Surat ul Bayyina

Surah: 98

Verse: 1

سورة البينة

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾

Those who disbelieved among the People of the Scripture and the polytheists were not to be parted [from misbelief] until there came to them clear evidence -

اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آ جائے باز رہنے والے نہ تھے ( وہ دلیل یہ ) تھی کہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mentioning the Situation of the Disbelievers among the People of the Scripture and the Idolators لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ Those who disbelieve from among the People of the Scripture and idolators, were not going to leave until there came to them the Bayyinah. As for the People of the Scripture, they are the Jews and the Christians, and the idolators are the worshippers of idols and fire among the Arabs and the non-Arabs. Mujahid said, they are not going مُنفَكِّينَ (to leave) "Meaning, they will not be finished until the truth becomes clear to them." Qatadah also said the same thing. حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ until there came to them the Bayyinah. meaning, this Qur'an. This is why Allah says, لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ Those who disbelieve from among the People of the Scripture and idolators, were not going to leave until there came to them the Bayyinah. Then He explains what the Bayyinah is by His saying, رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَةً

پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم: اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں ابن زید فرماتے ہیں ان صحیفوں میں کتابیں ہیں استقامت اور عدل و انصاف والی پھر فرمایا کہ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختالف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوگئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے سو ایک کے سب جہنم میں جائیں گے لوگوں نے پوچھا وہ ایک کون ہے فرمایا وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں پھر فرمایا کہ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں جیسے اور جگہ ( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25؀ ) 21- الأنبياء:25 ) ، یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو اسی لیے ہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر جیسے اور جگہ ہے ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36؀ ) 16- النحل:36 ) ، یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو حنیف کی پوری تفسیر سورہ انعام میں گذر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں ۔ پھر فرمایا نمازوں کو قائم کریں جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلی عبادت ہے اور زکوہ دیتے رہیں یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں یہی دین مضبوط سیدھا درست عدل والا اور عمدگی والا ہوے بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری ، امام شافعی ، وغیرہ نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاری ہیں، 1۔ 2 مشرک سے مراد عرب و عجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ منفکّین باز آنے والے، بیّنۃ (دلیل) سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور عرب وعجم کے مشرکین اپنے کفر و شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن لے کر آجائیں اور وہ ان کی ضلالت و جہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] اہل کتاب اور مشرکین میں فرق اور اس کے چند پہلو :۔ اس آیت میں کافروں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اہل کتاب اور دوسرے مشرکین۔ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی۔ اگرچہ ان کی کتابوں میں تحریف بھی ہوچکی تھی اور انسانی اضافے بھی تھے اور مشرکین سے مراد عرب کے بت پرست اور ایران کے آتش پرست تھے جن کے پاس سرے سے کوئی الہامی کتاب موجود ہی نہ تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نصاریٰ بھی مشرک تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو تین خداؤں میں کا ایک خدا قرار دیتے تھے۔ ان میں سے بعض حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا سمجھتے تھے اور بعض انہیں اللہ ہی قرار دیتے تھے۔ بعض لوگ الوہیت میں سیدہ مریم کو بھی شریک بناتے تھے۔ اسی طرح یہود بھی عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے مگر ان کے ایسے واضح شرک کے باوجود انہیں مشرک نہیں کہا بلکہ اہل کتاب کے نام سے ہی پکارا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے دین کی اصل بنیاد توحید ہی تھی اور وہ توحید ہی کے قائل تھے مگر شیطانی اغوا اور بیرونی فلسفیانہ افکار و نظریات نے انہیں بعض شرکیہ عقائد میں ملوث کردیا تھا جبکہ مشرکوں کے دین کی اصل بنیاد ہی شرک تھا اور توحید انہیں سخت ناگوار تھی جیسا کہ کفار مکہ کی اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ پھر اسلام نے اہل کتاب اور مشرکین کے اس فرق کو بعض شرعی احکام میں پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔ مثلاً اہل کتاب کا ذبیحہ کھانا جائز ہے اور مشرکوں کا ذبیحہ کھانا جائز نہیں۔ اسی طرح کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے مگر مشرکہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اہل کتاب سے جزیہ لے کر ایک اسلامی ریاست کا فرد تسلیم کیا جاسکتا ہے مگر مشرکوں کے لیے ایک اسلامی ریاست میں ایسی گنجائش نہیں۔ خ کافروں کی قسمیں :۔ علاوہ ازیں کفر و شرک کے بھی کئی درجے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی منکر ہیں۔ کچھ دوسرے اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اللہ کا شریک بنا ڈالتے ہیں۔ کچھ اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کے رسولوں کے یا بعض رسولوں کے منکر ہیں۔ کچھ لوگ آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے اور کچھ لوگ آخرت پر یقین تو رکھتے ہیں مگر ساتھ ساتھ ایسے عقیدے بھی وضع کر رکھے ہیں کہ قانون جزا و سزا کو بےکار بنا دیتے ہیں۔ کچھ عقائد میں درست ہوں تو ان کے اعمال ایمان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ایسے سب لوگ درجہ بدرجہ کفار و مشرکین ہی کے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ [٣] یعنی یہ اہل کتاب و مشرکین اور ان کے ذیلی فرقے، خواہ وہ کتنی ہی تعداد میں ہوں، سب کے سب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور اپنے عقائد و نظریات انہیں اس قدر پسندیدہ اور مرغوب ہیں وہ ان سے اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جن سے ان کا جدا ہونا ناممکن تھا۔ ان میں سے کوئی اپنا دین چھوڑنے پر تیار نہ تھا۔ اس کی صرف ایک ہی صورت تھی کہ اللہ کی طرف سے کوئی ایسی روشن اور واضح دلیل آجائے جو ان پر ان کی غلط فہمیاں اور گمراہیاں منکشف کردے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(لم یکن الذین کفروا …:” منفکین “ ” فک یفک فکا “ (ن)” الشیء “ کسی چیز کو دوسری سے جدا کرنا، ” العقدۃ “ گروہ کھولنا اور ” الختم “ مہر توڑنا۔ ” انفک ینفک “ (انفعال) ایک چیز کا دوسری چیز سے الگ ہونا جس کے ساتھ وہ خوب جڑی ہوئی تھی، جیسے ” انفک العظم “” ہڈی اپنے جوڑے سے الگ ہوگئی۔ “ (منفکین “ اسم فاعل ہے، (اپنے کفر سے ) باز آنے والے، الگ ہونے والے۔ یعنی پیغمبر آخر الزماں اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے وہئے تھے کہا ن کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر مکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر ائٓے جو ایک مقدس آسمانی کتاب لائے جس میں عمدہ دل نشین مضامین ہوں اور وہ انہیں پڑھ کر سنائے ، کسی حکیم یا صوفی یا عادل بادشاہ کے بس کی بات نہ تھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔ (اشرف الحواشی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Situation of the People of the Book and of the Pagan Arabs before the advent of the Final Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Verse [ 1] draws attention to the situation of the world before the advent of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : The entire world was sunk deeply in the darkness of ignorance, superstition, corruption, disbelief and paganism. When the whole world was so benighted, the infinite grace, mercy and wisdom of the Lord of the worlds bubbled up to dispel the darkness, to cure the obnoxious diseases and to dissipate the universally prevailing calamities. The moral and spiritual maladies were acute, excruciating, serious and severe. As a result, there was a need for an effective, expert and a competent healer who would be able to cure them. Such a healer was raised in the person of the Final Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، who is described as al-Bayyinah &The Clear Proof. The healer came with a Book. Now follows some of the important characteristics of the Holy Qur&an.

خلاصہ تفسیر جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے (قبل بعثت نبویہ) کافر تھے وہ (اپنے کفر سے ہرگز) با آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی (یعنی) ایک اللہ کا رسول جو (ان کو) پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جن میں درست مضامین لکھے ہوں (مراد قرآن ہغے مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون کسی عظیم رسول کے ان کی راہ پر آنے کی کوئی توقع نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی حجت تمام کرنے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا) اور (ان کو چاہئے تھا کہ اس کو غنیمت سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے مگر) جو لوگ اہل کتاب تھے (اور غیر اہل کتاب تو بدرجہ اولیٰ ) وہ اس واضح دلیل کے آنے ہی کے بعد (دین میں) مختلف ہوگئے (یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمنی اختلاف جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولیٰ اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی علم سماوی نہ تھا) حالانکہ ان لوگوں کو (کتب میں) یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں یکسو ہو کر (ادیان باطلہ کی طرح کسی کو اللہ کا شریک نہ بنادیں) اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوة دیا کریں اور یہی طریقہ ہے ان درست مضامین (مذکورہ) کا بتلایا ہوا۔ حاصل تقریر کا یہ ہوا کہ ان اہل کتاب کو ان کی کتابوں میں یہ حکم ہوا تھا کہ قرآن اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور یہی تعلیم تھی قرآن کی جس کو اوپر کتب قیمہ سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے اس قرآن کے نہ مانے سے خود اپنی کتب کی مخالفت بھی لازم آتی ہے۔ یہ تو الزام اہل کتاب کو ہوا اور مشرکین اگرچہ پہلی کتب کو نہیں مانتے مگر ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کا حق ہونا یہ بھی تسلیم کرتے تھے اور یہ بات یقینی طور پر ثابت ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے بالکل برے تھے اور کتب قیمہ یعنی قرآن کا اس طریقے کے ساتھ موافق ہونا بھی ظاہر ہے اس لئے ان پر بھی حجت تمام ہوگئی اور مراد ان متفرقین و مخالفین سے بعض وہ کفار ہیں جو ایمان نہ لائے تھے اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفرق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں، آگے بیان عمل کے بعد تصریحاً کفار کی دونوں قسموں یعنی اہل کتاب و مشرکین کی اور مؤمنین کی سا و جزاء کا مضمون ارشاد فرماتے ہیں یعنی) بیشک جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہوئے وہ آتش دوزخ میں جاویں گے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور) یہ لوگ بدترین خلائق ہیں (اور) بیشک جو لوگ ایمان لاے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہ لوگ بہترین خلائق ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے نزدیک ہمیشہ رہنے کی بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) اور اللہ تعالیٰ ان سے خوش رہے گا اور وہ اللہ سے خوش رہیں گے (یعنی نہ ان سے کوئی معصیت ہوگی اور نہ ان کو کوئی امر مکروہ پیش آوے گا جس سے احتمال عدم رضا کا جانبین سے ہو اور) یہ (جنت اور رضا) اس شخص کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے (اور اللہ سے ڈرنے ہی پر ایمان و عمل صالح مرتب ہوتا ہے جس کو دخول جنت و حصول رضا کا مدار فرمایا ہے۔ ) معارف ومسائل پہلی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے دنیا میں کفر و شرک اور جہالت کے انتہائی عموم اور غلبہ کو ذکر کر کے فرمایا گیا ہے کہ کفر و شرک کی ایسی عالمگیر ظلمت کو دور کرنے کے لئے رب العالمین کی حکمت و رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ جیسے ان کا مرض شدید اور وباء عالمگیر ہے اس کے علاج کے لئے بھی کوئی سب سے بڑا ماہر حاذق معالج بھیجنا چاے اس کے بغیر وہ اس مرض سے نجات نہ پاسکیں گے۔ آگے اس حاذق و ماہر حکیم کی صفت بیان کی کہ اس کا وجود ایک بینہ یعنی حجت واضحہ ہو شرک و کفر کے ابطال کے لئے آگے فرمایا کہ مراد اس معالج سے اللہ کا وہ رسول اعظم ہے جو قرآن کی حجت واضحہ لے کر ان کے پاس آوے۔ اس مجموعہ میں بعثت نبوی سے پہلے زمانے کے فساد عظیم اور ہر طرف جہالت و ظلمت ہونا بھی معلوم ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت شان کا بھی بیان ہوا۔ آگے قرآن کی چند اہم صفات کا بیان فرمایا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَہُمُ الْبَيِّنَۃُ۝ ١ ۙ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ فكك الفَكَكُ : التّفریج، وفَكُّ الرّهن : تخلیصه، وفَكُّ الرّقبة : عتقها . وقوله : فَكُّ رَقَبَةٍ [ البلد/ 13] ، قيل : هو عتق المملوک وقیل : بل هو عتق الإنسان نفسه من عذاب اللہ بالکلم الطيّب والعمل الصّالح، وفكّ غيره بما يفيده من ذلك، والثاني يحصل للإنسان بعد حصول الأوّل، فإنّ من لم يهتد فلیس في قوّته أن يهدي كما بيّنت في ( مکارم الشّريعة) والفَكَكُ : انفراج المنکب عن مفصله ضعفا، والْفَكَّانِ : ملتقی الشّدقین . وقوله : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ [ البینة/ 1] ، أي : لم يکونوا متفرّقين بل کانوا کلّهم علی الضّلال، کقوله : كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً ... الآية [ البقرة/ 213] ، و ( ما انْفَكَّ ) يفعل کذا، نحو : ما زال يفعل کذا . ( ف ک ک ) الفک : اس کے اصل معنی جدا کردینے کے ہیں جیسے فک الرھن گردی چیز کو چھڑانا فک الرقبۃ گردن کا آزاد کرنا ۔ اور آیت کریمہ : فَكُّ رَقَبَةٍ [ البلد/ 13] کسی کی گردن کا چھڑانا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ غلام کو آزاد کرانا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے ک کلمات طیبہ اور اعمال صالحہ کے ذریعہ انسان کا اپنے آپ اور دوسرے کو عذاب الہی سے آزاد کرانا مراد ہے ۔ لیکن دوسروں کو جھبی آزاد کراسکتا ہے ہے جب پہلے اپنے آپ کو رہا کروالے ورنہ جو شخص خود ہدایت یافتہ نہیں ہے وہ دوسری کو کب ہدایت کرسکتا ہے جیسا کہ ہم اپنی کتاب ، ، مکارم الشریعہ میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں : الفکک کے معنی کمزوری کی وجہ سے شانہ کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کے ہیں ۔ اور دونوں جبڑوں کے ملنے کی جگہ کو فکان کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ [ البینة/ 1] جو لوگ کافر ہیں ( یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ کفر سے باز آنے والے نہ تھے ۔ میں منفکین کے معنی یہ ہیں کہ ( البی نہ کے آنے تک ان میں اختلاف نہیں تھا بلکہ سب گمراہی پر متفق تھے ۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً ... الآية [ البقرة/ 213]( پہلے تو سب ) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا ۔ وہ برابر ایسے کرتا رہا ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی بَيِّنَة والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . ( ب ی ن ) البَيِّنَة کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(1 ۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ ۔ } ” نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے (یا باز آنے والے) جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔ “ ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین (واضح) دلیل نہ آجاتی جس سے انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کا مفہوم یوں بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ان لوگوں کے پاس البینہ نہ آجاتی وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ مُنْفَکِّیْنَ : اِنْفِکاک (فَکَّسے باب اِنْفعال) سے ہے ‘ جس کا مفہوم ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہوجانا ‘ جدا ہوجانا۔ وہ البیِّنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Here the word kufr (unbelief ) has been used in its widest sense, which includes different forms of the unbelieving attitude. For example, some were unbelievers in the sense that they did not acknowledge Allah at all: some did acknowledge Allah but did not regard Him as the One and only God, but worshipped others as well, thinking they were associates in Divine Being or Divine attributes and powers in one way or the other; some acknowledged oneness of God but committed some kind of shirk as well; some acknowledged God but did not acknowledge His Prophets and the guidance brought by them; some acknowledged one particular Prophet and did not acknowledge another; 'others rejected the Hereafter. In short, there were different kinds of kufr in which the people were involved. And the statement: "the disbelievers from among the people of the Book and the mushriks . . . ",dces not mean that some of them were not involved in kufr, but that those who were involved in kufr were of two kinds: the followers of the Book and the mushriks. Here, min has not been used for division but for explanation, as, . for example, in Surah Al-Hajj: 30, where it has been said Fajtanib-ur rijsa min al-authan. which means: "therefore, guard yourselves against the filth of idols'-, and not: "guard yourselves against the filth which is in the idols." Likewise, alladhina kafaru min ahl-il-Kitabi wal-mushrikin.means: "the, disbelievers from among the followers of the .Book and the mushriks ... ", and not: "those who have disbelieved from these two groups. 2 Despite the common factor of kufr between them the two groups have been mentioned by separate names. The followers of the Book imply the people who possessed any of the revealed Books, even if in corrupted form, sent to the former Prophets, and they believed in it. And the mushriks (idolaters) imply the people who did not follow any Prophet nor believed in any Book. Although in the Qur'an the shirk, (polytheism, idolatry) of the people of the Book has been mentioned at many places, e.g. about the Christians it has been said: "They say: God is one of the three" (Al-Ma'idah: 73) ; "The Messiah is son of God" (AtTaubah: 30) ; "The Messiah; son of Mary; is God" (Al-Ma'idah: 17) ; and about the Jews it has been said: "They say: Ezra is son of God" (At-Taubah: 30) , yet nowhere in the Qur'an has the term "mushrlk"been used for them, but they have been mentioned as "alladhina ul-ul-Kitaba" (those who were given the Book) , or by the words Jews and Christians. For they believed in the principle of Tauhid (Oneness of God) as the we religion, and then committed shirk. Contrary to this, for others than the followers of the Book, the word mushrik has been used as a. term, for they acknowledged shirk (idolatry) as true religion and disacknowledged Tauhid. This distinction between the two groups holds good not only in the use of the term but also in the Shari`ah injunctions. Animal flesh duly slaughtered by the followers of the Book has been declared lawful for the Muslims if they slaughter a lawful animal in the name of Allah in the prescribed way, and permission to marry their women also has been given. On the contrary, neither the animal slaughtered by the mushriks is lawful for the Muslims nor is marriage with their women. 3 That is, "There was no means of their being freed from this state of unbelief except that a clear evidence (of the truth) should come and make them understand the falsity of every form of kufr and its being untrue, and should present the right way before them in a clear and rational way." This dces not mean that after the coming of the char evidence they would give up kufr but that in the absence of the clear evidence it was not at all possible that they would be delivered from that state. However, if even after its coming some of them still persisted in their kufr, then they themselves would be responsible for it; they could not complain that Allah had made no arrangement for their guidance. This same thing bas been expressed in the Qur'an at different places in different ways, e.g. in Surah An-Nahl: 9, it is said: "Allah has taken upon Himself to show the Right Way"; in Surah Al-Laila 12, it is said: "It is for Us to show the Way"; in Surah An-Nisa: 163-165: "O! Prophet, We have sent Revelation to you just as We had sent it to Noah and other Prophets after him ... All these Messengers were sent as bearers of good news and warners so that, after their coming, the people should have no excuse left to plead before Allah"; and in Surah Al-Ma'idah: 19: "O people of the Book, this Messenger of Ours has come to you and is making clear to you the teachings of the Right Way after a long interval during which there had come no Messengers, lest you should say: `No bearer of good news nor warner came to us. Lo, now the bearer of good news and warner has come."

سورة البینہ حاشیہ نمبر : 1 کفر میں مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے ۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں میں سے کوئی کتاب ، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں سہی ، موجود تھی اور وہ اسے مانتے تھے ۔ اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے ، قرآن مجید میں اگرچہ اہل کتاب کے شرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے ۔ مثلا عیسائیوں کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں ایک ہے ( المائدہ 73 ) وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں ( المائدہ 17 ) وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں ( التوبہ 30 ) اور یہود کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ( التوبہ 30 ) لیکن اس کے باوجود قرآن میں کہیں ان کے لیے مشرک کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہل کتاب یا الذین اوتوا الکتب ( جن کو کتاب دی گئی تھی ) یا یہود اور نصاری کے الفاظ سے کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ اصل دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے ۔ بخالف اس کے غیر اہل کتاب کے لیے مشرک کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ اصل دین شرک ہی کو قرار دیتے تھے اور توحید کے ماننے سے ان کو قطعی انکار تھا ۔ یہ فرق ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں نہیں بلکہ شریعت کے احکام میں بھی ہے ۔ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے ۔ اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ۔ سورة البینہ حاشیہ نمبر : 2 یہاں کفر اپنے وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جن میں کافرانہ رویہ کی مختلف صورتیں شامل ہیں ۔ مثلا کو۴ی اس معنی میں کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا ۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات ، یا خدائی کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طور پر دوسروں کو شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت بھی کرتا تھا ۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا ۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں کو نہیں مانتا تھا اور اس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے ۔ کوئی کسی نبی کو مانتا تھا اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا تھا ۔ کوئی آخرت کا منکر تھا ۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں لوگ مبتلا تھے ۔ اور یہ جو فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ کفر میں مبتلا نہ تھے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے ۔ ایک اہل کتاب ، دوسرے مشرکین ۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے ہے ۔ جس طرح سورہ حج آیت 30میں فرمایا گیا فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو ، نہ یہ کہ بتوں میں جو گندگی ہے اس سے بچو ۔ اسی طرح الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ کا مطلب بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہل کتاب اور مشرکین میں سے ہیں ، نہ یہ کہ ان دونوں گروہوں میں سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں ۔ سورة البینہ حاشیہ نمبر : 3 یعنی ان کے اس حالت کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیل روشن آکر انہیں کفر کی ہی صورت کا غلط اور خلاف حق ہونا سمجھائے اور راہ راست کو واضح اور مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کردے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دلیل روشن کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں تو اس کا اس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا ۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی ان میں سے جو لوگ اپنے کفر قائم رہیں اس کی ذمہ داری پھر انہی پر ہے ، اس کے بعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں کرسکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا ۔ یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے ۔ مثلا سورہ نحل میں فرمایا وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے ( آیت 9 ) سورہ لیل میں فرمایا اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے ( آیت 12 ) اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۔ ۔ ۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۔ اے نبی ہم نے تمہارے طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی ۔ ۔ ۔ ان رسولوں کو بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت نہ رہے ۔ ( النساء 163 ۔ 165 ) يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۔ اے اہل کتاب ، تمہارے پاس ہمارا رسول حقیقت واضح کرنے کے لیے رسولوں کا سلسلہ ایک مدت تک بند رہنے کے بعد آگیا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا نہ خبردار کرنے والا ۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا آگیا ( المائدہ 19 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: ان آیتوں میں حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کو پیغمبر بناکر بھیجنے کی وجہ بتائی جارہی ہے، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو کافر لوگ تھے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا بت پرستوں میں سے، وہ اس وقت تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی شکل میں ایک روشن دلیل اُن کے سامنے نہ آجاتی، چنانچہ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی باتوں پر کھلے دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے توبہ کرکے ایمان لے آئے، البتہ جن کی طبیعت میں ضد تھی، وہ اس نعمت سے محروم رہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٨۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ ١ ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان کو نبی آخر الزمان کے سچے ہونے یا قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں کچھ شک و شبہ ہے کیونکہ جو احکام قرآن میں ہیں وہی احکام ان کی کتابوں میں ہیں اور قرآن کے نازل ہونے سے پہلے انہی احکام کے بجا لانے کا ان کو حکم تھا اور یہ لوگ ان احکام کو احکام الٰہی جانتے اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام سے لڑائیوں میں فتح کی دعائیں مانگتے تھے۔ اب نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کے بعد فقط اس حسد سے یہ لوگ اسلام کے منکر ہیں کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں ہوئے۔ اور ان لوگوں کو یہ بھی خیال ہے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیر حکم ہوجانے سے ان کی ہمیشہ کی ریاست اور حکومت میں بٹا لگ جائے گا۔ دنیا کی ان باتوں کے خیال سے انہوں نے اپنے دین کو جو برباد کیا ہے یہ حالت ان کی خدا کی لغت کے قابل ہے اب ان معنوں کی بنا پر آگے کی آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں قریش کے بڑے بوڑھوں اور شریعت موسوی میں یہود کے بڑے بوڑھوں کو اور شریعت عیسویٰ میں نصاریٰ کے بڑے بوڑھوں کو اگرچہ توحید سکھائی گئی ہے لیکن نبوت کے زمانہ کے بعید ہوجانے سے قریش اور اہل کتاب سب میں اس طرح کا کفر اور شرک پھیل گیا ہے کہ بغیر نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے اس کفر اور شرک کی اصلاح ممکن نہ تھی۔ اب نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کیب عد جو لوگ اصلاح پر آجائیں گے ان کے لئے جنت ہے اور جو لوگ نبی اخر الزمان کی نصیحت کو نہ مانیں گے ان کے لئے جہنم ہے آخر پھر فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا خوف ہے اصلاح پر وہی لوگ آئیں گے اور جو قیامت کے دن سے نڈر یا اس سے منکر ہیں اس دن ان کی مٹی خراب ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٣٧ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(98:1) لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین منفکین : لم یکن مضارع منفی جحد بلم، فعل ناقص۔ کون (باب نصر) مصدر سے۔ وہ نہ ہوئے۔ الذین اسم موصول۔ کفروا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر اسم کان۔ من حرف جار اہل الکتب والمشرکین مجرور۔ منفکین : انفکاک (انفعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، باز آنے والے۔ خبر کان کی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فک رقبۃ (90:13) غلام کا آزاد کرنا۔ اسی سے ہے فک الرھن : رہن کا فک کر الینا۔ یعنی کسی رہن شدہ چیز کو چھڑا لینا۔ (رہن کی شرط پوری ہونے پر) ۔ المشرکین کا عطف اہل الکتب پر ہے۔ من یہاں تبعیضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے آیت کا ترجمہ علماء نے یوں کیا ہے :۔ (1) جو لوگ کافر ہیں یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے۔ (مولنا فتح محمد جالندھری) (2) جو اہل کتاب اور مشرک کفر کرتے تھے وہ اپنے کفر سے باز رہنے والے نہ تھے۔ (تفسیر مظہری) (3) اہل الکتاب وہم الیھود والنصاری والمشرکین ہم عباد الاصنام لم یکونوا منفصلین عما ہم علیہ من الدیانۃ (ایسر التفاسیر) اہل کتاب یعنی یہود و نصاری اور مشرکین بت پرست جس مذہب پر وہ چل رہے تھے اس سے دور ہٹنے والے نہ تھے (4) کافر لاگ یعنی اہل کتاب اور بت پرست اپنے باطل مذہب سے دور ہونے والے نہیں تھے۔ حتی تاتیہم البینۃ : حتی انتہاء غایت کے لئے آتا ہے ۔ یہاں تک جب تک۔ تاتی : مضارع واحد مؤنث غائب اثیان (افعال) مصدر۔ وہ آتی ہے۔ وہ آئے گی۔ وہ آجائے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب البینۃ : الحجۃ الواضحۃ۔ واضح دلیل ۔ کھلی دلیل۔ وہ آگئی (مستقبل بمعنی ماضی) یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آجائے یا آگئی۔ (یعنی رسول کریم کی ذات مبارک) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة البینہ۔ آیات ١ تا ٨ اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور صاف ستھرانظام حیات ، جو عقیدہ وعمل ، ہر دور میں پرنور اور حق کی دستاویز کے طور پر پیش کردیاجس کے سارے قاعدے اور قانون حق پر مبنی اور مضبوط یعنی ہمیشہ کے لیے ہیں۔ نظام اسلام۔ جس کا کمال یہ ہے کہ ساری انسانیت کے لیے اور سارے زمانوں کے لیے اصول و فروع ارشاد فرمادیے اور اہل کتاب تو سب مانتے تھے کہ نبی آخرالزمان مبعوث ہوں گے اور کہتے تھے ہم ان پر ایمان لائیں گے مگر ایسے بدبخت کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو واضح دلائل دیکھنے کے باوجود اختلاف کرنے لگے کفار تو بیخبر تھے مگر یہ بدنصیب اپنی کتب کے حوالے سے جانتے تھے پھر دین اسلام نے کوئی ایسی بات نہیں کی کہ کسی فرد یا حاکم سے طاقت چین کر کسی دوسرے کو مسلط کردیا ہو بلکہ اس نے تو پورے خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا حکم دیا بالکل سیدھا اور کھرا۔ خلافت۔ اور حکمرانی کا تصور خلافت سے بدل دیا کہ انسان حاکم نہیں اللہ کا خلیفہ ہے قوت نافذہ ہے مگر اپنی رائے نافذ نہیں کرسکتا صرف اور صرف اللہ کا حکم نافذ کرتا ہے بدنی عبادات اور عمل میں بھی ، اور مالی نظام میں بھی کہ اللہ کے حکم کے مطابق ترتیب دیاجائے یہی انسانوں کی بہتری کا مضبوط راستہ ہے جن لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور کفر اختیار کیا وہ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے مشرکین اور کفار میں سے سب کو دوزخ میں جھونکا جائے گا۔ نجات صرف اسلام میں ہے۔ اسلام نے پوری انسانیت کے لیے حقوق وفرائض کی حد مقرر کردی اب اس سے تجاوز کرنے والایا اس سے انکار کرنے والا نجات نہیں پاسکے گا بلکہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا ، اس لیے کہ اللہ کی خلق میں سب سے بدترثابت ہوا اور اپنے کردار کے باعث سب کے لیے مصیبت کا باعث بن گیا دوسری طرف جو لوگ ایمان لائے اور عملا اس نظام حیات کو اپنالیا اور وہ بہترین خلائق ہیں کہ ان کی نیکی سے ساری مخلوق پر برکات نازل ہوتی ہیں ان کے لیے اللہ کے پاس خوبصورت ٹھکانے ہیں بہترین باغات اور بہتی ہوئی ندیاں ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے اور سب سے بڑی بات کہ اللہ کی رضامندی انہیں نصیب ہوگی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ خشیت دل کا فعل ہے۔ یہ سب کچھ انہی کو نصیب ہوگا جن کو اللہ کی خشیت حاصل ہوگی خشیت دل کا فعل ہے ایساحال جو دل کو وہ یقین عطا کردے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے پھر عمل کرتے وقت کم ازکم یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے یہ برکات نبوی سے دل کو نصیب ہوتا ہے جو شیخ کامل کی صحبت میں ملا کرتی ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ (رض) اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود، نصاری اور اہل کتاب فرمایا لیکن ان کو مشرک نہیں فرمایا یعنی یہ ان بگڑے ہوئے مسلمانوں کی طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی کتاب کو ماننے کے باوجود توحید کے ساتھ شرک میں بھی مبتلا رہتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ مشرک وہ لوگ ہیں جو کسی آسمانی کتاب یا کسی رسول کو نہیں مانتے اور توحید سے انکار کرکے غیر اللہ کی عبادت و بندگی کو مذہب کا نام دیتے ہیں۔ چونکہ اہل کتاب کو ان کی کتابوں سے معلوم تھا کہ ایک ایسے نبی اور رسول آنے والے ہیں جن کے آنے کی خوش خبری تمام پیغمبر دیتے آئے ہیں۔ جب وہ آئیں گے تو ساری قوموں اور مذہبوں پر چھا جائیں گے۔ یہودیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے آئیں گے چناچہ جب بھی اہل کتاب اور مشرکین میں کسی بات پر جھگڑا ہوتا تو یہودی مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمیں جتنا ستانا اہتے ہو ستا لو جب وہ آخری نبی آئیں گے تو ہم ان کے سات مل کر فتح و نصرت حاصل کریں گے اور ظلم و ستم کا گن گن کر بدلہ لیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت واضح دلیل کے ساتھ اور کود ان کی ذات و کھلی ہوئی دلیل نا کر بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجا تو یہودی اور نصاری مختلف نشانیوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان نبوت و رسالت کو پہنچا چکے تھے مگر اس ضد میں انکار کر بیٹھے کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے آئین گے چناچہ جب بھی اہل کتاب اور مشرکین میں کسی بات پر جھگڑا ہوتا تو یہودی مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمیں جتنا ستانا چاہتے ہو ستا لو جب وہ آخری نبی آئیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر فتح و نصرت حاصل کریں گے اور ظلم و ستم کا گن گن کر بدلہ لیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت واضح دلیل کے ساتھ اور خود ان کی ذات کو کھلی ہوئی دلیل بنا کر بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجا تو یہودی اور نصاری مختلف نشانیوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان نبوت و رسالت کو پہچان چکے تھے مگر اس ضد میں انکار کر بیٹھے کہ وہ آخری نبی ہماری قوم میں سے کیوں نہ آئے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یہ اہل کتاب پہلے سے تو فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نبی کے ساتھ مل کر ہم ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کریں گے۔ یہ اہل کتاب ان کے آنے کے بعد پہنچان بھی گئے ہیں لیکن محض ضد بندی میں حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی اور رسول ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ ان اہل کتاب میں سے کوئی ان کو مان رہا ہے اور کوئی ان کی نبوت و رسالت کا انکار کرر ہا ہے۔ اس پس منظر میں سورة البینہ کی آیات کا مفہوم ملاحظہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کفار اہل کتاب اور مشرکین اس وقت تک اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں تھے جب تک ان کے پاس کوئی واضح اور روشن دلیل نہ آجائے۔ اب وہ واضح دلیل اللہ کے رسول (حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو آچکے ہیں وہ رآن کریم جس میں تمام پاک صحیفے موجود ہیں وہ ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتے ہیں جس میں درست اور مضبوط مضامین موجود ہیں۔ جب وہ واضح اور روشن دلیل یعنی اللہ کے نبی و رسول آگئے ہیں تو اہل کتاب پہنچاننے کے باوجود خود ہی شدید اختلافات کا شکار ہوئگے ہیں حالانکہ ان کی کتابوں میں اور قرآن کریم میں بات کا حکم دیا گی ا ہے کہ وہ یکسو ہو کر اطاعت کے اعتقاد کے ساتھ صرف ایک اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیی نے فرمایا کہ یہی وہ درست اور صحیح طریقہ ہے جس میں سب کی نجات کا سامان ہے۔ اگر وہ اہل کتاب اور مشرکین اپنے انکار پر جمے رہے یعنی انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ْ کو اللہ کا آخری نبی اور رسول نہ مانا، ان کی لائی ہوئی شریعت اور کتاب پر وہ ایمان ن لائے تو ان کا بھیانک انجام ہوگا کہ وہ جہنم کی اس آگ کا ایندھن بن جائیں گے جس سے کبھی چھٹکارا نہ ملے گا اور وہ بدترین مخلوق بن کر رہ جائیں گے لیکن اگر وہ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور عمل صالح کی پابندی کرتے رہے تو نہ صرف ان کا شمار کائنات کی بہترین مخلوق میں ہوگا بلکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں ایسے دائمی باغات میں ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بلکہ جو لوگ اللہ کے خوف اور ڈر سے زندگی بسر کرتے رہے ہوں گے ان تمام اہل ایمان اور اللہ کا خوف رکھنے والوں کو سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں سے یا اھل الجنۃ ( اے جنت والو ! ) کہہ کر خطاب فرمائیں گے تو اہل جنت عرض کریں گے ” اے ہمارے رب ہم حاض رہیں اطاعت کے لئے تیار ہیں بیشک ہر ایک بھلائی آپ کے ہاتھ میں ہے “۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم راضی اور خوش ہو ؟ عرض کریں گے الٰہی ! (جنت کی نعمتوں کے باوجود بھی) کیا ہم اب بھی راضی نہ ہوں گے۔ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرمادیا جو کسی مخلوق کو نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا میں تمہیں اس سے افضل اور بہتر نعمت نہ دوں ؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے اپنی رضا تم پر نازل کردی اب میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ (اور میری رضا تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی) ۔ (بخاری و مسلم) ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مراد قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا کہ اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون رسول عظیم کی بعثت کے ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حجت کے اتم و الزم ہونے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : لیلۃ القدر میں نازل ہونے والا قرآن مجید کسی ایک فرقہ اور قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ بلا تخصیص ہر دور کے لوگوں کے لیے نازل ہوا جس میں اہل کتاب اور مشرکین بھی شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ، الگ مخاطب کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب مشرک نہیں تھے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے کہ وہ اہل کتاب کو بنی اسرائیل اور ان کے معروف نام اہل کتاب سے مخاطب کرتا ہے، جہاں تک ان کے شرک کا تعلق ہے یہ اسی طرح ہی شرک میں ملوّث تھے جس طرح عرب کے مشرکین شرک میں مبتلا تھے۔ فرق صرف اتنا تھا اور ہے کہ عرب کے مشرکین بتوں کے واسطے سے عبادت اور دعا کرتے تھے۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے اور دعا میں ان کا واسطہ اختیار کرتے تھے اور کرتے ہیں نصاریٰ یہودیوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو اللہ کا جز قرار دیتے ہیں اور یہ عیسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) کے نام پر شرک کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ اس وقت تک اپنے شرک سے باز نہیں آئیں گے جب تک کھلا معجزہ نہ دیکھ لیں، کھلے معجزے سے مراد وہ معجزات اور مطالبات ہیں جن کا یہ لوگ تقاضا کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے مطالبات پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے پورے ہوچکے تھے۔ جن کی قرآن مجید میں تفصیل موجود ہے اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے۔ ” اور بےعلم لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہیں بلا شبہ ہم نے یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں۔ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ سے جہنمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ “ (البقرۃ : ١١٨، ١١٩) ” ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ قرآن تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کرے۔ “ (المدثر : ٥٢ تا ٥٥) ان کے پاس حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاچکے ہیں جن کی ذات، اخلاق اور کردار بہت بڑا اور کھلا معجزہ ہے۔ آپ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں جس کی ایک ایک آیت بول کر بتاتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ کلام ہے اور اس میں اس کے محکم فرمان موجود ہیں۔ ” صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً “ کی وضاحت فرما کر یہ اشارہ کیا ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل میں تحریف کرکے یہود و نصاریٰ نے اللہ کی ذات اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق اخلاق باختہ باتیں منسوب کی ہیں۔ قرآن مجید اس قسم کی بےہودگی اور بےمقصد باتوں سے پاک ہے، اس میں یہ بھی اشارہ ہے جس طرح موجودہ تورات اور انجیل کی عبارات میں الجھاؤ اور تضاد پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کا کوئی ایسا مسئلہ اور ضابطہ نہیں جس میں الجھاؤ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہو، اس کے احکام واضح اور ٹھوس ہیں۔ اس میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ پہلی کتابیں مشکوک ہوچکی ہیں لیکن قرآن مجید شکوک و شبہات سے پاک ہے۔ اہل علم نے ” صُحُفًا “ کا معنٰی اوراق اور مضامین لیے ہیں جو پاکیزہ ہونے کے ساتھ واضح اور ٹھوس ہیں، پاکیزہ کا یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن مجید کے احکام فرد اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا کرتے ہیں۔” قَیِّمَۃٌ“ سے مراد ہے کہ قرآن مجید کے احکام اور الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ( الحجر : ٩) ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (رض) سے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تجھ سے قرآن مجید کی تلاوت سنوں ابی (رض) نے عرض کی کہ ” اللہ “ نے آپ کو میرا نام لے کر فرمایا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں میں۔ حضرت ابی بن کعب (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کیا میرا رب العالمین کے ہاں ذکر ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بالکل ذکر ہوا ہے۔ اس خوشی سے حضرت ابی بن کعب (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے دوسری روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) کی تلاوت سنوں۔ ابی بن کعب (رض) نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں تیرا نام لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابی بن کعب (رض) خوشی سے رو پڑے۔ “ (رواہ البخاری : باب مناقب ابی بن کعب) مسائل ١۔ اہل کتاب اور مشرکین کی غالب اکثریت اپنے کفر سے باز آنے والی نہیں ٢۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات لوگوں کے لیے کھلے معجزے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ٣۔ قرآن مجید میں کسی قسم کا الجھاؤ اور ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔ ٤۔ قرآن مجید ہر قسم کی غلطی سے مبرّا اور پاک ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حقیقت یہ ہے کہ زمین کو ایک جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ اس زمین میں ہر طرف شروفساد وعام ہوگیا تھا اور مذاہب عالم کا حال تھا کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہی تھی۔ ایک جدید دین اور جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ ایک نئی تحریک اور نئے نظام کی ضرورت تھی۔ اہل زمین کے عقائد ونظریات میں کفر سرایت کرچکا تھا ، چاہے وہ اہل کتاب ہوں جن کو صحیح سماوی دین دیئے گئے تھے مگر انہوں نے جاننے کے بعد انہیں بھلادیا تھا اور دین میں مکمل تحریف کردی تھی ، چاہے وہ جزیرة العرب کے مشرک ہوں اور اس سے باہر کے مشرک ہوں۔ دونوں کفر کی حالت میں داخل ہوگئے تھے۔ یہ کفر اور تحریف کے جس مقام پر پہنچ چکے تھے ، وہاں سے ان کی واپس ممکن نہ تھی ، ان کی اصلاح صرف ایک جدید دین ہی کے ذریعہ ہوسکتی تھی ، صرف ایک ایسے رسول کے ذریعہ جو بذات خود ایک بین دلیل ہو ، اور اس کے پاس اپنی کتاب ہو جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل کتاب اور مشرکین وہ اپنے کفر سے جدا ہونے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی گواہ آگئے ان گواہوں نے ثابت کردیا کہ تم لوگ کفر و شرک پر ہو تمہاری نجات کا راستہ اسی میں ہے کہ اسلام قبول کرو یہ گواہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی بھی ہے اور وہ صحیفے بھی ہیں (یعنی انبیائے متقدمین کی کتابیں) جن پر قرآن مجید مشتمل ہے نیز ان سے قرآن مجید کی سورتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں، ان صحیفوں کی تعریف میں ﴿مُّطَهَّرَةًۙ﴾ بھی فرمایا ہے کہ وہ ہر طرح کے کذب اور جھوٹ سے پاک ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان صحیفوں میں کتب قیمہ یعنی آیات اور احکام ہیں جو اس میں مکتوب ہیں اور یہ صحف قیمہ عدل و انصاف والے احکام اور صراط مستقیم والے قوانین ہیں جیسا کہ سورة الزمر میں فرمایا : ﴿قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ٠٠٢٨﴾ (عربی قرآن میں ذرا کجی نہیں تاکہ یہ لوگ ڈریں) ۔ قرآن کے جن مخاطبوں کو ہدایت قبول کرنا تھا انہوں نے ہدایت قبول کرلی (ان میں اہل کتاب بہت کم تھے) اور جنہیں ہدایت قبول کرنا نہ تھا وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور قرآن پر ایمان نہ لائے۔ کھلی ہوئی دلیل سامنے آنے کے باوجود اپنی جگہ منکر ہی رہ گئے اور ان میں دو جماعتیں ہوگئیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے یہود و نصاریٰ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ آپ کی بعثت ہونے والی ہے اور ہم آپ پر ایمان لائیں گے لیکن جب آپ تشریف لے آئے تو متفرق ہوگئے یعنی ایک جماعت آپ پر ایمان لے آئی جن کی تعداد تھوڑی سی تھی اور دوسرا فریق جو کثیر تعداد میں تھا وہ لوگ انکار پر ہی جمے رہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔” لم یکن “ اہل کتاب سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ ” منفکین “ یہاں تامہ ہے بمعنی منتھین عن کفرہم (قرطبی) ۔ یہاں ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کے کفر و شرک سے باز آنے کی انتہاء پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد بیان فرمائی ہے اور حتی چونکہ انتہاء غایت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسول کی آمد پر ان کی پہلی حالت یعنی کفر و شرک پر قیام ختم ہوجائے، لیکن اس کے بعد والی آیت ” وما تفرق الذین اوتوا الکتاب “ کا مقتضی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے بعد ان کے کفر میں اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دونوں آیتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات ہیں۔ اول۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکین کہا کرتے تھے کہ جب تک نبی موعود (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ آجائے اس وقت تک ہم اپنا دین نہ چھوڑیں گے اس طرح ان آیتوں میں ان کے قول سابق کی حکایت ہے اور ” وما تفرق۔ الایۃ “ میں نفس الامر اور حقیقت واقعہ کا بیان ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد کے بعد ان کا حال ان کے دعوے کے خلاف ہے۔ دوم اہل کتاب اور مشرکین سارے کے سارے کفر و شرک سے ہٹنے والے نہیں تھے جب تک ان کے پاس رسول نہ آجاتا۔ جب رسول آگیا تو اب ان کا حال پہلا سا نہ رہا۔ بلکہ ان میں سے بہت سوں نے کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا (ملخصا من الکبیر للامام الرازی) ۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ کے نزدیک یہی جواب راجح ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین کفر و شرک سے ہٹنے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس واضح برہان نہ آجاتی اور یہ انتظام نہ ہوجاتا کہ اللہ کی طرف سے ان کے پاس رسول آئے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ کتاب کی تعلیم دے اور ان کو تبلیغ کرے اب چونکہ یہ کام ہوچکا ہے اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم ہوگیا ہے، اس لیے اب جو لوگ حق کو نہیں مانتے اور پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں اور نئی نئی راہیں نکالتے ہیں وہ یہ سب کچھ محض ضد وعناد کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ کتب سابقہ میں بھی موجود ہے اور اہل کتاب کے علماء ثقات اس پر ایمان بھی لا چکے ہیں، اس لیے اب نہ ماننے والوں کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ تائید : ” حجتہم داحضۃ عند ربہم وعلیہم غضب ولہم عذاب شدید۔ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ (الشوری رکوع 2) ۔ اس کی پوری تفصیل سورة شوری میں گذر چکی ہے۔ ” رسول من اللہ “ ، البینۃ سے بدل ہے۔ ” صحفا مطہرۃ “ باطل کی نجاستوں سے پاک کتابیں اور صحیفے، صحیفہ ان اوراق کو کہا جاتا ہے جن میں کچھ لکھا ہو۔ والصحف القراطیس التی یکتب فیہا والمراد بتطہیرہا تنزیہہا عن الباطل (روح ج 30 ص 201 ملخصاً ) ۔ ” کتب قیمۃ “ پختہ اور محکم مضامین پر مشتمل سورتیں یا محکم احکام۔ ” رسول “ سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحف سے قرآن مجید مراد ہے۔ (کبیر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) اہل کتاب میں سے جو لوگ منکر ہوئے اور مشرکین اس وقت تک باز آنے والے نہ تھے کہ جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آجاتی یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ اور مشرکین کی حالت بالکل بگڑ چکی تھی اور ان کی اصلاح اور درستی کی کوئی شکل نہ تھی اور ان کی خرابی اور ان کے بگاڑ کی حالت کا یہ اقتضا تھا کہ ان کے پاس کوئی روشن اور واضح دلیل آجائے تو وہ اپنی حرکات ناشائسہ سے باز آجائیں اہل کتاب اپنے پیغمبروں کی تعلیم سے ہٹ کر گمراہ ہوچکے تھے کوئی مسیح کو ابن اللہ کہتا تھا کوئی حضرت عزیرکو ابن اللہ کہتا تھا۔ غرض تمام دنیا میں گمراہی عام ہوچکی تھی اور اس گمراہی کا تقاضا تھا کہ کوئی دلیل کھلی ہوئی آجانے کے بعد وہ باز آجائیں اور ان کی اصلاح ہوجائے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہود و نصاریٰ کے خراب ہوجانے اور دین سے دور ہوجانے کے بعدوہ اپنی کتابوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر یہ کہتے ہوں اور ان کے کہنے مشرکین یہ خیال کرتے ہوں کہ نبی آخرالزماں آجائیں تو ہم سب کی اصلاح ہوجائے اور ہماری روحانی ترقی ہو۔ گویا اس حالت انتظار کا تقاضا یہ تھا کہ جب ان کے پاس وہ واضح دلیل آجائے گی تو یہ باز آجائیں گے مشرک اپنے شرک چھوڑ دیں گے اور اہل کتاب اپنی کافرانہ روش سے باز آجائیں گے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔