Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 114

سورة التوبة

وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾

And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah , he disassociated himself from him. Indeed was Abraham compassionate and patient.

اور ابراہیم ( علیہ السلام ) کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت مانگنا وہ صرف وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے ان سے وعدہ کر لیا تھا ۔ پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہوگئے ، و اقعی ابراہیم ( علیہ السلام ) بڑے نرم دل اور بردبار تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لاَِبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ ... And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only because of a promise he (Ibrahim) had made to him (his father)." Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn Abbas commented on this Ayah, "They used to invoke Allah for them (pagans) until this Ayah was revealed. They then refrained from invoking Allah to forgive the dead among them, but were not stopped from invoking Allah for the living among them until they die. Allah sent this Ayah, وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لاَِبِيهِ (And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only...)." Allah said next, ... فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ... But when it became clear to him (Ibrahim) that he (his father) is an enemy of Allah, he dissociated himself from him. Ibn Abbas commented, "Ibrahim kept asking Allah to forgive his father until he died, when he realized that he died as an enemy to Allah, he disassociated himself from him." In another narration, he said, "When his father died he realized that he died as an enemy of Allah." Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and several others. Ubayd bin `Umayr and Sa`id bin Jubayr said, "Ibrahim will disown his father on the Day of Resurrection, but he will meet his father and see dust and fatigue on his face. He will say, `O Ibrahim! I disobeyed you, but today, I will not disobey you.' Ibrahim will say, `O Lord! You promised me that You will not disgrace me on the Day they are resurrected. What more disgrace than witnessing my father being disgraced!' He will be told, `Look behind you,' where he will see a bloody hyena -- for his father will have been transformed into that -- and it will be dragged from its feet and thrown in the Fire."' Allah's statement, ... إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لاوَّاهٌ حَلِيمٌ Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing. According to Abdullah bin Mas`ud, means, he invoked Allah always, Several narrations report this from Ibn Mas`ud. It was also said that, `Awwah', means, `who invokes Allah with humility', `merciful', `who believes with certainty', `who praises (Allah)', and so forth.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

114۔ 1 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی جب یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے اور جہنمی ہے تو انہوں نے اس سے اظہار نجات کردیا اور اس کے بعد مغفرت کی دعا نہیں کی۔ 144۔ 2 اور ابتداء میں باپ کے لئے مغفرت کی دعا بھی اپنے اسی مزاج کی نرمی اور حلیمی کی وجہ سے کی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٠] سیدنا ابراہیم کے باپ آزر کا انجام :۔ یعنی جب سیدنا ابراہیم کے باپ آزر نے ان سے کہا تھا کہ یہاں سے نکل جاؤ اور میری آنکھوں سے دور ہوجاؤ ورنہ میں تمہیں سنگسار کر دوں گا (١٩ : ٤٧) تو اس وقت آپ نے باپ سے کہا تھا : تم سلامت رہو میں جا رہا ہوں البتہ تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں کہ میں تمہیں اللہ کی گرفت سے بچا سکوں (٦٠ : ٤) چناچہ اسی وعدہ کے مطابق آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اے اللہ ! میرے باپ کو معاف فرما دے کیونکہ وہ گمراہوں سے ہے اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے (٢٦ : ٨٦، ٨٧) پھر جب سیدنا ابراہیم کو معلوم ہوگیا کہ وہ راہ راست کی طرف آنے والا نہیں۔ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اپنی بےزاری کا اظہار کردیا۔ اور جو دعا آپ نے اپنے حق میں کی تھی کہ && مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && ابراہیم قیامت کے دن اپنے والد آزر کو دیکھیں گے کہ ان کے منہ پر سیاہی اور گرد و غبار ہوگا۔ آپ اس سے کہیں گے میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا۔ آپ کا باپ کہے گا && آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا && اس وقت سیدنا ابراہیم عرض کریں گے && پروردگار ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں قیامت کے دن تجھے رسوا نہ کروں گا۔ اور اس سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوسکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے۔ && اللہ تعالیٰ فرمائیں گے && میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ && پھر کہا جائے گا && ابراہیم ذرا اپنے پاؤں تلے تو دیکھو۔ && اسی وقت انہیں باپ کی جگہ ایک نجاست سے لتھڑا ہوا بجو نظر آئے گا۔ فرشتے اس کے پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیں گے۔ (بخاری کتاب الانبیاء۔ باب (وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا ١٢٥۔ ) 4 ۔ النسآء :125) گویا اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم کے لیے رسوائی کو اس طرح دور کیا کہ ان کے باپ کی شکل ہی بدل دی اور رسوائی کا دار و مدار تو شناخت پر ہے۔ جب یہ شناخت ہی نہ رہے کہ کیا چیزدوزخ میں پھینکی گئی تو پھر کسی کی رسوائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ [١٣١] اواہ کے معنی آہیں بھرنے والا، آہ وزاری کرنے والا، بہت دعائیں کرنے والا۔ رقیق القلب اور نرم دل سب کچھ آتے ہیں۔ ان کی نرم دلی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ باپ تو کہہ رہا ہے کہ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ تمہیں رجم کر دوں گا اور آپ اس کو جواب دیتے ہیں کہ میں تو جا رہا ہوں تم سلامت رہو اور میں تمہارے لیے اپنے رب سے معافی بھی مانگوں گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ : علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کر رہا تھا، جب کہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا تم ان کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہو جب کہ وہ مشرک تھے، تو اس نے کہا، کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا تھا ؟ چناچہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی : (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ )” اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ ہے جو اس نے اس سے کیا تھا۔ “ [ نسائی، الجنائز، باب النہی عن الاستغفار للمشرکین : ٢٠٣٨، و حسنہ الألبانی ] ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب اس نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ دیکھیے سورة مریم (٤٧) چناچہ حسب وعدہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ دیکھیے سورة شعراء (٨٦) قیامت کو بھی سفارش کریں گے کہ یا اللہ ! میرے باپ کے جہنم میں ہونے سے زیادہ میری کیا رسوائی ہے تو حکم ہوگا کہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھو، دیکھیں گے تو ان کے والد کی شکل گندگی میں آلودہ بجو کی بنادی جائے گی اور فرشتے اسے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیں گے کہ نہ کوئی اسے پہچانے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا والد ہے اور نہ ان کی رسوائی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو رسوائی سے بچا لیا مگر مشرک کو جہنم سے نہیں بچایا۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( واتخذ اللہ إبراھیم خلیلا ۔۔ ) : ٣٣٥٠ ] فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ : یعنی قیامت کے دن سفارش کے بعد اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر جب انھیں اپنے والد کا ابدی جہنمی، شرف انسانیت سے محروم اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہونا خوب واضح ہوگیا تو وہ اس سے بری اور لاتعلق ہوگئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خلیل اپنے خلیل کے دشمن سے دوستی یا تعلق کیسے رکھ سکتا ہے، چناچہ ان کے دل میں جو تعلق باقی تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔ اگر کسی کا کوئی کافر رشتے دار یا دوست فوت ہوجائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا۔ (ابن کثیر) اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ : ” لَاَوَّاهٌ“ کا معنی بہت آہ، آہ کہنے والا ہے اور یہ دل کی نرمی کی علامت ہے، یعنی وہ اللہ کے حضور بہت آہیں بھرنے والے، بڑے حلم والے تھے۔ یہ ابتدا میں اپنے والد کے حق میں ان کی نرمی اور استغفار کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تھے ہی ایسے کہ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو اسے نرمی سے جواب دیتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This put some Muslims into doubt. Was it not, they thought, that Sayyidna Ibrahim (رض) too had prayed for his disbelieving father? To answer it, the second verse (114) was revealed: مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ‌ إِبْرَ‌اهِيمَ. In gist, it means: As for the prayer made by Sayyidna Ibrahim (رض) for his father, it was conditioned by circumstances. In the beginning, Sayyidna Ibrahim (رض) did not know that he would keep on sticking to his disbelief right through the end and would die a disbeliever. In other words, his going to Hell was not certain. That was the time when he had made the promise that he would pray for his forgiveness: سَأَسْتَغْفِرُ‌ لَكَ رَ‌بِّي (I shall ask my Lord to forgive you - Maryam 19:47). Later, when it be-came clear to Sayyidna Ibrahim (رض) that he was an enemy of Al¬lah, that is, he had remained a disbeliever right through the end, he elected to become indifferent to him and stopped asking pardon for him. With regard to the mention of Sayyidna Ibrahim (رض) praying for the forgiveness of his father at different places in the Qur&an, it should all be taken in that sense, whereby it would mean that Allah may give him the taufiq of &Iman and Islam so that he could be forgiven. When the disbelievers inflicted a wound on the blessed face of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم during the battle of Uhud, he was seen wiping blood from his face and praying: اللَّھُمَّ اغفِرلِقَومِی اِنَّھُم لَا یَعلَمُونَ ( O Allah, forgive my people. They do not know). The object of this prayer of forgive¬ness for the disbelievers is no other but that Allah may bless them with the taufiq of &Iman and Islam so that they could become deserving of being forgiven. Imam al-Qurtubi said, ` this proves that it is permissible to pray for the forgiveness of a living kafir with the intention that this disbeliev¬ing person may have the taufiq of &Iman and become deserving of forgiveness.& In the last sentence of the verse (114), it was said: إِنَّ ِبْرَ‌اهِيمَ حَلِيمٌ (Surely, Ibrahim is oft sighing [ before Allah ], forbearing). The word: اوَّاه awwah) is used for a host of meanings. Al-Qurtubi has reported fifteen meanings of this word but they are all close to each other without any real difference between them. Some of these are: one who sighs a lot, or one who supplicates profusely, or one who is full of mercy for the servants of Allah. This (last) meaning is reported from Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) .

اس پر بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے کافر باپ کے لئے دعا کی تھی، اس کے جواب میں دوسری آیت نازل ہوئی (آیت) مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ الایة، جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے والد کے لئے دعا کی تھی اس کا معاملہ یہ ہے کہ شروع میں جب تک ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہ تھا کہ آخر تک کفر ہی پر قائم رہے گا، اسی پر مرے گا، تو اس کا دوزخی ہونا یقینی نہیں تھا، اس وقت انہوں نے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعا مغفرت کروں گا، سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے یعنی کفر ہی پر اس کا خاتمہ ہوا ہے تو اس سے بےتعلقی اختیار کرلی اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ قرآن مجید کے مختلف مواقع میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لئے دعا مغفرت کرنا منقول ہے وہ سب اسی پر محمول ہونا چاہئے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق دے تاکہ ان کی مغفرت ہو سکے۔ غزوہ احد میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کو کفار نے زخمی کردیا تو آپ چہرہ سے خون صاف کرتے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے |" اللھم اغفر لقومی انھم لا یعلمون |" یعنی یا اللہ میری قوم کی مغفرت فرما دے وہ نادان ہیں، کفار کے لئے اس دعا مغفرت کا حاصل بھی یہی ہے کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق عطا فرمادے کہ یہ مغفرت کے قابل ہوجائیں۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے ثابت ہوا کہ زندہ کافر کے لئے اس نیت سے دعا مغفرت کرنا جائز ہے کہ اس کو ایمان کی توفیق ہو اور یہ مستحق مغفرت ہوجائے۔ (آیت) اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ، لفظ اواہ بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے قرطبی نے اس میں پندرہ قول نقل کئے ہیں، مگر سب معانی متقاربہ ہیں، کوئی اختلاف حقیقی نہیں، ان میں سے چند معانی یہ ہیں، بکثرت آہ کرنے والا، یا بکثرت دعا کرنے والا، اللہ کے بندوں پر رحم کرنے والا، حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہی معنی منقول ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝ ٠ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝ ٠ ۭ اِنَّ اِبْرٰہِيْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِيْمٌ۝ ١١٤ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ أوَّه الأَوَّاه : الذي يكثر التأوّه، وهو أن يقول : أَوَّه أَوَّه، وکل کلام يدل علی حزن يقال له : التَّأَوُّه، ويعبّر بالأوّاه عمّن يظهر خشية اللہ تعالی، وقیل في قوله تعالی: أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] أي : المؤمن الداعي، وأصله راجع إلى ما تقدّم . قال أبو العباس رحمه اللہ : يقال : إيها : إذا کففته، وويها : إذا أغریته، وواها : إذا تعجّبت منه . ( ا و ہ ) الاواہ ۔ وہ شخص جو بہت زیادہ تاوہ کرتا ہو اور تاؤہ کے معنی ہیں حزن وغم ظاہر کرنے کے لئے آوہ زبان پر لانا اور ہر وہ کلمہ جس سے تاسف اور حزن کا اظہار ہوتا ہو اسے تاوہ سے تعبیر کرلیتے ہیں لہذا اواہ کا لفظ ہر اس شخص پر بولاجاتا ہے جو خشیت الہی کا بہت زیادہ اظہار کرنیوالا ہو ۔ اور آیت کریمہ :۔ { أَوَّاهٌ مُنِيبٌ } ( سورة هود 75) کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ ( حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ) مومن اور بہت زیادہہ دعا کرنے والے تھے مآں کے اعتبار سے یہ معنی بھی ماتقدم کی طرف راجع ہے ۔ ابوالعباس فرماتے ہیں کہ کام کے روکنے کے لئے کلمہ ، ، ایھا ، ، اور ترغیب دینے کے لئے وبھا کہا جاتا ہے اور اظہار تعجب کے لئے داھا کہتے ہیں ۔ حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل وقد حَلُمَ وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٤) اور باقی رہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دعا کرنا تو وہ اسلام لانے کے وعدہ کی وجہ سے تھا، پھر جب ان کے والد کافر ہو کر فوت ہوئے تو وہ اپنے والد اور ان کے دین سے محض بےتعلق ہوگئے، واقعی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بہت دعا فرمانے والے حلیم الطبع تھے۔ یا یہ رحیم المزاج یا یہ کہ سردار یا یہ کہ آہ وزاری کرنے والے یا یہ کہ آگ میں داخل ہونے سے پہلے آگ سے پناہ چاہی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٤ (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ الاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُ ج) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نے آپ ( علیہ السلام) کو گھر سے نکالا تھا تو جاتے ہوئے آپ ( علیہ السلام) نے یہ وعدہ کیا تھا ‘ اس وعدے کا ذکر سورة مریم میں اس طرح کیا گیا ہے : (سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْط اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ) میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش کی درخواست کروں گا ‘ بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے (فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُط اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وعدے کے مطابق اپنے والد کی زندگی میں اس کے لیے دعا کرتے رہے کہ جب تک وہ زندہ تھا تو امید تھی کہ شایدا للہ تعالیٰ اسے ہدایت کی توفیق دے دے ‘ لیکن جب اس کی موت واقع ہوگئی تو آپ ( علیہ السلام) نے استغفار بند کردیا کہ زندگی میں جب وہ کفر پر ہی اڑا رہا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوگئی تو ثابت ہوگیا کہ اب اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :112 اشارہ ہے اس بات کی طرف جو اپنے مشرک باپ سے تعلقات منقطع کرتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ نے کہی تھی کہ سَلَامٌ عَلَیْکَ سَاَ سْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّاo ( مریم ۔ آیت ٤۷ ) ” آپ کو سلام ہے ، میں آپ کے لیے اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے ، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے“ ۔ اور لَاَ سْتَغْفِرَ نَّ لَکَ وَمَا اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ مِنْ شَیْ ءٍ ( الممتحنہ آیت ٤ ) ” میں آپ کے لیے معافی ضرور چاہوں گا ، اور میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے کہ آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچوا لوں“ ۔ چنانچہ اسی وعدے کی بنا پر ابراہیم علیہ وسلم نے اپنے باپ کے لیے یہ دُعا مانگی تھی کہ : وَاغْفِرْ لِاَ بِیْ اِنَّہ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَo وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ o یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ o اِلَّا مَنْ اَتَی اللہ َ بَقَلْبٍ سَلِیْمٍ o ( الشعراء آیات ۸٦ تا ۸۹ ) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے ، بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے تھا ، اور اس دن مجھے رسوا نہ کر جبکہ سب انسان اٹھائے جائیں گے ، جبکہ نہ مال کسی کے کچھ کام آئے گا نہ اولاد ، نجات صرف وہ پائے گا جو اپنے خدا کے حضور بغاوت سے پاک دل لے کر حاضر ہوا ہو“ ۔ یہ دعا اول تو خود انتہائی محتاط لہجے میں تھی ۔ مگر اس کے بعد جب حضرت ابراہیم کی نظر اس طرف گئی کہ میں جس شخص کے لیے دعا کر رہا ہوں وہ تو خدا کا کھلم کھلا باغی تھا ، اور اس کے دین سے سخت دشمنی رکھتا تھا ، تو وہ اس سے بھی باز آگئے اور ایک سچے وفادار مومن کی طرح انہوں نے باغی کی ہمدردی سے صاف صاف تبری کر دی ، اگرچہ وہ باغی ان کا باپ تھا جس نے کبھی محبت سے ان کو پالا پوسا تھا ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :113 متن میں اَوَّاہٌ اور حَلِیْمٌ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ اَوَّاہٌ کے معنی ہیں بہت آہیں بھرنے والا ، زاری کرنے والا ، ڈرنے والا ، حسرت کرنے والا ۔ اور حلیم اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے مزاج پر قابو رکھتا ہو ، نہ غصے اور دشمنی اور مخالفت میں آپے سے باہر ہو ، نہ محبت اور دوستی اور تعلق خاطر میں حد اعتدال سے تجاوز کر جائے ۔ یہ دونوں لفظ اس مقام پر دوہرے معنی دے رہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کی کیونکہ وہ نہایت رقیق القلب آدمی تھے ، اس خیال سے کانپ اٹھے تھے کہ میرا یہ باپ جہنم کا ایندھن بن جائے گا ۔ اور حلیم تھے ، اس ظلم و ستم کے باوجود جو ان کے باپ نے اسلام سے ان کو روکنے کے لیے ان پر ڈھایا تھا ۔ ان کی زبان اس کے حق میں دعا ہی کے لیے کھلی ۔ پھر انہوں نے یہ دیکھ کر کہ ان کا باپ خدا کا دشمن ہے اس سے تبری کی ، کیونکہ وہ خدا سے ڈرنے والے انسان تھے اور کسی کی محبت میں حد سے تجاوز کر نے والے نہ تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

89: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد سے استغفار کا وعدہ کرنا سورۂ مریم (۱۹:۴۷) اور سورۂ ممتحنہ (۶۰:۴) میں اور اس وعدے کے مطابق استغفار کرنا سورۂ شعراء (۲۶:۸۶) میں مذکور ہے۔ 90: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا انتقال کفر ہی کی حالت میں ہوگا، اور وہ آخر وقت تک اﷲ تعالیٰ کے دُشمن بنے رہیں گے تو انہوں نے استغفار کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس سے علمائے کرام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی کافر کے لئے اس نیت سے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے کہ اسے ایمان لانے کی توفیق ہوجائے، اور اس طرح اس کی مغفرت ہوجائے، لیکن جس شخص کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اس کی موت کفر پر ہوئی ہے، اس کے لئے مغفرت کی دعا جائز نہیں ہے۔ 91: یہ قرآنِ کریم کے لفظ ’’اواہٌ‘‘ کا ٹھیٹھ ترجمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے نرم دل اور رقیق القلب تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی فکر میں وہ آہیں بھرتے تھے اور ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب وہ اس سے جدا ہو کر بغرض ہجرت اپنے وطن سے نکلے تھے (دیکھیے سورة مریم آیت 47) چناچہ حسب وعدہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی بھی۔ (دیکھیے شعرا آیت 42) مگر یہ اس وقت تک کی کیفیت کا ذکر ہے جب تک انہیں امید تھی کہ ان کا باپ شرک سے توبہ کر کے مسلمان ہوجائیگا آخر مایوس ہونے کے بعد برأت کا اعلان فرما دیا۔ (کبیر) اگر کوئی کافر فرشتے دار فوت ہوجائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہوسکتا ہے مگر اس کے لئے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا۔ (از ابن کثیر)7 یا خدا کے حضور بہت آہیں بھرنے والے اور حلیم تھے کہ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو آپ نرمی سے جواب دیتے۔ (از ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کے حق میں دعا نہ کرنے کی ٹھوس دلیل اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت۔ یہودو نصارٰی اور عربوں میں یہ بات معروف تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد دین حنیف پر نہیں تھے اس کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے استغفار کی دعا کی تھی۔ جس کی اس طرح وضاحت کی جارہی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اس کے حق میں استغفار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی خیر خواہ، نرم خو اور مہربان طبیعت کے مالک اور بڑے حوصلہ مند، حلیم الطبع تھے۔ جس بنا پر انھوں نے اپنے باپ کی زیادتیوں کے باوجود از راہ ہمدردی اور پدرانہ آداب کے تحت وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کے لیے دعائے مغفرت کروں گا۔ قرآن مجید اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) پر واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے سورة الممتحنہ آیت ٤ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ لوگو ! تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) بہترین نمونہ ہیں لیکن ان کا اپنے باپ کے ساتھ استغفار کرنے کا وعدہ کرنا تمہارے لیے دلیل اور نمونہ نہیں ہوسکتا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو عدواً للہ قرار دیا گیا ہے جس کا صاف معنیٰ ہے کہ مشرک اللہ کا دشمن ہوتا ہے اور کسی مومن کا یہ عقیدہ اور اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کرسکتی کہ وہ اللہ کے دشمن کی سفارش اللہ کے سامنے پیش کرے یہ عقل حیا اور دینی غیرت کے منافی بات ہے اس لیے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مسلمانوں کو مشرک کے حق میں استغفار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا انجام : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَلْقٰی اِبْرَاھِیْمُ اَبَاہُ اٰزَرَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ اٰزَرَ قَتَرَۃٌ وَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ اِ بْرَاھِیْمُ اَلَمْ اَقُلْ لَّکَ لَاتَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ لَہٗ اَبُوْہُ اَ لْیَوْ مَ لَا اَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ اِبْرَاھِیْمُ یَارَبِّ اِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ اَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَاَیُّ خِزْیٍ اَخْزٰی مِنْ اَبِیْ الْاَبْعَدِ فَََیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنِّی حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ لِاِبْرَاھِیْمَ اُنْظُرْ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَاِذَاھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍٍ فَیُؤْخَذُبِقَوَاءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِیْ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : باب قول اللہ (واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے۔ کیا میں نے تمہیں دنیا میں نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا ؟ ان کے والد جواب دیں گے آج کے دن میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس پر ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے حضور عرض کریں گے اے میرے پروردگار ! بیشک آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ حشر کے دن آپ مجھ کو رسوا نہیں کریں گے اب اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ میرا باپ ذلیل ہواجا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ‘ بلا شبہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا جائے گا اپنے قدموں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے تو آپ کا باپ گندگی میں لتھڑا ہوا بجو ہوگا ‘ جس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ کی بنیاد پر اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی۔ ٢۔ مشرک اللہ کا دشمن ہوتا ہے۔ ٣۔ عقیدہ توحید کے ساتھ دشمنی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے براءت کا اعلان کیا۔ ٤۔ حضرت ابراہیم نہایت نرم دل انسان تھے۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : ١۔ ابراہیم نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ : ١١٤) ٢۔ ابراہیم نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : ٤١) ٣۔ بیشک ابراہیم بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : ٧٥) ٤۔ ابراہیم ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصٰفت : ١١١) ٥۔ ابراہیم معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : ٤) ٦۔ ابراہیم کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : ٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت ابراہیم ہیں اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم کا باپ (ہم نے ترجمہ اسی قول کے موافق کیا ہے (یعنی حضرت ابراہیم نے باپ کے مسلمان ہوجانے کی امید میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ اس تفسیر کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبِرٰھِیْمَ ....... لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَتک۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے مگر حضرت ابراہیم نے جو باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی اس کو عمومی حکم اتباع سے مستثنیٰ کردیا ‘ یعنی اس میں حضرت ابراہیم کی پیروی نہ کی جائے۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ مشرک تھا اور باوجود اس کے مشرک ہونے کے محض اس کے مسلمان ہوجانے کی امید پر حضرت ابراہیم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : اولاد آدم (علیہ السلام) کے جتنے قرون (صدیاں) گذرے ان سب میں سے بہترین دور میں میں مبعوث ہوا (یعنی میرے آباؤ اجداد بہترین قرون میں قرن در قرن گذرتے گئے۔ آخری قرن جو سب سے بہتر قرن ہے ‘ میری بعثت کا قرن ہے) اس حدیث کے صحیح ہوتے ہوئے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے سلسلۂ آباؤ اجداد میں کوئی کافر گذرا ہے۔ فلما تبین لہ ان عدو اللہ تبرا منہ (باپ کے کفر کی حالت پر مرنے سے یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملنے کی وجہ سے کہ وہ کافر مرے گا) جب حضرت ابراہیم پر کھل گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے باپ سے بیزار ہوجانے کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت قطع کردی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت سے ہے ‘ یعنی آخرت میں جب حضرت ابراہیم پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوجائیں گے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی ملاقات ان کے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ اس وقت دھنوالا ‘ پژمردہ ‘ خاک آلود ہوگا۔ حضرت ابراہیم اس سے کہیں گے : کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری ہدایت کے خلاف نہ کر۔ باپ جواب دے گا : آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (بارگاہ الٰہی میں) عرض کریں گے : اے میرے مالک ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی جو میرے باپ کی حالت ہے۔ اللہ فرمائے گا : میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے۔ پھر حکم ہوگا : ابراہیم ! اپنے قدموں کے نیچے دیکھو۔ حضرت ابراہیم اپنے قدموں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو (گندگی یا کیچڑ میں) لتھڑا ہوا ایک پشمی بجو نظر آئے گا ‘ پھر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ان ابرھیم لاواہ حلیم۔ واقعی ابراہیم رحیم المزاج ‘ حلیم الطبع تھے۔ حضرت کعب احبار نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں کھینچے (آہ آہ کرے) حضرت ابراہیم اپنی زندگی میں دوزخ کے خوف سے بکثرت آہیں بھرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ گناہوں کی وجہ سے آہیں بھرنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے۔ مآل اور حاصل دونوں قولوں کا ایک ہی ہے (کہ بکثرت آہیں کھینچنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے ‘ خواہ اللہ کے خوف اور دوزخ کے ڈر سے ہو یا اپنے گناہوں کے اندیشہ سے۔ عطاء نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص ہے جو دوزخ سے ڈرتا ہو اور جو امور اللہ کو پسند نہیں ‘ ان سے تائب ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بکثرت دعا کرنے والا۔ حضرت ابن عباس نے تشریح کی : مؤمن بکثرت توبہ کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر شفت و مہربانی کرے۔ مجاہد نے کہا : صاحب یقین مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ لفظ حبشی زبان کا ہے ‘ حبشی زبان میں اوَّاہٌ کا معنی ہے یقین رکھنے والا۔ عقبہ بن عامر نے کہا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک بہت زیادہ سیاحت کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ ایک روایت میں حضرت سعید بن جبیر کا قول آیا ہے کہ اوَّاہٌ سے مراد ہے معلم خیر۔ نخعی نے کہا : اوَّاہٌ کا معنی ہے دانشمند۔ قاموس میں ہے : اوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا دعا کرنے والا ‘ یا مہربانی کرنے والا ‘ یا دانشمند ‘ یا ایمان رکھنے والا۔ یہ آخری معنی حبشی زبان میں ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص مراد ہے جو خوف سے آہ آہ کرنے والا ‘ یقین کی وجہ سے گڑگڑانے والا اور طاعت کا التزام کرنے والا ہو۔ زجاج نے کہا : ابوعبیدہ کا قول ان تمام معانی کو جامع ہے جو اوَّاہٌ کے بیان کئے جاتے ہیں۔ حلیم کا معنی ہے دوسروں کی ضرر رساں حرکتوں سے درگذر کرنے والا (بردبار) حضرت ابراہیم حلیم تھے ‘ باوجودیکہ باپ نے ان سے کہا تھا کہ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا ‘ لیکن حضرت ابراہیم نے فرمایا : آپ کو (دوزخ سے) سلامتی نصیب ہو ‘ میں اپنے رب سے آپ کیلئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حلیم کا معنی ہے سردار۔ قاموس میں ہے : حلم کا معنی ہے تحمل اور دانائی۔ حلیم (صفت مشبہ کا صیغہ) حلم سے ہی بنا ہے۔ حضرت ابراہیم کو جس بات نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر آمادہ کیا اس (علت استغفار) کو یہ جملہ واضح کر رہا ہے (یعنی حضرت ابراہیم اواہ و حلیم تھے ‘ اسلئے انہوں نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کی) مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ کچھ لوگ (اپنے اپنے قبائل سے) خدمت گرامی میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی ‘ نہ بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبے کی طرف رخ موڑنے کا حکم نازل ہوا تھا۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسی حالت میں اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حرمت شراب اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا ‘ مگر ان کو اس کی اطلاع نہیں پہنچی۔ کچھ مدت کے بعد جب پھر مدینہ آئے اور شراب کی حرمت اور تحویل قبلہ کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! آپ جس دین پر تھے (اس درمیانی مدت میں) ہمارا مسلک اس سے الگ رہا۔ ہم اس مدت میں شرابیں پیتے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے (اسلئے) ہم گمراہ رہے (اب ہمارا کیا ہوگا) اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لیے استغفار کرنا پھر اس سے بیزار ہونا : مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت بیان فرمانے کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ ) (الآیۃ) (اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنے باپ سے ایک وعدہ کرلیا تھا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو ایمان کی دعوت دی، توحید کی طرف بلایا۔ بت پرستی چھوڑنے کے لیے کہا اس نے نہ مانا۔ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تو اپنی بات سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا (سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا) (سورۃ مریم رکوع ٣) (اب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی درخواست کروں گا بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) اس وعدہ کے مطابق انہوں نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا۔ جیسا کہ سورة شعراء میں مذکور ہے۔ (وَاغْفِرْ لِاَبِیْ اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) (اور میرے باپ کو بخش دیجیے، بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا) سورة توبہ کی مذکورہ بالا آیت میں اسی کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ) کہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس کی طرف سے بیزار ہوگئے۔ صاحب روح المعانی حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر واضح ہوگیا کہ ان کے باپ کی موت کفر پر ہوچکی ہے۔ لہٰذا انہوں نے بیزاری کا اظہار کردیا اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ اگر (تَبَیَّنَ لَہٗٓ) کا مطلب یہ لیا جائے جو حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے تو سورة شعراء میں جو (کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے باپ کو بخش دیجیے جو گمراہوں میں سے ہے۔ کَان اپنے معروف معنی میں نہ ہوگا۔ اور چونکہ کافروں کی مغفرت نہیں ہوسکتی اس لیے دعائے مغفرت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے اور اس کو بخش دے۔ اس صورت میں یوں کہا جائے گا کہ یہ دعا باپ کی موت سے پہلے کی تھی۔ بعض حضرات نے (فَلَمَّا تَبَیَّنَ ) کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کی دشمنی پر اور اللہ پر ایمان نہ لانے کا موت آنے تک برابرمصر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اس بات کی وحی آگئی تو انہوں نے بیزاری اختیار کرلی (کما ذکرہ فی الروح) اس صورت میں سورة شعراء میں جو (اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) ہے اس کا معنی یہ لیا جائے گا کہ جب میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا ہوں اس وقت میرا باپ گمراہوں میں سے تھا اب مجھے اس کا حال معلوم نہیں۔ ایمان کی توفیق دے کر اسے بخش دیا جائے۔ پھر جب وحی کے ذریعہ یہ معلوم ہوگیا کہ وہ کفر ہی پر مرے گا تو استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ بہر حال اب کسی کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ہے۔ سورة ممتحنہ میں جو (اِِلَّا قَوْلَ اِِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ لاََسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ) فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم اور ان کے ساتھی جو توحید اور اعمال میں ان کے شریک حال تھے ان میں تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہے سوائے اس بات کے جو ابراہیم نے اپنے باپ سے استغفار کرنے کا وعدہ کیا۔ اس بات میں ان کا اسوہ نہیں ہے۔ آخر میں فرمایا (اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ) کہ بلاشبہ ابراہیم بڑے رحم دل تھے بردبار تھے۔ ان کے باپ نے بڑی سخت باتیں کیں انہوں نے حلم سے کام لیا اور شفقت کی وجہ سے استغفار کا وعدہ بھی فرما لیا۔ جب تک استغفار کے نفع کی امید تھی اس کے لیے استغفار کیا پھر جب یہ واضح ہوگیا کہ استغفار کرنا اس لیے فائدہ مند نہیں ہوسکتا تو استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ مضمون بالا سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کسی کافر اور مشرک کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے کسی کافر سے کیسا ہی تعلق ہو خواہ اپنا رشتہ دار ہی ہو اور خواہ کیسا ہی محسن ہو اس کے لیے استغفار کرنا حرام ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرما دیا کہ کافر اور مشرک کی کبھی بھی بخشش نہ ہوگی تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا یوں ہی بےسود ہے۔ ابو طالب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا تھے بہت بڑے ہمدرد بھی تھے انہوں نے آپ کی بہت مد د کی۔ دشمنوں سے آپ کو محفوظ رکھنے میں ظاہری اسباب کے اعتبار سے ان کا بڑا کردار ہے۔ جب ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگنے کی ممانعت فرما دی گئی تو آگے اور کسی کے لیے اس کی گنجائش کہاں ہوسکتی ہے ؟ اگر کسی کے والدین یا دونوں میں ایک کافر یا مشرک ہو تو مغفرت کی دعا کرنا ممنوع ہے۔ بہت سے فرقے ایسے ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں لیکن اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں وہ مرجاتے ہیں تو یہ جانتے ہوئے کہ اس کا عقیدہ کفر یہ تھا بعض لیڈر اور رؤساء، وزراء ایسے شخص کی نماز جنازہ میں حاضر ہوجاتے ہیں بلکہ نماز پڑھا دیتے ہیں اور اسے روا داری کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں اس میں اول تو قرآنی ممانعت کی واضح خلاف ورزی ہے دوسرے حاضرین کو اور جس فرقہ کا یہ شخص تھا اس فرقہ کو اس دھوکہ میں ڈالتے ہیں کہ کفریہ عقیدہ والے کی بھی مغفرت ہوسکتی ہے (العیاذ باللہ) قرآن کے خلاف کیسی جسارت ہے ؟ بہت سے لیڈر اور صحافی کفریہ عقیدہ والوں کی موت کے بعد ” مرحوم “ لکھ دیتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگئی یا اس پر رحمت ہوجائے یہ روا داری شریعت اسلامیہ کے سراسر خلاف ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

109:“ وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ الخ ” یہ سوال مقدر کا جواب ہے جو ماقبل سے ناشی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پیغمبر کے لیے اور مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر کیلئے کیوں استغفار کیا تھا جیسا کہ قرآن میں ہے “ وَ اغْفِرْ لِاَبِیْ اِنَّهٗ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ ” (شعراء رکوع 5) ۔ تو اس کا جواب فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا استغفار اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے بوقت رخصت باپ سے کیا تھا۔ جیسا کہ سورة مریم رکوع 3 میں ہے “ قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ اِنَّهٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ” لیکن جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے اور اس کے دل پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور اب وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو اس کے لیے استغفار ترک کردیا اور اس سے براءت اور بیزاری کا اعلان فرمادیا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبل العلم تھی جب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوگئی تو پھر اس کے لیے دعا نہیں مانگی۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب وہ زندہ تھا تو اس کی ہدایت کی دعا کرتے تھے اور جب وہ شرک پر مرگیا تو ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس لیے پھر اس کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی۔ “ اي مستمر علی عداوته تعالیٰ و عدم الایمان به وذلک بان اوحی الیه علیه السلام انه مصر علی الکفر و اخرج ابن جریر وابن المنذر و جماعة عن ابن عباس (رض) ان ذلک التبین کان بموته کافرا والیه ذھب قتادة قیل والا نسب بوصف العداوة ھو الاول ” (روح ج 11 ص 35) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

114 اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لے بخشش طلب کرنا تو وہ محض ایک وعدے کی بنا پر تھا جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا اور فرمایا تھا ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا باپ خدا تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےزار اور بےتعلق ہوگیا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا نرم دل اور متحمل مزاج تھا یعنی ایک تو وعدہ ہوچکا تھا جیسا کہ سورة مریم میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر یہ کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہیں ہوا تھا۔ جب اس کا دوزخی ہونا کھل گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے بےتعلقی کا اظہار کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرآن کریم میں جو ذکر ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کی بخشش مانگی۔ شاید حضرت کے دل میں بھی آیا ہو اور مسلمانوں نے بھی چاہا کہ اپنے قرابت والو کے حق میں دعا کریں یہ منع آیا معلوم ہوا کہ مشرک بخشا نہیں جاتا۔ 12