Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 40

سورة التوبة

اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۰﴾

If you do not aid the Prophet - Allah has already aided him when those who disbelieved had driven him out [of Makkah] as one of two, when they were in the cave and he said to his companion, "Do not grieve; indeed Allah is with us." And Allah sent down his tranquillity upon him and supported him with angels you did not see and made the word of those who disbelieved the lowest, while the word of Allah - that is the highest. And Allah is Exalted in Might and Wise.

اگر تم ان ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے ( دیس سے ) نکال دیا تھا دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں اس نے کافروں کی بات پست کردی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے اللہ غالب ہے حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah supports His Prophet Allah said, إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ ... If you help him (Muhammad) not (it does not matter), for Allah did indeed help him, if you do not support His Prophet, then it does not matter, for Allah will help, support, suffice and protect him, just as He did, ... إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ ... when the disbelievers drove him out, the second of the two; During the year of the Hijrah, the idolators tried to kill, imprison or expel the Prophet, who escaped with his friend and Companion, Abu Bakr bin Abi Quhafah, to the cave of Thawr. They remained in the cave for three days so that the pagans who were sent in their pursuit, returned (to Makkah), and they proceed to Al-Madinah. ... إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا ... when they were both in the cave, he said to his companion: "Be not sad (or afraid), surely, Allah is with us." While in the cave, Abu Bakr was afraid the pagans might discover them for fear that some harm might touch the Messenger. The Prophet kept reassuring him and strengthening his resolve, saying, يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا O Abu Bakr! What do you think about two, with Allah as their third! Imam Ahmad recorded from Anas that Abu Bakr said to him, "I said to the Prophet when we were in the cave, `If any of them looks down at his feet, he will see us.' He said, يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا O Abu Bakr! What do you think about two with Allah as their third!" This is recorded in the Two Sahihs. This is why Allah said, ... فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ ... Then Allah sent down His Sakinah upon him, sent His aid and triumph to His Messenger, or they say it refers to Abu Bakr, ... وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا ... and strengthened him with forces which you saw not, (the angels), ... وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا ... and made the word of those who disbelieved the lowermost, while the Word of Allah that became the uppermost;) Ibn Abbas commented, "'The word of those who disbelieved', is Shirk, while, `The Word of Allah' is `La ilaha illallah." It is recorded in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ashari said, "The Messenger of Allah was asked about a man who fights because of courage, or out of rage for his honor, or to show off. Whom among them is in the cause of Allah?' The Prophet said, مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله He who fights so that Allah's Word is superior, then he fights in Allah's cause." Allah said next, ... وَاللّهُ عَزِيزٌ ... and Allah is All-Mighty, in His revenge and taking retribution, He is the Most Formidable and those who seek refuge with Him and take shelter by adhering to what He instructs are never made to suffer injustice, ... حَكِيمٌ All-Wise, in His statements and actions.

آغاز ہجرت تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں ۔ میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں ۔ یاد رکھو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ کے قتل ، قید یا دیس نکالا دینے کی سازش کی تھی اور آپ اپنے سچے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ شریف سے بحکم الٰہی تیز رفتاری سے نکلے تھے تو کون ان کا مددگار تھا ؟ تین دن غار میں گذارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ شریف کا راستہ لیں ۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو کوئی ایذاء پہنچائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو بکر بن ابو قحافہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا آپ نے فرمایا ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہے ۔ الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی ۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسکین نازل فرمائی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں ۔ اسلئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا ۔ شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لئے ۔ دوسرا حمیت قومی کے لئے ، تیسرا لوگوں کو خشو کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ نے فرمایا جو کلمہ حق کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ راہ حق کا مجاہد ہے اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے ۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی روک سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے ۔ کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے ۔ اس کے سب اقوال افعال حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں ۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابوبکر صدیق سے کہا تھا ' غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ' اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) ہمارے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، یا ابابکر ! ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما (صحیح بخاری) اے ابوبکر ! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ کی مدد اور اس کی نصرت جن کو شامل حال ہے۔ 40۔ 2 یہ مدد کی وہ دو صورتیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی گئی۔ ایک سکینت، دوسری فرشتوں کی تائید۔ 40۔ 3 کافروں کے کلمے سے شرک اور کلمۃ اللہ سے توحید مراد ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا۔ ایک شخص بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے، ایک قبائلی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، ایک اور ریاکاری کے لئے لڑتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے، آپ نے فرمایا ' جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے، وہ فی سبیل اللہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] آپ کو ہجرت کی اجازت :۔ ہم یہاں پہلے بخاری سے ہجرت کے کچھ چیدہ چیدہ واقعات بیان کریں گے۔ پھر اس آیت کے نکات پیش کریں گے۔ سیدۃ عائشہ (رض) فرماتی ہیں ایک دن ٹھیک دوپہر کو ہم اپنے گھر بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا۔ دیکھو رسول اکرم اپنا منہ چھپائے ہمارے ہاں آ رہے ہیں۔ ابوبکر صدیق (رض) کہنے لگے۔ آپ جو اس وقت تشریف لائے ہیں ضرور کوئی اہم معاملہ ہے اتنے میں آپ آپہنچے۔ اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اجازت دی گئی وہ اندر داخل ہوئے تو ابوبکر صدیق (رض) سے کہا && دوسروں کو یہاں سے نکال دو ۔ && سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے کہا۔ && یا رسول اللہ ! یہاں آپ کے گھر کے لوگ ہی تو ہیں۔ && پھر آپ نے فرمایا && مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی۔ && ابوبکر صدیق (رض) کہنے لگے && مجھے بھی ساتھ لے جائیں گے ؟ && آپ نے فرمایا && ہاں && ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا && ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔ && آپ نے فرمایا && قیمتاً لوں گا && چناچہ میں نے جلدی سے ان دونوں کا سامان تیار کیا۔ توشہ ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر نے اپنا کمر بند پھاڑ کر تھیلے کا منہ باندھ دیا۔ اس دن سے ان کا نام ذوالنطاق یا ذالنطاقین پڑگیا۔ پھر آپ اور ابوبکر صدیق (رض) ثور پہاڑ کی غار میں چلے گئے اور تین راتیں وہیں چھپے رہے۔ عبداللہ بن ابوبکر جو ایک ہوشیار اور نوجوان آدمی تھے رات ان کے ہاں گزارتے اور منہ اندھیرے مکہ قریش کے ہاں آجاتے جیسے رات مکہ میں گزاری ہو۔ اور دن بھر قریش کی ان دونوں کو نقصان پہنچانے والی باتیں سنتے اور رات کے اندھیرے میں وہاں جا کر انہیں بتلا دیتے۔ اور عامر بن فہیرہ جو ابوبکر صدیق (رض) کے غلام تھے گلہ سے ایک دودھ دینے والی بکری روک کے رکھتے۔ جب رات کی ایک گھڑی گزر جاتی تو وہ اس بکری کو غار میں لے آتے تو دونوں صاحب تازہ اور گرم دودھ پی کر رات بسر کرتے اور منہ اندھیرے ہی بکریوں کو آواز دینا شروع کردیتے۔ وہ تین راتیں ایسا ہی کرتے رہے۔ آپ اور ابوبکر صدیق (رض) نے قبیلہ بنی وائل کے ایک شخص (عبداللہ بن اریقط) کو اجرت پر راستہ بتلانے والا خریت مقرر کیا تھا۔ اگرچہ یہ کافر ہی تھا تاہم دونوں صاحبوں نے اس پر اعتماد کیا اور مکہ سے نکلتے وقت اپنی اونٹنیاں اس کے حوالہ کر کے کہا تھا کہ تین رات کے بعد وہ اونٹنیاں لے کر غار ثور پر آجائے۔ چناچہ وہ تین راتیں گزارنے کے بعد صبح اونٹنیاں لے کر آگیا۔ عامر بن فہیرہ بھی ساتھ ہی روانہ ہوئے اور راہ بتانے والے نے ساحل کا راستہ اختیار کیا۔ سراقہ بن مالک کا تعاقب :۔ سراقہ بن مالک بن جعشم کو اپنے بھتیجے عبدالرحمن بن مالک سے خبر ملی کہ قریش نے ان دونوں صاحبوں میں سے ہر ایک کے قتل یا گرفتار کرنے پر سو اونٹ (انعام) کا وعدہ کیا ہے۔ ایک دن میری ہی قوم (بنی مدلج) کے ایک آدمی نے مجھے کہا && سراقہ ! میں نے ابھی چند آدمی دیکھے جو ساحل کے رستہ سے جا رہے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھی ہیں۔ && سراقہ کہتے ہیں میں سمجھ تو گیا مگر بظاہر یہی کہا کہ وہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھی نہیں بلکہ فلاں فلاں ہوں گے جو اپنی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں گئے ہیں۔ && یہ کہہ کر میں نے چوری چھپے اپنا برچھا سنبھالا اور اپنا گھوڑا ان کے تعاقب میں سر پٹ دوڑایا۔ جب میں آپ کے قریب پہنچ گیا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گرپڑا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی جو میرے ارادہ کے خلاف نکلی مگر انعام کے لالچ میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑایا تو میرے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں گرپڑا۔ میں نے پھر فال نکالی وہ بھی میرے ارادہ کے خلاف نکلی۔ آخر میں نے آپ کو امان کے لیے آواز دی کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ عنقریب آپ کا بول بالا ہوگا۔ پھر میں نے انہیں قریش کی سب خبریں بتلا دیں اور دیت والی خبر بھی بیان کی اور توشہ یا سامان کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول نہ کی۔ البتہ آپ نے مجھے اتنا کہا کہ ہمارے حالات کسی کو نہ بتلانا۔ پھر میں نے امان کی تحریر کا مطالبہ کیا۔ آپ نے عامر بن فہیرہ کو تحریر لکھنے کو کہا تو اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ دی اور آگے روانہ ہوگئے۔ یہودی کا چلانا۔۔ اور مسجد قبا کی بنیاد :۔ سیدنا زبیر اور دوسرے کئی تاجر مسلمان جو شام سے اسی ساحلی راستہ پر واپس آ رہے تھے۔ ان لوگوں کی آپ کے قافلہ سے ملاقات ہوئی۔ سیدنا زبیر (رض) نے آپ کو اور ابوبکر صدیق (رض) کو سفید کپڑے پہنائے۔ مدینہ والوں کو آپ کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر مل چکی تھی۔ وہ ہر روز صبح حرّہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے۔ پھر جب دوپہر کی گرمی شروع ہوجاتی تو واپس چلے جاتے۔ ایک دن ایک یہودی اپنے محل پر چڑھا تو اس نے آپ کو سفید کپڑوں میں ملبوس مدینہ کی طرف آتے دیکھ لیا۔ وہ بےاختیار چلا اٹھا کہ جس سردار کی تمہیں انتظار تھی وہ آگئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے ہتھیار سنبھالے اور حرہ جا کر آپ سے ملے۔ آپ بنی عمر و بن عوف کے محلہ میں جا کر اترے یہ پیر کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ یہاں آپ نے مسجد کی (مسجد قبا) کی بنیاد رکھی۔ اور نمازیں ادا کرتے رہے پھر (جمعہ کے دن) آپ مدینہ کو روانہ ہوئے۔ مسجد نبوی کی تعمیر :۔ آپ کی اونٹنی وہاں جا کر بیٹھ گئی جہاں مسجد نبوی ہے۔ ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہ جگہ دو یتیم لڑکوں سہل اور سہیل کی تھی جو اسعد بن زرارہ کی پرورش میں تھے آپ نے انہیں بلا کر اس زمین کی قیمت پوچھی اور فرمایا کہ ہم یہاں مسجد بنائیں گے۔ && انہوں نے کہا && یا رسول اللہ ! ہم یہ زمین آپ کو مفت دیتے ہیں۔ && مگر آپ نے مفت لینے سے انکار کردیا۔ آخر انہیں قیمت ادا کر کے مسجد بنانا شروع کردی۔ مسجد بنتے وقت آپ خود بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھو رہے تھے۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ھجرۃ النبی ) غارثور میں آپ کا ابوبکر صدیق (رض) کو تسلی دینا :۔ سیدنا ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں ہجرت کے وقت غار (ثور) میں آپ کے ساتھ تھا۔ میں نے غار (کے اندر سے) کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہماری تلاش میں غار تک پہنچ گئے تھے) میں نے عرض کیا && یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں اٹھا کر دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ && آپ نے فرمایا && ان دو آدمیوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ && (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ کتاب المناقب۔ باب ہجرۃ النبی ) اللہ نے کن کن مشکل اوقات میں اپنے رسول کی مدد کی ؟:۔ یعنی اللہ اکیلے نے اپنے نبی کی اس وقت بھی مدد کی جب مکہ کے تمام قریشی قبائل نے مل کر آپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اور آپ کے گھر کا محاصرہ بھی کرلیا تھا۔ اس وقت بھی اللہ اپنے نبی کو ان کے چنگل سے نکال لایا تھا پھر اس وقت بھی مدد کی تھی جب تعاقب کرنے والے غار ثور کے منہ پر کھڑے تھے۔ پھر اس وقت بھی مدد کی تھی جب سراقہ بن مالک نے آپ کا تعاقب کر کے آپ کو جا لیا تھا۔ اور دوران ہجرت بھی مدد کی تھی کہ اسے بخیر و عافیت مدینہ پہنچا دیا تھا۔ اگر اللہ اس وقت اپنے نبی کی مدد کرسکتا ہے تو وہ اکیلا اس غزوہ تبوک میں بھی مدد کرسکتا ہے لہذا تم اس موقع کو غنیمت سمجھو کہ تمہارے ہاتھوں اسلام کا بول بالا ہو، تمہیں دنیا میں بھی عزت اور سرخ روئی حاصل ہو اور آخرت میں اجر ملے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے لیے نبی نہایت خفیہ طور پر نکلے تو خود تھے۔ کفار تو انہیں نکالنے کی بجائے ان کا تعاقب کر کے واپس لانا چاہتے تھے مگر چونکہ ہجرت پر آپ کافروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہی مجبور ہوگئے تھے لہذا اللہ تعالیٰ نے نکالنے کی نسبت کافروں کی طرف کی ہے۔ اور جب آپ مکہ سے نکلے تو حسرت بھرے لہجہ میں مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا && اگر میری قوم مجھے یہاں سے نکال نہ دیتی تو میں تیرے سوا کہیں رہنا گوارا نہ کرتا۔ && (ترمذی۔ ابو اب المناقب۔ باب فضل المکۃ) [٤٤] اللہ کے غیر مرئی لشکر :۔ اللہ کے یہ لشکر فرشتوں کے علاوہ دوسری مخلوق کے بھی ہوسکتے ہیں مثلاً مکڑیوں کا وہ لشکر بھی اللہ ہی کا لشکر تھا جس نے آناً فاناً غار ثور کے منہ پر جالا تن دیا تھا۔ قریش جب اپنے قائف (کھوجی، سراغ رساں) کے ہمراہ اس غار پر پہنچے تو مکڑی کا تنا ہوا جالا دیکھ کر اپنے قائف کو جھوٹا اور غلط کہنے لگے کیونکہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ جالا مدتوں پہلے بنا ہوا تھا یا وہ بھی اللہ کے فرشتوں کا لشکر ہی تھا جس نے مشرکوں کی نگاہوں کو غار کے اندر جھانکنے سے پھیر دیا تھا۔ اور وہ بھی اللہ ہی کے لشکر تھے جنہوں نے سراقہ کا گھوڑا زمین میں دھنسا دیا تھا اور وہ بھی اللہ ہی کے لشکر تھے جنہوں نے دوران سفر ہجرت آپ کو ہر خطرہ سے بچایا تھا۔ اس طرح کفار تو دانت پیستے رہ گئے اور اللہ جو اپنے نبی کو بخیریت مدینہ پہنچانا چاہتا تھا وہ ہو کے رہا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ : یعنی اگر تم تبوک کے لیے نہیں نکلو گے اور اس کی مدد نہیں کرو گے تو وہ خود اکیلا ہی اس کی مدد کے لیے کافی ہے، دیکھ لو جب مکہ کے مشرکوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا اور اس کے ساتھ صرف ایک ساتھی تھا، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کی مدد کے بغیر خود اس کی مدد کی تھی۔ اب بھی اسے تم میں سے کسی کی ضرورت نہیں، ہاں تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ دشمنان اسلام کے مقابلے کے لیے نکلو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ثَانِيَ اثْنَيْنِ :” دو میں سے دوسرا “ سے مراد پہلا ہے۔ ” ثَانِيَ اثْنَيْنِ “ میں پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے ابوبکر (رض) تھے۔ اسی طرح ” ثَالِثُ ثَلَاثَۃٍ “ یا ” رَابِعُ اَرْبَعَۃٍ “ میں ثالث یا رابع وہ ہوگا جو پہلا ہوگا، باقی بعد میں ہوں گے، ہاں ” رَابِعُ ثَلَاثَۃٍ “ یا ” خَامِسُ اَرْبَعَۃٍ “ میں رابع یا خامس وہ ہوگا جو بعد میں ملے گا اور اس کا نمبر چوتھا یا پانچواں ہوگا۔ [ الوسیط للطنطاوی ] تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوسرے ابوبکر (رض) تھے اور اکثر دینی منصبوں اور عہدوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے نمبر پر وہی فائز رہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، جس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ (رض) مسلمان ہوئے، جنگوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ نہیں ہوئے۔ مرض الموت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہایت تاکیدی حکم کے ساتھ اور کسی بھی دوسرے کی امامت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انکار کے بعد آپ کے قائم مقام کی حیثیت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مصلے پر کھڑے ہوئے، پھر آپ کے پہلو میں دفن ہوئے، اس طرح اول و آخر صدیق اکبر (رض) کو دوسرا ہونے کا شرف حاصل رہا۔ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ : یہاں صاحب (ساتھی) ہونے کا شرف بھی ابوبکر (رض) کو حاصل ہے۔ صاحب کا لفظ اصل میں اکثر اوقات ساتھ رہنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے بیوی کو ” صَاحِبَۃٌ“ کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ) [ الأنعام : ١٠١ ] ” اس کی اولاد کیسے ہوگی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ابوبکر (رض) کے صاحب رسول یعنی آپ کے خاص ساتھی اور یار غار ہونے کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا منکر ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” رفیق غار ابوبکر (رض) تھے، صرف یہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔ “ ( موضح) اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ : اس غار سے مراد ثور پہاڑ کی چوٹی کے قریب واقع غار ہے، جو مکہ سے جنوب کی طرف تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین تھا کہ آپ کا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے آپ نے مدینے کا راستہ جو شمال کی طرف ہے، چھوڑ کر جنوب کی سمت اختیار کی اور غار ثور میں چھپ گئے، تاکہ تلاش کرنے والے آپ کو آسانی سے پا نہ سکیں۔ تفسیر ماجدی میں ہے : ” اس غار کا دہانہ اب تک اتنا تنگ ہے کہ اندر صرف لیٹ کر ہی جانا ممکن ہے۔ “ شیخ رشید رضا مصری نے تفسیر المنار میں ایک مصری امیر الحج ابراہیم رفعت پاشا (سنِ حج ١٣٨١ ھ) کے حوالے سے غار کی پیمائش وغیرہ دی ہے اور اس کی تنگی کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں تین دن چھپے رہے، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے، آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہوچکا تھا، اس لیے دشمنوں نے آپ کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ بعض قدموں کے نشان پہچاننے والے غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے قدم نظر آنے لگے، ابوبکر (رض) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فکر لاحق ہوئی اور وہ سخت غم زدہ ہوگئے۔ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا : انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے فرمایا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، جب کہ میں اس غار میں تھا : ” اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کے نیچے نظر ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! ان دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ “ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب مناقب المہاجرین وفضلھم۔۔ : ٣٦٥٣ ] ” اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا “ (بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے) اس ” ساتھ “ سے مراد خاص ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت، ورنہ عام معیت (ساتھ) تو ہر شخص کو حاصل ہے، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ) [ الحدید : ٤ ] ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔ “ اس میں ابوبکر (رض) کی فضیلت ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سمندر کے کنارے پہنچنے پر اور فرعون کی فوج کو دیکھنے پر ان کی قوم نے اپنے پکڑے جانے کا خطرہ پیش کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ ) [ الشعراء : ٦٢ ] ” ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے۔ “ چناچہ انھوں نے ” مَعِيَ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا)” بیشک اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ “ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ : یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ بعض مفسرین نے مراد ابوبکر (رض) لیے ہیں، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تو اللہ تعالیٰ کی سکینت پہلے ہی نازل تھی، مگر اس سے ” عَلَيْهِ “ کی ضمیر کی بعد میں آنے والی ضمیر ” وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا “ کے ساتھ مطابقت نہیں رہتی اور کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلی سکینت کے علاوہ خاص سکینت نازل فرمائی ہو۔ جس سے آپ کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوا ہو، اس لیے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ ” عَلَيْهِ “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا : یعنی فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ جنھیں تم نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے تعاقب کرنے والوں کی نگاہیں آپ پر پڑنے ہی نہیں دیں۔ جیسا کہ حنین میں مدد فرمائی (دیکھیے توبہ : ٢٦) اور بدر میں (دیکھیے انفال : ٩۔ آل عمران : ١٢٤، ١٢٥) ۔ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ عنکبوت (مکڑی) نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے تھے، مگر یہ بات ثابت نہیں، الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی (رض) نے سلسلہ ضعیفہ میں عنکبوت کے قصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى : یعنی ہجرت، بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین، تبوک، ہر جگہ کفر کو نیچا دکھایا۔ ”ۭوَكَلِمَةُ اللّٰهِ ھِىَ الْعُلْيَا “ اور اللہ تعالیٰ کا بول ہی سب سے بالا اور اس کی بات ہی سب سے اونچی ہے، اگر کہیں مسلمان نیچے رہے تو اللہ کی بات کے نیچا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کی کسی کمی کی وجہ سے، فرمایا : (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) [ آل عمران : ١٣٩ ]” اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔ “ اور دیکھیے سورة محمد (٣٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (40), by citing the event of the Hijrah of the Holy Prophet*, it has been stressed that the Rasul of Allah has no need to depend on any human help and support. Allah can help him directly through unseen factors - as it happened at the time of Hijrah when his own people had forced him to leave his homeland. On this journey, the only companion he had was Sayyidna Abu Bakr (رض) the true one. Enemy foot soldiers and riders were looking for them in hot pur¬suit. The place to hide he had found was no fortified fortress. It was just a cave and the enemy search party had reached close to its edges. Inside it, the companion of the cave, Sayyidna Abu Bakr (رض) was worried, not for his own safety, but about his master. He was in fear lest the enemy outside were to harm the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But, the master himself was sitting calm like a mountain at peace. Not simply that he was himself cool and collected, he was telling his companion, Sayyidna Abu Bakr: (رض) لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا (` la tahzan innallaha ma` ana&: Do not grieve. Allah is with us). What has been said here is composed of a couple of words, easy and effortless as they sound. But, let those listening place the blueprint of conditions prevailing before their eyes, cross their hearts and ask: Can someone dependent on mere material means be that tranquil? Every honest person would say that it was just not possible. The reason for this was no other but that which the Qur&an has given in the next sentence: So, Allah sent down His tranquility on him and strengthened him with troops you did not see ... These troops could be troops of angels, and of the elemental forces of the entire universe too - for they are, so to say, a virtual army of Al¬lah. When this happened, the ultimate came to be. The word of disbe¬lievers was rendered low and the word of Allah remained the highest.

تیسری آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کا واقعہ پیش کرکے یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول کسی انسان کی نصرت و امداد کا محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو براہ راست غیب سے امداد پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ ہجرت کے وقت پیش آیا، جب آپ کو آپ کی برادری اور اہل وطن نے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا، سفر میں آپ کا رفیق بھی ایک صدیق کے سوا کوئی نہ تھا دشمنوں کے پیادے اور سوار تعاقب کر رہے تھے، آپ کی جائے پناہ بھی کوئی مستحکم قلعہ نہ تھا بلکہ ایک غار تھا، جس کے کنارے تک تلاش کرنے والے دشمن پہنچ چکے تھے، اور رفیق غار ابوبکر کو اپنی جان کا تو غم نہ تھا مگر اس لئے سہم رہے تھے کہ یہ دشمن سردار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوجائیں گے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوہ ثبات بنے ہوئے نہ صرف خود مطمئن تھے بلکہ اپنے رفیق صدیق کو فرما رہے تھے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا، تم غمگین نہ ہو کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ بات کہنے کو تو دو لفظ ہیں جن کا بولنا کچھ مشکل نہیں، مگر سننے والے حالات کا پورا نقشہ سامنے رکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ محض مادیات پر نظر رکھنے والے سے یہ اطمینان ممکن ہی نہیں، اس کا سبب اس کے سوا نہ تھا جس کو قرآن نے اگلے جملے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمادی، اور ایسے لشکروں سے آپ کی امداد فرمائی جن کو تم لوگون نے نہیں دیکھا “۔ یہ لشکر فرشتوں کے لشکر بھی ہوسکتے ہیں اور پورے عالم کی قوتیں خود بھی خدائی لشکر ہیں وہ بھی ہو سکتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالاخر کفر کا کلمہ پست ہو کر رہا اور اللہ ہی کا بول بالا ہوا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَــصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْـنَيْنِ اِذْ ہُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا۝ ٠ ۚ فَاَنْزَلَ اللہُ سَكِيْـنَتَہٗ عَلَيْہِ وَاَيَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ كَلِمَۃَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى۝ ٠ ۭ وَكَلِمَۃُ اللہِ ہِىَ الْعُلْيَا۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝ ٤٠ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ غور الغَوْرُ : المُنْهَبِطُ من الأرض، يقال : غَارَ الرجل، وأَغَارَ ، وغَارَتْ عينه غَوْراً وغُئُوراً «2» ، وقوله تعالی: ماؤُكُمْ غَوْراً [ الملک/ 30] ، أي : غَائِراً. وقال : أَوْ يُصْبِحَ ماؤُها غَوْراً [ الكهف/ 41] . والغارُ في الجبل . قال : إِذْ هُما فِي الْغارِ [ التوبة/ 40] ، وكنّي عن الفرج والبطن بِالْغَارَيْنِ «3» ، والْمَغَارُ من المکان کا لغور، قال : لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغاراتٍ أَوْ مُدَّخَلًا [ التوبة/ 57] ، وغَارَتِ الشّمس غِيَاراً ، قال الشاعر : هل الدّهر إلّا ليلة ونهارها ... وإلّا طلوع الشّمس ثمّ غيارها«4» وغَوَّرَ : نزل غورا، وأَغَارَ علی العدوّ إِغَارَةً وغَارَةً. قال تعالی: فَالْمُغِيراتِ صُبْحاً [ العادیات/ 3] ، عبارة عن الخیل . ( غ ور ) الغور کے معنی نشیبی زمین کے ہیں محاورہ ہے غارالرجل اوغار یشبی زمین میں چلا جانا غارت عینہ غورا وغورورا آنکھ کا اندر پھنس جانا قرآن پاک میں ہے ؛ماؤُكُمْ غَوْراً [ الملک/ 30] تمہارا پانی بہت زیادہ زمین کے نیچے اتر جائے ۔ أَوْ يُصْبِحَ ماؤُها غَوْراً [ الكهف/ 41] یا اس کا پانی زمین کے اندر اتر جائے ۔ الغار کے معنی غار کے ہیں ( ج اغوار وغیران ) قرآن پاک میں ہے : إِذْ هُما فِي الْغارِ [ التوبة/ 40] جب وہ دونوں غار ( ثور ) میں تھے : اور کنایہ کے طور پر فر ج و بطن یعنی پیٹ اور شرمگاہ کو غار ان ( تثبیہ ) کہاجاتا ہے اور مغار کا لفظ غور کی طرح اسم مکان کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ض ( جمع مغارات) قرآن پاک میں ہے : لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغاراتٍ أَوْ مُدَّخَلًا[ التوبة/ 57] اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ ( جیسے قلعہ ) یا رغار ومغاک یا زمین کے اندر ) کھسنے کی جگہ مل جائے ۔ اور غارت الشمس غیارا کے معنی سورج غروب ہوجانے کے ہیں ۔ کسی شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (333) ھل الدھر الالیلۃ ونھارھا والا طلوع الشمس ثم غیارھا ( زمانہ دن رات کی گردش اور سورج ک طلوع و غروب ہونے کا نام ہے ) غور کے معنی پست زمین میں چلے جانے کے ہیں واغار علی الغدو ا اغارۃ وغارۃ کے معنی دشمن پر لوٹ مارنے کے قرآن پاک میں ہے ؛ فَالْمُغِيراتِ صُبْحاً [ العادیات/ 3] پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں ۔ اور اس سے مراد گھوڑے ہیں ( جو صبح کو دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں) صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا سَّكِينَةَ والسَّكْنُ : سُكَّانُ الدّار، نحو سفر في جمع سافر، وقیل في جمع ساکن : سُكَّانٌ ، وسكّان السّفينة : ما يسكّن به، والسِّكِّينُ سمّي لإزالته حركة المذبوح، وقوله تعالی: أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ، فقد قيل : هو ملك يُسَكِّنُ قلب المؤمن ويؤمّنه كما روي أنّ أمير المؤمنین عليه السلام قال : (إنّ السَّكِينَةَ لتنطق علی لسان عمر) وقیل : هو العقل، وقیل له سكينة إذا سكّن عن المیل إلى الشّهوات، وعلی ذلک دلّ قوله تعالی: وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] . وقیل : السَّكِينَةُ والسَّكَنُ واحد، وهو زوال الرّعب، وعلی هذا قوله تعالی: أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] ، وما ذکر أنّه شيء رأسه كرأس الهرّ فما أراه قولا يصحّ والْمِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . السکین ( چھری ) کو سکیں اس لئے کہا جاتا ہے ( وہ مذبوح کی حرکت کو زائل کردیتی ہے ) تو یہ سکون سے فعیل کے وزن پر اسم مشتق ہے ) اور آیت : أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ( وہی تو ہے ) جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے دل کو تسکین دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امیر المومنین ( حضرت علی (رض) ) سے راویت ہے (إن السکينة لتنطق علی لسان عمر) حضرت عمر (رض) کی زبا ن پر سکینۃ گویا ہے اور بعض نے اس سے عقل انسانی مراد لی ہے اور عقل کو بھی جب کہ وہ شہوات کی طرف مائل ہونے سے روک دے سکینۃ کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں ۔ بھی اس معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ اور سکن کے ایک ہی معنی ہیں یعنی رعب اور خوف کا زائل ہونا اور آیت : ۔ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئیگا اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی ہوگی ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور بعض مفسرین نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ وہ چیز تھی جس کا سر بلی کے سر کے مشابہ تھا وغیرہ تو ہمارے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے ۔ المسکین بعض نے اس کی تفسیر الذي لا شيء له ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقیر کے زیادہ نادار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں کی تھی ۔ میں باوجود کشتی کا مالک ہونے کے انہیں مسکین قرار دینا ما یؤول کے لحاظ سے ہے یعنی کشتی کے چلے جانے کے بعد کی حالت کے لحاظ سے انہیں مسکین کہا گیا ہے ۔ یا اس لئے کہ ان کی احتیاج اور مسکنت کے مقابلہ میں کشتی کی کچھ بھی حیثیت نہ تھی ۔ اور آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور آخر کار ذلت و رسوائی اور محتاجی ( و بےنوائی ) ان سے چمٹا دی گئی ۔ میں اصح قول کے لحاظ سے مسکنۃ کی میم زائد ہے ( اور یہ سکون سے ہے ۔ ) ايد ( قوة) قال اللہ عزّ وجل : أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] فعّلت من الأيد، أي : القوة الشدیدة . وقال تعالی: وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] أي : يكثر تأييده، ويقال : إِدْتُهُ أَئِيدُهُ أَيْداً نحو : بعته أبيعه بيعا، وأيّدته علی التکثير . قال عزّ وجلّ : وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، ويقال : له أيد، ومنه قيل للأمر العظیم مؤيد . وإِيَاد الشیء : ما يقيه، وقرئ : (أَأْيَدْتُكَ ) وهو أفعلت من ذلك . قال الزجاج رحمه اللہ : يجوز أن يكون فاعلت، نحو : عاونت، وقوله عزّ وجل : وَلا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما[ البقرة/ 255] أي : لا يثقله، وأصله من الأود، آد يؤود أودا وإيادا : إذا أثقله، نحو : قال يقول قولا، وفي الحکاية عن نفسک : أدت مثل : قلت، فتحقیق آده : عوّجه من ثقله في ممرِّه . ( ای د ) الاید ( اسم ) سخت قوت اس سے اید ( تفعیل ) ہے جس کے معنی تقویت دنیا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] ہم نے تمہیں روح قدس سے تقویت دی وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] یعنی جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے بہت زیادہ تقویت بخشتا ہے ادتہ ( ض) ائیدہ ایدا جیسے بعتہ ابیعہ بیعا ( تقویت دینا) اور اس سے ایدتہ ( تفعیل) تکثیر کے لئے آتا ہے قرآن میں ہے وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] اور ہم نے آسمان کو بڑی قوت سے بنایا اور اید میں ایک لغت آد بھی ہے اور ۔ اسی سے امر عظیم کو مؤید کہا جاتا ہے اور جو چیز دوسری کو سہارا دے اور بچائے اسے ایاد الشئی کہا جاتا ہے ایک قرات میں ایدتک ہے جو افعلت ( افعال ) سے ہے اور ایاد الشئ کے محاورہ سے ماخوذ ہے زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ فاعلت ( صفاعلہ ) مثل عادنت سے بھی ہوسکتا ہے ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ كلمه أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 39] قيل : هي كَلِمَةُ التّوحید . وقیل : کتاب اللہ . وقیل : يعني به عيسى، وتسمية عيسى بکلمة في هذه الآية، وفي قوله : وَكَلِمَتُهُ أَلْقاها إِلى مَرْيَمَ [ النساء/ 171] لکونه موجدا بکن المذکور في قوله : إِنَّ مَثَلَ عِيسى [ آل عمران/ 59] وقیل : لاهتداء الناس به كاهتدائهم بکلام اللہ تعالی، وقیل : سمّي به لما خصّه اللہ تعالیٰ به في صغره حيث قال وهو في مهده : إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ الآية [ مریم/ 30] ، وقیل : سمّي كَلِمَةَ اللہ تعالیٰ من حيث إنه صار نبيّا كما سمّي النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] «3» . وقوله : وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ الآية [ الأنعام/ 115] . فَالْكَلِمَةُ هاهنا القضيّة، فكلّ قضيّة تسمّى كلمة سواء کان ذلک مقالا أو فعالا، ووصفها بالصّدق، لأنه يقال : قول صدق، وفعل صدق، وقوله : وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] اللہ تعالیٰ کے فرمان أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 39] خدا تمہیں یحیٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کر مینگے میں بعض نے کتاب اللہ مراد لی ہے اور بعض نے عیسیٰ (علیہ السلام) مردا لئے ہیں پس آیت آیت کریمہ : ۔ وَكَلِمَتُهُ أَلْقاها إِلى مَرْيَمَ [ النساء/ 171] اور اس کا کلمہ ( بشارت ) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا ۔ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمہ کو کلمہ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ کلمہ کن پیدا ہوئے تھے جیسا آیت : ۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسى [ آل عمران/ 59] عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک ۔ میں مذکور ہے اور بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کے ان کے ذریعہ ہدایت پانے کی وجہ سے انہیں کلمہ کہا گیا ہے ہدایت پانے کی وجہ انہیں کلمہ کہا گیا ہے جیسا کہ کلام اللہ کے ذریعہ لوگ ہدایت پاتے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اس خصوصی رحمت کے سبب سے ہے جو بچنے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر کی تھی جب کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ۔ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ الآية [ مریم/ 30] کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ نبی ہونے کی وجہ سے انہیں کلمۃ اللہ کہا گیا ہے جیسا کہ آنحضرت کو رسول اللہ ہونے کی وجہ سے ذکر کہا گیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ الآية [ الأنعام/ 115] اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ۔ سفل السُّفْلُ : ضدّ العلو، وسَفُلَ فهو سَافِلٌ ، قال تعالی: فَجَعَلْنا عالِيَها سافِلَها [ الحجر/ 74] ، وأَسْفَل ضدّ أعلی، ( س ف ل ) السفل یہ علو کی ضد ہے اور سفل ( سفولا ) فھوا سافل کے معنی پست اور حقیر ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے فَجَعَلْنا عالِيَها سافِلَها [ الحجر/ 74] عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) اگر تم لوگ غزوہ تبوک میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکل کر آپ کی مدد نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس وقت بھی مدد کرچکا ہے، جب کہ مکہ کے کافروں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلاوطن کیا تھا، جب کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) دونوں غار میں موجود تھے اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کئے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمائی، بدر، احزاسب، اور حنین کے دن ملائکہ کے لشکر سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قوت بخشی اور کافروں کے دین کو مغلوب اور ذلیل کیا اور اللہ ہی کا بول بالا رہا اور اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے دوستوں کی مدد فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (اِلاَّ تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ ) (اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْْغَارِ ) یعنی وہ صرف دو اشخاص تھے ‘ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اور ابوبکر صدیق (رض) ۔ (اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج) جب حضرت ابوبکر (رض) نے کہا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ تو غار کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں ‘ اگر کسی نے ذرا بھی نیچے جھانک کر دیکھ لیا تو ہم نظر آجائیں گے ‘ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ غم اور فکر مت کریں ‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے ! (فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا) (وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ط) اس واقعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر کافر زیر ہوگئے اور پورے جزیرہ نمائے عرب کے اندر اللہ کا دین غالب ہوگیا ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :42 یہ اس موقع کا ذکر ہے جب کفار مکہ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا تہیہ کر لیا تھا اور آپ عین اس رات کو ، جو قتل کے لیے مقرر کی گئی تھی ، مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے ۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد دو دو چار چار کر کے پہلے ہی مدینہ جا چکی تھی ۔ مکہ میں صرف وہی مسلمان رہ گئے تھے جو بالکل بے بس تھے یہ منافقانہ ایمان رکھتے تھے اور ان پر کوئی بھروسہ نہ کیا جا سکتا تھا ۔ اس حالت میں جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے قتل کا فیصلہ ہو چکا ہے تو آپ صرف ایک رفیق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مکہ سے نکلے ، اور اس خیال سے کہ آپ کا تعاقب ضرور کیا جائے گا ، آپ نے مدینہ کی راہ چھوڑ کر ( جو شمال کی طرف تھی ) جنوب کی راہ اختیار کی ۔ یہاں تین دن تک آپ غار ثور میں چھپے رہے ۔ خون کے پیاسے دشمن آپ کو ہر طرف ڈھونڈتے پھر رہے تھے ۔ اطراف مکہ کی وادیوں کا کوئی گوشہ انہوں نے ایسا نہ چھوڑا جہاں آپ کو تلاش نہ کیا ہو ۔ اسی سلسلہ میں ایک مرتبہ ان میں سے چند لوگ عین اس غار کے دہانے پر بھی پہنچ گئے جس میں آپ چھپے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سخت خوف لاحق ہوا کہ اگر ان لوگوں میں کسی نے ذرا آگے بڑھ کر غار میں جھانک لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا اور آپ نے یہ کہہ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تسکین دی کہ ”غم نہ کرو ، اللہ ہمارے ساتھ ہے“ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیق اکبر (رض) کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غار ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لیے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے اور ان کے پاؤں حضرت صدیق اکبر کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے ان پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس موقع پر ان سے فرمایا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا دیا۔ اور وہ لوگ اسے دیکھ کر واپس چلے گئے۔ اس واقعے کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کافی ہے، لیکن خوش نصیبی ان لوگوں کی ہے جو آپ کی نصرت کی سعادت حاصل کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٠۔ جب تبوک کی لڑائی کے وقت موسم گرمی کی سختی اور سفر کی درازی کہ سبب سے بعضے اہل مدینہ نے آنحضرت کے ساتھ سفر کو ٹال دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آیت میں ہجرت کے وقت کا ذکر فرما کر لوگوں کو یہ تنبیہ کردی کہ اگر تم لوگ نبی وقت کی مدد میں کوتاہی کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں جس طرح اس نے اپنے نبی کی مدد ہجرت کے وقت کی ہے اب بھی وہ مدد کریگا ہجت کا قصہ ابوموسیٰ اشعری (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کی روایتوں سے صحیح بخاری میں بصراحت مذکور ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دو پہاڑوں کے بیچ میں کنکریلی زمین ہے اور اس سرزمین پر کھجوریں بہت ہیں وہاں ہجرت کا حکم ہوا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ خواب سن کر کچھ لوگ مدینہ کو اور کچھ حبشہ کو چلے گئے جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو کفارنے بہت تنگ کیا اور انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک چبوترہ مسجد کی طرح جو بنالیا تھا اس پر نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن سے ان کو منع کیا تو انہوں نے بھی مدینہ کا قصد کیا لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھوڑے دنوں تامل کرو شاید مجھ کو بھی ہجرت کا حکم ہوجاوے ایک روز خلاف عادت ٹھیک دوپہر کو آنحضرت حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھ کو مدینہ کی ہجرت کا حکم ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا مجھ کو بھی ساتھ لے چلئے آپ نے فرمایا اچھا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا میرے پاس دو اونٹیاں ہیں ایک آپ رکھئے آپ نے فرمایا ہاں وہ اونٹنی قیمت سے میں لے لونگا پھر حضرت ابوبکر (رض) اور آنحضرت جبل ثور کے غار میں تین راتیں رہے حضرت ابوبکر (رض) کا ایک غلام عامر بن فہیرہ (رض) اسی جنگل میں بکریاں چراتا تھا اور اندہیرے کہ وقت کچھ بکریوں کا دودھ لاکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) صدیق کو پلا جاتا تھا پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مدینہ تک ایک شخص کو راہ مقرر کیا وہ دونوں اونٹنیاں لے کر چوتھے روز غار پر آیا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) اونٹنیوں پر سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ (رض) اور وہ راہ براہ پیدل ساتھ ہوئے اور مدینہ کو دریا کے کنارہ کے راستہ سے روانہ ہوئے جس رات کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے پہل مکہ سے نکل کر غار میں رہے اس صبح کو کفار مکہ نے آپ کی تلاش میں آپکا پیچھا بھی کیا یہاں تک کہ جب غار کے قریب یہ لوگ آئے اور حضرت ابوبکر (رض) صدیق کو ان کفار کے قدم غار میں سے نظر آئے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو بڑا اندیشہ ہوا لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) صدیق کی تسکین کی اور فرمایا کہ اندیشہ کی کوئی بات نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرمایا ہے اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی صحابیت کا منکر قرآن کا منکر اور کافر ہے اور صحابہ کے صحابی ہونے کا منکر بدعتی ہے حضرت عمر (رض) کی روبرو جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا ذکر آیا کرتا تو حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کہ ان کی ایک غار کی رات پر اور زکوٰۃ کے منکرین سے جو انہوں نے جہاد کیا ہے اس دن پر غرض ان دونوں میں سے ایک پر عمر (رض) کی ساری عمر کی عبادت تصدق ہے غار سے روانہ ہونے کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا حضرت ابوبکر (رض) صدیق کے مارنے یا پکڑ کے لانے والے کا انعام سو سواونٹ قرار دئے تھے اس لالچ سے ایک شخص سراقہ بن جعشم نے گھوڑے پر چڑھ کر آپ کا پیچھا کیا اور جب آپ کے قریب پہنچا تو اس کا آدھا گھوڑا زمین میں دھنس گیا جب اس نے پکار کر آنحضرت سے امان مانگی تو اس کا گھوڑا انکلا وہ خالی شرمندہ ہو کر واپس آیا مدینہ پہنچ کر پہلے آپ بنی عمر بن عوف میں دس روز کے قریب رہے اور مسجد قبابنائی اور پھر مدینہ کے اندر اونٹنی پر تشریف لے گئے مسجد نبوی جہاں ہے یہاں آن کر وہ اونٹنی بیٹھ گئی آپ نے فرمایا انشاء اللہ تعالیٰ یہی مقام کی جگہ ہے پھر وہ جگہ خرید کہ وہاں مسجد نبوی بنائی اس قصہ میں بجائے غار ثور کے غار حرا کا نام جو بعضی روایتوں میں آیا ہے وہ کسی راوی کی غلطی سے ہے کیونکہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ کی روایت میں صاف غار ثور کا نام موجود ہے تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) جس کسی کو اس قصہ میں غار حرا کا نام لیتے ہوئے سنا کرتی تھیں تو اس کو جھٹلایا کرتی تھیں کہ اس قصہ میں غار ثور کا نام صحیح ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ غلطی تابعیوں کے زمانہ سے شروع ہوئی ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی روایت ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین مکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں ثور پہاڑ پر چڑھے اور میں نے مشرکوں کے قدم غار میں سے دیکھ لئے تو مجھ کو بڑا اندیشہ ہوا جب میں نے اپنا یہ اندیشہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا تو آپ نے میری تسکین کی اور فرمایا کچھ اندیشہ کی بات نہیں اللہ ہماری مدد کو مرجود ہے یہ حدیث اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا کی گویا تفسیر ہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ادھر تو اللہ کے رسول نے ابوبکر صدیق (رض) کی تسکین کی اور ادھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق (رض) کے دل میں ایک طرح کی تسکین پیدا کردی جس سے ان کی پریشانی جاتی رہی محمد بن شہاب زہری (رح) سب علماء کے نزدیک ایک حبیل القدر ثقہ تابعی ہیں صحاح کی سب کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں انہی زہری (رح) کا قول ہے کہ غار ثور کے منہ پر کبوتروں نے انڈے دے دئے تھے اور مکڑی نے جالا پور دیا تھا جس سے مشرکین مکہ کے دل میں یہ خیال بالکل باقی نہیں رہا تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس غار کے اندر ہیں ابن شہاب زہری (رح) کے اس قول کے تائید انس بن مالک (رض) اور زید بن ارقم صحابیوں کہ قول سے بھی ہوتی ہے کیونکہ مختصر طور پر ان صحابیوں کے قول بھی ابن شہاب کے موافق ہیں وایدہ بجنودلم تروھا کی تفسیر میں اکثر سلف نے لکھا ہے کہ جب تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس غار میں تھے اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے اس غار کے گرداگرد فرشتے تعینات کر دئے تھے ان فرشتوں کی تعینائی کے سبب سے ایک تو مشرکوں کے دلوں پر ایسا رعب چھا گیا تھا کہ اس غار کے اندر جھانک کر کسی نے نہیں دیکھا دوسرے اگر کوئی مشرک دور سے بھی غار کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فرشتے اس مشرک کی آنکھوں کے سامنے اپنے پروں کی آڑ کردیتے تھے جس سے غار کے اندر تک کسی مشرک کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی تھی سلف کے اس قول میں غار میں رعب کے پیدا ہوجانے کا جو ذکر ہے اس کی تائید تو اصحاب کہف کے قصہ سے ہوتی ہے کہ اس غار میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب پیدا کردیا ہے کہ اس غار کو جھانک کر کوئی شخص نہیں دیکھ سکتا چناچہ یہ اصحاب کہف کا قصہ سورة کہف میں تفصیل سے آویگا فرشتوں کے پر دں کے آڑ کردینے کی تائید اسمائ (رض) بنت ابی بکر صدیق (رض) کی اس روایت سے ہوتی ہے جو معتبر سند سے حلیہ ابونیعم میں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں ثور پہاڑ پر جو مشرک چڑھے تھے ان میں کا ایک شخص غار کے منہ کے سامنے پیشاب کو بیٹھ گیا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے فرمایا اس مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے فرشتوں نے اپنے پروں کی آڑ کردی ہے جس سے ان لوگوں کی نگاہ غار کے اندر تک نہیں پہنچتی ورنہ اس طرح بےپردہ یہ شخص ہمارے روبرو پیشاب کو نہ بیٹھ جاتا وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلے وکلمۃ اللہھی العلیا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق یہ ہے کہ اپنی زبردست حکمت سے اللہ تعالیٰ نے دن بدن شرک کو گھٹایا اور توحید کو بڑھایا۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین مکہ کے بتوں کو لکڑیاں مار مار کر گراتے جاتے تھے اور جاء الحق وزھق الباطل فرماتے جاتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب مکہ میں توحید پھیلی اور شرک یہاں سے گیا آیت میں شرک کے گھٹنے اور توحید کے بڑھنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ توحید کے غلبہ نے مشرکوں کو یہاں تک بےبس کردیا کہ انہوں نے اپنے جھوٹے معبودوں کی ذلت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ان کی کچھ حمایت نہ کرسکے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:40) الا تنصروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ۔ ای ان لم تنصروہ فسینصرہ اللہ کما نصرہ (اذ اخرجہ الذین کفروا اثانی اثنین) اگر تم نے (یہ خطاب ہے تثاقل کرنے والوں سے جو جنگ تبوک کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ نکلے تھے) رسول کی مدد نہیں کی (تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ جیسا کہ اس نے مدد فرمائی تھی جب کافروں نے ان کو (مکہ سے) نکالا تھا۔ جب کہ دو میں سے دوسرا وہ تھا (یعنی دو افراد تھے۔ ایک اور دوسرا وہ خود۔ قلت تعداد پر زور دینے کے لئے یہ محاورہ استعمال ہوا ہے) (ثانی اثنین) منصوب ہے بوجہ نصرہ اللہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب پر حال ہونے کے۔ اذھما بدل ہے اذا خرجہ کا۔ اسی طرح اذ یقول بدل ثانی ہے۔ لصاحبہ۔ صاحب (ساتھی) سے مراد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں اور ہ ضمیر کا مرجع رسول اکر م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ فانزل اللہ سکینتہ علیہ۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کیونکہ اس کے فوراً بعد کا جملہ وایدہ بجنود لم تروھا جو کہ صریحاً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ہے فانزل اللہ سکینۃ علیہ۔ پر عطف ہے اور معطوف و معطوف علیہ میں شرکت احوال لازم ہے۔ بعض کے نزدیک اس ضمیر کا مرجع حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ کیونکہ خوف کی حالت ان پر طاری تھی اور انہیں سکینہ کی ضرورت تھی۔ لم تروھا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر حاضر۔ تروا اصل میں ترون تھا ۔ لم کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنود ہے۔ کلمۃ۔ بات۔ السفلی۔ اسم تفضیل ہے۔ سفول صیغہ واحد مؤنث۔ سفلی جب ال کے ساتھ آئے جیسا کہ موجودہ شکل میں ہے تو تفضیل کل کے معنی دیتا ہے السفلی۔ سب سے نیچی۔ سرنگون۔ علیا کی ضد ہے العلیا سب سے بلند۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہاں باتفاق مفسرین (رح) ثانی اثنین سے حضرت ابوبکر (رض) مراد ہیں اور اکثر منا صب دینیہ میں حضرت ابوبکر (رض) دوسرے درجے پر فائز رہے ہیں۔ ، سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو دعوت الی اللہ دی جس پر بہت سے جلیل قدر صحا بہ مسلمان ہوئے، غزوات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ نہیں ہوئے۔ مر ضالموت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قائم مقام کی حیثیت سے مصلیٰ پر کھڑے ہوئے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں دفن ہوئے۔ اس طرح اول و آخر حضرت صدیق اکبر کو ثانی اثنین ہونے کا شرف حاصل رہا ہے ( ازکبیر)8 یہاں صاحب ہونے کا شرف بھی حضرت ابوبکر (رض) کر حاصل ہے۔ شاد صاحب لکھتے ہیں کہ رفیق غار حضرت ابوبکر (رض) تھے صرف یہی حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے دوسرے اصحاب دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔ ( از مو ضح)9 یہ اس وقت کا ذکر ہے جب مکہ والوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی قرار داد پاس کی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت حضرت ابوبکر (رض) کی معیت میں مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور کفار کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غار ثور میں پناہ لی۔ وہاں تین چھپے رہے پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گرفتاری پر انعام مقرر ہوچکا تھا اس لیے دشمنوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کی حتی کہ بعض لوگ غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے پاؤں نظر آنے لگے، حضرت ابوبکر (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اندیشہ لاحق ہوا اندیشہ ظاہر کیا کہ الہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر انہوں نے ذرا بھی نیچے جھانک لیا تو وہ یقینا ہمیں دیکھ لیں گے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سکون میں ذرا بھر فرق نہ آیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو تسلی دیتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا تحزن ان اللہ معنا۔ اس میں حضرت ابوبکر (رض) بھی شامل ہیں۔ ( کبیر)10 یہ جنگ بدر میں فرشتوں کی امداد کی طرف اشارہ ہے اور اس اک عطف فقد نصرہ اللہ پر ہے۔ ( رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 41 خفاف (ہلکے) ثقال (بھاری) تشریح :- آیت نمبر 40 تا 41 اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا تھا کہ جب تمہیں اللہ کے راستے کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم زمین میں گڑتے چلے جاتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری مدد کے بغیر کامیاب نہ ہو سکیں گے فرمایا کہ یاد رکھو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہیں۔ ہجرت کے وقت اللہ نے کفار کے مقابلے میں اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس طرح مدد کی تھی وہ آج بھی بغیر کسی وسیلے اور ذریعہ کے اپنے رسول کی مدد کرسکتا ہے چناچہ فرمایا گیا کہ اگر تم اس موقع پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نہ دو گے تو یاد رکھو اس وقت اللہ نے اپنے رسول کی مدد کی تھی جب کہ کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا اس وقت ایک ساتھی یعنی حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ آپ تنہا تنہا نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف مکہ کے کفار اور ان کا جوش انتقام تھا اور دوسری طرف اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معتمد حضرت ابوبکر صدیق ساتھ میں تھے۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرتے کرتے کفار مکہ غار ثور تک پہنچ گئے جہاں یہ دونوں چھپے ہوئے تھے اور دشمنوں کے پاؤں نظر آنے لگے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب کیا ہوگا ؟ جواب میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بڑے اعتماد کے ساتھ فرمایا تھا کہ گھبرائو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ نے ان پر تسکین قلب کو نازل کیا اور ایسے فرشتوں سے مدد فرمائی جو ظاہری نگاہوں سے دیکھے نہیں جاسکتے تھے لیکن اللہ نے اپنی بات کو اونچا کر دکھایا اور کفار کی بات اور ان کے برے ارادے ذلت و خواری سے دوچار ہوئے۔ ان آیات میں ایک دفعہ پھر صاف صاف الفاظ میں فرما دیا گیا ہے کہ یہ تو اہل ایمان کی سعادت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ ہوجائے اور وہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کو اپنی زندگی بنا لیں لیکن اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ پہلے کسی کی مدد کے محتاج تھے نہ آج ہیں۔ وہ اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنے دین کو سربلند کردیتا ہے اور کفر کو آج بھی اس کے سامنے سر جھکانا پڑے گا اور آئندہ بھی اس کا یہی حشر ہوگا۔ فرمایا کہ اے مومنو ! تم اس بات کا اتنظار نہ کرو کہ آج تمہارے پاس کچھ ہے یا نہیں تم ہلکے ہو یا بھاری، ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکل پڑوا پنے مالوں اور اپنی جانوں کو اللہ کے لئے پیش کردو تمہارے لئے اسی میں بہتری اور آخرت کی سعادت ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، مکہ کے نازک ترین حالات بتلا کر اللہ تعالیٰ کی نصرت کی یاد دہانی۔ اس سے پہلی آیات میں مسلمانوں کو جھنجوڑا گیا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کی بجائے زمین کے ساتھ چمٹے جا رہے ہو اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد فرمائی جب اہل مکہ نے اسے مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ غار میں پناہ گزیں ہوئے اور آپ کا ساتھی گھبرانے لگا تو آپ نے فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سکون و اطمینان نازل فرمایا اور آپ کی مدد ایسے لشکروں کے ساتھ کی جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اس طرح کفار کی منصوبہ بندی ناکام رہی اور اللہ تعالیٰ کا حکم غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت مضمر ہوتی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس سال نبوت سے پہلے اور تیرہ سال نبوت کے بعد مکہ میں بسر کیے۔ تیرہ سال پیغمبر انہ زندگی میں آپ نے بےپناہ کوشش فرمائی کہ مکہ کے لوگ توحید خالص کے قائل ہوجائیں لیکن اہل مکہ باطل عقیدہ چھوڑنے کی بجائے دن بدن آپ کے دشمن ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کے ساتھیوں اور آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس صورتحال میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی رہنمائی فرمائی لیکن آپ کو ہجرت کرنے کا براہ راست حکم نہیں آیا تھا جس وجہ سے آپ مکہ میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ کفار نے جب یہ دیکھا کہ نبی کے ساتھی ایک ایک کرکے مکہ چھوڑ چکے ہیں تو انھوں نے غنیمت سمجھا کہ آپ کو ختم کردیا جائے اس کے لیے دارالندوہ میں اجلاس ہوا۔ جس میں طویل بحث کے بعد یہ پاس کیا گیا کہ تمام قبائل میں سے ایک ایک آدمی رات کے وقت بیک وقت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کا گھیراؤ کرے اور آدھی رات کے وقت یکبارگی حملہ کرکے اسے ختم کردیا جائے اگر بنی ہاشم خون بہا کا مطالبہ کریں تو انھیں سب مل کر ادا کردیں گے۔ جب انھوں نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق رات کو آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا تو آپ نے اپنی چار پائی پر حضرت علی (رض) کو لیٹنے کا حکم دیا اور خود سورة یٰس کی تلاوت کرتے ہوئے مکان کے چاروں طرف مٹی پھینکی جس سے کفار کچھ وقت کے لیے اندھے ہوگئے اور آپ بسلامت نکل کر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ساتھ غار ثور میں تین دن کے لیے پناہ گزین ہوئے۔ ان ایام میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب کفار ڈھونڈتے ہوئے غار کے دہانے پر پہنچ گئے۔ جن کو حضرت ابوبکر (رض) دیکھ کر آہستگی کے ساتھ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول کفار تو ہمارے سر پر آپہنچے ہیں۔ اس پر آپ نے حضرت ابوبکر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار کو نامراد کیا اور اپنے حکم اور تدبیر کو غالب فرمایا۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ فرماکر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں کیونکہ اس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد فرمائی تھی جب اس کے ساتھ صرف ایک ہی ساتھی تھا اس ساتھی سے مراد سب کے نزدیک حضرت ابوبکرصدیق (رض) ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی جلوت اور خلوت کا ساتھی ہونے کا شرف بخشا اس شرف میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ بعض نادان دوست صحابہ کرام (رض) کی دشمنی میں آکر کہتے ہیں کہ ابوبکر خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے پر مصر تھے آپ نے مجبوراً اسے ساتھ لیا تھا تاکہ ہجرت کا یہ راز افشاں نہ ہوجائے۔ یہ ایسی غلط بیانی ہے جس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ اور الزام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو پہلے ہجرت کی اجازت اس لیے نہیں دی تھی کہ تاکہ اللہ کا حکم آنے پر ابوبکر (رض) کو ساتھ لے کر ہجرت کی جائے۔ اس واقعہ سے حضرت ابوبکر (رض) پر آپ کے اعتماد کا بےپناہ ثبوت ملتا ہے۔ جس کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ (عن عاءِشَۃَ (رض) زَوْجَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَتْ ۔۔ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَدْ أُرِیتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لَابَتَیْنِ وَہُمَا الْحَرَّتَانِ فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِینَۃِ حینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا فَقَالَ لَہٗ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رِسْلِکَ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی قَالَ أَبُو بَکْرٍ ہَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَہُ عَلٰی رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیَصْحَبَہُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحوالات، باب جوار ابی بکر فی عہد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وعقدہ ] ” حضرت عائشہ (رض) ام المومنین بیان کرتی ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ کو خواب میں تمہاری ہجرت کا مقام بتایا گیا میں نے ایک کیا ری زمین کھجوروں والی دیکھی جو کالی پتھریلی زمینوں کے بیچ میں ہے یعنی مدینہ کے دونوں پتھریلے کنارے یہ سن کر جس نے ہجرت کی اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کر گئے تھے وہ بھی مدینہ آگئے اور ابوبکر صدیق (رض) نے بھی ہجرت کی تیاری کی تب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا ذرا ٹھہرو میں سمجھتا ہوں مجھے بھی خدا کی طرف سے ہجرت کی اجازت ملے گی ابوبکر (رض) نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کو امید ہے کہ اجازت ملے گی آپ نے فرمایا ہاں اس لیے ابوبکر (رض) رکے رہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی ہجرت کریں گے اور اونٹنیوں کو چار مہینے تک ببول کے پتے کھلائے تاکہ وہ تیز بھاگنے لگیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے غار میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) کی دستگیری فرمائی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے موقعہ پر بھی کفار کو ذلیل کیا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی مسلمانوں کا مددگار اور خیر خواہ ہے : ١۔ اے ایماندار و تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ (محمد : ٧) ٢۔ اللہ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کی جب کفار نے آپ کو گھر سے نکالا۔ (التوبۃ : ٤٠) ٣۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : ١٦٠) ٤۔ نہیں ہے کوئی بھی جماعت جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ (الکہف : ٤٣) ٥۔ نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی مسلمانوں کی مدد کرنے والا۔ (الشوریٰ : ٤٦) ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ (الحشر : ٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں قریش کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ سرکش قوتوں کو جب کامیابی نصیب نہیں ہوتی تو ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں۔ چناچہ قریش نے بھی حضور کے خلاف تشدد کی سازشیں شروع کردیں۔ یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ حضور کو قتل کرکے ان سے جان چھڑائی جائے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو ان کی خفیہ سازشوں کی بابت اطلاع کردی۔ اور حکم دیا کہ آپ اب مکہ سے نکل جائیں۔ آپ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق رفیق تھے۔ آپ کے پاس نہ تو کوئی لشکر تھا اور نہ سامان جنگ تھا۔ آپ کے دشمن ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ یہاں سیاق کلام میں اس کی نہایت ہی خبوصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ " جب وہ دونوں غار میں تھے " اور قوم ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ حضرت صدیق سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جان کے بارے میں فکر مند نہ تھے۔ ان کو قائد کی فکر تھی کہ وہ ان کے آثار نہ پا لیں اور ان کے حبیب تک رسائی حاصل نہ کرلیں۔ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی جگہ سے نظر ڈالتا تو ہم اسے اس کے پاؤں کے نیچے نظر آجاتے۔ اس موقع پر حضور کے قلب پر اللہ کی جانب سے سکون و ثابت کی کیفیت نازل ہوچکی تھی۔ آپ نے صدیق اکبر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کی اور فرمایا : " ابوبکر تمہارا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو " نتیجہ کیا نکلا ؟ حالات ایسے ہیں کہ ایک طرف پوری مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھی ہر قسم کی مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھ ہر قسم کی مادی قوتوں سے محروم ہیں۔ اب اللہ کی افواج میدان میں آتی ہیں۔ ان میں سے کوئی فوج اور کوئی قوت نظر نہیں آتی۔ اس منصوبے میں کفار کو بری طرح شکست ہوتی ہے اور وہ ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ و جعل کلمۃ الذین کفرو السفلی " اور الللہ نے کافروں کا بول نیچا کردیا " اور اللہ کا کلمہ اپنی جگہ سر بلند رہا جیسا کہ وہ ہمیشہ سر بلند رہتا ہے ، قوی ہوتا ہے اور اسے نفوذ حاصل ہوتا ہے۔ و کلمۃ اللہ ہی العلیا۔ بعض قراءتوں کے مطابق۔ وکلمۃَ اللہ نصب کے ساتھ بھی آیا ہے لیکن وکلمۃُ اللہ رفع کے ساتھ زیادہ قوی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بات زور دار ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں تاکید اور دوام کا مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی وکلمۃ اللہ کا مزاج اور اس کی حقیقی پوزیشن ہی یہ ہے کہ وہ سربلند ہوتا ہے۔ اس کی سربلندی کسی ایک واقعہ اور حادثہ میں محدود نہیں ہے۔ اللہ عزیز ہے اور اس کے دوست کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور وہ بہت بڑا حلیم ہے۔ اس لیے وہ اپنے دوستوں کے لیے کامیاب پالیسی وضع فرماتا ہے اور اس نے ان کے مقدر میں کامیابی لکھ دی ہے۔ یہ ایک مثال تھی کہ کس طرح اللہ نے اپنے رسول اور اپنے کلمات کو کامیابی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں دہرا سکتا ہے لیکن اس قسم کی امداد صرف ان لوگوں کو پہنچ سکتی ہے جو سستی نہیں کرتے اور بیکار نہیں بیٹھے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو اللہ دوسرے گروہ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی مثال تھی اور اس کو سمجھانے کے لیے کسی بڑی دلیل اور منطقی استدلال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس مثال کی فضا میں اور اس گہرے تاثر کی حالت میں اب اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس مہم میں نکل کھڑے ہوں ، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں ، کوئی عذر ان کی راہ میں حائل نہ ہو ، نکل کھڑے ہوں اگر وہ دنیا میں کامرانی اور فتح مندی چاہتے ہیں اور آخرت میں دائمی فلاح چاہتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں تھے : اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں سے یوں بھی خطاب فرمایا کہ اگر تم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد نہ کرو گے تو اس سے اللہ کو اور اللہ کے رسول کو اور اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے رسول کی مدد فرمائی جب انہیں مکہ کے کافروں نے مکہ معظمہ سے نکال دیا اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ غار میں پہنچ گئے۔ اوّل تو دشمنوں کے درمیان سے صحیح سالم نکال دینا پھر غار ثور تک عافیت اور سلامتی کے ساتھ پہنچا دینا پھر جب دشمن غار کے منہ پر پہنچ گئے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمانا اور جو لوگ تلاش میں نکلے تھے ان کو ناکام واپس کردینا اور پھر غار ثور سے نکال کر پیچھا کرنے والے دشمنوں سے محفوظ فرما کر عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچا دینا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوا۔ یہ سفر ہجرت کے واقعات ہیں پورے سفر میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ نے سفر کا ارادہ کیا تو حضرت علی (رض) کو اپنی جگہ پر لٹا دیا اور آپ حضرت ابوبکر (رض) کو ہمراہ لے کر روانہ ہوگئے جب صبح ہوئی تو لوگوں نے حضرت علی (رض) کو آپ کی جگہ پایا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھی کہاں ہیں اس پر انہوں نے لا عملی ظاہر کی، وہ لوگ آپ کو تلاش کرنے کے لیے چل دیئے۔ اور غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے اس وقت حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے اگر کوئی شخص اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا) (غمگین نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے) آپ نے تین دن غار ثور میں قیام فرمایا۔ حضرت ابوبکر (رض) کے غلام عامر بن فہیرہ (رض) روزانہ رات کو دودھ لے جا کر پیش کردیتے تھے۔ دونوں حضرات اس کو پی لیتے تھے۔ تین دن گزارنے کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے اور دسویں دن قبا پہنچ گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ مکڑی نے غار کے دروازہ پر جالا بن دیا تھا۔ اسے دیکھ کر ان لوگوں نے سمجھا کہ اگر یہ حضرات اندر گئے ہوتے تو یہ جالا ٹوٹا ہوا ہوتا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٤٣) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اطمینان نازل فرمایا اور آپ کے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمائی۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کو تسلی دی کہ غمگین نہ ہو بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ غار ثور کے ذکر کے ساتھ (وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا) بھی فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول کی ایسے لشکروں کے ذریعہ سے مدد فرمائی جنہیں تم نے نہیں دیکھا۔ ان لشکروں سے کیا مراد ہے صاحب معالم التنزیل نے اس بارے میں تین قول لکھے ہیں۔ اوّل یہ کہ اس سے فرشتے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لیے بھیجے گئے تھے کہ کافروں کی آنکھوں کو پھیر دیں۔ اور ان کی نظریں آپ پر نہ پڑیں۔ دوم یہ کہ فرشتوں نے کفار کے دلوں پر رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے واپس ہوگئے۔ سوم یہ کہ خاص اسی موقعہ پر فرشتے نازل ہونا مراد نہیں ہے بلکہ بدر میں مدد کے لیے جو فرشتے آئے تھے وہ مراد ہیں۔ گویا (وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا) جملہ مستانفہ ہے جس میں بدر کے موقعہ پر جو مدد ہوئی تھی وہ یاد دلائی، پھر فرمایا (وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی) (اور اللہ نے کافروں کے کلمہ کو نیچا کردیا) اس سے کلمہ شرک مراد ہے جو قیامت تک کے لیے نیچا ہوگیا۔ شرک والے اہل ایمان کے مقابلہ میں کبھی سر اٹھا کر بات نہیں کرسکتے، (وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا) (اور اللہ کا کلمہ ہی بلند ہے) حضرت ابن عباس نے فرمایا کلمۃ اللہ سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مراد ہے۔ یہ ہمیشہ سے بلند ہے اور بلند رہے گا۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ کافروں کے کلمہ سے ان کا وہ مشورہ مراد ہے جس میں انہوں نے طے کرلیا تھا کہ صبح ہونے پر آپ کو شہید کردیا جائے گا اور کلمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت مراد ہے۔ (معالم التنزیل ص ٢٩٦ ج ٢) آیت کے ختم پر فرمایا (وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اسی کا ارادہ غالب ہے وہ حکیم بھی ہے اس کی طرف سے کبھی ایسے حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ایمان مشکلات میں پھنس جاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان مشکلات سے نجات دے دیتا ہے۔ اور اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ اہل ایمان کا ایمان مضبوط ترہو جائے اور پھر مشکلات و مصائب سے نہیں گھبراتے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے اہل ایمان کو بڑی بڑی مشکلات سے نجات دی ہے۔ فائدہ : اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ سفر ہجرت میں اور غار ثور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے خادم خاص حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہی تھے۔ اِذْ یَقُوْلُ صَاحِبِہٖ جو فرمایا اس سے حضرت ابوبکر ہی مراد ہیں۔ چونکہ قرآن مجید میں ان کے صاحب ہونے کی تصریح ہے اس لیے حضرات علماء نے فرمایا ہے کہ ان کی صحابیت کا منکر کافر ہوگا۔ روافض (قبحھم اللہ) جنہیں حضرت ابوبکر (رض) سے بغض ہے وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ غارثور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) ہی تھے اور (لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا) کا خطاب انہیں کو تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ساتھ لیا، یار غار بنایا۔ انہوں نے پورے سفر میں خدمت کی تکلیفیں اٹھائیں، سواری کا انتظام کیا اپنے غلام کو روزانہ دودھ بھیجنے پر مامور کیا، ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر روزانہ رات کو حاضر ہوتے تھے اور مشرکین کے مشوروں سے مطلع کرتے تھے۔ یہ ساری محنت اور قربانی روافض کے نزدیک کوئی چیز نہیں (دشمن کو تو ہنر بھی عیب نظر آتا ہے) ان کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیق (رض) العیاذ باللہ کافر تھے۔ ان کی بات سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حرف آتا ہے کہ آپ نے ایک کافر کو ساتھ لیا اور اپنا رفیق سفر اور راز دار بنایا اور حضرت علی (رض) کو ساتھ نہ لیا جبکہ وہ مخلص مسلمان تھے۔ ان بغض رکھنے والوں کو اور کوئی بات نہ ملی تو یہ نکتہ نکالا کہ حضرت ابوبکر (رض) غار ثور پر کافروں کے پہنچنے سے گھبرا گئے۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ یہ امور طبعیہ میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے جب ان کے سامنے جادو گروں نے لاٹھیاں ڈالیں اور وہ سانپ بن گئیں تو ان کے جی میں خوف کا احساس ہوا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس سے پہلے ان کی لاٹھی کو سانپ بنا کر پھر سانپ کی لاٹھی بنا کر دکھا دیا تھا اور جب فرعون کو تبلیغ کرنے کے لیے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ روانہ ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا (لَا تَخَافَآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَ اَرٰی) اس سب کے باوجود جب جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی صورت میں نظر آئیں تو طبعی طور پر خوف محسوس کرنے لگے۔ یہ خوف طبعی تھا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو بھی غار ثور کے منہ پر دشمنوں کے پہنچنے سے طبعی طور پر فکر لا حق ہوگیا تو اس میں کون سے اشکال و اعتراض کی بات ہے ؟ روافض یوں بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انزال سکینہ کا ذکر فرماتے ہوئے (فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ ) فرمایا علیھما نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) پر سکینہ نازل نہیں ہوئی۔ یہ بھی ان لوگوں کی ضلالت اور جہالت کی بات ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بلا واسطہ سکینہ نازل فرمائی اور حضرت ابوبکر (رض) کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطہ سے تسلی دی آپ نے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فرمایا مَعَنَا میں جو ضمیر جمع متکلم کی ہے (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے) روافض اس کو نہیں دیکھتے اور عَلَیْہِ کی ضمیر کو دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عَلَیْہِ کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہو۔ اور دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکر (رض) کی طرف ضمیر راجع ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے اس کو اختیار فرمایا ہے۔ یہ بھی درست ہے بلکہ اقرب ہے کیونکہ قریب ترین مرجع صاحبہ ہے اور یہ احتمال اس لیے بھی اقرب ہے کہ حضرت صدیق اکبر ہی کو فکر لا حق ہوئی تھی جسے فکر لاحق ہو انزال سکینہ اسی پر ہونا چاہئے۔ یہ بالکل قرین قیاس ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بہت ہی مطمئن تھے اور آپ کو پہلے ہی سے سکینہ حاصل تھا۔ ورنہ گھبراہٹ کا الزام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آجاتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا فکر مند ہونا بزدلی کی وجہ سے اور اپنی جان کی وجہ سے نہیں تھا انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مبارک کی حفاظت کا خیال ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا ان اقتل فانا رجل واحد و ان قتلت ھلکت الامۃ (اگر میں مقتول ہوگیا تو میں ایک آدمی ہوں اور اگر آپ کی ذات مبارک پر حملہ کردیا تو پوری امت ہلاک ہوجائے گی) ۔ درمنثور (ص ٢٤١ ج ٢) میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) غار ثور میں پہنچنے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کے خیال سے کبھی آگے چلتے تھے اور کبھی پیچھے اور کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں، اور مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی تکلیف پہنچے تو مجھے پہنچ جائے آپ محفوظ اور صحیح سالم رہیں۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ اس خیال سے کہ دشمنوں کو نشان ہائے قدم کا پتہ نہ چل جائے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اوپر اٹھا کر انگلیوں کے بل چلے یہاں تک کہ ان کی انگلیاں چھل گئیں۔ پھر جب غار ثور میں پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ باہر تشریف رکھیں، میں پہلے اندر داخل ہوتا ہوں اگر کوئی تکلیف دہ صورت حال پیش آئے تو مجھ ہی پر گزر جائے آپ محفوظ رہیں گے اس کے بعد پہلے خود اندر گئے غار کو صاف کیا اس میں جو سوراخ تھے اپنا کپڑا پھاڑ پھاڑ کر انہیں بند کرتے رہے ایک سوراخ رہ گیا جس کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ملا لہٰذا انہوں نے اس پر ایڑھی لگا دی اور آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اندر بلا لیا۔ آپ تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر (رض) کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو سوراخ کے اندر سے سانپ نے ڈس لیا۔ لیکن انہوں نے اس ڈر سے کہ کہیں آپ کی آنکھ نہ کھل جائے سوراخ کے منہ سے نہ تو پاؤں ہٹایا اور نہ ذرا سی حرکت کی۔ تکلیف کی وجہ سے ان کے آنسو بہنے لگے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ انور پر گرگئے۔ آنسو گرنے سے آپ کی آنکھ کھل گئی اور آپ نے فرمایا کہ ابوبکر کیا بات ہے ؟ عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے تو کسی نے ڈس لیا ہے۔ آپ نے اپنا لعاب مبارک ڈال دیا جس کی وجہ سے ان کی تکلیف جاتی رہی۔ (درمنثور ص ٢٤١ ج ٢ و مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٥٦) اس جاں نثاری اور فدا کاری کو دیکھو اور روافض کی اس جاہلانہ بات کو دیکھو کہ حضرت ابوبکر (رض) مسلمان ہی نہیں تھے۔ (العیاذ باللہ) روافض یہ بھی کہتے ہیں کہ لِصَاحِبِہٖ سے ساتھی ہونا مراد ہے صحابی ہونا نہیں۔ یہ بھی ان کی جہالت کی بات ہے۔ صحابی اسی کو تو کہتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بحالت ایمان دیکھ لے اور ایمان پر اس کی موت ہوجائے۔ سورة الفتح میں شرکاء حدیبیہ کی تعریف کرتے ہوئے جو فرمایا ہے۔ (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ ) اس میں حضرت ابوبکر (رض) کے مومن ہونے کی بھی شہادت ہے اور سکینہ نازل ہونے کی بھی، بیعت حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوبکر (رض) نے بھی بیعت کی تھی اگر انزال سکینہ ایمان کے لیے شرط ہے تو حدیبیہ کے تمام حاضرین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمانے کی خبر دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا۔ لیکن روافض نہ اللہ سے راضی ہیں نہ اللہ کے رسول سے، حضرت ابوبکر (رض) کے کفر کے قائل ہیں اور انہیں یہ فکر نہیں کہ ہمیں خود مسلمان ہونا چاہئے۔ قرآن کا منکر اپنے ایمان کی فکر تو کرے۔ جسے شقاوت گھیر لے اور جس پر گمراہی مسلط ہوجائے اسے کہاں سے ہدایت نصیب ہوگی۔ (فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (پس بیشک ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں لیکن دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں) حضرت عمر (رض) کا ارشاد سنیے۔ ان کے سامنے کسی نے کہہ دیا کہ آپ ابوبکر (رض) سے افضل ہیں تو وہ اس پر رونے لگے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ابوبکر (رض) کی ایک رات اور ایک دن عمر (رض) کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ رات تو یہی غار ثور والی جس کا ذکر اوپر ہوا اور دن وہ جب کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو عرب کے بعض قبائل مرتد ہوگئے ان میں سے بعض نے کہا ہم نماز پڑھیں گے زکوٰۃ نہ دیں گے اور بعض نے کہا نہ نماز پڑھیں گے نہ زکوٰۃ دیں گے۔ حضرت ابوبکر نے ان سے جہاد کا اعلان فرما دیا۔ میں خیر خواہ بن کر ان کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ لوگوں کو مانوس رکھئے اور نرمی اختیار فرمایئے انہوں نے جواب میں فرمایا کہ تم جاہلیت کے زمانہ میں بڑے بہادر تھے اسلام میں بزدل بن گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ وحی آنا ختم ہوگیا۔ اللہ کی قسم اگر ایک رسی بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زکوٰۃ کی مد میں دیتے تھے اور اسے روک لیں گے۔ تب بھی ان سے جنگ کروں گا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ پھر ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ اللہ کی قسم ان کی رائے صحیح تھی ان کا یہ دن بھی ایسا ہے کہ میرے سارے اعمال اس کے برابر نہیں ہوسکتے۔ (درمنثور ص ٢٤٢ ج ٣) روافض نے یہ طریقہ نکالا ہے کہ جب ان سے کوئی مسلمان حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے ایمان کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں ہم تو انہیں مسلم مانتے ہیں یہ بھی تقیۃً کہتے ہیں اور تقیہ میں بھی تقیہ کرتے ہیں کیونکہ مسلم کہہ دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ظاہری اعتبار سے انہوں نے اسلام کے اعمال قبول کرلیے تھے۔ یہ لوگ انہیں مومن کہنے کے لیے تیار نہیں۔ مومن کا لفظ اپنے لیے ہی الاٹ کر رکھا ہے۔ روافض اپنی اہواء نفسانیہ کے پابند ہیں جو یہود کے سکھانے سے ان میں رچ بس گئی ہیں۔ اعاذ اللہ تعالیٰ الامۃ من خرافاتھم۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35: اس کی جزاء محذوف ہے “ اي فسینصرہ اللہ ” اور “ فَقَدْ نَصَرَہُ اللـٰهُ ” اس کی علت ہے جو اس کے قائم مقام ہے۔ یعنی اگر تم اس کی یعنی پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جہاد سے نہیں کرو گے تو اللہ اس کی مدد کرے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے جب مشرکین نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تھا اور سارا عرب آپ کا دشمن تھا۔ اس وقت بھی اللہ ہی نے آپ کی مدد کی تھی۔ “ الجواب محذوف اقیم سببه مقامه وھو مستقبل اي ان لم تنصروه فسینصره اللہ تعالیٰ الذي قد نصره فی وقت ضرورة اشد من ھذه المرة ” (روح ج 10 ص 96) ۔ 36: ثانی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ “ اِذْ ھُمَا۔ اِذْ اَخْرَجَهٗ ” سے بدل البعض ہے اور غار سے غارثور مراد ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق (رض) نے ہجرت کے وقت تعاقب کرنے والے مشرکین سے چھپ کر تین دن بسر کیے تھے۔ “ اِذْ یَقُوْلُ ” یہ “ اِذْ اَخْرَجَهٗ ” سے بدل ثانی ہے۔ “ لِصَاحِبِهٖ ” صاحب سے یہاں ابوبکر صدیق (رض) مراد ہیں۔ اس پر امت کا اجماع ہے اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص حضرت ابوبکر (رض) کی صحابیت سے منکر ہے وہ کافر ہے۔ “ من ان کر ان یکون ابوبکر (رض) عنه صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم فھو کافر لانه ان کر نص القراٰن ” (قرطبی ج 8 ص 146) ۔ 37: حضرت انس (رض) کا بیان ہے کہ مجھ سے حضرت صدیق اکبر (رض) نے ذکر فرمایا کہ جب میں حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غار ثور میں تھا اور مشرکین ادھر ادھر سے ہمیں تلاش کر رہے تھے تو ان کے پاؤں مجھے نظر آرہے تھے۔ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی نیچے نگاہ کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ تو اس پر آپ نے فرمایا اے ابوبکر غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اے ابوبکر ! ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ جن کا نگہبان، حامی اور ناصر اللہ ہو۔ “ یا ابا بکر ما ظنک باثنین اللہ تعالیٰ ثالثھما ” (روح ج 10 ص 97) ۔ جب دونوں حضرات غار کے اندر داخل ہوگئے تو حکم خداوندی سے مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن دیا اور کبوتری نے وہاں انڈے دیدئیے۔ جب مشرکین آپ کے تعاقب میں وہاں پہنچے تو جالا اور انڈے دیکھ کر واپس ہوگئے اور غار کے اندر جھانک کر بھی نہ دیکھا۔ 38:“ سَکِیْنَتَهٗ ” میں ضمیر مجرور صاحب کی طرف راجع ہے کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو پہلے ہی مطمئن تھے لیکن حضرت ابوبکر کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں مشرکین کے ہاتھوںحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی تکلیف نہ پہنچے توحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطاب “ لَاتَحْزَنْ الخ ” سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کے دل پر سکون و طمانینت نازل فرما دی۔ “ علی ابی بکر، ابن العربی۔ قال علماءنا و ھو الاقوي لانه خاف علی النبی صلی اللہ علیه وسلم من القوم فانزل اللہ سکینته علیه بتامین النبی صلی اللہ علیه وسلم فسکن جاشه و ذھب روعه وحصل الامن ”(قرطبی ج 8 ص 148) ۔ 39: جنود سے فرشتوں کے لشکر مراد ہیں جنہوں نے مشرکین کی تعاقب کرنے والی پارٹیون کے رخ اور ان کی نظریں پھیر دیں تاکہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کو دیکھ نہ سکیں۔ یا اس سے جنگ بدر، احزاب اور حنین میں فرشتوں کا نازل کرنا مراد ہے۔ “ ھم الملائکة صرفوا وجوه الکفار وابصارھم عن ان یروه او ایدہ بالملائکة یوم بدر والاحزاب وحنین ”(مدارک ج 2 ص 97) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40 اگرتم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا جیسا کہ وہ اپنے رسول کی اس نازک وقت میں مدد کرچکا ہے جب کافروں نے ان کو اس حال میں جلا وطن کیا تھا کہ وہ دو میں سے ایک تھے جس وقت یہ دونوں غار ثور میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے ساتھی اور اپنے صاحب سے فرما رہے تھے کہ تو کچھ غم نہ کر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر تسکین و تسلی نازل فرمائی اور اپنے پیغمبر ! کی ایسے لشکروں سے مدد فرمائی اور ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات نیچی کردی اور ہمیشہ اللہ ہی کی بات اونچی رہتی ہے اور اسی کا بول بالا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کافروں کی بات نیچی ہوئی یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحیح سلامت غار سے نکل کر چلے گئے۔ فرشتوں کے لشکروں سے قوت دی فرشتے غار ثور کو گھیر کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رفیق غار ابوبکر صدیق (رض) ہیں ہجرت میں فقط یہی تھے حضرت کے ساتھ اور اصحاب بعضے پہلے نکل گئے تھے بعضے پیچھے نکل آئے۔ 12