Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 68

سورة الأنفال

لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾

If not for a decree from Allah that preceded, you would have been touched for what you took by a great punishment.

اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Were it not a previous ordainment from Allah, a severe torment would have touched you for what you took." Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn Abbas said about Allah's statement, لَّوْلاَ كِتَابٌ مِّنَ اللّهِ سَبَقَ (Were it not a previous ordainment from Allah...), "In the Preserved Book, that war spoils and prisoners of war will be made allowed for you, لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ (would have touched you for what you took), because of the captives. عَذَابٌ عَظِيمٌ (a severe torment). Allah, the Exalted said next, فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَلاً طَيِّبًا (So enjoy what you have gotten of booty in war, lawful and good)." Al-Awfi also reported this statement from Ibn Abbas. A similar statement was collected from Abu Hurayrah, Ibn Mas`ud, Sa`id bin Jubayr, Ata', Al-Hasan Al-Basri, Qatadah and Al-A`mash. They all stated that, لَّوْلاَ كِتَابٌ مِّنَ اللّهِ سَبَقَ (Were it not a previous ordainment from Allah...), refers to allowing the spoils of war for this Ummah. Supporting this view is what the Two Sahihs recorded that Jabir bin Abdullah said that the Messenger of Allah said, أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الاَْنْبِيَاءِ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الاَْرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَايِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لاِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَان النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة I have been given five things which were not given to any Prophet before me. (They are:) Allah made me victorious by awe, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. The earth has been made a place for praying and a purifier for me. The booty has been made lawful for me, yet it was not lawful for anyone else before me. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection). Every Prophet used to be sent to his people only, but I have been sent to all mankind. Al-A`mash narrated that Abu Salih said that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, لَمْ تَحِلَّ الْغَنَايِمُ لِسُودِ الرُّوُوسِ غَيْرَنَا War booty was never allowed for any among mankind except us. Abu Hurayrah said; This is why Allah the Most High said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ لکھی ہوئی بات کیا تھی ْ بعض نے کہا اس سے مال غنیمت کی حلت مراد ہے یعنی چونکہ یہ نوشتہ تقدیر تھا کہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت حلال ہوگا، اس لئے تم نے فدیہ لے کر ایک جائز کام کیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو فدیہ لینے کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم پہنچتا۔ بعض نے اہل بدر کی مغفرت اس سے مراد لی ہے، بعض نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی کو عذاب میں مانع ہونا مراد لیا ہے وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] اسارٰی بدر کے متعلق مشورہ اور اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہونا :۔ آیت نمبر ٦٧ اور ٦٨ کے شان نزول سے متعلق مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ ١۔ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے بعد جب قیدی قید کرلیے گئے تو آپ نے ابوبکر صدیق (رض) و عمر سے پوچھا : تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ && ابوبکر (رض) نے عرض کی۔ اے اللہ کے نبی ! یہ چچا کے بیٹے اور خاندان کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے تاکہ کفار کے مقابلہ میں ہمیں قوت حاصل ہو اور شاید اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے۔ && پھر آپ نے عمر سے پوچھا : && اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ && انہوں نے جواب دیا : && اے اللہ کے رسول ! میری رائے ابوبکر صدیق (رض) سے مختلف ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالہ کر دیجئے تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑائیں۔ عقیل کو علی کے حوالہ کیجئے کہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ میرے حوالے فلاں کو کیجئے تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے ستون اور سرغنے ہیں۔ && سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ ابوبکر صدیق (رض) کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ دوسرے دن صبح میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ اور ابوبکر صدیق (رض) بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا && اللہ کے رسول ! مجھے بتلائیے آپ اور آپ کے دوست کس وجہ سے رو رہے ہیں۔ تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو روؤں اور اگر نہ آئے تو آپ کی وجہ سے رونے والی شکل ہی بنا لوں۔ && آپ نے فرمایا : && میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کے سلسلہ میں مجھ سے کہی تھی۔ میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا، جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا۔ چناچہ اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ماکان لنبی۔۔ تاآخر (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ بدر کے دن جنگی قیدی رسول اللہ کے پاس لائے گئے۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا : تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے پھر اس حدیث میں پورا قصہ ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک کو یا فدیہ دینا ہوگا یا اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ && عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! بجز سہیل بن بیضاء کے کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ اسلام کا ذکر کرتا ہے۔ && اس بات پر رسول اللہ چپ ہو رہے۔ مجھے اس دن بہت خوف لاحق ہوگیا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر پتھر نہ برسیں۔ میں اسی خوف میں مبتلا تھا کہ آپ نے فرمایا : && بجزسہیل بن بیضاء کے && اور قرآن میں سیدنا عمر کی رائے کے مطابق یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ماکان لنبی) ۔۔ تاآخر (ترمذی، ابو اب التفسیر) کیا عتاب فدیہ لینے کے فیصلہ کی وجہ سے تھا یا قتل کی بجائے قیدی بنانے کی وجہ سے ؟:۔ مزید تفصیل یہ ہے کہ غزوہ بدر میں کافروں کے (70) ستر آدمی مارے گئے اور (70) ستر قید ہوئے تھے۔ قیدیوں کے متعلق رسول اللہ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ خواہ انہیں قتل کردیا جائے، یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور اس اختیار میں مسلمانوں کی آزمائش مقصود تھی کہ وہ ان دونوں صورتوں میں سے کونسی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اسی فیصلہ کے لیے آپ نے شوریٰ بلائی اکثریت کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق ہوئی۔ آپ نے بھی اپنی طبعی نرمی کی بنا پر اسی فیصلہ کو ترجیح دی۔ لیکن اللہ کی رضا یہ تھی کہ قیدیوں سے فدیہ لینے کی بجائے ان کو قتل کردیا جائے۔ اسی وجہ سے ان آیات میں عتاب نازل ہوا۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ عین ممکن تھا کہ اگر کفر کے ان ستر سرغنوں کو قتل کردیا جاتا۔ تو کافروں کو دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت ہی نہ رہتی۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ عتاب اس لیے نازل نہیں ہوا تھا کہ صحابہ کی اکثریت نے رسول اللہ سمیت فدیہ لینے کی رائے کو اختیار کر کے اجتہادی غلطی کی تھی۔ کیونکہ قتل یا فدیہ دونوں میں سے ایک صورت کا جب آپ کو پہلے ہی اختیار دیا جا چکا تھا تو پھر فدیہ کی رائے قبول کرلینے پر عتاب کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس عتاب کی اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ نے میدان جنگ میں ہی ان قیدیوں کی اکثریت کو قتل کیوں نہ کردیا۔ گویا اس عتاب کا روئے سخن ان صحابہ کی طرف ہے جنہوں نے دنیوی مفاد کی خاطر ان کافروں کو قتل کرنے کی بجائے قید کیا تھا اور آیت کے الفاظ (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67؀) 8 ۔ الانفال :67) سے بھی مفہوم واضح ہوتا ہے۔ فدیہ کی مقدار :۔ ان قیدیوں سے جو فدیہ لیا گیا اس کی مقدار چار ہزار درہم فی کس تھی اور ان قیدیوں میں آپ کے چچا سیدنا عباس آپ کے داماد ابو العاص، نوفل بن حارث اور آپ کے چچا زاد بھائی عقیل بن ابی طالب بھی شامل تھے۔ آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب نے فدیہ میں وہ ہار بھیجا جو ان کی والدہ سیدہ خدیجہ نے آپ کو شادی کے وقت جہیز میں دیا تھا۔ آپ نے جب وہ ہار دیکھا تو آنکھیں نم آلود ہوگئیں۔ اور رقت آمیز لہجہ میں صحابہ سے پوچھا : اگر تم پسند کرو تو میں زینب کے قیدی کو چھوڑ دوں اور زینب کا ہار واپس کردوں۔ یہ آپ نے اس لیے پوچھا کہ فدیہ کا مال بھی اموال غنائم کے مشترکہ اموال میں شمار ہوتا تھا۔ چناچہ صحابہ کرام (رض) ثنے اس کی اجازت دے دی۔ حالانکہ اس وقت آپ سپہ سالار بھی تھے۔ اسلامی ریاست کے سربراہ مملکت بھی اور ایسے رسول بھی جن کی غیر مشروط اور بلاچوں و چرا اطاعت سب مسلمانوں پر واجب تھی۔ لیکن جب انصاف کا معاملہ آیا تو آپ نے صحابہ کرام (رض) کی رضامندی کو لازم سمجھا۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی اقدار کا فرق۔ پھر آپ نے زر فدیہ کی وصولی میں بھی انتہائی نرمی اختیار کی جن کافروں کے پاس زر فدیہ نہیں تھا اور وہ پڑھے لکھے تھے۔ ان کا زر فدیہ یہ طے ہوا کہ وہ دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھلا دیں۔ اور بعض کافروں کو صرف اس وعدے پر بھی چھوڑ دیا گیا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ : یہاں ” اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی کتاب “ سے مراد کئی باتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اگر اس امت کے لیے غنیمت حلال نہ کردی گئی ہوتی، جیسا کہ بخاری کی حدیث (٣٣٥) ( وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ ) (اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں) سے معلوم ہوتا ہے۔ ابن جریر (رض) نے اسی کو پسند فرمایا۔ دوسری یہ کہ بدر میں جو صحابہ شریک ہوئے ان کے گناہ بخشے جا چکے وغیرہ۔ ( ابن کثیر، فتح القدیر) بعض اہل علم نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود عذاب نازل ہونے سے مانع تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ) [ الأنفال : ٣٣ ] ” اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے جب کہ تو ان میں ہو۔ “ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدی لوگوں میں بہت سوں کی قسمت تھی مسلمان ہونا۔ “ ( موضح) الغرض اگر یہ باتیں پہلے نہ لکھی جا چکی ہوتیں تو تم پر عذاب نازل ہوجاتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The second verse (68) is also a supplement to this admonition where it has been said that had it not been for a Divine writ already estab¬lished, the course of action which you opted for - that of releasing the prisoners against ransom - would have brought upon you some grave punishment. What is this writ and what does it mean? According to a narration from Sayyidna Abu Hurairah (رض) reported in Tirmidhi, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Spoils were not lawful for any community before you. When, on the occasion of Badr, Muslims went after collect¬ing spoils - though, spoils were not made lawful for them until that time - this verse was revealed. It emphasized that this initiative taken by Muslims, before the injunction making spoils lawful for them was revealed, was a sin which deserved instant punishment. But, since the writ of Allah that spoils shall be made lawful for this community was already there in the Preserved Tablet, therefore, punishment was not sent over Muslims for this misconduct. (Mazhari) It appears in Hadith narrations that, subsequent to the revelation of this verse, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The Divine punishment was almost about to descend when Allah, in His grace, held it back and had this punishment come, no one except ` Umar ibn al-Khattab and Sa&d ibn Mu` adh (رض) would have remained safe from it. This tells us that the cause of Divine admonition was the act of releasing prisoners against ransom - and, in the light of the narration from Tirmidhi mentioned earlier, the reason seems to be the act of collecting spoils. But, there appears to be no contradiction between the two. Taking ransom from prisoners is also nothing but a part of spoils.

دوسری آیت بھی اسی عتاب کا تتمہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کام تم نے اختیار کیا کہ مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔ اس نوشتہ تقدیر سے کیا مراد ہے، اس کے متعلق ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم کسی امت کے لئے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقع میں جب مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے حالانکہ ابھی تک ان کے لئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام ایسا گناہ تھا کہ اس پر عذاب آجانا چاہئے تھا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا کہ اس امت کے لئے مال غنیمت حلال کیا جائے گا اس لئے مسلمانوں کی اس خطاء پر عذاب نازل نہیں کیا تھا۔ ( مظہری) بعض روایات حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عذاب الہی بالکل سامنے آچکا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل سے روک دیا اور اگر عذاب آجاتا تو بجز عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے کوئی اس سے نہ بچتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبب عتاب قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینا تھا اور ترمذی کی روایت سابقہ سے اس کا سبب مال غنیمت جمع کرنا معلوم ہوتا ہے مگر دونوں میں کوئی تضاد نہیں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی مال غنیمت ہی کا جز ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ ٦٨ «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم مِنْهُمْ ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے یعنی چھوٹ جائیں گے ، تو ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨) اگر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لیے مال غنیمت کے حلال ہونے کے متعلق یا اہل بدر کی سعادت کے متعلق اللہ کا حکم نہ صادر ہوچکا ہوتا تو اس فدیہ سے تمہیں بڑی سزا ہوتی۔ شان نزول : (آیت) ” لولا کتاب من اللہ سبق “۔ (الخ) ترمذی (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان روایت کیا ہے کہ غنیمتیں حلال نہیں تھیں اور تم سے پہلے کسی بھی جماعت کے لیے یہ حلال نہیں تھی، آسمان سے آگ آتی تھی، اور وہ انہیں کھاجاتی تھی، غزوہ بدر کے دن تم لوگ اس کے حلال ہونے کے پہلے ہی اس میں گھس پڑے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ (آیت) ” لولا کتاب من اللہ سبق “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا (الخ)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٨ (لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ) ۔ اس سے مراد سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ حکم ہے (آیت ٤) جو بہت پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اس کی تفصیل ہم ان شاء اللہ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطالعے کے دوران پڑھیں گے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حکم کی تعبیر (interpretation) میں کس طرح فدیہ لینے کی گنجائش نکالی تھی۔ یہ دراصل قانون کی تشریح و تعبیر کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ سورة الزمر کی آیت ١٨ میں ارشاد ہے : (الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط) یعنی وہ لوگ جو کسی بات کو سن کر پیروی کرتے ہیں اس میں سے بہترین کی اور اس کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ اس قانون کی تعبیر میں بھی ایسے ہی ہوا۔ چونکہ مذکورہ حکم کے اندر یہ گنجائش یا رعایت موجود تھی اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طبیعت کی نرمی کے سبب اس کو اختیار فرما لیا۔ آیت زیر نظر کے اندر سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نازل شدہ حکم میں رعایت کی یہ گنجائش موجود تھی ‘ اسی لیے تو اس حکم کا حوالہ دے کر فرمایا گیا کہ اگر وہ حکم پہلے نازل نہ ہوچکا ہوتا تو جو بھی تم نے فدیہ وغیرہ لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا عذاب آتا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) اس آیت کے نزول کے بعد روتے رہے ہیں۔ بہر حال اس فیصلے میں کسی صریح حکم کی خلاف ورزی نہیں تھی اور جو بھی رائے اختیار کی گئی تھی وہ اجتہادی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجتہاد کے ذریعے اس حکم میں سے نرمی اور رعایت کا ایک پہلو اختیار کرلیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

48: پہلے لکھے ہوئے حکم سے مراد بعض مفسرین نے تو وہ حکم لیا ہے جو پیچھے آیت نمبر ۳۳ میں گذرا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کا کوئی عذاب نہیں آسکتا۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کے یہ معنیٰ بیان کئے ہیں کہ ان قیدیوں میں سے بعض حضرات کا مسلمان ہوجانا اﷲ تعالیٰ نے مقدر میں لکھا تھا وہ نوشتہ تقدیر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے اس فیصلے پر مسلمانوں کو کوئی سزا نہیں دی کہ ان قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہونے والے تھے، ورنہ فیصلہ اصولی طور پر ناپسندیدہ تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:68) کتب من اللہ۔ اللہ کا فرمان۔ اشارہ ہے ارشاد الٰہی کی طرف فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا (47:4) پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ تم خوب ان کو تہ و تیغ کرکے کچل دو ۔ تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرو تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ سبق۔ وہ پہلے گزر چکا ۔ وہ پہلے ہوچکا۔ اس نے سبقت کی۔ لمسکم۔ تم کو ضرور پہنچتا۔ (عذاب عظیم) لام تاکید کا ہے۔ مس ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ مس (باب نصر) کا معنی ہے چھو دینا۔ دکھ پہنچانا۔ لاحق ہونا لگ جانا۔ (باب نصر اور سمع) سے یہ بمعنی جماع بھی آتا ہے۔ انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (3:47) میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا حالانکہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ لگایا نہیں۔ اور ان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دیدو۔ مجازا مس کا اطلاق جنوں پر بھی ہوتا ہے مثلاً کالذی یتخبطہ الشیطن من المس (2:275) جیسا کہ جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو۔ تکلیف کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مسی الشیطن (38:41) شیطان نے مجھ کو اذیت دے رکھی ہے۔ فیما اخذتم۔ اس بارے میں جو تم نے لیا۔ بوجہ اس کے جو تم نے لیا ہے یعنی جو مال غنیمت تم نے لیا ہے (اس میں قیدیوں کا فدیہ لینا بھی شامل ہے) بعض نے اس سے قیدی مراد لئے ہیں۔ لولا ۔۔ عذاب عظیم۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھ نہ دیا ہوتا۔ کہ مال غنیمت تمہارے لئے حلال ہے اور اگر اس کا یہ دستور نہ ہوتا کہ جب تک وہ بیان کھول کر نہ کردے تب تک وہ عذاب کسی کو نہیں دیا کرتا۔ تو جو مال غنیمت اور جو مال فدیہ تم نے لیا ہے اس پر بھاری عذاب ہوتا۔ (یہ حکم جو لوح محفوظ میں لکھا جا چکا تھا لیکن ابھی نازل نہیں ہوا تھا سورة محمد میں آیۃ 4 میں نازل ہوا۔ اوپر ملاحظہ ہو کتب من اللہ کے محاذ) ۔ الخازن۔ بیضاوی۔ زمخشری نے اس آیۃ کا مطلب ان ہی معنوں میں لیا ہے۔ لیکن مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں آیہ 47:4 سورة محمد کا نزول سورة انفال کی آیۃ ہذا کے نزول سے قبل کا تصور کیا ہے ۔ وہ رقمطراز ہیں :۔ اس عبارت (یعنی سورة انفال کی آیہ ہذا) پر غور کرنے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس موقعہ پر عتاب جس بات پر ہوا تھا وہ یہ تھی کہ جنگ بدر میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل دینے سے پہلے مسلمان دشمن کے آدمیوں کو قید کرنے میں لگ گئے تھے۔ حالانکہ جنگ سے پہلے جو ہدایت سورة محمد میں ان کو دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ :۔ ” جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو “۔ تاہم سورة محمد میں مسلمانوں کو قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت فی الجملہ دی جاچکی تھی اس لئے جنگ بدر کے قیدیوں سے جو مال لیا گیا اس اللہ نے حلال قرار دیا اور مسلمانوں کو اس کے لینے پر سزا نہ دی۔ اگر اللہ کو نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا۔ ” لولا کتب من اللہ سبق “ کے الفاظ اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس واقعہ سے پہلے فدیہ لینے کی اجازت کا فرمان قرآن میں آچکا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن کے اندر سورة محمد کی اس آیت کے سوا کوئی دوسری آیت ایسی نہیں ہے جس میں یہ فرمان پایا جاتا ہو۔ اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ آیت (سورۃ محمد آیت 4) سورة انفال کی آیت (آیۃ ہذا) سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ مگر یہ یاد رہے کہ ترتیب نزول کے مطابق سورة انفال 88 نمبر پر ہے اور سورة محمد نمبر شمار 95 پر ہے۔ اس میں دیگر اقوال یہ بھی ہیں کہ :۔ (1) خدا پہلے سے طے کرچکا ہے کہ بدوی صحابی کو عذاب نہیں کرے گا۔ ان کیلئے مغفرت تحریر ہوچکی ہے (الحسن۔ مجاہد۔ سعید بن جبیر) (2) اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کے بعد کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتا۔ تاآنکہ واضح نہ کر دے ان پر کہ کس چیز سے بچنا لازمی ہے اور یہ کہ بھول اور غفلت کی وجہ سے کسی فعل کا ارتکاب موجب سرزنش نہ ہوگا۔ (ابن جریج)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ان دو آیتوں میں جو جنگ بدر کے بعد نازل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت تمام مسلمانوں پر عتاب فرمایا کہ ان سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوگئی جو منا سب نہ تھی متعدد روایات میں ہے کہ جب جنگ بدر کے قیدی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے گئے تو ّآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں میں مشہورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر (رض) نے رائے دی کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ اکثر مسلمانوں کی رائے حضرت ابوبکر (رض) سے متفق تھی کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے اور کچھ مالی فائدہ پیش تطر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ فرمالیا ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب قیدی لائے تو حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ تمہیں اختیار ہے فد یہ لے کر چھوڑ دو یا قتل کرو مگر فدیہ لینے کی صورت میں آئندہ مسلمانوں کی ستر آدمی شہید ہوں گے چناچہ صحابہ (رض) کرام نے فدیہ قبول کرلیا ک۔ یہ صورت چونکہ بہتری نہ تھی اسلئے ان آیتوں میں عتاب آمیز لہجہ میں اس پر کراہت کا اظہار فرمایا، یہاں کتاب من اللہ سبق سے رمراد کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس امت کے لیے غنیمت حلال نہ کردی گئی ہوتی جیسا کہ حدیث : واحلت لی الغنائم سے معلوم ہو تو ہے، ابن جریر نے اسی کو پسند فرمایا۔ دوم یہ کہ بدر میں جو صحابہ (رض) شریک ہوئے ہو مغفور نہ ہوتے وغیرہ ( ابن کثیر، فتح القدیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدیوں میں بہت سو کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا۔ ( موضح) الغرض اگر یہ بات پہلے سے نہ لکھی ہوتی تو عذاب عظیم نازل ہوتا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشاہدہ فرمایا اور اگر یہ کونے لگتے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تم کو بڑا عذاب پہنچ جاتا) اس نوشتہ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے حضرات صحابہ (رض) اور تابعین کے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے اُمِ الکتاب میں چونکہ یہ لکھ دیا تھا کہ مال غنیمت امت مسلمہ کے لیے حلال ہوں گے (جس میں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی شامل ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب روک لیا۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن مسعود اور حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء اور حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ اور حضرت اعمش سے یہ بات نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ مفسر ابن جریج نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے ص ٣٤ ج ٦ پر ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوتی کہ جب تک کسی قوم کے لیے بطور امرو نہی واضح طور پر حکم بیان نہ ہوجائے اس وقت تک عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نہ ہوگا تو عذاب آجاتا۔ چونکہ واضح طور پر فدیہ لینے کی ممانعت بیان نہیں ہوئی تھی اس لیے عذاب روک دیا گیا۔ صاحب روح المعانی نے اس قول کو بھی حضرت ابن عباس (رض) کی طرف منسوب کیا ہے، پھر ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات مقرر اور مقدر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں عذاب نہیں آئے گا۔ جیسا کہ اس سورة کے رکوع نمبر ٤ میں گزر چکا ہے۔ اس لیے عذاب نہیں آیا اور ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ اعلان ہوچکا تھا کہ جو لوگ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کی مغفرت کردی گئی (اور رائے دینے والوں میں مشورہ دینے والے بھی تھے) اس لیے عذاب نہیں آیا۔ پھر صاحب روح المعانی نے ایک یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے چونکہ یہ مقرر تھا کہ جو فدیہ تم نے لیا ہے وہ تمہارے لیے حلال کردیا جائے گا۔ اس لیے عذاب نہیں بھیجا۔ پھر اس پر کچھ سوال و جواب بھی کیا ہے۔ اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک اگر یہ تمام چیزیں مراد ہوں جو مختلف اقوال کی صورت میں بیان ہوئیں تو اس میں بھی کوئی بُعد نہیں ہے۔ وبھذا یجمع بین الروایات المختلفۃ عن الحبر فی بیان ھذا الکتاب و ذلک بان یکون فی کل مرۃ ذکر امرا واحدا من تلک الامور، و التنصیص علی الشئ بالذکر لا یدل علی نفی ما عداہ و لیس فی شئ من الروایات ما یدل علی الحصر فافھم۔ ١ ھ (اور اسی سے ان مختلف روایات میں تطبیق ہوتی ہے جو اہل علم سے اس نوشتہء الٰہی کا ذکر کردیا گیا اور کسی ایک چیز کے ذکر کی صراحت دوسری چیزوں کی نفی پر دلالت نہیں کرتی اور روایات میں کوئی ایسی بھی نہیں ہے جو کسی ایک کے حصہ پر دلالت کرے) ۔ قیدیوں کے احکام : اگر کافر قید میں آجائیں تو امیر المومنین کو ان کے بارے میں کن باتوں کا اختیار ہے۔ اس میں چار چیزوں کا ذکر آتا ہے۔ یہاں سورة انفال میں قتل کرنے اور فدیہ لینے کا ذکر ہے اور سورة محمد میں مزید دو باتوں کا ذکر ہے۔ (فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً ) احسان کر کے چھوڑ دینا یا اپنے قیدیوں سے مبادلہ کرلینا یعنی اپنے قیدی لے کر ان کے قیدی چھوڑ دینا۔ ان چار چیزوں میں سے اب کس کس چیز کو اختیار کرنے کی اجازت ہے اس میں حضرات فقہاء کرام نے کچھ تفصیل لکھی ہے۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ امیر المومنین کو اختیار ہے۔ چاہے تو کافر قیدیوں کو قتل کرے اور چاہے تو انہیں ذمی بنا کر دارالاسلام میں رکھ لے۔ البتہ مشرکین میں جو اہل عرب ہوں اور جو مرتد ہوں ان کو ذمی بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ اب رہی یہ بات کہ آیا مسلمانوں کو چھڑانے کے لیے بطور مبادلہ کے کافر قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے ؟ تو حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو جائز قرار نہیں دیا اور حضرات صاحبین اور حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ ایسا کرنا درست ہے اور کافر قیدیوں کو مال لے کر چھوڑ دینا جائز ہے یا نہیں اس کے بارے میں حنفیہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں۔ البتہ امام محمد (رح) نے سیر کبیر میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہو تو ایسا بھی کرسکتے ہیں اور بالکل ہی بطور احسان کے چھوڑ دینا نہ قیدیوں کا مبادلہ ہو اور نہ مال لیا جائے اور نہ ذمی بنایا جائے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ حضرت امام شافعی (رح) اس کو بھی جائز کہتے ہیں۔ علامہ ابوبکر جصاص (رح) احکام القرآن ص ٣٩٢ ج ٣ میں لکھتے ہیں کہ سورة برأۃ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نازل ہوئی۔ سورة محمد میں جو من اور فداء کی اجازت ہے اس کو سورة برأۃ کی آیات (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ ) اور (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) نے منسوخ کردیا۔ لہٰذا اب فداء اور مَن کی اجازت نہیں رہی۔ فوجب ان یکون الحکم المذکور فیھا ناسخا للفداء المذکور فی غیرھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

69: چونکہ پہلے فدیہ لینے کی ممانعت کا اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اس لیے فرمایا کہ اگر لوح محفوظ میں یہ فیصلہ مکتوب نہ ہوتا کہ کسی معاملے کا حکم بیان کرنے سے پہلے اس میں مؤاخذۃ نہیں ہوگا تو ان قیدیوں سے فدیہ لینے پر تمہیں سخت سزا دی جاتی۔ “ اي ما کتب فی اللوح المحفوظ ان لا یؤاخذ قبل البیان والاعذار ” (مدارک ج 2 ص 85) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

68 اگر وہ بات مانع نہ ہوتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی لکھی جاچکی تھی تو تم پر اس فدیہ کے بارے میں جو تم نے بدر کے قیدیوں سے لیا ہے کوئی سخت سزا واقع ہوتی۔ یعنی یہ بات پہلے ہی لوح محفوظ میں ثابت ہوچکی تھی اور قضا و قدر میں لکھا جاچکا تھا کہ تم سے اجتہادی غلطی ہوگی اور اجتہادی غلطی قابل معافی ہے اگر یہ بات مقدرنہ ہوتی اور یہ امر مانع نہ ہوتا تو تم پر عذاب نازل ہوجاتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدی لوگوں میں بہتوں کی قسمت تھی مسلمان ہونا۔ 12 بہرحال قتل تھا رفع فساد کی غرض سے وہ متحمل فساد وقوع پذیر نہ ہوا اس لئے سزا سے بچ گئے۔