Surat ul Inshiqaaq
Surah: 84
Verse: 13
سورة الانشقاق
اِنَّہٗ کَانَ فِیۡۤ اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾
Indeed, he had [once] been among his people in happiness;
یہ شخص اپنے متعلقین میں ( دنیا میں ) خوش تھا ۔
اِنَّہٗ کَانَ فِیۡۤ اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾
Indeed, he had [once] been among his people in happiness;
یہ شخص اپنے متعلقین میں ( دنیا میں ) خوش تھا ۔
And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy! meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief. إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
13۔ 1 یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا،
[٩] یہ شخص اپنے گھر میں گلچھڑے اڑاتا تھا۔ حرام اور حلال جو بھی طریقہ اسے بن پڑتا وہ دنیا کا مال اکٹھا کرتا تھا۔ خود بھی عیش کرتا تھا اور گھر والوں کو بھی عیش کراتا تھا۔ اس کی زندگی اللہ سے ڈرنے والوں سے بالکل مختلف تھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے گھر والوں کی محبت ہی کہیں ہمارے لیے فتنہ اور آزمائش کا سبب نہ بن جائے۔
إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا (He had been joyful among his people...84:13). This verse tells us that those who will be given their Record in their left hands from behind their backs, they will desire death and destruction under the impression that this might end their misery. But it will not be possible for them to die. One of the reasons given here for his misery is that he used to live joyfully among his people in the world, and he was completely oblivious of the Hereafter. The believers, on the other hand, never for a moment were oblivious of the Hereafter in the life of this world. At every moment of pleasure and comfort, they were anxious and worried about the Hereafter. The Qur&an quotes the believers on another occasion as saying: إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ &Indeed we were afraid (of Allah&s punishment) when we were amidst of our family, [ At-Tur 26] In other words, they lived among their families and yet were fearful and conscious of the Hereafter. The consequences of the two groups will be appropriate to their respective positions. Those who led a life of luxury and pleasure in this world with their families oblivious of the Hereafter, their portion will be punishment of Hell in the next world. Those who were aware of reckoning and feared punishment in the next world will live with their families in eternal luxury, pleasure and happiness. This indicates that a believer should not be immersed in the comforts of this life. At no time and in no circumstance should he be oblivious to the reckoning of the Hereafter.
اِنَّہٗ كَانَ فِيْٓ اَہْلِہٖ مَسْرُوْرًا ١٣ ۭ سُّرُورُ : ما ينكتم من الفرح، قال تعالی: وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] ، وقال : تَسُرُّ النَّاظِرِينَ [ البقرة/ 69] ، وقوله تعالیٰ في أهل الجنة : وَيَنْقَلِبُ إِلى أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 9] ، وقوله في أهل النار :إِنَّهُ كانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 13] ، تنبيه علی أنّ سُرُورَ الآخرة يضادّ سرور الدّنيا، والسَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» السرور قلبی فرحت کو کہتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11]( تو خدا ) ان کو تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا ۔ تَسُرُّ النَّاظِرِينَ [ البقرة/ 69] کہ دیکھنے والے ( دل ) کو خوش کردیتا ہو ۔ اسی طرح اہل جنت کے متعلق فرمایا : وَيَنْقَلِبُ إِلى أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 9] اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے ۔ اور اہل نار کے متعلق فرمایا :إِنَّهُ كانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُوراً [ الانشقاق/ 13] یہ اپنے اہل و عیال میں مست رہتا تھا ۔ تو اس میں تنبیہ ہے کہ آخرت کی خوشی دنیا کی خوشی کے برعکس ہوگی ۔ السریر ( تخت ) وہ جس پر کہ ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے ۔ قرآن نے اہل جنت کے متعلق فرمایا : مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ۔ فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے ۔ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] اور ان کے گھروں کے دروازے بھی ( چاندی کے بنا دئیے ) اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ۔ اور میت کے جنازہ کو اگر سریر المیت کہا جاتا ہے تو یہ سریر ( تخت ) کے ساتھ صوری مشابہت کی وجہ سے ہے ۔ یا نیک شگون کے طور پر کہ مرنے والا دنیا کے قید خانہ سے رہائی پا کر جوار الہی میں خوش و خرم ہے جس کی طرف کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : الدنیا سجن المومن : کہ مومن کو دنیا قید خانہ معلوم ہوتی ہے
آیت ١٣{ اِنَّہٗ کَانَ فِیْٓ اَہْلِہٖ مَسْرُوْرًا ۔ } ” یقینا (دنیا میں) وہ اپنے اہل و عیال میں بہت خوش و خرم تھا۔ “ دنیا میں وہ حرام کی کمائی سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ عیش کرتا رہا اور آخرت کے محاسبے کا کبھی تصور بھی ذہن میں نہ لایا۔ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی شخص اپنی روزی تو سو فیصد حلال ذرائع سے کما رہا ہے لیکن وہ اللہ کے دین کا حق ادا نہیں کر رہا تو ایسے شخص کی حلال ذرائع سے کمائی ہوئی وہ روزی بھی حلال نہیں ۔ اس لیے کہ اس نے اپنی روزی کمانے کی اس تگ و دو میں جو وقت ‘ صلاحیتیں اور وسائل صرف کیے ہیں ان میں دین کے حقوق کا حصہ بھی شامل تھا۔ گویا اپنے وقت ‘ وسائل اور اپنی صلاحیتوں کا وہ حصہ جو اسے اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا چاہیے تھا اس حصے کو غصب کر کے وہ اپنے ذاتی استعمال میں لے آیا ہے ۔ تو دین کے حقوق کو غصب کرکے کمائی ہوئی ایسی روزی حلال کیسے ہوسکتی ہے ؟ دراصل حلال و حرام کے معاملے کو بہت دقت نظری سے جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس معاملے کو عام طور پر بہت سطحی انداز میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ مثلاً ایک عام مسلمان سور کا گوشت کھانے کا تو تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن وہ اس بکری کا گوشت بہت مزے اور رغبت سے کھا لیتا ہے جو اس نے کسی کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر خریدی ہوتی ہے۔ اب ایسی بکری کے بارے میں کون کہے گا کہ وہ حلال ہے اور حرام نہیں ہے ! اس موضوع کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کوئی مسلمان باطل کے غلبے کے تحت اطمینان و سکون سے زندگی بسر کر رہا ہے اور اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کر رہا تو وہ بزعم خویش بیشک ناپ تول کر حلال ہی کیوں نہ کھا رہا ہو ‘ اس کا کھانا پینا حتیٰ کہ اس ماحول میں سانس لینا سب حرام ہے۔ ایسے شخص کو خود سوچنا چاہیے کہ وہ کس نظام کی چاکری کر رہا ہے ؟ کس کے اقتدار کو کندھا دے رہا ہے ؟ تنخواہ کہاں سے لے رہا ہے ؟ اور اپنا کاروبار کس کی مدد سے آگے بڑھا رہا ہے ؟ ظاہر ہے وہ یہ سب کچھ باطل نظام کے لیے کر رہا ہے اور طاغوت کی فراہم کردہ چھتری کے سائے میں کررہا ہے۔ چناچہ کسی مسلمان کا کسی باطل نظام کے تحت ہنسی خوشی زندگی گزارنا کسی طور پر جائز نہیں۔ اِلا ّیہ کہ ایسی صورت حال میں وہ کراہت اور بےچینی میں زندگی بسرکرے ‘ اپنی ضروریات کو کم سے کم سطح پر رکھے اور باطل نظام کو بدلنے کے لیے اپنا تن من دھن کھپا دینے پر ہمہ وقت کمربستہ رہے ۔ اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی یہ سوچ اور جدوجہد باطل نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔ آیات زیر مطالعہ میں دو انسانی کرداروں کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ ان میں ایک کردار تو اللہ کے اس بندے کا ہے جو دنیوی زندگی کے دوران آخرت کی جواب طلبی کے احساس سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتا تھا ۔ ایسے لوگوں کے اعصاب پر آخرت کے احتساب کا خوف اس حد تک مسلط ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس کیفیت کو جنت میں پہنچ کر بھی یاد کریں گے : { قَالُوْا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۔ } (الطور) ” وہ کہیں گے کہ ہم پہلے (دنیا میں) اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے “۔ ایسے ہی ایک شخص کے بارے میں یہاں بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عدالت سے اپنی کامیابی کی نوید سننے کے بعد اپنے گھر والوں کی طرف شاداں وفرحاں لوٹے گا۔ اس کے مقابلے میں ایک کردار وہ ہے جو آخرت اور آخرت کے محاسبے سے بیخبر اپنے اہل و عیال کے ساتھ عیش و عشرت میں مست رہا۔ ایسے شخص نے دنیا میں بلاشبہ ایک خوشحال اور خوشیوں بھری زندگی گزاری ‘ لیکن آخرت میں اس کے لیے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
9 That is, his way of life was different from that of God's righteous men, about whom in Surah At-Tur: 26, it has been said that they lived among their kinsfolk in fear and dread of God, i.e. they fear lest they should ruin their own Hereafter on account of their absorption in the love of children and endeavours for the sake of their well-being and prosperity in the world. On the contrary, this tnan lived a life free from every care and worry and helped his children and kinsfolk also to enjoy life fully, no matter what wicked and inunoral methods he had to use to procure the means of enjoyment, how he had to usurp the rights of others and transgress the bounds set by AIIah for the sake of the worldly pleasures.
سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :9 یعنی اس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور ( آیت 26 ) میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر وقت انہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتار ہو کر ہم ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت برباد نہ کرلیں ۔ اس کے برعکس اس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کرا رہا تھا ، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامان عیش فراہم کرے ، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے ۔
(84:13) انہ کان فی اہلہ مسرورا۔ یہ جملہ موت کو پکارنے کی علت ہے کیونکہ وہ تو اپنے گھر والوں میں خوشیاں منایا کرتا تھا۔ نہ اللہ کا ڈر تھا نہ حلال و حرام کی تمیز نہ آخرت کی فکر بس عیش و عشرت میں غرق نفسانی خواہشات کا غلام ہو کر دنیاوی رنگ رلیوں میں مگن رہتا تھا اس کے برخلاف اللہ کے نیک بندوں کی حالت مختلف ہوتی تھی۔ قرآن مجید میں ہے قالوا انا کنا قبل فی اہلنا مشفقین (52:26) اللہ کے مومن بندے بہشت میں اس کی نعمتوں سے خط اٹھا رہے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ہم کلام ہوکر ۔ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہا کرتے تھے۔ مسرورا۔ خوش۔ نیز ملاحظہ ہو 84:9 متذکرۃ الصدر۔
فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں کو ان کی پیٹھ کی طرف سے ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا ان کی دنیا میں حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل و عیال میں خوش باش تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں واپس نہیں پلٹنا۔ ان کے اس عقیدہ کی تردید کرنے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی ہے کہ تم نے ہر صورت اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اس سورت کی آیت ٩ میں ارشاد ہوا کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش و خرم جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ذکرہوا جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا جائے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اس کے جہنم جانے کا بنیادی سبب یہ ہوگا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ اس نے بالآخر اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ وہ آخرت کے بارے میں لاپرواہ تھا اور اپنے اہل و عیال میں بڑا مست رہتا تھا اور دنیا میں اس قدر محو اور مصروف تھا کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر آخرت کو بھول چکا تھا ایسے شخص کو جونہی اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ خواہش کرے گا۔ ” مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا اور روئے زمین پر ہر چیز کو فدیہ میں دے دے اور اس طرح نجات پا جائے۔ ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی وہ مجرم کو آواز پر آواز دے گی، ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال کمایا اور جمع کر کے رکھا۔ “ (المعارج : ١١ تا ١٨) (وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا) (الفرقان : ٦٥) ” اللہ کے بندے دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ جس نے آخرت کو فراموش کردیا وہ قیامت کے دن پچھتائے گا۔ ٢۔ آخرت کو فراموش کردینے والا شخص اپنے حال اور مال میں مست رہتا ہے۔
انہ کان .................... مسرور (13:84) ” وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا “۔ یہ حاضر وموجود کا فدائی تھا ، غلام تھا ، اور مستقبل سے غافل تھا۔ یہ اس بات سے لاپرواہ تھا کہ قیامت کے میدان میں اسے کیا پیش آنے والا ہے۔ یہ قیامت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری کرتا تھا۔
ایسے شخص کی بربادی کا سبب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ٠٠١٣﴾ (بیشک جب وہ دنیا میں تھا تو اپنے کنبہ خاندان میں خوش تھا) یعنی ایمان سے اور ایمان والے اعمال سے غافل تھا قیامت کو نہیں مانتا تھا اور وہاں کی حاضری کا یقین نہیں رکھتا تھا دنیا کی مستی اور مسرت اور اکڑ مکڑ میں زندگی گزارتا رہا، مزید فرمایا ﴿ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ٠٠١٤﴾ (بےشک اس کا خیال تھا کہ اسے واپس نہیں ہونا ہے) یعنی میدان حساب میں نہیں جانا اسی غلط گمان کی وجہ سے وہ ایمان نہ لایا بلی (ہاں اس کو ضرور اپنے رب کی طرف لوٹنا ہوگا اور حساب کے لیے پیش ہوگا) ۔
6:۔ ” انہ کان “ کافر دنیا میں اپنے اہل و عیال میں نہایت خوش وخرم رہتا تھا اور آخرت کی اسے کوئی فکر ہی نہ تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوگا اور نہ اسے حساب کتاب دینا ہوگا۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے وہ ضرور اسے دوبارہ زندہ کر کے اس کے اعمال کی اس کو جزاء دے گا۔ لن یجور ای لن یرجع حیا۔