TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of asking permission. - کتاب اجازت لینے کے بیان میں - Book 80 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 80 of Sahih Bukhari, with 55 chapters and 77 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

77 Hadith · 55 Chapters
(15) CHAPTER. To greet the boys.
بچوں کو سلام کرنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .
Narrated Anas bin Malik: that he passed by a group of boys and greeted them and said, The Prophet used to do so.
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سیار نے انہوں نے ثابت بنانی سے روایت کی، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
6247
Sahih
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنَّا نَفْرَحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قُلْتُ : وَلِمَ ، قَالَ : كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تُرْسِلُ إِلَى بُضَاعَةَ ، قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ : نَخْلٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ ، فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ وَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ ، فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا وَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا ، فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا ، فَنَفْرَحُ مِنْ أَجْلِهِ ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ .
Narrated Abu Hazim: Sahl said, We used to feel happy on Fridays. I asked Sahl, Why? He said, There was an old woman of our acquaintance who used to send somebody to Buda'a (Ibn Maslama said, Buda'a was a garden of date-palms at Medina). She used to pull out the silq (a kind of vegetable) from its roots and put it in a cooking pot, adding some powdered barley over it (and cook it). After finishing the Jumua (Friday) prayer we used to (pass by her and) greet her, whereupon she would present us with that meal, so we used to feel happy because of that. We used to have neither a midday nap, nor meals, except after the Friday prayer. (See Hadith No. 60, Vol.2)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی کس لیے؟ فرمایا کہ ہماری ایک بڑھیا تھیں جو مقام بضاعہ جایا کرتی تھیں۔ ابن سلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جَو کے کچھ دانے پیس کر ( اس میں ملاتی تھیں ) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے۔
6248
Sahih
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ». قَالَتْ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، تَرَى مَا لاَ نَرَى. تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. تَابَعَهُ شُعَيْبٌ. وَقَالَ يُونُسُ وَالنُّعْمَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَبَرَكَاتُهُ.
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said, O `Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you. I said, Peace, and Allah's Mercy be on him (Gabriel). You see what we do not see. (She was addressing Allah's Apostle).
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا «وعليه السلام ورحمة الله» آپ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں «وبركاته‏.» کا لفظ زیادہ ہے۔
6249
Sahih
(17) CHAPTER. If somebody says, “Who is that?” And the other replies, I.
اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اور نام نہ لے
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ ، فَقَالَ : مَنْ ذَا ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ : أَنَا ، أَنَا ، كَأَنَّهُ كَرِهَهَا .
Narrated Jabir: I came to the Prophet in order to consult him regarding my father's debt. When I knocked on the door, he asked, Who is that? I replied, I He said, I, I? He repeated it as if he disliked it.
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔
6250
Sahih
(18) CHAPTER. Whoever replied to a greeting by saying, “Alaikas-Salam.” (Peace be on you) (singular).
جواب میں صرف علیک السلام کہنا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَرَجَعَ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، فَارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَقَالَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا : عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ فِي الْأَخِيرِ : حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ،
Narrated Abu Huraira: A man entered the mosque while Allah's Apostle was sitting in one side of the mosque. The man prayed, came, and greeted the Prophet. Allah's Apostle said to him, Wa 'Alaikas Salam (returned his greeting). Go back and pray as you have not prayed (properly). The man returned, repeated his prayer, came back and greeted the Prophet. The Prophet said, Wa alaika-s-Salam (returned his greeting). Go back and pray again as you have not prayed (properly). The man said at the second or third time, O Allah's Apostle! Kindly teach me how to pray . The Prophet said, When you stand for prayer, perform ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu-Akbar), and then recite what you know from the Qur'an, and then bow with calmness till you feel at ease then rise from bowing, till you stand straight, and then prostrate calmly (and remain in prostration) till you feel at ease, and then raise (your head) and sit with calmness till you feel at ease and then prostrate with calmness (and remain in prostration) till you feel at ease, and then raise (your head) and sit with calmness till you feel at ease in the sitting position, and do likewise in whole of your prayer. And Abu Usama added, Till you stand straight. (See Hadith No. 759, Vol.1)
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیک السلام واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی۔ پھر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی۔ پھر واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام۔ واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان صاحب نے دوسری مرتبہ، یا اس کے بعد، عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نماز پڑھنی سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو، اس کے بعد قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو اور جب رکوع کی حالت میں برابر ہو جاؤ تو سر اٹھاؤ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو۔ اور ابواسامہ (راوی) نے بعد یوں کہا کہ پھر اٹھو یہاں تک کہ سید ھے کھڑا ہو جاؤ۔
6251
Sahih
(18) CHAPTER. Whoever replied to a greeting by saying, “Alaikas-Salam.” (Peace be on you) (singular).
جواب میں صرف علیک السلام کہنا
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said (in the above narration No. 268), And then raise your head till you feel at ease while sitting.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سر سجدہ سے اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔“
6252
Sahih
(19) CHAPTER. If one says, “So-and-so sends Salam (greetings) to you.
اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص نے تجھ کو سلام کہاہے تو وہ کیا کہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، حَدَّثَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
Narrated `Aisha: That the Prophet said to her, Gabriel sends Salam (greetings) to you. She replied, Wa 'alaihi-s- Salam Wa Rahmatu-l-lah. (Peace and Allah's Mercy be on him).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔
6253
Sahih
(20) CHAPTER. Greeting (how to greet) a mix-up gathering in which there are Muslims and Al-Mushrikun.
ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ ، وَالْيَهُودِ ، وَفِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ بْنُ سَلُولَ ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ بْنُ سَلُولَ : أَيُّهَا الْمَرْءُ ، لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا ، فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ ، وَالْمُشْرِكُونَ ، وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : أَيْ سَعْدُ ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ، يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ، قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated `Urwa-bin Az-Zubair: Usama bin Zaid said, The Prophet rode over a donkey with a saddle underneath which there was a thick soft Fadakiya velvet sheet. Usama bin Zaid was his companion rider, and he was going to pay a visit to Sa`d bin Ubada (who was sick) at the dwelling place of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, and this incident happened before the battle of Badr. The Prophet passed by a gathering in which there were Muslims and pagan idolators and Jews, and among them there was `Abdullah bin Ubai bin Salul, and there was `Abdullah bin Rawaha too. When a cloud of dust raised by the animal covered that gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his Rida (sheet) and said (to the Prophet), Don't cover us with dust. The Prophet greeted them and then stopped, dismounted and invited them to Allah (i.e., to embrace Islam) and also recited to them the Holy Qur'an. `Abdullah bin Ubai' bin Salul said, O man! There is nothing better than what you say, if what you say is the truth. So do not trouble us in our gatherings. Go back to your mount (or house,) and if anyone of us comes to you, tell (your tales) to him. On that `Abdullah bin Rawaha said, (O Allah's Apostle!) Come to us and bring it(what you want to say) in our gatherings, for we love that. So the Muslims, the pagans and the Jews started quarreling till they were about to fight and clash with one another. The Prophet kept on quietening them (till they all became quiet). He then rode his animal, and proceeded till he entered upon Sa`d bin 'Ubada, he said, O Sa`d, didn't you hear what Abu Habbab said? (He meant `Abdullah bin Ubai). He said so-and-so. Sa`d bin 'Ubada said, O Allah's Apostle! Excuse and forgive him, for by Allah, Allah has given you what He has given you. The people of this town decided to crown him (as their chief) and make him their king. But when Allah prevented that with the Truth which He had given you, it choked him, and that was what made him behave in the way you saw him behaving. So the Prophet excused him.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان، بت پرست، مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کر بیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی ( مدینہ منورہ ) کے لوگ ( آپ کی تشریف آوری سے پہلے ) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔
6254
Sahih
(21) CHAPTER. He who does not greet a person who has committed a sin, and the one who does not reply to his greeting till the evidence of his repentance becomes obvious. And up to what time limit (one should wait for) till the repentance of a sinner is known.
جس نےگناہ کرنے والے کو سلام نہیں کیا
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا ؟ حَتَّى كَمَلَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً ، وَآذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى الْفَجْرَ .
Narrated `Abdullah bin Ka`b: I heard Ka`b bin Malik narrating (when he did not join the battle of Tabuk): Allah's Apostle forbade all the Muslims to speak to us. I would come to Allah's Apostle and greet him, and I would wonder whether the Prophet did move his lips to return to my greetings or not till fifty nights passed away. The Prophet then announced (to the people) Allah's forgiveness for us (acceptance of our repentance) at the time when he had offered the Fajr (morning) prayer.
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں ہونٹ مبارک ہلائے یا نہیں، آخر پچاس دن گزر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا۔
6255
Sahih
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ .
Narrated `Aisha: A group of Jews came to Allah's Apostle and said, As-samu 'Alaika (Death be on you), and I understood it and said to them, Alaikum AsSamu wa-l-la'na (Death and curse be on you). Allah's Apostle said, Be calm! O `Aisha, for Allah loves that one should be kind and lenient in all matters. I said. O Allah's Apostle! Haven't you heard what they have said? Allah's Apostle said, I have (already) said (to them), 'Alaikum (upon you).'
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ «السام عليك‏.‏» ( تمہیں موت آئے ) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا «عليكم السام واللعنة‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» ( اور تمہیں بھی ) ۔
6256
Sahih
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْ : وَعَلَيْكَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, When the Jews greet you, they usually say, 'As-Samu 'alaikum (Death be on you),' so you should say (in reply to them), 'Wa'alaikum (And on you).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی «السام عليك‏.‏» کہے تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليك» ( اور تمہیں بھی ) کہہ دیا کرو۔“
6257
Sahih
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ .
Narrated Anas bin Malik: the Prophet said, If the people of the Scripture greet you, then you should say (in reply), 'Wa'alaikum (And on you).'
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليكم» کہو۔“
6258
Sahih
(23) CHAPTER. (The legal aspect of) the one who looks at a letter in order to know its written contents and the meanings of its subject which is not allowed for the Muslims to look at.
جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ایسے شخص کامکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، والزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهَا ، حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْنَا : أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ ؟ قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَأَنَخْنَا بِهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا ، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا ، قَالَ صَاحِبَايَ : مَا نَرَى كِتَابًا ، قَالَ : قُلْتُ : لَقَدْ عَلِمْتُ مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ مِنِّي ، أَهْوَتْ بِيَدِهَا إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ ، فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ يَا حَاطِبُ عَلَى مَا صَنَعْتَ ، قَالَ : مَا بِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَا غَيَّرْتُ ، وَلَا بَدَّلْتُ ، أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي ، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ هُنَاكَ إِلَّا وَلَهُ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، قَالَ : صَدَقَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، فَدَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ ، قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ ، وَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
Narrated `Ali: Allah's Apostle sent me, Az-Zubair bin Al-Awwam and Abu Marthad Al-Ghanawi, and all of us were horsemen, and he said, Proceed till you reach Rawdat Khakh, where there is a woman from the pagans carrying a letter sent by Hatib bin Abi Balta'a to the pagans (of Mecca). So we overtook her while she was proceeding on her camel at the same place as Allah's Apostle told us. We said (to her) Where is the letter which is with you? She said, I have no letter with me. So we made her camel kneel down and searched her mount (baggage etc) but could not find anything. My two companions said, We do not see any letter. I said, I know that Allah's Apostle did not tell a lie. By Allah, if you (the lady) do not bring out the letter, I will strip you of your clothes' When she noticed that I was serious, she put her hand into the knot of her waist sheet, for she was tying a sheet round herself, and brought out the letter. So we proceeded to Allah's Apostle with the letter. The Prophet said (to Habib), What made you o what you have done, O Hatib? Hatib replied, I have done nothing except that I believe in Allah and His Apostle, and I have not changed or altered (my religion). But I wanted to do the favor to the people (pagans of Mecca) through which Allah might protect my family and my property, as there is none among your companions but has someone in Mecca through whom Allah protects his property (against harm). The Prophet said, Habib has told you the truth, so do not say to him (anything) but good. `Umar bin Al-Khattab said, Verily he has betrayed Allah, His Apostle, and the believers! Allow me to chop his neck off! The Prophet said, O `Umar! What do you know; perhaps Allah looked upon the Badr warriors and said, 'Do whatever you like, for I have ordained that you will be in Paradise.' On that `Umar wept and said, Allah and His Apostle know best.
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے ( اسے لے آؤ ) ۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی ( جہاں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں ننگا کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی ہے، میرا مقصد ( خط بھیجنے سے ) صرف یہ تھا کہ ( قریش پر آپ کی فوج کشی کی اطلاع دوں اور اس طرح ) میرا ان لوگوں پر احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے اللہ میرے اہل اور مال کی طرف سے ( ان سے ) مدافعت کرائے۔ آپ کے جتنے مہاجر صحابہ ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد ہیں جن کے ذریعہ اللہ ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہ دیا ہے اب تم لوگ ان کے بارے میں سوا بھلائی کے اور کچھ نہ کہو بیان کیا کہ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر کی لڑائی میں شریک صحابہ کی زندگی پر مطلع تھا اور اس کے باوجود فرمایا کہ تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت لکھ دی گئی ہے، بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
6259
Sahih
(24) CHAPTER. How to write a letter to the people of the Scripture.
اہلکتاب کو کس طرح خط لکھا جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ ، فَأَتَوْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ ، فَإِذَا فِيهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ .
Narrated Abu Sufyan bin Harb: that Heraclius had sent for him to come along with a group of the Quraish who were trading in Sha'm, and they came to him. Then Abu Sufyan mentioned the whole narration and said, Heraclius asked for the letter of Allah's Apostle . When the letter was read, its contents were as follows: 'In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful. From Muhammad, Allah's slave and His Apostle to Heraclius, the Chief of Byzantines: Peace be upon him who follows the right path (guidance)! Amma ba'du (to proceed )...' (See Hadith No 6, Vol 1 for details)
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے قریش کے چند افراد کے ساتھ انہیں بھی بلا بھیجا یہ لوگ شام تجارت کی غرض سے گئے تھے سب لوگ ہرقل کے پاس آئے پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ ہرقل عظیم روم کی طرف، سلام ہو ان پر جنہوں نے ہدایت کی اتباع کی۔ امابعد!
6260
Sahih
(25) CHAPTER. Whose name is to be written first in a letter, i.e., the sender or the addressee?
خط کس کے نام سے شروع کیاجائے
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَخَذَ خَشَبَةً ، فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ.
Narrated Abu Hurairah (ra): Allah's Messenger (saws) mentioned a person from Bani Israel who took a piece of wood, made a hole in it, and put therein one thousand Dinar and letter from him to his friend. The Prophet (saws) said, (That man) cut a piece of wood and put the money inside it and wrote a letter from such and such a person to such and such a person.
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیع نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی ( قرض خواہ ) کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے لکڑی کے ایک لٹھے میں سوراخ کیا اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور ان کے پاس ایک خط لکھا، فلاں کی طرف سے فلاں کو ملے۔
6261
Sahih
(26) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Get up for your chief!”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے سردار کو لینے کے لئے اٹھو
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ فَقَالَ : قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ، أَوْ قَالَ خَيْرِكُمْ ، فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ، قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، فَقَالَ : لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْمَلِكُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مِنْ قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى حُكْمِكَ .
Narrated Abu Sa`id: The people of (the tribe of) Quraiza agreed upon to accept the verdict of Sa`d. The Prophet sent for him (Sa`d) and he came. The Prophet said (to those people), Get up for your chief or the best among you! Sa`d sat beside the Prophet and the Prophet said (to him), These people have agreed to accept your verdict. Sa`d said, So I give my judgment that their warriors should be killed and their women and children should be taken as captives. The Prophet said, You have judged according to the King's (Allah's) judgment. (See Hadith No. 447, Vol. 5)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لیے اٹھو۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر ( قلعہ سے ) اتر آئے ہیں ( اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو ) ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا۔ ابوعبداللہ ( مصنف ) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك‏.‏» نقل کیا ہے۔
6262
Sahih
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Qatada: I asked Anas, Was it a custom of the companions of the Prophet to shake hands with one another? He said, Yes.
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا مصافحہ کا دستور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ضرور تھا۔
6263
Sahih
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .
Narrated `Abdullah bin Hisham: We were in the company of the Prophet and he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
6264
Sahih
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ التَّشَهُّدَ ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ، فَلَمَّا قُبِضَ ، قُلْنَا السَّلَامُ ، يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibn Mas`ud: Allah's Apostle taught me the Tashah-hud as he taught me a Sura from the Qur'an, while my hand was between his hands. (Tashah-hud was) all the best compliments and the prayers and the good things are for Allah. Peace and Allah's Mercy and Blessings be on you, O Prophet! Peace be on us and on the pious slaves of Allah, I testify that none has the right to be worshipped but Allah, and I also testify that Muhammad is Allah's slave and His Apostle. (We used to recite this in the prayer) during the lifetime of the Prophet , but when he had died, we used to say, Peace be on the Prophet.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن بخرہ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا ( اس طرح سکھایا ) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات،‏‏‏‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين،‏‏‏‏ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہو گئی تو ہم ( خطاب کا صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے «السلام‏.‏ على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔
6265
Sahih
(29) CHAPTER. Al-Muanaqa (to embrace each other by putting arms round the neck on meeting). And the saying of one man to another: How are you this morning?
معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیساہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا أَبَا حَسَنٍ ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَاهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ الثَّلَاثِ عَبْدُ الْعَصَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْأَلَهُ فِيمَنْ يَكُونُ الْأَمْرُ ؟ فَإِنْ كَانَ فِينَا ، عَلِمْنَا ذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا أَمَرْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا ، قَالَ عَلِيٌّ : وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْنَعُنَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا ، وَإِنِّي لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: `Ali bin Abu Talib came out of the house of the Prophet during his fatal ailment. The people asked (`Ali), O Abu Hasan! How is the health of Allah's Apostle this morning? `Ali said, This morning he is better, with the grace of Allah. Al-`Abbas held `Ali by the hand and said, Don't you see him (about to die)? By Allah, within three days you will be the slave of the stick (i.e., under the command of another ruler). By Allah, I think that Allah's Apostle will die from his present ailment, for I know the signs of death on the faces of the offspring of `Abdul Muttalib. So let us go to Allah's Apostle to ask him who will take over the Caliphate. If the authority is given to us, we will know it, and if it is given to somebody else we will request him to recommend us to him. `Ali said, By Allah! If we ask Allah's Apostle for the rulership and he refuses, then the people will never give it to us. Besides, I will never ask Allah's Apostle for it. (See Hadith No 728, Vol 5)
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب نے خبر دی، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ( مرض الموت میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے، یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسی گزاری؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ آپ کو سکون رہا ہے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا۔ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے نہیں ہو۔ ( واللہ ) تین دن کے بعد تمہیں لاٹھی کا بندہ بننا پڑے گا۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وفات پا جائیں گے۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں، اس لیے ہمارے ساتھ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ تاکہ پوچھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو۔
6266
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. How the Salam began (greeting) began.
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
سلام کے شروع ہونے کا بیان
1 Hadith
03
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا
1 Hadith
04
(3) CHAPTER. As-Salam is one of the Names of Allah: (Allah's Statement): When you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or (at least) return it equally... (V.4:86)
سلام کے بیان میں
1 Hadith
05
(4) CHAPTER. The small number (of persons) should greet the large number (of persons).
تھوڑی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے
1 Hadith
06
(5) CHAPTER. The riding person should greet the walking person.
سوار پہلے پیدل کو سلام کرے
1 Hadith
07
(6) CHAPTER. The walking person should greet the sitting one.
چلنے والا پہلے بیٹھے ہوئے شخص کوسلام کرے
1 Hadith
08
(7) CHAPTER. The younger person should greet the older one.
کمعمر والا پہلے بڑی عمر والے کو سلام کرے
1 Hadith
09
(8) CHAPTER. To propagate As-Salam (greeting) (among people).
سلام کو زیادہ رواج دینا
1 Hadith
10
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
2 Hadith
11
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
3 Hadith
12
(11) CHAPTER. Asking permission because of looking.
اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے
2 Hadith
13
(12) CHAPTER. (What is said regarding) the adultery of the body parts other than the private parts.
شرمگاہ کے علاوہ دوسرے اعضاء کے زنا کابیان
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
2 Hadith
15
(14) CHAPTER. If a man is invited, should he ask permission to enter at his arrival?
اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لئے اذن لینا چاہئے یا نہیں
1 Hadith
16
(15) CHAPTER. To greet the boys.
بچوں کو سلام کرنا
1 Hadith
17
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
2 Hadith
18
(17) CHAPTER. If somebody says, “Who is that?” And the other replies, I.
اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اور نام نہ لے
1 Hadith
19
(18) CHAPTER. Whoever replied to a greeting by saying, “Alaikas-Salam.” (Peace be on you) (singular).
جواب میں صرف علیک السلام کہنا
2 Hadith
20
(19) CHAPTER. If one says, “So-and-so sends Salam (greetings) to you.
اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص نے تجھ کو سلام کہاہے تو وہ کیا کہے
1 Hadith
21
(20) CHAPTER. Greeting (how to greet) a mix-up gathering in which there are Muslims and Al-Mushrikun.
ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں
1 Hadith
22
(21) CHAPTER. He who does not greet a person who has committed a sin, and the one who does not reply to his greeting till the evidence of his repentance becomes obvious. And up to what time limit (one should wait for) till the repentance of a sinner is known.
جس نےگناہ کرنے والے کو سلام نہیں کیا
1 Hadith
23
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
3 Hadith
24
(23) CHAPTER. (The legal aspect of) the one who looks at a letter in order to know its written contents and the meanings of its subject which is not allowed for the Muslims to look at.
جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ایسے شخص کامکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے ۔
1 Hadith
25
(24) CHAPTER. How to write a letter to the people of the Scripture.
اہلکتاب کو کس طرح خط لکھا جائے
1 Hadith
26
(25) CHAPTER. Whose name is to be written first in a letter, i.e., the sender or the addressee?
خط کس کے نام سے شروع کیاجائے
1 Hadith
27
(26) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Get up for your chief!”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے سردار کو لینے کے لئے اٹھو
1 Hadith
28
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
2 Hadith
29
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Al-Muanaqa (to embrace each other by putting arms round the neck on meeting). And the saying of one man to another: How are you this morning?
معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیساہے
1 Hadith
31
(30) CHAPTER. Whoever replies (on being called) saying, “Labbaik wa Sadaik” (I respond to your call, and I am obedient to your orders).
کوئی بلائے تو جواب میں لفظ لبیک ( حاضر ) اور سعدیک ( آپ کی خدمت کے لئے مستعد ) کہنا
2 Hadith
32
(31) CHAPTER. A man should not make another get up from his (the latter's) seat.
کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے
1 Hadith
33
(32) CHAPTER. (The Statement of Allah): “(O you who believe!) When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room...” (V.58:11)
اللہ پاک کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا کہ
1 Hadith
34
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
1 Hadith
35
(34) CHAPTER. Al-Ihtiba with the hand, i.e., Al-Qurfusa (a sitting posture wherein one sits with one's legs drawn up and wrapped in one's garment or surrounded with one's arms).
ہاتھ سے احتباء کرنا اور اس کو قرفصا کہتے ہیں
1 Hadith
36
(35) CHAPTER. Whoever sat in a reclining posture in the company of his companions.
اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا
2 Hadith
37
(36) CHAPTER. (Regarding) the one who walks quickly for some necessity.
جو کسی ضرورت یا کسی غرض کی وجہ سے تیز تیز چلے
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
چارپائی یا تخت کا بیان
1 Hadith
39
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
کسی کے لیے گاؤ تکیہ لگانا یا گدا بچھا نا ( جائز ہے )
1 Hadith
40
(39) CHAPTER. (Mid-day nap) after Al-Jumuah [Friday Salat (prayer)].
جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا
1 Hadith
41
(40) CHAPTER. Mid-day nap in the mosque.
مسجد میں بھی قیلولہ کرنا جائز ہے
1 Hadith
42
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
3 Hadith
43
(42) CHAPTER. Sitting in any convenient position.
آسانی کے ساتھ آدمی جس طرح بیٹھ سکے بیٹھ سکتاہے
1 Hadith
44
(43) CHAPTER. Whoever has a confidential talk with somebody in front of the people and the latter does not disclose his companion's secret, but when his companion dies, he discloses it.
جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے
2 Hadith
45
(44) CHAPTER. Al-Istilqa (lying flat on the back).
چت لیٹنے کا بیان
1 Hadith
46
(45) CHAPTER. No two persons should talk secretly excluding a third person (who is present with them). And the Statement of Allah: O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience towards the Messenger (Muhammad ), but do it for Al-Birr (righteousness) and Taqwa (virtues and piety); and fear Allah unto Whom you shall be gathered. Secret counsels (conspiracies) are only from Satan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits, and in Allah let the believers put their trust. (V.58:9,10) And also the Statement of Allah: O you who believe! When you (want to) consult the Messenger (Muhammad) in private, spend something in charity before your private consultation. That will be better and purer for you. But if you find not (the means for it), then verily, Allah is Oft-Forgivind, Most Merciful. Are you afraid of spending in charity before your private consultation (with him)? If then you do it not, and Allah has forgive you, then (at least) perform Salat (prayers) (Iqamat-as-Salat) and give Zakat and obey Allah (i.e., do all what Allah and His Prophet order you to do). And Allah is All-Aware of what you do. (V.58:12,13)
کسی جگہ صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں
1 Hadith
47
(46) CHAPTER. Keeping secrets.
راز چھپانا
1 Hadith
48
(47) CHAPTER. If in a gathering there are more than three persons, then there is no harm if two of them have a secret talk.
جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کانا پھوسی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
2 Hadith
49
(48) CHAPTER. Holding secret counsel for a long while.
دیر تک سرگوشی کرنا
1 Hadith
50
(49) CHAPTER. Fire (lanterns, etc.) should not be kept lit in the house at bedtime.
سوتے وقت گھر میں آگ نہ رہنے دی جائے ( نہ چراغ روشن کیا جائے )
3 Hadith
51
(50) CHAPTER. To close the doors at night.
رات کے وقت دروازے بند کرنا
1 Hadith
52
(51) CHAPTER. Circumcision at an old age, and pulling out one's armpit hair.
بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا
4 Hadith
53
(52) CHAPTER. Every Lahw (amusement, idle talk, etc.) or deed that diverts one from fulfilling one's obedience (duties) towards Allah, is Batil [falsehood (disbelief, etc.)].
آدمی جس کام میں مصروف ہو کر اللہ کی عبادت سے غافل ہو جائے وہ لھو میں داخل اور باطل ہے
1 Hadith
54
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
عمارت بنانا کیسا ہے
1 Hadith
55
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا مجھے پکارو ! میں تمہاری پکار قبول کروں گا
1 Hadith
No chapter matched that.