TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(13) CHAPTER. Reconciliation between the creditors and between the inheritors and the repayment of debts by giving an amount that is not specified or counted. - میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح کا بیان اور قرض کا اندازہ سے ادا کرنا - The book of peacemaking. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 13 of The book of peacemaking. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 14 · 1 Hadith
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ ، فَأَبَوْا ، وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ آذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ غُرَمَاءَكَ فَأَوْفِهِمْ ، فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ ، وَفَضَلَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ وَسِتَّةٌ لَوْنٌ أَوْ سِتَّةٌ عَجْوَةٌ وَسَبْعَةٌ لَوْنٌ ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ ، فَقَالَ : ائْتِ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ، فَقَالَا : لَقَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنْ سَيَكُونُ ذَلِكَ . وَقَالَ هِشَامٌ : عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا بَكْرٍ وَلَا ضَحِكَ ، وَقَالَ : وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا دَيْنًا . وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: My father died and was in debt. I suggested that his creditors take the fruits (i.e. dates) of my garden in lieu of the debt of my father, but they refused the offer, as they thought that it would not cover the full debt. So, I went to the Prophet and told him about it. He said (to me), When you pluck the dates and collect them in the Mirbad (i.e. a place where dates are dried), call me (Allah's Apostle). Finally he came accompanied by Abu Bakr and `Umar and sat on the dates and invoked Allah to bless them. Then he said, Call your creditors and give them their full rights. So, I paid all my father's creditors in full and yet thirteen extra Wasqs of dates remained, seven of which were 'Ajwa and six were Laun or six of which were Ajwa and seven were Laun. I met Allah's Apostle at sunset and informed him about it. On that he smiled and said, Go to Abu Bakr and `Umar and tell them about it. They said, We perceived that was going to happen, as Allah's Apostle did what he did.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد جب شہید ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ صورت رکھی کہ قرض کے بدلے میں وہ ( اس سال کی کھجور کے ) پھل لے لیں۔ انہوں نے اس سے انکار کیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے قرض پورا نہیں ہو سکے گا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب پھل توڑ کر مربد ( وہ جگہ جہاں کھجور خشک کرتے تھے ) میں جمع کر دو ( تو مجھے خبر دو ) چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ساتھ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھجور کے ڈھیر پر بیٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا کہ اب اپنے قرض خواہوں کو بلا لا اور ان کا قرض ادا کر دے، چنانچہ کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کا میرے باپ پر قرض رہا اور میں نے اسے ادا نہ کر دیا ہو۔ پھر بھی تیرہ وسق کھجور باقی بچ گئی۔ سات وسق عجوہ میں سے اور چھ وسق لون میں سے، یا چھ وسق عجوہ میں سے اور سات وسق لون میں سے، بعد میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے وقت جا کر ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا، ابوبکر اور عمر کے یہاں جا کر انہیں بھی یہ واقعہ بتا دو۔ چنانچہ میں نے انہیں بتلایا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کرنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کیا۔ ہمیں جبھی معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ہشام نے وہب سے اور انہوں نے جابر سے عصر کے وقت ( جابر رضی اللہ عنہ کی حاضری کا ) ذکر کیا ہے اور انہوں نے نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور نہ ہنسنے کا، یہ بھی بیان کیا کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ) میرے والد اپنے اوپر تیس وسق قرض چھوڑ گئے تھے اور ابن اسحاق نے وہب سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کا ذکر کیا ہے۔
2709
Sahih

Chapters

14
01
(1) CHAPTER. What has been said regarding (re)conciliation between the people.
لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. He who makes peace between the people is not a liar.
دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے کے لیے جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The The saying of the ruler to his companions, “Let us go to bring about a (re)conciliation (between people).
حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “... If they make terms of peace between themselves; and making peace is better … (V.4:128)
سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمانا اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER If some people are (re)conciled on illegal basis, their (re)conciliation is rejected.
اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. How to write (re)conciliation?
صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. To make peace with Al-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. Agreement about Diya (blood money).
دیت پر صلح کرنا ( یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا )
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The saying of the Prophet (p.b.u.h) to Al-Hasan bin Ali.
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. Should the Imam suggest reconciliation?
کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے ؟
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. The superiority of making peace and establishing justice among the people.
لوگوں میں آپس میں ملاپ کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. If the Imam (i.e., ruler) suggests a (re)conciliation but the defendant refuses it, he is to be judged by the evident valid law.
اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو قاعدے کا حکم دے دے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. Reconciliation between the creditors and between the inheritors and the repayment of debts by giving an amount that is not specified or counted.
میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح کا بیان اور قرض کا اندازہ سے ادا کرنا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Bringing about reconciliation in case of dispute concerning debts.
کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا
1 Hadith
No chapter matched that.