Surat ul Inshiqaaq

Surah: 84

Verse: 2

سورة الانشقاق

وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ۙ﴿۲﴾

And has responded to its Lord and was obligated [to do so]

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اوراسی کے لائق وہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا ... And listens to and obeys its Lord, meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement. ... وَحُقَّتْ and it must do so. meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says, وَإِذَا الاْإَرْضُ مُدَّتْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی اس کے یہ لائق ہے کہ سنے اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پر غالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] اَذنَ لَہ، کے معنی کسی کے حکم یا بات پر کان لگانا یا توجہ سے سننا تاکہ فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ واضح رہے کہ جن و انس کے سوا کائنات کی جملہ اشیاء اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کی تعمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ انہیں یہ اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ حکم کی سرتابی کرسکیں بالفاظ دیگر ان اشیاء کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آسمان کو پھٹ جانے کا حکم دیا جائے گا تو وہ بلا چون و چرا پھٹ جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واذ نت لربھا وحقت :)” اذنت “ (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔” حقت “” ھو حقیق بکذا او محقوق بکذا “ سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نئاب فاعل ” السمآئ “ کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا :” حقت “ ای جعلت حقیقۃ بالا ستمعاع والا نقیاد “ زمحشری نے فرمایا :” وھی حقیقۃ بان تنفاد ولا تمتنع “ زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان یہ ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۝ ٢ ۙ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ } ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “ اَذِنَتْ لِرَبِّہَاکا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Literally: "... and hears its Lord's Conmtand." However, according to Arabic usage adhina lahu dces not only mean: "He heard the Command but it means: "Hearing the Command he carried it out promptly like an obedient servant. "

سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :1 اصل میں اذنت لربھا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے لفظی معنی ہیں وہ اپنے رب کا حکم سنے گا ۔ لیکن عربی زبان میں محاورے کے طور پر اذن لہ کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ اس نے حکم سنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سر تابی نہ کی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(84:2) واذنت لربھا واؤ عاطفہ اذنت کا عطف انشقت پر ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ اذنت ماضی واحد مؤنث غائب اذن (باب سمع) مصدر۔ اذن لہ۔ سننا کان لگا کر سننا۔ اذن (باب سمع) مصدر سے۔ اذن لہ اجازت دینا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : الا من اذن لہ الرحمن (79:38) مگر جس کو (خدا) رحمن اجازت بخشے۔ آیت زیر مطالعہ میں اذنت اذن مصدر سے ہے اگرچہ باب و مادہ دونوں کا ایک ہی ہے۔ وحقت یہ اذنت کی ضمیر فاعل سے حال ہے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب حق (باب ضرب) مصدر سے حق علی واجب ہونا۔ لازم ہونا۔ حق لک ان تفعل تمہارے لئے اس کا کرنا موزون ہے۔ حقت وہ اسی لائق ہے۔ اس کے لئے حق یہی ہے (کہ سنے اور عمل کرے) ۔ ضحاک نے کہا کہ :۔ حقت ای حق لہا ان تطیع ربھا۔ اس کے لئے واجب ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کرے۔ یعنی جو اسے حکم دیا گیا بلا چوں و چرا بجا لائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی اس کا یہ پھٹنا اپنے مالک کے حکم سے ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یہاں حکم سے مراد انشقاق کا حکم تکوینی ہے اور ماننے سے مراد اس کا وقوع ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذنت ................ وحقت (2:84) ” اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ کہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرے۔ آسمان کی طرف سے ” اذن “ یعنی اعلان یا اجازت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ پھٹنے میں اللہ کے حکم کی تعمیل کرے گا اور حقت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے اوپر اللہ کا یہ حق واقع ہوگیا۔ اور اس نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے اور یہ بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ تسلیم اور اطاعت کا کہ یہ اللہ کا مسلمہ حق ہے آسمان پر۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اور اپنے پروردگار کا حکم سن لے اور وہ آسمان اسی لائق ہے یہ آسمان کا پھٹنا شاید اس وقت ہوگا جب بادلوں میں فرشتوں کا نزول ہوگا۔ جیسا کہ سورة فرقان میں ہے ہوسکتا ہے کہ یہ پھٹنا پہلے نفخہ کا پھٹنا ہو اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے نفخہ کے وقت پھٹنا واقع ہو بہرحال مطلب یہ ہے کہ جب حضرت حق جل مجدہ کا تکوینی حکم آسمان کا ہوگا تو وہ اسی وقت اس حکم کی تعمیل کریگا۔ پھر فرمایا کہ آسمان نے کان لگا رکھے ہیں کہ کب حکم ہو اور کب پھٹ جائو۔ اذنت کے معنی سمعت ہوتے ہیں چناچہ حکم ہوتے ہی پھٹ جائے گا اور آسمان کا مقہور اور مقدور ہونے کی وجہ سے لائق بھی یہی ہے کہ اپنے خالق وہ مالک کے حکم کے سامنے گردن جھکا دے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ آسمان کہکشاں کے مقام سے پھٹے گا۔ (واللہ اعلم)