Surat ul Balad

Surah: 90

Verse: 16

سورة البلد

اَوۡ مِسۡکِیۡنًا ذَا مَتۡرَبَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾

Or a needy person in misery

یا خاکسار مسکین کو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Or to a Miskin cleaving to dust (Dha Matrabah). meaning, poor, miserable, and clinging to the dirt. It means those who are in a state of destitution. Ibn `Abbas said, "Dha Matrabah is that who is dejected in the street and who has no house or anything else to protect him against the dirt." Allah said;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہوسکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے اوصاف :۔ اس گھاٹی پر چڑھنے کے چار کام یہاں بیان کیے گئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہے۔ جو انسان کو طبعاً ناگوار ہے۔ اوپر ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو اپنے نام و نمود اور شہرت اور شیخی بگھارنے کے لیے مال خرچ کرتا پھر لوگوں میں بڑ ہانکتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال فلاں فلاں کاموں میں خرچ کردیا ہے۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اس کے بہترین مصرف یہ ہیں کہ مال خرچ کرکے کسی غلام کو آزادی دلادی جائے۔ اس کی مکاتبت میں اس کی مدد کی جائے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو غلہ مہیا کیا جائے یا انہیں کھانا کھلایا جائے۔ یتیموں کی پرورش کی جائے۔ اور اگر وہ یتیم قرابتدار بھی ہو تو وہ اور بھی زیادہ پرورش اور امداد کا مستحق ہے۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے جن کو رہنے کو کٹیا اور سونے کو بستر، پہننے کو لباس اور کھانے کو غذا بھی میسر نہیں۔ یہی وہ کام ہیں جو ایک انسان کو بلند مرتبہ تک پہنچانے والے ہیں۔ اور یہ سب کام ایسے ہیں جن کی کتاب و سنت میں جا بجا ترغیب دی گئی ہے اور ان کا بڑا ثواب بیان کیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ۝ ١٦ ۭ مِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . المسکین المسکین بعض نے اس کی تفسیر ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقر کے زیادہ تا دار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں کی تھی ۔ میں باوجود کشتی کا مالک ہونے کے انہیں مسکن قرار دینا مایؤؤل کے لحاظ سے ہے یعنی کشتی کے چلے جانے کے بعد کی حالت کے لحاظ سے انہیں مسکن کہا گیا ہے ۔ یا اس لئے کہ ان کی احتیاط اور مسکنت کے مقابلہ میں کشتی کی کچھ بھی حیثیت نہ تھی ۔ اور آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور اخر کا ر ذلت روسوائی اور محتاجی ( اور بےنوائی ) ان سے چمٹا دی گئی ۔ میں اصح قول کے لحاظ سے مسکنتہ کی میم زائد ہے ( اور یہ سکون سے ہے ۔ ) ترب التُّرَاب معروف، قال تعالی: أَإِذا كُنَّا تُراباً [ الرعد/ 5] ، وقال تعالی: خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] ، الَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] . وتَرِبَ : افتقر، كأنه لصق بالتراب، قال تعالی: أَوْ مِسْكِيناً ذا مَتْرَبَةٍ [ البلد/ 16] ، أي : ذا لصوق بالتراب لفقره . وأَتْرَبَ : استغنی، كأنه صار له المال بقدر التراب، والتَّرْبَاء : الأرض نفسها، والتَّيْرَب واحد التَّيَارب، والتَّوْرَب والتَّوْرَاب : التراب، وریح تَرِبَة : تأتي بالتراب، ومنه قوله عليه السلام : «عليك بذات الدّين تَرِبَتْ يداك» تنبيها علی أنه لا يفوتنّك ذات الدین، فلا يحصل لک ما ترومه فتفتقر من حيث لا تشعر . وبارح تَرِبٌ: ريح فيها تراب، والترائب : ضلوع الصدر، الواحدة : تَرِيبَة . قال تعالی: يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرائِبِ [ الطارق/ 7] ، وقوله : أَبْکاراً عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 36- 37] ، وَكَواعِبَ أَتْراباً [ النبأ/ 33] ، وَعِنْدَهُمْ قاصِراتُ الطَّرْفِ أَتْرابٌ [ ص/ 52] ، أي : لدات، تنشأن معا تشبيها في التساوي والتماثل بالترائب التي هي ضلوع الصدر، أو لوقوعهنّ معا علی الأرض، وقیل : لأنهنّ في حال الصبا يلعبن بالتراب معا . ( ت ر ب ) التراب کے معنی منی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] کہ اس نے تمہیں منی سے پیدا کیا ۔ الَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] کہ اے کاش کے میں مٹی ہوتا ۔ ترب کے معنی فقیر ہونے کے ہیں کیونکہ فقر بھی انسان کو خاک آلودہ کردیتا ہے ۔ فرمایا :۔ أَوْ مِسْكِيناً ذا مَتْرَبَةٍ [ البلد/ 16] یا فقیر خاکسار کو ۔ یعنی جو بوجہ فقر و فاقہ کے خاک آلودہ رہتا ہے ۔ اترب ( افعال ) کے معنی مال دار ہونے کے ہیں ۔ گویا اس کے پاس مٹی کی طرح مال ہے نیز تراب کے معنی زمین کے بھی آتے ہیں اور اس میں التیراب ( ج) تیارب اور التوراب والتورب والتوراب وغیرہ دس لغات ہیں ۔ ریح تربۃ خاک اڑانے والی ہو ۔ اسی سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے (50) علیک بذاب الدین تربت یداک کہ شادی کے لئے دیندار عورت تلاش کرو ۔ تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ دیندار عورت تیرے ہاتھ سے نہ جانے پائے ورنہ تمہارا مقصد حاصل نہیں ہوگا اور تم غیر شعوری طورپر فقیر ہوجاو گے ۔ بارح ترب خاک اڑانے والی ہو ۔ ترائب سینہ کی پسلیاں ( مفرد ت ربیۃ ) قرآن میں ہے ۔ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرائِبِ [ الطارق/ 7] جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَبْکاراً عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 36- 37] کنواریاں اور شوہروں کی پیاریاں اور ہم عمر ۔ اور ہم نوجوان عورتیں ۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی ( اور ) ہم عمر ( عورتیں ) ہوں گی ۔ میں اتراب کے معنی ہیں ہم عمر جنہوں اکٹھی تربیت پائی ہوگی گو یا وہ عورتیں اپنے خاوندوں کے اس طرح مساوی اور مماثل یعنی ہم مزاج ہوں گی جیسے سینوں کی ہڈیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے اور ریا اس لئے کہ گو یا زمین پر بیک وقت واقع ہوئی ہیں اور بعض نے یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ وہ اکٹھی مٹی میں ایک ساتھ کھیلتی رہی ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (اومسکینا ذا متریۃ یا خاک نشین مسکین کو (کھانا کھلایا) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ متربہ مٹی کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یعنی وہ شخص مٹی میں پڑا ہوا ہو اور کوئی چیز زمین کی مٹی سے اسے محفوظ نہ کررہی ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی منقول ہے کہ متربہ حاجتمندی کی شدت کو بھی کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص حاجت مند ہوجاتا ہے تو کہا جاتا ہے۔ ” ترب الرجل “۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦{ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ } ” یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ “ یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل ُ حب ِمال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورة الحدید کی آیت ١٨ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چناچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے پیارے مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کردیا جائے۔ یاد رکھیں ! حب مال کی گندگی کو دل سے نکالے بغیر انسان کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوسکتی۔ (اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحدید آیات ١٧ تا ٢٠ کی تشریح۔ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 Since in the foregoing verses the extravagances of man which he indulges in for ostentation and expression of superiority to others, have been mentioned, now here it is being stated as to what expenditure of wealth it is which leads tnan up to moral heights instead of causing him to sink into moral depravity and perversion. But in this there is no enjoyment for the self; on the contrary, man has to exercise self-restraints and make sacrifices. The expenditure is that one should set a slave free, or should render a slave monetary help so as to enable him to win his freedom by paying the ransom, or free a debtor from his debt, or secure release of a helpless person without means from penalties. Likewise, the expenditure is that one should feed a nearly related orphan (i.e. an orphan who is either a relative or a neighbour) who is hungry, and a needy, helpless person who might have been reduced to extreme poverty and might have none to support and help him. Helping such people does not win a person fame and reputation, nor feeding them brings him the admiration for being wealthy and generous which one usually wins by holding banquets to thousands of well-to-do people. But the path to moral and spiritual heights passes on steep uphill roads only. Great merits of the acts of virtue mentioned in these verses have been described by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) . For instance, about fakku raqabah (fleeing a neck from bondage) many ahadith have been related in the traditions, one of which is a tradition from Hadrat Abu Hurairah, to the effect; "The Holy Prophet said: The person who set a believing slave free, Allah will save from fire of Hell every limb of his body in lieu of every limb of the slave's body, the hand in lieu of the hand, the foot in lies of the foot, the private parts in lieu of the private parts " (Musnad, Ahmad, Bukhari. Muslim, Tirmidhi, Nasa'i) . Hadrat 'Ali bin Husain (lmam Zain al-`Abedin) asked Sa`d bin Marjanah, the reporter of this Hadith: "Did you hear it yourself from Abu Hurairah?" When 6e replied in the affirmative, Imam Zain al-`Abedin called out his most valuable slave and set him free there and then. According to Muslim, he had an offer often thousand dirhams for the slave. On the basis of this verse, Imam Abu Hanifah and Imam Sha`bi have ruled: "Setting a slave free is superior to giving away charity, for Allah has mentioned it before the mention of charity. The Holy Prophet has mentioned the merits of rendering help to the needy in many ahadith, one of which is this Hadith from Hadrat Abu Hurairah: "The Holy Prophet said: The one who strives in the cause of rendering help to the widow and the needy is like the one who endeavours aad strives in the cause of jihad for the sake of Allah. (And Hadrat Abu Hurairah says :) I think that the Holy Prophet also said: He is even like him who keeps standing up in the Prayer constantly, without ever taking rest, and like him who observes the fast continuously without ever breaking it:" (Bukhari, Muslim) . As for the orphans, there are numerous sayings reported from the Holy Prophet. Hadrat Sahl bin Sa`d has reported: "The Holy Prophet (upon whom be peace) said: I and the one who supports a nearly related of un-related orphan, shall stand in Paradise like this-saying this he raised his index finger and the middle finger, keeping them a little apart." (Bukhari) . Hadrat Abu HIurairah has reported this saying of the Holy Prophet: "The best among the Muslim homes is the home wherein an orphan is treated well and the worst the one wherein an orphan is mistreated." (Ibn Majah, Bukhari in Al-Adab al- Mufrad) . Hadrat Abu Umamah says that the Holy Prophet said: "The one who passed his hand on the head of an orphan, only for the sake of Allah, will have as many acts of virtue recorded in his favour as the number of the hair on which his hand passed, and the one who treated an orphan boy or girl well. will stand in Paradise with me like this...saying this the Holy Prophet joined his two fingers together." (Musnad Ahmad, Tirmidhi) . Ibn 'Abbas says: The Holy Prophet said: "The one who made an orphan join him in eating and drinking, Allah will make Paradise obligatory for him unless he commits a sin which cannot be forgiven." (Sharh as-Sunnah) .Hadrat Abu Hurairah says: A man complained before the Holy Prophet (upon whom be peace) , saying: "I am hard-hearted." The Holy Prophet said to him: "Treat the orphan with kindness and love and feed the needy one." (Musnad Ahmad) .

سورة الْبَلَد حاشیہ نمبر :12 اوپر چونکہ اس کی فضول خرچیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ اپنی بڑائی کی نمائش اور لوگوں پر اپنا فخر جتانے کے لیے کرتا ہے ، اس لیے اب اس کے مقابلے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کونسا خرچ اور مال کا کونسا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں میں گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے ، مگر اس میں نفس کی کوئی لذت نہیں ہے بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کر کے ایثار اور قربانی سے کام لینا پڑتا ہے ۔ وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے ، یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کر لے ، یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے ، یا کوئی بے وسیلہ آدمی اگر کسی تاوان کے بوجھ سے لد گیا ہو تو اس کی جان اس سے چھڑائے ۔ اسی طرح وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں کسی قریبی یتیم ( یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم ) اور کسی ایسے بےکس محتاج کو کھانا کھلائے جسے غربت و افلاس کی شدت نے خاک میں ملا دیا ہو اور جس کس کی دستگیری کرنے والا کوئی نہ ہو ۔ ایسے لوگوں کی مدد سے آدمی کی شہرت کے ڈنکے تو نہیں بجتے اور نہ ان کو کھلا کر آدمی دولت مندی اور دریا دلی کے وہ چرچے ہوتے ہیں جو ہزاروں کھاتے پیتے لوگوں کی شاندار دعوتیں کرنے سے ہوا کرتے ہیں ، مگر اخلاق کی بلندیوں کی طرف جانے کا راستہ اسی دشوار گزار گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے ۔ ان آیات میں نیکی کے جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے ، ان کے بڑے فضائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں ۔ مثلاً فَكُّ رَقَبَةٍ ( گردن چھڑانے ) کے بارے میں حضور کی بکثرت احادیث روایات میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت ہے کہ حضور نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالی اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا ، ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ ، پاؤں کے بدلے میں پاؤں ، شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ ( مسند احمد ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ) ۔ حضرت علی بن حسین ( امام زین العابدین ) نے اس حدیث کے راوی سعد بن مرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابوہریرہ سے یہ حدیث خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے زیادہ قیمتی غلام کو بلایا اور اسی وقت اسے آزاد کر دیا ۔ مسلم میں بیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کے لیے ان کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی ۔ امام ابو حنیفہ اور امام شعبی نے اسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا ذکر صدقے پر مقدم رکھا ہے ۔ مساکین کی مدد کے فضائل بھی حضور نے بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے ہیں ۔ ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا الساعی علی الارملۃ و المسکین کالساعی فی سبیل اللہ و احسبہ قال کالقائم لا یفترو کالصائم لا یفطر بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا ۔ ( اور حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ) مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ لے اور وہ جو پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے ( بخاری و مسلم ) یتامی کے بارے میں حضور کے بے شمار ارشادات ہیں ۔ حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کرے ، جنت میں اس طرح ہوں گے یہ فرما کر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا ( بخاری ) ۔ حضرت ابو ہریرہ حضور کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے نیک سلوک ہو رہا ہو اور بد ترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے برا سلوک ہو رہا ہو ( ابن ماجہ ۔ بخاری فی الادب المفرد ) ۔ حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیرا اس بچے کے ہر بال کے بدلے جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ نیک برتاؤ کیا وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے ۔ اور یہ فرما کر حضور نے اپنی دو انگلیاں ملا کر بتائیں ( مسند احمد ، ترمذی ) ۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ سرکار رسالت ماب نے ارشاد فرمایا جس نے کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں شامل کیا اللہ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی الا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھا ہو جو معاف نہیں کیا جا سکتا ( شرح السنہ ) ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے ۔ حضور نے فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا ( مسند احمد ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(90:16) او مسکنا ذا متربۃ۔ او۔ حرف عطف۔ (اس کا عطف یتیما پر ہے) مفلس، نادار۔ موصوف۔ ذا متربۃ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت مسکینا کی ۔ متربۃ۔ اسم ، سخت ناداری۔ ایسی مفلسی جو زمین سے چمٹا دے۔ اٹھنے کی سکت نہ چھوڑے۔ آیات 12 تا 16 کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ عقبہ کیا ہے ۔ وہ کسی غلام کو آزاد کرانا ہے یا بھوک کے (قحط سالی) میں کسی قرابت دار یتیم کو یا سخت نادار (خاک نشین) مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی جو محتاجی کی وجہ سے خاک میں رل رہا ہو جس کا نہ کوئی گھر ہوا اور نہ اس کے پاس پہننے کے لبے لباس رہا ہو۔ قرضوں کا بوجھ سر پر الگ لدا ہوا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اواطعم ............................ ذا متربة (14:90 تا 16) ” یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یاخاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا “۔ مسفبہ کے معنی ہیں بھوک کے۔ قحط کے دنوں میں چونکہ کھانا مہنگا ہوتا ہے ، اس لئے ان دنوں غریبوں کو کھانا کھلانا ، ایمان کے لئے معیار بن جاتا ہے۔ اس وقت کی جاہلی سوسائٹی میں یتیموں کی حالت تو یہ تھی کہ ان کے حقوق ہر طرف پامال ہوتے تھے ، ان کے مال کو غبن کیا جاتا تھا اور اس رطح سے اڑالیا جاتا تھا کہ گویا زمین اسے کھاگئی۔ اگرچہ یتیم قریبی رشتہ دار ہوتا۔ اس لئے کہ اس جاہلی سوسائٹی میں لوگ دولت کے پیچھے کتوں کی طرح ہلکان ہورہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو یتیم کے مال کی حفاظت کے لئے بار بار وصیت کرنی پڑی ، کیونکہ اس معاشرے میں یتیموں پر حکم عام تھا۔ اس لئے یہ ہدایات قرآن حکیم میں جاری رہیں اور مدنی سورتوں میں یہ دی گئیں۔ مثلاً میراث ، وصیت اور نکاح کے قوانین کے ضمن میں۔ ہم نے سورة بقرہ اور نساء میں اس موضوع پر مفصل بات کی ہے۔ خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔ او مسکینا ذا متربة (16:90) ” اس لئے کہا گیا ہے کہ اپنی بدحالی کی وجہ سے وہ خاک آلود ہے یہاں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے قبل قیدلگا دی۔ فی یوم ذی مسغبة (14:90) ” فاقے کے دن کسی یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانا “۔ یہ اس لئے کہ اس گھاٹی کو مشکل گھاٹی کہا گیا ہے اور یہ گھاٹی معیار ہے ایمانی شعور ، رحمدلی ، ایثار اور اسلامی سوسائٹی کے نظام تکافل کے لئے۔ لوگ اللہ کے اہل و عیال ہیں اور اللہ کے عیال کا خیال رکھنا ایمانی تقاضا ہے خصوصاً قحط سالی اور فاقوں کے دنوں میں۔ اور دونوں کام ، غلاموں کو آزاد کرنا اور غریبوں کو کھلانا ، مکہ کی سوسائٹی میں نہایت ہی اہم تھے۔ اگرچہ یہ دونوں کام اسلام کے عمومی مقاصد میں بھی داخل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کو ایمان سے بھی مقدم ذکر کیا۔ حالانکہ ایمان لانا ایک بنیادی قاعدہ ہے۔ اس کے بعد پھر عمومی اور بنیادی اصول کا ذکر کیا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(16) یا کسی خاک افتادہ و مسکین کو فک رقبۃ اپنے کسی غلام یا لونڈی کو خود آزاد کردینا یا کسی دوسرے سے آزاد کرادینا کسی مکاتب کا روپیہ ادا کرکے اس کو آزاد کرادینا یا کسی کا خوں بہا ادا کرکے قصاص اور قتل سے آزاد کرادینا یا کسی قیدی کا جرمانہ ادا کرکے اس کو قید سے آزاد کرادینا۔ یا کسی مقروض کا قرضہ ادا کرکے اس کو سبکدوش کردینا یوم ذی مسغبۃ بھوک اور فاقے کے دن زمانہ قحط میں یتیم کے ساتھ ذامقربہ کی قید لگائی چونکہ قرابت دار کا حق مقدم ہے مسکین کو ذامتربہ فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ اس کا فقرانتہاکو پہچا ہوا ہو اور خاک پر پڑا ہو کوئی اس کا اٹھانے والا اور کھانا کھلانے والا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بردہ آزاد کرنا یا قرض دار کو خلاص کروانا یتیم کا ایک حق ناتے دار کا ایک حق جو دونوں ہوئے تو دو حق ہوئے۔ اب آگے ایمان کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ تمام اعمال نیک کی قبولت کا مدار ایمان پر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔