Surat ut Takveer

The Overthrowing

Surah: 81

Verses: 29

Ruku: 1

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة التکویر سورة نمبر 81 کل رکوع 1 آیات 29 الفاظ و کلمات 104 حروف 534 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں آخرت، قیامت اور رسالت کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ فرمایا جب سورج لپیٹ لیا جائے گا یعنی وہ بےنور ہوجائے گا۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ جب پہاڑ اپنی جگہ سے اڑنے لگیں گے اور ریت کا ڈھیر بن جائیں گے۔ دس ماہ کی گابھن اونٹنی جو عربوں کے نزدیک بہت قیمتی ہوتی تھی وہ چھٹی پھرے گی۔ جب جنگلی اور وحشی جانور تک ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں گے۔ سمندر بھڑک کر آتش فشاں بن جائیں گے۔ جب روحوں کو جسموں سے جوڑ دیا جائے گا۔ جب زندہ گاڑ دی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تو کس جرم میں ماری گئی۔ جب ہر شخص کے اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ جب جہنم کی آگ کو خوب دہکایا جائے گا اور جنت کو قریب تر کردیا جائے گا۔ آسمان کے سب پردے درمیان سے ہٹا دیے جائیں گے اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ (دنیا سے) کیا کچھ لے کر آیا ہے۔ اللہ نے پلٹنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ۔ اس رات کی قسم جب وہ جانے لگتی ہے اور اس صبح کی قسم جو وہ آنے لگتی ہے کہ یہ قرآن اللہ نے اپنے ایک جلیل القدر اور معزز فرشتے (جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعہ بھیجا ہے۔ وہ فرشتہ وہ عرش والے کے پاس بڑی طاقت قوت رکھنے والا، بلند مرتبہ ہے اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔ مکہ والوں سے فرمایا ہے کہ تمہارے ساتھ مکہ میں رہنے والے ( حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔ ان کے پاس وہی فرشتہ آتا ہے جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کے کنارے پر دیکھا تھا اللہ کے حکم سے اللہ کا پیغام ان تک پہنچاتا ہے۔ وہ غیب کے اس علم کو (لوگوں تک) پہنچانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے۔ یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ فرمایا کہ اس سچائی کی گواہی تمہارے دل بھی دیتے ہیں پھر تم کدھر اور کس رخ پر جار ہے ہو ؟ فرمایا کہ یہ قرآن مجید جو اللہ کا کلام ہے ہر اس شخص کے لئے نصیحت اور راہبر ہے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے لئے جب تک اللہ کی توفیق نہ ہو اس وقت تک یہ دولت حاصل نہیں ہوتی البتہ جب وہ رب العالمین چاہے گا تو پھر توفیق نصیب ہوجائے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة التکورکا تعارف یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس کی انتیس آیات ہیں۔ جو ایک رکوع کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اس کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے اس میں قیامت کے ابتدائی اور آخری مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات اور ستاروں کی قسم کھا کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ قرآن مجید کسی جن اور شیطان کا کلام نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے ملائکہ کے سردار اور نہایت ہی معزز فرشتہ جبرئیل امین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھتا ہے جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روشن افق پر دیکھا ہے اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اس پر چلنے کی اسے توفیق ملتی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کیونکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کرنا چاہتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة التکویر ایک نظر میں یہ سورت صرف دو پیروں پر مشتمل ہے۔ دونوں میں اسلامی نظریہ حیات کے عظیم اور بنیادی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو اس سے قبل اس کائنات میں کیا کیا ہولناک تبدیلیاں ہوں گی۔ یہ تبدیلیاں شمس وقمر ، سیاروں اور ستاروں ، سمندروں اور پہاڑوں ، زمین و آسمان اور چرندوں وپرندوں میں آئیں گی اور انسان تو بہرحال ان عظیم انقلابات سے ، سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ دوسرے پیرے میں جو عظیم حقیقت بیان کی گئی ہے وہ حقیقت وحی اور اس کے متعلقہ امور ہیں ، وہ فرشتے کیسے ہیں جو وحی لاتے ہیں ، اس نبی کا کیا مقام ہے جس پر یہ وحی آرہی ہے اور جن لوگوں کے سامنے یہ پیغام پیش کیا جارہا ہے ان کا رد عمل کیا ہے لیکن یہ اللہ کی مشیت ہے ، جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کے لئے نزول وحی کا انتظام فرمایا۔ اس سورت کا عمومی اثر ایسا ہے کہ گویا ایک تباہ کن مصیبت پھوٹ پڑی ہے ، جو ہر چیز کو تہ وبالا کررہی ہے۔ ہر چیز کو بکھیرتی چلی جاتی ہے ، ہر پر سکون چیز میں تلاطم پیدا کردیتی ہے ، ہر پر امن چیز کو خوفزدہ کردیتی ہے۔ ہر معمولی اور مروج کام میں گڑ بڑ اور تبدیلی پیدا کردیتی ہے اور نفس انسانی کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتی ہے کہ انسان سخت پریشان ہوجاتا ہے اور اس کا وہ سکون تباہ ہوجاتا ہے جس کا وہ عادی تھا۔ اس ہولناک اور خوفناک فضا میں اور تیز وتند طوفاں میں نفس انسانی اس طرح ادھر ادھر اڑتا پھرتا ہے جس طرح ایک پر ہوا میں اڑ رہا ہے جس کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ ایک جگہ ٹھہر سکتا ہے ، نہ کوئی جائے فرار ہے اور نہ پناہ گاہ وقرار ہے۔ صرف اللہ واحد اور قہار کی پناہ ہے جو وحدہ باقی اور دائم ہے۔ اور آخری جائے قرار و اطمینان ہے۔ اس سورت میں ایسا اثر ہے کہ انسان دنیا کے تمام ذرائع سکون و اطمینان کو بھلا دیتا ہے۔ اور مارے خوف کے صرف اللہ کی پناہ حاصل کرتا ہے اور بھاگ کر اللہ کے ہاں سکون وقرار طلب کرنے لگتا ہے ، اسے یقین ہوجاتا ہے اس ذات کبریا کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ اس کے باوجود یہ سورت حسین و جمیل مناظر کا مرقع ہے۔ ان مناظر کا تعلق ہماری نظروں کے سامنے موجود کائنات سے بھی ہے۔ اور عالم آخرت سے بھی۔ جب اس جہاں کے تمام طور طریقے اور انداز بدل جائیں گے۔ پوری سورت خوبصورت انداز تعبیر کا بھی نمونہ ہے۔ جس میں رنگارنگ مناظر اور سحر آفرینیاں پائی جاتی ہیں ، لیکن یہ سب امور اس نہایت ہی مختصر سورت میں سمودیئے گئے ہیں گویا دریا ، بحساب اندر۔ چناچہ یہ مختلف فیکٹر مردہ احساس کو پار کرکے شعور میں بیٹھ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سورت میں بعض الفاظ ایسے ہیں کہ آج کے عرب قارئین کے لئے بھی مشکل ہیں اور بعض تعبیرات ایسی ہیں جو مالوف نہیں ہیں ، ورنہ میں اس سورت کی سرے سے تفسیر ہی بیان نہ کرتا ، اور قارئین کو دعوت دیتا کہ وہ اس سورت کے اثرات ، اس کی تصویر کشی ، اس کی فضا اور مناظر وحقائق سے براہ راست استفادہ کریں۔ کیونکہ ان چیزوں کی تشریح کسی انسانی زبان میں نہیں کی جاسکتی۔ اگر کوئی براہ راست سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ سورت دل کی گہرائیوں میں اترجاتی ہے اور خود اپنی تفسیر کرتی ہے لیکن آج کے دور میں قرآن کی سادہ زبان کی تشریح بھی ضروری ہوگئی ہے ہمارے زمانے میں عرب بھی قرآن کی مالوف زبان سے بہت دور ہوگئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi