Surat us Sharah

The Consolation

Surah: 94

Verses: 8

Ruku: 1

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف : اعلان نبوت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ خاص طور پر مکہ مکرمہ جہالت اور جاہلیت کی انتہا تک پہنچ چکا تھا۔ قتل و غارت گری، جنگوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ، لوٹ مار، بددیانتی اور بد تہذیبی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی تھی۔ اللہ کے گھر میں تین سو ساٹھ بتوں کی پرستش طرح طرح کے وہم، قسم قسم کی رسمیں ان کا دین و مذہب بن چکا تھا۔ ہر طاقت ور کمزور کو نگل رہا تھا۔ بعض قبائل میں معصوم اور ننھی منی بچیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالنے کو غیرت سمجھا جا رہا تھا۔ یہ اور اسی طرح کے حالات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حساس اور مخلصانہ طبیعت پر ایک طرح کے ایسے شدید بوجھ بن چکے تھے کہ اس کی وجہ سے آپ کی کمر جھکی جا رہی تھی۔ آپ یہ سوچتے تھے کہ جس معاشرہ میں ہر شخص اپنی بات چلا رہا ہے، قبائلی زندگی میں ہر شخص غرور وتکبر کا پیکر بنا ہوا ہے اس پورے معاشرہ کے بگاڑ کی اصلاح کیسے ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کرکے آپ کو وہ راستہ دکھا دیا جس کے زریعہ زندگی کے اس بگاڑ کی اصلاح ممکن تھی چناچہ آپ پر وحی کے ذریعہ اس بات کو واضح کردیا گیا کہ توحید خالص، رسالت کا صحیح تصور، قیامت کے آنے کا یقین اور فکر آخرت یہی وہ بنیادیں ہیں جن کے ذریعہ انسان کو دنیا اور آخرت کی حقیقی کامیابی نصیب ہو سکتی ہے اور بگڑا ہو امعاشرہ سیدھے راستے پر آسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہنمائی فرما کر آپ کے ذہن و فکر کے بوجھ کو ہلکا کردیا جس سے آپ کو اطمینان لقب حاصل ہوگیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک اور سینے کو قرآن کریم کے معارف اور علوم کو سمجھے کے لئے کھول دیا اور بتادیا کہ آپ جس راستے پر چل رہے ہیں یہ ایک کانٹوں بھرے راستے کی طرح ہے۔ طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیاں آئیں گے لیکن صبرو تحمل سے آگے بڑھنے ہی میں کامیابیاں ہیں اور ان مشکلات کا حل موجود ہے کیونکہ کوئی مشکل ایسی نہیں ہے جس کے بعد آسانیاں نہ ہوں۔ فرمایا کہ کفار کی مخالفت اور غلط پروپیگنڈہ آپ کی شخصیت کو کوئی نقسان نہ پہنچا سکے گا بلکہ جیسے جیسے ان کی مخالفت اور ظلم و ستم بڑھتا جائے گا اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بلند کرتے جائیں گے۔ لہذا آپ جیسے ہی اپنی مشغولیات سے فارغ ہوں اللہ کے ذکر و فکر میں لگ جائیے اور عبادت کی مشقت کو اٹھائیے کیونکہ اسی میں دنیا اور آخرت کے خزانے چھپے ہوئے ہیں۔ سورة الانشراح میں ان ہی باتوں کو بیان کیا گیا ہے جن کا خلاصیہ یہ ہے کہ ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم نے آپ کے سینہ کو کھول نہیں دیا ؟ اور کیا ہم نے آپ کے اس بارگراں یعنی بھاری بوجھ کو آپ کے اوپر سے اتار نہیں دیا تھا جس سے آپ کی کمر جھکی جا رہی تھی ؟ فرمایا کہ کیا ہم نے ہر جگہ آپ کے ذکر کو بلند نہیں کردیا ؟ حقیقت یہ ہے بلاشبہ ہر تنگی اور مشکل کے بعد آسانی اور سہولت ہے۔ لہٰذا آپ جب بھی ان ذمہ داریوں سے فارگ ہوں تو عبادت کی مشقت کو برداشت کریں اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی طرف رغبت اور توجہ فرمائیں “۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الانشراح کا تعارف یہ سورت مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ ایک رکوع پر مشتمل ہے جس کی آٹھ آیات ہیں، اس سورت میں آپ کے مشن کے حوالے سے چار خوشخبریاں دی گئی ہیں۔ 1 ۔ نبوت کا کام انتہائی مشکل تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ کے لیے اسے آسان کردیا ہے۔ 2 ۔ نبوت کا بوجھ اس قدر بھاری تھا کہ آپ کی قمر ٹوٹ جائے اور آپ کے عصاب شل ہوجائیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کا بوجھ ہلکا کردیا ہے۔ 3 ۔ آپ کے دشمن آپ کا نام اور کام مٹانا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے نام اور کام کو ہمیشہ ہمیش کے لیے سر بلند فرما دیا ہے۔ 4 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقین جانو کہ ہر تنگی کے بعد فراخی ہوا کرتی ہے۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کی عطا کردہ فرصت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ رہا کریں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ سورة الضحیٰ کے بعد نازل ہوئی۔ یہ دراصل الضحیٰ کا تکملہ ہی ہے۔ اس کی فضا بھی تروتازہ محبت کی فضا ہے۔ نہایت ہی محبت بھری گفتگو کی روح پر مشتمل ہے۔ اللہ کے کرم کے مناظر اور اللہ کی عنایات کے مقامات پر مشتمل ہے اور یہ خوشخبری کہ جلد آسانیوں کا دور آنے والا ہے۔ اور اس میں یہ حکمت بھی بتادی گئی ہے کہ جدوجہد کے بعد آسانیاں آتی ہیں۔ اور یہ کہ تعلق باللہ اللہ کی طرف راغب ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi