پارہ نمبر ٣٠، عم، سورة نمبر ٨٣، المطففین۔ تعارف : اس سورة میں آخرت پر یقین، حقوق العباد میں احتیاط، اچھے اور برے لوگوں کا انجام، اہل ایمان کی کامیابی اور کفار و مشرکین کی حقیقی ناکامی کو بیان کرکے کہا گیا ہے کہ ہر شخص کے اعمال کا مکمل ریکارڈ اللہ کے ہاں محفوظ ہے جس کی نگرانی پر اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔ نیک لوگوں کی روحین علیین میں اور بدکاروں کی روحین اور اعمال نامے سجین میں محفوظ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اہل ایمان کا مذاق نہ اڑائیں۔ ان تمام باتوں کو اس سورة میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ فرمایا لین دین میں کمی کرنے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔ جب وہ لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ماپ کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ایک بہت بڑا دن آنے والا ہے جب ہر ایک کو اللہ رب العالمین کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ان نافرمانوں کے اعمال کا مکمل ریکارد سجین میں موجود ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ سجین کیا ہے ؟ فرمایا کہ یہ ایک لکھی ہوئی کتاب ( زندگی بھر کا ریکارڈ) ہے۔ یقینا ان لوگوں کے لئے بڑی تباہی ہے جو اس کو اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو سرکش، بدعمل اور گناہ گار ہے جب اس کے سامنے ہماری آیتوں کو پڑھا جاتا ہے تو وہ اس کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے اصل میں ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن اس طرح کے لوگ اللہ کے دیدار تک سے محروم رہیں گے ( جو سب سے بڑی بدنصیبی ہے) اور ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم جھٹلاتے تھے یہ وہی چیز ہے۔ فرمایا کہ اس کے برخلاف وہ لوگ جو نیک اور پرہیزگار ہیں ان کا نامہ اعمال ” علیین “ میں ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ ” علیین “ کیا ہے ؟ جواب عنایت فرمایا کہ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ( جس میں سب کچھ لکھا ہوا ہے) جس کی نگرانی اللہ کے مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بلا شبہ جو لوگ علیین میں ہوں گے وہ پورے عیش و آرام میں ہوں گے۔ اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہرے خوشی سے چمک دمک رہے ہوں گے۔ ان کو ایس نفیسن ترین شراب پلائی جائے گی جو سر بند ہوگی اور اس پر مشک کی مہر لگی ہوگی۔ جو لوگ اس کے مشتاق ہیں انہیں اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس شراب میں تسنیم (کے پانی کی) آمیزش ہوگی۔ یہ تسنیم وہ چشمہ ہے جس کے پانی کو اللہ کے مقرب بند ہی پئیں گے۔ فرمایا کہ یہ کفار مجرمین جب مسلمانوں کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق اڑانے کیلئے آنکھوں سے اشارتے کرتے تھے اور جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتے تو خوب اتراتے اور اکڑتے جاتے (جیسے انہوں نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو) جب وہ مومنوں کو دیکھتے تو کہتے تھے کہ اصل میں یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ کہنے کا حق نہ تھا کیونکہ ان کو اللہ نے ان پر کوئی نگراں بنا کر تو نہیں رکھا تھا۔ قیامت کے دن یہ اہل ایمان شاہانہ انداز سے اونچی مسندوں پر بیٹھے کفار کے برے حالات کو دیکھ کر ان پر ہنس رہے ہوں گے۔ اس طرح ان کافروں کی حرکتوں کا پورا پورا بدلہ مل کر رہے گا۔
سورة المطفّفین کا تعارف یہ نام اس کی پہلی آیت کا دوسرا لفظ ہے۔ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ایک رکوع پر مشتمل ہے جس کی چھتیس آیات ہیں۔ اس میں خائن لوگوں کی مالیاتی خیانت کا ذکر فرما کر انہیں قیامت کا خوف دلایا گیا ہے تاکہ وہ مالی خیانت اور اخلاقی گراوت سے باز آجائیں۔ ایسے لوگوں کو بتلایا ہے کہ ان کا اندراج سجّین میں کیا جاتا ہے یہ ایسی کتاب ہے اس کے ذکر سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسے نہیں جانتے تھے۔ اس میں خائن، جھوٹے اور گنہگار لوگوں کا اندراج کیا جاتا ہے جنہیں جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اندراج کتاب علیّین میں کیا جاتا ہے اس کے بارے میں بھی اس کے نزول سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ علم نہیں تھا، یہ وہ کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کا اندراج ہوتا ہے جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ جنت میں تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما ہوں گے ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دکھائی دیں گے اور انہیں ایسی شراب پیش کی جائے گی جس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی، وہ ان کفار پر ہنسیں گے جو دنیا میں انہیں مذاق کیا کرتے تھے۔
سورة المطففین ایک نظر میں مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی جن عملی حالات و مراحل سے گزر رہی تھی یہ سورت اس کے ایک مرحلے کا نمونہ ہے۔ اس کا مقصد خفتہ دلوں کو جگانا اور غافل قلوب کو متوجہ کرنا ہے ، انسانی شعور کو جھنجھوڑنا ہے اور لوگوں کو عالم عرب اور اس کرہ ارض پر اٹھنے والے اس عظیم انقلاب کی طرف متوجہ کرنا ہے جو عرب سوسائٹی اور انسانی کلچر کو بدل رہا تھا۔ یہ ایک آسمانی پیغام تھا اور زندگی کا بالکل ایک جدید تصور پیش کررہا تھا۔ مکہ مکرمہ میں موجود سوسائٹی کے ایک عملی پہلو کو اس سورت کے آغاز میں لیا گیا ہے اور یہ صورت حالات مکہ میں عملاً موجودتھی کہ لوگ دیتے وقت کم دیتے تھے اور لیتے وقت زیادہ لیتے تھے۔ آغاز میں ایسے لوگوں (مطففین) کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ جب رب العالمین کے سامنے حشر کے میدان میں کھڑے ہوں گے تو کیا جواب دیں گے۔ یوم یقوم .................... العلمین (6:83) ” اس دن جبکہ لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ اور سورت کے آخر میں ان خیالات کی تصویر کشی ہے جو اس وقت کی سوسائٹی ان انقلابیوں کے بارے میں رکھتی تھی۔ یہ لوگ ان اہل ایمان پر اشاروں کنایوں میں اعتراض کرتے تھے ، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے تھے اور ان کے بارے میں کہتے تھے۔ ان ھولاء لضالون (32:83) ” کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں “۔ اس کے علاوہ اس سورت میں نیکوکاروں اور بدکاروں کے آخری انجام کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے کہ اس یوم عظیم میں دونوں کے مال واحوال کیسے ہوں گے۔ یہ سورت چار پیروں پر مشتمل ہے۔ پہلے پیرے میں مطففین کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں ان کی تعریف خود قرآن کرتا ہے : ویل للمطففین ............................ العلمین (1:83 تا 6) ” تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لئے جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو اپنے زور سے پورا پورا لیتے ہیں ، اور جب ان کو ناپ کر یاتول کردیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ اور دوسرے پیراگراف میں فجار کو سخت سرزنش کی گئی۔ ان کو ہلاکت اور بربادی کی دھمکی دی گئی ہے اور ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ سخت تجاوز کرنے والے گنہگار ہیں۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اس اندھے پن اور پسماندگی کی اصل علت کیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ کس انجام بد سے دوچار ہونے والے ہیں اور ان کے لئے سب سے بڑا عذاب یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے کیونکہ اس دنیا میں بدکاری نے ان کے قلوب کو ڈھانپ رکھا ہے اور ان لوگوں کو جہنم میں نہایت ذلت اور سرکوبی کی حالت میں رکھاجائے گا۔ کلا ان ................................ تکذبون ( 7:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جو روزجزاکو جھٹلاتے ہیں اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بدعمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ہر گز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہ چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ اور تیسریے پیرے میں اسی کا صفحہ بالمقابل ہے ۔ تصویر کا دوسرا رخ ہے اور یہ تصویر برابر اور نیکوکاروں کی ہے۔ اور ان انعامات کی تصویر کشی ہے جو ان کے لئے طے شدہ ہیں۔ اور پھر قیامت کے دن ان کے چہروں پر جو تروتازگی ہوگی اس کی تصویر کشی بھی ہے۔ اور ان چشموں کی بات ہے جس سے وہ صاف و شفاف شراب پی رہے ہوں گے۔ ان تختوں کی تصویر کشی ہے ، جن پر وہ ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے۔ یہ نہایت ہی تروتازہ ، نرم اور روشن تصویر ہے۔ وما ادرک ................................ المقربون (18:83 تا 28) ” ہرگز نہیں ، بیشک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر ؟ ایک لکھی ہوئی کتاب ، جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بیشک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے ، اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے ، ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔ ان کو نفیس ترین سربند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی۔ جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی ، یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے “۔ اب آخری پیرے میں ان مشکلات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے جو اس باطل اور غفلت کی دنیا میں فساق وفجار کے ہاتھوں اہل حق برداشت کررہے تھے۔ یہ فجار اہل حق کو ایذائیں دیتے تھے ، ان کے ساتھ مذاق کرتے تھے ، اور نہایت گستاخی سے پیش آئے تھے تاکہ بطور تقابل فساق اور فجار کے انجام لوگوں کے سامنے ہو اور حقیقی اور ابدی اور طویل زندگی پیش کی جاسکے۔ ان الذین ................................ یفعلون (29:83 تا 36) ” مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جس ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے ، اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے ، اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں ، حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں مل گیا نا کافروں کو ان حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے “۔ بہرحال یہ سورت ایک طرف دعوتی ماحول بناتی ہے اور دوسری طرف یہ بتاتی ہے کہ ایک عملی معاشرے اور ماحول میں دعوت اسلامی کا اسلوب کیا ہوتا ہے اور کسی معاشرے کے نفسیاتی حالات کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ سورت کی تفصیلی تشریح کے وقت ان باتوں پر تفصیل سے بحث ہوگی ، انشاء اللہ !