Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر ( یا دیدہ و دانستہ ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: * تخريج:تفرد بہ أبوداود، ۱(تحفة الأشراف: ۱۰۸۴۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۴۳۶، ۴۴۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں آخرت میں اسے یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Narrated Abdullah ibn Masud: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ashath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter.
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ( سورۃ آل عمران: ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المساقاة ۴ (۲۳۵۶)، والخصومات ۴ (۲۴۱۶)، والرھن ۶ (۲۵۱۵)، والشہادات ۱۹ (۲۶۶۶)، ۲۰ (۲۶۶۹)، ۲۳ (۲۶۷۳)، ۲۵ (۲۶۷۶)، تفسیر آل عمران ۳ (۴۵۴۹)، الأیمان ۱۱ (۶۶۵۹)، ۱۷ (۶۶۷۶)، الأحکام ۳۰ (۷۱۸۳)، التوحید ۲۴ (۷۴۴۵)، صحیح مسلم/الإیمان ۶۱ (۱۳۸)، سنن الترمذی/البیوع ۴۲ (۱۲۶۹)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ۸ (۲۳۲۲)، (تحفة الأشراف: ۱۵۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۷۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ جب انکار کرے تو مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہو گا ورنہ مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔
Narrated Al-Ashath ibn Qays: A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس «بیّنہ» ( ثبوت اور دلیل ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، ( یہ سن کر ) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت ) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا ( یہ سنا تو ) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الکبری ۴۷ (۶۰۰۲)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ۲۹ (۲۸۳۵)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۱۱، ۲۱۲) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (۳۶۲۲)
Narrated Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami: On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then said to al-Hadrami: Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے ( جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا ) ، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وہ کچھ بھی ہو ) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے ( یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو ) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہو گا ۱؎ ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہو گئی ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الأحکام ۹ (۲۳۲۵)، (تحفة الأشراف: ۲۳۷۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ۸ (۱۰)، مسند احمد (۳/۳۴۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : گو جھوٹی قسم کھانا بروقت اور ہر جگہ گناہ ہے، پر مقدس جگہوں اور مقدس وقتوں میں ان کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: By al-Lat he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے ( تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ۲ (۴۸۶۰)، الأدب ۷۴ (۶۱۰۷)، الاستئذان ۵۲ (۶۳۰۱)، الأیمان ۵ (۶۶۵۰)، صحیح مسلم/الأیمان ۲ (۱۶۴۸)، سنن الترمذی/الأیمان ۱۷ (۱۵۴۵)، سنن النسائی/الأیمان ۱۰ (۳۸۰۶)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۲ (۲۰۹۶)، (تحفة الأشراف: ۱۲۲۷۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۰۹)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأیمان ۵ (۳۸۰۰)، (تحفة الأشراف: ۱۴۴۸۳)
Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم found Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأیمان ۱ (۱۶۴۶)، (تحفة الأشراف: ۱۰۵۵۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ۷۴ (۶۱۰۷)، الأیمان ۴ (۶۶۴۷)، سنن الترمذی/الأیمان ۸ (۱۵۳۳)، سنن النسائی/الأیمان ۴ (۳۳۹۹)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۲ (۲۰۹۴)، موطا امام مالک/النذور ۹ (۱۴)، مسند احمد (۲/۱۱، ۳۴، ۶۹، ۸۷، ۱۲۵، ۱۴۲)
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words by your fathers . This version adds: Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے ) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث:«بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الإیمان ۴ (۶۶۴۷)، صحیح مسلم/ الأیمان ۱ (۱۶۴۶)، سنن النسائی/ الأیمان ۴ (۳۷۹۸، ۳۷۹۹)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات ۲ (۲۰۹۴)، (تحفة الأشراف: ۱۰۵۱۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۸، ۳۶)
Saeed ibn Ubaydah said: Ibn Umar heard a man swearing: No, I swear by the Kabah. Ibn Umar said to him: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأیمان ۸ (۱۵۳۵)، (تحفة الأشراف: ۷۰۴۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۴، ۵۸، ۶۰، ۶۹، ۸۶، ۱۲۵)
Referring to the story of a bedouin, Talhah bin Ubaid Allah reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He became successful, by his father, if he speaks the truth, he will enter paradise, by his father, if he speaks truth.
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا ( یعنی اعرابی کے واقعہ میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۳۴ (۴۶)، والصوم ۱ (۱۸۹۱)، والشھادات ۲۶ (۲۶۷۸)، والحیل ۳ (۶۹۵۶)، صحیح مسلم/الإیمان ۲، (۱۱)، سنن النسائی/الصلاة ۴ (۴۵۹)، الصوم ۱ (۲۰۹۲)، (تحفة الأشراف: ۵۰۰۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ۲۵ (۹۴) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ’’وأبيه‘‘ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ’’أفلح وأبيه إن صدق‘‘ شاذ ہے)
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who swears by Amanah (faithfulness) is not one of our number.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۲۰۰۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۵۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ قسم اللہ کے اسماء و صفات کی کھانی چاہئے، اور امانت اس کے اسماء و صفات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اوامر میں سے ایک امر ہے، اس لیے امانت کی قسم کھانا جائز کام ہو گا، اور اس میں کفارہ نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک امانت کی قسم صحیح ہے ، اور اس میں کفارہ واجب ہو گا، کیونکہ امین اللہ کا نام ہے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said about the futile oath: It is man's speech in his house: No, by Allah, and Yes, by Allah. Abu Dawud said: Ibrahim al-Sa'igh, the narrator of this tradition, was a pious man. Abu Muslim killed him at 'Aranda. When he raised a hammed and heard the call to prayer, he gave it up. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Dawud bin Abi al-Furat from Ibrahim al-Sa'igh as a statement of Aishah (not attributed to the Prophet). Similarly, it has been transmitted by al-Zuhri, Abd al-Malik bin Abi Sulaiman and Malik bin Mughul. All of them transmitted it from Ata on the authority of Aishah on her own statement.
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ( تکیہ کلام کے طور پر ) «كلا والله وبلى والله» ( ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی ) کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو ( مارنے سے پہلے ) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۷۳۷۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یمین لغو ایسے قسمیہ الفاظ کو کہا جاتا ہے جو دوران گفتگو لوگوں کی زبان سے بلا قصد و ارادہ جاری ہو جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Your oath should be about something regarding which your companion will believe you. Musaddad said: Abdullah bin Abi Salih narrated to me. Abu Dawud said: Both of them refer to the same person: 'Abbad bin Abu Salih and Abdullah bin Abi Salih.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۔ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأیمان ۴ (۱۶۵۳)، سنن الترمذی/الأحکام ۱۹ (۱۳۵۴)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۱۴ (۲۱۲۰)، (تحفة الأشراف: ۱۲۸۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۲۸)، سنن الدارمی/النذور ۱۱ (۲۳۹۴)
Narrated Suwayd ibn Hanzalah: We went out intending (to visit) the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and Wail ibn Hujr was with us. His enemy caught him. The people desisted from swearing an oath, but I took an oath that he was my brother. So he left him. We then came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and I informed him that the people desisted from taking the oath, but I swore that he was my brother. He said: You spoke the truth: A Muslim is a brother of a Muslim.
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا ( لیکن ) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الکفارات ۱۴ (۲۱۱۹)، (تحفة الأشراف: ۴۸۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۷۹)
Narrated Thabit bin Adh-Dahhak: That he took oath of allegiance to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم under the tree. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone swears by religion other than Islam falsely, he is like what has has said. If anyone kills himself with something, he will be punished with it on the Day of Resurrection. A vow over which a man has no control is not binding on him.
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے ( یعنی خودکشی کر لے ) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ۲؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۸۳ (۱۳۶۳)، الأدب ۴۴ (۶۰۴۷)، ۷۳ (۶۱۰۵)، الایمان ۷ (۶۶۵۲)، صحیح مسلم/الإیمان ۴۷ (۱۱۰)، سنن الترمذی/الأیمان ۱۵ (۱۵۴۳)، سنن النسائی/الأیمان ۶ (۳۸۰۱)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۳ (۲۰۹۸)، (تحفة الأشراف: ۲۰۶۲، ۲۰۶۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۳، ۳۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، جو صلح حدیببہ کے موقع پر لی گئی۔ ۲؎ : مثلا یوں کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کروں تو یہودی ہو جاؤں، مثلاً دوسرے کے غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کی نذر مانے۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone takes an oath and says: I am free from Islam; now if he is a liar (in his oath), he will not return to Islam with soundness.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں ( اگر میں نے فلاں کام کیا ) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأیمان ۷ (۳۸۰۳)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۳ (۲۱۰۰)، (تحفة الأشراف: ۱۹۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۵۵، ۳۵۶)
Narrated Yusuf ibn Abdullah ibn Salam: I saw that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم put a date on a loaf and said: This is a thing eaten with bread (condiments).
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ۱؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says when swearing an oath: If Allah wills, he makes an exception.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎ ۔