TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of as-saum (the fasting). - کتاب روزے کے مسائل کا بیان - Book 31 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 31 of Sahih Bukhari, with 68 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 68 Chapters
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلَيْتَ شَهْرًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ .
Narrated Anas: Allah's Apostle vowed to keep aloof from his wives for one month, and he had dislocation of his leg. So, he stayed in a Mashruba for 29 nights and then came down. Some people said, O Allah's Apostle! You vowed to stay aloof for one month, He replied, The month is of 29 days.
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جدا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالاخانہ میں انتیس دن قیام کیا تھا، پھر وہاں سے اترے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
1911
Sahih
(12) CHAPTER. The two months of Eid do not decrease.
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ : شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ ، وَذُو الْحَجَّةِ .
Narrated Abu Bakra: The Prophet said, The two months of `Id i.e. Ramadan and Dhul-Hijja, do not decrease (in superiority).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔
1912
Sahih
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet : “We neither write nor know accounts.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا ، وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, We are an illiterate nation; we neither write, nor know accounts. The month is like this and this, i.e. sometimes of 29 days and sometimes of thirty days.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا، ان سے سعید بن عمرو نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم ایک بے پڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے۔ آپ کی مراد ایک مرتبہ انتیس ( دنوں سے ) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا ) ۔
1913
Sahih
(14) CHAPTER. Not to observe Saum (fast) for a day or two ahead of Ramadan.
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, None of you should fast a day or two before the month of Ramadan unless he has the habit of fasting (Nawafil) (and if his fasting coincides with that day) then he can fast that day.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے ( شعبان کی آخری تاریخوں میں ) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔
1914
Sahih
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum (the fasts)”.
اللہ عزوجل کا فرمانا کہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ لَهَا : أَعِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ ، قَالَتْ : خَيْبَةً لَكَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187 ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا ، وَنَزَلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187.
Narrated Al-Bara: It was the custom among the companions of Muhammad that if any of them was fasting and the food was presented (for breaking his fast), but he slept before eating, he would not eat that night and the following day till sunset. Qais bin Sirma-al-Ansari was fasting and came to his wife at the time of Iftar (breaking one's fast) and asked her whether she had anything to eat. She replied, No, but I would go and bring some for you. He used to do hard work during the day, so he was overwhelmed by sleep and slept. When his wife came and saw him, she said, Disappointment for you. When it was midday on the following day, he fainted and the Prophet was informed about the whole matter and the following verses were revealed: You are permitted To go to your wives (for sexual relation) At the night of fasting. So, they were overjoyed by it. And then Allah also revealed: And eat and drink Until the white thread Of dawn appears to you Distinct from the black thread (of the night). (2.187)
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( شروع اسلام میں ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہو جاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا ( اس وقت کچھ ) نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں ( سوتے ہوئے ) دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہو گئے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ”حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا“ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری ( صبح صادق ) سیاہ دھاری ( صبح کاذب ) سے۔“
1915
Sahih
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 ، عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَسْوَدَ وَإِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ فَلَا يَسْتَبِينُ لِي ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ .
Narrated `Adi bin Hatim: When the above verses were revealed: 'Until the white thread appears to you, distinct from the black thread,' I took two (hair) strings, one black and the other white, and kept them under my pillow and went on looking at them throughout the night but could not make anything out of it. So, the next morning I went to Allah's Apostle and told him the whole story. He explained to me, That verse means the darkness of the night and the whiteness of the dawn.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حصین بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، اور ان سے شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ”تاآنکہ کھل جائے تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے۔“ تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ لیا اور ایک سفید اور دنوں کو تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات میں دیکھتا رہا مجھ پر ان کے رنگ نہ کھلے، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے تو رات کی تاریکی ( صبح کاذب ) اور دن کی سفیدی ( صبح صادق ) مراد ہے۔
1916
Sahih
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : أُنْزِلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 ، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .
Narrated Sahl bin Saud: When the following verses were revealed: 'Eat and drink until the white thread appears to you, distinct from the black thread' and of dawn was not revealed, some people who intended to fast, tied black and white threads to their legs and went on eating till they differentiated between the two. Allah then revealed the words, 'of dawn', and it became clear that meant night and day.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل بن سعد نے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے“ لیکن «من الفجر» ( صبح کی ) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
1917
Sahih
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، قَالَ الْقَاسِمُ : وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَرْقَى ذَا ، وَيَنْزِلَ ذَا .
Narrated `Aisha: Bilal used to pronounce the Adhan at night, so Allah's Apostle? said, Carry on taking your meals (eat and drink) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan, for he does not pronounce it till it is dawn.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور (عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی روایت) قاسم بن محمد سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ قاسم نے بیان کیا کہ دونوں ( بلال اور ام مکتوم رضی اللہ عنہما ) کی اذان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ ایک چڑھتے تو دوسرے اترتے۔
1918
Sahih
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، قَالَ الْقَاسِمُ : وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَرْقَى ذَا ، وَيَنْزِلَ ذَا .
Narrated `Aisha: Bilal used to pronounce the Adhan at night, so Allah's Apostle? said, Carry on taking your meals (eat and drink) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan, for he does not pronounce it till it is dawn.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور (عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی روایت) قاسم بن محمد سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ قاسم نے بیان کیا کہ دونوں ( بلال اور ام مکتوم رضی اللہ عنہما ) کی اذان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ ایک چڑھتے تو دوسرے اترتے۔
1919
Sahih
(18) CHAPTER. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).
سحری کھانے میں دیر کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ السُّجُودَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Sahl bin Sa`d: I used to take my Suhur meals with my family and then hurry up for presenting myself for the (Fajr) prayer with Allah's Apostle.
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں سحری اپنے گھر کھاتا پھر جلدی کرتا تاکہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائے۔
1920
Sahih
(19) CHAPTER. What is the interva between the (end of) Sahur and the Salat-ul-Fajr (early morning prayer)?
سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ ؟ قَالَ : قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً .
Narrated Anas: Zaid bin Thabit said, We took the Suhur with the Prophet . Then he stood for the prayer. I asked, What was the interval between the Suhur and the Adhan? He replied, The interval was sufficient to recite fifty verses of the Qur'an.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں ( پڑھنے ) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
1921
Sahih
(20) CHAPTER. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.
سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ ، فَوَاصَلَ النَّاسُ ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَنَهَاهُمْ ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ أُطْعَمُ وَأُسْقَى .
Narrated `Abdullah: The Prophet fasted for days continuously; the people also did the same but it was difficult for them. So, the Prophet forbade them (to fast continuously for more than one day). They slid, But you fast without break (no food was taken in the evening or in the morning). The Prophet replied, I am not like you, for I am provided with food and drink (by Allah).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صوم وصال“ رکھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رکھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے دشواری ہو گئی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صوم وصال رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو برابر کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔
1922
Sahih
(20) CHAPTER. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.
سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Take Suhur as there is a blessing in it.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
1923
Sahih
(21) CHAPTER. If the intention of observing Saum (fast) was made in the daytime.
اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُنَادِي فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ : إِنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ ، أَوْ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلَا يَأْكُلْ .
Narrated Salama bin Al-Akwa`: Once the Prophet ordered a person on 'Ashura' (the tenth of Muharram) to announce, Whoever has eaten, should not eat any more, but fast, and who has not eaten should not eat, but complete his fast (till the end of the day).
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس نے کھانا کھا لیا وہ اب ( دن ڈوبنے تک روزہ کی حالت میں ) پورا کرے یا ( یہ فرمایا کہ ) روزہ رکھے اور جس نے نہ کھایا ہو ( تو وہ روزہ رکھے ) کھانا نہ کھائے۔
1924
Sahih
(22) CHAPTER. If a person observing Saum (fasts) gets up in the morning in the state of Janaba [will his Saum (fast) be valid?]
روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ : أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ ، وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ : أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا ، وَلَوْلَا مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ ، فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ ، وَقَالَ هَمَّامٌ ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ ، وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ .
Narrated `Aisha and Um Salama: At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ( بعض مرتبہ ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ ( کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلاف تھا ) ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( میں کیا کروں ) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی ( اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں ) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔
1925
Sahih
(22) CHAPTER. If a person observing Saum (fasts) gets up in the morning in the state of Janaba [will his Saum (fast) be valid?]
روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ : أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ ، وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ : أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا ، وَلَوْلَا مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ ، فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ ، وَقَالَ هَمَّامٌ ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ ، وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ .
Narrated `Aisha and Um Salama: At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ( بعض مرتبہ ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ ( کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلاف تھا ) ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( میں کیا کروں ) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی ( اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں ) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔
1926
Sahih
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ ، وَقَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَآرِبُ حَاجَةٌ ، قَالَ طَاوُسٌ : غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ الْأَحْمَقُ ، لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے لیکن ( اپنی ازواج کے ساتھ ) «يقبل» ( بوسہ لینا ) و مباشرت ( اپنے جسم سے لگا لینا ) بھی کر لیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ طہٰ میں جو «مآرب‏» کا لفظ ہے وہ ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ «أولي الإربة‏» ( جو سورۃ النور میں ہے ) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
1927
Sahih
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ ضَحِكَتْ .
Narrated Hisham's father: Aisha said, Allah's Apostle used to kiss some of his wives while he was fasting, and then she smiled.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ہنسیں۔
1928
Sahih
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ ، إِذْ حِضْتُ ، فَانْسَلَلْتُ ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ، أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ .
Narrated Zainab: (daughter of Um Salama) that her mother said, While I was (lying) with Allah's Apostle underneath a woolen sheet, I got the menstruation, and then slipped away and put on the clothes (which I used to wear) in menses. He asked, What is the matter? Did you get your menses? I replied in the affirmative and then entered underneath that woolen sheet. I and Allah's Apostle used to take a bath from one water pot and he used to kiss me while he was fasting.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی زینب نے اور ان سے ان کی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں ( لیٹی ہوئی ) تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی چادر میں چلی گئی اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل ( جنابت ) کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔
1929
Sahih
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ .
Narrated `Aisha: (At times) in Ramadan the Prophet used to take a bath in the morning not because of a wet dream and would continue his fast.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور ابوبکر نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے ) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ ( معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کر سکتا ہے ) ۔
1930
Sahih

Chapters

68
01
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The superiority of As-Saum (the fasting).
روزہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. As-Saum (the fasting) is an expiation (for sins).
روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتاہے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The Prophet used to be most generous in the month of Ramadan.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Whoever does not give up lying speech (false statements (i.e., telling lies) and acting on those while obsering Saum (fast).
جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا نہ چھوڑے
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Should one say, “I am observing Saum (fast)” on being abused?
کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. As-Saum (the fasting) (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.
جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
6 Hadith
12
(12) CHAPTER. The two months of Eid do not decrease.
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet : “We neither write nor know accounts.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Not to observe Saum (fast) for a day or two ahead of Ramadan.
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum (the fasts)”.
اللہ عزوجل کا فرمانا کہ
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).
سحری کھانے میں دیر کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. What is the interva between the (end of) Sahur and the Salat-ul-Fajr (early morning prayer)?
سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.
سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. If the intention of observing Saum (fast) was made in the daytime.
اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. If a person observing Saum (fasts) gets up in the morning in the state of Janaba [will his Saum (fast) be valid?]
روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. If a person observing Saum (fast) ate or drank forgetfully (should he observe Saum another day in lieu of that day)?
اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. Dry or green Siwak for the person observing Saum (fast).
روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے
1 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever has a sexual intercourse with wife in Ramadan, (intentionally, he has to pay expiation).
جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جما ع کیا ؟
1 Hadith
29
(30) CHAPTER: If somebody had a sexual intercourse with his wife in Ramadan and has got nothing, then if he is given something in charity, he should give the expiation of that sinful act.
اگر کسی نے رمضان میں قصداً جماع کیا !
1 Hadith
30
(31) CHAPTER. Can a person who has had sexual intercourse (with his wife) in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?
رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے ؟
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے
3 Hadith
32
(33) CHAPTER. To observe Saum (fast) or not to observe Saum during journeys.
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
3 Hadith
33
(34) CHAPTER. If a person observed Saum (fast) some days of Ramadan and then went on a journey (is it permissible for him to break his Saum).
جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے
1 Hadith
34
(35) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
35
(36) CHAPTER. The saying of the Prophet to the person observing Saum (fast) who was being shaded on a very hot day, It is not from Al-Birr (righteousness) to observe As-Saum (the fast) on a journey.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. The Companions of the Prophet did not criticize each other for observing Saum (fast) or not observing Saum (fast) (on journeys).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. Whoever broke his Saum (fast) on a journey (publicly) so that the people might see him.
سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطا کر ڈالنا
1 Hadith
38
(39) CHAPTER. (The Statement of Allah): And as for those who can fast with difficulty (e.g. the aged etc) they have (a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day). (V.2:184)
سورۃ البقرہ کی اس آیت کا بیان وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ الایۃ
1 Hadith
39
(40) CHAPTER. When to make up for the missed days of fasting of Ramadan.
رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں
1 Hadith
40
(41) CHAPTER. The menstruating women should leave the Saum (fast) and As-Salat (the prayer).
حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے
1 Hadith
41
(42) CHAPTER. Whoever died and he ought to have observed Saum (fast) (the missed days of Ramadan, can somebody else observe Saum instead of him?)
اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں
2 Hadith
42
(43) CHAPTER. When should the person observing Saum (fast) break his Saum (fast)?
روزہ کس وقت افطا رکرے ؟
2 Hadith
43
(44) CHAPTER. lftar [to break the Saum (fast)] with the available water or anything else.
پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے
1 Hadith
44
(45) CHAPTER. To hasten the Iftar [breaking of the fast].
روزہ کھولنے میں جلدی کرنا
2 Hadith
45
(46) CHAPTER. If somebody Aftara [breaks the Saum (fast)], thinking that the sun has set and then sees the sun still visible. [Should he make up for that Saum?]
ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا !
1 Hadith
46
(47) CHAPTER. Saum (fasting) of boys (children etc.)
بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
47
(48) CHAPTER. Al-Wisal [i.e., to observe Saum (fast) continuously without eating or drinking anything by day or night, may be for a day or two or more].
پے درپے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا
4 Hadith
48
(49) CHAPTER. The punishment for the person who practises Al-Wisal very often.
جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان
2 Hadith
49
(50) CHAPTER. To observe Saum (fast) continuously day and night (Al-Wisal) till the time of Sahar (last part of night).
سحری تک وصال کا روزہ رکھنا
1 Hadith
50
(51) CHAPTER. If someone forces his Muslim brother to break his (Nawafil) fast, by giving him oath, the person observing Saum (fast) has not to observe Saum (fast) in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.
کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی
1 Hadith
51
(52) CHAPTER. Saum (fasting) in the month of Sha‘ban.
ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان
2 Hadith
52
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
53
(54) CHAPTER. The right of the guest in fasting.
مہمان کی خاطر سے نفل روزہ نہ رکھنا یا توڑ ڈالنا
1 Hadith
54
(55) CHAPTER. The right of the body in observing As-Saum (the fast).
روزے میں جسم کا حق
1 Hadith
55
(56) CHAPTER. Observing Saum (fasting) daily throughout the life.
ہمیشہ روزہ رکھنا ( جس کو صوم الدھر کہتے ہیں )
1 Hadith
56
(57) CHAPTER. The right of the family (wife) in observing As-Saum (the fast).
روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق
1 Hadith
57
(58) CHAPTER. Saum (fasting) on alternate days.
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان
1 Hadith
58
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
2 Hadith
59
(60) CHAPTER. To observe Saum (fast) the three days (preceding) the full moon night, i.e., 13th, 14th and 15th of the lunar months.
ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا
1 Hadith
60
(61) CHAPTER. Whoever Visited some people and did not break his (optional) Saum (fast) with them.
جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا
1 Hadith
61
(62) CHAPTER. Fasting the last days of the month.
مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا
1 Hadith
62
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
3 Hadith
63
(64) CHAPTER. Can one select some special days [for observing Saum (fast)]?
روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Arafah.
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
2 Hadith
65
(66) CHAPTER. Observing Saum on the first day of Eid-uI- Fitr.
عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا
3 Hadith
66
(67) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Nahr (i.e., first day of Eid-ul-Adha).
عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا
3 Hadith
67
(68) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Tashriq days (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah).
ایام تشریق کے روزے رکھنا
4 Hadith
68
(69) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Ashura (tenth of Muharram).
اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟
8 Hadith
No chapter matched that.