Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 18

سورة التوبة

اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۸﴾

The mosques of Allah are only to be maintained by those who believe in Allah and the Last Day and establish prayer and give zakah and do not fear except Allah , for it is expected that those will be of the [rightly] guided.

اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں نمازوں کے پابند ہوں زکٰوۃ دیتے ہوں ، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ امَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ ... The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day. Therefore, Allah testifies to the faith of those who maintain the Masjids. Abdur-Razzaq narrated that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "I met the Companions of the Prophet and they were saying, `The Masjids are the Houses of Allah on the earth. It is a promise from Allah that He is generous to those who visit Him in the Masjids." Allah said next, ... وَأَقَامَ الصَّلَةَ ... perform the Salah, one of the major acts of worship practiced by the body, ... وَاتَى الزَّكَاةَ ... and give the Zakah, which is the best act that benefits other people, ... وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللّهَ ... and fear none but Allah, they fear only Allah, the Exalted, and none else, ... فَعَسَى أُوْلَـيِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ It is they who are on true guidance. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said about Allah's statement, إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ امَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ (The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day), "He who singles out Allah (in worship), has faith in the Last Day." And he said; "He who believes in what Allah has revealed, وَأَقَامَ الصَّلَةَ (perform the Salah), establishes the five daily prayers, وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللّهَ (and fear none but Allah), worships Allah alone, فَعَسَى أُوْلَـيِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ it may be they who are on true guidance. Allah says, `It is they who are the successful ones in truth.' Similarly, Allah said to His Prophet, عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا It may be that your Lord will raise you to Maqam Mahmud, (17:79) Allah says here, `Your Lord (O Muhammad) shall grant you a station of praise, that is, the intercession (on the Day of Resurrection).' Every `might' in the Qur'an means `shall'."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 جس طرح حدیث میں بھی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' جب تم دیکھو کہ ایک آدمی مسجد میں پابندی سے آتا ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو ' قرآن کریم میں یہاں بھی ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد جن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، وہ نماز زکٰوۃ اور مشیت الٰہی ہے، جس سے نماز، زکٰوۃ اور تقویٰ کی اہمیت واضح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] مساجد کی آبادی کا مطلب آباد کرنے والوں کی صفات :۔ آباد کرنے سے مراد مساجد میں نمازوں کے لیے آنا جانا، مساجد کی صفائی، ان میں روشنی کا انتظام، مساجد کی تعمیر، ان کی مرمت اور تولیت وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں بالخصوص چار باتیں پائی جائیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان پھر اسی ایمان کی ظاہری شہادت کے طور پر نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا۔ یعنی اللہ کے سوا دوسرے دیوی، دیوتا، بزرگ یا فرشتوں اور ستاروں کی ارواح کے متعلق یہ گمان رکھنا کہ اگر وہ ناراض ہوگئے تو اسے کوئی نقصان پہنچا سکتے یا کسی مصیبت سے دو چار کرسکتے ہیں پھر اسی بنا پر ان کی نذر و نیاز اور منتیں ماننا یا عبادت کی کوئی بھی رسم بجا لانا کسی ایماندار کا شیوہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ایسے لوگ کبھی ہدایت پاسکتے ہیں خواہ وہ نبی کی اولاد ہی کیوں نہ ہوں اور ایسی تولیت ان کے ورثہ میں چلی آرہی ہو۔ مساجد کی آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجہ کا عمل ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :۔ ١۔ سیدنا عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا ہے کہ && جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے مسجد بنائی اللہ ویسا ہی گھر اس کے لیے بہشت میں بنائے گا۔ && (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب من بنی مسجدا ) ٢۔ سیدنا ابو سعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && اگر تم کسی آدمی کو مسجد میں آنے جانے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مسجدیں صرف وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٣۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ١۔ عادل بادشاہ، ٢۔ وہ جوان جو جوانی کی امنگ سے اللہ کی عبادت میں رہا۔ ٣۔ وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، ٤۔ وہ دو مرد جنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی پھر اس پر قائم رہے۔ اور اسی پر جدا ہوئے، وہ شخص جسے کسی حسب و جمال والی عورت نے (بدی کے لیے) بلایا مگر اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ مرد جس نے داہنے ہاتھ سے ایسے چھپا کر صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہوئی۔ وہ مرد جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کے آنسو بہہ نکلے۔ && (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الصدقۃ بالیمین) ٤۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && فرشتے اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہے جب تک اس کو حدث لاحق نہ ہو۔ فرشتے یوں کہتے رہتے ہیں۔ یا اللہ اس کو بخش دے یا اللہ اس پر رحم کر۔ && (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب الحدث فی المسجد) ٥۔ سائب بن یزے د کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا اتنے میں ایک شخص نے مجھ پر کنکر پھینکا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ عمر بن خطاب ہیں۔ مجھے کہنے لگے && جاؤ ان دو آدمیوں کو بلا لاؤ۔ میں بلا لایا۔ سیدنا عمر نے ان سے پوچھا && کہاں سے آئے ہو ؟ && وہ کہنے لگے && طائف سے && سیدنا عمر نے فرمایا && اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں خوب سزا دیتا۔ تم رسول اللہ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو ؟ && (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب رفع الصوت فی المسجد)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ : آباد کرنے میں مساجد کی تعمیر، ان میں نمازوں کے لیے آنا، صفائی، روشنی، مرمت اور نگرانی وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں خصوصاً چار چیزیں پائی جائیں : 1 اللہ اور یوم آخرت پر ایمان۔ 2 ظاہر میں اس ایمان کی شہادت کے لیے نماز کا قیام۔ 3 زکوٰۃ کی ادائیگی۔ 4 اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا، جبکہ مشرکین ان چاروں صفات سے عاری ہیں۔ مساجد کی تعمیر، آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ امیر المومنین عثمان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائے تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے اس جیسا گھر بنائے گا۔ “ [ بخاری، الصلاۃ، باب من بنی مسجدًا : ٤٥٠ ] ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بلاد (جگہوں) میں سب سے زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام بلاد (جگہوں) سے زیادہ ناپسند ان کے بازار ہیں۔ “ [ مسلم، المساجد، باب فضل الجلوس فی مصلاہ۔۔ : ٦٧١ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 17 was describing the negative aspect as related to the Mush¬riks. It said that they did not deserve the honor of building and main¬taining mosques. Verse 18 takes up the positive aspect relating to mosques by saying: إِنَّمَا يَعْمُرُ‌ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿١٨﴾ In fact, the mosques of Allah are built-up only by those who believe in Allah and in the Last Day and those who establish Salah and pay Zakah and who fear none but Allah. So, it is in all likelihood that they are to be among those on the right path. It means the building of mosques in the real sense is a serene task. It can be done only by those who are bound by the commandments of Allah in their ` Aqidah (faith) and ` Amal (practice). They must believe in Allah and in the &Akhirah, establish Salah, pay Zakah and fear none but Allah. At this place, only &Iman (faith) in Allah and &Akhirah (Last Day) have been mentioned. Faith in the Rasul (Messenger) of Allah was not mentioned expressly because there is no way one can have faith in Allah Ta` ala except that one puts his or her faith in His Rasul - and wholeheartedly accepts the commandments that come from Allah Ta` ala through him. Therefore, ` faith in the Rasul& is naturally in¬cluded under ` faith in Allah.& This is why the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) once asked his noble Companions (رض) ، ` Do you know what &Iman in Al¬lah is?& The Companions said, ` Allah and His Rasul know best.& He said, ` Iman in Allah is that one bears witness to the fact that there is no one worthy of worship but Allah and that Muhammad is the Rasul of Allah.& This Hadith clearly states that having faith in the Rasul is in¬cluded under having faith in Allah and is comprehensively united with it. (Mazhari with reference to al-Bukhari and Muslim) As for the statement: ` fear none but Allah,& it means that, in mat¬ters of religion, one should not abandon the command of Allah out of some fear. Otherwise, fearing things that cause fear is quite natural. Beasts, snakes, thieves and robbers generate physical fear but that is not the kind of fear we are talking about here. When the magicians showed snakes made of ropes and staffs to Sayyidna Musa, he had a sense of fear within himself as mentioned in the Qur&an فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ ﴿٦٧﴾ - 20:67. Therefore, the normal fear caused by what causes pain or brings loss is neither contrary to the injunction of the Qur&an nor to the station of a prophet, wallyy or saint. However, one should not become so overcome by this fear as to start creating confusion about the injunctions of Allah Ta` ala or leaving them out altogether. This is not the style of a true believer and this is precisely what is meant at this place. Some related issues When it is said in the present verses that Mushriks and Kafirs cannot take up the task of ` maintaining& a masjid which was something only righteous Muslims could do, it refers to the trusteeship and ad¬ministrative responsibility of the masjid. The outcome is that it is not permissible to appoint a Kafir the trustee and administrator of any Is¬lamic Waqf (endowment). As for the construction of the different units of the structure such as walls and doors, it does not matter even if some non-Muslim is assigned to do the job. (Tafsir Maraghi) Similarly, when a non-Muslim makes a masjid as an act of thawab, or contributes funds for its building, then, it is permissible to accept it. However, the condition is that there should be no danger of a religious or worldly loss, or blame, or usurpation of the property later, or harping on the favor done. (Al-Du rr al Mukhtar, Shami and Maraghi) It was hinted in verse 18 that building a masjid and making it throb with multitudes of Muslims making prayers, remembering Allah and reciting the Qur&an is a task that can only be accomplished by a right¬eous Muslim. It proves that anyone who keeps coming to the masjid ei¬ther to supervise arrangements for the security, maintenance, upkeep and supplies for the masjid, or for the Dhikr of Allah, or to learn about his religion, or to recite or teach the Holy Qur&an is a perfect believer. These deeds are sufficient as witnesses to this honor. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: ` when you notice that a person is punctual with his presence in the masjid, bear witness to his ‘Iman - because, Allah Ta` ala has said: إِنَّمَا يَعْمُرُ‌ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ (In fact, the masjid of Allah are built-up only by those who believe in Allah... - 18). Imam Tirmidhi and Ibn Majah have reported this Hadith on the authority of Sayyidna Abu Said Al-Khudri (رض) . It appears in Al-Bukhari and Muslim that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: ` a person who presents himself in the masjid morning and eve¬ning, Allah Ta` ala sets aside a rank of Paradise for him.& And Sayyidna Salman al-Farisi (رض) narrates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: ` a person who comes into the masjid is a visiting guest of Allah Ta` ala - and it is incumbent on the host that He honors the guest.& (Mazhari with reference to Tabarani, Ibn Jarir, al-Baihagi and others) The commentator of the Qur&an, Qadi Thana&ullah of Panipat has said, ` the expression ` maintenance of the masjid& also requires that the masjid should be cleansed of things and practices for which it was not made. It includes activities like buying and selling, worldly conver¬sation, search of lost property, asking people for material help, recita¬tion of idle poetry, disputation, fighting, disturbing peace by noises and things like that. (Mazhari)

اس آیت میں عمارت مسجد کا منفی پہلو بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین اس کے اہل نہیں ہیں۔ دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا : (آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ ، یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کے متعلق توقع ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے “۔ مطلب یہ ہے کہ مساجد کی اصلی عمارت صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے احکام الہٰی کے پابند ہوں، اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز زکوٰة کے پابند ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، اس جگہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا رسول پر ایمان کے ذکر کرنے کی اس لئے ضرورت نہ سمجھی گئی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی کوئی صورت بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتی کہ رسول پر ایمان لائے، اور اس کے ذریعہ جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں ان کو دل سے قبول کرے، اس لئے ایمان بااللہ میں ایمان بالرسول فطری طور پر داخل ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے اس کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اس حدیث نے بتلایا کہ رسول پر ایمان لانا اللہ پر ایمان لانے میں داخل اور شامل ہے ( مظہری بحوالہ صحیحین) ۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے، اس کے معنی یہ ہیں کہ دین کے معاملہ میں کسی کے خوف سے اللہ کے حکم کو ترک نہ کر ے، ورنہ خوف کی چیزوں سے ڈرنا اور دہشت کھانا تو تقاضائے عقل و فطرت ہے، درندے اور زہریلے جا نوروں سے چور ڈاکو سے طبعی طور پر ڈرنا اس کے خلاف نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جب جادوگروں نے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھلائے تو وہ ڈر گئے، (آیت) فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، اس لئے ایذاء اور نقصان پہونچانے والوں سے طبعی خوف نہ حکم قرآن کے خلاف ہے نہ رسالت اور ولایت کے، ہاں اس خوف سے مغلوب ہو کر کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں خلل ڈالنا یا ان کو ترک کردینا یہ مومن کی شان نہیں، یہی اس جگہ مراد ہے۔ بعض مسائل متعلقہ آیت : اور عمارت مسجد جس کے متعلق ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ مشرک کافر نہیں کرسکتے بلکہ وہ صرف نیک صالح مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے مراد مساجد کی تولیت اور انتظامی ذمہ داری ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی کافر کو کسی اسلامی وقف کا متولی اور منتظم بنانا جائز نہیں، باقی رہا ظاہری در و دیوار وغیرہ کی تعمیر، سو اس میں کسی غیر مسلم سے بھی کام لیا جائے تو مضائقہ نہیں ( تفسیر مراغی) اس طرح اگر کوئی غیر مسلم ثواب سمجھ کر مسجد بنا دے یا مسجد بنانے کے لئے مسلمانوں کو چندہ دیدے تو اس کا قبول کرلینا بھی اس شرط سے جائز ہے کہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان یا الزام کا یا آئندہ اس پر قبضہ کرلینے کا یا احسان جتلانے کا خطرہ نہ ہو ( در المختار، شامی، مراغی) اور اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ مساجد کی عمارت اور آبادی صرف نیک مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو شخص مساجد کی حفاظت، صفائی اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتا ہے، اور جو عبادت اور ذکر اللہ کے لئے یا علم دین اور قرآن پڑھنے پڑھانے کے لئے مسجد میں آتا جاتا ہے اس کے یہ اعمال اس کے مومن کامل ہونے کی شہادت ہے۔ امام ترمذی اور ابن ماجہ نے بروایت ابو سعید خدری نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کی حاضری کا پابند ہے تو اس کے ایمان کی شہادت دو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ ۔ اور صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص صج شام مسجد میں حاضر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا ایک درجہ تیار فرما دیتے ہیں۔ اور حضرت سلمان فارسی نے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں آیا وہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرنے والا مہمان ہے، اور میزبان پر حق ہے کہ مہمان کا اکرام کرے ( مظہری) بحوالہ طبرانی ابن جریر، بیہقی وغیرہ) ۔ مفسر القرآن حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے فرمایا کہ عمارت مسجد میں یہ بھی داخل ہے کہ مسجد کو ایسی چیزوں سے پاک کرے جن کے لئے مسجدیں نہیں بنائی گئیں مثلًا خریدو فروخت دنیا کی باتیں کسی گم شدہ چیز کی تلاش یا دنیا کی چیزوں کا لوگوں سے سوال یا فضول قسم کے اشعار جھگڑا، لڑائی اور شور و شغب وغیرہ ( مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللہَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِيْنَ۝ ١٨ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] الاقامتہ ( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اوراقامتہ الشیی ( کسی چیز کی اقامت ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہوتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل ۔۔۔۔۔ کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک کہ علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو ۔ اسی طرح فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو ۔۔۔۔۔ قائم کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نماز یوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ وہاں اقامتہ کا صیغۃ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیبت کا ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا استعمال صحیح نہیں ہے مگر یہ ان کی تاہ نظری ہے کیونکہ جہاں کہیں قرآن میں عسی کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کیساتھ لہذا آیت کریمہ : ۔ عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) مسجد حرام کو آباد کرنا تو ان ہی لوگوں کا کام ہے جو بعث بعد الموت پر ایمان لاتے ہیں اور پانچوں نمازیں اور زکوٰۃ کو ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے ہیں تو ایسے لوگ یقیناً اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی حجت کو پالیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی انہی لوگوں کو ان کی تولیت کا حق پہنچتا ہے اور وہی ان کے خادم اور آبادی کارہو سکتے ہیں بعض احادیث میں بھی انما عمار والمساجد ھم اھل اللہ کہ مساجد کے آباد کار تو اہل اللہ ہی ہوسکتے ہیں۔ مسجدیں تعمیر کرنے انہیں آباد رکھنے اور ان میں عبادت کے لے بیٹھنے کی احادیث صحیحہ میں بہت فضیلت آئی ہے مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کسی کو باربار مسجد کی طر آتے جاتے دیکھو تو اس کے مومن ہونے کی شہادت دو ۔ ترمذی۔ دوسری حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ ( بخاری مسلم )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں مشرکین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مساجد کے متولی نہیں ہوسکتے یہاں وضاحت کی گئی کہ مساجد کے متولی حضرات کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔ روئے زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ اور مقام مسجد ہے جس کو ذکر وفکر اور اللہ کے حضور سجدہ گاہ بنایا گیا ہے۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس زمین کے ٹکرے کو اللہ کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! اللہ کے باغوں میں داخل ہو کر خوب سیر ہو کر کھایا کرو۔ لوگوں نے پوچھا اللہ کے باغ کون سے ہیں اور ان میں کھانا پینا کیسا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور روح کے لیے ذکرواذکار تازہ پھل کھانے کے مترادف ہیں۔ (مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلاۃ) جس طرح گلشن وباغیچے کو صاف ستھر ارکھا جاتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق مسجد روح و نفس اور جسم وجان کے لیے روحانی اور خدائی باغ ہیں۔ انہیں تو ہر حال میں پاک صاف اور ستھرارکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعمیر کرنے والے دو پیغمبروں سے یہی وعدہ لیاتھا کہ میرے گھر کو ہر طرح سے پاک صاف رکھنا۔ (وَعَھِدْنَآ اِآٰی اِبْرٰھِےْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) [ البقرۃ : ١٢٥] ” ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا تھا کہ میرے گھر کو طواف ‘ رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔ “ اللہ کے گھر کی ظاہری صفائی یہ ہے کہ اسے گردوغبار ‘ جنگ وجدال اور فتنہ و فساد سے پاک رکھا جائے۔ پہلے پارے میں ارشاد ہے کہ جو لوگ مسجدوں کے ماحول کو خراب اور ان میں فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں ان کے لیے مسجدوں میں ایسی کڑی نگرانی کا ماحول اور اخلاقی دباؤ ہونا چاہیے کہ وہ مسجد میں شرارت کرتے ہوئے خوف محسوس کریں۔ مسجدوں میں سکون اور ان میں آنے والے تب ہی ذوق وشوق کے ساتھ آئیں گے کہ مساجد میں صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ پر سکون ماحول پیدا کیا جائے۔ مسجدوں میں بےوجہ گفتگو اور شوروغوغا نمازیوں کے سکون اور عبادت کے ذوق وشوق کو تباہ کردیتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر (رض) نے مسجد میں دو آدمیوں کو بلند آواز میں باتیں کرتے ہوئے سنا تو ان کو ہلکی سی ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا کہ تم دیہاتی ہو اور تمہیں مسجد کے آداب کا علم نہیں اگر تم مدینے کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔ (مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ) اخلاقیات عالم کا مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی شخص دوسرے کے گھر جائے تو وہ اپنی عزت اور دوسرے کے احترام کی خاطر لڑائی جھگڑے حتیٰ کہ آواز اونچی کرنے سے بھی کتراتا ہے۔ مسجد تو رب ذوالجلال کا گھر ہے۔ اللہ کی سطوت وجبروت اور اس کے گھر کا احترام یہ ہے آدمی ہر اعتبار سے وقار اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ جو شخص اللہ کے گھر کا احترام نہیں کرتا اس کے بارے میں یہ انتباہ ہے : ( لَھُمْ فِیْ الْدُنْیَا خِزْیٌ وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (البقرۃ : ١١٤) ” وہ دنیا وآخرت میں ضرور ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے۔ “ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی سمع وطاعت کی تربیت گاہ ‘ رحمت خداوندی کا مرکز اور اس کی تجلیات کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں آنے والے کو یہ تعلیم دی گئی کہ مسجد میں دایاں قدم رکھتے ہی اللہ کی رحمتوں کے حصول کے لیے یہ دعا کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا جائے۔ (اِنَّمَایَعْمُرُ مَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ ) [ التوبۃ : ١٨] ” بیشک مساجد کی تعمیر میں وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ “ مسجد کا ما حول جس قدر پر سکون، صفائی اور اخلاق کے اعتبار سے صاف ستھراہو گا اسی قدرنما زی حضرات کو روحانی اور نفسیاتی فا ئدہ اور سکون وقرار حا صل ہوگا۔ مسجد میں دل جمعی کے ساتھ بیٹھنا اور فکر و نظر کی یکسوئی کے ساتھ اللہ کا گھر سمجھ کر اس کی با رگاہ میں حا ضری کا تصور لیے ہوئے ٹھہرے رہنا بےپناہ روحانی اور نفسیاتی فوائد سے بھر پور عمل ہے۔ اس گئے گذرے دور میں کوئی شخص اس نیت و ارادے کے ساتھ بیٹھ کر اندازہ کرسکتا ہے کہ جو سکون مسکن دواؤں ‘ راحت بخش فضاؤں اور طعام و قیام کی لذتوں سے حا صل نہیں ہوتا، وہ اللہ کے گھر میں چند لمحے گذا رنے سے اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ آدمی کی بےچینی اور مضطرب طبیعت میں قرار و اطمینان کے جھونکے اس کی طبیعت کو ڈھارس بندھاتے اور اس کی روح کو بہلا رہے ہوتے ہیں۔ اس سکون و اطمینان اور روحانی اثرات کا تسلسل فقط اس دنیا تک ہی نہیں بلکہ اسکے نتا ئج لامتنا ہی مستقبل پر اس طرح مرتب ہوں گے کہ محشر کے دن سورج کی شدت و حرارت کی وجہ سے پسینے میں شرابور لوگ تپش اور گرمی کی بنا پر اس طرح دکھائی دیں گے جیسے کوئی بھا ری نشہ استعمال کرنے کے بعد لڑکھڑا رہا ہوتا ہے۔ اس ہولناک موقع پر عرش معلی سے سات قسم کے لوگوں کے لیے اعلان ہوگا۔ کہ فلاں، فلاں لوگ میرے عرش کے سائے میں آجائیں ان میں ایک طبقہ وہ ہوگا جو مسجد میں پروقار اور مکمل اطمینان کیساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ (مشکوٰۃ : باب المساجد و مواضع الصلاۃ) دیکھنے والوں کے لیے یہ سچائی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ جو افسران یا اثر ورسوخ اور سماجی لحاظ سے بڑے لوگ مسجدوں میں پا نچ وقت حا ضری کی سعادت سے سرفراز ہوتے ہیں ‘ چند لوگوں کو چھوڑ کر ایسے افسران اور سر کردہ حضرات میں وہ رعونت اور تکبر نہیں پا یا جاتا جو مسجدوں سے دور رہنے والے اعلی حکام اور بڑے لوگوں میں پا یا جاتا ہے۔ ایسے افراد تک عوام کی رسائی ہزار پا بندیوں کے باوجود آج بھی بہت آسان دکھائی دیتی ہے۔ مسجدوں میں حاضری کی وجہ سے انکے رویہ میں شفقت اور محبت کا پہلو غا لب رہتا ہے۔ جب تک اقتدار میں شریک لوگ مسجد میں آیا کرتے تھے اس وقت تک عوام اور حکام کے درمیان اتنا بعد نہیں تھا۔ اس لیے ہم جس قدر بھی مسجدوں کے ساتھ وا بستگی پیدا کریں گے اسی قدر روحانی اور معاشرتی ترقیوں کو پانا ہمارے لیے آسان ہوگا۔ مسجد میں داخل ہونے کی دعا : (اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ) [ مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ ] ” اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجیے۔ “ مسجد سے نکلنے کی دعا : (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ) [ مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ ] ” اے اللہ ! میں آپ کے فضل کا طلب گار ہوں۔ “ آداب : اس رحمت گاہ کی تعمیر اور اسے ہر انداز سے آباد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بشارت سے سرفراز فرمایا ہے : مسائل ١۔ ایمان دار اور متقی لوگ ہی مساجد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ٢۔ مساجد کو آباد کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کی نشانی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

عبادات و اعمال میں سے معتبر وہ ہوتے ہیں جو عقائد صحیحہ پر مبنی ہوں۔ اگر عقیدہ ہی ٹھیک نہ ہو تو اعمال کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہوگا مسجد حرام کی تعمیر اور اس میں مراسم عبودیت بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لہذا اعمال کو خالص عقیدہ توحید پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اعمال خالص اللہ کے لیے ہونے ضروری ہیں ، تب قبول ہوں گے۔ یہاں دو شرائط ، یعنی ایمان باللہ جو باطنی صفت ہے اور اعمال ظاہریہ کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی چیز سے خائف نہ ہو ، لازمی شرط ہے۔ یہ نفلی شرط نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے لیے خالص ہونا لازمی ہے۔ اور انسان کے شعور ، اس کے طرز عمل میں شرک کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ غیر اللہ سے ڈرنا بھی در اصل شرک خفی کا ایک رنگ ہے۔ اور یہاں قصدا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ شعور و اعتقاد اور عمل اور سلوک میں انسان مکمل طور پر خالص اور پاک و صاف ہو۔ اس خلوص کے بعد اب مومن اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ وہ مساجد کی دیکھ بھال اور تعمیر کرے اور ایسے ہی لوگ ہدایت کی امید کرسکتے ہیں۔ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ : " انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے "۔ اسی لیے کہ قلب متوجہ ہوتا ہے ، تب اعضاء عمل کرتے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہوسکتا ہے کہ اللہ راضی ہو ، اللہ کی مشیئت ہو تو توجہ بھی ہوگی اعمال بھی ہوں گے اور ہدایت و کامیابی بھی ہوگی۔ یہ ہے اصول تعمیر مساجد کا اور یہ ہے اصل ذریعہ عبادات اور مراسم کی درستگی کا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مساجد کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے : اس کے بعد فرمایا (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَام الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ ) (اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) اس میں بتایا کہ مسجدوں کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے مقرر فرمودہ فرائض کو انجام دیتے ہیں (اس میں دو چیزوں کا خصوصی تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا زکوٰۃ دینا) اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو احکام بھیجے ہیں ان پر عمل کرنے میں قوم یا قبیلہ اور اہل وطن کے اعتراض کو نہیں دیکھتے کہ کوئی کیا کہے گا اللہ کے دین پر کسی کا خیال کیے بغیر عمل کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ پھر ان لوگوں کا اخروی انجام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَعَسآی اولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت تک پہنچنے کا راستہ بتادے گا۔ دنیا میں اللہ کی اطاعت اور عبادت میں لگنا نصیب ہوگا اور پھر یہ اطاعت اور عبادت جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بن جائے گی، مسجد بنانا اور اس کا نظم و نسق سنبھالنا، مرمت کرنا، نمازیوں کی واقعی ضرورتیں پوری کرنا یہ سب مسجد کی آباد کاری میں داخل ہے۔ لیکن مسجد کی آباد کاری جو دوسری شان سے ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ مساجد کو نمازوں سے، ذکر سے تلاوت سے تعلیمی حلقوں سے تدریس قرآن سے آباد رکھا جائے کیونکہ مساجد کی اصل بناء انہی امور کے لیے ہے۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ مسجد کا دھیان رکھتا ہے تو اس کے لیے ایمان کی گواہی دے دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (اللہ کی مسجدوں کو وہی شخص آباد رکھتا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٦٩ عن الترمذی و ابن ماجہ والدارمی) مساجد میں کیا کیا کام ممنوع ہیں ؟ جیسے اعمال صالحہ نماز، ذکر، تلاوت وغیرہ سے مسجد کو آباد رکھنے کی فضیلت ہے وہاں ان چیزوں کا ارتکاب مسجد کی آباد کاری کے خلاف ہے۔ مساجد میں ایسے اشعار پڑھنا جو دینی اعتبار سے اچھے نہ ہوں اور خریدو فروخت کرنا اور بدبو دار چیزیں کھا پی کر مسجد میں جانا (جس میں بیڑی، سگریٹ، تمباکو والے پان کی بدبو بھی شامل ہے) اور مساجد میں دنیا کی باتیں کرنا۔ مساجد میں تھوک، بلغم ڈالنا، گم شدہ چیز تلاش کرنا اور مخلوق سے سوال کرنا۔ یہ سب امور مسجد میں ممنوع ہیں اور مسجد کی شان کے خلاف ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص مسجد میں کسی گمشدہ چیز کے تلاش کرنے والے کی آواز سنے تو یوں کہہ دے لا ردھا اللہ علیک (کہ اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ دے) کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ (رواہ مسلم ص ٢١٠ ج ١، ابو داؤد ص ٦٨ ج ١) نیز حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں بیچتا ہے یا خریدتا ہے تو کہہ دو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے۔ (مشکوٰۃ ص ٧٠) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسجدوں میں ان کی باتیں دنیاوی امور کے بارے میں ہوں گی۔ سو تم ان کے پاس مت بیٹھنا کیونکہ اللہ کو ان کی حاجت نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٧١ عن البیہقی فی شعب الایمان) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل مبغوض ہے ان کے پاس بیٹھ کر اپنا برا نہ کرو۔ حضرت حکیم بن حزام نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مساجد میں حدود قصاص جاری کرنے سے اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا (رواہ ابو داؤد ص ٢٦١ ج ٢) حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں درختوں یعنی پیاز اور لہسن کے کھانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ جو شخص انہیں کھائے ہماری مسجد کے پاس نہ آئے اور فرمایا کہ اگر تمہیں کھانا ہو تو ان کو پکا کر کھاؤ۔ جس سے ان کی بدبو چلی جائے گی۔ (رواہ ابو داؤد، ص ١٧٩ ج ٢، وفی مسلم عدۃ روایات فی ہذا المعنی ص ٢٠٩ ج ١) مسجد کی صفائی کا اجر وثواب : حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے ثواب کے کام پیش کیے گئے یہاں تک کہ کوئی شخص اگر مسجد سے ایسی چیز نکال دے جو دیکھنے میں نا گوار ہو (اگرچہ معمولی سا کوڑا کچرا تنکا ہو) تو وہ بھی مجھے امت کے ثواب کے کاموں میں دکھایا گیا اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے تو اس سے بڑھ کر میں نے کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی پھر وہ اسے بھول گیا۔ (ابو داؤد ص ٦٦ ج ١) آج کل مسجدوں کی ظاہری آبادی ہی رہ گئی ہے۔ خوبصورت قالین، جھاڑ، فانوس، در و دیوار پر پھول دار نقشے، چمکدار فرش وغیرہ وغیرہ۔ ان چیزوں میں بڑھ چڑھ کر مقابلہ میں حصہ لیا جاتا ہے اور نمازوں میں حاضری اور تلاوت اور نمازوں کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور یہ ظاہری زیب وزینت کی چیزیں شرعاً پسندیدہ بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ ان سے نمازوں کے خشوع و خضوع میں فرق آتا ہے۔ حضرت أنس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ مسجدیں بنا بنا کر آپس میں فخر کریں گے۔ (رواہ ابو داؤد ص ٦٥ ج ١) ایک حدیث میں مسجدوں کی زیب وزینت پر توجہ دینے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ مساجد ھم عامرۃ وھی خراب من الھدیٰ (ان کی مسجدیں آباد ہوں گی اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٨)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18 اللہ کی مسجدوں کو تو بس وہی شخص آباد کرسکتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور سے نہیں ڈرا پس ایسے لوگوں کی نسبت خدا سے توقع ہے کہ یہ لوگ صحیح راہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی مساجد الٰہی کی آباد کاری کے وہی لوگ مستحق ہیں جو اہل ایمان ہوں زکوٰۃ و نماز کے پابند ہوں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کا دل میں خوف نہ رکھتے ہوں۔