TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of as-saum (the fasting). - کتاب روزے کے مسائل کا بیان - Book 31 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 31 of Sahih Bukhari, with 68 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 68 Chapters
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ : شَهْرَ رَمَضَانَ ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ ؟ فَقَالَ : فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ، قَالَ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ .
Narrated Talha bin 'Ubaidullah: A bedouin with unkempt hair came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers. He replied: You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil. The bedouin further asked, Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting. He replied, You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil. The bedouin further asked, Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me. Thus, Allah's Apostle informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, By Him Who has honored you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allah's Apostle said, If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نے، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتا دیں۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔
1891
Sahih
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشُورَاءَ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet observed the fast on the 10th of Muharram ('Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the 'Ashura' was abandoned. `Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رکھنے کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو ابتداء اسلام میں حکم دیا تھا، جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو عاشورہ کا روزہ بطور فرض چھوڑ دیا گیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کے دن روزہ نہ رکھتے مگر جب ان کے روزے کا دن ہی یوم عاشورہ آن پڑتا۔
1892
Sahih
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
Narrated `Aisha: (The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura' in the Pre-Islamic period, and then Allah's Apostle ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet said, He who wants to fast (on 'Ashura') may fast, and he who does not want to fast may not fast.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے اور ان سے عراک بن مالک نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
1893
Sahih
(2) CHAPTER. The superiority of As-Saum (the fasting).
روزہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ ، وَشَرَابَهُ ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting. The Prophet added, By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔
1894
Sahih
(3) CHAPTER. As-Saum (the fasting) is an expiation (for sins).
روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتاہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ ، وَمَالِهِ ، وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ ، وَالصِّيَامُ ، وَالصَّدَقَةُ ، قَالَ : لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ ، قَالَ : وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ ، قَالَ : يُكْسَرُ ، قَالَ : ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ : أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ .
Narrated Abu Wail from Hudhaifa: `Umar asked the people, Who remembers the narration of the Prophet about the affliction? Hudhaifa said, I heard the Prophet saying, 'The affliction of a person in his property, family and neighbors is expiated by his prayers, fasting, and giving in charity. `Umar said, I do not ask about that, but I ask about those afflictions which will spread like the waves of the sea. Hudhaifa replied, There is a closed gate in front of those afflictions. `Umar asked, Will that gate be opened or broken? He replied, It will be broken. `Umar said, Then the gate will not be closed again till the Day of Resurrection. We said to Masruq, Would you ask Hudhaifa whether `Umar knew what that gate symbolized? He asked him and he replied He (`Umar) knew it as one knows that there will be night before tomorrow, morning.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے جامع بن راشد نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنہ ( آزمائش و امتحان ) ہیں جس کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا میری مراد تو اس فتنہ سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ آئے گا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ ( یعنی آپ کے دور میں وہ فتنہ شروع نہیں ہو گا ) عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ دروازہ کھل جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تو قیامت تک کبھی بند نہ ہو پائے گا۔ ہم نے مسروق سے کہا آپ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھئے کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ وہ دروازہ کون ہے، چنانچہ مسروق نے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! بالکل اس طرح ( انہیں علم تھا ) جیسے رات کے بعد دن کے آنے کا علم ہوتا ہے۔
1895
Sahih
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا ، يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ .
Narrated Sahl: The Prophet said, There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔
1896
Sahih
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Whoever gives two kinds (of things or property) in charity for Allah's Cause, will be called from the gates of Paradise and will be addressed, 'O slaves of Allah! Here is prosperity.' So, whoever was amongst the people who used to offer their prayers, will be called from the gate of the prayer; and whoever was amongst the people who used to participate in Jihad, will be called from the gate of Jihad; and whoever was amongst those who used to observe fasts, will be called from the gate of Ar-Raiyan; whoever was amongst those who used to give in charity, will be called from the gate of charity. Abu Bakr said, Let my parents be sacrificed for you, O Allah's Apostle! No distress or need will befall him who will be called from those gates. Will there be any one who will be called from all these gates? The Prophet replied, Yes, and I hope you will be one of them.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے معین بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا جو مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے جو روزہ دار ہو گا اسے «باب الريان» سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو گا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ان دروازوں ( میں سے کسی ایک دروازہ ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔
1897
Sahih
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہل نافع بن مالک نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
1898
Sahih
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained.
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا کہ مجھے بنو تمیم کے مولیٰ ابوسہیل بن ابی انس نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔
1899
Sahih
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلَالِ رَمَضَانَ .
Narrated Ibn `Umar: I heard Allah's Apostle saying, When you see the crescent (of the month of Ramadan), start fasting, and when you see the crescent (of the month of Shawwal), stop fasting; and if the sky is overcast (and you can't see it) then regard the month of Ramadan as of 30 days.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو۔ ( یعنی تیس روزے پورے کر لو ) اور بعض نے لیث سے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ ”رمضان کا چاند“ مراد ہے۔
1900
Sahih
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever established prayers on the night of Qadr out of sincere faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven; and whoever fasts in the month of Ramadan out of sincere faith, and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
1901
Sahih
(7) CHAPTER. The Prophet used to be most generous in the month of Ramadan.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet was the most generous amongst the people, and he used to be more so in the month of Ramadan when Gabriel visited him, and Gabriel used to meet him on every night of Ramadan till the end of the month. The Prophet used to recite the Holy Qur'an to Gabriel, and when Gabriel met him, he used to be more generous than a fast wind (which causes rain and welfare).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں ملتے، جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے۔
1902
Sahih
(8) CHAPTER. Whoever does not give up lying speech (false statements (i.e., telling lies) and acting on those while obsering Saum (fast).
جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا نہ چھوڑے
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (i.e. Allah will not accept his fasting.)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
1903
Sahih
(9) CHAPTER. Should one say, “I am observing Saum (fast)” on being abused?
کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ، إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا : إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah said, 'All the deeds of Adam's sons (people) are for them, except fasting which is for Me, and I will give the reward for it.' Fasting is a shield or protection from the fire and from committing sins. If one of you is fasting, he should avoid sexual relation with his wife and quarreling, and if somebody should fight or quarrel with him, he should say, 'I am fasting.' By Him in Whose Hands my soul is' The unpleasant smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. There are two pleasures for the fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord; then he will be pleased because of his fasting.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہیں ابوصالح (جو روغن زیتون اور گھی بیچتے تھے) نے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہئے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہئے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔
1904
Sahih
(10) CHAPTER. As-Saum (the fasting) (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.
جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ .
Narrated 'Alqama: While I was walking with `Abdullah he said, We were in the company of the Prophet and he said, 'He who can afford to marry should marry, because it will help him refrain from looking at other women, and save his private parts from committing illegal sexual relation; and he who cannot afford to marry is advised to fast, as fasting will diminish his sexual power.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی صاحب طاقت ہو تو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے محفوظ رکھنے کا یہ ذریعہ ہے اور کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
1905
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle mentioned Ramadan and said, Do not fast unless you see the crescent (of Ramadan), and do not give up fasting till you see the crescent (of Shawwal), but if the sky is overcast (if you cannot see it), then act on estimation (i.e. count Sha'ban as 30 days).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس دن پورے کر لو۔
1906
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, The month (can be) 29 nights (i.e. days), and do not fast till you see the moon, and if the sky is overcast, then complete Sha'ban as thirty days.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے ( انتیس پورے ہو جانے پر ) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔
1907
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَخَنَسَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, The month is like this and this, (at the same time he showed the fingers of both his hands thrice) and left out one thumb on the third time.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگھوٹھے کو دبا لیا۔
1908
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet or Abul-Qasim said, Start fasting on seeing the crescent (of Ramadan), and give up fasting on seeing the crescent (of Shawwal), and if the sky is overcast (and you cannot see it), complete thirty days of Sha'ban.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو۔
1909
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ، غَدَا ، أَوْ رَاحَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ شَهْرًا ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا .
Narrated Um Salama: The Prophet vowed to keep aloof from his wives for a period of one month, and after the completion of 29 days he went either in the morning or in the afternoon to his wives. Someone said to him You vowed that you would not go to your wives for one month. He replied, The month is of 29 days.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، ان سے عکرمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہو گئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
1910
Sahih

Chapters

68
01
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The superiority of As-Saum (the fasting).
روزہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. As-Saum (the fasting) is an expiation (for sins).
روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتاہے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The Prophet used to be most generous in the month of Ramadan.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Whoever does not give up lying speech (false statements (i.e., telling lies) and acting on those while obsering Saum (fast).
جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا نہ چھوڑے
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Should one say, “I am observing Saum (fast)” on being abused?
کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. As-Saum (the fasting) (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.
جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
6 Hadith
12
(12) CHAPTER. The two months of Eid do not decrease.
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet : “We neither write nor know accounts.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Not to observe Saum (fast) for a day or two ahead of Ramadan.
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum (the fasts)”.
اللہ عزوجل کا فرمانا کہ
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).
سحری کھانے میں دیر کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. What is the interva between the (end of) Sahur and the Salat-ul-Fajr (early morning prayer)?
سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.
سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. If the intention of observing Saum (fast) was made in the daytime.
اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. If a person observing Saum (fasts) gets up in the morning in the state of Janaba [will his Saum (fast) be valid?]
روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. If a person observing Saum (fast) ate or drank forgetfully (should he observe Saum another day in lieu of that day)?
اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. Dry or green Siwak for the person observing Saum (fast).
روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے
1 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever has a sexual intercourse with wife in Ramadan, (intentionally, he has to pay expiation).
جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جما ع کیا ؟
1 Hadith
29
(30) CHAPTER: If somebody had a sexual intercourse with his wife in Ramadan and has got nothing, then if he is given something in charity, he should give the expiation of that sinful act.
اگر کسی نے رمضان میں قصداً جماع کیا !
1 Hadith
30
(31) CHAPTER. Can a person who has had sexual intercourse (with his wife) in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?
رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے ؟
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے
3 Hadith
32
(33) CHAPTER. To observe Saum (fast) or not to observe Saum during journeys.
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
3 Hadith
33
(34) CHAPTER. If a person observed Saum (fast) some days of Ramadan and then went on a journey (is it permissible for him to break his Saum).
جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے
1 Hadith
34
(35) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
35
(36) CHAPTER. The saying of the Prophet to the person observing Saum (fast) who was being shaded on a very hot day, It is not from Al-Birr (righteousness) to observe As-Saum (the fast) on a journey.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. The Companions of the Prophet did not criticize each other for observing Saum (fast) or not observing Saum (fast) (on journeys).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. Whoever broke his Saum (fast) on a journey (publicly) so that the people might see him.
سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطا کر ڈالنا
1 Hadith
38
(39) CHAPTER. (The Statement of Allah): And as for those who can fast with difficulty (e.g. the aged etc) they have (a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day). (V.2:184)
سورۃ البقرہ کی اس آیت کا بیان وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ الایۃ
1 Hadith
39
(40) CHAPTER. When to make up for the missed days of fasting of Ramadan.
رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں
1 Hadith
40
(41) CHAPTER. The menstruating women should leave the Saum (fast) and As-Salat (the prayer).
حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے
1 Hadith
41
(42) CHAPTER. Whoever died and he ought to have observed Saum (fast) (the missed days of Ramadan, can somebody else observe Saum instead of him?)
اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں
2 Hadith
42
(43) CHAPTER. When should the person observing Saum (fast) break his Saum (fast)?
روزہ کس وقت افطا رکرے ؟
2 Hadith
43
(44) CHAPTER. lftar [to break the Saum (fast)] with the available water or anything else.
پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے
1 Hadith
44
(45) CHAPTER. To hasten the Iftar [breaking of the fast].
روزہ کھولنے میں جلدی کرنا
2 Hadith
45
(46) CHAPTER. If somebody Aftara [breaks the Saum (fast)], thinking that the sun has set and then sees the sun still visible. [Should he make up for that Saum?]
ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا !
1 Hadith
46
(47) CHAPTER. Saum (fasting) of boys (children etc.)
بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
47
(48) CHAPTER. Al-Wisal [i.e., to observe Saum (fast) continuously without eating or drinking anything by day or night, may be for a day or two or more].
پے درپے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا
4 Hadith
48
(49) CHAPTER. The punishment for the person who practises Al-Wisal very often.
جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان
2 Hadith
49
(50) CHAPTER. To observe Saum (fast) continuously day and night (Al-Wisal) till the time of Sahar (last part of night).
سحری تک وصال کا روزہ رکھنا
1 Hadith
50
(51) CHAPTER. If someone forces his Muslim brother to break his (Nawafil) fast, by giving him oath, the person observing Saum (fast) has not to observe Saum (fast) in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.
کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی
1 Hadith
51
(52) CHAPTER. Saum (fasting) in the month of Sha‘ban.
ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان
2 Hadith
52
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
53
(54) CHAPTER. The right of the guest in fasting.
مہمان کی خاطر سے نفل روزہ نہ رکھنا یا توڑ ڈالنا
1 Hadith
54
(55) CHAPTER. The right of the body in observing As-Saum (the fast).
روزے میں جسم کا حق
1 Hadith
55
(56) CHAPTER. Observing Saum (fasting) daily throughout the life.
ہمیشہ روزہ رکھنا ( جس کو صوم الدھر کہتے ہیں )
1 Hadith
56
(57) CHAPTER. The right of the family (wife) in observing As-Saum (the fast).
روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق
1 Hadith
57
(58) CHAPTER. Saum (fasting) on alternate days.
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان
1 Hadith
58
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
2 Hadith
59
(60) CHAPTER. To observe Saum (fast) the three days (preceding) the full moon night, i.e., 13th, 14th and 15th of the lunar months.
ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا
1 Hadith
60
(61) CHAPTER. Whoever Visited some people and did not break his (optional) Saum (fast) with them.
جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا
1 Hadith
61
(62) CHAPTER. Fasting the last days of the month.
مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا
1 Hadith
62
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
3 Hadith
63
(64) CHAPTER. Can one select some special days [for observing Saum (fast)]?
روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Arafah.
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
2 Hadith
65
(66) CHAPTER. Observing Saum on the first day of Eid-uI- Fitr.
عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا
3 Hadith
66
(67) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Nahr (i.e., first day of Eid-ul-Adha).
عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا
3 Hadith
67
(68) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Tashriq days (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah).
ایام تشریق کے روزے رکھنا
4 Hadith
68
(69) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Ashura (tenth of Muharram).
اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟
8 Hadith
No chapter matched that.