Allah supports His Prophet
Allah said,
إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ
...
If you help him (Muhammad) not (it does not matter), for Allah did indeed help him,
if you do not support His Prophet, then it does not matter, for Allah will help, support, suffice and protect him, just as He did,
...
إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ
...
when the disbelievers drove him out, the second of the two;
During the year of the Hijrah, the idolators tried to kill, imprison or expel the Prophet, who escaped with his friend and Companion, Abu Bakr bin Abi Quhafah, to the cave of Thawr. They remained in the cave for three days so that the pagans who were sent in their pursuit, returned (to Makkah), and they proceed to Al-Madinah.
...
إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا
...
when they were both in the cave, he said to his companion: "Be not sad (or afraid), surely, Allah is with us."
While in the cave, Abu Bakr was afraid the pagans might discover them for fear that some harm might touch the Messenger.
The Prophet kept reassuring him and strengthening his resolve, saying,
يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا
O Abu Bakr! What do you think about two, with Allah as their third!
Imam Ahmad recorded from Anas that Abu Bakr said to him,
"I said to the Prophet when we were in the cave, `If any of them looks down at his feet, he will see us.'
He said,
يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا
O Abu Bakr! What do you think about two with Allah as their third!"
This is recorded in the Two Sahihs. This is why Allah said,
...
فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ
...
Then Allah sent down His Sakinah upon him,
sent His aid and triumph to His Messenger,
or they say it refers to Abu Bakr,
...
وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا
...
and strengthened him with forces which you saw not, (the angels),
...
وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا
...
and made the word of those who disbelieved the lowermost, while the Word of Allah that became the uppermost;)
Ibn Abbas commented,
"'The word of those who disbelieved', is Shirk, while, `The Word of Allah' is `La ilaha illallah."
It is recorded in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ashari said,
"The Messenger of Allah was asked about a man who fights because of courage, or out of rage for his honor, or to show off. Whom among them is in the cause of Allah?'
The Prophet said,
مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله
He who fights so that Allah's Word is superior, then he fights in Allah's cause."
Allah said next,
...
وَاللّهُ عَزِيزٌ
...
and Allah is All-Mighty,
in His revenge and taking retribution, He is the Most Formidable and those who seek refuge with Him and take shelter by adhering to what He instructs are never made to suffer injustice,
...
حَكِيمٌ
All-Wise,
in His statements and actions.
آغاز ہجرت
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں ۔ میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں ۔ یاد رکھو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ کے قتل ، قید یا دیس نکالا دینے کی سازش کی تھی اور آپ اپنے سچے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ شریف سے بحکم الٰہی تیز رفتاری سے نکلے تھے تو کون ان کا مددگار تھا ؟ تین دن غار میں گذارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ شریف کا راستہ لیں ۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو کوئی ایذاء پہنچائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو بکر بن ابو قحافہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا آپ نے فرمایا ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہے ۔ الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی ۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسکین نازل فرمائی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں ۔ اسلئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا ۔ شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لئے ۔ دوسرا حمیت قومی کے لئے ، تیسرا لوگوں کو خشو کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ نے فرمایا جو کلمہ حق کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ راہ حق کا مجاہد ہے اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے ۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی روک سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے ۔ کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے ۔ اس کے سب اقوال افعال حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں ۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ ۔