Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 31

سورة التوبة

اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۱﴾

They have taken their scholars and monks as lords besides Allah , and [also] the Messiah, the son of Mary. And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ ... They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah, and the Messiah, son of Maryam. Imam Ahmad, At-Tirmidhi and Ibn Jarir At-Tabari recorded a Hadith via several chains of narration, from Adi bin Hatim, may Allah be pleased with him, who became Christian during the time of Jahiliyyah. When the call of the Messenger of Allah reached his area, Adi ran away to Ash-Sham, and his sister and several of his people were captured. The Messenger of Allah freed his sister and gave her gifts. So she went to her brother and encouraged him to become Muslim and to go to the Messenger of Allah. Adi, who was one of the chiefs of his people (the tribe of Tai') and whose father, Hatim At-Ta'i, was known for his generosity, went to Al-Madinah. When the people announced his arrival, Adi went to the Messenger of Allah wearing a silver cross around his neck. The Messenger of Allah recited this Ayah; اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ ... They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah. Adi commented, "I said, `They did not worship them."' The Prophet said, بَلَى إِنَّهُمْ حَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَلَ وَأَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ فَاتَّبَعُوهُمْ فَذَلِكَ عِبَادَتُهُمْ إِيَّاهُم Yes they did. They (rabbis and monks) prohibited the allowed for them (Christians and Jews) and allowed the prohibited, and they obeyed them. This is how they worshipped them. The Messenger of Allah said to Adi, يَا عَدِيُّ مَا تَقُولُ O Adi what do you say? أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ اللهُ أَكْبَرَ Did you run away (to Ash-Sham) so that 'Allahu Akbar' (Allah is the Great) is not pronounced? فَهَلْ تَعْلَمُ شَيْيًا أَكْبَرَ مِنَ الله Do you know of anything greater than Allah? مَا يُفِرُّك What made you run away? أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ Did you run away so that `La ilaha illallah' is not pronounced? فَهَلْ تَعْلَمُ مَنْ إِلهٌ إِلاَّ اللهُ Do you know of any deity worthy of worship except Allah? The Messenger invited Adi to embrace Islam, and he embraced Islam and pronounced the Testimony of Truth. The face of the Messenger of Allah beamed with pleasure and he said to Adi, إِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَالنَّصَارَى ضَالُّون Verily, the Jews have earned the anger (of Allah) and the Christians are misguided. Hudhayfah bin Al-Yaman, Abdullah bin Abbas and several others said about the explanation of, اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ (They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah...), that the Christians and Jews obeyed their monks and rabbis in whatever they allowed or prohibited for them. This is why Allah said, ... وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا ... while they were commanded to worship none but One God, Who, whatever He renders prohibited is the prohibited, whatever He allowed is the allowed, whatever He legislates, is to be the law followed, and whatever He decides is to be adhered to; ... لااَّ إِلَـهَ إِلااَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ None has the right to be worshipped but He. Hallowed be He above what they associate (with Him). Meaning, exalted, sanctified, hallowed above partners, equals, aids, rivals or children, there is no deity or Lord worthy of worship except Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کردیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ' (صحیح ترمذی) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اپنا رب بنا لیا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں کو تحلیل وتحریم کا منصب دے رکھا ہے اور ان کے اقوال کے مقابلے میں وہ نصوص قرآن و حدیث کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣١] اہل کتاب کا اپنے علماء ومشائخ کو رب بنانا :۔ ان اہل کتاب کا دوسرا شرک یہ تھا کہ حلت و حرمت کے اختیارات انہوں نے اپنی علماء و مشائخ کو سونپ رکھے تھے۔ حالانکہ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہ کتاب اللہ کو دیکھتے تک نہ تھے بس جو کچھ ان کے علماء و مشائخ کہہ دیتے اسے اللہ کا حکم سمجھ لیتے تھے جبکہ ان کے علماء و مشائخ کا یہ حال تھا کہ تھوڑی سی رقم لے کر بھی فتوے ان کی مرضی کے مطابق دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب کا درجہ دے رکھا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :۔ سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس آیا میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا && عدی ! اس بت کو پرے پھینک دو ۔ && اور میں نے آپ کو سورة برأت کی یہ آیت پڑھتے سنا (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31؀) 9 ۔ التوبہ :31) پھر آپ نے فرمایا وہ لوگ ان مولویوں اور درویشوں کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب یہ مولوی اور درویش کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ حلال جان لیتے اور جب حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے تھے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) یہ دونوں آیات دراصل ان سے پہلی آیت کی تشریح کے طور پر آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ یعنی ایسے طرح طرح کے شرک کی موجودگی میں اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ : ” حَبْرٌ“ حاء کی زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے اور باء ساکن ہے، وہ عالم جو بہت خوب صورت اور پختہ بات کہے۔ یہ ” تَحْبِیْرٌ“ سے ہے جس کا معنی مزین کرنا ہے۔ رہبان، راہب کی جمع ہے، ڈرنے والا، یعنی جو اللہ کے خوف سے دنیا ترک کر کے لوگوں سے الگ کسی کٹیا میں جا ڈیرہ لگائے۔ ان کے مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو رب بنانے کا ذکر تو اوپر بھی آچکا ہے، کیونکہ بیٹا باپ کے اختیارات میں اس کا شریک اور جانشین ہوتا ہے، اس لیے مسیح (علیہ السلام) کو بیٹا ماننے پر ان کو رب بنانے میں کیا کسر رہ گئی۔ رہے ان کے عالم اور درویش تو انھیں رب بنانے والے کچھ لوگ تو وہ تھے جو واقعی کائنات میں ان کا حکم چلنے کا عقیدہ رکھتے تھے، جس طرح آج کل بعض مسلمان پیروں، فقیروں کو سجدہ کرتے، ان سے اولاد، حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں اور یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں کہ کائنات کو قطب، ابدال اور اوتاد چلا رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق ان پہلوں ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، مگر بعض اہل کتاب نے انھیں ایک اور طریقے سے رب بنا رکھا تھا۔ چناچہ عدی بن حاتم طائی، جو مسلمان ہوچکے تھے، فرماتے ہیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ بت اپنے آپ سے اتار کر پھینک دو ۔ “ اور میں نے آپ سے سنا کہ آپ سورة براءت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے : (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) میں نے کہا : ” احبارو رہبان کو رب تو کوئی نہیں مانتا۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے، لیکن وہ جب ان کے لیے کوئی چیز حلال کردیتے اسے حلال سمجھ لیتے اور جب ان پر کوئی چیز حرام کرتے تو اسے حرام سمجھ لیتے۔ “ [ ترمذی، التفسیر، باب و من سورة التوبۃ : ٣٠٩٥ و حسنہ الألبانی ] گویا یہ ان کا دوسرا شرک تھا کہ انھوں نے حلال و حرام قرار دینے کا اختیار اپنے مشائخ و علماء کو دے دیا، حالانکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور ان پر لازم تھا کہ اپنے نبی کے بتائے ہوئے طریقے اور فرامین پر قائم رہتے۔ بالکل یہی طرز عمل ہمارے زمانے کے مقلدین کا ہے کہ ان کے امام کا قول صاف قرآن یا صحیح حدیث کے خلاف آجائے تب بھی وہ قرآن اور صحیح حدیث ماننے کے بجائے اپنے امام کے حلال کردہ کو حلال اور اس کے حرام کردہ کو حرام کہیں گے، پھر اس پر اصرار کریں گے، مثلاً قرآن مجید کا صاف حکم ہے کہ رضاعت کی مکمل مدت دو سال ہے، مگر کچھ لوگوں نے اسے ماننے کے بجائے اپنے امام کے کہنے پر اسے اڑھائی سال قرار دے لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحیح اور صریح فرمان : ” ہر نشہ آور حرام ہے “ کے باوجود کھجور اور انگور کے سوا کسی بھی چیز سے بنی ہوئی نشہ آور چیز کو حلال قرار دے لیا، زنا کو حلالہ کہہ کر حلال کرلیا، اجرت پر لائی عورت سے زنا پر حد معاف کردی، تیز دھار آلے اور آگ کے سوا جان بوجھ کر کسی بھی طریقے سے قتل کردینے پر قصاص ختم کردیا، بادشاہ وقت سے اللہ تعالیٰ کی کئی حدود بالکل ہی معاف کردیں، چور کے چوری کے مال پر ملکیت کے خالی دعوے سے، جس پر وہ کوئی دلیل بھی نہ دے، چوری کی حد ختم کردی، گانے بجانے اور رقص کو مشائخ کے کہنے پر معرفت اور روح کی غذا قرار دے لیا اور بعض مشائخ و علماء نے عوام سے یہ بیعت لینا شروع کردی کہ ہمارا ہر حکم، خواہ وہ قرآن و حدیث کے موافق ہو یا مخالف، تم مانو گے۔ بتائیے ان مسلمانوں کے احبارو رہبان کو رب بنانے میں کیا کسر رہ گئی ؟ ! خلاصہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ فرمان بالکل پورا ہوا کہ تم ہو بہو پہلے لوگوں کے نشان قدم پر چل پڑو گے، پھر ہر گروہ کے اپنے پیشوا کی غلط باتوں پر ڈٹ جانے سے مسلمانوں میں ایسا شگاف پڑا جو قرآن و حدیث کی طرف واپس آنے کے بغیر کبھی پر نہیں ہوسکتا۔ ” اِتَّسَعَ الْخَرْقُ عَلَی الرَّاقِعِ “ کی صورت پیدا ہوگئی ہے کہ شگاف پیوند لگانے والے کی بساط سے بھی زیادہ کھلا ہوگیا۔ پہلے (٧٢) گروہ بنے تھے یہ (٧٣) بن گئے۔ [ فَإِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] یہودو نصاریٰ کا اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کا اختیار دینا انھیں رب بنانا تھا، اب جب یہود و نصاریٰ نے احبارو رہبان کے کرتوتوں کو دیکھ کر ان سے بغاوت کردی تو عوام کی اکثریت کو حلال و حرام کا اختیار دے کر انھیں رب بنا لیا اور اس نئے دین کا نام جمہوریت رکھا، جس میں حلال و حرام کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجائے پارلیمنٹ کی اکثریت کرتی ہے، جو صریح شرک ہے۔ افسوس کہ مسلمان اس شرک میں ان کے قدم بہ قدم چل رہے ہیں، بلکہ اسلام سے اس بغاوت پر فخر کرتے اور دن رات اس کی تعریف کرتے ہیں اور یہ کہنے میں کوئی حیا محسوس نہیں کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جمہوریت نافذ کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان بےچاروں کو معلوم نہیں کہ جمہوریت صرف ان امور میں مشورے کا نام نہیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کا حکم موجود نہ ہو بلکہ یہ ایک الگ دین ہے جس کا رب بھی عوام یا ان کے نمائندے ہیں اور رسول بھی۔ انھی کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز قرار دینے کا حق حاصل ہے۔ اس دین میں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول یا اس کی کتاب کا کچھ دخل نہیں، ہاں دھوکا دینے کے لیے ان کا نام استعمال ہوتا ہے۔ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ : مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو دوبارہ لا کر ان کا رب بنانا اس لیے ذکر فرمایا کہ یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) یا علماء و رہبان کی پرستش اس طرح نہیں کی تھی جس طرح نصاریٰ نے مسیح (علیہ السلام) کی کی اور نہ وہ اس معنی میں عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ماننے کا اقرار کرتے ہیں جن معنوں میں نصاریٰ مسیح (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ رہے احبارو رہبان تو ان کو یہود و نصاریٰ دونوں نے ایک ہی معنی میں رب بنایا تھا۔ پیچھے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا ذکر کرکے ان کی اس دلیل کو بھی بےمعنی قرار دیا تھا کہ وہ تو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اگر وہ رب نہیں تو ماں سے پیدا ہونے والا کیسے رب ہوگیا ؟ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا : یعنی یہ تمام بےہودگی یہودو نصاریٰ نے تورات میں موجود واضح احکام کے باوجود اختیار کی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، جو اب بھی تورات کی تحریف کے باوجود مختلف الفاظ کے ساتھ اس میں جا بجا موجود ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The four verses cited above mention how astray the learned and the devoted and the abstaining among the Jews and Christians had gone and what blasphemies of word and deed they had come up with. The word: اَحبَار (ahbar) is the plural form of حبر (hibr) and رھبان (ruhban) is the plural of راھب (rahib). Hibr refers to a religious scholar among the Jews and Christians while a rahib denotes someone who devotes to worship and abstains from a worldly role in life. In the first verse (31), it has been said that these people have taken their rabbis and monks as gods beside Allah and they have done the same with Sayyidna ` Isa ibn Maryam (علیہما السلام) whom they have given the status of their Lord. This is, of course, obvious in the case of Sayy¬idna ` Isa (علیہ السلام) whom they took to be the son of God and did not de¬mur from saying so. As for the charge against them that they had tak¬en their rabbis and monks as gods, it has its reason. They used to call them as their Lord in clear terms, but even if it is presumed that they did not believe their religious leaders to be their gods, they had virtually transferred to them the right to be obeyed which is the right of Allah Jalla Thana&uh, absolutely and exclusively. They would, so to say, follow the dictates of these leaders under all circumstance - even if their dictates happen to be against Allah and His Messenger. With that attitude, one is bound to land in a valley of no return. How can one go about obeying someone even if that person says things contrary to the dictates of Allah and His Messenger? And how can one who has reached this ultimate limit still not refuse to obey that person? This is like taking someone as god - an act of flagrant blasphemy, an open kufr. This tells us that the present verse is not related in any way to the popular religious issue of following a particular juristic school (taqlid) which has two main aspects. Firstly, common people who are not aware of religious precepts and their details trust ` Ulama& and follow their fatawa. Secondly, Mujtahid Imams are followed in juristic issues requiring Ijtihad. So, this verse has no bearing on that count because such following is, in real terms, nothing but the following of the dic¬tates of Allah and His Rasul Those whom Allah has blessed with knowledge and insight have a direct access to the original resources of Shari&ah whereby they know what Allah and His Rasul have said. They see it and act accordingly. The unaware masses act in accordance with the same injunctions by asking those who have knowledge. Then, there are those who have knowledge but are not competent enough to occupy the station of Ijtihad, they too follow the Mujtahid Imams in matters requiring ijtihad. This following is in ac¬cordance with the injunction of the Holy Qur&an and is nothing but obedience to Allah Ta` ala - as says the Qur&an: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ. It means: ` If you yourself are not aware of the injunctions of Allah and the Messenger, act by asking the people of knowledge 1- 16:43.& 1. The basic point of difference is that the one who follows an imam does not believe him to be an independent point of obedience. lie simply consults him as an interpreter of the Holy Qur&an and Sunnah. That is why he will not follow him if there is a clear clash between his view and a clear-cut ruling given by the Holy Qur&an and Sunnah. The case of Jews and Christians is totally different. They believe their religious leaders (rabbis and popes) as law-givers. They believe them to be infallible who cannot commit mistakes and their rulings are to be obeyed in any case, even though they contradict the ruling given by the scriptures. For more details on the subject, see my book on &Taqlid& or on &Uloom al-Qur&an.& (Muhammad Taqi Usmani) In sum, the masses of people among the Jews and Christians had ignored Scriptures, Divine commandments and the teachings of apos¬tles totally and, in its place, they had taken the word and deed of self-serving scholars and ignorant pseudo-devotees as the core of their re¬ligion. This is what has been condemned in the verse.

خلاصہ تفسیر ( آگے افعال کفریہ کا بیان ہے کہ) انہوں نے ( یعنی یہود و نصاری نے) خدا ( کی توحید فی الطاعۃ) کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو ( باعتبار اطاعت کے) رب بنا رکھا ہے ( کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور مسیح بن مریم ( علیہ السلام) کو بھی ( ایک اعتبار سے رب بنا رکھا ہے کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں کہ الوہیت اس کے لوازم سے ہے) حالانکہ ان کو ( کتب الہیہ میں) صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود ( برحق) کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے ( اور یہ تو بیان تھا اتباع باطل کا آگے بیان ہے اس کا کہ وہ دین حق کو رد کرتے ہیں کہ یہ بھی کفر ہے یعنی) وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور ( یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے ( پھونک مار مار کر) بجھا دیں ( یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ بدون اس کے کہ اپنے نور ( مذکور) کو کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں، گو کافر لوگ ( جن میں یہ بھی آگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے کہ ( اسی اتمام نور کے لئے) اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت ( کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین ( یعنی اسلام) دے کر ( دنیا میں) بھیجا ہے تاکہ اس ( دین) کو ( کہ وہی نور مذکور ہے) تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے ( کہ یہی اتمام ہے) گو مشرک (جن میں یہ بھی داخل ہوگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، اے ایمان والو ! اکثر احبارو رہبان ( یعنی یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ عوام) لوگوں کے مال نامشروع طریقہ سے کھاتے۔ ( اڑاتے) ہیں ( یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کر موافق مرضی عوام کے فتوے دے کر ان سے نذرانے لیتے ہیں) اور ( اس کی وجہ سے وہ) اللہ کی راہ ( یعنی دین اسلام) سے ( لوگوں کو) باز رکھتے ہیں ( کیونکہ ان کے جھوٹے فتو وں کے دھوکہ میں آکر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں اور حق کو قبول بلکہ طلب بھی نہیں کرتے) اور ( غایت حرص سے مال بھی جمع کرتے ہیں جسکی نسبت یہ وعید ہے کہ) جو لوگ سونا چاندی جمع کر کر رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ( یعنی زکوٰة نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنا دیجئے، جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں ( اول) تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا، ( اور یہ جتلایا جا ئیگا کہ) یہ وہ ہے جسکو تم نے اپنے واسطے جمع کر کر کے رکھا تھا، سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو “۔ معارف و مسائل ان چاروں آیتوں میں یہود و نصارٰی کے علماء اور عباد و زہاد کی گمراہی اور ان کے کفریات قولی و عملی کا ذکر ہے احبار حبر کی جمع ہے اور رہبان راہب کی جمع ہے، حبر یہود و نصارٰی کے عام کو اور راہب عابد و زاہد کو کہا جاتا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء اور عبادت گذاروں کو اللہ کے سوا اپنا رب اور معبود بنا رکھا ہے، اسی طرح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو اپنا رب بنا لیا ہے، حضرت عیسیٰ السلام کو رب و معبود بنانا تو اس لئے ظاہر ہے کہ وہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں اور کہتے تھے، اور علماء و عباد کو معبود بنانے کا جو الزام ان پر عائد کیا گیا ہے اگرچہ وہ صراحتہ ان کو اپنا رب نہ کہتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اطاعت مطلقہ جو خالص اللہ جل شانہ کا حق ہے اس حق کو ان کے حوالے کردیا تھا، کہ حال میں ان کے کہنے کی پیروی کرتے تھے، اگرچہ انکا قول اللہ اور رسول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو یہ ظاہر ہے کہ کسی کی ایسی اطاعت کرنا کہ اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف بھی کہے تو اس کی اطاعت نہ چھوڑے یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو اپنا رب اور معبود کہے، جو کھلا ہوا کفر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسائل دین سے ناواقف عوام کے لئے علماء کے فتوی کا اتباع درحقیقت خدا و رسول ہی کے احکام کا اتباع ہوتا ہے، اہل علم و نظر براہ راست اللہ و رسول کے کلام کو دیکھ کر اس پر عمل کرتے ہیں، اور ناواقف عوام اہل علم سے پوچھ کر انہی احکام پر عمل کرتے ہیں، اور اہل علم جو درجہ اجہتاد کا نہیں رکھتے وہ بھی اجتہادی مسائل میں ائمہ مجتہدین کا اتباع کرتے ہیں، یہ اتباع خود قرآن کریم کے حکم کے مطابق ہے اور حق تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے جیسا کہ ارشاد ہے : (آیت) فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، یعنی اگر تم خود احکام خدا و رسول سے واقف نہیں تو اہل علم سے پوچھ کر عمل کیا کرو “۔ یہود و نصارٰی کے عوام نے کتاب اللہ اور احکام خدا و رسول کو بالکل نظر انداز کرکے خود غرض پیشہ ور علماء یا جاہل عبادت گذاروں کے قول و عمل ہی کو اپنا دین بنا لیا تھا، اس کی مذمت اس آیت میں فرمائی گئی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ۝ ٠ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا۝ ٠ ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ ۭ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ ٣١ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ حبر الحِبْرُ : الأثر المستحسن، ومنه ما روي :«يخرج من النّار رجل قد ذهب حبره وسبره» أي : جماله وبهاؤه، ومنه سمّي الحبر، وشاعر مُحَبِّر، وشعر مُحَبَّر، وثوب حَبِير : محسّن، ومنه : أرض مِحْبَار والحبیر من السحاب، وحَبِرَ فلان : بقي بجلده أثر من قرح، والحَبْر : العالم وجمعه : أَحْبَار، لما يبقی من أثر علومهم في قلوب الناس، ومن آثار أفعالهم الحسنة المقتدی بها، قال تعالی: اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ [ التوبة/ 31] ، وإلى هذا المعنی أشار أمير المؤمنین رضي اللہ عنه بقوله :( العلماء باقون ما بقي الدّهر، أعيانهم مفقودة، وآثارهم في القلوب موجودة) وقوله عزّ وجلّ : فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] ، أي : يفرحون حتی يظهر عليهم حبار نعیمهم . ( ح ب ر ) الحبر ۔ وہ نشان جو عمدہ اور خوبصورت معلوم ہو حدیث میں ہے کہ آگ سے ایک آدمی نکلے گا جس کا حسن و جمال اور چہرے کی رونق ختم ہوچکی ہوگی اسی سے روشنائی کو حبرۃ کہا جاتا ہے ۔ شاعر محتبر عمدہ گو شاعر شعر محبر عمدہ شعر ۔ ثوب حبیر ملائم اور نیا کپڑا ۔ ارض محبار جلد سر سبز ہونے والی زمین ( الجمع محابیر ) الحبیر ( من اسحاب ) خوبصورت بادل ۔ حبر فلان اس کے جسم پر زخم کا نشان باقی ہے ۔ الحبر عالم کو کہتے ہیں اسلئے کہ لوگوں کے حلوں پر اس کے علم کا اثر باقی رہتا ہے ۔ اور افعال حسنہ میں لوگ اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علیٰ نے فرمایا کہ علماء تاقیامت باقی رہیں گے اگرچہ ا ن کی شخصیتیں اس دنیا سے فنا ہوجاتی ہیں لیکن ان کا آثار لوگوں دلوں پر باقی رہتے ہیں حبر کی جمع اجار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ [ التوبة/ 31] انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنالیا ہے ۔ اور آیت کریمہ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] کے معنی یہ ہیں کہ وہ جنت میں اس قدر خوش ہوں گے کہ وہاں کی نعمتوں کی ترو تازگی کا اثر ان کے چہروں پر ہویدا ہوگا رهب الرَّهْبَةُ والرُّهْبُ : مخافة مع تحرّز و اضطراب، قال : لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] ، وقال : جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] ، وقرئ : مِنَ الرَّهْبِ ، أي : الفزع . قال مقاتل : خرجت ألتمس تفسیر الرّهب، فلقیت أعرابيّة وأنا آكل، فقالت : يا عبد الله، تصدّق عليّ ، فملأت كفّي لأدفع إليها، فقالت : هاهنا في رَهْبِي «5» ، أي : كمّي . والأوّل أصحّ. قال تعالی: وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ، وقال : تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] ، أي : حملوهم علی أن يَرْهَبُوا، وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] ، أي : فخافون، والتَّرَهُّبُ : التّعبّد، وهو استعمال الرّهبة، والرَّهْبَانِيّةُ : غلوّ في تحمّل التّعبّد، من فرط الرّهبة . قال : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] ، والرُّهْبَانُ يكون واحدا، وجمعا، فمن جعله واحدا جمعه علی رَهَابِينَ ، ورَهَابِنَةٌ بالجمع أليق . والْإِرْهَابُ : فزع الإبل، وإنما هو من : أَرْهَبْتُ. ومنه : الرَّهْبُ «1» من الإبل، وقالت العرب : رَهَبُوتٌ خير من رحموت «2» . ( ر ھ ب ) الرھب والرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو قرآن میں : ۔ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] تمہاری ہیبت تو ( ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے بڑھکر ہے جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] اور دفع ) خوف کے لئے اپنے بازو سکیڑ لو ) ۔ اس میں ایک قرآت رھب بضمہ الراء بھی ہے ۔ جس کے معنی فزع یعنی گھبراہٹ کے ہیں متقاتل کہتے ہیں کہ رھب کی تفسیر معلوم کرنے کی غرض سے نکلا دریں اثنا کہ میں کھانا کھا رہا تھا ایک اعرابی عورت آئی ۔ اور اس نے کہا اسے اللہ کے بندے مجھے کچھ خیرات دیجئے جب میں لپ بھر کر اسے دینے لگا تو کہنے لگے یہاں میری آستین میں ڈال دیجئے ( تو میں سمجھ گیا کہ آیت میں بھی ( ھب بمعنی آستین ہے ) لیکن پہلے معنی یعنی گھبراہٹ کے زیادہ صحیح ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ہمارے فضل کی توقع اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے رہتے ہیں ) تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] اس سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] اور ان کو دہشت میں ڈال دیا ۔ میں استر ھاب کے معنی دہشت زدہ کرنے کے ہیں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] اور مجھ سے ہی ڈرو ۔ اور ترھب ( تفعیل کے معنی تعبد یعنی راہب بننے اور عبادت ہیں خوف سے کام لینے کے ہیں اور فرط خوف سے عبادت گذاری میں غلو کرنے رھبانیۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] اور رہبانیت ( لذت دنیا کا چوڑ بیٹھنا جو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی ۔ اور رھبان ( صومعہ لوگ واحد بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی جو اس کو واحد دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی جمع رھا بین آتی ہے لیکن اس کی جمع رھا بتۃ بنانا زیادہ مناسب ہے الا رھاب ( افعال ) کے اصل معنی اونٹوں کو خوف زدہ کرنے کے ہیں یہ ارھبت ( فعال کا مصدر ہے اور اسی سے زھب ہے جس کے معنی لاغر اونٹنی ( یا شتر نر قوی کلاں جثہ ) کے میں مشہور محاورہ ہے : ۔ کہ رحم سے خوف بہتر ہے ۔ _ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

احبار و رہبان قول باری ہے (اتخذوا العبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے) ایک قول کے مطابق حبر اس عالم کو کہتے ہیں جس کے اندر یہ خوبی ہو کہ وہ اپنے حسین انداز بیان کے ذریعے معانی میں عمدگی پیدا کردے۔ ایسے شخص کو جبر اور جبیر بھی کہا جاتا ہے۔ راہب ڈر اور خوف رکھنے والے انسان کو کہتے ہیں جس کے لباس سے خوف و خشیت ظاہر ہورہی ہو۔ راہب کی جمع رہبان ہے۔ اس لفظ کا استعمال عیسائیوں کے درویشوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ علماء اور درویش کن معنوں میں رب بنائے گئے قول باری (ارباباً من دون اللہ) کی تفسیر میں دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو بایں معنی رب بنالیا تھا کہ جس چیز کو یہ حرام قرار دیتے اسے یہ حرام سمجھ لیتے اور جس چیز کو حلال کردیتے اسے یہ حلال قرار دے دیتے۔ عدی (رض) بن حاتم کی روایت میں ہے کہ جب وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی (اتخذوا احبارھم ورھبا نھم ارباباً من دون اللہ) عدی نے عرض کیا کہ لوگ ان کی پرستش نہیں کرتے تھے پھر ان میں رب کس طرح قرار دیا گیا ؟ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ بات نہیں تھی کہ جب احبار و رہبان کسی چیز کو حرام قرار دیتے تو لوگ اسے حرام سمجھ لیتے اور جب کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو اسے حلال سجھ لیتے عدی نے اس کا جواب اثبات میں دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی ان پر پرستش تھی جو لوگ کیا کرتے تھے۔ تحلیل و تحریم کا حکم نہ صرف اس ذات کی طرف سے درست ہوسکتا ہے جو بندوں کے تمام صالح سے آگاہ ہو لیکن جب انہوں نے تحلیل و تحریم کے سلسلے میں اپنے احبار و رہبان کی تقلید کی اور اس بارے میں ان کی کہی ہوئی باتوں کو قبول کیا اور اللہ کے احکامات کو نظر انداز کردیا جو تحلیل و تحریم کے سلسلے میں انہیں دیئے گئے تھے تو انہیں اپنے احبار و رہبان کو رب بنا لینے والے قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے انہیں وہی مرتبہ دے دیا تھا جو رب کا ہوتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ لوگ ان کی اس طرح تعظیم کرتے تھے جس طرح رب کی کی جاتی ہے اس لئے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کے آگے سجدے میں گرپڑتے تھے۔ اللہ کے سوا کوئی اور اس نوعیت کی تعظیم کا مستحق نہیں ہوتا۔ جب انہوں نے اپنے احبار و رہبان کی اس طرح تعظیم شروع کردی تو ان پر یہ حکم عائد کردیا گیا کہ انہوں نے ان لوگوں کو اپنا رب بنالیا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١) ان یہودیوں نے اپنے علماء کو اور عیسائیوں نے اپنے مشائخ کو رب بنارکھا ہے معصیت خداوندی میں ان کی اطاعت کرتے ہیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی ایک اعتبار سے خدا بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو تمام آسمانی کتب میں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کریں

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ج) عیسائیوں میں دوسری بڑی گمراہی یہ پیدا ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے علماء و مشائخ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی الوہیت میں حصہ دار بنا لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تو ان کے ہاں باقاعدہ تین خداؤں میں سے ایک تھے اور اس حیثیت میں وہ آپ ( علیہ السلام) کی پرستش بھی کرتے تھے ‘ مگر احبارو رہبان کو رب ماننے کی کیفیت ذرا مختلف تھی۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) (جنہوں نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا تھا) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس آیت کے بارے میں وضاحت کی درخواست کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَمَا اِنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَھُمْ وَلٰکِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا اَحَلُّوْا شَیْءًا اسْتَحَلُّوْہُ وَاِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْھُمْ شَیْءًا حَرَّمُوْہُ ) (١) وہ ان (احبارو رہبان) کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ‘ لیکن جب وہ کسی شے کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال مان لیتے اور جب کسی شے کو حرام قرار دیتے تو اسے حرام مان لیتے یعنی حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے ‘ اور اگر کوئی دوسرا اس حق کو استعمال کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی الوہیت میں حصہ دار بن رہا ہے ‘ اور جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی کا یہ حق تسلیم کرتا ہے وہ گویا اسے اللہ کے سوا اپنا رب تسلیم کر رہا ہے۔ آج بھی پوپ کو پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے۔ جیسا کہ اس نے ایک فرمان کے ذریعے سے یہودیوں کو دو ہزار سال پرانے اس الزام سے بری کردیا ‘ کہ انہوں نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو سولی پر چڑھایا تھا۔ گویا اسے تاریخ تک کو بدل دینے کا اختیار ہے ‘ اسی طرح وہ کسی حرام چیز کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے۔ اس طرح کے تصورات ہمارے ہاں اسماعیلیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کا امام حاضر معصوم ہوتا ہے اور اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال کر دے اور جس چیز کو چاہے حرام کر دے۔ اس طرح انہوں نے شریعت کو ساقط کردیا ہے۔ تاہم یہ معاملہ بالخصوص گجرات (انڈیا) کے علاقے میں بسنے والے اسماعیلیوں کا ہے ‘ جبکہ ہنزہ میں جو اسماعیلی آباد ہیں ان کے ہاں شریعت موجود ہے ‘ کیونکہ یہ پرانے اسماعیلی ہیں جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ گجرات (انڈیا) کے علاقہ میں اسماعیلیوں نے جب مقامی آبادی میں اپنے نظریات کی تبلیغ شروع کی تو انہوں نے وہی کیا جو سینٹ پال نے کیا تھا۔ انہوں نے شریعت کو ساقط کردیا اور ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق اوتار کا عقیدہ اپنا لیا۔ مقامی ہندو آبادی میں اپنے نظریات کی آسان ترویج کے لیے انہوں نے حضرت علی (رض) کو دسویں اوتار کے طور پر پیش کیا (ہندوؤں کے ہاں نو اوتار کا عقیدہ رائج تھا) ۔ لہٰذا دشتم اوتار کا عقیدہ مستقل طور پر ان کے ہاں رائج ہوگیا۔ اس کے علاوہ ان کے حاضر امام کو مکمل اختیار ہے کہ وہ شریعت کے جس حکم کو چاہے منسوخ کر دے ‘ کسی حلال چیز کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :31 حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم ، جو پہلے عیسائی تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے منجملہ اور سوالات کے ایک یہ سوال بھی کیا تھا کہ اس آیت میں ہم پر اپنے علماء اور درویشوں کو خد ا بنا لینے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے ۔ جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ضرور ہم کرتے رہے ہیں ۔ فرمایا بس یہی ان کو خد ا بنا لینا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے لیے جائز و ناجائز کی حدود مقرر کرتے ہیں وہ دراصل خدائی کے مقام پر بزعم خود متمکن ہوتے ہیں اور جو ان کے اس حق شریعت سازی کو تسلیم کرتے ہیں وہ انہیں خدابناتے ہیں ۔ یہ دونوں الزام ، یعنی کسی کو خدا کا بیٹا قرار دینا ، اور کسی کو شریعت سازی کا حق دے دینا ، اس بات کے ثبوت میں پیش کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ ایمان باللہ کے دعوے میں جھوٹے ہیں ۔ خدا کی ہستی کو چاہے یہ مانتے ہوں مگر ان کا تصور خدائی اس قدر غلط ہے کہ اس کی وجہ سے ان کا خدا کو ماننا نہ ماننے کے برابر ہو گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

30: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں، حلال اور جس چیز کو چاہیں، حرام قرار دے دیں، واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہ راست علم نہیں رکھتے، ان کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع توکرنا ہی پڑتا ہے، اور اﷲ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں ان کی بات ماننی بھی پڑتی ہے۔ اس کا حکم خود قرآنِ کریم نے سورۂ نحل (۱۶: ۴۳) اور سورۂ انبیاء (۲۱:۷) میں دیا ہے۔ اس حد تک تو کوئی بات قابل اعتراض نہیں۔ لیکن یہود ونصاریٰ نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذات خود احکام وضع کرنے کا اختیار دے رکھا تھا کہ وہ آسمانی کتاب کی تشریح کے طور پر نہیں،؛ بلکہ اپنی مرضی سے جس چیز کو چاہیں، حلال اور جس چیز کو چاہیں، حرام قرار دے دیں، خواہ ان کا یہ حکم اللہ کی کتاب کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣١۔ اس آیت کی تفسیر عدی بن حاتم طائی (رض) کی حدیث سے اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے چند طریقوں سے روایت کیا اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے لیکن اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے قوت ہوجاتی ہے ترمذی کی سند میں حسین بن یزیدی کوفی اور عفیف بن اعین ان دو راویوں میں اگرچہ بعضے علماء کو کلام ہے لیکن ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اس صورت میں یہ حدیث معتبر ہے۔ عدی بن حاتم (رض) اپنی قوم کے سردار تھے جب یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ یہی آیت پڑھ رہے ہیں عدی (رض) نے کہا کہ نصرانی احبارو رہبان کو تو نہیں پوجتے ہیں آپ نے فرمایا کیا احبارو رہبان نے اپنی عقل سے خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں کیا اور حرام چیزوں کو حلال نہیں کیا اور نصاریٰ نے اس کو قبول نہیں کیا اور ان کی پیروی نہیں کی یہی عالم اور درویشوں کی عبادت ہوئی غرض آنحضرت نے عدی (رض) کو اسلام کی رغبت دلائی اور عدی (رض) نے اسلام قبول کیا اور کلمہ حق کی شہادت دی جس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی روایت ہے کہ اہل کتاب نے حلال و حرام میں عالم اور درویشوں اور عالموں کا ذکر کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ ان کو بھی لوگوں نے اپنا رب ٹھہرایا لیا کہ ان کو بھی اللہ کہنے لگے حالانکہ یہ مریم (علیہا السلام) کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے اور جس طرح اور آدمی کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں وہی حال ان کا ہے جس سے یہ صاف طور پر انسان معلوم ہوتے ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ مسیح ابن مریم کو خدا ماننے لگے پھر فرمایا کہ ان کو اور کسی بات کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آسمانی کتابوں میں ان کو یہی بتلایا گیا تھا کہ نرے اللہ ہی کی عبادت کرو اور اللہ کی ذات کا کوئی شریک نہیں ہے وہ تو اکیلا ہے اور شرک سے بالکل بری ہے۔ احبار یہود کے علماء کو کہتے ہیں اور رھبان نصاریٰ کے پادریوں کو اسلامی اور عیسائی قدیمی تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب بولس یہودی اور عیسائیوں کی لڑائی ہوئی اور اس لڑائی میں یہودیوں کا غلبہ ہوا تو نصاریٰ کے پادریوں نے اس وقت ترک دنیا کر کے جنگلوں کا رہنا اختیار کرلیا تھا اس واسطے ان کا لقب درویش مشہور ہوگیا یہودی اور نصاریٰ کے علماء نے بعضے حکم تورات اور انجیل کے برخلاف دے رکھے تھے جن حکموں کے سبب سے تورات اور انجیل پر عمل کرنا بند ہوگیا تھا۔ اسی واسطے فرمایا کہ جب ان لوگوں نے اللہ کے حکموں کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور پادریوں کے حکموں کو مانا تھا وہی عالم اور پادری گویا ان کے خدا ہیں۔ تورات میں بدکار مرد اور عورت کے سنگسار کرنے کا حکم ہے لیکن یہودی کے علماء نے تورات کے برخلاف ایسے مرد اور عورت کا منہ کالا کرنے اور کچھ کوڑے مار دینے کا فتویٰ دے رکھا تھا جس پر یہودی لوگ عمل کرتے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبداللہ (رض) بن عمر اور ابوہریرہ (رض) کی روایتوں میں جس طرح فتنہ کرنے کا حکم ہے اسی طرح تورات کے سفر احبار کے اٹھارویں باب میں بھی ختنہ کرنے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا فتنہ جو کرایا اس کا عیسائیوں کو اقرار ہے مگر حضرت عیسیٰ اور حواریوں کے زمانہ کے بعد بعضے عیسائی علماء کی عقلی وجوہات کی بنا پر اس حکم کی تعمیل عیسائیوں میں باقی نہیں رہی۔ ان بعضے عیسائی علماء سے مقصود وہی بولس یہودی اور اس کے ساتھی ہیں یہ قصہ ایک جگہ اس تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے کہ بولس پہلے یہودی تھا اور پھر فریب سے عیسائی ہوا اور شریعت عیسوی کے بہت سے احکام میں اس بولس کے سبب سے خراب پڑگئی۔ اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ بعضے عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے ہیں بولس کے وقت کی بعض تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں میں یہ مسئلہ بھی اسی بولس نے پھیلایا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ یہودی نصارا کے علماء نے اکثر ایسے فتوے دئیے جس سے تورات اور انجیل کے احکام متروک العمل ہوگئے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ایک حدیث سورة النساء میں گزر چکی ہے جس میں عبداللہ بن حذافہ (رض) کا قصہ ہے وہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حاکموں اور علماء کی اطاعت شریعت کی حد تک جائز ہے شریعت کی حد کے باہر نہیں انجیل یوحنا کی سترہویں باب کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول گزر چکا ہے جس میں انہوں نے اللہ کو اپنا معبود اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہا ہے جو عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا خدا کا بیٹا کہتے ہیں ان کے قائل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہی قول کافی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:31) احبارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ احبار جمع حبر کی۔ اہل تفسیر اسے حبر (بالفتح) اور اہل لغت حبر (بالجر) پڑھتے ہیں۔ فرار کے نزدیک دونوں طرح صحیح ہے اس کا معنی ہے جید عالم جو طڑی عمدگی اور سلیقہ سے بات کرسکے۔ رھبانھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ رھبان راھب کی جمع ہے جو رھبۃ بمعنی خوف سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی ساری زندگی اللہ کے خوف سے اس کی عبادت کے لئے وقف کردیں۔ ارباب۔ جمع ہے رب کی۔ معبود ان۔ المسیح ابن مریم ۔ فعل اتخذوا کا مفعول ثالث پہلے دو مفعول احبارھم اور رھبانہم ہیں۔ یہاں رب (اربابا) ماننے سے مراد یہ ہے کہ معاصی میں ان کا حکم ماننا۔ ان کے حرام کو حلال کہنے کو حلال ماننا۔ اور حلال کو حرام کہنے کو حرام ماننا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یہ ان کے اوصاف قبیحہ کی دوسری قسم ہے اس معنی میں کہ جسے وہ حلال کہیں سے یہ حلال سمجھیں اور جسے وہ حرام کہیں سمجھیں جیسا کہ عد (رض) بن حاتم کی ایک روایت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ ( ترمذی وغیرہ) بالکل یہی طرز علم فی زماننا مقلدین فقہا کا ہے۔ کہ قرآن و حدیث کے نصوح پر عمل کی بجائے اپنے ائمہ کے اقوال پر جمے رہتے ہیں۔ (رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کے ساتھ اس لیے قتال کرنا ہے کیونکہ وہ واضح طور پر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ یہودیوں نے اپنی جہالت کی بناء پر یہ عقیدہ بنایا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں جس کے دو سبب مفسرین بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بعد یہودیوں پر بخت نصر نے حملہ کیا اور اس نے تورات کلی طور پر ختم کرنے کا حکم دیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ تورات دنیا میں بالکل ناپید ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے دین موسوی کی تجدید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جنھوں نے وحی الہی کی روشنی میں تورات کو دوبارہ لکھوایا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) سو سال تک فوت رہے پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں زندہ فرمایا جب وہ اٹھے تو ان کے سامنے ان کے گدھے کو زندہ کیا اور جو کھانا حضرت عزیر کے ساتھ تھا وہ سو سال گزرنے کے باوجود اسی طرح ترو تازہ رہا جس کی تفصیل سورة البقرۃ : آیت ٢٦٠ میں بیان کی گئی ہے اس معجزہ کی بناء پر یہودیوں نے عقیدتاً حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اور ان کی دیکھا دیکھی عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور حضرت مریم [ کو اللہ کی بیوی قرار دیا جس کی تردید سورة المائدۃ : آیت ٧٥ میں کی گئی ہے۔ گویا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے انبیاء کے معجزات دیکھ کر انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یہ محض ان کی اعتقادی موشگافیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں غارت کرے۔ یہ کن ٹامک ٹوئیوں میں بھٹکے جا رہے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے راستے پر چل پڑے تو اس کی کوئی انتہا نہیں رہتی یہی کیفیت یہود و نصاریٰ کی تھی اور ہے کہ انھوں نے اپنے علماء، درویشوں اور بزرگوں کو رب کا درجہ دے دیا تھا بالخصوص عیسائیوں نے مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو خدائی مقام پر پہنچا یا حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ خالص ایک اللہ کی عبادت کریں جسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے یکتا ہے اور وہ مبرا اور پاک ہے ان سے جن کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ عدی بن حاتم طائی جب مسلمان ہوئے تو انھوں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس آیت کی تلاوت کرکے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے علماء اور صلحاء کو رب بنا لیا ہے ہم نے تو کبھی انھیں رب نہیں بنایا۔ اس پر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (قَالَ أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُونُوا یَعْبُدُونَہُمْ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَہُمْ شَیْءًا اسْتَحَلُّوہُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَیْہِمْ شَیْءًا حَرَّمُوہُ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ، باب من سورة التوبۃ ] ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب کسی چیز کو ان کے لیے حلال کہتے تو وہ اس کو حلال گردانتے اور جب ان کے لیے حرام کہتے تو وہ اس کو حرام سمجھتے تھے۔ “ امام رازی اپنے استاد کے حوالے سے کہتے ہیں کہ میری نظر سے ایسے مقلدین گزرے ہیں جن کے سامنے ان کے مسلک کے خلاف قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں گئیں۔ تو انھوں نے ان کی طرف التفات نہ کیا الٹے حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے کہ ان کے مسلک کے خلاف یہ کیسی آیات ہیں۔ مسائل ١۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ٢۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ ٣۔ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ ٤۔ مشرک اپنے عقیدہ کے بارے میں بلا دلیل بحث و مباحثہ کرتا ہے۔ ٥۔ شرک کرنے والا گمراہ ہوتا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے۔ ٦۔ علماء اور صلحاء کو خدائی درجہ نہیں دینا چاہیے۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور وہ مشرکوں کے شرک سے مبرا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ لوگوں کے بنائے ہوئے شریکوں سے پاک ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس چیز سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ١) ٣۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النمل : ٦٣) ٤۔ اللہ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : ٦٨) ٥۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : ٦٧) ٦۔ کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے۔ اللہ پاک ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (الطور : ٤٣) ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ٧۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اسکے قبضہ قدرت میں ہے۔ (البقرۃ : ١١٦) ٨۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کا اسے علم نہیں ہے اللہ پاک ہے اور مشرکوں کے شرک سے بلند و بالا ہے۔ (یونس : ١٨) ٩۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہے اور شراکت داری سے پاک ہے۔ (مریم : ٣٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب قرآن کریم اہل کتاب کی گمراہیوں اور انحرافات کا ایک دوسرا ورق الٹتا ہے۔ یہاں اب ان کی گمراہی محض اعتقاد اور اقوال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فاسد اعتقادات و تصورات پر ان کی جو عملی صورت حال بنتی ہے اس کے اعتبار سے بھی وہ گمراہ اور منحرف ہیں۔ ۔۔۔ اس آیت میں بھی یہی بات جاری ہے جو اس سبق کا اصلی موضوع یعنی یہ کہ یہ لوگ در اصل اہل کتاب ہی نہیں۔ لہذا اس حوالے سے ان کو دین حق پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام پر نہیں ہیں۔ اس بات کی شہادت ان کی عملی زندگی دے رہی ہے۔ اس کی شہادت ان کے تصورات دے رہے ہیں ، ان کو حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں مگر انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا دیا جیسا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو رب بنایا جو ان کی جانب سے صریح شرک ہے۔ ج کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے اعتقادات و تصورات کے اعتبار سے اور اپنے اعمال اور واقعی زندگی کے اعتبار سے دین حق پر نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے احبارو رہبان کو کس طرح ، اللہ کے مقابلے میں رب قرار دیا تھا ؟ اس کی تشریح کرنے سے قبل ہم چاہتے ہیں کہ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول تفسیری روایات یہاں نقل کردیں۔ کیونکہ خود حضور کی تفسیر قول فیصل ہے۔ احبار لغت کے اعتبار سے حبر یا حبر کی جمع ہے۔ یعنی حاء کے کسرے یا فتح کے ساتھ۔ یہ اہل کتاب کے علماء کا لقب ہے۔ اور علمائے یہود پر اس کا اطلاق زیادہ ہے۔ رہبان راہب کی جمع ہے۔ یہ عیسائیوں کے نزدیک اس شخص کو کہا جاتا ہے جو عبادت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے اور تمام دوسری سرگرمیوں سے کٹ جائے۔ بالعموم ایسا شخص شادی نہیں کرتا ، نہ کوئی روزگار کرتا ہے۔ لہذا وہ معاشی تکلفات سے بےغم ہوتا ہے۔ در منثور میں امام ترمذی کی روایت ہے جسے انہوں نے حدیث حسن کہا ہے۔ نیز ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ یہ روایت حضرت عدی ابن حاتم کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں حضور کے پاس آیا تو آپ سورة توبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ نے یہ آیت پڑھی اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ۔ تو حضور نے فرمایا " یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ ارباب و رہبان کی عبادت نہ کرتے تھے لیکن یہ بات تھی کہ جب وہ ان کے لیے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال سمجھتے اور جس چیز کو وہ حرام قرار دیتے تو یہ اسے حرام سمجھتے " ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عدی ابن حاتم کی یہ روایت نقل کی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ان تک حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پہنچی تو وہ شام کی طرف بھاگ نکلے۔ یہ صاحب جاہلیت میں عیسائی بن گئے تھے۔ چناچہ ان کی بہن اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ گرفتار ہوئی ، تو حضور اکرم نے ان کے ساتھ بہت ہی کریمانہ برتاؤ کیا اور اسے عطیات دئیے۔ یہ اپنے بھائی کے پاس واپس گئی اور اسے اسلام کی طرف رغبت دلائی اور اس پر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ جائیں۔ چناچہ حضرت عدی مدینہ گئے۔ یہ اپنی قوم دلی کے رئیس تھے اور ان کے والد حاتم الطائی جود و کرم میں مشہور زمانہ تھے۔ لوگوں کے اندر مدینہ میں اس کی آمد کا چرچا ہوا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے۔ ان کے گلے میں سونے کی صلیب تھی حضور یہ آیت پڑھ رہے تھے اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ حضور عیسائی تو احبارو رہبان کی عبادت نہیں کرتے۔ تو حضور نے فرمایا یہ درست ہے کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے۔ لیکن انہوں نے ان کے لیے حلال اور حرام کی حدود خود متعین کی ہیں اور لوگ اس معاملے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں لہذا یہ ان عوام کی طرف سے ان کی بندگی ہے۔ امام سدی کہتے ہیں کہ انہوں نے انسانوں کو اپنا مقتدا بنا لیا تھا اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے : وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا " حالانکہ ان کو صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی کریں " یعنی اللہ جس چیز کو حلال قرار دے اسے حلال سمجھیں اور اللہ جسے حرام قرار دے اسے حرام سمجھیں۔ یعنی اللہ نے جو قانون بنایا اس کی اطاعت ہو اور جو حکم دیا وہ نافذ ہو۔ امام آلوسی اپنی مشہور تفسیر میں کہتے ہیں " مفسرین کی اکثریت نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ احبارو رہبان کو الہہ العالم سمجھتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ان کے اوامرو نواہی میں ان کی اطاعت کرتے تھے "۔ اس واضح ترین آیت اور پھر حضور اکرم کی توضیح و تشریح پر قدماء مفسرین اور متاخرین مفسرین کی تشریحات سے ہمارے سامنے دین اسلام کے اصلی تصورات و عقائد کے حوالے سے یہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ اور یہ نتائج نہایت ہی اہم اور مختصر ہیں۔ نص قرآن اور تشریحات رسول کے مطابق عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کا اتباع کیا جائے۔ کیونکہ یہود و نصاری اپنے احبار اور رہبان کو عقیدۃ الہ نہ سمجھتے تھے اور نہ ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے تھے لیکن اس حقیقت کے باوجود اللہ نے ان پر کفر کا الزام لگایا۔ محض اس لیے کہ یہ لوگ شریعت کو اپنے مذہبی مقتداؤں سے اخذ کرتے تھے اور پھر اس کی اطاعت کرتے تھے۔ لہذا اگر کوئی کسی کو الہہ نہیں بھی سمجھتا اور اس کے سامنے مراسم عبودیت نہیں بھی بجا لاتا لیکن اگر اس سے قانون و شریعت اخذ کرتا ہے کہ تو یہ شخص مشرک و کافر ہے اور جس سے وہ قانون اخذ کرتا ہے وہ بمنزلہ رب ہے۔ یہود جو اپنے احبار سے قانون اخذ کرتے تھے اور نصاری جو مسیح کو الہ بھی سمجھتے تھے اور رہبان سے قانون لیتے تھے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی درجے میں رکھا ہے اور دونوں کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں فرمایا کیونکہ دونوں ارتکاب شرک میں برابر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جونہی ایک شخص اللہ کے سوا کسی اور کو حق قانون سازی دیتا ہے وہ مشرک ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ اسے الہہ یا معبود نہ سمجھتا ہو اور اس کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا ہو۔ جیسا کہ درج بالا تشریحات سے واضح ہوگیا ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس نکتے کی مزید تشریح کریں۔ یہ حقائق جب مسلمانوں کے سامنے پیش کیے گئے تو اس وقت امت مسلمہ کو مخصوص حالات درپیش تھے۔ اس میں رومیوں کے ساتھ جنگ کا مسئلہ درپیش تھا۔ اور بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تردد اور خلجان تھا کہ رومی بہرحال اہل کتاب تو ہیں ، اس لیے اس تردد اور شبہہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیات اتریں اور یہ بتایا گیا کہ اگرچہ اہل کتاب مومن باللہ ہیں اور یہ کہ ان کے ایمان کی حالت یہ ہے لیکن مخصوص حالات میں نزول کے باوجود ان آیات میں دین اسلام کے عام اصول اور مطلق حقائق بتائے گئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک دین حق صرف اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ دین اسلام کے سوا لوگوں کی جانب سے کوئی اور دین قبول نہیں کرتا۔ اور دین اسلام دنیا میں مکمل طور پر قائم تب ہوگا جب اس زمین پر اللہ کی شریعت نافذ ہوجائے اور اس شریعت کے نفاذ سے بھی پہلے یہ کہ لوگ اللہ وحدہ کو الہہ سمجھیں اور مراسم عبودیت بھی صرف اس کے سامنے بجا لائیں۔ تو اگر لوگ اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کے متبع ہوں تو ان میں وہ شرط موجود ہوگئی جو یہود و نصاری میں موجود تھی اور اس وجہ سے ان کو غیر مومن قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ بار بار مومن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی انسان کی شریعت کو قبول کرتے ہی وہ لوگ مشرک ٹھہرے۔ الا یہ کہ کوئی ایسی صورت حال ہو کہ وہ غیر اسلامی قانون نظام میں مجبوراً رو رہے ہوں اور مجبوراً اس کا اتباع کر رہے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس نظام کو دور کرنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہوں لفظ دین کا مفہوم اس قدر سکڑ گیا ہے کہ لوگ اسے صرف دینی عقیدے کے مترادف سمجھنے لگے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ مراسم عبودیت اور پرستش تک وسیع کرتے ہیں۔ اس حد تک تو یہودی بھی اپنے دین کے متبع تھے اور اس محدود معنی میں اپنے آپ کو دین دار کہتے تھے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریح تو یہ بتاتی ہے کہ حقیقی عنوں میں وہ نہ مومن تھے اور نہ دیندار تھے کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا تھا۔ دین کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے اور اس کا تحقق تب ہوسکتا ہے جب کوئی خدا کے قانونی نظام کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ لہذا یہ معاملہ بہت ہی سنجیدہ ہے اور یہ مفہوم ان لوگوں کے اہل دین ہونے کو تسلیم نہیں کرتا جو شریعت کے علاوہ دوسرے قانونی نظاموں کے متبع ہیں ، الا یہ وہ مجبور ہوں۔ نہ اسلام میں ایسے لوگ مسلم اور مومن ہیں صرف اس لیے کہ وہ اللہ کو الہ واحد سمجھتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ ہمارے دور میں عوام کو جو ڈھیل دے دی گئی ہے یہ دین اسلام کے لیے بہت ہی خطرناک ڈھیل ہے۔ یہ در اصل ایک خطرناک ہتھیار ہے جو اسلام کے دشمن اسلام کی بیخ کنی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ ان حالات اور ان افراد پر اسلام کی تختی نصب کرتے ہیں جن کے بارے میں اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ اہل دین نہیں ، یہ تو مومن نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو رب بنایا ہوا ہے۔ جب دشمنان دین کو یہ اصرار ہے کہ ایسے لوگوں کو وہ دیندار ثابت کریں جو درحقیقت دیندار نہیں ہیں۔ تو اسلام کے حامیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ ایسے حالات کو غیر اسلامی حالات ثابت کریں۔ ایسے افراد اور ایسے معاشروں کو غیر اسلامی افراد اور معاشرے ثابت کریں۔ اور اس مسئلے کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں کہ ایسے لوگوں نے دوسرے افراد کو رب بنا رکھا ہے۔ حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا : تَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ " انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں "

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے : پھر فرمایا (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار (یعنی علماء یہود) کو اور راہبوں (یعنی نصاریٰ کے درویشوں) کو اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو (بھی) رب بنا لیا۔ نصاریٰ کے راہب تارک دنیا ہو کر اپنے ان گھروں میں رہتے تھے جو جنگلوں میں بنا لیتے تھے اس لیے رہبان کا ترجمہ درویش کیا گیا۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) جو پہلے نصرانی تھے (بعد میں مسلمان ہوئے) انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اس وقت میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا، اے عدی اپنی گردن سے اس بت کو نکال کر پھینک دو میں نے اس کو پھینک دیا واپس آیا تو آپ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) پڑھ رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے عالموں اور درویشوں کی عبادت تو نہیں کرتے پھر یہ کیوں فرمایا کہ احبار اور رھبان کو رب بنا لیا۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بات نہیں کہ یہ لوگ جو چیز تمہارے لیے حرام کردیں تم اسے حرام کرلیتے ہو اور جو چیز حلال کردیں تم اسے حلال کرلیتے ہو میں نے کہا کہ ہاں یہ بات تو ہے آپ نے فرمایا یہ ان کی عبادت ہے۔ (معالم التنزیل ص ٢٨٥ ج ٢) اور سنن ترمذی وغیرہ میں اس طرح ہے کہ عدی بن حاتم نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سورة برأت کی آیت (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جن چیزوں کو وہ حلال کہتے تھے انہیں حلال سمجھتے تھے اور جن چیزوں کو وہ حرام کردیتے تھے ان کو حرام مان لیتے تھے۔ (درمنثور ص ٢٣٠ ج ٣) تحلیل و تحریم میں غیر اللہ کی فرمانبر داری شرک ہے : دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق ومالک ہے جن چیزوں سے نفع حاصل کرتے ہیں وہ بھی اسی نے پیدا کیں اور جو لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں ان کو بھی اسی نے پیدا فرمایا، اسے اختیار ہے کہ جس چیز کو جس کے لیے حلال قرار دے اور جس کے لیے حرام قرار دے اس نے سابقہ امتوں کے لیے بعض چیزیں حرام قرار دیں اور اس امت کے لیے حلال کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے پاس سے تحلیل و تحریم کے قانون بنائے۔ جو شخص اپنے طور پر کچھ چیزوں کو حلال اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دے چاہے اپنے لیے خواہ دوسروں پر (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا قُلْ ا آللّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ یہ تو بتاؤ جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل فرمایا سو اس میں سے تم نے حرام اور حلال تجویز کرلیا۔ کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر تہمت باندھتے ہو) ۔ جب تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے جو خالق اور مالک ہے تو اس کے سوا جو کوئی شخص تحلیل و تحریم کے قانون بنائے اور اپنے پاس سے حلال و حرام قرار دے اس کی بات ماننا اور فرمانبر داری کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک بنانا ہوا جیسے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنا اس کی عبادت ہے اسی طرح ان امور میں غیر اللہ کی فرمانبر داری کرنا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہیں یہ ان کی عبادت ہے چاہے ان کو سجدہ نہ کریں چونکہ ان جاری کیے ہوئے احکام کے ساتھ فرمانبر داری کا وہی معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ ہونا چاہئے اس لیے ان کے اتباع اور اطاعت کو عبادت قرار دیا۔ پھر فرمایا : (وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا) (اور انہیں یہی حکم ہوا تھا کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کریں) یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوں (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (کوئی معبود نہیں اس کے سوا) وہی معبود حقیقی ہے اس کی عبادت کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا شرک ہے۔ (سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے) ۔ فائدہ : حضرت عدی بن حاتم (رض) کو جو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کہ وہ لوگ اپنے علماء کو اور درویشوں کو اس طرح اپنا رب بنا لیتے تھے کہ ان کی تحلیل و تحریم پر عمل کرتے تھے اس میں عبادت بالمعنی المعروف کی نفی نہیں ہے۔ عام طور پر جو ان کا طریقہ تھا اسے بیان فرما دیا، ان میں وہ لوگ بھی تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی باقاعدہ عبادت کرتے تھے۔ اور ان کو (ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ) یعنی تیسرا معبود مانتے تھے بلکہ صلیب کو بھی پوجتے تھے۔ آیت بالا میں جو (وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) فرمایا ہے (اور اس لفظ کو جو احبار اور رہبان پر معطوف کر کے علیحدہ سے ذکر فرمایا ہے) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو باقاعدہ معبود مانتے تھے وہ تو اللہ کے پیغمبر تھے اپنی طرف سے تحلیل و تحریم کرنے والے نہ تھے ان کا بعض چیزوں کو حلال اور بعض چیزوں کو حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ فائدہ : اوپر جو سورة نحل کی آیت نقل کی گئی ہے اس کا مضمون دوسری آیات میں بھی ہے جن میں صاف صاف بتایا ہے کہ تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اسلام کے دعویداروں میں بعض فرقے ایسے ہیں جو تحلیل و تحریم میں اور احکام کو منسوخ کرنے اور بدلنے میں اور عبادت کے طریقے تجویز کرنے میں اپنے امام اور مجتہد کو با اختیار سمجھتے ہیں اور اپنے امام کو قرآن و حدیث کا پابند نہیں سمجھتے۔ ان کا امام اور مجتہد جو کچھ کہتا ہے اسی کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن کی تصریحات اور تعلیمات ان کے نزدیک بےحیثیت ہیں۔ ایسے فرقوں کے کفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ تصریحات قرآنیہ کو کوئی وزن نہیں دیتے ان کے نزدیک امام کو سب کچھ اختیار ہے جن لوگوں نے ان کا مذہب ایجاد کیا ہے انہوں نے اپنے ہاتھ میں تحلیل و تحریم کے اختیارات رکھنے کے لیے اپنے عوام کو یہ عقیدہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ امام ہی سب کچھ ہے۔ روافض کا امام جب چاہے نماز جمعہ جاری کر دے اور جب چاہے منسوخ کردے۔ اور اسی طرح دیگر امور میں بھی ان کے یہاں یہی صورت حال ہے۔ ایک بہائیہ فرقہ ہے۔ ان کے ہاں بھی دین اسلام سے ہٹ کر فرائض اور محرمات کی تفصیلات ہیں۔ اور بعض معاصی کی تعزیرات انہوں نے خود سے مقرر کی ہیں جو ان کے بعض رسالوں کو دیکھ کر مطالعہ میں آئیں، منکرین حدیث میں ایک شخص چکڑا لوی تھا اس نے نماز کی ترتیب اور ترکیب اور طریقہء عبادت اپنے پاس سے تجویز کیا تھا۔ یہ سب ان لوگوں کی گمراہی ہے جو سراپا کفر ہے۔ فائدہ : اب دور حاضر میں جبکہ آزاد منش لوگ اسلامی احکام پر چلنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اور دشمنان اسلام سے متاثر ہیں، کہتے ہیں کہ حضرات علماء کرام جمع ہو کر میٹنگ کریں، اور اسلامی احکام کے بارے میں غور و فکر کریں اور فلاں فلاں احکام کو بدل دیں یا ہلکا کردیں اور فلاں فلاں حرام چیزوں کو حلال قرار دے دیں۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور حماقت کی بات ہے۔ اگر علماء ایسا کرنے بیٹھیں گے تو کافر ہوجائیں گے اور اگر کسی حرام چیز کو حلال قرار دے دیں گے تو ان کے حلال کردینے سے حلال نہ ہوگی۔ اباحی (یعنی حرام چیزوں کو مباح قرار دینے والے) قسم کے لوگ جو نام نہاد عالم کہلاتے ہیں انہوں نے سود، بیمہ اور تصویروں کو اور بعض دیگر محرمات کو حلال کہہ دیا ہے ان کے کہنے اور لکھنے سے وہ چیزیں حلال نہیں ہوگئیں۔ خوب سمجھ لیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26: قتال کی وجہ رابع :“ احبار ” علماء اہل کتاب۔ “ رُھْبَان ” تارک الدنیا، صوفی۔ مراد روحانی پیشوا اور سجادہ نشین۔ یہود و نصٓریٰ اپنے علماء اور پیروں فقیروں کو متصرف و کارساز سمجھ کر ان کو پکارتے اور ان کے آگے سجدے کرتے تھے۔ اور ان کو تحلیل وتحریم کے مختار مانتے تھے۔ “ کانوا یسجدون لھم کما یسجدون لله والسجود لا یکون الا لله فاطلق علیھم ذلک مجازا (بحرج 5 ص 32) حیث اطاعوھم فی تحلیل ما حرم اللہ و تحریم ما احل اللہ کما یطاع الارباب فی اوامرھم ونواھیھم ” (مدارک ج 2 ص 94) ۔ 27:“ اُمِرُوْا ” کی ضمیر سے وہی یہود و نصاریٰ مراد ہیں جو “ اِتَّخَذُوْا ” کے فاعل ہیں یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو رب بنا لیا اور اللہ کے سوا ان کی عبادت کرنے لگے حالانکہ تورات اور انجیل میں ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک الٰہ کی عبادت کریں اور اللہ کے سوا کوئی متصرف و کارساز نہیں اور اس کے سوا کوئی اور پکار کے لائق نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

31 ان یہودونصاریٰ نے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنالیا ہے اور مسیح ابن مریم کو رب نے بنا رکھا ہے حالانکہ ان کو آسمانی کتب میں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہ ان لوگوں کے شرک اور ان کے شریک کرنے سے پاک ہے۔ عالموں اور مشائخ کی ایسی اطاعت کہ خدا کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا جائے ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کے عالم یا درویش جو اپنی عقل سے ٹھہرا دیتے وہ جانتے خدا کے ہاں ہم کو چھٹکار ہوگیا اور ٹھہراتے خاطر کو یا طمع کو سو عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے جب معلوم ہو کہ طمع سے کہا پھر وہ سند نہیں۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ عالم اور درویش جو دنیا کے لالچ میں یا کسی کو محض خوش کرنے کے لئے کہہ دیں وہ قابل عمل نہیں۔