Surat ul Aala

Surah: 87

Verse: 5

سورة الأعلى

فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحۡوٰی ؕ﴿۵﴾

And [then] makes it black stubble.

پھر اس نے اس کو ( سکھا کر ) سیاہ کوڑا کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And then makes it dark stubble. Ibn `Abbas said, "Dried up and altered." It has been narrated that Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd, all made similar statements. The Prophet does not forget the Revelation Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 گھاس خشک ہوجائے تو اسے غثاء کہتے ہیں، احوی سیاہ کردیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] مَرعٰی کا لغوی معنی چارہ ہے۔ یعنی جانوروں کی خوراک جو تازہ ہو یعنی گھاس وغیرہ تاہم اس کے وسیع معنوں میں تمام نباتات بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ ہی ہے جو زمین پر بہار اور موسم بہار لاتا ہے۔ پھر موسم خزاں بھی لاتا ہے۔ اور اس تازہ نباتات کے فالتو اجزا خس و خاشاک بن کر پاؤں کے نیچے مسلے جاتے ہیں۔ لہذا تم لوگوں کو اس دنیا کی بہار پر ہی فریفتہ نہ ہوجانا چاہئے اس پر خزاں بھی آسکتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَجَعَلَہٗ غُثَاۗءً اَحْوٰى۝ ٥ ۭ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ غثا الغُثَاءُ : غُثَاءُ السّيل والقدر، وهو ما يطفح ويتفرّق من النّبات الیابس، وزبد القدر، ويضرب به المثل فيما يضيع ويذهب غير معتدّ به، ويقال : غَثَا الوادي غَثْواً ، وغَثَتْ نفسُه تَغْثِي «4» غَثَيَاناً : خبثت . ( غ ث و ) الغثاء ہانڈی کے جھاگ اور اس کو ڑاکرکٹ کہتے ہیں جسے سیلاب بہا کر لاتا ہے اور یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے ( بوجہ بےسود ہونے کے ) ضائع ہونے دیا جائے اور اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی جائے ۔ اسی سے کہا جاتا ۔ غثا الوادی ( ن ) غثو ا یعنی وادی میں کوڑا کرکٹ زیادہ ہوگیا ۔ غثت ( ض ) نفسہ تغثی غثیانا اس کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ حوایا الحَوَايَا : جمع حَوِيَّة، وهي الأمعاء ويقال للکساء الذي يلفّ به السّنام : حويّة، وأصله من : حَوَيْتُ كذا حَيّاً وحَوَايَةً «قال اللہ تعالی: أَوِ الْحَوایا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ [ الأنعام/ 146] قوله عزّ وجلّ : فَجَعَلَهُ غُثاءً أَحْوى[ الأعلی/ 5] ، أي : شدید السّواد وذلک إشارة إلى الدّرين نحو : وطال حبس بالدّرين الأسود وقیل تقدیره : والّذي أخرج المرعی أحوی، فجعله غثاء، والحُوَّة : شدّة الخضرة، وقد احْوَوَى يَحْوَوِي احْوِوَاءً ، نحو ارعوی، وقیل ليس لهما نظیر، وحَوَى حُوَّةً ، ومنه : أَحْوَى وحَوَّاء ( ح و ی ) الحوایا ( انتڑیاں ) یہ حویۃ کی جمع ہے جس کے معنی آنت کے ہیں قرآن میں ہے ۔ أَوِ الْحَوایا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ [ الأنعام/ 146] یا انتڑیوں میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو ۔ اور حویۃ اس کمبل کو بھی کہتے ہیں جو اونٹ کی کوہان کے ارد گرد لپٹا جاتا ہے ۔ یہ اصل میں حویت ( ض ) حیا وحویۃ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں ۔ الاحویٰ کالا سیاہ مائل بہ سبزی یہ حوۃ سے مشتق ہے جس کے معنی سبزی مائل سیاہی ہیں اور اس کا باب احوویٰ یحوویٰ احوواء آتا ہے جیسے ادعویٰ بعض نے کہا ہے کہ اس وزن پر یہ دو باب ہی آتے ہیں ولا ثالث نھما حوی ہے جس کے معنی سخت سیاہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَهُ غُثاءً أَحْوى[ الأعلی/ 5] پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کردیا ۔ یہاں احویٰ سے مراد وہ گھا س جو پرانی بوسیدہ ہوکر سیاہ پڑجائے ۔ جس کے متعلق شاعر نے کہا ہے ع محبوس ہوں ۔ بعض نے کہا ہے کہ آیت کی ترتیب اصل یہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ سبز چارہ اگاتا ہے ہے پھر اس کو کوڑا بنا دیتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ فَجَعَلَہٗ غُثَآئً اَحْوٰی ۔ } ” پھر اس کو کردیا سیاہ چورا۔ “ یعنی اسی کے طے کردہ نظام کے تحت گھاس اور نباتات وغیرہ زمین سے اگتے ہیں اور پھر گل سڑ کر ختم ہوجاتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 That is, "He does not only bring about spring but autumn as well. You witness both the manifestations of this power. On the one side, He causes lush green vegetation to grow, the freshness of which pleases the hearts and, on the other, He renders the same vegetation pale, dry and black rubbish, which is blown about by winds and swept away by floods. Therefore, no one here should be involved in the misunderstanding that he will only experience spring and will never see autumn." This same theme has been expressed at several other places in the Qur'an in other ways. For example see Yunus: 24, Al-Kahf: 45, Al-Hadid; 20.

سورة الْاَعْلٰی حاشیہ نمبر :6 یعنی وہ صرف بہار ہی لانے والا نہیں ہے ، خزاں بھی لانے والا ہے ۔ تمہاری آنکھیں اس کی قدرت کے دونوں کرشمے دیکھ رہی ہیں ۔ ایک طرف وہ ایسی ہری بھری نباتات اگاتا ہے جن کی تازگی و شادابی دیکھ کر دل خوش ہو جاتے ہیں ، اور دوسری طرف اسی نباتات کو وہ زرد ، خشک اور سیاہ کر کے ایسا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور سیلاب خس و خاشاک کی صورت میں بہا لے جاتے ہیں ۔ اس لیے کسی کو بھی یہاں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ دنیا میں صرف بہار ہی دیکھے گا ، خزاں سے اس کو سابقہ پیش نہیں آئے گا ۔ یہی مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دوسرے انداز میں بیان ہوا ہے ۔ مثلاً ملاحظہ ہو سورہ یونس 24 ۔ سورہ کہف ، آیت 45 ۔ سورہ حدید ، آیت 20 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اشارہ اس طرف ہے کہ اس دُنیا میں ہر چیز اﷲ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ کچھ عرصے اپنی بہار دِکھانے کے بعد وہ بد شکل اور پھر فنا ہوجاتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(87:5) فجعلہ غثاء احوی : ف بمعنی پھر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع المرعی ہے۔ غثاء مفعول ثانی جعل کا۔ بمعنی سیلاب کا کوڑا اور جھاگ۔ ھو ما یقذف بہ السیل علی جانب الوادی من الحشیش والنبات : سیلاب کا کوڑا اور جھاگ، سوکھے سڑے گلے پتے۔ (روح المعانی) غ ث و۔ حروف مادہ غثا یغثوا (باب نصر) غثو مصدر۔ الغثاء ہانڈی کی جھاگ، اور وہ کوڑا کرکٹ جسے سیلاب بہا کر لائے ۔ یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے بوجہ بےسود ہونے کے ضائع ہونے دیا جائے۔ (المفردات) احوی ۔ غثاء کی صفت ہے۔ کالا سیاہ مائل بہ سبزی، سرخ مائل بہ سیاہی۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس (المرعی) کو کالا سیاہ مائل بہ سبزی کوڑا کرکٹ بنادیا۔ (اس میں مخلوق خصوصا حضرت انسان کی انتہا کی طرف کس عمدہ پیرایہ میں اشارہ ہے کہ جس سے غور کرنے والے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ (تفسیر حقانی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 تاکہ وہ دوسرے استعمالات میں آسکے اور اس کا ذخیرہ بھی کہا جاسکے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اول عام تصرفات مذکور ہیں، پھر حیوانات کے متعلق پھر نباتا کے متعلق۔ مطلب یہ کہ طاعات سے آخرت کا تہیہ کرنا چاہئے جہاں جزا و سزا ہونے والی ہے اور اسی طاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور آپ کو اس کی تبلیغ کا مامور فرمایا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ٠٠٥﴾ (پھر اسے سیاہ کوڑا بنا دیا) یعنی زمین سے جو چارہ نکلتا ہے اس میں سے بہت سا تو مویشی کھالیتے ہیں اور بچا کھچا جو رہ جاتا ہے وہ کوڑا کرکٹ بن جاتا ہے جو پڑے پڑے کالا ہوجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) پھر اس کو خشک و سیاہ کوڑا کردیا اس پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے جو سب سے بلند وبالا ہے نام سے مراد یا تو حضرت حق مجدہ کی ذات مراد ہے جیسا کہ عرب کا قاعدہ ہے اور اکثر مفسرین نے یہی معنی کئے ہیں کہ اس کی ذات کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک اور منزہ سمجھئے اور مسلمانوں کو بھی اس کی ہدایت فرمائیے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو منزہ سمجھیں اور اس کی تسبیح و تقدیس بیان کریں۔ چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اجعلوھافی سجودکم یعنی سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرو جیسا کہ رکوع میں سبحان ربی العظیم کہنے کا حکم دیا اور اگر یہاں اسم سے ذات مراد نہ لی جائے تب بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کے نام کو شرک کی آلودگی اور بتوں کے نام کی نجاست سے پاک اور منزہ رکھیے جس نے ہرچیز کو بنایا پھر ٹھیک بنایا یعنی ہر جاندار کو اس کے مناسب اور معتدل اعضاء عطا فرمائے اور جس نے جانداروں کے لئے مناسب چیزوں کا اندازہ لگایا پھر ان کو راہ بتائی یعنی ہر جاندار کے لئے ایک خاص قسم کا رزق تجویز کیا اور اس کے حاصل کرنے کا راستہ بتایا یا رحم کی مدت مقرر کی پھر باہر نکلنے کا راستہ بتایا یا سعادت و شقاوت کا اندازہ لگایا پھر ہر ایک کو اس تجویز کے موافق راستہ دکھایا اور ہر حیوان کے لئے وہ چیز مقرر کی جس کا وہ محتاج ہے پھر ان حیوانات کی اس چیز کے لئے رہنمائی فرمائی یا ہر شخص کے لئے کمال اور ترقی کا ایک اندازہ لگایا پھر اس کے حصول کی راہ بتائی غرض بہت سے معنی مفسرین نے کئے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ قدرت ہرچیز کے لئے جو اندازہ اور جو تجویز کرتی ہے اس کے حصول کی راہ بتادیتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اول تقدیر لکھی پھر اس کے موافق دنیا میں لایا۔ اسی سلسلے میں فرمایا وہ پروردگار وہ ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے وہ چیزیں پیدا کیں جو جانور اور چوپائے چرتے ہیں یعنی جانوروں کے لئے چارہ نکالا پھر سردی اور گرمی کے اثرات سے اس کی رطوبت کو خشک کردیا اور وہ سبزی خشک ہوکر سیاہ ہوگئی جیسا کہ سبز رنگ کا قاعدہ ہے۔ بہرحال حضرت حق تعالیٰ کی الوہیت اور ان کے وجود پر استدلال کا یہ طریقہ ملت ابراہیمی میں رائج ہے امام فخرالدین رازی (رح) نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے فرمایا۔ الذی خلقنی فھو یھدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے جواب میں کہا ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھداٰ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا والذی قدر فھدیٰ اور یہ جو فرمایا فجعلہ غثاء احویٰ ۔ اس کے متعلق بعض اہل اشارات نے فرمایا ہے کہ اس میں اس عالم کی بےثباتی اور دنیوی زندگی کی ناپائیداری کو ظاہر فرمایا کہ جس طرح سبز چارے کو خشک کردیتا ہے اسی طرح دنیوی تنعمات اور یہاں کی ہری بھری زندگی کو ختم کردیتا ہے۔ غثا اس کوڑے کو کہتے ہیں جو سیلاب کے زمانہ میں پانی کے اوپر بہتا ہے اور پانی کے جذب ہوجانے کے بعد ہوا میں اڑتا پھرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ جانوروں کے چارے کو خشک کردیتا ہے تاکہ تم اس کو ذخیرہ کرسکو جیسا کہ سوکھی ہوئی گھاس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اور لاکھوں گانٹھیں ادھر سے ادھر بھیجی جاتی ہیں۔