TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(6) CHAPTER. How to write (re)conciliation? - صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے - The book of peacemaking. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 6 of The book of peacemaking. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 14 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بَيْنَهُمْ كِتَابًا ، فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، لَوْ كُنْتَ رَسُولًا لَمْ نُقَاتِلْكَ ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : امْحُهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ، فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ ، فَسَأَلُوهُ مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ، فَقَالَ : الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ .
Narrated Al-Bara bin `Azib: When Allah's Apostle concluded a peace treaty with the people of Hudaibiya, `Ali bin Abu Talib wrote the document and he mentioned in it, Muhammad, Allah's Apostle . The pagans said, Don't write: 'Muhammad, Allah's Apostle', for if you were an apostle we would not fight with you. Allah's Apostle asked `Ali to rub it out, but `Ali said, I will not be the person to rub it out. Allah's Apostle rubbed it out and made peace with them on the condition that the Prophet and his companions would enter Mecca and stay there for three days, and that they would enter with their weapons in cases.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی صلح ( قریش سے ) کی تو اس کی دستاویز علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں لکھا محمد اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ رسول اللہ ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ ( آئندہ سال ) تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں، شاگردوں نے پوچھا کہ جلبان السلاح ( جس کا یہاں ذکر ہے ) کیا چیز ہوتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے ( اس کا نام جلبان ہے ) ۔
2698
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : لَا نُقِرُّ بِهَا ، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ ، لَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ : امْحُ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ ، فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ سِلَاحٌ إِلَّا فِي الْقِرَابِ ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا ، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : قُلْ لِصَاحِبِكَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبِعَتْهُمُ ابْنَةُ حَمْزَةَ ، يَا عَمِّ ، يَا عَمِّ ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام : دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ ، وَزَيْدٌ ، وَجَعْفَرٌ ، فَقَالَعَلِيٌّ : أَنَا أَحَقُّ بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي ، وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي ، وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي ، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا ، وَقَالَ : الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ : أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا .
Narrated Al-Bara: When the Prophet intended to perform `Umra in the month of Dhul-Qada, the people of Mecca did not let him enter Mecca till he settled the matter with them by promising to stay in it for three days only. When the document of treaty was written, the following was mentioned: 'These are the terms on which Muhammad, Allah's Apostle agreed (to make peace).' They said, We will not agree to this, for if we believed that you are Allah's Apostle we would not prevent you, but you are Muhammad bin `Abdullah. The Prophet said, I am Allah's Apostle and also Muhammad bin `Abdullah. Then he said to `Ali, Rub off (the words) 'Allah's Apostle' , but `Ali said, No, by Allah, I will never rub off your name. So, Allah's Apostle took the document and wrote, 'This is what Muhammad bin `Abdullah has agreed upon: No arms will be brought into Mecca except in their cases, and nobody from the people of Mecca will be allowed to go with him (i.e. the Prophet ) even if he wished to follow him and he (the Prophet ) will not prevent any of his companions from staying in Mecca if the latter wants to stay.' When the Prophet entered Mecca and the time limit passed, the Meccans went to `Ali and said, Tell your Friend (i.e. the Prophet ) to go out, as the period (agreed to) has passed. So, the Prophet went out of Mecca. The daughter of Hamza ran after them (i.e. the Prophet and his companions), calling, O Uncle! O Uncle! `Ali received her and led her by the hand and said to Fatima, Take your uncle's daughter. Zaid and Ja`far quarreled about her. `Ali said, I have more right to her as she is my uncle's daughter. Ja`far said, She is my uncle's daughter, and her aunt is my wife. Zaid said, She is my brother's daughter. The Prophet judged that she should be given to her aunt, and said that the aunt was like the mother. He then said to 'All, You are from me and I am from you , and said to Ja`far, You resemble me both in character and appearance , and said to Zaid, You are our brother (in faith) and our freed slave.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا اسرائیل سے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھا۔ لیکن مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ آخر صلح اس پر ہوئی کہ ( آئندہ سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تین روز قیام کریں گے۔ جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو اس میں لکھا گیا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ لیکن مشرکین نے کہا کہ ہم تو اسے نہیں مانتے۔ اگر ہمیں علم ہو جائے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ روکیں۔ بس آپ صرف محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ اس کے بعد آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم! میں تو یہ لفظ کبھی نہ مٹاؤں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دستاویز لی اور لکھا کہ یہ اس کی دستاویز ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اس شرط پر صلح کی ہے کہ مکہ میں وہ ہتھیار میان میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں گے۔ اگر مکہ کا کوئی شخص ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اسے ساتھ نہ لے جائیں گے۔ لیکن اگر ان کے اصحاب میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو اسے وہ نہ روکیں گے۔ جب ( آئندہ سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور ( مکہ میں قیام کی ) مدت پوری ہو گئی تو قریش علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے صاحب سے کہئے کہ مدت پوری ہو گئی ہے اور اب وہ ہمارے یہاں سے چلے جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے روانہ ہونے لگے۔ اس وقت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک بچی چچا چچا کرتی آئیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہاتھ پکڑ کر لائے اور فرمایا، اپنی چچا زاد بہن کو بھی ساتھ لے لو، انہوں نے اس کو اپنے ساتھ سوار کر لیا، پھر علی، زید اور جعفر رضی اللہ عنہم کا جھگڑا ہوا۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کا میں زیادہ مستحق ہوں، یہ میرے چچا کی بچی ہے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میرے بھی چچا کی بچی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں بھی ہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔ زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی۔
2699
Sahih

Chapters

14
01
(1) CHAPTER. What has been said regarding (re)conciliation between the people.
لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. He who makes peace between the people is not a liar.
دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے کے لیے جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The The saying of the ruler to his companions, “Let us go to bring about a (re)conciliation (between people).
حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “... If they make terms of peace between themselves; and making peace is better … (V.4:128)
سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمانا اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER If some people are (re)conciled on illegal basis, their (re)conciliation is rejected.
اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. How to write (re)conciliation?
صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. To make peace with Al-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. Agreement about Diya (blood money).
دیت پر صلح کرنا ( یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا )
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The saying of the Prophet (p.b.u.h) to Al-Hasan bin Ali.
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. Should the Imam suggest reconciliation?
کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے ؟
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. The superiority of making peace and establishing justice among the people.
لوگوں میں آپس میں ملاپ کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. If the Imam (i.e., ruler) suggests a (re)conciliation but the defendant refuses it, he is to be judged by the evident valid law.
اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو قاعدے کا حکم دے دے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. Reconciliation between the creditors and between the inheritors and the repayment of debts by giving an amount that is not specified or counted.
میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح کا بیان اور قرض کا اندازہ سے ادا کرنا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Bringing about reconciliation in case of dispute concerning debts.
کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا
1 Hadith
No chapter matched that.