Surat ul Inshiqaaq

Surah: 84

Verse: 19

سورة الانشقاق

لَتَرۡکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾

[That] you will surely experience state after state.

یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچوگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

You shall certainly travel from stage to stage. Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn Abbas said, "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. Ikrimah said, طَبَقاً عَن طَبقٍ (From stage to stage). "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said, طَبَقاً عَن طَبقٍ (From stage to stage). "Stage after stage. - Ease after difficulty, - difficulty after ease, - wealth after poverty, - poverty after wealth, - health after sickness, and - sickness after health." The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, and that the Ultimate Pleasure will be for the Believers Allah said, فَمَا لَهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہونگے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی (یہ جواب قسم ہے)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] اس مقام پر تین باتوں کی قسم کھائی گئی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں حرکت ہی حرکت ہے، سکون اور ٹھہراؤ نہیں۔ پھر یہ حرکت بھی یکدم واقع نہیں ہوجاتی بلکہ اس میں تدریج کا اصول کام کر رہا ہے۔ سورج غروب ہوتا ہے تو یک دم تاریکی نہیں چھا جاتی بلکہ کچھ دیر تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ رات بھی بتدریج اپنے مکینوں کو اپنی اپنی قرار گاہ کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ چاند بھی مکمل ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ تاہم مکمل ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح تم بھی بتدریج منزل بہ منزل اپنی آخری منزل کی طرف بڑھے چلے جارہے ہو اور تمہیں وہاں جاکر دم لینا ہے۔ پہلے انسان نطفہ تھا۔ رحم مادر میں ہی اس کی سات حالتیں بدلیں۔ پھر بچپن، بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا اور بڑھاپے سے موت۔ یہ ایسی منزلیں ہیں جنہیں طے کرنے میں انسان بالکل بےبس اور مجبور ہے۔ ان میں سے کوئی منزل حذف کرنا چاہے تو وہ قطعاً ایسا نہیں کرسکتا۔ رہی یہ بات کہ انسان کی آخری منزل کیا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جنت یا دوزخ ہے۔ گویا انسان مرنے کے بعد بھی کئی منازل طے کرنے پر مجبور ہوگا۔ اسے عذاب وثواب قبر سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اسے مرنے کے بعد دوبارہ جی کر اٹھنا ہوگا۔ اسے قیامت کی سختیاں سہنا ہوں گی۔ اسے اللہ کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ دنیا میں بھی اللہ کا ایسا ہی قانون کار فرما ہے۔ آخرت میں بھی یہ سب واقعات پیش آکے رہیں گے اور اس میں انسان کے اپنے ارادہ و اختیار کو کچھ دخل نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) لترکبن طبقاً عن طبق : قرآن مجید میں مذکور قسمیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی تاکید کے لئے آتی ہیں اور عام طور پر اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہوتی ہیں۔ یہاں جس بات کو ثابت کرنے کیلئے قسمیں کھائی گئی ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ تم ضروری ہی ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے جاؤ گے۔ اب قسموں پر غور کیجیے ! تینوں آیات میں مذکور چیزوں کا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہونا صاف واضح ہے، یعنی دن بھر کی دھوپ کے بعد سورج غروب ہو کر شفق پھیل جاتی ہے، پھر رات چھا جاتی ہے۔ اللہ کی مخلوق دن کو پھیل جاتی ہے اور رات کو جمع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چاند پہلی رات خنجر نما شکل میں ہوتا ہے، پھر بدلتے بدلتے مہ کامل بن جات ہے، پھر دوبارہ گھٹنے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ تمہیں بھی ایک حالت پر دوام نہیں ہے، بلکہ ان اشیاء کی طرح تمہارا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے چلے جانا بھی یقینی ہے۔ اسی طرح زندگی کے بعد موت، پھر زندگی اور ہر عمل کی جزا و سزا کا ہونا بھی یقینی ہے۔ (٢) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” طبقاً عن طبق “ کی تفسیر فرمائی :(حالا بعد حال) (بخاری، التفسیر، باب :(لترکبن طبقا عن طبق): ٣٩٣٠” یعنی ایک حلات کے بعد دوسری حالت میں۔ “ آدمی ہر لمحے نئی سے نئی حالت میں منتقلہ وتا جائے گا۔ بڑے بڑے تغیرات یہ ہیں، مٹی سے پیدا ہو کر نطفہ، پھر ماں کے پیٹ کی مختلف حالتیں، پھر پیدائش ، بچپن ، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری، فقر، غنا، پھر موت، قبر اور قیامت، غرض انسان بیشمار احوال سے گزرتا ہوا جنت یا دوزخ کو پہنچ جائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ۝ ١٩ ۭ ركب الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ ) رک ب ) الرکوب کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور ( سواری کے علاوہ یہ چیزیں ) موجب زینت ( بھی ) ہیں ۔ مگر کبھی کشتی وغیرہ سواری ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ [ العنکبوت/ 65] پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ طبق المُطَابَقَةُ من الأسماء المتضایفة، وهو أن تجعل الشیء فوق آخر بقدره، ومنه : طَابَقْتُ النّعلَ ، قال الشاعر :إذا لاوذ الظّلّ القصیر بخفّه ... وکان طِبَاقَ الخُفِّ أو قَلَّ زائدا ثم يستعمل الطَّبَاقُ في الشیء الذي يكون فوق الآخر تارة، وفیما يوافق غيره تارة، كسائر الأشياء الموضوعة لمعنيين، ثم يستعمل في أحدهما دون الآخر کالکأس والرّاوية ونحوهما . قال تعالی: الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ طِباقاً [ الملک/ 3] ، أي : بعضها فوق بعض، وقوله : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ [ الانشقاق/ 19] ، أي : يترقّى منزلا عن منزل، وذلک إشارة إلى أحوال الإنسان من ترقّيه في أحوال شتّى في الدّنيا، نحو ما أشار إليه بقوله : خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ [ الروم/ 20] ، وأحوال شتّى في الآخرة من النشور، والبعث، والحساب، وجواز الصّراط إلى حين المستقرّ في إحدی الدّارین . وقیل لكلّ جماعة مُتَطَابِقَةٍ : هم في أُمِّ طَبَقٍ وقیل : الناس طَبَقَاتٌ ، وطَابَقْتُهُ علی كذا، وتَطَابَقُوا وأَطْبَقُوا عليه، ومنه : جوابٌ يُطَابِقُ السّؤالَ. والمُطَابَقَةُ في المشي كمشي المقيّد، ويقال لما يوضع عليه الفواکهُ ، ولما يوضع علی رأس الشیء : طَبَقٌ ، ولكلّ فقرة من فقار الظّهر : طَبَقٌ لِتَطَابُقِهَا، وطَبَّقْتُهُ بالسّيف اعتبارا بِمُطَابَقَةِ النّعلِ ، وطِبْقُ اللَّيلِ والنهارِ : ساعاته المُطَابِقَةُ ، وأَطْبَقْتُ عليه البابَ ورجل عياياءُ طَبَاقَاءُ : لمن انغلق عليه الکلام، من قولهم : أَطْبَقْتُ البابَ ، وفحلٌ طَبَاقَاءُ : انْطَبَقَ عليه الضِّرابُ فعجز عنه، وعُبِّرَ عن الدّاهية بِبِنْتِ الطَّبَقِ ، وقولهم : وَافَقَ شِنٌّ طَبَقَةً وهما قبیلتان ( ط ب ق ) المطابقۃ اسمائے متضایفہ سے ہے جس کے معنی ایک چیز کے اوپر اس کے برابر دوسری چیز رکھنا اسی سے طابقت النعل ہے جس کے معنی کسی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے (289) اذالاوذالظل القصیر نجفہ وکان طباق الخف او قل زائد پھر طباق لفظ کبھی اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے دوسری کے اوپر ہو اور کبھی اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے مطابق اور موافق ہو جیسا کہ تمام ان الفاظ کا حال ہے جو دو معنوں کے لئے وضع کئے گئے ہیں اور پھر کسی ایک معنی میں استعمال ہونے لگے ہوں ۔ جیسے کاس ونادیۃ وغیرھما چناچہ آیت کریمہ : الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ طِباقاً [ الملک/ 3] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اوپر تلے بنائے ۔ اور آیت کریمہ ؛لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ [ الانشقاق/ 19] کے معنی یہ ہوں گے کہ تم ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف بلند ہوتے چلے جاؤ گے اور یہ ان مختلف احوال و مراتب کی طرف اشارہ ہے جن پر سی انسان گزر کر ترقی کے منازل طے کرتا ہے اور اس تددیجی ارتقاء کیطرف آیت خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ [ الروم/ 20] اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے ۔ میں اشارہ فرمایا ہے ۔ نیز آخرت میں حشر و نشر حساب وکتاب اور پلصراط سے لے کر جنت اور دوزخ میں پہنچنے تک جو مختلف حالات انسان کو پیش آنے والے ہیں ان کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے اور ایک جماعت جو باہم مطابقت اور موافقت رکھتی ہو اس کے متعلق کہاجاتا ہے ھم فی ام طبق ۔ نیز کہاجاتا ہے ۔ الناس طبقات لوگوں کے مختلف طبقے ہیں طابقتۃ علی کذا وتطابقوا واطبقوا علیہ باہم مطابق ہونا اسی سے جواب یطابق السوال کا محاورہ ہے یعنی جواب سوال کے عین مطابق ہے ۔ المطابقۃ اس آدمی کی طرح چلنا جس کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوں الطبق واطباق (1) تھالی یا طباق جس پر فروٹ رکھتے ہیں (2) ہر چیز کا ڈھکنا یز ۔ پیٹھ کے مہروں میں سے ہر مہر ہ کو طبق کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ باہم مطابق ہوتے ہیں اور طبقۃ بالسیف کا محاورہ بھی مطابقۃ النعل کی مناسبت سے استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی ہیں میں نے ٹھیک اس کے جوڑ میں تلوار ماری اور اسے الگ کردیا ۔ طبق اللیل والنھار ( رات اور دن کی ساعات جو باہم مطابق ہوں اطبقت علیہ الباب میں نے اس پر دروازہ بند کردیا ۔ رجل عیایاء طباقاء آنکہ بردے سخن بستہ گردو ۔ یہ اطبقت الباب کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور فحل طباقاء اس سانڈھ کو کہتے ہیں جو جفتی سے عاجز ہو اور بڑی مصیبت کو بنت الطبق کہاجاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے وافق شن طبقۃ کہ شن طبقۃ کے موافق ہوگئی اور شن وطبقۃ دو قبیلوں کے نام ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩{ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ } ” (اسی طرح) تم لازماً چڑھو گے درجہ بدرجہ۔ “ یعنی جس طرح چاند درجہ بدرجہ بڑا ہو کر مرحلہ وار رات کو روشن کرتا ہے بالکل اسی طرح تم مرحلہ وار کوششوں سے غلبہ دین کی منزل تک پہنچو گے۔ واضح رہے کہ لَتَرْکَبُنَّ کے صیغے میں زور اور تاکید بھی ہے کہ تم لوگ اس منزل تک ضرور پہنچو گے ۔ ظاہر ہے ہمیں یہ خبر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے وَھُوَ الصَّادِقُ وَالْمَصْدُوْق ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی ۔ لہٰذا دنیا پر اسلام کا مکمل غلبہ ہو کر رہے گا۔ البتہ اسلام کے پہلے غلبے کی شان اور تھی اور دوسرے غلبے کا انداز اور ہوگا۔ یہ فرق سورة المدثر کی آیت ٣٤ اور زیر مطالعہ سورت کی آیت ١٨ پر غور کرنے سے خود بخود واضح ہوجاتا ہے۔ یعنی اسلام کے پہلے غلبے کا ظہور صبح کے اجالے کی طرح ہوا تھا : { وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ ۔ } (المدثر) ۔ اس اجالے کی شان یہ تھی کہ ادھر آفتابِ نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طلوع ہوا اور ادھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا ماحول منورہو گیا۔ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے آغاز کے بعد صرف تیئیس (٢٣) برس کے مختصر عرصے میں تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلاب برپا ہوگیا اور جزیرہ نمائے عرب میں اسلام پوری طرح غالب آگیا۔ ظاہر ہے سورج کے طلوع ہونے کے بعد روشنی ہونے میں زیادہ دیر تو نہیں لگتی۔ البتہ اسلام کے دوسرے غلبہ کی روشنی چاند کی چاندنی کی طرح مرحلہ وار اور تدریجاً پھیلے گی۔ یعنی اب اقامت دین اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا نظام کسی ایک داعی یا کسی ایک تحریک کی کوششوں اور کسی ایک نسل کے زمانے میں نہیں بلکہ نسل در نسل جدوجہد سے قائم ہوگا۔ جیسے برعظیم پاک و ہند میں علامہ اقبال نے ایک فکر کو واضح کیا کہ اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ہے اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور یہ کہ ” جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی “ یعنی مسلمان اس ضابطہ حیات کو ایک ” وحدت “ کے طور پر زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ پھر مولانا ابوالکلام آزاد نے ” حزب اللہ “ اور مولانا مودودی نے ” جماعت اسلامی “ کے پلیٹ فارم سے اقامت دین کے لیے جدوجہد کی۔ اسی طرح آئندہ ادوار میں بھی اللہ کی توفیق سے اس کے بندے اس جدوجہد کا علم سنبھالے رہیں گے۔ مختلف تحریکیں اس مشن کی ترویج و ترقی کے لیے مختلف انداز میں کردار ادا کرتی رہیں گی اور بالآخران اجتماعی اور مرحلہ وار کوششوں کے نتیجے میں جب اللہ کو منظور ہوگا اسلام بطور دین پوری دنیا میں غالب ہوجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 That is, "You will not remain in one and the same state, but will have to pass through countless stages gradually, from youth to old age, from old age to death, from death to barzakh (the intermediary state between death and Resurrection) , from barzakh to Resurrections from Resurrection to the Plain of Assembly, then to the Reckoning, and then to the meting out of rewards and punishments. An oath has been sworn by three things to confine this: (1) by the twilight, (2) by the darkness of night and the gathering together in it of aII those human beings and animals who remain scattered in the day time, and (3) by the moon's passing through different phases to become full. These are some of those things which testify that rest and stillness is unknown in the universe in which man lives. There is a continuous and gradual change taking place everywhere. Therefore, the disbelievers are wrong in thinking that life comes to an end after man has breathed his last.

سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :11 یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے ، بڑھاپے سے موت ، موت سے برزخ ، برزخ سے دوبارہ زندگی ، دوبارہ زندگی سے میدان حشر ، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بے شمار منزلوں سے لازما تم کو گزرنا ہو گا ۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سرخی ، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں ان بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا ۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر کہیں ٹھیراؤ نہیں ہے ۔ ایک مسلسل تغیر اور درجہ بدرجہ تبدیلی ہر طرف پائی جاتی ہے ، لہذا کفار کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ موت کی آخری ہچکی کے ساتھ معاملہ ختم ہو جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: اِنسان اپنی زندگی میں مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے۔ بچپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا۔ نیز اس کی سوچ میں بھی مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ یہ سارے مراحل اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(84:19) لترکین طبقا عن طبق۔ جملہ جواب قسم ہے۔ لترکبن۔ مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رکوب (باب سمع) مصدر بمعنی سواری کرنا۔ اس کے اصل معنی تو جانور کی پشت پر سوار ہونے کے ہیں لیکن یہ کشتی پر سوار ہونے کے لئے بھی مستعمل ہے جیسے فاذا رکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین (29:65) پھر جب یہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے ہیں (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ یہاں آیت زیر مطالعہ میں مجازا ایک منزل کے بعد دوسری منزل سے گزرنے اور ایک حال سے دوسرے حال سے گزرنے کے لئے اس کا استعمال ہوا ہے۔ طبقا مفعول فعل لترکبن کا۔ عن طبق صفت طبقا کی ہے طیق بمعنی طبقہ درجہ۔ منزل، حال، حالت، طبقا اصل میں مطلقا اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز کے مطابق ہو اور عرف میں یہ لفظ اس حال کے لئے خاص ہوگیا ہے جو دوسرے حال کے مطابق ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارشاد الٰہی ہے : کترکبن طبقا عن طبق (تم کو ضرور ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچنا ہے یعنی ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف ترقی کرنی ہے۔ دنیا میں جو انسان مختلف حالات کی طرف ترقی کرتا ہے یہ ان حالات کی طرف ارشادہ ہے جیسا کہ آیت کریمہ خلقکم من تراب ثم من نطمۃ (22:5) تم کو بنایا مٹی سے پھر بوند پانی سے) ۔ فرما کر بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز آخرت میں حشر و نشر، حساب و کتاب، اور پل صراط سے لے کر جنت دوزخ میں ٹھکانا ہونے تک جو مختلف حالات پیش آنے والے ہیں یہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ (المفردات)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 حالانکہ یہ ایمان ملانا ان کی اپنی عقل کا تقاضا اور اپنے دل کی آواز ہے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لترکبن ........................ طبق (19:84) ” تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک مشکل حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے “۔ یعنی ایک صورت حال کے بعد دوسری صورت حال سے تمہیں دوچارہونا پڑے گا۔ جس طرح اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ یہاں ایک حال سے دوسرے حال کی تبدیلی کے لئے ” سواری “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ عربی میں مشکلات سے دوچارہونے کے لئے معاملات ، خطرات ، حالات اور مشکلات پر سوار ہونے کا محاورہ عام ہے۔ کیا جاتا ہے۔ ان المضطر یر کب الصعب من الامور وھو عالم برکوبہ ” مشکلات میں گھرا ہوا شخص مشکلات پر سوار ہوجاتا ہے اور وہ اس بات کو جانتا ہے کہ وہ ان پر کس طرح سوار ہو یعنی قابو پائے “ تحریک اسلامی کو پیش آنے والے حالات ومشکلات ایک کے بعد ایک سخت ترین مراحل کی شکل میں آئیں گے۔ اور یہ حالات اللہ کی تقدیر اور مشیت کے مطابق آئیں گے جو اس راہ میں لوگوں کو چلاتی ہے ، اور دست قدرت ان کو ایک انتہا تک پہنچاتا ہے۔ جہاں سے دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جس طرح شفق نمودار ہوتا ہے ، رات آتی ہے اور چھا جاتی ہے ، چاند نمودار ہوتا ہے اور ماہ کامل بن جاتا ہے یہاں تک انسان اس سفر کو طے کرکے اللہ تک پہنچ جائیں جیسا کہ سابقہ پیراگراف میں تصریح کی گئی۔ پے درپے ہم آہنگ پیراگراف اور فقرات کا آنا ، ایک مفہوم اور فکر سے دوسری سوچ اور معنی اخذ کرنے چلے جانا ، اور ایک نظارے سے دوسرے نظارے تک پہنچنا ، یہ قرآن کریم کا پر اعجاز اور انوکھا انداز ہے جس کی نقل اتارنا ممکن نہیں ہے۔ ان مناظر اور اشارات اور ان مشاہدات اور خوشگوار لمحات کی فضا ، جو اس پوری سورت میں یکے بعد دیگرے آئے۔ ان کے ذکر کے بعد اب ایک عقلمند انسان پر تعجب کیا جاتا ہے کہ ان دلائل ایمان کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتا حالانکہ اس کائنات میں اور خودان کے نفوس میں وافر مقدار میں واضح دلائل موجود ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) ان مذکورہ چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم لوگوں کو یقینا ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے اور تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کو باعتبار جنس خطاب فرمایا تھا یہاں اس جنس کے تمام افراد کو مخاطب بنایا اور قسمیں کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم کو ایک حالت پر ٹھہرنا نہیں ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر اور ایک کھنڈ سے دوسرے کھنڈ پر دنیوی نشیب و فراز اور چڑھائو اتار سے گزر کر موت تک پہنچنا ہے پھر عالم برزخ سے گزر کر میدان حشر ہے اور وہاں خدا جانے کتنے مختلف احوال سے گزرنا ہے۔ آخر میں دوزخ یا جنت آخری ٹھکانا بننا ہے یہی حالت شفق کی ہے کہ شروع شروع روشنی رہتی ہے پھر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے اور وہ سب جانداروں کو سمیٹ لیتی ہے جو سڑکیں دن میں انسانوں سے کچھا کھچ بھری رہتی ہیں وہ رات کو خالی پڑی رہتی ہیں جانور اپنے آشیانوں اور گھونسلوں میں گھس جاتے ہیں چان کی روشنی روز بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ چاند پورا ہوجاتا ہے۔ غرض جس طرح اس عالم میں مختلف حالات بدلتے رہتے ہیں اسی طرح تمام انسانوں کو مختلف حالات پیش آتے ہیں اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تم منتقل ہوتے رہتے ہو، گویا قاعدہ الٰہی یوں ہی جاری ہے۔ یہ مطلب ہے لترکبن طبقا عن طبق رات شروع ہوتی ہے شفق سے یوم آخرت شروع ہوتا ہے موت سے رات کو سب لوگ سوجاتے ہیں عالم برزخ کو بھی ایسا ہی سمجھو غرض اپنی حالات کے ذکر کو قسم کے ساتھ موکد فرمایا اور تنبیہہ کی کہ عالم آخرت کو فراموش نہ کرو اور اس کے لئے مستعد رہو۔ حضرت عارف شیرازی فرماتے ہیں۔ مرادر منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہردم جرس فریاد می دارد کہ بربندید محملہا حضرت عارف نے خوب فرمایا واقعی جنت اور دوزخ کی آخری قرار گاہ سے پہلے انسان کے لئے ٹکائو کہاں ؟