چاہئے کہ میرے اور صحابہ کے طریقہ کو دریافت کر کے اس کے موافق عمل کرلے اور شریعت میں کسی جدید بات کے نکالنے سے پرہیز کرے کیونکہ شریعت میں جو جدید بات نکالی جاوے اس کو بدعت کہتے ہیں اور شریعت میں کسی جدید بات کے نکالنے سے پرہیز کرے کیونکہ شریعت میں جو جدید بات نکالی جاوے اس کو بدعت کہتے ہیں اور بدعت پر چلنا گمراہی کا سبب ہے ابوداؤد اور نسائی کے حوالہ سے ابوامامہ (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بغیر خالص نیت ثواب عقبے کے دنیا کے دکھاوے کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبوں نہیں ہوتا ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم ہے اور حدیثوں سے یہ تفصیل معلوم ہوتی ہے کہ اختلاف کے وقت یا بدعت وریا کاری میں پھنسنے کے وقت ایمان دار شخص اس اطاعت کو کیونکر پورا کرسکتا ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:20) لاتولوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت پھرو۔ تولی سے بمعنی منہ پھیرنا۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔ عنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ بموجب ارشاد باری تعالیٰ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (4:80) جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ گویا رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ یا یہ ضمیر اللہ اور اس کے رسول دونوں کی طرف راجع ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (9:62) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے راضی کریں۔ یا یہ ضمیر امر بالطاعتہ کی طرف راجع ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس کے حکم سے سرتابی نہ کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 کفار کو تہدید کے بعد اب مسلمانوں کو تا دیب کی ہے کی جب تمہیں کسی معاملے میں رسو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہوجائے تو اس کے خلاف کسی کی نہ ن سے۔ ابتدا سورة میں اموال غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے قل الانفال اللہ اولر سول کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایمان کی شرط قراردیا تھا پھر درمیان میں اپنے انعامات کا ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو بھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ ( کبیر۔ (

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٠ تا ٢٨ اسرار و معارف معیت باری بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار کرو اور وہ یوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور روگروانی یہ گزنہ کرو جبکہ ارشادات نبوی سن رہے وہ اللہ کے احکام تم تک پہنچ ہے ہیں تو محض سن کر یہ کہہ دینا کہ بہت اچھی باتیں ہیں مگر ان پر عمل نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے سناہی نہ ہو کہ سننا تو عمل کے لیے ہے اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونے پاؤکہ جو سننے کا دعویٰ تو رکھتے ہیں مگر نہ اعتقاد ہے ورنہ عمل تو حقیقتاوہ نہ سننے کے برابر ہے ۔ سننے کے درجے اول یہ ہے کہ سناتو سہی مگر سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی یا نہ سمجھا دوم یہ ہے کہ سنا اور سمجھا بھی مگر مانا نہیں یعنی بطور عقیدہ اختیار نہیں کیا تیسرے یہ کہ سنا بھی سمجھا بھی مان ابھی مگر عمل نہ کرسکے اور چوتھا درجہ کامل سننے کا یہ ہے کہ سناسمجھا اعتقاد کیا اور عمل کیا یہ حقیقی سننا ہے جو کامل مومنین کا سننا ہے تیسرا درجہ خطاکار مسلمانوں کا ہے اور دوسر اور درجہ منا فقین کا کہ سن ابھی سمجھا بھی مگر یقین وایمان سے محروم رہے اور پہلا درجہ کفار کا ہے کہ محض سناتو یہ پہلے دونوں طبقے ایسے ہی ہیں جیسا کہ انہوں نے کچھ سناہی نہ ہو اب مسلمان کو تو زیب نہیں دیتا کہ وہ کفار ومنافقین کی مشابہت اختیار کرلے اگر کرے گا تو معیت حق کا جو اعزاز حاصل ہے وہ نہ رہے گا اس لیے کہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ عقل کو کام میں لاتے ہیں ۔ سننے کی کوشش نہ کی بہرے بنے رہے نہ حق پہ کسی سے بات کی گویا گونگے ہوں نہ کبھی فکر کیا جیسے عقل ہی نہ ہو تو ایسے لوگ عام جانوروں کی سطح پر بھی نہیں بلکہ چوپایوں میں بھی بدترین مخلوق ہیں کہ چوپایہ بھی اپنا مقصد تخلیق تو پورا کررہا ہوتا ہے صاحب روح البیان نے عجیب بات لکھی ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تمام جانوروں سے افضل اور فرشتہ سے کم درجہ رکھتا ہے مگر اپنے عمل سے فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے لیکن اگر روگردانی کرے تو پھر بدترین جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ رویت اشکال یہ اثراتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اگر چہ جسمانی شکل نہیں بگڑتی اور یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض بدبخت اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں مگر اجتماعی طور پر وارد نہیں ہوتا مگر روح کی شکل مسخ ہوجاتی ہے اور اگر کسی کو دل کی بصیرت نصیب ہو تو صوفیہ میں رویت اشکال کامراقبہ کرایا جاتا ہے جس میں انسانوں کے اندر کی شکلیں نظرآتی ہیں یعنی جو روح کی شکل بن چکی ہوتی ہے تو شہردرندوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان میں اگر ذرہ برابر بھی بھلائی نظر آتی یعنی حق کی طلب ہوتی تو اللہ کریم انہیں ضرورسننے کی توفیق بھی عطا فرماتے انہیں سنوا بھی دیتے ایسا سننا جو عمل کے ساتھ مزین ہوتا لیکن لذات دنیا میں کھو کر طلب حق کی ہے استعداد ضائع کرنے والوں کو اگر سننا نصیب بھی ہوگا تو ردگردانی ہی کریں گے اور اعتراضات ہی کرینگے اس لیے نہیں کہ دین کی بات میں کمی ہے بلکہ ان کی روگردانی اور اعتراضات کا سبب ان میں طلب حق کی کمی یا اس کا نہ ہونا ہے لہٰذاجہاں کوئی طالب ہوا ہے کسی کمال کی خبرپہنچے تو وہ حصول کیلئے کوشش کرتا ہے اور ذرائع اور وسائل تلاش کرنے نکلتا ہے ۔ جہاں طلب نہ ہو وہاں صراف اعتراض کرنے کی سکت ہوتی ہے لیکن جہاں حق کی طلب ہی نہ رہے تو وہاں صرف اعتراضات کی سکت رہ جاتی ہے تو فیق عمل نہیں ہوئی اور یہ حال ہر طرح کی بھلائی سے خالی ہونے پر دلالت کرتا ہے ان آیات میں طلب حق کو ہی خیر اور بھلائی قراردیا ہے جو اس سے خالی ہے معاذ اللہ بھلائی سے محروم ہے ۔ حقیقی حیات فرمایا اے ایمان والو اللہ کریم کی بات قبول کرو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات تمہیں ذاتی فائدے کے لیے حکم نہیں دیتا بلکہ ان کے ارشاد ات کی تعمیل میں ہی دل کو نور اور روح کو تجلیات سے سیرابی نصیب ہوتی ہے جو کامرانی کی نوید اور حیات ہے ورنہ محرومی تو موت سے بدتر ہے کہ نامراد بھی جہنم میں مرینگے تو نہیں لیکن وہ زندگی موت سے بدتر ہوگی کہ موت کو بھی ترسیں گے اور رسول اللہ تمہیں جو حکم دیتے ہیں اس پر جان لڑادو کہ اسی کی تعمیل میں حیات مضمر ہے اور یہی مقام شیخ کا ہوتا ہے کہ جب تک کوئی حکم خلاف شریعت نہ ہو اس کی تعمیل میں ہرگز سستی نہ کرے ورنہ استفادہ نہ کرسکے گا اور حقیقی شیخ اغراض ذاتیہ سے بالا تر ہوتا ہے اور تعمیل ارشاد میں ہرگز سستی نہ کرے ورنہ یادرکھو اللہ بندے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ اور رکاوٹ بن جاتا ہے یعنی تاخیرنہ کرو ورنہ اسی گستاخی پہ خفاہوکر رب جلیل تو فیق عمل چھین لیتے ہیں اور پھر شاید تعمیل ارشاد کر ہی نہ سکویا پھر علماء نے دوسرامعنی بھی کیا ہے کہ اگر تعمیل ارشاد میں پوری طرح کوشاں رہوگے تو اللہ کریم گنا ہ اور برائی کے درمیان اور تمہارے درمیان آڑبن جائیں گے یعنی گناہ سے حفاظت نصیب ہوگی کہ انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام معصوم ہوتے ہیں اور اولیاء محفوظ اور یہ دونوں معنی درست بھی ہیں ۔ اور مبارک بھی اور یہ تو یقینی بات ہے کہ آخرسب کو اسی کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے۔ ظلم سے نہ روکنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور ایسی مصیبت سے بچنے کی پوری کوشش کرتے رہوجو صرف ان لوگوں پر نہیں آتی جو گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ یعنی ظالم خود تو گرفتار بلاہوتا ہے اور دنیا وآخرت کے عذاب کانشانہ بنتا ہے ساتھ وہ معاشرہ اور وہ قوم جو ظالم خود تو گرفتار بلاہوتا ہی ہے اور دنیا وآخرت کے عذاب کانشانہ بنتا ہے ساتھ وہ معاشرہ اور وہ قوم جو ظالموں کی برداشت کرنے لگتے ہیں اور ظالموں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے وہ بھی اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں یعنی نہ صرف اطاعت رسول پر خود کمر بستہ رہوبل کہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امربالمعروف اور نہیعن المنکرکافریضہ بحسن و خوبی انجام ایتے رہو اور حتی الا مکان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی سے سمجھوتہ نہ کرلو ورنہ تم بھی انہیں مصیبتوں میں بھنس جاؤ گے جو ناذمانوں پرواردہوں گی اور اس میں ذاتی عمل ، ترریس تبلغ جہاد اپنے اپنے موقع ومحل کے مطابق سب ہی مراد ہیں یعنی اطاعت رسول کا حق یہ ہے کہ دوسرے سے نافرمانی کا صدور بھی برداشت نہ کرو ورنہ مداہنت یعنی بدکاروں سے چشم پوشی کرنے والے نیک بھی اللہ کے ہاں پسند یدہ لوگ نہیں ہوا کرتے اور یادرکھو اللہ کے عذاب بڑے سخت ہیں۔ برکات رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور برکات اطاعت تو تمہارے سامنے ہیں کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب تم بظاہر کرنے کی سکت تھی ۔ اور حال یہ تھا کہ مخالفین کہیں اچک ہی نہ لیں پھر اسی کمال اطاعت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طفیل رب جلیل نے مدینہ منورہ کو اسلامی ریاست کی بنیادبناکر تمہیں ایک ٹھکانہ عطا فرمایا اور تمہیں اپنی نصرت خاصہ سے سرفراز فرما کر ایک قوت اور مضبوط طاقت بنادیا اور بھوک اور افلاس کی جگہ خوشحالی کی نعمت عطافرمائی کہ تم اس کا شکر ادا کرتے رہو۔ اور یہ یادرکھو کہ اطاعت نبوی میں عمدا کمی کرنا حقوق نبوت میں خیانت ہے اور یہ تو رب جلیل کے ساتھ خیانت ہے کہ کلمہ طیبہ کا اقرار کرکے اطاعت میں ارادۃ سستی کی جائے جبکہ کسی بھی انسان سے خیانت کرنا نہایت ہی قابل مذمت ہوتا ہے اور پھر اطاعت نبوی میں خیانت تو اپنے نفع اور فائدہ میں خیانت ہے کہ جو درجہ ثواب کاملنا تھا اور جو نعمتیں امن و سکون یا عزت وآبرو دنیا کی تھی سب متاثرہوکر ان میں کمی ہوگی الٰہی میں یہ واضح بات ہے کہ تم بھی خوب جانتے ہو۔ اور یادرکھومال ومنال ہو یا اولادیہ سب کچھ ہی آزمائش کا سبب ہے کہیں حصول اقتدارکالالچ کہیں حصول زر کا طمع اور کسی جگہ اولاد کی محبت ہی ایسے اسباب پیدا کرتی ہے کہ آدمی سے کوتاہی ہونے لگتی ہے مگر بہت بڑا اجرتو اللہ ہی کے پاس ہے اور یہ سب عارضی رشتے ہیں مال وجاہ ہوں یا اولا دیہ تو دار دنیا کی باتیں ہیں اور یہاں بھی سب کام حسب خواہش نہیں ہوپاتے پھر آخرت اور ابدی زندگی میں تو اللہ کریم سے اجرپانے کی ضرورت ہے یہ چیزیں تو وہاں کام نہ آئیں گی ہاں یہ پکی بات ہے کہ جو بھی شخص ان رکاوٹوں کو عبور کرلے گا یعنی دنیا یا اولاد کی محبت میں اطاعت نبوی سے روگروانی نہ کرے گا اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر پر تبصرہ کے بعد مومنین کو ہدایات۔ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے جب تک مومن اس مشن پر کاربند رہے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اس کے شامل حال رہے گی۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ سورة الاحزاب آیت ٧١ میں فرمایا جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا سورة محمد، آیت : ٣٣ میں حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کی نافرمانی کرکے اپنے اعمال ضائع نہ کرنا۔ سورة النور، آیت : ٥١ میں ارشاد ہوا کہ مومن تو وہ ہیں جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف بلایا جائے تو وہ یہ کہتے ہوئے سرتسلیم خم کرتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر گناہوں سے بچ جائے وہی لوگ بامراد ہوں گے۔ (النور : ٥١ تا ٥٢) یہاں یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ حکم سننے کے باوجود انحراف نہ کرو کسی بات کو تسلیم کرنے کے تین مدارج ہوتے ہیں۔ بات کو اچھی طرح سننا۔ اس پر غور کرنا۔ اس پر پورے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں جب تک تینوں باتیں شامل نہ ہوں۔ اطاعت کا حق ادا نہیں ہوتا اس لیے حکم فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا۔ حالانکہ وہ سننے والے نہیں ہیں ایسا کرنے والوں سے مراد کافر، منافق اور وہ کلمہ گو بھی اس میں شامل ہوں گے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم سننے کے باوجود اس طرح زندگی گزارتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم سنا ہی نہیں۔ ان کی مثال تو دوّاب کی ہے جو دابۃ کی جمع ہے جس کا معنی ہے زمین پر چلنے والے جانور جو بہرے، گونگے اور بےعقل ہیں جنھیں کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور سونے، جاگنے کے سوا کوئی فکر نہیں ہوتی۔ یہی طرز زندگی ان لوگوں کا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی بات سنتے ہیں مگر اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ مسائل ١۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے کے باوجود اس پر عمل نہ کرنا جانوروں کا طرز حیات ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا حکم : ١۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال : ٤٦) ٢۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : ١٣٢) ٣۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (محمد : ٣٣) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ : ٩٢) ٥۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور صاحب امر کی اطاعت کرو۔ (النساء : ٥٩) چوپاؤں اور جانوروں سے بدتر لوگ : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی انھیں بہرے اور اندھے کردیا ہے۔ (محمد : ٢٣) ٢۔ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں وہ رجوع نہیں کرتے۔ (البقرۃ : ١٨) ٣۔ ہماری آیات کا انکار کرنے والے بہرے اور گونگے ہیں۔ (الانعام : ٣٩) ٤۔ بہروں کو آپ نہیں سنا سکتے کیونکہ وہ بےعقل ہیں۔ (یونس : ٤٢) ٥۔ آپ مردوں اور بہروں کو اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ (النمل : ٨٠) ٦۔ کفار چوپائے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ (الاعراف : ١٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔ یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟ وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔ وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبر داری کا حکم ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کا اور حکم کی تعمیل کرنے کا اور حکم بجالانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے رو گردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو، یعنی جب تم بات سن رہے ہو قرآن کا حکم تمہارے سامنے ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم دے رہے ہیں تو عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور کوئی عذر نہیں جو عمل سے روکے، مزید فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے) ان سے کافر اور منافق مراد ہیں۔ ان کے کانوں میں تو بات جاتی ہے لیکن چونکہ دل کے کانوں سے نہیں سنتے اور پہلے ہی سے یہ طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ماننا اور سمجھنا نہیں ہے اس لیے کانوں کا سننا نہ سننے کے برابر ہوجاتا ہے اور اس سننے سے بالکل منتفع نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ ) (الآیۃ) یعنی بیشک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برے وہ لوگ ہیں جو گونگے اور بہرے ہیں سمجھ نہیں رکھتے دواب جمع ہے دابۃ کی، عربی لغت کے اعتبار سے دابہ مراد لیاجائے تو مطلب یہ ہے کہ زمین پر چلنے والی مخلوق میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ برے وہ لوگ ہیں جو نہ تو حق کو سنتے ہیں اور نہ حق بولتے ہیں اور ان کی انتہائی بری حالت یہ ہے کہ سمجھتے بھی نہیں۔ بہرا شخص بعض دفعہ کچھ اشارہ سے سمجھ تو لیتا ہے لیکن جس میں عقل ہی نہ ہو وہ تو کسی طرح سمجھتا ہی نہیں۔ یہ کافروں کی بد حالی ہے۔ اور اگر دابہ بمعنی چوپایہ لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اہل کفر چوپایوں کی طرح سے ہیں نہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ سورة فرقان میں فرمایا (اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰہَہٗ ھَوَاہُ اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًا اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ اِِنْ ھُمْ اِِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا) (اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے سو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں) پھر فرمایا (وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَھُمْ وَ لَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (اور اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ ان میں کوئی خیر ہے یعنی حق کی طلب ہے تو انہیں سنا دیتا) یعنی ایسے سننے کی توفیق دیتا جو سننا اعتقاد کے ساتھ ہو۔ اور یہ سننا ان کے لیے فائدہ مند بن جاتا اور چونکہ ان کو طلب حق نہیں ہے اس لیے اگر اللہ تعالیٰ ان کو سنائے تو رو گردانی کریں گے اور دوسری طرف رخ کر کے چل دیں گے۔ بات یہ ہے کہ جب طلب نہیں ہوتی تو کان میں پڑنے والی بات اثر نہیں کرتی اور ساری سنی ان سنی کے برابر ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ للرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کو بجا لاؤ جب اللہ کا رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندہ کرتی ہے) اس میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے اور فرمانبر داری کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یوں فرمایا کہ وہ تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف بلاتے ہیں جس میں تمہاری زندگی ہے اس سے حقیقی زندگی مراد ہے اور وہ ایمان و اعمال صالحہ والی زندگی ہے جس سے دنیاوی زندگی بھی زندگی بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی ابدالآباد کی زندگی نصیب ہوگی، کفر کے ساتھ زندگی کوئی زندگی نہیں، زندگی اپنے آقا و خالق ومالک کی وفا داری کا نام ہے جو اپنے رب سے غافل ہے وہ زندہ نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مثل الذی یذکر ربہ و الذی لا یذکر مثل الحی و المیت (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٦ از بخاری) (مثال اس شخص کی جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا مردہ اور زندہ کی سی مثال ہے) جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہے وہ مردہ ہے اور جو اس کی یاد میں لگے ہوئے ہیں وہ زندہ ہیں۔ حیات ابدی کے لیے ایمان ضروری ہے اور اعمال صالحہ سے ایمان میں نورانیت آجاتی ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ آخرت میں جو طرح طرح کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں گی ان میں اعمال صالحہ کو دخل ہوگا۔ اہل ایمان کی جنت والی زندگی کے بارے میں سورة عنکبوت میں فرمایا۔ (وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ ) (اور بیشک دار آخرت ہی زندگی ہے) اور اہل کفر کے بارے میں فرمایا (لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَ لَا یَحْیٰی) (کہ وہ اس میں نہ زندہ رہے گا اور نہ مرے گا۔ در حقیقت عذاب عظیم کے ساتھ جینا کوئی زندگی نہیں ہے۔ پھر فرمایا (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہٖ ) ( اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی کے اور اس کے دل کے درمیان) صاحب روح المعانی (ص ١٩١ ج ٩) نے اس کا ایک معنی یہ بتایا ہے کہ اس سے قرب مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کے قلب سے بھی زیادہ بندہ سے قریب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آیت شریفہ (وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) اور یہ آیت دونوں ہم معنی ہیں۔ پھر بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں کے قلوب اللہ کے قبضہء قدرت میں ہیں وہ جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ اس کے تصرف سے دلوں کے عزائم اور مقاصد بدل جاتے ہیں، وہ کسی کو رشد و ہدایت سے نوازتا ہے اور کسی کو صراط مستقیم سے ہٹا دیتا ہے۔ کسی کے امن کو خوف سے بدل دیتا ہے اور جو چیزیں یاد ہوں ان کو بھلا دیتا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ جو حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا فرماتے تھے یَا مُقَلِّبَ القُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ (اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) یہ سن کر حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کثرت سے یہ دعا فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرما اے ام سلمہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کے قبضہء قدرت میں نہ ہو، جسے چاہے ہدایت پر قائم رکھے اور جسے چاہے ہٹا دے، صاحب روح المعانی نے اس حدیث کا حوالہ نہیں دیا۔ البتہ مفسر ابن کثیر ص ٢٩٨ ج ٢ نے بحوالہ مسند احمد یہ حدیث نقل کی ہے۔ اس حدیث کے ہم معنی حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے جسے صاحب مشکوٰۃ نے صفحہ ٢٠ پر صحیح مسلم سے نقل کیا ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ اَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) اور بلاشبہ تم اسی کی طرح جمع کیے جاؤ گے اس میں یوم آخرت کے استحضار کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ آخرت کا استحضار تمام امور دینیہ اور دنیویہ کے درست ہونے کا ذریعہ بن جاتا اور آخرت سے غفلت ہی عموماً گناہوں اور خرابیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22: دوسرا قانون جنگ برائے مومنین۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کے حکم سے سرتابی نہ کرو “ وَ لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ الخ ” یہ زجر ہے۔ یعنی ان کفار اور منافقین کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا مگر سے پر عمل نہ کیا اور اس طرح اللہ کے قہر و غضب کے مستحق ہوگئے۔ تم ان کا وطیرہ اختیار کر کے میرے قہر و غضب کے مستحق نہ بنو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20 اے ایمان لانے والو ! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور اس اطاعت سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سنتے ہو۔ یعنی قرآن کو اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو جس اعتقاد کے ساتھ سنتے ہو اسی طرح عمل بھی کرو کیونکہ یہی ایمان کی شان ہے آگے منافقوں اور کافروں کے طرز عمل سے بچنے کو فرمایا۔