TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(15) CHAPTER. To visit a patient riding, walking or sitting with another person on a donkey. - مریض کی عیادت کو سوار ہو کر یا پیدل یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ہر طرح جائز درست ہے - The book of patients. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 15 of The book of patients. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 22 · 2 Hadith
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ : أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ ، عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ ، وَالْيَهُودِ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ، قَالَ : لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَقَفَ ، وَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ ، إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا ، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ ، قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ ، وَالْمُشْرِكُونَ ، وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَكَتُوا ، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ لَهُ : أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ، قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ ، فَلَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا أَعْطَاكَ ، وَلَقَدِ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ ، فَلَمَّا رَدَّ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ الَّذِي فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ .
Narrated Usama bin Zaid: The Prophet rode a donkey having a saddle with a Fadakiyya velvet covering. He mounted me behind him and went to visit Sa`d bin 'Ubada, and that had been before the battle of Badr. The Prophet proceeded till he passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present, and that had been before `Abdullah embraced Islam. The gathering comprised of Muslims, polytheists, i.e., isolators and Jews. `Abdullah bin Rawaha was also present in that gathering. When dust raised by the donkey covered the gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his upper garment and said, Do not trouble us with dust. The Prophet greeted them, stopped and dismounted. Then he invited them to Allah (i.e., to embrace Islam) and recited to them some verses of the Holy Qur'an. On that, `Abdullah bin Ubai said, O man ! There is nothing better than what you say if it is true. Do not trouble us with it in our gathering, but return to your house, and if somebody comes to you, teach him there. On that `Abdullah bin Rawaha said, Yes, O Allah's Apostle! Bring your teachings to our gathering, for we love that. So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing each other till they were about to fight. The Prophet kept on quietening them till they became calm. Thereupon the Prophet mounted his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin Ubada. He said to him O Sa`d! Have you not heard what Abu Hubab (i.e., `Abdullah bin Ubai) said? Sa`d said, 'O Allah's Apostle! Excuse and forgive him, for Allah has given you what He has given you. The people of this town (Medina decided unanimously to crown him and make him their chief by placing a turban on his head, but when that was prevented by the Truth which Allah had given you he (`Abdullah bin Ubai) was grieved out of jealously, and that was the reason which caused him to behave in the way you have seen.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے کی پالان پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو تشریف لے جا رہے تھے، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا۔ عبداللہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اس مجلس میں ہر گروہ کے لوگ تھے مسلمان بھی، مشرکین بھی یعنی بت پرست اور یہودی بھی۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، سواری کی گرد جب مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی اور کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے پھر آپ نے انہیں اللہ کے طرف بلایا اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا میاں تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق ہیں تو ہماری مجلس میں انہیں بیان کر کے ہم کو تکلیف نہ پہنچایا کرو، اپنے گھر جاؤ وہاں جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو۔ اس پر ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں ضرور تشریف لائیں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ اس پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں جھگڑے بازی ہو گئی اور قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کر بیٹھتے لیکن آپ انہیں خاموش کرتے رہے یہاں تک کہ سب خاموش ہو گئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا سعد! تم نے سنا نہیں ابوحباب نے کیا کہا، آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور اس سے درگزر فرمایئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ نعمت عطا فرما دی جو عطا فرمانی تھی ( آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ) اس بستی کے لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور اپنا سردار بنا لیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ہے ختم کر دیا تو وہ اس پر بگڑ گیا یہ جو کچھ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے اسی کا نتیجہ ہے۔
5663
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ المُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ .
Narrated Jabir: The Prophet came to visit me (while I was sick) and he was riding neither a mule, nor a horse.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے محمد نے جو منکدر کے بیٹے ہیں اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ کسی گھوڑے پر۔ ( بلکہ آپ پیدل تشریف لائے تھے ) ۔
5664
Sahih

Chapters

22
01
(1) CHAPTER. The saying that sickness is expiation for sins.
بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا جو کوئی برا کرے گا اس کو بدلہ ملے گا ۔
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The severity of disease.
بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے )
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The people most prone to trials are Prophets, and then the most pious people, and then the less pious and so on.
بلاؤں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے بند گان خدا کی ہوتی رہتی ہے ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. It is compulsory to visit the sick.
بیمار کی مزاج پرسی کا واجب ہونا
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. To visit an unconscious person.
بیہوش کی عیادت کرنا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The superiority of a person who is suffering from epilepsy.
ریاح رک جانے سے جسے مرگی کا عارضہ ہو اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The superiority of a person who has lost his sight.
اس کا ثواب جس کی بینائی جاتی رہے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The visiting of sick men by women.
عورتیں مردوں کی بیماری میں پوچھنے کے لیے جا سکتی ہیں
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. To visit sick children.
بچوں کی عیادت بھی جائز ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To visit a (sick) bedouin.
گاؤں میں رہنے والوں کی عیادت کے لیے جانا
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. To visit a (sick) Mushrik.
مشرک کی عیادت بھی جائز ہے
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. If one visited a patient and when the time of the Salat (prayer) became due, he led the people present there, in a congregational Salat (prayer).
کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے گیا اور وہیں نماز کاوقت ہو گیا تو وہیں لوگوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. Placing the hand on the patient.
مریض کے اوپر ہاتھ رکھنا
2 Hadith
14
(14) CHAPTER. What (a visitor) should say to a patient and what should be the answer of the patient.
عیادت کے وقت مریض سے کیا کہا جائے اورمریض کیا جواب دے
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. To visit a patient riding, walking or sitting with another person on a donkey.
مریض کی عیادت کو سوار ہو کر یا پیدل یا گدھے پر کسی کے پیچھے بیٹھ کر جانا ہر طرح جائز درست ہے
2 Hadith
16
(16) CHAPTER. It is permissible for a patient to say: “I am sick,” or “Oh, my head!” or “My ailment has been aggravated.”
مریض کا یوں کہنا کہ مجھے تکلیف ہے
4 Hadith
17
(17) CHAPTER. The saying of the patient: “Get up from me!”
مریض لوگوں سے کہے میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. Whoever took the sick boy (to someone) to invoke Allah for him.
مریض بچے کو کسی بزرگ کے پاس لے جانا کہ اس کی صحت کے لیے دعا کریں
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The patient's wish for death.
مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے
4 Hadith
20
(20) CHAPTER. The invocation for the patient by the one who pays a visit to him.
جو شخص بیمار کی عیادت کو جائے وہ کیا کرے
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The performing of ablution by a person who pays a visit to a patient.
عیادت کرنے والے کا بیمار کے لیے وضو کرنا
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. Whoever invoke Allah to remove epidemics and fever.
جو شخص وبا اور بخار کے دور کرنے کے لیے دعا کرے
1 Hadith
No chapter matched that.