Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 45

سورة التوبة

اِنَّمَا یَسۡتَاۡذِنُکَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ ارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡ رَیۡبِہِمۡ یَتَرَدَّدُوۡنَ ﴿۴۵﴾

Only those would ask permission of you who do not believe in Allah and the Last Day and whose hearts have doubted, and they, in their doubt, are hesitating.

یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ ... and Allah is the All-Knower of those who have Taqwa. Those who ask your leave, to remain behind, without a valid excuse, ... الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ ... those who believe not in Allah and the Last Day, they do not hope for Allah's reward in the Hereafter for their good actions, ... وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ ... and whose hearts are in doubt, about the validity of what you brought them, ... فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ so in their doubts they waver. They waver in doubt, taking one step forward and one step back. They do not have a firm stance in anything, for they are unsure and destroyed, neither belonging to these nor to those. Verily, those whom Allah misguides, will never find a way for themselves to guidance.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یہ ان منافقین کا بیان ہے جنہوں نے جھو ٹے حیلے تراش کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کرلی تھی۔ ان کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی عدم ایمان نے انہیں جہاد سے گریز پر مجبور کیا۔ اگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو نہ جہاد سے یہ بھاگتے نہ شکوک و شبہات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : پس مومنین اور منافقین کے درمیان فرق یہ ہے کہ جہاد کا اعلان ہونے پر مومن تو بلا تامل نکل کھڑے ہوتے ہیں، مگر جو منافق ہیں وہ بہانے تراشتے ہیں اور ہر ایسے موقع پر مذبذب بھی ہوجاتے ہیں، کبھی دل کہتا ہے چلو ! شاید پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچ ہی کہتے ہوں اور کبھی دل میں آتا ہے نہیں، یہ سب ڈھکوسلے اور ڈرانے کی باتیں ہیں، بس دنیا میں چند روز جینا ہے، آرام سے دن کاٹ لیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ فَہُمْ فِيْ رَيْبِہِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ۝ ٤٥ ارْتِيابُ والارْتِيابُ يجري مجری الْإِرَابَةِ ، قال : أَمِ ارْتابُوا أَمْ يَخافُونَ [ النور/ 50] ، وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ [ الحدید/ 14] ، ونفی من المؤمنین الِارْتِيَابَ فقال : وَلا يَرْتابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ وَالْمُؤْمِنُونَ [ المدثر/ 31] ، اور ارتیاب ( افتعال ) ارابہ کے ہم معنی ہے جس کے معنی شک و شبہ میں پڑنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛َ أَمِ ارْتابُوا أَمْ يَخافُونَ [ النور/ 50] یا شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس بات سے ڈرتے ہیں ۔ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ [ الحدید/ 14] اور اس بات کے منتظر رہے ( کہ مسلمانوں پر کوئی آفت نازل ہو ) اور ( اسلام کی طرف سے ) شک میں پڑے رہے ۔ اور مؤمنین سے ارتیاب کی نفی کرتے ہوئے فرمایا ولا يَرْتابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ وَالْمُؤْمِنُونَ [ المدثر/ 31] اور اہل کتاب اور مسلمان ( ان باتوں میں کسی طرح کا ) شک و شبہ نہ لائیں قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔ يترددون ( تفعل) مصدر۔ ڈانواں ڈول ہیں۔ تردد میں پڑے ہوئے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥) البتہ وہ لوگ جہاد میں نہ جانے کی رخصت مانگتے ہیں جو مومن نہیں اور ان کے دل میں کجی ہے سو وہ اپنے شکوک میں حیران ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ ) یہاں سورة الحجرات کی مذکورہ آیت کے الفاظ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا ذہن میں دوبارہ تازہ کرلیجئے کہ مؤمن تو وہی ہیں جو ایمان لانے کے بعد شک میں نہ پڑیں ‘ اور یہاں وارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ کے الفاظ سے واضح فرما دیا کہ ان منافقین کے دلوں کے اندر تو شکوک و شبہات مستقل طور پر ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ (فَہُمْ فِیْ رَیْبِہِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ ) اپنے ایمان کے اندر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کی وجہ سے وہ تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور جہاد کے لیے نکلنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ کبھی ان کو مسلمانوں کے ساتھ چلنے میں مصلحت نظر آتی کہ نہ جانے سے ایمان کا ظاہری بھرم بھی جاتا رہے گا ‘ مگر پھر فوراً ہی مسافت کی مشقت کے تصور سے دل بیٹھ جاتا ‘ دنیوی مفادات کا تصور پاؤں کی بیڑی بن جاتا اور پھر سے جھوٹے بہانے بننے شروع ہوجاتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :46 اس سے معلوم ہوا کہ کفر اسلام کی کشمکش ایک کسوٹی ہے جو کھرے مومن اور کھوٹے مدعی ایمان کے فرق کو صاف کھول کر رکھ دیتی ہے ۔ جو شخص اس کشمکش میں دل و جان سے اسلام کی حمایت کرے اور اپنی ساری طاقت اور تمام ذرائع اس کو سربلند کرنے کی سعی میں کھپا دے اور کسی قربانی سے دریغ نہ کرے وہی سچا مومن ہے ۔ بخلاف اس کے جو اس کشمکش میں اسلام کا ساتھ دینے سے جی چرائے اور کفر کی سر بلندی کا خطرہ سامنے دیکھتے ہوئے بھی اسلام کی سربلندی کے لیے جان و مال کی بازی کھیلنے سے پہلو تہی کرے اس کی یہ روش خود اس حقیقت کو واضح کر دیتی ہے کہ اس کے دل میں ایمان نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:45) ارتابت قلوبھم۔ ان کے دل شک میں پڑگئے ۔ ارتابت ماضی واحد مؤنث غائب۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ شک۔ یترددون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ترددو (تفعل) مصدر۔ ڈانواں ڈول ہیں۔ تردد میں پڑے ہوئے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 پس مومنین اور منافقین کے مابین فرق یہ ہے کہ جہاد کا اعلان ہونے پر مومن تو بلاتامل نکل کھڑے ہوتے ہیں مگر جو منافق ہیں وہ بہانے ترشتے ہیں اور ہر ایسے موقع پر مذبذب بھی ہوجاتے ہیں کبی دل کہتا ہے کہ چلو شاید پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچ ہی کہتے ہوں اور کبھی دل میں میں آتا ہے کہ نہیں ی سب ڈھکو سلے اور ڈراوے ہیں۔ پس دنیا میں چند روز جینا ہے جہاں تک ہو سکے آرام سے دن کا کاٹ لیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ ) (جہاد میں نہ جانے کی وہی لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دلوں میں شک ہے) (فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ ) (سو وہ اپنے شک میں حیران ہو رہے ہیں) کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ساتھ چلے جائیں تو اچھا ہے تاکہ منافقت کا بھرم نہ کھلے اور کبھی سوچتے ہیں کہ سفر میں اور دھوپ کی مصیبت بہت بڑی ہے اس لیے نہ جائیں تو اچھا رہے گا۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لی تھی کہ ہم جہاد میں نہ جائیں اور ان کو کوئی عذر نہ تھا۔ بعض روایات کے مطابق یہ ٣٩ آدمی تھے۔ پھر فرمایا کہ منافقین تمہارے ساتھ نہیں گئے۔ ان کے جانے کا ارادہ ہی نہ تھا۔ اگر جانے کا ارادہ ہوتا تو کچھ سامان کرتے۔ سامان کا بھی انتظام نہیں کیا اور آپ سے اجازت لے کر اپنے لیے ایک بہانہ بھی بنا لیا کہ ہمیں اجازت مل گئی۔ اجازت نہ دی جاتی تب بھی ان کو جانا ہی نہ تھا۔ اگر واقعی جانے کا ارادہ ہوتا تو جانے کے لیے تیاری کرتے پھر کچھ عذر پیش آجاتا اور اجازت لیتے تو اجازت لینے کا کچھ معنی بھی ہوتا، بات یہ ہے کہ ان کا جانے کا اپنا ارادہ ہی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ فیصلہ ہوا کہ یہ لوگ نہ جائیں، تکوینی طور پر اللہ نے ان کو روک دیا اور ان کو تمہارے ساتھ جانے کی توفیق نہیں دی اور تکوینی طور پر انہیں بیٹھنے والوں یعنی اپاہج اور واقعی معذورین کے ساتھ رہ جانے کا جو فیصلہ ہوا تھا اسی کی وجہ سے بیٹھے رہ گئے اور جانے سے رک گئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44: یہ بھی مذکورہ واقعہ سے مخصوص ہے اس میں جھوٹے بہانے کر کے اجازت لینے والے منافقین کا زکر ہے۔ یعنی اس موقع پر مؤمنین مخلصین تخلف عن الجہاد کی اجازت نہیں مانگتے۔ صرف وہی لوگ اجازت مانگتے ہیں جن کا اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں اور اپنے ایمان پر مضطرب اور شک وتردد میں مبتلا ہیں۔ یعنی منافقین تو گویا اس موقع پر اجازت مانگنا ہی نفاق کی علامت تھی۔ “ یَتَرَدَّدُوْنَ یقال فی العرف رددہ فتردد ” یعنی پہلی بات کی طرف واپس لوٹنا (صراح) تحیر یعنی حیران ہونا اس کا لغوی معنی نہیں۔ لغوی معنی تو پہلا ہی ہے۔ البتہ معنی ثانی اس کو لازم ہے۔ “ یتحیرون لان التردد دیدن المتحیر کما ان الثبات دیدن المستبصر ” (مدارک ج 2 ص 98) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

45 البتہ وہی لوگ آپ سے اجازت طلب کرنے کے خوگر ہیں جو نہ تو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام کی طرف سے ان کے دل شک میں مبتلا ہیں تو ایسے لوگ اپنے شکوک و شبہات میں حیران و متردد ہیں۔ جس کو اللہ پر ایمان نہیں اس کا دل مرنے کو آمادہ نہیں۔ وہی رخصت مانگنے کو طرح طرح کے بہانے کرتے ہیں۔