Surat ut Takveer

Surah: 81

Verse: 13

سورة التكوير

وَ اِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ﴿۪ۙ۱۳﴾

And when Paradise is brought near,

اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And when Paradise is brought near. Ad-Dahhak, Abu Malik, Qatadah, and Ar-Rabi` bin Khuthaym, all said, "This means it will be brought near to its inhabitants." Everyone will know what He has brought on the Day of Judgement Concerning Allah's statement, عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] یہ وقت وہ ہوگا جب لوگوں کا حساب کتاب لیا جارہا ہوگا اور اللہ کے فرمانبردار جہنم کو دیکھ کر یہ سمجھ لیں گے کہ اگر وہ اللہ کی فرمانبرداری نہ کرتے تو یہ بھڑکتی ہوئی جہنم ان کا ٹھکانا ہوتا۔ اس پر وہ اللہ کا مزید شکر بجا لائیں گے۔ جس نے دنیا میں انہیں راہ راست پر رکھا۔ اور مجرم لوگ جب جنت کی نعمتوں کو دیکھیں گے پھر یہ خیال کریں گے کہ ان کا اصلی ٹھکانا دوزخ ہے تو ان کی حسرت و یاس میں مزید اضافہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ۝ ١٣ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ۔ } ” اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔ “ ان تیرہ آیات میں قیامت کے دن کی مختلف کیفیات کا ذکر کرنے کے بعد جو اہم اور اصل بات بتانا مقصود ہے وہ یہ ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 That is, in the Plain of Resurrection, when the hearing of the cases of the people will be in progress, the blazing fire of Hell also will be in full view, and Paradise also with all its blessings will be visible to all, so that the wicked should know what they are being deprived of and where they are going to be cast, and the righteous as well should know what they are being saved from and with what being blessed and honoured. br>

سورة التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :11 یعنی میدان حشر میں جب لوگوں کے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہو گی اس وقت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ بھی سب کو نظر آ رہی ہو گی اور جنت بھی اپنی ساری نعمتوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہو گی تاکہ بد بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہو کر کہاں جانے والے ہیں ، اور نیک بھی جان لیں کہ وہ کس چیز سے بچ کر کن نعمتوں سے سرفراز ہونے والے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(81:13) واذا الجنۃ ازلفت : ازلفت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر سے جس کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ جب جنت قریب لائی جائے گی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (50:31) اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی کہ (مطلق) دور نہ ہوگی۔ مزدلفۃ بھی اسی سے ہے :۔ لیلۃ المزدلفۃ (مزدلفہ کی رات) کو اس نام سے اس لئے پکارتے ہیں کہ حجاج عرفات سے لوٹنے کے بعد اس رات منیٰ کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور حدیث میں ہے ازدلفوا الی اللہ برکعتین کہ دو رکعت نماز سے اللہ کا قرب حاصل کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

6 ﴿ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ٠٠١٣﴾ (اور جب جنت کو قریب کردیا جائے گا) یعنی متقیوں کے لیے قریب کردی جائے گی جیسا کہ گمراہوں کے لیے دوزخ کو ظاہر کردیا جائے۔ كما فی سورة الشعراء ﴿وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ٠٠٩٠ وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَۙ٠٠٩١﴾ (اور متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ کو سامنے ظاہر کردیا جائے گا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اور جب جنت قریب کردی جائے یعنی متقی پرہیزگار لوگوں کی جنت قریب کردی جائے۔