Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 44

سورة التوبة

لَا یَسۡتَاۡذِنُکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۴﴾

Those who believe in Allah and the Last Day would not ask permission of you to be excused from striving with their wealth and their lives. And Allah is Knowing of those who fear Him.

اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے ، اور اللہ تعالٰی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لااَ يَسْتَأْذِنُكَ ... would not ask your leave, to stay behind from Jihad, ... الَّذِينَ يُوْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ أَن يُجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ... Those who believe in Allah and the Last Day, to be exempted from fighting with their properties and their lives. because they consider Jihad an act of worship. This is why when Allah called them to perform Jihad, they obeyed and hasten to act in His obedience, ... وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 یہ مخلص ایمانداروں کا کردار بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ نہایت ذوق شوق کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] اللہ اور آخرت پر ایمان سے مراد اللہ کے وعدوں کو سچا سمجھنا ہے :۔ یہاں اللہ پر ایمان لانے سے مراد اللہ کے وہ وعدے ہیں جو اس نے فتح و نصرت سے متعلق مسلمانوں سے کیے ہیں اور آخرت پر ایمان سے مراد بھی جنت میں داخل کرنے اور بڑے درجات عطا کرنے کے وعدے ہیں اس لحاظ سے جن لوگوں کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے وہ تو فوراً اپنے اموال اور جانوں سے جہاد پر روانہ ہوجائیں گے اور ایسے لوگوں کو رخصت مانگنے کی نوبت ہی پیش نہیں آتی۔ البتہ جن منافقوں کا یہ یقین ہی نہیں کہ اللہ کے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی اور نہ ہی آخرت کے وعدوں پر پورا یقین ہے۔ وہ بس اپنے دنیوی مفادات کا ہی موازنہ کرنے میں مشغول ہیں۔ کبھی یہ سوچتے ہیں کہ شاید ان کا جہاد پر جانا سودمند ثابت ہو اور کبھی یہ خیال آتا ہے کہ کہیں الٹا لینے کے دینے نہ پڑجائیں اور وہیں موت سے دوچار ہونا پڑے۔ بس اسی گومگو کی حالت میں پڑے سوچتے ہیں۔ بالآخر انہیں یہی تدبیر کامیاب نظر آتی ہے کہ حیلوں بہانوں سے آپ سے معذرت کرلیں تاکہ ان کے جھوٹ اور بدنیتی پر پردہ پڑا رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ : کیونکہ انھیں تو خود جہاد میں جانے کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انھیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لوگوں کے معاش میں ان کے لیے سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھر رہا ہے، جب کبھی دشمن کی آمد پر کوئی خوف کی آواز یا گھبراہٹ سنتا ہے تو اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے، وہ قتل اور موت کو ان جگہوں میں تلاش کرتا ہے جہاں وہ مل سکتی ہیں۔ “ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الجہاد والرباط، : ١٨٨٩، عن أبی ہریرہ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second (44) and third (45) verses given there was the differ¬ence between believers and hypocrites. Those who believe in Allah Ta` ala truly and staunchly do not pick an occasion like that only to seek desertion from Jihad just for the sake of love for their lives and wealth and go about asking the permission of their prophet to stay back. In fact, this is the behavior of only those who do not believe in Allah and the Day of Judgment (Akhirah), truly and correctly - and, as for Allah, He knows the God-fearing perfectly well.

دوسری اور تیسری آیت میں مومنین اور منافقین کا یہ فرق بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان رکھنے والے ایسے موقع پر کبھی اپنی جان و مال کی محبت میں جہاد سے جان چرانے کے لئے آپ سے رخصت نہیں مانگا کرتے، بلکہ یہ کام صرف انہی لوگوں کا ہے جن کا اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان صحیح نہیں، اور اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِـہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ۝ ٤٤ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة أضرب : - مجاهدة العدو الظاهر . - ومجاهدة الشیطان . - ومجاهدة النفس . وتدخل ثلاثتها في قوله تعالی: وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] ، وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] ، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «جاهدوا أهواء کم کما تجاهدون أعداء کم» والمجاهدة تکون بالید واللسان، قال صلّى اللہ عليه وسلم «جاهدوا الکفار بأيديكم وألسنتکم» ( ج ھ د ) الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلف ومشقت کے ہیں ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ الجھد ( فتح جیم کے معنی مشقت کے ہیں اور الجھد ( ( بضم جیم ) طاقت اور وسعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ الجھد کا لفظ صرف انسان کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] اور جنہیں اپنی محنت ومشقت ( کی کمائی ) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] کے معنی یہ ہیں کہ وہ بڑی زور زور سے قسمیں کھاکر کہتے ہیں کے وہ اس میں اپنی انتہائی کوشش صرف کریں گے الاجتھاد ( افتعال ) کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اس میں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے میں نے غور ومحکر سے اپنی رائے کو مشقت اور تعب میں ڈالا ۔ الجھاد والمجاھدۃ دشمن کے مقابلہ اور مدافعت میں اپنی انتہائی طاقت اور وسعت خرچ کرنا اور جہا دتین قسم پر ہے ( 1 ) ظاہری دشمن یعنی کفار سے جہاد کرنا ( 2 ) شیطان اور ( 3 ) نفس سے مجاہدہ کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] کہ اللہ کی راہ میں پوری طرح جہاد کرو ۔۔۔۔۔ تینوں قسم جہاد پر مشتمل ہے ۔ نیز فرمایا :۔ وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] کہ خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرتے رہے ۔ اور حدیث میں ہے (66) کہ جس طرح اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو اسی طرح اسی خواہشات سے بھی جہاد کیا کرو ۔ اور مجاہدہ ہاتھ اور زبان دونوں کے ساتھ ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا (67) کہ کفار سے ہاتھ اور زبان دونوں کے ذریعہ جہاد کرو ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (لایستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاٰخر۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے درخواست نہیں کریں گے) تا قول باری (باموالھم وانفسھم۔ اپنی جا و مال کے ساتھ) تا آخر آیت۔ یعنی اہل ایمان تم سے اس بات کی درخواست نہیں کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مان کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ قول باری (ان یجاھذوا) میں حرف لا پوشیدہ ہے اس لئے کہ اس پر کلام دلالت کررہا ہے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کرنا ان کے لئے ممنوع تھا اور یہ بات قول باری (عفا اللہ عنک) کی اس تفسیر کی صحت پر دلالت کرتی ہے جس کے مطابق آیت کو کسی گناہ سے عفو پر محمول کیا گیا ہے اگرچہ گناہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ حسن سے قول باری (ان یجاھدوا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہاں لفظ کراھۃ مقدر ہے اور عبارت یوں ہے کراھۃ ان یجاھدوا۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں جو حرف لا پوشیدہ ماننے کی صورت میں معنی ہوں گے۔ اس لئے کہ حرف لا کا اضمار اور لفظ کراھۃ کا اضمار معنی کے لحاظ سے یکساں ہے۔ یہ آیت بھی جان و مال کے ساتھ جہاد کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم) اللہ تعالیٰ نے جان و مال کے ساتھ ترک جہاد کی اجازت مانگنے پر ان کی مذمت کی۔ مال کے ساتھ جہاد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اپنے لئے جنگی ہتھیار، گھوڑا، زادراہ اور ضرورت کی تمام دوسری اشیاء تیار کرنے کی غرض سے مال خرچ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی اور کو جہاد پر جانے کے لئے تیار کرنے کی غرض سے کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر ہتھیار تک ضروری اشیاء کی فراہمی پر اپنا مال خرچ کرے۔ جان کے ساتھ جہاد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ خود جہاد کے لئے نکل کر عملی طور پر میدان کارزار میں سرگرم ہوجائے، دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کی فرضیت، اس کی اہمیت، اس پر ملنے والے ثواب جزیل اور اس سے کوتاہی پر سخت عذاب کے موضوع کو لوگوں کے سامنے زبان و قلم کے ذریعے بیان کرے۔ لوگوں کو جہاد پر ابھارے اور انہیں اس کا حکم دے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ دشمن کے خفیہ حالات، ان کی خفیہ چالیں اور جنگی تدبیریں معلوم کرے۔ اور مسلمانوں کو ان سے آگاہ کرے۔ اسی طرح جنگ کے بارے میں صحیح مشورہ دینا نیز بہتر طریقوں اور زیادہ کارآد صورتوں کی طرف رہنمائی کرنا بھی جہاد بالنفس میں داخل ہے جیسا کہ حضرت حباب بن المنذر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدر کے معرکہ میں عرض کیا تھا کہ ” اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہاں پڑائو ڈالا ہے یہ اللہ کے حکم کے تحت اور اس کی وحی کی رہنمائی میں ہوا ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی رائے سے یہ قدم اٹھایا ہے ؟ آپ ؐ نے جواب دیا میں نے اپنی رائے سے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس پر حضرت حباب (رض) نے عرض کیا ! ” میری رائے تو یہ ہے کہ آپ کسی کنویں پر پڑائو ڈالیں اور کنوئیں کو اپنی پشت کی جانب رکھیں اور دشمن کی سمت جتنے کنویں ہوں انہیں بند کردیں۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حباب (رض) کا مشوروہ قبول کرتے ہوئے یہی طریق کار اختیار کیا۔ اس میں وہ تمام مشورے شامل ہیں جن پر عمل کرکے مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوا اور دشمن کو کمزوری۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھر کون سا جہاد افضل ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد یا علم کے ساتھ جہاد ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تلوار کے ساتھ جہاد علم کے ساتھ جہاد پر مبنی ہے اور اس کی شاخ ہے اس لئے کہ تلوار کے ساتھ جہاد کی صورت میں علم جن باتوں کا موجب ہے ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اس لئے علم کے ساتھ جہاد اصل ہے اور جان کے ساتھ جہاد فرع ہے اور اصل بہرحال فرع کے مقابلہ میں افضل ہوتا ہے۔ جہاد بمقابلہ علم اگر یہ پوچھا جائے کہ علم حاصل کرنا افضل ہے یا مشرکین کے خلاف جہاد کرنا تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب دشمن کی طرف سے جارحیت کا خطرہ ہوا اور مسلمانوں پر اس کے حملے کا خوف ہوا اور دوسری طرف اس کا راستہ روکنے کے لئے کوئی دفاعی قوت بھی سدراہ نہ ہو تو اس صورت میں ہر شخص پر جہاد فرض ہوجائے گا اس صورت حال میں علم حاصل کرنے کی بہ نسبت میدان کار زار میں دشمنوں سے نبرد آزما ہونا افضل ہوگا۔ اس لئے کہ اگر دشمن کو مسلمانوں پر بالادستی حاصل کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کا موقع مل گیا تو اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی جب کہ علم کا حصول تمام احوال میں ممکن ہوتا ہے نیز علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں فرض نہیں ہے لیکن جب دشمن کے مقابلہ میں ایسی قوت موجود نہ ہو جو اسے مسلمانوں کے خلاف جارحیت سے باز رکھ سکتی ہو تو ایسی صورت میں فریضہ جہاد کا ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں تعین ہوجاتا ہے اور جب ایک کام فرض عین بن جائے جس میں کسی شخص کے لئے تاخیر کی گنجائش نہ ہو تو وہ اس فعل سے افضل قرار پائے گا جسے کوئی شخص اگر انجام دے دے تو اس کی فرضیت دوسروں سے ساقط ہوجائے گی۔ مثلاً ظہر کا وقت اپنے آخر پر پہنچ رہا ہو ایسے وقت میں علم دین میں مشغولیت کی بہ نسبت ظہر کی نماز ادا کرنا اولیٰ ہوگا اس لئے کہ نماز کی فرضیت اس خاص وقت میں متعلقہ شخص پر متعین ہوچکی ہے۔ زیر بحث مسئلہ کی بھی یہی صورت ہے اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے فریضہ جہاد ادا کرنے والے موجود ہوں اور ان کے ہوتے ہوئے دوسروں کی خدمات کی ضرورت نہ پڑتی ہو تو ایسی صورت میں فریضہ جہاد فرض کفایہ ہوگا جس طرح علم دین حاصل کرنا فرض کفایہ ہے۔ البتہ ایسی حالت میں علم دین حاصل کرنا جہاد کرنے سے افضل ہوگا۔ اس لئے کہ علم دین کا مرتبہ جہاد کے مرتبے سے بلند ہے کیونکہ جہاد کا ثبات علم دین کے ثابت پر مبنی ہے اور علم دین اصل ہے اور جہاد اس کی فرع ہے۔ کی جہاد، فسقا و فجار کی معیت میں جائز ہے ؟ اگر پوچھا جائے کہ آیا فاسق و فاجر لوگوں کی معیت میں جہاد جائز ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والا ہر مجاہد صرف اپنی ذات پر عائد شدہ فرض کی ادائیگی میں مصروف ہوتا ہے اس بنا پر کافروں کے خلاف جہاد اس لئے جائز ہے خواہ امیر لشکر اور فوج کے سپاہی فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام خلفائے اربعہ کے بعد فاسق سالاروں کی ماتحتی میں فریضہ جہاد ادا کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) نے یزید کی سالاری میں جہاد کیا تھا۔ ہم نے گزشتہ اوراق میں حضرت ابو ایوب (رض) کے متعلق روایت بیان کردی ہے کہ آپ نے صرف ایک سال غزوات میں حصہ نہیں لیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ایک نوجوان شخص کو امیر لشکر مقرر کردیا گیا تھا ایک سال کے بعد آپ نے فرمایا : ” مجھے اس سے کیا غرض کہ مجھ پر کون امیر مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمادیا ہے (انفروا خفافاً وثقالاً نکلو ہلکے اور بوجھل) اور میں اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل ضرور پاتا ہوں۔ “ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ فاسقوں کی معیت میں جہاد اسی طرح فرض ہے جس طرح پاکبازوں کی معیت میں، نیز جہاد کو واجب کرنے والی تمام آیات نے فاسقوں کی معیت میں اس کی ادائیگی اور پاکبازوں کی معیت میں اس کی ادائیگی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ نیز فاسق و فاجر جب جہاد کریں گے تو وہ کم از کم اس فریضہ کی ادائیگی کے لحاظ سے فاسق نہیں رہیں گے بلکہ اطاعت گزار شمار ہوں گے جس طرح نماز روزہ اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں انہیں اطاعت گزار ہی شمار کیا جائے گا۔ نیز جاہد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک صورت ہے۔ اگر ہم کسی فاسق کو امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرتا دیکھیں تو اس معاملے میں ہم پر اس کی معانونت واجب ہوگی۔ فریضہ جہاد کی بھی یہی صورت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فرض کو صرف پاکبازوں اور نیکوکاروں کے ساتھ خاص نہیں کردیا کہ اس میں فاسق و فاجر جو لوگ شامل نہ ہوسکتے ہوں۔ جب فرض کی حیثیت یکساں ہے تو پھر فاسقوں اور پاکبازوں کی معیت میں جہاد کرنے کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جہاد کی تیاری پہلے ضروری ہے

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) غزوہ تبوک کے بعد جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے کامل مومن ہیں، وہ جہاد نہ کرنے کی آپ سے کبھی رخصت نہ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کفر وشرک سے بچنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (لاَ یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط) سچے مؤمن ایسی صورت حال میں ایسا کبھی نہیں کرسکتے کہ وہ جہاد سے معافی کے لیے درخواست کریں ‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے کہ سورة الحجرات کی آیت ١٥ میں ایمان کی جو تعریف (definition) کی گئی ہے اس میں تصدیق قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ کو ایمان کے ارکان قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کا ذکر سورة الانفال کی آیت ٢ اور آیت ٧٤ کے ضمن میں بھی گزر چکا ہے۔ اس میں جہاد فی سبیل اللہ کو واضح طور پر ایمان کی لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤۔ ٤٥۔ جب منافقوں نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد میں نہ شریک ہونے اور گھروں میں بیٹھ رہنے کی اجازت چاہی اور آپ نے نہیں اجازت دی جس کا ذکر اوپر گذرا تو اب اس کے بعد یہ بات بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان دار ہیں خدا پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت نہیں چاہتے ہیں انہیں تو یہی بات پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں بلکہ اگر انہیں بیٹھ رہنے کا حکم بھی دیا جائے تو ان پر شاق گذرتا ہے چناچہ صحیح بخاری کہ حوالہ سے سعد بن ابی وقاض (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ حضرت علی (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی لڑائی پر جاتے وقت یہ حکم فرمایا تھا کہ تم مدینہ میں رہو ان پر یہ حکم نہایت گراں گذرا اور راضی نہ ہوتے تھے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ بات کہی کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ مجھ سے تمہیں وہ خصوصیت ہو جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھی کہ ہارون ( علیہ السلام) موسیٰ ( علیہ السلام) کے نائب اور قائم مقام تھے غرض کہ یہ بات سن کر حضرت علی (رض) کے مدینہ کے رہ جانے پر رضامند ہوئے پھر اللہ پاک نے مومنوں کا حال بیان فرما کر یہ ذکر کیا کہ خدا سب کو جانتا ہے کون کون ان میں متقی ہیں اور پھر یہ فرمایا کہ جو لوگ خدا پر پورا ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ بیٹھ رہنے کو پسند کرتے ہیں اور گھروں میں رہ جانے کی اجازت بھی چاہتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں دین کی طرف سے شک ہے اور یہ لوگ ہمیشہ شک کی حالت میں متردد ہیں معتبر سند سے مسندامام احمد صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابومامہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آدمی کے ایمان دار ہونے کی نشانی پوچھی تھی جس کے جواب میں آپ نے فرمایا جس شخص کا دل نیک کام سے خوش ہو اور برے کام سے غمگین ہو تو ایسا شخص ایماندار ہے۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ ایماندار لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب اور عذاب کا پورا یقین ہوتا ہے اس لئے نیک کام کا ثواب یاد کر کے ان کا دل خوش ہوتا ہے اور برے کام کا عذاب یاد کر کے ان کے دل میں ایک طرح کا غم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب کا پورا یقین نہیں ہے ان کی حالت اس کے برخلاف ہے یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب کا پورا یقین ہے وہ اپنے دین کی لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھ رہنے کی خواہش کبھی نہ کریں گے بلکہ ان کی خواہش اور خوشی تو ہمیشہ ایسے نیک کاموں میں لگے رہنے کی ہوگی ہاں جن لوگوں کے دل میں یہ یقین پورا نہیں ہے وہ محنت مشقت کے نیک کاموں کی جرأت نہیں کرسکتے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:44) لا یستاذنکمضارع منفی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر استیذان مصدر۔ تجھ سے اجازت نہیں مانگیں گے۔ لا یستاذنک الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر ان تجاھدوا باموالہم وانفسہم۔ اگر ان یجاھدوا بمعنی فی ان یجاھدوا لیا جاوے تو معنی ہوگا وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اپنے مال اور جانوروں سے جہاد کرنے سے بچنے کی خاطر تم سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں مانگیں گے۔ یا یہ اس طرح ہے ان یستاذنون فی التخلف کراھۃ ان یجاھدوا۔ کہ وہ تجھ سے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کریں کیونکہ وہ اپنے مال اور اجن سے جہاد کرنا نہیں چاہتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 کیونکہ انہیں تو خود جہاد کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انہیں اللہ راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ( از وحیدی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔ لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔ اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اولاً اہل ایمان کا حال بیان فرمایا ہے (لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ ) (جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اس بات کی اجازت نہیں لیتے کہ اپنے جانوں اور مالوں کو جہاد میں لگائیں) کیونکہ وہ تو حکم سنتے ہی تیار ہوجاتے ہیں۔ (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بالْمُتَّقِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے اور پھر منافقین کا ذکر فرمایا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

43: اس میں مخلصین صحابہ کا ذکر ہے اور مراد خاص واقعہ ہے یعنی اس خاص موقع پر مخلص مومنین اپنے مال وجان سے جہاد میں شریک ہونے سے چھٹی نہیں مانگتے۔ البتہ اگر وہ کسی دوسرے موقع پر اپنے کسی ذاتی کام کے لیے اجازت چاہیں تو آپ جسے مناسب سمجھیں اجازت دے دیں جیسا کہ سورة نور میں فرمایا۔ “ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَانِھِمْ الخ ”۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44 اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے اور جہاد کے میدان میں حاضر ہونے سے بچنے کے لئے آپ سے رخصت طلب نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی جو اہل ایمان اور اہل تقویٰ ہیں وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں وہ جہاد سے بچنے کے لئے نہ کوئی بہانہ بنائیں گے اور نہ رخصت طلب کریں گے۔