TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of witr. - کتاب نماز وتر کے مسائل کا بیان - Book 15 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 15 of Sahih Bukhari, with 7 chapters and 15 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

15 Hadith · 7 Chapters
(1) CHAPTER. What is said regarding the Witr prayer.
وتر کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام : صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى .
Narrated Ibn Umar: Once a person asked Allah's Apostle about the night prayer. Allah's Apostle replied, The night prayer is offered as two Rakat followed by two Rakat and so on and if anyone is afraid of the approaching dawn (Fajr prayer) he should pray one Raka and this will be a Witr for all the Rakat which he has prayed before.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے نافع اور عبداللہ ابن دینار سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات میں نماز کے متعلق معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔
990
Sahih
(1) CHAPTER. What is said regarding the Witr prayer.
وتر کا بیان
وَعَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ .
Nafi' told that 'Abdullah bin 'Umar used to say Taslim between (the first) two Rakat and (the third) odd one in the Witr prayer, when he wanted to attend to a certain matter (during that interval between the Rakat).
اور اسی سند کے ساتھ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے۔
991
Sahih
(1) CHAPTER. What is said regarding the Witr prayer.
وتر کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ وِسَادَةٍ ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَاسْتَيْقَظَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ .
Narrated Ibn `Abbas: Once I passed the night in the house of Maimuna (his aunt). I slept across the bed while Allah's Apostle and his wife slept length-wise. The Prophet slept till midnight or nearly so and woke up rubbing his face and recited ten verses from Surat Al-`Imran. Allah's Apostle went towards a leather skin and performed ablution in the most perfect way and then stood for the prayer. I did the same and stood beside him. The Prophet put his right hand on my head, twisted my ear and then prayed two rak`at five times and then ended his prayer with witr. He laid down till the Mu'adh-dhin came then he stood up and offered two rak`at (Sunna of Fajr prayer) and then went out and offered the Fajr prayer. (See Hadith No. 183, Vol. 1)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے ( آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ) میں تکیہ کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی لمبائی میں لیٹیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب آدھی رات گزر گئی یا اس کے لگ بھگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نیند کے اثر کو چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کیا۔ اس کے بعد آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں۔ پھر ایک پرانی مشک پانی کی بھری ہوئی لٹک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر رکھ کر اور میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت سب بارہ رکعتیں پھر ایک رکعت وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ مؤذن صبح صادق کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت سنت نماز پڑھی۔ پھر باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
992
Sahih
(1) CHAPTER. What is said regarding the Witr prayer.
وتر کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ ، قَالَ الْقَاسِمُ : وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَكْنَا يُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ وَإِنَّ كُلًّا لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بَأْسٌ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet said, Night prayer is offered as two rak`at followed by two rak`at and so on, and if you want to finish it, pray only one rak`a which will be witr for all the previous rak`at. Al-Qasim said, Since we attained the age of puberty we have seen some people offering a three-rak`at prayer as witr and all that is permissible. I hope there will be no harm in it.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ قاسم سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک ( رکعت وتر ) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔
993
Sahih
(1) CHAPTER. What is said regarding the Witr prayer.
وتر کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : عَنْ عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، كَانَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ تَعْنِي بِاللَّيْلِ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to pray eleven rak`at at night and that was his night prayer and each of his prostrations lasted for a period enough for one of you to recite fifty verses before Allah's Apostle raised his head. He also used to pray two rak`at (Sunna) before the (compulsory) Fajr prayer and then lie down on his right side till the Mu'adh-dhin came to him for the prayer.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعتیں ( وتر اور تہجد کی ) پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی۔ مراد ان کی رات کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ ان رکعتوں میں اتنا لمبا ہوتا تھا کہ سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص بھی پچاس آیتیں پڑھ سکتا اور فجر کی نماز فرض سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنت دو رکعتیں پڑھتے تھے اس کے بعد ( ذرا دیر ) داہنے پہلو پر لیٹ رہتے یہاں تک کہ مئوذن بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔
994
Sahih
(2) CHAPTER. The timing of the Salat-ul-Witr (Witr prayer).
وتر پڑھنے کے اوقات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَكَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ ، قَالَ حَمَّادٌ : أَيْ سُرْعَةً .
Narrated Anas bin Seereen: I asked Ibn `Umar, What is your opinion about the two rak`at before the Fajr (compulsory) prayer, as to prolonging the recitation in them? He said, The Prophet (p.b.u.h) used to pray at night two rak`at followed by two and so on, and end the prayer by one rak`a witr. He used to offer two rak`at before the Fajr prayer immediately after the Adhan. (Hammad, the sub-narrator said, That meant (that he prayed) quickly.)
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نماز صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں ان میں لمبی قرآت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کی نماز ( تہجد ) دو، دو رکعت کر کے پڑھتے تھے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق بنا لیتے اور صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ( سنت فجر تو ) اس طرح پڑھتے گویا اذان ( اقامت ) کی آواز آپ کے کان میں پڑ رہی ہے۔ حماد کی اس سے مراد یہ ہے کہ آپ جلدی پڑھ لیتے۔
995
Sahih
(2) CHAPTER. The timing of the Salat-ul-Witr (Witr prayer).
وتر پڑھنے کے اوقات کا بیان
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle offered witr prayer at different nights at various hours extending (from the `Isha' prayer) up to the last hour of the night.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مسلم بن کیسان نے بیان کیا، ان سے مسروق نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں بھی وتر پڑھی ہے اور آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
996
Sahih
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةً عَلَى فِرَاشِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ .
Narrated `Aisha: The Prophet (p.b.u.h) used to offer his night prayer while I was sleeping across in his bed. Whenever he intended to offer the witr prayer, he used to wake me up and I would offer the witr prayer too.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( تہجد کی ) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔
997
Sahih
(4) CHAPTER. One should make Witr as the last Salat (prayer) (at night).
نماز وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھی جائے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet (p.b.u.h) said, Make witr as your last prayer at night.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو۔
998
Sahih
(5) CHAPTER. To offer the Witr prayer while riding on an animal.
نماز وتر سواری پر پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ .
Narrated Sa`id bin Yasar: I was going to Mecca in the company of `Abdullah bin `Umar and when I apprehended the approaching dawn, I dismounted and offered the witr prayer and then joined him. `Abdullah bin `Umar said, Where have you been? I replied, I apprehended the approaching dawn so I dismounted and prayed the witr prayer. `Abdullah said, Isn't it sufficient for you to follow the good example of Allah's Apostle? I replied, Yes, by Allah. He said, Allah's Apostle used to pray witr on the back of the camel (while on a journey).
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے بیان کیا اور ان کو سعید بن یسار نے بتلایا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا۔ سعید نے کہا کہ جب راستے میں مجھے طلوع فجر کا خطرہ ہوا تو سواری سے اتر کر میں نے وتر پڑھ لیا اور پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔ آپ نے پوچھا کہ کہاں رک گئے تھے؟ میں نے کہا کہ اب صبح کا وقت ہونے ہی والا تھا اس لیے میں سواری سے اتر کر وتر پڑھنے لگا۔ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اچھا نمونہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک ہے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
999
Sahih
(6) CHAPTER. Offering prayers of Witr while on a journey.
نماز وتر سفر میں بھی پڑھنا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet used to offer (Nawafil) prayers on his Rahila (mount) facing its direction by signals, but not the compulsory prayer. He also used to pray witr on his (mount) Rahila.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔
1000
Sahih
(7) CHAPTER. To recite Qunut (invocation) before and after bowing.
( وتر اور ہر نماز میں ) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ ، أَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقِيلَ لَهُ : أَوَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ؟ قَالَ : بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا .
Narrated Muhammad bin Seereen: Anas was asked, Did the Prophet recite Qunut in the Fajr prayer? Anas replied in the affirmative. He was further asked, Did he recite Qunut before bowing? Anas replied, He recited Qunut after bowing for some time (for one month).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے محمد بن سیرین نے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک۔
1001
Sahih
(7) CHAPTER. To recite Qunut (invocation) before and after bowing.
( وتر اور ہر نماز میں ) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ ، قُلْتُ : قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ ، قَالَ : قَبْلَهُ ، قَالَ : فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا أُرَاهُ ، كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ زُهَاءَ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ .
Narrated `Asim: I asked Anas bin Malik about the Qunut. Anas replied, Definitely it was (recited) . I asked, Before bowing or after it? Anas replied, Before bowing. I added, So and so has told me that you had informed him that it had been after bowing. Anas said, He told an untruth (i.e. was mistaken, according to the Hijazi dialect). Allah's Apostle recited Qunut after bowing for a period of one month. Anas added, The Prophet sent about seventy men (who knew the Qur'an by heart) towards the pagans (of Najd) who were less than they in number and there was a peace treaty between them and Allah's Apostles (but the Pagans broke the treaty and killed the seventy men). So Allah's Apostle recited Qunut for a period of one month asking Allah to punish them.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے۔ عاصم نے کہا کہ آپ ہی کے حوالے سے فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا تھا۔ اس کا جواب انس نے یہ دیا کہ انہوں نے غلط سمجھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کے قریب مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی طرف سے ان کو تعلیم دینے کے لیے بھیجے تھے، یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا کی تھی۔ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا، لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ( اور قاریوں کو مار ڈالا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ( رکوع کے بعد ) قنوت پڑھتے رہے ان پر بددعا کرتے رہے۔
1002
Sahih
(7) CHAPTER. To recite Qunut (invocation) before and after bowing.
( وتر اور ہر نماز میں ) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں
أخبرنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet recited Qunut for one month (in the Fajr prayer) asking Allah to punish the tribes of Ral and Dhakwan.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے تیمی نے، ان سے ابومجلز نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعا قنوت پڑھی اور اس میں قبائل رعل و ذکوان پر بددعا کی تھی۔
1003
Sahih
(7) CHAPTER. To recite Qunut (invocation) before and after bowing.
( وتر اور ہر نماز میں ) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ .
Narrated Anas: The Qunut used to be recited in the Maghrib and the Fajr prayers.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، انہیں ابوقلابہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قنوت مغرب اور فجر میں پڑھی جاتی تھی۔
1004
Sahih