Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 71

سورة الأنفال

وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡکَنَ مِنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

But if they intend to betray you - then they have already betrayed Allah before, and He empowered [you] over them. And Allah is Knowing and Wise.

اور اگر وہ تجھ سے خیانت کا خیال کریں گے تو یہ تو اس سے پہلے خود اللہ کی خیانت کر چکے ہیں آخر اس نے انہیں گرفتار کرا دیا اور اللہ علم و حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِن يُرِيدُواْ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُواْ اللّهَ مِن قَبْلُ ... But if they intend to betray you, they indeed betrayed Allah before, meaning, وَإِن يُرِيدُواْ خِيَانَتَكَ (But if they intend to betray you) in contradiction to what they declare to you by words. فَقَدْ خَانُواْ اللّهَ مِن قَبْلُ (they indeed betrayed Allah before), the battle of Badr by committing disbelief in Him, ... فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ... So He gave (you) power over them, causing them to be captured in Badr, ... وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ And Allah is All-Knower, All-Wise. He is Ever Aware of his actions and All-Wise in what He decides.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 یعنی زبان سے تو اظہار اسلام کردیں لیکن مقصد دھوکا دینا ہو، تو اس سے قبل انہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے کیا حاصل کیا ؟ یہی کہ وہ مسلمانوں کے قیدی بن گئے، اس لئے آئندہ بھی اگر وہ شرک کے راستہ پر قائم رہے تو اس سے مزید ذلت و رسوائی کے سوا انہیں کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] جب اسلام سے مقصود دھوکا ہو تو بھی قبول کرو۔ اللہ فیصل ہوگا :۔ یعنی اگر ان جنگی قیدیوں کا اظہار اسلام سے مقصود صرف آپ کو دھوکا دینا ہو تو بھی کوئی بات نہیں آپ ان پر اعتماد کیجئے، کیونکہ اس قسم کے لوگ پہلے اللہ سے بھی بدعہدی کرچکے ہیں اور ان سے مراد بنی ہاشم کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابو طالب کی زندگی میں آپ کی حمایت کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا تھا اور قسمیں کھائی تھیں۔ پھر انہی میں سے کچھ لوگ کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنے آئے تو اللہ نے ان کو سزا دے دی اور وہ آپ کے قیدی بن گئے اور اگر اب بھی بدعہدی کریں گے تو بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ : یعنی اگر وہ اسلام کا دعویٰ یا آئندہ آپ سے نہ لڑنے کا وعدہ صرف رہائی اور آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ان کے دل میں کھوٹ ہے، تو پہلے انھوں نے اللہ کے ساتھ شرک اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کی خیانت کر کے کیا حاصل کرلیا، یہی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر قابو عطا فرمایا، اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خوش خبری اور قیدیوں کے لیے وعید ہے۔ ” فَاَمْكَنَ “ کا مفعول محذوف ہے، یعنی ” أَمْکَنَکَ مِنْھُمْ “ کہ اس نے آپ کو ان پر قابو دے دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

About some prisoners of the battle of Badr who had become Mus¬lims, there remained a doubt that they, once back in Makkah, may turn away from Islam and start hurting them thereafter. In the next verse (71), Allah Ta` ala has removed this apprehension by saying: وَإِن يُرِ‌يدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّـهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٧١﴾ (And if they intend to commit treachery against you, then, they have already committed treachery against Allah, so Allah has given [ you ] power over them. And Allah is All-Knowing, Wise). It means that should these people decide to commit a breach of trust with you, it will not bring any hurt or loss to you. They were the same people who had already committed a breach of trust with Allah. They had admitted of Allah being the Lord of all the worlds at the time of the original Covenant, then they became hostile to it. But, this breach of trust turned out to be fatal for none but them when, finally, they were disgraced and detained. As for Allah Ta` ala, He is the knower of secrets hidden in hearts, and He is the possessor of great wisdom. If these people start opposing you even now, there is nowhere they can go, certainly not anywhere outside the range of the power and control of Allah Ta` ala. Inevitably, He shall seize them as before. To sum up, it can be said that, in verse 70, the da&wah of Islam was given to the released prisoners in the mode of persuasion - while in verse 71, it was in the mode of warning that they were told that suc¬cess in their worldly life and in their life to come depends on Islam and &Iman. Upto this point, the text was dealing with injunctions relating to fighting and killing disbelievers, taking them prisoners, setting them free and carrying on peace negotiations with them. In verses which fol¬low right upto the end of the Surah itself, a particular related chapter has been taken up alongwith some details of its injunctions. They are the injunctions of Hijrah (Emigration) - because, situations can arise during a confrontation with disbelievers wherein neither the Muslims have the power to launch an attack against them and kill them off, nor are they willing to go for peace. In such a state of weakness, the only course through which Islam and Muslims can be salvaged is Hijrah (Emigration) which means that Muslims should leave that city or country and go to stay in some other land where acting freely in accordance with Islamic injunctions is possible.

غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے بارے میں یہ کھٹک لوگوں کے دل میں تھی کہ شاید یہ لوگ مکہ پہنچ کر اسلام سے پھرجائیں اور پھر ہمیں کوئی نقصان پہنچائیں۔ حق تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں اس خطرہ کو اس طرح دور فرما دیا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی اگر یہ لوگ آپ کے ساتھ خیانت ہی کا ارادہ کرلیں تو اس سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا یہ تو وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں یعنی میثاق ازل میں جو اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار کیا تھا اس کی مخالفت کرنے لگے تھے۔ لیکن ان کی یہ خیانت خود انھیں کے لئے مضر ثابت ہوئی کہ انجام کار ذلیل و خوار اور گرفتار ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں کو جاننے والے اور بڑی حکمت والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اب بھی آپ کی مخالفت کرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ سے باہر کہاں چلے جائیں گے وہ پھر ان کو اسی طرح پکڑلے گا۔ پچھلی آیت میں آزاد ہونے والے قیدیوں کو اسلام کی طرف دعوت ترغیبی انداز میں دی گئی تھی اس آیت میں ترہیب کے ذریعہ ان کو آگاہ کردیا کہ تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی اسلام و ایمان میں منحصر ہے۔ یہاں تک کفار کے ساتھ قتل و قتال اور ان کے قید کرنے، آزاد کرنے کے اور ان سے صلح و مصالحت کے احکام کا بیان ہورہا تھا۔ اگلی آیات میں آخر سورت تک اسی سلسلہ کے ایک خاص باب کا ذکر اور اس کے احکام کی کچھ تفصیل مذکور ہے اور وہ احکام ہجرت ہیں کیونکہ کفار کے ساتھ مقابلہ میں کبھی ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ نہ مسلمانوں کو ان کے مقابلہ پر قتل و قتال کی طاقت ہے اور نہ وہ صلح پر راضی ہیں۔ ایسی کمزوری کی حالت میں اسلام اور مسلمانوں کی نجات کی راہ ہجرت ہے کہ اس شہر اور ملک کو چھوڑ کر کسی دوسری زمین میں جاکر قیام کریں جہاں اسلامی احکام پر آزادانہ عمل ہو سکے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْہُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ ٧١ خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرکے حق کی مخالفت کے آتے ہیں اس کا ضد امانت ہے ۔ اور محاورہ میں دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ ایمان کا اظہار کرکے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے بھی انہوں نے ایمان نہ لاکر اور گناہوں کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے دن آپ کو ان پر غلبہ عطا فرمادیا ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ خیانت وغیرہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے اس کی حکمت کو جاننے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧١ (وَاِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) (فَاَمْکَنَ مِنْہُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ) ۔ یعنی ان قیدیوں میں ایسے بھی ہوں گے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھوٹ بولیں گے ‘ جھوٹے بہانے بنائیں گے ‘ بےجا معذرتیں پیش کریں گے۔ تو اس نوعیت کی خیانتیں یہ اللہ سے بھی کرتے رہے ہیں اور ان کے ایسے ہی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو یہ سزا دی گئی ہے کہ اب یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قابو میں ہیں۔ اب اگلی آیات گویا اس سورة مبارکہ کا حاصل کلام یعنی concluding آیات ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:71) امکن منھم۔ اس نے قابو کر وایا۔ اس نے پکڑوایا۔ متعدی بدو مفعول۔ امکان (افعال) سے واحد مذکر غائب امکنت فلانا من فلان۔ میں نے فلاں کو فلاں پر قدرت دی اصل میں امکنک منھم (اس نے تم کو ان پر قدرت دی۔ اس میں ک ضمیر مفعول اول اور ہم ضمیر مفعول ثانی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اور یہ سے بچنے کے لیے جھوٹ موٹ کہہ دیں کہ م اسلام قبول کرتے ہیں یا مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا جو انہوں نے معاہدہ کیا ہے اس کو توڑیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ سبب نزول ان آیات کا یہ ہے کہ بدر میں ستر کافر پکڑے ہوئے آئے تو آپ نے صحابہ سے ان کے بارے میں مشورہ کیا بعض نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردینا چاہیے بعض نے کہا کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑ دینا چاہیے آپ پر وحی نازل ہوئی کہ ان صحابہ سے فرمادیجیے کہ تم کو اختیار دیا جاتا ہے خواہ ان کو قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو مگر اس صورت میں اگلے سال ستر آدمی شہید ہوں گے غرض اکثر صحابہ کی یہی رائے تھی کہ خیرہم شہید ہوجائیں گے اس وقت ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے شاید یہ مسلمان ہوجائیں اور اس وقت مسلمانوں کو مالی مدد ملے آپ نے بھی بوجہ رحم دلی کے اس رائے کو پسند فرمایا چناچہ باستثناء بعض کے کہ وہ تو قتل کیے گئے جیسے عقبہ نضر اور طعمہ باقی سب قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا صرف حضرت ابوالعاص کو کہ وہ بھی اس وقت ان میں تھے صحابہ کی مرضی سے بدون کچھ لیے چھوڑ دیا اس کو اصطلاح شرع میں من کہتے ہیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ماکان لنبی تاعذاب عظیم۔ ان آیتوں سے صحابہ کو اس فدیہ کے حلال و حرام ہونے کا شبہ ہوگیا تو آیت فکلوا۔ الخ۔ نازل ہوئی چونکہ بعض قیدی فدیہ دینے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے جیسے حضرت عباس وغیرہ اور انہوں نے آپ سے بوجہ فدیہ دینے کے مفلس ہوجانے کی شکایت کی اس پر آیت یا ایھا النبی قل لمن فی ایدیکم۔ نازل ہوئی۔ تتمہ اس آیت قصہ کا یہ ہے کہ اس کے بعد بعض صحابہ نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ عذاب کے آثار بہت قریب آگئے تھے مگر اللہ کا فضل ہوا کہ نازل نہیں ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انہوں نے اللہ کے ساتھ یوں خیانت کی کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا۔ اور اللہ وحدہ کو اپنا رب تسلیم نہ کیا حالانکہ اس نے ان کی فطرت سے یہ عہد لیا تھا۔ اور اگر انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی خیانت کا ارادہ کیا۔ حالانکہ اب وہ آپ کی قید میں ہیں تو ان کو پہلی خیانت کے نتائج پر غور کرنا چاہئے کہ اب وہ مسلمانوں کے ہاں قید ہیں اور اللہ نے ان کو رسول اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکین قید ہوئے تو ان میں سے بعض لووں نے اسلام کے متعلق بات کی۔ لیکن وہ دل سے مسلمان نہ تھے۔ اسلام کے بارے میں انہوں نے جو بات کی ، وہ بھی دو ٹوک نہ تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے قریب آجائیں لیکن مشرکین سے بھی دور نہ ہوں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر کوئی کافر ایمان کی بات کرے ، زبان سے اقرار بھی کرے لیکن وہ اس میں صاحب عزیمت نہ ہو تو وہ مومن تصور نہ ہوگا ، لیکن اگر مومنین میں سے کوئی اس قسم کی مذبذب بات کرے تو وہ کافر ہوگا۔ الا یہ کہ دل میں کوئی ایسا وسوسہ آجائے جو انسان کی قدرت سے ابہر ہوتا ہے ، کیونکہ اسے تو خود اللہ نے معاف کردیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے سامنے یہ حقیقت کھول دی ہے۔ و ان یریدوا خیانتک یعنی یہ بات اگر ان کی جانب سے بطور مکر و فریب اور خیانت ہے تو انہوں نے اس سے قبل بھی اللہ کی خیانت کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنایا ، اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوگئے۔ اگرچہ ان کی یہ بات برائے ظاہر داری اچھی ہے اور اللہ بھی جانتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بھلائی موجود ہے تو اللہ ان کو معاف کردے گا اور ان کے سابقہ کرتوتوں کو ساقط کردے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) کہ یہ قیدی اگر آپ کی خیانت کا ارادہ کریں۔ واپس جا کر جنگ کرنے کی نیت سے لوٹ آئیں یا آپ کے مقابلہ میں مشرکین کی مدد کرنے لگیں تو آپ فکر مند نہ ہوں۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خیانت کرچکے ہیں اللہ نے جو ہر عاقل سے توحید کے بارے میں عہد لیا تھا اسے توڑا اور کفر اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو ان پر قدرت دے دی اور انہیں بدر میں مقتول کروا دیا اور قیدی بنا کر مدینہ میں حاضر کروا دیا۔ اگر پھر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ پھر آپ کی مدد فرمائے گا (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ) اور اللہ کو سب کچھ معلوم ہے وہ سب کی نیتوں کا حال جانتا ہے۔ حَکِیْمٌ وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق اپنی مخلوق میں تصرف فرماتا ہے جس کو جب چاہے سزا دیتا ہے اور جس کو جب چاہے انعام دیتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

71 اور اگر آپ سے نقص عہد اور خیانت کا ارادہ کریں گے اور اسلام کی مخالفت اور مقابلہ کریں گے تو یہ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی خیانت کرچکے ہیں اور اللہ سے دغا کرچکے ہیں پھر اس نے ان کو آپ کے قبضہ میں دے دیا اور آپ کے ہاتھوں ان کو گرفتار کروایا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے دغا کرچکے ہیں اللہ سے یہی کفر و انکار اس کے حکم کایا فرمایا ہو بعض ہاشمیوں کو کہ ابوطالب کی زندگی میں سب عہد کر کر متفق ہوئے تھے حضرت کی امداد پر اور اب کافروں کے ساتھ ہوکرآئے اور یہ وعدہ تحقیق ہوا ان میں جو مسلمان ہوئے حق تعالیٰ نے بیشمار دولت بخشی اور جو نہ ہوئے وہ خراب ہوکرتباہ ہوگئے۔ 12 خلاصہ یہ کہ جو قول کے صحیح نکلے جیسے حضرت عباس (رض) کہ ان کو مالا مال کردیا اور اتنا دیا کہ ان سے اٹھ نہ سکا اور جو کفر پر قائم رہے وہ تباہ و برباد ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ خیانت سے مراد عہد الست کی خیانت ہو کہ یوم میثاق میں اس کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا دنیا میں آکر اس اقرار کو توڑ دیا۔